ہفتہ, نومبر 03, 2012

" نیند"

سورہ الانعام(6)۔آیت(60)ترجمہ۔۔۔
"اور وہی تو ہےجو رات کو (سونے کی حالت میں ) تمہاری روح قبض کر لیتا ہے اورجو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس سے خبر رکھتا ہے پھر تمہیں دن کو اُٹھا دیتا ہے تاکہ معیّن مدت پوری کردی جائے پھر تم کو اُسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے (اُس روز) وہ تم کو تمہارے عمل جو تم کرتے ہو بتا دے گا"۔
زندگی دن اور رات سے عبارت ہے۔ دن نکلتا ہے اپنا کام اپنی مزدوری شروع ہو جاتی ہے۔ اپنے حصے کا رزق تلاش کرتے ہیں ۔۔۔محنت کرتے ہیں۔اور پھر رات آتی ہے مزدوری کی قیمت ملتی ہے،رزق کی لذت ملتی ہے،محنت کا ثمر ملتا ہے۔
ہم دیہاڑی دار مزدور ہیں۔۔۔ دن بھرکی مشقت کے بعد مزدوری کی قیمت نہ ملے توانسان خالی ہاتھ اورخالی پیٹ گھرلوٹتا ہے ہمارے جسم کی مزدوری کی قیمت نیند ہے۔اگر کام کاج کے بعد نیند نہ آئے تو اس سے بڑا عذاب اس سے بڑی سزا اور کوئی نہیں ۔ہمارا مالک ہمیں کام کے بغیر بھی شام کو مزدوری کی قیمت ادا کر دیتا ہے پھر بھی ہم اس کا احسان نہیں مانتے۔
زندگی کی حقیقت جا ننا چا ہتے ہو تو موت کے فلسفے پر نظررکھو۔ اگر زندگی گزارنے کا فن سیکھنا چا ہتے ہو تو نیند کے عمل پر غور کرو۔انسان روز مرتا ہے اور روز ہی زندہ بھی ہو جاتا ہے۔موت زندگی کی اصل طاقت ہے۔۔۔اُس کی خوراک ہے۔ہمارا نظام ِجسم اس انداز سے بنایا گیا ہے کہ ہرچوبیس گھنٹے کے اندراُسے موت کی ایک خوراک لازمی چاہیے۔ہم اپنے آپ کو مضبوط جان کر اس 'بیماری یا معذوری' سےلڑنےکی اکثر کوشش کرتے ہیں اورکڑوی دوا سے بچنےکے لیےان چوبیس گھنٹوں کو مزید کئی گھنٹوں تک محیط کرنے میں بسا اوقات کامیاب بھی ہو جاتے ہیں۔ درحقیقت یہ وہ حیات بخش اورکیف آورخوراک ہے جو چند لمحوں کو سہی ہر دکھ درد سے بیگانہ کردیتی ہے۔ اور تو اور ہر قسم کی بھوک سے نجات دلا کر اتنا معصوم اتنا بےجان بنا دیتی ہے کہ بڑے سے بڑا ظالم وجابر فرشتوں جیسا دِکھتا ہے تو دُنیا کی خدائی کا دعوے دار بھی عام چیونٹی سے زیادہ بےبس ہو جاتا ہے۔ یہ اور بات کہ عارضی موت کی اس خوراک کے بعد انسان پہلے سے بھی زیادہ جوش و ولولے سے اپنی مثبت یا منفی صلاحیتوں سے کاسۂ لیس ہو کر زندگی کے میدانِ کارزار میں اُترتا ہے۔
