ہفتہ, نومبر 22, 2014

" مستنصر حسین تارڑ کے لفظ سے شناسائی "

یہ شناسائی بھی عجیب ہے۔۔۔برسوں کا ساتھ ہے۔۔۔ گزشتہ صدی کا قصہ ہے۔۔۔ اگر "لو ہیٹ ریلیشن شپ" ہےتو بےخبری کی چادرمیں لپٹی اپنائیت کی گم گشتہ کڑی بھی ہے۔جو زمانے کی گرد میں کھو جاتی تو کبھی اچانک یوں سامنے ملتی کہ دوری کا احساس پل میں دُور ہو جاتا۔
یہ 80کی دہائی کے اولین برسوں کی کہانی ہے۔عمر کا وہ دور۔۔۔ جب زندگی کے ہوم پیج پرآنے والی ہرفائل دھڑادھڑ ڈاؤن لوڈ ہو رہی تھی۔آس پاس بکھرے لفظوں کی کہکشاں کا ہررنگ اپنی جانب کھینچتا۔کہیں خلیل جبران کا فلسفہ زندگی دم بخود کرتا تو کبھی ابنِ انشاء،احمد فرازاور پروین شاکر کی نغماتی شاعری کے مترنم جھرنے شرابور کر دیتے۔۔۔ممتازمفتی کی  نہ سمجھ  آنے والی عورت کہانیاں تھیں تو نسیم حجازی کےلہو گرماتےتاریخی ناول بھی۔ان ریکھاؤں میں جب مستنصر حسین تارڑ کا نام جگمگانے لگا تو اُن کے لفظوں میں ہرلمس کی مہک نے سرشارکردیا۔ زندگی کےایک نئے دورمیں لفظ اور کتاب سے ربط قائم ضرور رہا لیکن اس کی جہت بدل گئی۔ زندگی پڑھنا شروع کی تو سوچ سفر کا زاویہ بھی اسی طرح رُخ بدلتا چلا گیا۔ واصف علی واصف اورپروفیسراحمد رفیق اختر کے واسطے سے نئے رنگ جذب ہوئے تو ممتازمفتی کی "تلاش" نے گویا تلاش ہی ختم کردی۔ تارڑصاحب کے لفظ سے دوستی میں بھی وہ شدت نہ رہی۔ لیکن کوئی کتاب مل جاتی تو پرانے دوست کی خوشبو کی طرح اپنا اسیر کر لیتی۔
 ٹی وی پرآنے والےایک ہفتہ وار"شادی"پروگرام نے بہت بری طرح سےان کا امیج برباد کیا۔ لیکن ان کی کتابیں سب بُھلا دیتیں۔2005 میں حج کیا۔۔۔غارِحرا کی بلندیوں کو چھونے کی سعادت نصیب ہوئی توکسی اپنے کی طرح دل میں جناب تارڑ کا خیال ضرورآیا کہ اگر انہوں نے یہ سفرنہیں کیا۔۔۔یہ مقام نہیں دیکھا۔۔۔یہ لذت نہیں پائی تو شاید زندگی کے ایک بہت بڑے تحفے سےمحروم رہ گئے۔
 پھرجب اچانک ان کی"غارحرا میں ایک رات"اور"منہ ول کعبےشریف"پڑھی تو جیسے ٹوٹتا رابطہ پھرسے بحال ہوگیا۔جناب تارڑ کی "نکلے تری تلاش" سے شروع ہونے والے لفظ کے سفر کو بچوں کے ساتھ شمالی علاقوں کی سیر نے خوب جلا بخشی۔ تارڑصاحب کے لفظ کی خوشبو سے بچوں کو روشناس کرایا تو بچے بھی ان کے اسیر ہوگئے۔