ہفتہ, دسمبر 24, 2016

"حِراموش ناقابلِ فراموش"

سفرِِحراموش  جولائی2016 از مستنصرحسین تارڑ
( روزنامہ نئی بات میں چھپنے والے کالم)
٭ایک ناکام پہاڑوں کی مہم کی داستان ۔۔17نومبر 2015۔۔۔
۔’’ڈاکٹر صاحب۔۔۔ کیا میں پہاڑوں پر جا سکتا ہوں‘‘پچھلے چیک اپ کے دوران میں نے اپنے محسن اور مسیحا ڈاکٹر محمود ایاز سے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔۔۔’’ آپ کو یاد ہوگا کہ دوسرے آپریشن کے بعد جب میرے پورے بدن میں پلاسٹک کی متعدد ٹیوبیں پیوست تھیں اور میں نیم بیہوشی میں تھا تو میں نے آپ سے یہی سوال کیا تھا کہ اگر میں صحت مند ہو گیا تو کیا میں پہاڑوں میں جا سکوں گا تو آپ نے کہا تھا، آپ صحت مند ہو جائیں گے اور پہاڑوں پر ان شاءاللہ جائیں گے تو چلا جاؤں؟‘‘۔
ڈاکٹر صاحب اپنی ترشی ہوئی ڈاڑھی کی خوشنمائی میں اپنی مسیحائی میں مسکراتے ہوئے کہنے لگے ’’آپ پہاڑوں پر کیوں جانا چاہتے ہیں؟‘‘۔
۔’’ اس لئے کہ مجھے پہاڑوں میں جا کریقین آئے گا کہ میں واقعی صحت مند ہو گیا ہوں۔۔۔ یوں بھی میں اُن کے لئے اور پہاڑ میرے لئے اداس ہو چکے ہیں‘‘۔
۔’’اپنے ٹانکوں کا خیال رکھیئے گا۔۔۔ زیادہ مشقت نہ کیجئے گا۔۔۔ چلے جائیے‘‘۔
میں نے گھر واپس آ کر گھڑیال سے منادی کردی، نقارہ بجا دیا کہ ڈاکٹر صاحب نے اجازت مرحمت فرما دی، آؤ پہاڑوں پر چلتے ہیں۔
جمیل عباسی اڑتا ہوا پہنچا۔۔۔ہوائی جہاز پر سوار اسلام آباد اتر آیا۔۔۔کامران سلیم سیالکوٹ سے امڈتا ہوا آگیا۔لاہور سے  عاطف اور شاہد زیدی کشاں کشاں میرے ہاں اسلام آباد پہنچ گئے۔۔۔ عاطف، شکل سے طالبان کا نمائندہ خصوصی لگتا، اپنی گھنی ڈاڑھی سنوارتا ایک باصلاحیت اور کمال کا فوٹو گرافر ہے جس نے جلوپارک میں ایک غصیلے اور طیش میں آتے ہوئے شیر ببر کی جو تصویر اتاری وہ دنیا بھر میں تہلکہ خیز ثابت ہوئی، شیروں کی دس بہترین تصویروں میں شمار ہوئی یہاں تک کہ مشہور زمانہ پستول برٹیا تخلیق کرنے والے صاحب نے اسے اپنے دفتر میں آویزاں کرنے کے لئے ایک خطیر رقم اُس کی خدمت میں پیش کی۔۔۔اُدھر یہ جو شاہد زیدی صاحب تھے، پرانے کولو نیل لاہور کی ایک بہتّر برس کی عمر کی یادگار تھے۔ لاہور کی مال روڈ پر ہائیکورٹ کے سامنے ’’زیدی فوٹوگرافر‘‘ کا شوروم لاہور کی ایک پہچان تھا۔۔۔ میرے ابا جی نے جب میں چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا اسی شوروم میں میری زندگی کا پہلا کیمرہ۔۔۔ ایک کوڈک بےبی براؤنی مبلغ بائیس روپے میں خرید کر دیا تھا۔۔۔ تقریباً چونسٹھ برس بعد اسی شوروم کے موجودہ مالک شاہد زیدی نے میری ایک کلاسیک پورٹریٹ بنائی جو وہ کسی ’’لیجنڈ آف پاکستان‘‘ کی تصویری کتاب میں شامل کرنا چاہتے تھے، میں نے فوری طور پر اس بوڑھے اور سمارٹ نوجوان زیدی کو پسند کرلیا۔۔۔ زیدی صاحب ایک تنہا زندگی گزارتے ہیں، گھر میں ایک وسیع سٹوڈیو بنا رکھا ہے۔جہاں جنرل پرویزمشرف بھی اپنی پورٹریٹ بنوانے کے لئے آئے۔ مچھلی کے شکار کے شیدائی ہیں لیکن مچھلی کھاتے نہیں، دوستوں میں تقسیم کر دیتے ہیں، امریکہ میں چٹانوں پر چڑھتے رہے ہیں، ہوائی جہاز اڑاتے رہے ہیں، پانچ بار مجھ سے پیشتر کےٹو کے بیس کیمپ تک جا چکے ہیں۔ ہنی مون کے لئے 1964ء میں گلگت اور ہنزہ گئے تھے۔۔۔ غرض کہ شدید طورپر آوارہ مزاج اور کھلنڈرے ہیں۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں ان سے پہلے کیوں متعارف نہ ہوا۔ اُدھر فیصل آباد سے ڈاکٹر احسن چلے آئے جنہوں نے شاید پاکستان بھر میں شمالی علاقہ جات میں سب سے زیادہ کوہ نوردی کی ہے۔ ہمارے اس مہم کے آفیشل انچارج وہ تھے۔ سکردو تک ٹکٹوں کا حصول، بلتستان کے دور افتادہ دیہات تک رسائی اور پھر ہراموش وادی کی بلندوں پر واقع کتوال جھیل تک ہمیں لے جانا سب اُن کی ذمہ داری تھی۔ لیکن۔۔۔ منگل کی سویر جب اسلام آباد میں موسم صاف تھا، سکردو میں دھوپ اتری ہوئی تھی اور ہم تیار بیٹھے تھے جب چھ بجے اطلاع ملی کہ خراب موسم کی وجہ سے سکردو فلائٹ کینسل ہو گئی ہے۔۔۔ جو فلائٹ ساڑھے نو بجے روانہ ہونی تھی وہ صبح چھ بجے کیسے کینسل ہو سکتی تھی، بعدازاں کھلا کہ پی آئی اے نے وہ جہاز کہیں اور بھیج دیا تھا اور بہانہ یہی کہ موسم خراب ہے اور وہ نہ تھا۔ پی آئی اے نے اہل شمال کو ہمیشہ دو نمبر شہریوں کے طور پر سلوک کیا ہے کہ وہ احتجاج نہیں کرسکتے۔۔۔ چلئے ہم اگلے روز چلے جائیں گے۔۔۔ میں وہ دن گزارنے کے لئے اپنے ساتھیوں کو ٹیکسلا لے گیا اور وہ ایک شاندار اور پرانی یادوں کی اداسی کا دن تھا۔۔۔ ہم موہر ہ مرادو کی خانقاہ کے کھنڈروں میں چلے گئے، وہاں بلندی پر وہ سحرانگیز غار تھی جہاں میں کبھی احمد داؤد اور کبھی وحید احمد کے ساتھ آیا کرتا تھا۔ میرے ناول ’’قربت مرگ میں محبت‘‘ کے مرکزی کردار خاور، سلطانہ شاہ کے ہمراہ اسی غار کے دہانے پر بیٹھ کر نیچے بچھی ہوئی ہری پور کی وادی کے گھروں میں سے اٹھتے دھویں کو دیکھا کرتاتھا، میری خواہش تھی کہ ہم وہاں پہنچ کر غار کے باہر براجمان ہو کر دوپہر کا کھانا کھائیں لیکن وہ غار میری عمر کی وجہ سے میری پہنچ میں نہ تھی۔۔۔ ہم جولیان بھی گئے۔۔۔ بدھ مذہب کی وہ ہزاروں برس قدیم درس گاہ جہاں چین، سنٹرل ایشیا اور تبت سے علم کے حصول کے لئے لوگ آیا کرتے تھے۔۔۔ جولیان تک اٹھنے والی تقریباً ساٹھ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ میرے زخموں کے ٹانکے ابھی کچے ہیں۔۔۔ کچھ درد سا ہوتا تھا۔۔۔ اگر یہاں یہ حالت ہے تو میں ہراموش وادی تک کیسے پہنچ پاؤں گا۔ لیکن، اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔۔۔ جولیان میں وہ کوٹھڑی تھی جس میں میرے ناول کے کردار خاور نے سلطانہ شاہ کے ساتھ اپنی محبت کا ایک گیلا اظہار کیا تھا۔
ڈاکٹر احسن نے بہت کوشش کی لیکن ہمیں اگلے روز کی فلائٹ پر نشستیں نہ مل سکیں، البتہ بدھ کے روز چانس پر ٹکٹ میسر تھے، کیا پتہ وہ ٹکٹ نہ کنفرم ہوں، اگر ہوں تو کون جانے اُس روز بھی فلائٹ جائے نہ جائے۔ ہم سب کے دل بجھ گئے۔۔۔ ہم نے اپنے اپنے بجھے دل میں چراغ جلانے کی کوشش کی پر ناامیدی کی پھونکوں نے سب چراغوں کو بجھا دیا۔۔۔ جمیل واپس چلا گیا۔ ڈاکٹر احسن نے فیصل آباد کا سفر اختیار کیا اور ہم تینوں ، میں ، کامران اور زیدی صاحب ہارے ہوئے جنگجوؤں کی مانند پژمردہ اور تھکے ہوئے واپس لاہور آگئے۔۔۔ دراصل بلند پہاڑوں نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ ابھی میرے ٹانکے کچے ہیں، زخم بھرے نہیں۔ یہ میری آشفتہ سری ہے جو مجھے ان کی جانب لئے جاتی ہے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں رسول حمزہ توف کی مانند اُن کی بلندیوں پر مر جاؤں تو انہوں نے میری محبت میں مجھے وصول کرنے سے انکار کردیا۔
اگر تم تنہا اور اداس ہو۔۔۔
اور کوئی بھی تمہاری محبت میں مبتلا نہیں ہے۔
تو جان لینا کہ۔۔۔
کہیں بلند پہاڑوں میں۔۔۔
رسول حمزہ توف مر گیا ہے۔۔۔
۔۔۔۔۔
 حراموش ناقابل فراموش  ویڈیو(پہلی قسط) ۔
٭1)بابوسر ٹاپ پر پاکستان زندہ باد۔4ستمبر 2016۔۔۔