انسان بھی عجیب ہے۔۔۔نیند کی چاہ کرتا ہے لیکن موت سے ڈرتا ہے۔ہمیشہ کے لیے آنکھ بند ہونے سے بھاگتا ہےجبکہ  رات ڈھلتے ہی اُس کی آنکھیں اِس خمارِ قاتل کی گواہی دینے لگتی ہیں ۔۔۔۔جسم اس کے وصال کی آرزو میں ہر حدودوقیود پھلانگنے کے درپے ہو جاتا ہے اور پھر یہ مدہم سی خواہش مجسم صورت میں پلکوں کو چوم لیتی ہے۔ نیند ایسا خودغرض محبوب ہے جو اپنے طلب گارکوہر رشتے ہر احساس سے بے پروا کر دیتا ہے۔۔
نیند اور موت ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں۔ نیند کے حصول کے بعد جاگنا ہماری اوّلین ترجیح ہوتی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ نیند سے جاگنا ہمارے اختیار میں ہے اورموت سے جاگنا ہمارے اختیار بلکہ ہماری سوچ سے بھی باہر ہے۔نیند سے جاگ کروہی یکسانیت وہی کام ہمارا مُنتظر ہوتا ہے۔ کولہو کے بیل کی طرح ہم اپنے اپنے راستے پرچل پڑتے ہیں۔جبکہ موت کے بعد ایک نئی دُنیا نئے کام نئے دوست ہمارے سامنے آتے ہیں۔اگر انسان ہر لمحہ تبدیلی کا خواہش مند ہے وہ نئے کام نئی دُنیا دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔اپنی مصائب بھری دُنیا سےفرار کی آرزو رکھتا ہےتووہ موت سے کیوں بھاگتا ہے؟ وجہ یہ ہے ہماری تیاری نہیں ہوتی۔ ہم کنوئیں کےمینڈک ہیں۔ باہرکی دُنیا دیکھنے کےلیے شورمچاتے رہتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر اپنے اندر اتنی صلاحیت ہی پیدا نہیں کرپاتے کہ باہر نکل سکیں۔ جیسے کسی بڑی تقریب میں جانے کی خواہش تو شِدّت سے ہوتی ہے۔اگر بُلاوا آجائے تو پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اپنے آپ کو اس قابل بنایا جائے کہ دوسروں کے مقابل کم از کم کھڑے تو ہوسکیں۔اگراتنی اہلیت نہ ہوتوبجائےاپنےآپ کے ہم دوسروں کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔۔۔نہ جانے کے لیےعُذر تراشتے ہیں۔گرمی سے بےحال ہو کرسردعلاقوں میں جانے کا قصد کرتے ہیں تو تپتی دوپہروں میں بڑے ذوق وشوق سے گرم کپڑے نکالتے ہیں۔لیکن ابدی سفر پرروانگی کے لیے تیاری کرنا ہمیں بوجھ لگتا ہے۔اس میں ہمیں کسی قسم کا تھرل دِکھائی نہیں آتا۔حالانکہ اُس دُنیا کی نعمتیں اورلذتّیں اس طرح کھول کھول کر بیان کی گئی ہیں کہ اگرعقل پر پڑے پردے ہٹ جائیں تو اس فانی دُنیا میں ہم ایک پل رہنا بھی گوارا نہ کریں۔
"نیند عین الیقین ہے توموت حق الیقین ہے اور ان کی پہچان علم الیقین ہے"۔