لفظ اور فطرت سے محبت کا یہ دلکش ملاپ کئی منازل طے کرتا جینز میں یوں شامل ہوا کہ اب بچے اپنے شوق اور کام میں توازن رکھ کر شمالی علاقوں اور پہاڑوں کی مہم جوئی میں جناب تارڑ کے لفظوں کے سنگ آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں بس ایک 'ماں' کا دل اُن کی ان دشوار گزار رستوں سے بخیریت واپسی کے لیے دعاگو اور مضطرب رہتا ہے۔ وہ راستے جو ماں کے لیے بھی اتنے ہی دیکھے بھالے ہیں جتنے وہ اپنے قدموں پر چل کر طے کرتے ہیں۔اس تعلق میں ایک خاموش یوٹرن یوں آیا کہ جب بچے ان مشکل پہاڑی راستوں پر ٹریکنگ کو جانےلگے۔ بحیثیت ماں ان کی بخیریت واپسی کے لیے جہاں دل دعاگو رہتا وہیں ایک نامعلوم سا احساس جرم بھی ستاتا کہ شاید یہ "نشہ" میرا ہی دیا ہوا ہے۔اب پتہ چلا کہ ایک بند کمرے میں بیٹھ کر کسی کتاب میں موت سے آنکھ مچولی کو پڑھنا اگر ایک رومانس کی صورت سانسوں کو زیروبم کرتا تھا یا پھر کسی ہاررفلم کی طرح اپنی گرفت میں لیتا تھا تو ان خطرناک راستوں کی اصلیت جانتے ہوئے۔۔۔محسوس کرتے ہوئے جب کوئی اپنا جاتا ہے تو کیسا لگتا ہے۔ بچے واپس آ کر بڑے جذبے سے تارڑ صاحب کے حوالے سے ان جگہوں کی تصاویر دکھاتے۔۔۔فئیری میڈوزکی'تارڑ لیک' ہو بشام کا موٹل اوریا پھر نانگا پربت کا بیس کیمپ۔ دیوسائی کے کلک بہت دیکھے بھالے لگتے جیسے پہلی بار سے پہلے بھی دیکھ چکی ہوں۔ سکردواور ہنزہ تو یوں لگتے جیسے وہاں کا چپہ چپہ جانا پہچانا ہے۔
ان میں سب سے خاص سفر دسمبر 2013 کا تھا جب تاریخ میں پہلی بارکوئی پاکستانی گروپ دسمبر کی آخری شام اورنئےسال کی پہلی رات" فئیری میڈوز"میں گزارنے کے لیے وہاں گیا تھا۔ فئیری میڈوزکا برفیلا حسن بھی خوب تھا۔
ایک یادگارسفر144 اگست کی صبحِ آزادی ہنزہ کی شفاف فضاؤں میں محسوس کرنا اورپھر تصویر کے کلک سے میں بھی اسی لمحے میں سانس لینے لگی اورپھراکتوبر کے آخری روز ہنزہ ویلی کے"خزاں رنگ"توسال کا سب سے خوبصورت تحفہ تھے۔
سال 2014 کی ایک مہم وادی سوات کی بلند چوٹی "فلک سیر" کو سرکرنا تھا۔ 
جناب تارڑ کے اندازبیاں کا خاص کمال پڑھنے والے کو اپنے ہمراہ سفر پر لے جانا ہے۔لیکن لفظ پڑھ کر بچوں کی آنکھوں سے
ان جگہوں کو محسوس کرنا بہت خاص اورمنفرد تجربہ ہے۔۔۔تارڑصاحب کی کتابیں پڑھتے ہوئےاُن کا چپکے چپکے مسکرانا۔۔۔
اُن کا اس جگہ پرجانے کے بعد یا جانے سے پہلے تارڑ کی کتاب کا پڑھنا بھی عجیب سی سنسنی دیتا کہ جیسے اپنے کسی ذاتی تجربے میں بچے بھی شریک ہوں یا بچے والدین کو اپنے تجربات میں شریک کریں۔