اگر بالاکوٹ سے ناران تک نوتعمیر شدہ شاہراہ نے مجھے حیران کر دیا تو ناران سے درہ بابوسر تک جانے والی سڑک کی وسعت اور ہموارگی نے مجھے پریشان کر دیا۔۔۔ میں ایک مرتبہ پھر ڈیول کو اُس کا ڈیو دیتا ہوں۔۔۔ میاں صاحب کی توصیف کرتا ہوں۔۔۔ ہم نے بہرطور آج چار بجے تک گلگت پہنچنا تھا کہ گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ حافظ حفیظ الرحمن وہاں میرے منتظر تھے۔۔۔ تقریباً دو ماہ پیشتر مجھے اسلام آباد سے اُن کے پرائیویٹ سیکرٹری کا فون آیا کہ۔۔۔ بہت سی توصیف۔۔۔ ازاں بعد۔۔۔ آپ گلگت بلتستان کے ایک محسن ہیں، آپ نے شمال کے حوالے سے پورے پندرہ سفرنامے تحریر کئے ہیں۔ آپ نے فیری میڈو کو متعارف کروایا اور وہاں ایک جھیل کا نام ’’تارڑ جھیل‘‘ مقامی لوگوں نے رکھ دیا تو۔۔۔ گلگت بلتستان کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ چیف منسٹر صاحب نہ صرف آپ کو ایک ایوارڈ سے نوازیں بلکہ آپ کے نام کے ایک ایوارڈ کا اجراء کریں جو ہر برس شمال کے بارے میں تحریر کئے جانے والے بہترین سفرنامے اور بہترین ڈاکومنٹری پر دیا جائے گا۔۔۔ تو آپ سے گزارش ہے کہ گلگت تشریف لایئے۔۔۔ میں نے بھی بصد ادب گزارش کی کہ بندہ بہت بوڑھا ہو چکا ہے۔۔۔ صرف ایک ایوارڈ حاصل کرنے کے لئے گلگت تک کا پُرصعوبت سفر نہیں کر سکتا البتہ میں حراموش وادی کی کوہ نوردی کی منصوبہ بندی کر رہا ہوں۔۔۔ تب گلگت بھی آنا ہو گا، تب حاضر ہو جاؤں گا۔۔۔ اُنہوں نے چیف منسٹر سے مشورہ کر کے کہا۔۔۔ منظور ہے، منظور ہے۔
ناران بابوسر ٹاپ تک کا سفر اس لئے دلنشیں تھا کہ راستے میں، میں نے ایسے لوگ دیکھے، کراچی، سندھ اور بلوچستان کے جو زندگی کی مسرتوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔۔برفانی ندیوں کے کنارے ہری بھری گھاس پر سرد ہواؤں کے جھونکوں میں پورے کے پورے خاندان پکنک منا رہے ہیں۔۔۔ جہاں کہیں آبشاریں اترتی ہیں اُن کی پھوار تلے لڑکیاں غُل مچاتی بھیگتی ہیں۔ بڑے جہازی سائز کے موٹرسائیکلوں پر سوار چمڑے کی جیکٹوں میں ملبوس جوڑے درّہ بابوسر کی جانب چلے جا رہے ہیں۔
ایک کار ہماری کوچ کے برابر میں سے گزر گئی۔۔۔ کار کی دونوں کھڑکیوں میں سے دو لڑکیاں اپنے آدھے دھڑ باہرنکالے۔۔۔ ’’وِی‘‘ کا نشان انگلیوں سے بناتیں، جانے کون سے نعرے لگاتی چلی جا رہی تھیں۔میں نے ندیوں میں اترتی، شلوار کے پائنچے سنبھالتی بوڑھی عورتوں کو دیکھا جن کے بوڑھے خاوند کناروں پر کھڑے اُنہیں سرزنش کرتے تھے۔۔۔ ایک جھرنے کے پانیوں میں بھیگتے میں نے ایک نوجوان کو گٹار بجاتے دیکھا۔یہ جنونی اور تعصب سے فرار ہونے والا اصل پاکستانی تھا۔ طالبان کا نہ تھا، پاکستان کا پاکستانی تھا۔۔۔ اور یہ زندہ تھا۔۔۔ مُردہ نہ تھا۔۔۔ اہل اقتدار اگرچہ سیاسی مصلحتوں کی بنا پر چشم پوشی کرتے تھے، بلکہ احتجاج کرتے تھے کہ مُردہ باد کے نعرے لگانے والوں کی قتل گاہوں کو مسمار نہ کیا جائے۔۔۔ اور تو اور مذہبی جماعتوں نے بھی محض شلغموں سے مٹی جھاڑی تھی، اُنہوں نے بھی کوئی ایک ’’ملین مین‘‘ ریلی نہ نکالی جو وہ اکثر نکالتے رہتے تھے۔۔۔ کیا اُن کے نزدیک یہ ایک بے حرمتی نہیں ہے۔۔۔ وہ ملک جو رسولؐ اللہ کی شمع کے پروانوں کا ہے اگر اُسے مُردہ باد کہا جائے تو کیا یہ بے حُرمتی نہیں ہے۔
اہل اقتدار کے اپنے اور دیگر مذہبی جماعتوں کے اپنے اپنے مسائل ہیں لیکن۔۔۔ یہ جو اہل پاکستان ہیں وہ ان سب سے الگ پاکستان کو زندہ کرتے ہیں۔ لعنت در لعنت اُن پر جو مُردہ باد کے نعرے لگاتے ہیں ۔۔۔ میرا خیال تھا کہ درّہ بابوسر کی چوٹی پر ایک عظیم تنہائی ہو گی، میں اُس کی بلندی پر کھڑا ایک تنہا شخص ہوں گا اور سرد ہواؤں کے تھپیڑے میرے قدم اکھاڑتے ہوں گے ۔۔۔ البتہ میں اُن لوگوں کے بارے میں رنجیدہ ہوں گا جنہیں اس مقام پر ایک بس سے اتار کر اُن کے شناختی کارڈ چیک کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔۔۔ اُن کے بال بچوں کے سامنے اُن کے سروں میں گولیاں مار دی گئی تھیں۔
لیکن۔۔۔ ہم بابوسر ٹاپ پر پہنچے ہیں تو وہاں ہزاروں کا ہجوم ہے۔۔۔ بے شمار جیپیں، کوچیں اور کاریں کھڑی ہیں اور کراچی سے آنے والی کسی کالج کی لڑکیاں قطار باندھ کر نعرے لگاتی رقص کرتی ہیں۔۔۔ کچھ بوڑھی عورتیں ایک گلیشئر پر پھسلتی ’’سکی اِنگ‘‘ کر رہی ہیں۔۔۔ وہاں ایک میلہ لگا تھا۔۔۔ کچھ لوگ میرے سفید ہو چکے بالوں کے باوجود مجھے پہچان کر میرا گھیراؤ کرتے مجھ سے ’’سیلفیوں‘‘ کی فرمائش کرتے تھے۔۔۔ موبل آئل میں تلے ہوئے پکوڑے سیاح رغبت سے کھاتے ہیں۔۔۔ ہوا تیز ہے اور اُس میں دامن اور دوپٹے پھڑپھڑاتے ہیں۔۔۔ نوجوان لڑکے، کراچی اور کوئٹہ کے۔۔۔ سرمست اور بے خود درّہ بابوسر کی بلندی پر زندگی کی مسرتوں کی مے کشید کر رہے ہیں۔
ہم پورے پانچ بجے، جب کہ گلگت کے گرد گھیرا ڈالے چٹانوں پر سورج کی آخری کرنیں اترتی تھیں، ہم گلگت بلتستان کے چیف منسٹر کی رہائش گاہ میں داخل ہوئے اور وہ باہر کھڑے ہمارے منتظر تھے۔
۔۔۔
۔ویڈیو (دوسری قسط)۔
٭2)گلگت بلتستان کے چیف منسٹر ہاؤس میں۔11ستمبر2016۔۔۔۔
گلگت ایک جزیرہ ہے اور وہاں چیف منسٹر ہاؤس ہے جہاں ہم پہنچے تو گلگت بلتستان کے چیف منسٹر حافظ حفیظ الرحمن جانے کب سے ہمارے انتظار میں باہر کھڑے تھے۔۔۔ اور یہ میزبانی کی روایت انہی خطوں کی ہے، کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ کسی اور صوبے کا چیف منسٹر آپ کے لیے اپنے شیشے کے گھر سے باہر آ کر آپ کا انتظار کرے۔۔۔ نہ صرف وہ بلکہ اُن کی کابینہ کے متعدد وزیر، اسمبلی کے سپیکر ناشاد صاحب اور گلگت بلتستان کے نامور تاریخ دان، محقق، شاعر اور ادیب بھی میری آمد کے منتظر تھے۔ ناشاد صاحب کو میں ایک عرصے سے جانتا تھا، وہ کبھی شاد نہ ہوئے، ہمیشہ ناشاد رہے۔۔۔ ’اے عشق ہمیں برباد نہ کر۔۔۔ ناشاد نہ کر‘۔۔۔ لیکن مجھے دیکھ کر لمحے بھر کے لیے شاد ہوئے اور پھر ناشاد ہو گئے۔
چیف منسٹر صاحب نے نہایت تفصیل سے میرے شمال کے سفرناموں کو گلگت بلتستان کی اولین پہچان قرار دیا۔۔خوب توصیف کی اور پھر مجھے گلگت بلتستان کا ایک غیر سرکاری سفیر قرار دیا۔۔۔صدشکر کہ میں ایک غیر سرکاری سفیر تھا کہ سرکاری سفیر ہونے کے لیے تو بہت پاپڑ بیلنے پڑتے تھے اور میرے پاس اتنا بڑا بیلنا نہ تھا۔۔۔ اور بہت لطیفے سنانے پڑتے تھے اور میرے پاس لطیفوں کا سٹاک بھی محدود تھا۔ حافظ صاحب کی کلائی پر ایک قیمتی گھڑی بند ھی تھی جو محترم وزیراعظم سے اُن کی محبت کا مظہر تھی۔ وہ مجھے ایک منجھے ہوئے اور قابل اعتبار سیاستدان لگے جن کے منصوبے قابل عمل لگتے تھے۔۔۔ وہ مجھے اچھے لگے۔۔۔جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں انہوں نے نہ صرف مجھے ایک خصوصی ایوارڈ سے نوازا بلکہ میرے نام کے ایک ایوارڈ کے اجراء کا بھی اعلان کیا جو ہر برس شمال کے بارے میں لکھی جانے والی بہترین کتاب اور ڈاکو منٹری پر عطا کیا جائے گا۔ حافظ صاحب مجھے اس لیے بھی بھلے لگے کہ انہوں نے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک نہایت اہم میٹنگ صرف اس لیے مؤخر کر دی کہ مجھے اُن کے ہاں آنا تھا۔۔۔ شمال کے مصنف دوستوں نے بہت کرم کیا، نہ صرف مجھے ملنے کے لیے چلے آئے بلکہ اپنی تصانیف بھی مجھے تحفے کے طور پر عطا کیں۔