حرفِ آخر
کچھ رشتوں۔۔۔کچھ تعلق اور کچھ احساسات کی پائیداری نیند سے مشروط ہوتی ہے۔۔۔ بےخبری ،بےفکری کے جھوٹے سچے خوابوں سے جُڑی ہوتی ہے۔۔۔ رات کی سفاک تاریکی کے بھیدوں میں چُھپی رہتی ہے۔۔۔آنکھ بند ہونے،زبان خاموش رہنے اور صرف سانس کے زیروبم سے۔۔۔۔زندگی کی علامت سے رواں چلتی ہے۔رات کے پردے اگر عقل پر بھی پردے ڈالے رہیں تو رات کے یہی دھوکے زندگی کی کامیابی یا ناکامی کا تعین بھی کرتے ہیں۔ایسی کامیابیاں کہ دن کی روشنی لمحوں میں جن کی اصلیت دکھا بھی دے پھر بھی اُنہیں ماننے میں راہِ نجات ہے۔

رات کی نیند انسان کی جبلت ہے تو اُس کی جسمانی مشینری کو رواں رکھنے کی بنیادی گریس بھی۔۔۔وہ خوراک جو اُسے ہر
چوبیس گھنٹے میں لازمی درکار ہےلیکن دن کی روشنی میں جان بوجھ کر آنکھ بند کر لینا انسان کی ذہنی مشینری۔۔۔۔نفع نقصان کے کھاتوں کے گنجلک حساب کتاب سے فرار کے لیے ازحد ضروری ہے۔اس میں شک نہیں کہ رات کی نیند انسان کی زندگی کی بنیادی ضرورت اوروہ تحفہ ہے جو انسان کوجسمانی اور ذہنی ہر قسم کےمثبت یا منفی احساس سے بھی بےنیاز کر دیتا ہے۔
قصہ مختصر  بند آنکھوں کی کہانی ہم سے ہر روز یہی کہتی ہے کہ ا نسان اپنے آپ کو جس قدر سمیٹ کر رکھے گا اُ تنا ہی سکون  اُسےنصیب ہوگا۔
2012 ، 15 اپریل

2 تبصرے:

  1. جمعہ, جون 26, 2015

    26 جون 2015
    حسن یاسر نے کہا۔۔۔
    میرا احساس کہتا ہے رات کی تاریک چادر اپنے اندر سیاہ وسفید نیک وبد سب کو سمو لیتی ہے۔ فاصلوں کا تصور ختم کر دیتی ہے۔ خاموشی کو اپنے باطن سے جنم دے کر نامعلوم ہواوں میں نرمی سے دھکیل دیتی ہے۔ اس گمشدہ فضا میں ہر سو نیند کے پرندے تیرتے پھرتے ہیں۔خواہشوں کی شکستگی ناآسودگی کے کرب اور آنے والے ایام کے اندیشوں سے لبریز آنکھیں جب ان پرندوں کے پروں کی ہوا سے بوجھل ہونے لگتی ہیں تو ان گنت خوابوں کی کھڑکیاں کھل جاتی ہیں۔ نیند کے پرندے آنکھوں کو اپنے پروں میں سمیٹے ان کھڑکیوں کے پار جا اترتے ہیں۔ دن بھر کے ناتمام اور جاگتی آنکھوں دیکھے گئے خوابوں کا نگر جہاں ساری آنکھیں تعبیر کی تلاش میں بھٹکتی پھرتی ہیں۔ پروں کی پھڑپھڑاہٹ سے تمناؤں کے پھول سفید روئی کے گالوں کی طرح اڑتے ہیں اور اپنے پیچھے نقرئی رنگ کی کمان بناتے چلے جاتے ہیں۔ رات بھر آنکھوں کا سفر جاری رہتا ہے۔ سپیدہ سحر طلوع پر تمام پرندے یکبارگی اڑ کر آرزووں کی منڈیر پر آن بیٹھتے ہیں۔ ساری آنکھیں جو اپنے جسموں کو گہری نیند کی مدہوشی میں چھوڑ کر خوابوں کے نگر میں اتری تھیں اب تھکاوٹ سے چور واپسی کی طالب ہوئی جاتی ہیں۔ تاریکی جب اپنا لبادہ سنبھالتی اجالے کے پہلو سے اٹھ جاتی ہے تو ادھورے جسم تھکی ہوئی آنکھوں کے ساتھ پھر سے زندگی کا نوحہ الاپنے نکل کھڑے ہوتے ہیں .

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. بہت خوبصورت احساس۔۔۔
      خواب اور حقیقت کے کینوس پر رنگ بکھیرتی نیند سفر کی جادو بھری لفظ کشی۔

      حذف کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...