 ان دشوارگزار پہاڑی راستوں پر سفراگرموت کے کنوئیں میں موٹرسائیکل چلانےجیسا مشغلہ ہےتو یہ نشہ، تھرل اور جنون اس سےبھی بڑھ کر ہے۔اس جنوں کا مثبت پہلو آپ کو اپنے مقصد حیات سے دورنہیں کرتا۔۔۔ بلندوبالا دورافتادہ ان چھوئی وادیوں کونظر کے لمس سے چھونے کی چاہ رکھنے والے پہلے اپنے آپ کواس قابل بناتے ہیں۔۔۔کاروبارِزندگی میں سے وقت اوروسائل نکالتے ہیں۔۔۔اس جگہ سربسجود ہو کر رب کا شکر ادا کرتے ہیں۔۔۔اپنے وطن کا پرچم ضرور ساتھ رکھتے ہیں اوراسے سربلند کرنا نہیں بھولتے۔
سب سے بڑھ کر اہم بات بچوں کا کتاب اوراردو زبان سے رشتہ صرف اورصرف مستنصرحسین تارڑ کے لفظوں کی تار سے ہی جڑا ہوا ہےاور اس کے ساتھ آج کے مصروف دورمیں اپنے ساتھ وقت گزارنے کا ایسا احساس جو نایاب بھی ہے۔ کتاب کی محبت کو نئی نسل میں اتنی ہی تازگی اوراپنائیت کے ساتھ زندہ رکھنا صرف اورصرف تارڑ صاحب کا ہی خاصہ ہے۔ کہ آج کل کی نوجوان نسل شعروشاعری اور افسانہ نگاری سے زیادہ عملی زندگی میں دلچسبی رکھتی ہے۔ سفر کے ساتھ سفر کی روئیداد جہاں سفر کے حسن کو دوبالا کرتی ہے وہیں فطرت سے قربت کی چاہ اور پاک فضاؤں کو چھونے کی لگن احساس کو پاکیزگی بھی عطا کرتی ہے جو آج کے دورمیں ایک بیش بہا نعمتِ سے کم نہیں۔
 آخرمیں ایک بات چپکے سے۔۔۔ کہ جب بچے ایسی جگہوں پر جاتے ہیں تو میرے لیے وہ چند دن بس ایسے ہوتے ہیں کہ جیسے اندر کا سانس اندر ہی رہ جائے۔۔۔چپ کی چادر اوڑھ کربظاہر نارمل رہنے کی کوشش کرتی ہوں۔اپنے آپ کو سمجھاتی بلکہ ڈانٹتی بھی ہوں کہ میں کوئی پرانے زمانے کی روایتی ماں یا اچھی ماں ہرگز نہیں۔خوشی خوشی ان کے جانے میں مدد دیتی ہوں۔اب تو اجازت کا زمانہ بھی نہیں رہا بس اپنا شیڈول بتا دیا جاتا ہے۔ لیکن !!! شاید مامتا کا جذبہ نیا پرانا نہیں ہوتا اوراس کے ڈر خوف بھی ہمیشہ سے ایک ہی حالت میں منجمد ہو کر رہ گئے ہیں۔ 
!آخری بات
 زندگی بھی کیا چیز ہے اس وقت تک بنتی سنورتی اورلشکارے مارتی رہتی ہے جب تک قسمت کے سگنل ہمارے حق میں روشن رہتے ہیں اوریہی زندگی یکدم اندھیر بھی ہوجاتی ہےجب وقت کے فیصلے ہمارے خلاف آئیں۔
 اللہ پاک ہمیں ہر آزمائش میں ثابت قدم رکھے۔ہمیں نہ صرف محبت کی پہچان کا ہنرعطا کرے بلکہ ہماری محبتوں کی شدتوں میں اعتدال بھی قائم رکھے۔آمین۔
فئیری میڈوز میں سال 2014 کی پہلی صبح 
 سال 2013 کی آخری شام ۔۔۔ فئیری میڈوز  
بیال کیمپ ٹریک ۔۔۔ فئیری میڈوز
  نانگا پربت بیس کیمپ
 نانگا پربت بیس کیمپ ٹریک
 