چیف منسٹر صاحب کا کہنا تھا کہ اس برس عید کی چھٹیوں کے آس پاس تقریباً بیس ہزار کاریں گلگت بلتستان میں داخل ہوئیں جب کہ پورے صوبے میں کاروں اور ویگنوں وغیرہ کی تعداد پچاس ہزار کے قریب ہے۔۔۔ ہمارے پاس چھ ہزار افراد کی رہائش کی گنجائش ہے تو ہم کیا کرتے۔۔۔ اسی لیے سیاحوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، تارڑ صاحب۔۔۔ یہ آپ کے سفرناموں کی مصیبت ہے۔ اب کوئی ایسا سفرنامہ تحریر کیجیے کہ یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد میں کچھ کمی ہو جائے۔۔۔اگر میں نے گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ سے ایک ایوارڈ وصول کیا تو کیا میں بھی ایک سرکاری درباری ادیب ہو گیا تھا؟ ہاں ہو گیا تھا کہ اس خطے کے لوگوں نے اپنی محبت اور خلوص سے مجھے موہ لیا ہے۔۔۔ وہ تو سکردو کی ایک نشست پر مجھے اپنا نمائندہ نامزد کرنا چاہتے تھے۔۔۔ فیئری میڈو کی ایک جھیل کو رحمت نبی نے ’’تارڑ جھیل‘‘ کا نام دے دیا تھا بلکہ انہوں نے اُس مقام کو ایک یادگار بنا رکھا تھا جہاں آج سے تیس برس پیشتر میں نے اپنا خیمہ نصب کیا تھا۔ یہاں تک کہ میں اُن کی دیومالا میں شامل ہو چکا تھا، نانگا پربت کے دامن میں رہنے والے وہاں آنے والے سیاحوں کو میری جھوٹی سچی داستانیں سناتے ہیں۔۔۔ ایورسٹ کو سر کرنے والے پہلے پاکستانی نذیر صابر ہر انٹرویو میں مجھے شمال کا محسن قرار دیتے ہیں۔۔۔تو جس خطے نے میری یوں پذیرائی کی ہو، میں وہاں کا درباری سرکاری ادیب ہونے میں فخر محسوس کرتا ہوں۔
آپ مجھے کسی اور چیف منسٹر کے دربار میں نہ دیکھیں گے۔ گلگت بلتستان میرا محبوب ہے اور اگر محبوب آپ کی عزت افزائی کرے تو کون کافر انکار کر سکتا ہے۔اور ہاں اس دوران اسلام آباد سے مجھے عکسی مفتی اور شاہنواز زیدی کے پیغام آئے کہ اس برس یوم آزادی پر آپ کو ستارۂ امتیاز عطا کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔۔۔چنانچہ شمال میرے لیے اچھی خبریں لا رہا تھا۔۔۔ اور ہاں چیف صاحب نے ہمیں ایک بہت بھاری چائے پلانے کے بعد، رات کے کھانے تک کے لیے ٹھہر جانے کو بہت کہا لیکن۔۔۔ ہم ٹھہر نہ سکتے تھے، را کا پوشی کے دامن میں مناپن کے اداس گاؤں میں دیران گیسٹ ہاؤس کے باغ بہاراں کے سیب کے درخت، چیری کے شگوفے اور خوبانیوں کے زرد سورج ہمارے منتظر تھے۔
ہم رات گئے را کا پوشی کے سفید معبد کے دامن میں ویران ریسٹ ہاؤس پہنچے تو نہ صرف مہربان دوست اسرار ہمارا منتظر تھا بلکہ خوبانیوں کے ایک سورجوں سے لدے شجر تلے۔۔۔ اپنے روایتی لباسوں میں سجے ہوئے ، زیوروں سے آراستہ، ہاتھوں میں گلدستے تھامے۔ میرا ستقبال کرتے چھ نگری بچے، اتنے سوہنے اور سرخ گلاب جیسے ابھی ابھی سیبوں سے تراشے گئے ہوں، مجھ پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہوئے، اپنی مقامی زبان میں میرے لیے ایک خوش آمدی قدیم گیت گاتے تھے۔
ہم نے سنا ہے کہ آپ ہمارے گاؤں آ رہے ہیں یہ خوشی کی خبر سن کر مثلِ گلاب ہم کھل گئے۔میری پژمردہ بوڑھی آنکھوں میں نمی آ گئی اور اُس نمی میں تشکر اور عاجزی اور کم مائیگی کی بادبانی کشتیاں تیرنے لگیں۔۔۔ بے شک آج مجھے گلگت بلتستان کے چیف منسٹر نے ایک اعزاز سے نوازا تھا۔اسلام آباد سے خبر آئی تھی کہ مجھے ستارۂ امتیاز دیا جا رہا ہے پر ایسےاعزاز تو بہت لوگوں کو ملتے ہیں۔۔۔ میرے لیے ان ہر دو اعزازات کو حقیر کرتا ان نگری بچوں کا استقبالیہ قدیم گیت تھا۔
ہم نے سنا ہے کہ آپ ہمارے گاؤں آ رہے ہیں
۔۔۔۔۔
۔ویڈیو (تیسری قسط)۔
٭3)حراموش اور ناران سیاحوں کی قتل گاہ۔۔7ستمبر 2016۔۔۔۔
بہت برس پہلے میں شمال کی کسی کوہ نوردی کی تھکن سے نڈھال سکردو سے گلگت کی جانب جا رہا تھا اور وہاں سکردو روڈ کی جان لیوا مسافتوں کے دوران سسّی نام کی ایک آبادی کے پس منظر میں یکدم ایک شاندار برف پوش پہاڑ چٹیل چٹانوں کی اوٹ میں سے یوں ابھرا جیسے کسی دیومالائی سمندر میں سے ایک سفید عفریت ابھرتا ہے اور یہ کوہ حراموش تھا۔۔۔اُس کا
برف آثار، برف انبار، برف بار وجود ابھرتا چلا گیا یہاں تک کہ وہ دریائے سندھ کی گونج پر حاوی ہو گیا۔۔۔ اُس کی شاندار برفیلی عظمت نے مجھے موہ لیا۔۔۔اے حراموش میں تجھے کبھی فراموش نہیں کروں گا۔ کبھی نہ کبھی تیرے دامن تک پہنچ کر تیرے چرنوں میں عقیدت کے چند جنگلی پھول چڑھاؤں گا۔۔۔ اگر میں زندہ رہا تو۔۔۔
میں اب اتنے برسوں بعد حراموش سے کیا گیا وعدہ پورا کرنے جا رہا تھا۔۔۔جب متعدد طویل آپریشنوں کے بعد ڈاکٹرمحمودایاز نے مجھے نوید دی کہ تارڑ صاحب۔۔۔اب آپ صحت مند ہو چکے ہیں تو میں نے اُن سے کہا ، کیا میں پہاڑوں پر جاسکتا ہوں کہ میرے لئے زندگی اورصحت کا مطلب ہے کوہ نوردی کے قابل ہو جانا۔۔۔ ڈاکٹر صاحب بھولے ڈاکٹر تھے اُن کا خیال تھا کہ میں مری، سوات وغیرہ کی بات کرتا ہوں تو اُنہوں نے کہا ، ہاں آپ پہاڑوں پر جاسکتے ہیں، اُنہیں کیا پتہ تھا کہ میں نے حراموش کی بلندیوں کو سر کرنے کا قصد کر رکھا تھا۔دراصل میرے کچھ ایسے دوست ہیں جنہیں پرانے زمانوں میں مرید وغیرہ کہا جاتا تھا۔ کامران سلیم، عاطف سعید، ڈاکٹر احسن وغیرہ، چوتھا مرید جمیل عباسی، یہ وہ چار بیساکھیاں ہیں جو مجھ بوڑھے کو سہارا دے کر پہاڑوں تک لے جاتے ہیں، یوں جانئے کہ یہ وہ چار جن ہیں جو میری ابرو کے اشارے پر ’’جو حکم آقا۔۔۔‘‘پکارتے چلے آتے ہیں، ان کے سوا بابا شاہد زیدی تھا، لاہور کے سب سے نامور ’’زیدی فوٹوگرافر‘‘ کا آخری چشم و چراغ۔۔۔ میری صبح کی سیر کے تین ساتھی، سرفراز ملک، تنویر خواجہ اور ڈاکٹر نسیم بھی میرے ساتھ ہو لئے اگرچہ بعد میں بہت پچھتائے۔
میں زندگی میں پہلی بار تھاکوٹ، بشام کے راستے نہیں، ناران اور درہ بابوسر کے راستے گلگت جا رہا تھا۔۔۔ بالاکوٹ سے ناران جانے والی شاہراہ نے مجھے حیران کردیا۔۔۔وہ پہاڑوں میں بل کھاتی ایک حیرت ناک موٹروے تھی جس پر کاروں کا ہجوم تھا۔ انگریزی کا محاورہ ہے کہ ۔۔۔گِو دے ڈیول ہِز ڈیو۔۔۔تو میں کھُلے دل سے اقرار کرتا ہوں کہ یہ شاہراہ تعمیر کرکےنوازشریف نے مجھے خوش کردیا تھا، ہم رات کے دس بجے کے قریب ناران پہنچے۔۔۔یہ وہ ناران نہ تھا 1955ء والا۔۔۔کنہار کنارے گوجروں کے چند جھونپڑے، ایک قدیم ریسٹ ہاؤس اور ویرانے میں دو تنور جہاں صرف آلو شوربہ ملتا تھا۔۔۔ یہ 2016ء کا ناران تھا۔ پرہجوم، دل آزار، ہوٹلوں کی بھرمار اور اہل ناران سیاحوں کا قتل عام کر رہے تھے۔ ناران کے داخلے پر سینکڑوں سفید ٹینٹ ایسادہ تھے۔سیاّح اپنے بچوں کو شب کی سردی سے محفوظ رکھنے کے لئے منہ مانگی قیمت ادا کر رہے تھے۔ ہوٹلوں کے بوسیدہ اور گندے کمرے۔۔۔ دس ہزار۔۔۔ اور اگر سیاح بہت ہی مجبور ہے تو بیس ہزار۔۔۔ناران کے لوگ سونے کے انڈے دینے والی بطخ یعنی سیاحوں کو ذبح کرکے تمام تر سونے کے انڈے حاصل کرلینا چاہتے تھے۔۔۔میں نے ایک اصطبل میں  پارک شدہ ایک مرسڈیس دیکھی اور پارکنگ کے لئے پانچ ہزار وصول کیے گئے۔۔۔ اگرچہ چند ایک معیاری ہوٹل موجود ہیں لیکن ان کی تعداد ذرا کم کم ہے۔۔۔ بے شک یہاں گلے کاٹنے کا مقابلہ ہو رہا تھا لیکن اس کے باوجود ناران کے بازار میں بہت رونقیں تھیں، اس برس پورے پاکستان نے شمال پر یلغار کردی تھی۔ دہشت گردی، کرپشن اور مذہبی جنون سے تنگ آئے ہوئے لوگ اپنے شہروں سے فرار ہو کر کچھ لمحے سکون کے حاصل کرنے کے لئے یہاں چلے آئے تھے۔ میرا مشورہ تو یہی ہے کہ ناران کاغان مت جائیے، البتہ اگر کھال اتروانے کا شوق ہے تو چلے جائیے۔۔۔اور اگر جائیے تو کسی معیاری ہوٹل میں ایڈوانس بکنگ کرواکے گھر سے نکلیے۔اگرچہ یہ امکان بھی ہوگا کہ ناران پہنچنے پر طے شدہ کرایہ دوگنا ہو چکا ہوگا۔۔۔ ہم قدرے خوش نصیب ہو گئے تھے۔۔۔ میرے دوست شیرستان کی سفارش پر ہمیں ناران کے پی ٹی ڈی سی موٹل میں دو کمرے نہیں کمریاں مل گئی تھیں۔ اگرچہ میں بہت برسوں سے پی ٹی ڈی سی کے بورڈ آف گورنرز کا ممبر تھا، اختیار رکھتا تھا کہ کسی بھی موٹل میں دندناتاہوا چلا جاؤں۔۔۔ موٹل کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ تیار کرکے اُسے کٹہرے میں کھڑا کردوں لیکن۔۔۔ مجھے یہ پسند نہ تھا۔ میں تو اس سرکاری حیثیت کا حوالہ بھی نہیں دیتا تھا، یوں بھی موٹل کے منیجر اصغر صاحب ایک بھلے آدمی تھے، اُنہوں نے ہمارے کمروں بلکہ کمریوں کے سامنے کنہار کنارے ایک الاؤ روشن کردیا۔اور اُس شب اُس الاؤ کی آگ میں ٹراؤٹ مچھلیاں پھڑکتی تھیں، اور اُن میں وہ ایک چاندی رنگت کی ٹراؤٹ بھی تھی جو میری بیٹی عینی نے بہت برس ہو چکے جب وہ بچی تھی، شکار کی تھی۔
آپ پوچھ سکتے ہیں کہ بھلا الاؤ میں مچھلیاں کیسے پھڑک سکتی ہیں تو آپ کیا جانیں کہ تصور کے کرشمے آپ کو کیا کیا انہونے منظر دکھا سکتے ہیں۔۔۔ بھڑکتے الاؤ میں پھڑکتی مچھلیاں بھی دکھا سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
۔ویڈیوقسط(4)۔
٭4)عطا آباد جھیل میں آباد گاؤں18 ستمبر 2016۔۔۔
ہم نے سنا ہے کہ آپ ہمارے گاؤں آ رہے ہیں۔۔۔
ویران ریسٹ ہاؤس یونانی دیو مالا کا ایک ’’لوٹس آئے لینڈ‘‘ تھا۔۔۔ افیونیوں کا ایک جزیرہ تھا۔ یہاں آپ کو شمال کی بہترین روایتی خوراک ملتی تھی اور اس کے باغ بہاراں میں ملتی تھی اور ذرا سی ہوا کے چلنے سے آپ کی ڈائننگ ٹیبل پر ٹپ ٹپ سیب گرنے لگتے تھے، چیریوں کے چہرے سرخ ہو جاتے تھے اور خوبانیوں کے زرد سورج طلوع ہونے لگتے تھے۔ استقبالیہ کے درو دیوار پر میری تصویریں آویزاں تھیں کہ ’’را کا پوشی نگر‘‘ کے سفر کے کچھ دن یہاں گزرے تھے۔ جب اسرار نے اپنے خاندان کی سب سے قیمتی متاع، ایک منقش اونی چوغہ جو اس کے وادئ یاسین کے گورنر عزیز اوڑھا کرتے تھے، تحفے کے طور پر مجھے پہنا دیا۔۔۔میں نے دیکھا کہ شاہد زیدی صاحب۔۔۔ ایک بہت تناور سیب کے درخت کے گھاس پر گرے ہوئے کچے سیبوں کو اٹھا رہے ہیں، اُنہیں کچر کچر کھا رہے ہیں اور مسکرا رہے ہیں اور ہوا کا ایک تیز جھونکا را کا پوشی کی جانب سے اترا اور سیبوں کی گویا بارش ہونے لگی ۔۔۔ اور میں فکر مند ہو گیا۔۔۔ اگر اُن میں سے کوئی سیب براہ راست زیدی کی کھوپڑی پر گرتا تو وہ فی الفور جاں بحق ہو جاتا ۔۔۔ زیدی فوٹو گرافر کا آخری چشم و چراغ گل ہو جاتا۔۔۔ ویسے مرنا تو سب کو ہے لیکن ایک سیب کے گرنے سے مرجانا بھی ایک منفرد اعزاز ہے۔ بے شک کشش ثقل دریافت ہو پھر بھی سبحان اللہ۔۔۔ اگر مجھے یہ اعزاز نصیب ہو تو اخباروں میں اور ٹیلی ویژن پر بریکنگ نیوز کی کیا ہی شاندار سرخی لگے گی۔۔۔ ملک کے مایہ ناز۔۔۔ پتہ نہیں کیا کیا ناز۔۔۔ آج انتقال کر گئے۔۔۔ اچھے بھلے پنیر کے آملیٹ کا ناشتہ را کا پوشی کے سائے میں کر رہے تھے کہ ناگہانی طور پر ایک سیب اُن کی کھوپڑی پر آگرا۔۔۔ جاں بحق ہو گئے۔۔۔ اللہ مغفرت کرے عجب آوارہ گرد مرد تھا۔۔۔ اُن کے آخری الفاظ تھے۔۔۔ مجھے ایک اور پنیر کا آملیٹ لادو۔۔۔ عجب پیٹو مرد تھا۔۔۔ اگلے روز ہم نے دریا پار کیا اور ہنزہ میں قدم رکھا۔۔۔ اور تب مجھے خیال آیا کہ دریائے گلگت کے بہاؤ میں کچھ برس پیشتر ایک چٹانی رکاوٹ آ گئی اور بہت سے گاؤں اس کے پانیوں میں ڈوب گئے تھے۔ ایک وسیع جھیل نمودار ہو گئی تھی، بلند چٹانوں میں گھری ایک جھیل جس کی تہہ میں گاؤں شاید ابھی تک آباد تھے۔۔۔چنانچہ میری خواہش کے مطابق ہم کریم آباد کی بلندیوں کی جانب نہ گئے۔عطاء آباد جھیل کی جانب شاہراہ قراقرم کے مسافر ہو گئے۔۔۔چینی بھائیوں نے ہماری سہولت کی خاطر شاہراہ کے اُن حصوں میں سرنگیں تعمیر کر دی تھیں جہاں اکثر ذرا سی بارش سے راستے مسدود ہو جاتے تھے۔اب اوپر سے جو شجر گرتے ہیں، سیلاب آتے ہیں وہ ان سرنگوں کی چھتوں پر سے گرتے ، بہتے جھیل کے پانیوں میں اتر جاتے ہیں۔
یہ ’’فرینڈ شپ ٹنل‘‘ اتنی شاندار اور مضبوط بناوٹ کی ہیں کہ مجھے خدشہ ہے کہ چینیوں نے انہیں ہمارے لیے نہیں، اپنے لیے تعمیر کیا ہے، اُن زمانوں کے لیے جب یہاں اُن کا دوستی بھرا راج ہو گا۔ امریکہ آ کر چلا جاتا ہے۔ چین جہاں جاتا ہے، پھر واپس نہیں جاتا۔عطا آباد جھیل اگرچہ مصنوعی ہے، ایک جغرافیائی تغیر کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے، نشیب میں جو وادی تھی، جتنے گھر تھے وہ اس میں غرق ہو گئے اس کے باوجود بلند چٹانوں کے گرد گردش کرتے ہوئے گہرے پانیوں والی یہ جھیل، شمال کی سب جھیلوں سے الگ اپنی ہی شکل اور دل میں دہشت بھر دینے والی خوبصورتی کی حامل ایک انوکھی جھیل تھی۔ جھیل کے زمرد پانیوں کی سطح پر سیاحوں سے بھری موٹر بوٹس تیرتی چلی جاتی تھیں۔۔۔ البتہ سیاحوں نے زرد رنگ کی لائف جیکٹس پہن رکھی تھیں کہ اس جھیل کی گہرائی کی تہ میں شاید ابھی تک کچھ گاؤں سانس لیتے تھے۔۔۔ گلگت سے پھنڈر تک جانے والے کوہستانی راستے کے درمیان ایک جھیل خلطی نام کی پڑتی ہے۔۔۔ اور یہ جھیل بھی دریا کی روانی میں ایک ناگہانی پتھریلی رکاوٹ کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی، اور جب میں اپنے بال بچوں سمیت وہاں سے گزرا تھا تو اب مجھے یہی خیال آتا تھا کہ کیا اس جھیل کے پانیوں میں ڈوب چکے گاؤں واقعی غرق ہو چکے ہیں یا کیا یہ ممکن ہے کہ ان گاؤں کے چولہے ابھی تک سلگتے ہوں۔۔۔ٹھنڈے نہ ہوئے ہوں۔عطا آباد جھیل کے کناروں میں سے پانیوں میں سے ظاہرہونے والے کچھ شجر تھے ، وہ ابھی تک نہ ڈوبے تھے۔
میرے بچپن میں قومی کتب خانے نے جو کہ نسیم حجازی کے جہازی ناول شائع کرتا تھا۔۔۔ ’’پانی کے بچے‘‘ نام کا ایک ناول شائع کیا جو کسی انگریزی ناول کا اردو ترجمہ باتصویر تھا۔ پانیوں کی تہ میں ایک جہاں آباد ہے۔ بستیاں آباد ہیں اور وہاں کے بچے پانیوں میں تیرتے پھرتے ہیں۔۔۔ عطاء آباد جھیل کے پانیوں کے پار اگر ہماری نظر اتر سکتی۔۔۔ اس کی گہرائی میں ڈوب سکتی تو یہاں بھی پانیوں کے بچے تیرتے ہوئے دیکھے جا سکتے تھے۔
چشم تصور کو ذرا وا کیجیے۔۔۔ پانیوں کے بچے عطا آباد جھیل میں مچھلیوں کی مانند ڈبکیاں لگاتے، تیرتے نظر آنے لگیں گے۔

٭5) جھروکے میں بیٹھی لڑکی۔۔۔کیا آپ نے ہمارا پانی پیا ہے؟۔۔۔21 ستمبر 2016۔
۔۔۔۔۔
ویڈیو قسط (5)۔
٭6)حراموش روڈ۔۔۔ موت کے بعد مرنے کا منظر۔25ستمبر2016۔۔۔
دیران ریسٹ ہاؤس کے باغ بہاراں اور اسرار کے جنت ذائقوں کے پکوانوں سے دل پہ پتھر رکھ کر ہم جدا ہوئے اور وہاں را کا پوشی کے دامن میں پتھروں کی کچھ کمی تو نہ تھی۔ اگر احمد ندیم قاسمی یہاں چلے آتے تو صرف ایک ’’پتھر ‘‘ نظم نہ لکھنے، پورا دیوان پتھروں سے لبریز ہو جاتا اور ہم نے گلگت واپسی کا سفر اختیار کیا۔۔۔ سب کوہ نورد ساتھی چہک رہے تھے کہ آج وہ دن تھا جب ہماری کوہ نوردی کا باقاعدہ آغاز ہونا تھا۔ ابھی تک تو ہم موج میلا کر رہے تھے۔ شاہد زیدی کی جیبوں میں کچے سیب بھرے تھے اور وہ ایک بچے کے اشتیاق کے ساتھ کچر کچر انہیں کھا رہے تھے۔ سر فراز گو جر ہمیں بتا رہا تھا کہ بھینسوں کی جنسی زندگی بے حد پر اسرار ہوتی ہے اور یہ سب نہیں جانتے تھے کہ حراموش نے ان کا کیا حشر کرنا تھا اور ان کا یہ سفر، سفر آخر ت میں بھی بدل سکتا تھا۔