۔۔۔۔۔۔۔
  ۔ 2014۔۔۔چوٹی فلک سیر۔۔۔ سوات ویلی
   
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنزہ ویلی میں خزاں کے رنگ
 اکتوبر 
2014

   
دیوسائی اے دیو سائی

جمعرات, نومبر 20, 2014

"دیر"

دیر کتنی لگتی ہے بات کو بنانے میں
دیر کتنی لگتی ہے یار کو منانے میں
پھر بھی صدیاں بیت جاتی ہیں
انتظار کرنے میں
آشکار کرنے میں
دیر کتنی لگتی ہے
پھر بھی
 دیر ہو جاتی ہے

جمعرات, نومبر 06, 2014

"پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا ۔۔۔۔"

پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا پتھر کے ہو جاؤ گے"۔"
 جانے کون سی کہانی تھی۔۔۔؟ کون سا کھیل تھا۔۔۔؟ یا کون سی حکایت تھی۔۔۔ کہ زندگی کے ہر بڑھتے قدم پر اس کی بازگشت سنائی دیتی رہتی ہے۔دُنیا کے کامیاب ترین انسانوں کی زندگی کہانیاں بھی ہمیں یہی درس دیتی ہیں کہ مقصدِ حیات  متعین کریں۔۔۔ سامنے دیکھیں اوربس ایک ہی راہ چلتے جائیں۔یہی خوبیاں ایک عام انسان کو راہنما بناتی ہیں۔پیچھے رہ جانے کا خوف ایک آسیب کی طرح یوں جکڑتا ہےکہ ہم واقعی پلٹ کر دیکھنے کی ہمت پیدا نہیں کر پاتے۔ غلطیوں کو ماننا اپنی انا کی توہین بھی سمجھتے ہیں۔ 
کسی حد تک پلٹ کر نہ دیکھنے والی بات درست بھی ہے کہ گیا وقت دوبارہ کسی صورت نہیں آتا۔ اور ماضی کی کمیاں کوتاہیاں کبھی بھی درست نہیں کی جا سکتیں۔۔۔راکھ کریدنے سے بچےکچے انگارے ہی ملتے ہیں۔
لیکن!!! اس کو حرفِ آخر مان لینا قطعاً غلط ہے۔ ہرآگے بڑھنے والا شعوری یا لاشعوری طور پر اپنے پیچھے کچھ نہ کچھ ایسا چھوڑ جاتا ہے جو بعد میں آنے والوں کے لیے نشان راہ کا کام دیتا ہے۔ کبھی اپنی اولاد میں اپنے جینز کی صورت اپنے کام، اپنے نظریات اور افکار کی بدولت زندہ رہتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم پیشروؤں کے تجربات سے تو سبق سیکھتے ہیں لیکن اپنی زندگی میں اپنے آپ  کو پلٹ کر دیکھنا  ہمیں کمزوری لگتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ زندگی کا سب سےاہم سبق ہمیں اپنی زندگی اپنے آپ سے ہی ملتا ہے۔ ہمارے رویے،ہمارے جذبات۔۔۔ وقت اورحالات کے زیراثر ہمارا عمل ،ردعمل سب ایک جہاںِ حیرت کے درکھولتے ہیں۔۔۔اگر ہم اس در کے قریب سے بھی گزریں۔  
  ہمارے آس پاس بکھری سب کہانیاں ہماری اپنی ہوتی ہیں۔ ہوا کے جھونکوں کی طرح  ہمارے قریب سے گزرتی رہتی ہیں۔ جس پر بیت چکی ہوں وہ ان کے لمس کو چھو کرحقیقت جان لیتا ہے۔ اور جو وقت کے اس پل انجان ہو وہ افسانہ سمجھتا ہے۔ حقیقت شناس تجربات زندگی کو کبھی نہیں جھٹلاتے۔ جو درد کی شدت میں مرہم کا کام دیتے ہیں تو محبتوں کے سفر میں ہم آہنگی کی انوکھی خوشی کا باعث بھی بنتے ہیں۔
 دوسری طرف افسانہ سمجھنے والے ہمیشہ شک میں گھرے رہتے ہیں۔ زندگی کے تلخ ذائقوں کو سنسنی۔۔۔ مایوسی تو کبھی فلسفے کا نام دے کر مسترد کر دیتے ہیں۔۔۔خوشبو اور لذت سے ناآشنا ان کو الف لیٰلی کی داستانِ تخیل جان کر وقتی سرور قرار دیتے ہیں۔
اسباقِ زندگی ایک سے سہی لیکن ہرکسی پرہمیشہ ایک سے انداز سے سامنے نہیں آتے۔ گزرتے وقت جیسے جیسے زندگی  کی پرتیں اترتی ہیں توافسانہ حقیقت بن کر سامنے آتا ہے اور حقیقت پرافسانے کا گمان ہونے لگتا ہے۔ پھراس پل یقین کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ بہت کم لوگ اس طرح زندگی کو محسوس کرتے ہیں۔۔۔فرائض اورمسائل کے گرداب میں بری طرح الجھے آخری سانس تک زندگی کی اس سفاک حقیقت سے بےخبر ہی رہتے ہیں کہ ان کی زندگی تو دوسرے گزار چکے۔دھکم پیل میں آگے سے آگے بڑھنے سے سفر تو جیسے تیسے طے ہو گیا لیکن زندگی  کہیں بہت پیچھے رہ گئی۔
    

"تنہائی"

 سانس لیتی لاشوں کے درمیان
 ایک زندہ لاش
جانے کب سے اپنی چیخیں سنتی ہے 
اور وجود کی اندھیری قبر میں
چپ چاپ اتر جاتی ہے۔

" ملالہ اور "نوبل"