گلگت سے نکل کر ہم شاہراہ قراقرم سے بچھڑ کر نیچے اترتے ہیں، دریائے گلگت پر معلق نہایت مخدوش ہو چکے عالم پُل کے ڈھانچے پر سے گزرتے ہیں اور اس پل کی حالت یہ ہے کہ ایک وقت میں صرف ایک گاڑی اور وہ بھی ڈولتی ہوئی اس پر سے گزرتی ہے۔ یہ ایک پل نہیں، ایک پل کی لاش ہے۔ اور کیا آپ جانتے ہیں کہ نہ صرف پورے بلتستان کو بقیہ پاکستان سے ملانے والا بلکہ دنیا کے بلند ترین محاذ سیاچن تک فوجی سامان اور گولہ بارود لے جانے والا۔۔۔ صرف یہ ایک پل ہے۔۔۔ اسے ہندوستان ایک بم سے نہیں ایک پٹاخے سے اڑا سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل مشرف نے اس کے برابر میں ایک مستحکم اور جدید پل کی تعمیر کا آغاز کیا تھا جس کی تکمیل کو روک دیا گیا۔۔۔ میں تو نہیں آپ لوگ اہل اقتدار سے دریافت تو کیجیے کہ آپ بے شک چک جھمرہ اور رائے ونڈ کے لیے موٹر وے تعمیر کرتے جاتے ہیں تو کیا کچھ حرج ہے کہ دریائے گلگت پر ایک اور پل تعمیر کر دیا جائے۔۔۔ ہمارے ہاں بہت سے کلیشے مستعمل ہیں جن کے بارے میں قدرے روگرادنی کرنا آپ کے لیے مضر ثابت ہو سکتا ہے۔ یا تو آپ پر غداری کی کوئی تہمت لگ جائے گی، جیسے اچکزئی پر لگی اور یا پھر آپ کی محب الوطنی بہت ہی مشکوک ہو جائے گی۔ مثلاً ہم سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے۔۔۔ اور کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ تو کیا اتنے برسوں سے ہم شہ رگ کے بغیر ہی اگر زندہ ہیں تو کیسے زندہ ہیں؟ اور جو شہ رگ واقعی ہے یعنی عالم پل اُس کی جانب آپ توجہ ہی نہیں کرتے۔۔۔ یہ رگ اگر کاٹ دی گئی تو بلتستان اور سیاچن کٹ جائیں گے۔ عالم پل کے پار کچھ مسافت طے کر کے آپ سکردو روڈ کے چٹانی ہول میں داخل ہو جاتے ہیں۔۔۔ تقریباً ایک گھنٹے کے سفر کے بعد ’’سسی‘‘ نام کا ایک ہریاول بھرا مقام آجاتا ہے۔
یہ تو مقامی محقق ہی کھوج کر سکتے ہیں کہ آخر سسی پیاس کی ماری، اپنے صحراؤں میں بھٹکتی کیسے سکردو روڈ پر آنکلی۔۔۔ بلکہ شاہراہ سے ذرا ہٹ کر نہایت بھڑی ہوئی چٹانوں میں سے ایک بہت پر شور آبشار جنم لے کر گرتی چلی جاتی ہے۔۔۔ اگر سسی سچ مچ کبھی ادھر آئی تھی تو وہ اپنی ازلی پیاس آبشار کے پانیوں سے بجھا سکتی تھی۔۔۔ بلکہ ان میں اشنان بھی کر سکتی تھی۔۔۔ ہم سسی میں کیوں ٹھہرے۔۔۔ اس لیے کہ ہم بھوکے تھے اور یہاں آبشار کے نزدیک مناسب خوراک کا بندوبست تھا اور ۔۔۔ ہم اس لیے ٹھہرے کہ یہیں سے ہماری منزل مراد کی جانب راستے بلند ہوتے تھے۔ وادئ حراموش جانے کے لیے سسی ایک بیس کیمپ تھا۔ڈاکٹر احسن کی انتظام کردہ چار حراموش جیپیں ہماری منتظر تھیں، سکردو روڈ کے پہلو سے ایک کچا راستہ پہاڑوں کی ویرانیوں میں اٹھتا گم ہوتا تھا۔۔۔ ہم سب تو جیسے ایک پکنک پر آئے تھے، لطیفے چل رہے تھے، جگتیں ہو رہی تھیں اور ہم کہاں جانتے تھے کہ ابھی کچھ لمحوں کے بعد ہم موت کے بعد کا منظر دیکھنے والے ہیں، کلمہ شہادت کا ورد کرنے والے ہیں۔ حراموش کی جیپوں کے کچھ ڈرائیور نامور گویے تھے۔ ایک ڈرائیور نے فخر سے بتایا کہ وہ مہدی حسن ہے، میرے حصے کی جیپ کے ڈرائیور کا نام غلام علی تھا۔ اب کھلا کہ مہدی حسن اور غلام علی اگر بے پناہ متمول ہوئے تو اپنی گائیکی کی برکت سے نہیں، وہ تو سسی سے حراموش کے گاؤں دسو تک اپنی جیپوں میں مسافر بھر کر لے جاتے تھے اور منہ مانگے دام وصول کرتے تھے۔ مجھے یہاں نصرت فتح علی خان کی کمی شدید طور پر محسوس ہوئی، شاید وہ اپنے سراپے کے ساتھ کسی بھی جیپ کی ڈرائیونگ نشست میں سما نہیں سکتا تھا ورنہ وہ ’’آفریں آفریں ‘‘ الاپتا ہمیں حراموش لے جاتا۔
’’غلام علی۔۔۔ بسم اللہ کرو۔۔۔‘‘ میں نے اپنے ڈرائیور سے درخواست کی ’’چپکے چپکے رات دن گنگناتے بسم اللہ کرو‘‘
اُدھر برابر کی جیپ میں براجمان تنویر خواجہ نے تان لگائی ’’ چوری تو نہیں کی ہے، ڈاکہ تو نہیں ڈالا۔۔۔ تھوری سی جو پی لی ہے‘‘ ہماری جیپیں سکردو روڈ سے جدا ہو کر اس کچے اور تنگ راستے پر اٹھیں۔۔۔ کچھ دیر تو دھول اڑاتی ویرانوں میں بلند ہوتی رہیں اور پھر وہ یکدم اس دنیا سے منقطع ہو کر کسی نادیدہ دروازے میں داخل ہو کر ایک اور کائنات کے کناروں کی دھار پر رواں ہونے لگیں۔۔۔ ہم یوں اٹھے جیسے ہم اس جہان سے اٹھتے ہوں۔۔۔ ہمارے سب ہوش و حواس اور نین پران کے پنچھی پھر کر کے اڑ گئے۔۔۔ یہ چٹیل چٹانوں کی سربلندی اور اُن کی نشیب میں بہتے کسی خاموش دریا کی کائنات تھی۔۔۔ ہماری جیپیں چٹانوں میں کھدے ہوئے کچے راستے سے چمٹی ہوئی تھیں اور گہرائی میں نہ صرف چٹانوں کے انبارتھے بلکہ ان کے درمیان میں بہتا کوئی دریا تھا جس کی روانی کا شور ہم تک پہنچتے خاموش ہو جاتا تھا۔
یہ حراموش روڈ کو لمبیا کی مشہور زمانہ ’’ڈیتھ روڈ‘‘ کی سگی نہ سہی، سوتیلی بہن ضرور تھی۔
یہ ایک روڈ نہ تھی، موت کا کنواں تھا۔۔۔ جس کے اندر ہم گھومتے چلے جاتے تھے۔۔۔ ’’گھوم چرخڑا گھوم۔۔۔
موت کے بعد مرنے کا منظر اگر آپ دیکھنا چاہتے ہیں تو سسی سے جیپ میں سوار ہو کرحراموش کا سفر اختیار کیجیے۔۔
۔۔۔۔
ویڈیوقسط(6)۔
٭7)انگوروں اور اناروں کا گاؤں۔۔۔ دسّو۔28ستمبر 2016۔۔۔
ہم وادئ حراموش کے مرکزی سب سے آباد گاؤں دسّو میں داخل ہو گئے۔ یاد رہے کہ قراقرم ہائی وے پر دریائے سندھ کے ادھر کومیلا ہے اور پُل کے پار داسو ہے تو یہ وہ داسو نہیں، حراموش کا دسّو ہے۔
اس دسّو کی داستان ایک عجب باغ بہار ہے۔۔۔ ہم سب حیرتوں کے مسافر ہو گئے۔۔۔وہاں ہمارے آس پاس سے گزرتے جتنے بھی پتھریلے اور کچے گھروندے تھے جن میں سے ہماری جیپوں کے پیچھے بھاگنے والے بچے آجاتے تھے، خوش رو لڑکیاں پتھروں کے روشن دانوں میں اپنے حراموش چہرے فروزاں کرتی تھیں اور اس فراموش کردہ بستی کے جو بزرگ تھے وہ ایک تناور اخروٹ کے درخت تھے۔ پتھروں کی نشستوں پر بیٹھے لوگ ہماری جیپوں کو گزرتے دیکھ کر کھڑے ہو جاتے تھے۔۔۔ ہم ان سب چہروں کو دیکھ کر حیرتوں کے سفر پر نکلے۔۔۔ اور یہ سب چہرے پھلدار درختوں کی کثرت کی چھاؤں میں سانس لیتے تھے۔پورے شمال میں، آج تک میں کسی ایسے گاؤں میں نہ داخل ہوا تھا جہاں ہرجانب۔۔۔ اخروٹ کے گھناوٹ بھرے شجر۔۔۔ خوبانیوں کے درخت جن کی شاخوں سے کچھ کچے زرد سورج طلوع ہوتے تھے۔ سیب ڈالی ڈالی، روشن روشن۔۔۔ شہتوت اور انجیر کی فراوانی ۔۔۔ اور یہ سب ثمر، انگور کی بیلکوں میں لپٹے ہوئے۔۔۔ کوئی ایسا گھروندا نہ تھا جس پر انگور کے خوشے سایہ نہ کرتے ہوں۔۔۔ پتّوں میں پوشیدہ سرخ انار نہ جھانکتے ہوں۔
جیسے نیوزی لینڈ میں سفر کرتے میرے ایک دوست نے اس کے حسن اور بلند تنائی سے متاثر ہو کر ایک نیوزی لینڈ سے کہا تھا کہ یہ تو ایک جنت ہے۔ آپ کیوں اس کا پرچار نہیں کرتے، دنیا بھر کے لوگ امڈ پڑیں گے، تو اُس نے کہا تھا۔۔۔ ہم اپنی جنت کو آلودہ نہیں کرنا چاہتے۔اہل حراموش اگرچہ بیشتر کوہستانی وادیوں کے باشندوں کی مانند قدرے تنگ دستی میں زندگی کرتے تھے لیکن مجھے محسوس ہوا کہ اُنہیں کچھ چاہت بھی نہیں کہ اُن کی وادی میں سیاحوں کے غول کے غول چلے آئیں اور اسے آلودہ کردیں۔
وہاں انگور کی جتنی بھی کچے خوشوں سے بوجھل ہوتی بیلیں تھیں وہ اپنے پاؤں پر کھڑی نہ تھیں، کسی نہ کسی شجر کے گرد لپٹ کر، اُس کے سہارے بلند ہوتی تھیں۔۔۔اور اُن کی ٹہنیاں موٹی اور دبیز تھیں، نازک ملوک نہ تھیں۔
کچے انگور سبز بندروں کی مانند اُن کے پتوں میں سے جھانکتے تھے۔ جی جوبہت ڈرا ہوا تھا، حراموش کا موت کا کنواں فراموش کرکے خوش ہوگیا، یوں بھی ہم بہت ڈرائے گئے تھے یہاں تک کہ شمال کے کچھ باسیوں نے بھی کچھ سرگوشیاں کی تھیں۔۔۔ تارڑ صاحب خبردار۔۔۔یہ حراموشی لوگ ایک مدت سے ایک کوہستانی تنہائی میں قید ہیں اور بہت کم کوہ نورد اُدھر جانے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔۔۔ اور گئے وہ جان سے گئے۔۔۔اُس کوہ نورد امریکی جوڑے کا انجام یاد رکھئے جسے حراموش جھیل کے قریب قتل کردیا گیا۔۔۔ اور وہ بے چارہ جاپانی سیاح، وہ بھی انہی حراموشیوں کے ہاتھوں مارا گیا، خونخوار لوگ ہیں، چنانچہ ہم اپنی خوشی کو قابو میں رکھتے تھے، احتیاط کرتے تھے، نہایت سنجیدہ چہرے بنائے سامنے راستے کی جانب تکتے تھے کہ اگر نگاہ ادھر اُدھر کی تو کیا پتا کسی حراموشی دوشیزہ پر پڑ جائے اور ہمیں فی الفور تہ تیغ کردیا جائے۔۔۔ کیا پتہ کسی پتھریلی گلی میں سے کوئی مقامی مولا جٹ ہاتھ میں گنڈاسا تھامے برآمد ہوکر ہماری جیپوں کی بارات روک لے۔۔۔ بڑھک لگا کر ہمارا سب کچھ خطا کردے اور کہے ۔۔۔ ٹھہرو یہ بارات نہیں جائے گی۔۔۔تو ہم ہر نوعیت کے وقوعے کے لئے ذہنی طور پر تیار تھے، لیکن۔۔۔محسوس یوں ہوا کہ حراموشی تو ہماری آمد کے منتظر تھے۔۔۔ بچے ’’ہیلو ہیلو‘‘ کرتے جیپوں کے پیچھے اٹھتی ڈھول میں بھاگے چلے آرہے تھے۔ انگور کی بیلوں میں پوشیدہ حراموشی نزاکت کے پھول کھلتے تھے۔۔۔ پنکھڑی اِک گلاب کی سی ہے۔۔۔ ایک چھت پر خشک خوبانیاں سمیٹتی ایک اماں جان نے ہمیں دیکھ کر اپنے دونوں ناتواں ہاتھ بلند کردیئے۔۔۔ لکڑی کے ایک آرے کے قریب تازہ تراشے ہوئے شہتیروں پر کچھ باباز براجمان تھے، اُن کے پوپلے چہروں پر بھی مسکراہٹیں کھِل اٹھیں۔۔۔ یہاں تک کہ انار جو ابھی کچے تھے وہ بھی سرخ سرخ ہوتے گئے۔دل سے سب وسوسے رخصت ہوگئے۔
درست کہ یہاں حراموش وادی میں خیمہ زن ایک امریکی جوڑا قتل کردیا گیا، کچھ لوگ رات کی تاریک میں سیاح لڑکی کو ’’ریپ‘‘ کرنے کے لئے گئے تھے لیکن جب مدافعت ہوئی تو انہوں نے اُن دونوں کو ہلا ک کردیا۔۔۔ہم ہرگز اس موضوع کو زبان پر نہ لاتے لیکن حراموشی لوگ اصرار کرتے تھے کہ آپ ہماری گزارش بھی تو سنو۔۔۔ یک طرفہ فیصلہ نہ کرو، اُس امریکی جوڑے کو کسی حراموشی نے قتل نہیں کیا تھا، باہر کے لوگ تھے اور ہم سب نے باقاعدہ کھوج لگا کر اُن کا تعاقب کیا اور اُن کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اُنہیں قانون کے رکھوالوں کے حوالے کردیا، اس قتل میں حراموش کا کچھ دوش نہ تھا۔
جاپانی سیاح کیسے موت سے آشنا ہوا، اس کا کوئی جواز پیش نہ کیا گیا۔ آپ کو شاید یاد ہو کہ جب ہم راکا پوشی بیس کیمپ میں مقیم تھے تب ہم تک نانگا پربت کے دیامیر چہرے کے دامن میں قتل کردیئے جانے والے درجنوں غیرملکی سیاحوں کی خبر پہنچی تھی اور وہ بھی باہر کے لوگ تھے۔
شمال کی بلندیوں میں چند نہات افسوس ناک اور ہمیں شرمندگی سے دوچار کرنے والے سانحات بہرطور ظہور پذیر ہوئے ہیں، فیئری میڈو میں بھی ’’ریپ‘‘کا ایک کیس ہوا۔۔۔وادئ یاسین میں بھی کچھ وقوعہ ہوا۔۔۔ بُرے بھلے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں، نیپال اور انڈیا میں بھی ہم سے زیادہ پہاڑی جرائم ہوتے رہتے ہیں۔۔۔پاکستان میں اُن کی نسبت کم ہوتے ہیں لیکن یہ کوئی دفاع نہیں۔۔۔اس لئے کہ ہمارے شمال میں جو وسعتِ قلبی اور کسی بھی تعصب سے گریز کی روایت ہے وہ بقیہ پاکستان کی نسبت کہیں بڑھ کر ہے۔۔۔ شمال میں برے بہت کم ہیں اور بھلے زیادہ ہیں۔۔۔ میں ان جرائم کا دفاع نہیں کر رہا لیکن گورے سیاحوں کو بھی کچھ احتیاط کرنی چاہیے۔ وہ اپنی تہذیب کے کھلے پن اور بے در یغی میں کچھ لاپروا تو ہوجاتے ہیں۔ گوریاں قیاس بھی نہیں کرسکتیں کہ اُن کے بدنوں کی چھلک اور جھلک تہذیب سے ناآشنا نیم وحشی نوجوانوں کی حسیات بیدار کرکے اُن پر کیسی قیامتیں ڈھا دیتی ہے۔میں پھر عرض کرتا ہوں کہ میں ان جرائم کا دفاع ہرگز نہیں کر رہا، محض تہذیبی اور ثقافتی ٹکراؤ سے جنم لینے والے سانحات کا تجزیہ کر رہا ہوں۔ دور کیا جانا لاہور اور کراچی کی مبینہ تہذیب یافتہ بستیوں میں اگر ایک گوری کسی کودیکھ کر یونہی ہنس دے تو فوراً اس نتیجے پر پہنچ جایا جاتا ہے کہ ’’ہنسی تو پھنسی‘‘تو پھر صرف شمال کو اور حراموش کو ہی کیوں صرف موردِ الزام ٹھہرانا۔۔۔ ہم سب مجرم ہیں۔ہم دسّو کے آخری انگور گھر، انار باغ، انجیر شجر،اخروٹ درخت، شہتوت شہر، خوبانی بہار کی مہکوں سے مشک بار ہوتے گزر گئے۔۔۔ وہ آخری گھر گزر گیا، اور تب کچھ فاصلہ طے کیا تو نشیب میں، بہت گہرائی میں چٹانوں کی کوکھ میں ہرا بھرا ہوتا وہ گاؤں نظر آنے لگا جو کبھی ایک گھر کا گاؤں تھا، اُس کا ایک گھروندے کے گاؤں کا نام ہیحل تھا۔
۔۔۔
ویڈیوقسط(7)۔
٭8)حراموش کی الف لیلیٰ کے ایک گھر کا گاؤں۔2اکتوبر 2016۔۔۔
شمال کے ایک شیدائی کو جب خبر ہوئی کہ میں فی الحال سفرِ آخرت نہیں سفر حراموش اختیار کر رہا ہوں تو اس نے مجھے ایک کوہستانی بھید سے آگاہ کیا۔۔۔ تارڑ صاحب۔۔۔ وہاں حراموش کی وادی میں دنیا بھر میں یکتا ایک گاؤں ہے۔۔۔ اور اُس گاؤں میں صرف ایک گھر ہے۔
شمال میں کسی بھی پہاڑوں میں روپوش گاؤں کو اُس میں جلنے والے چولہوں کی تعداد سے پہچانا جاتا ہے۔۔۔ چنانچہ یہ گاؤں جو بہت نشیب میں، جیپ روڈ کے کناروں تلے ایک کھائی میں دکھائی دے رہا تھا کبھی ایک چولہے کا گاؤں ہوا کرتا تھا۔۔۔
کیا اس گاؤں کی پہلی جھلک میں سے ایک عجب کہانی جنم نہیں لے سکتی۔۔۔ کسی داستان کا خمیر نہیں اٹھ سکتا۔کیا ایک شہرزاد اس ایک گھر کے گاؤں کی داستان سنا کر کم از کم ایک شب کے لیے اپنے آپ کو قتل کروا دینے سے بچ نہیں سکتی۔
ہم کیوں ہمیشہ بزرگان دین اور اپنے ہیروز کو مقامی طور پر دریافت کرنے کی بجائے درآمد کرتے ہیں۔۔۔ اور اسی طور اپنی داستانیں اور کہاوتیں بھی جو ہم اپنے بچوں کو سناتے ہیں باہر سے امپورٹ کرتے ہیں۔ کوہ قاف اور الف لیلیٰ کے قصے۔۔۔ نو شیروان اور بغداد کی راتوں کی کہانیاں۔۔۔ اور کبھی بدھ کی جاتک کتھائیں۔۔۔ ’’بیتال بتیسی‘‘ کے قصے۔۔۔ جب کہ ہمارے اپنے خطے میں، صرف شمال میں ہی بے شمار کوہ قاف بھرے پڑے ہیں، جہاں نانگا پربت کے سائے میں پریوں کی آماجگاہیں اور بیسرے ہیں اور وہ انسانوں کے ساتھ بیاہی جاتی ہیں۔ فیلو میں ایک گاؤں ایسا ہے جہاں پریوں کے بچے بھی ہیں۔ قبل از تاریخ ان خطوں کی ایسی عجب کہانیاں ہیں جو کوئی شہرزاد بھی تصور نہیں کر سکتی۔۔۔ روپل کے ایک نوجوان پورٹر نے قسم کھا کر بتایا تھا کہ اُس کے چچا کی بیوی ایک پری تھی لیکن وہ دراصل ایک چڑیل تھی۔ روایتوں، حکایتوں اور داستانوں میں جھوٹ سچ کی اور تصور کے کرشموں کی آمیزش تو ہوتی ہے تو پھر ہم اپنی مقامی داستانوں اور کہانیوں کو بیان کیوں نہ کریں۔ کیا کسی الف لیلیٰ میں کہیں صرف ایک گھر کا گاؤں ہوا کرتا ہے۔ وہ ایک شخص کون تھا، کوئی تو تھا، جو اپنی حیات سے مطمئن نہ تھا۔۔۔ وہ دسو کی آبادی سے جدا ہوا، نشیب میں اترا، ندی کے پار گیا، اور وہاں ایک چٹانی ویرانگی میں ایک گھر بنا لیا۔۔۔ تن تنہا رہائش اختیار کر لی۔۔۔ بہت بے ڈر تھا، اُسے کچھ خوف نہ تھا کہ چٹانوں کی اوٹ میں ہولے ہولے برف سانس لیتا گلیشیئر جو اس کے اکلوتے گھر پر معلق ہے وہ کسی بھی لمحے اُس پر انبار ہو کر اُسے دفن کر سکتا ہے۔ چاندنی راتوں میں بھیڑئیے غراتے ہیں، بھوکے سنو ٹائیگر برفانی بلندیوں سے اترتے ہیں، اُسے کچھ ڈر نہ تھا۔