ملالہ یوسف زئی کو سال 2014 میں ملنے والا نوبل انعام بحیثیت قوم  ہمارے لیے کتنا "نوبل" ثابت ہوتا ہے؟ یہ تو وقت بتائے گا۔ اورملالہ کی شخصیت سے قطع نظر اس کا "کردار" کتنا متنازعہ اور"نوبل" ہے؟ حقیقت اور فسانہ کیا ہے؟ ہم نہیں جانتے۔اوریہ ایک حقیقت بھی ہے جس سےصرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔
 آنکھیں کھلی رکھنا اہم ہے ۔ہم جذباتی قوم ہیں ۔ بنا سوچے سمجھے کسی کو ہیرو بنا دیتے ہیں اور کسی کو پل میں زیرو ۔ اور "مغربی اقوام" کا تعصب  ہمیں کبھی بھی نہیں بھولنا چاہیے۔ نہ صرف ہماری تاریخ بلکہ  پوری اسلامی تاریخ بھی اس کی گواہ ہے۔ اور ہم مشرق میں رہنے والوں کو سب سے زیادہ نقصان ہمارے اپنوں نے ہی  پہنچایا ہے۔غیروں نے  صرف مواقع سے فائدہ اٹھایا ہے۔۔
ملک کو ملنے والا یہ دوسرا نوبل انعام مغربی دنیا کی صف میں تو یقیناً ہمیں معتبر بناتا ہے لیکن!!! قیام پاکستان کے اولین برسوں سے ایک لباس اور ایک انداز سے انسانیت کی خدمت کرنے والا "چراغ سحری" کم از کم ہمیں اس"خوشی" کو مناتے ہوئے اپنے گریبان میں جھانکنے پر مجبور ضرور کرتا ہے۔ جسے ہم نے اس کا جائز مقام نہیں دیا تو بیرونی دنیا سے کیا شکوہ کرنا ۔ حیرانی "بڑے" ممالک کے انسانی حقوق کے علم برداروں کے رویے پر ہے۔
ملالہ کو حق پر سمجھنے والوں کے لیے۔۔۔۔۔ وہ اسے نہ ماننے والوں کو تنگ نظری کے طعنے دیتے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے عالمی اعزاز کی وجہ سے  فخرِپاکستان کہہ رہے ہیں۔ ان سے صرف ایک سوال۔۔۔ اگر کل کو مغرب " وینا ملک یا گلو بٹ" کو  بھی کوئی عالمی ایوارڈ دے دے۔۔۔ اُن کے "ٹیلنٹ" کی وجہ سے جواُن اقوام  کےخیال اوریقین میں جائز بھی ہو۔ اورہم بھی ان لوگوں کی "اخلاقیات" کے پس منظر میں جائز مان لیں۔ تو کیا پھراُنہیں بھی سرآنکھوں پر بٹھائیں گے؟۔
 نوٹ:: وینا ملک اور گلو بٹ کا نام صرف ایک "ٹریڈ مارک" کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ کسی کی شخصی آزادی میں مداخلت ہرگز نہیں۔ اس نام کے حامل احباب سے دلی معذرت کہ دلوں کا حال رب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔شاید ہم میں سے بہت یا ہم خود بھی اندر سے یہی چہرہ رکھتے ہوں۔ اللہ توبہ قبول کرنے والا اور پردے رکھنے والا ہے۔
 کسی نے ملالہ ایشو کی حمایت  کرتے ہوئےکہا"اچھی چیز اگر گندگی کے ڈھیر میں ملے پھر بھی وہ اس لائق ہے کہ اسے اٹھایا جائے اور گندی چیز اگرچہ ہمارے گھرہی میں کیوں نہ ہو پھینکے جانے کے قابل ہے"۔
  میرا کہنا تھا ۔۔۔آپ کا کہنا درست سہی لیکن حرف آخر نہیں۔ بات جان بچانے کی ہو تو مردار بھی جائز ہے اور گھر میں موجود گندی چیز گھر کا حصہ ہویا جسم میں ناسور کی صورت۔۔۔ اسے ممکن حد تک درست کرنے کی گنجائش بہرحال آخری حد تک باقی رہتی ہے۔۔۔اسے دفن کرنا پڑتا ہے۔۔۔باہر پھینکنے سے اپنا ہی تماشہ بنتا ہے۔
 ملالہ کے حق یا تنقید میں کچھ نہیں لکھا جا سکتا کہ جس طرح انصاف کی بات کریں تو کبھی دھرنوں یا انقلابیوں کے طرف دار ہونے کے طعنے ملتے ہیں اورکبھی نواز کی نوازی کا شک کیا جاتا ہے۔ ہم سب اپنی عزت بچانے کے لیے بس خاموش تماشائی کی طرح تماشا دیکھے چلے جاتے ہیں۔ یہ نہیں جانتے کہ ہم تماشائی نہیں تماشا گاہ ہیں ۔


"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...