ویسے وہ ایک حراموش شخص، کیا ہم سب سے نڈر اور بہادر نہ تھا کہ وہ اپنے معاشرے اور بستی سے جدا اس لیے ہوا کہ اس کی سوچ کے رنگ جدا تھے، وہ اپنی تخلیق کردہ ایک کائنات میں سب سے الگ زندگی کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اور اُس نے بغاوت کر دی۔۔۔اس شخص نے وہ بغاوت اور روگردانی کی جس کے بارے میں ہم جیسے آشفتہ سر اور جنون آمیز لوگ سوچتے رہ جاتے ہیں۔ ہم بھی اس دنیا سے الگ ایک جھونپڑے میں جا بیسرا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم میں اتنی جرأت نہیں، ہمت نہیں کہ بغاوت کر دیں۔
تم میں ہمت ہے تو دنیا سے بغاوت کر دو
ورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں، شادی کر لو
نشیب میں گزرتا اور دکھائی دیتا چٹانوں کی کوکھ میں ہرا بھرا ہوتا وہ گاؤں اب صرف ایک چولہے کا نہ تھا۔۔۔ اس شخص کی آل اولاد نے اپنے اپنے الگ گھر بنا رکھے تھے اور اُن میں سے ایک گھر میں سے دھواں اٹھتا تھا۔ ان گھروں کی تنہائی اب بھی کم نہ ہوئی تھی۔ کچھ کھیت تھے۔ ایک بلندیوں سے اترتی پرشور برفانی ندی تھی جس کا شور ہمیں سنائی نہ دیتا تھا۔
ہمیں خبر کی گئی تھی کہ تارڑ صاحب۔۔۔ ہم سسی سے جیپوں میں سوار ہو کر اوپر جائیں گے۔ دسو نام کا ایک گاؤں آئے گا، ہم اس کے پار چلے جائیں گے۔۔۔ اور پھر ایک ایسے گھاس بھرے میدان میں جا اتریں گے جہاں آج کی شب خیمہ زن ہوں گے۔۔۔ اگلی سویر، یہ تھوڑی سی چڑھائی ہے اور ہم حراموش کے کتوال گاؤں میں قدم رنجہ فرما جائیں گے۔۔۔ یہ سب جھوٹے لوگ تھے۔۔۔ احسن اور کامران جھوٹوں کے سلطان تھے۔یکدم ہماری تینوں جیپیں اٹک اٹک کر ٹھہر گئیں۔
جہاں ہم ٹھہرے تھے وہاں سے آگے جیپ روڈ غرق ہو چکی تھی۔ ’’سَوری تارڑ صاحب‘‘ احسن ایک لارڈ بائرن کی شان سے لڑکھڑاتا جیپ سے اُترا ’’جیپیں آگے نہیں جا سکتیں۔۔۔ ہمیں تھوڑا چلنا پڑے گا۔۔۔ صرف ایک ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت کے بعد ہم آج کی شب خیمہ گاہ سِلپی میں پہنچ جائیں گے۔۔۔ آیئے بسم اللہ کرتے ہیں۔۔۔نگاہ بُلند کیجئے۔۔۔‘‘ہم سب کی تو نہیں، کم از کم میری اور سرفراز کی مائیں مر گئیں۔۔۔ہم تو اس خوش گمانی میں مبتلا تھے کہ جیپوں سے اتریں گے اور ایک حراموش وادی میں خیمہ زن ہو کر شیف ذوالفقار کے چینی کھانوں سے لطف در لطف اندوز ہوتے اس شب میں سرمست ہو جائیں گے اور کہاں یہ مقام کہ جیپوں سے اترتے ہیں تو ایک ناقابل عبور لگتی بُلندی ہمارا منہ چڑھا رہی ہے، اُسے دیکھ کر ہول آتا ہے تو آپ ہی انصاف کیجئے کہ اُسے دیکھ کر ہماری مائیں نہ مرتیں تو اور کیا کرتیں۔۔۔جیپوں سے سامانِ آوارگی اتارا جانےلگا۔۔۔ پورٹر حضرات مستعد ہو گئے، سامان پشت پر بوجھ کر کے سڑک سے بچھڑ کر ہولے ہولے اٹھتے گئے۔۔۔سرفراز نے نگاہ بلند کی اور پھر مجھے اپنی بلوری آنکھوں کو شکایتوں سے لبریز کر کے دیکھا ’’حاجی صاحب۔۔۔مروا دیا ناں۔۔۔وہ اوپر تک پہنچنا ہے ۔۔۔’’ہاں جی۔۔۔ اور یہ ہمارے حق میں اچھا ہوا ہے۔۔۔آج پہاڑوں پر چڑھنے کی تھوڑی سی نَیٹ پریکٹس ہو جائے گی تو کل کا سفر دشوار نہیں لگے گا"۔۔۔’’تو پھر مجھے ذرا ڈریس اپ ہو جانے دیجئے۔۔۔‘‘ اُس نے اپنے بیگ میں سے ایک کرمزی رنگ کا نہایت اعلیٰ بناوٹ کا چمڑے سے بنا ہوا کاؤ بوائے ہیٹ نکالا جو اُس نے یقیناًٹیکساس کے کسی فٹ پاتھ سے خریدا تھا، اُسے ایک پیار کی تھپکی دے کر سرپر جما لیا اور کہنے لگا ’’کیسا؟‘‘’’اعلیٰ۔۔۔‘‘ تنویر نے داد دی۔
’’آئی ایم اے کاؤ بوائے۔۔۔‘‘ سرفراز گردن اکڑا کر بولا ’’پاکستانی گوجر کاؤ بوائے۔۔۔‘‘
’’لیکن ملک صاحب۔۔۔ گوجر تو بھینسیں پالتے ہیں تو آپ کاؤ بوائے نہیں اپنے آپ کو بفلو بوائے کہلا سکتے ہیں‘‘ نسیم نے چھیڑا۔۔۔’’اوئے تم ارائیں کیا جانو کہ گوجر کتنی بلند پایہ ذات ہے۔۔۔ گوجر خان، گوجرانوالا، گجرات سب گوجر۔۔۔ امریکہ میں بھی گوجروں نے ایک شہر آباد کیا تھا۔۔۔ اور اُس کا نام ہی ’’بفلو‘‘ یعنی ’’بھینس‘‘ رکھا۔۔۔ حاجی صاحب سے پوچھ لو کارنیل سے آگے کینیڈا کی سرحد کے پاس ہے۔ کیوں حاجی صاحب؟‘‘’’بفلو نام کا شہر تو ہے لیکن۔۔۔‘‘۔’’لیکن کیا۔۔۔ آپ انصاف کرو کیا کوئی بھی دانش مند شخص اپنے شہر کا نام ’’بھینس‘‘ رکھے گا جب تک کہ وہ گوجر نہ ہو‘‘’’آپ اپنا کاؤ بوائے ہیٹ سیدھا کریں اور چڑھ جائیں سُولی پر۔۔۔ رام بھلی کرے گا‘‘۔
سرفراز نے اپنا کرمزی ہیٹ ذرا ٹیڑھا کیا اور کہنے لگا’ اوئے دندان ساز۔۔۔تم لوگ ہماری بھینسوں کے لئے چارا سپلائی کرتے تھے تو اپنی اوقات میں رہو‘‘ ’’ملک جی، شام ہو رہی ہے۔۔۔‘‘ وقار نے درخواست کی۔۔۔ ’’بسم اللہ کریں‘‘۔
۔۔۔۔۔
ویڈیوقسط(8)۔
٭9)حراموش میں ہماری خیمہ بستی آباد ہوتی ہے،5 اکتوبر2016۔۔۔۔
ہم سب اُس نامعلوم سی پگڈنڈی پر چلنے لگے۔۔۔ چلتے تو نہ تھے، بمشکل اٹھتے تھے۔۔۔ نسیم آگے نکل گیا۔ تنویر خواجہ کی یوگا ورزشوں نے یہاں کام دکھایا اور وہ ’’ہری اوم، ہری اوم‘‘ کا ورد کرتا چڑھنے لگا۔۔۔ احسن بہ طریقِ احسن نہایت آسانی سے بلند ہونے لگا۔۔۔ عاطف عام حالات میں مناسب انسان ہوتا ہے، پہاڑوں میں وہ ایک برفانی انسان۔۔۔ یعنی یےٹی ہو جاتا ہے، ایک بھالو کی مانند لڑھکتا چلا جاتا ہے۔۔۔میں دوچار قدم چلا اور مجھے احساس ہو گیا کہ بس روٹھ گئے دن بہار کے۔۔۔ خزاں کے موسموں نے تمہارے وجود کے شجرکے آخری ہرے بھرے پتّے کو بھی زرد کر دیا ہے۔۔۔ اِک ذرا سی ہوا کے چلنے سے کسی بھی لمحے شاخ سے ٹوٹ کر گر سکتا ہے۔۔۔ شجر کے دامن میں بکھرے تمہاری حیات کے خزاں رسیدہ پتّوں کی شام غریباں میں شامل ہو کر نوحہ خواں ہو سکتا ہے۔۔۔میرا سُندر سپنا بیت گیا۔۔۔ میں پریم میں سب کچھ ہار گئی، بے درد زمانہ جیت گیا۔۔۔ کوہ نوردی اور آوارگی کے سُندر سپنے کبھی نہ کبھی تو بیت جاتے ہیں، سو وہ بیت گئے۔۔۔ وہ زمانے بھی جو مجھ پر گزرے جیت گئے۔۔۔ میں جان گیا کہ ختم ہوئی بارشِ سنگ۔۔۔ یہ برف بلندیوں کی جانب میرا آخری سفر ہے۔۔۔ بات جو اب تک بنی ہوئی تھی، بگڑ گئی تھی۔۔۔وِگڑ گئی اے تھوڑے دِناں توں۔نہ آپ پہاڑوں سے لڑ سکتے ہیں اور نہ گزر گئے زمانوں سے۔۔۔ تو میں نے ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔۔۔ یہ تو کل کے لئے فیصلے تھے، آج تو مجھے چلنا تھا۔۔۔اپنے آپ کو ڈھیٹ کرنا ہے۔۔۔بےشک دیار یار تک گھسٹ کے جانا ہے پر جانا ہے۔۔۔اُس برفبارحراموشی معبد کے برف دروازوں پر دستک تو دینی ہے۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی پتھریلی اور سخت پتھرول چڑھائی کے بعد،لڑکھڑاتے، ہونکتے، خون تھوکتے، ہمارے گھٹنے ٹھرتے تھے اور ٹانگوں میں سے کم از کم جان نکل چکی تھی بالآخر ہم وہاں پہنچ ہی گئے۔۔۔ اور ہم نے سلپی نام کے گھاس بھرے میدان کا جو منظر دیکھا، ہم اپنی تھکان بھول گئے۔۔۔ دُکھ درد کی ساری داستان بھول گئے۔
حراموش کی نادیدہ اور دورافتادہ وادی کی بلندیوں میں ایک خیمہ بستی آباد ہو چکی تھی۔۔۔ مکئی کے ایک وسیع کھیت کے کناروں پر جو گھاس بھرا قطعہ تھا جس کے آغاز میں مویشیوں کا ایک اجڑ چکا پتھریلا باڑہ تھا وہاں۔۔۔ ہمارے پورٹر پہلے سے پہنچ چکے تھے اور ایک خیمہ بستی بسا دی تھی۔۔۔ بلکہ اُس بستی میں سے کسی چولہے سے دھواں بھی اٹھ رہا تھا۔۔۔ مہم کا سرکاری شیف ہمارے رات کے کھانے کے بندوبست کرنے میں مشغول تھا۔ہم جو گرتے پڑتے چلے آتے تھے پورٹر ہماری جانب چلے آئے، اگر کسی نے ڈے پیک اٹھایا ہوا تھا اُسے اس بوجھ سے آزاد کیا۔۔۔ صاحب پہنچ گئے۔۔۔ مشکل تھا؟۔۔۔ لیکن آپ پہنچ گئے۔ہم گھاس پر ڈھیر ہوتے گئے۔۔۔ اور پورٹر ہمارے لئے گرم نوڈل سوپ کے پیالے لے آئے اور اُس میں سویا ساس اور چلّی ساس کی آمیزش بھی تھی۔۔۔ کوہ نوردی کی کسی بھی پہلی شب کی خیمہ زنی میں ایک عجب جادوگری ہوتی ہے۔۔۔ اس کے لطف صرف وہ جانتے ہیں جن کے دماغوں میں دانش کی بجائے آشفتہ سری اور بلندیوں کی دیوانگی کا بھس بھرا ہوتا ہے۔۔۔ آپ اپنی معمول کی حیات کو طلاق دے کر ایک مختلف زندگی کے ساتھ ایک عارضی نکاح سے منسلک ہو جاتے ہیں ۔آپ آزادی، سرخوشی اور بے پروائی سے بیاہے جاتے ہیں۔۔۔یہاں آپ کا اپنا پرائیویٹ بیڈروم، ملحقہ غسل خانہ کے ساتھ میسر نہیں، ایک خیمہ ہے، بسترنہیں، ایک سلیپنگ بیگ بچھا ہے جس میں داخل ہونا، گھس جانا ایک تردد، ایک آرٹ ہے۔ اور اگلی سویر آپ کو ایک کموڈ کی سہولت نصیب نہ ہو گی، آپ نے خیمہ گاہ سے دور، نظروں سے دور کہیں بیٹھ جانا ہے اور جب فارغ ہو کر اٹھنا ہے تو بوڑھے گھٹنوں سے کہاں اٹھا جانا ہے، لیکن یارو یہی تو زندگی ہے۔لیکن کہاں ہم لاہور کے بکھیڑوں میں اُلجھے ہوئے، بجلی پانی کے بِل دیکھ دیکھ کر خون خشک کرتے۔۔۔ بیگم کے خوف سے دبکے ہوئے۔۔۔ مذہبی تعصب اور دہشت گردی کی سولی پر مصلوب اور کہاں یہ شب۔۔۔ بدن اگرچہ تھکاوٹ سے ریزہ ریزہ لیکن روح آزاد۔۔۔ ایک خوش رنگ تتلی کی مانند پھڑپھڑاتی اڑتی پھرتی تھی۔
پھر رات اتر آئی۔۔۔چولہوں کی سلگاہٹ کی روشنی کے سوا دو گیس لیمپ جلنے لگے، اُن کی دودھیا روشنی سے ساری خیمہ بستی دودھیا رنگ کی ہو گئی۔۔۔ میس ٹینٹ کے اندر کھانے کی باقاعدہ میز سج چکی تھی اور اُس کے گرد کیمپ چیئرز آویزاں ہو گئی تھیں۔یعنی آج شب ہم گوروں کی مانند ’’مکی ماؤسز‘‘ ہو گئے تھے۔
میں عرض کر چکا ہوں ناں کہ کے ٹو اور سنولیک کی برف نوردیوں کے دوران جب ہم دیکھتے تھے کبھی اردوکس میں اور کبھی کنکورڈیا کے برفزاروں میں اور کبھی درّہ ہیبر کی چوٹی پر گورا لوگ کے خیموں کے برابر میں ایک سپیشل ڈائننگ ٹینٹ ایستادہ ہے اور وہاں ہنڈولے روشن ہیں، گورا لوگ کرسیوں پر براجمان ڈنر کرتے، وائن پیتے، اپنی محبوباؤں کو یاد کرتے موج میلہ کر رہے ہیں تو ہم شدید حسد میں مبتلا ہو جاتے تھے کہ یا تو ہم اپنے خیموں میں کُبڑے ہو کر کچھ دال دلیاکر لیتے تھے اور یا پھر کبھی پتھروں اور کبھی برف پر کوئی ترپال بچھا کر کھانا زہر مار کرلیتے تھے۔ ڈاکٹر احسن نے ہماری کوہ نوردی کی حیات میں پہلی بار ہمیں بھی ’’مکی ماؤسز‘‘ کر دیا تھا۔۔۔ ہم ابھی ایک سپیشل ڈائننگ ٹینٹ میں فروکش کرسیوں پر بیٹھے شیف صاحب کے خوراکی کمالات سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے۔
شراب تو اُس شب نہ آئی پر روح کی وہ تتلی جو آزاد ہو گئی تھی اُس کی اڑان کا خمار آیا اور خوب آیا۔۔۔خواجہ تنویر من کی موج میں تھا، عشق کے بارے میں نوجوانوں کو تلقین کر رہا تھا کہ آپ بچہ لوگ کو میں ایک بزرگ کی حیثیت میں نصیحت کرتا ہوں کہ موج میلہ ضرور کرو لیکن کبھی بھی عشق میں سنجیدہ نہ ہو جانا۔ عشق کے میلے میں شامل ہو گئے تو عمر بھر پچھتاؤ گے۔ اُس نے اِس نصیت کی دلیل میں ہم سب کو محبور کیا کہ ہم غلام علی کی غزل نہایت غور سے سنیں اور بار بار سنیں کہ ۔۔۔ کس نے کس کا دِل دُکھایا ؟یہ کہانی پھر سہی۔۔۔
میں نہیں جانتا تھا کہ یہ ہنس مکھ شخص کسی ایسے دُکھ میں مبتلا ہے جس کی کمان پھر سہی۔۔۔
ویسے وہ نہیں جانتا تھا کہ جن ’’بچوں‘‘ کو وہ نصیحت کر رہا ہے یہ بہت گھاگ اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پئے ہوئے ہیں، جب کسی ایک گھاٹ کے پانی سے سیراب ہو جاتے ہیں تو کسی اور معصوم گھاٹ کو غٹ غٹ پی جاتے ہیں۔ ہماری ٹیم میں صرف دو کم سن بچے تھے۔۔۔ کامران اور عاطف۔۔۔کامران کے گرد مری ہوئی مکھیوں کا ایک ڈھیر ہوتا تھا، وہ اُس پر مرتی رہتی تھی، وہ غاروں کے زمانوں کا ایک وحشی انسان تھا جو اپنے اوپر مرنے والی کسی بھی مکھی کو بالوں سے گھسیٹتا اپنی پرائیویٹ غار میں لے جاتا تھا اور وہ مکھی اس حسن سلوک پر احتجاج نہ کرتی تھی، بخوشی گھسٹتی چلی جاتی تھی۔
اور دوسرا بچہ عاطف۔۔۔ ایک گھنی اور الجھی ہوئی ڈاڑھی میں پوشیدہ۔۔۔اپنے اندر ایک وحشت بھری کشش رکھتا تھا، مکھیوں کی اسے بھی کچھ کمی نہ تھی۔۔۔ وہ انہیں مارے یا نہ مارے، یہ اُس کی صوابدید پر منحصر تھا۔اور تب اُس شب میں گھاس بھرے خنک ہوتے میدان کے ایک کونے میں مویشیوں کا ایک ویران باڑہ تھا وہاں سے ایک گدھے کی فریاد بلند ہوئی۔وہ تنہائی کا مارا ہوا کوئی گدھا تھا۔۔۔یقیناًجنسی طور پر ایک بہت ناآسودہ گدھا تھا ورنہ اُس کی فریاد میں ایسی بے چارگی تو نہ ہوتی ، آپ جانتے ہیں کہ ایک گدھا بے شک خرِ عیسےٰ لیکن اُس کی تفریح صرف اُس کے اعضاء کی شاعری ہوتی ہے۔اس گدھے نے ناآسودگی کے جو سریلے گیت چھیڑے تو تقریر کرتا خواجہ بہت ڈسٹرب ہوا ’’تارڑ صاحب۔۔۔اس گدھے کو چپ کرائیں‘‘۔
’’اگرتم فی الفور گریس کا ایک ڈبہ مجھے مہیا کردو تو شاید میں اسے چپ کروانے میں معاون ثابت ہوسکوں؟‘‘
’’گریس کا ڈبہ۔۔۔‘‘ خواجہ کچھ ہکاّ بھی اور بکاّ بھی رہ گیا۔
میں نے اُسے بتایا کہ یہاں تو ایک ہے راکا پوشی بیس کیمپ میں درجنوں گدھے کورس میں ’’چاندنی راتیں‘‘ وغیرہ الاپتے تھے۔ اسرار نے مجھے اِس اسرار سے آگاہ کیا کہ تارڑ صاحب اگر آپ نے کسی بھی گدھے کو چپ کرانا ہو تو ایک ترکیب ہے جو آزمودہ ہے۔ آپ اُس کے نازک مقام میں گریس کا پوچا پھیر دیں۔۔۔’’لا حول ولا۔۔۔‘‘تنویر نے کہا ’’گدھے کو بولنے دیں‘‘ ۔۔۔۔
ویڈیوقسط(9)۔
٭ 10)آئی ایم کاؤ بوائے۔۔۔ کراس ماؤنٹین۔9اکتوبر 2016۔۔۔۔
اُس شب مجھے ایک ڈراؤنا خواب آیا۔ رات کا کوئی پہر ہے۔ میں قدرے بوجھل ہوا، اپنے آپ کو ہلکا کرنے کی خاطر سلیپنگ بیگ کے سرخ کفن میں سے کھسک کر باہر آنے کی سعی کی تو کھسکا نہ گیا۔۔۔ بمشکل سلیپنگ بیگ سے الگ ہو کر اٹھا تو اٹھا نہ گیا۔۔۔ بدن ایک سوکھے ہوئے شجر کی مانند اتنا اکڑا ہوا تھا کہ اس میں اٹھنے کے لیے درکار لچک نہ تھی، کبڑا ہو کر بمشکل۔۔۔ خوابیدہ سرفراز کے پار ہو کر خیمے کی زپ بہت تردد سے کھولی اور جھکا ہوا خیمے سے باہر نکلنا چاہتا تھا کہ یکدم منہ کے بل باہر جاگرا۔۔۔ ایک اپاہج کی مانند بے اختیار، میرا بدن خیمے کے اندر اور بقیہ دھڑ باہر منہ کے بل گھاس پر گرا ہوا۔۔۔ گھر کی آسائش میں ایک شخص بیٹھا ہے تو کرسی، صوفے، ریلنگ یا کموڈ پر بیٹھتا ہے، کبھی زمین پر قالین پر بیٹھنے کا اتفاق نہیں ہوتا تو مجھے خبر ہی نہ ملتی کہ مجھے اب یہ سہولت حاصل نہیں رہی ہے۔ میں بغیر سہارے نہ بیٹھ سکتا تھا نہ اُٹھ سکتا تھا۔
یہ ڈراؤنا خواب کیسا تھا کہ میرے نتھنوں میں گھاس کی پتیاں سر سراتی تھیں اور وہ ہریا ول کو سونگھ رہے تھے۔۔۔ یہ خواب نہ تھا، میں واقعی حراموش کی رات میں گھاس پر اوندھا پڑا تھا۔مجھے سلپی کی خیمہ گاہ تک کی دشواریوں نے آگاہ تو کر دیا تھا کہ۔۔۔ بس، ختم ہوئی بارش سنگ۔۔۔ لیکن کوہ نوردی کی بادشاہی کے خاتمے پر آخری مہر میرے اوندھے گھاس پر گر جانے سے ثبت ہو گئی۔میرے دن پورے ہو گئے تھے۔ پنجابی میں جب کوئی شخص انتقال کر جاتا ہے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے دن پورے ہو گئے۔
کیا اُس اوندھی حالت میں گھاس پر گرے ہوئے مجھے اپنی بے چارگی پر رونا آیا۔۔۔ میں نے اپنے آپ پر ترس کھایا، بہت رنجیدہ اور دل شکستہ ہوا۔۔۔ نہیں، ہرگز نہیں ، میں نے اس اوندھے پن سے لطف اٹھایا، گھاس کی پتیوں سے سجھے ہوئے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔ تو یہ زمانے بھی آنے تھے۔۔۔ اگر آگئے ہیں تو آنے دو۔۔۔ میں ان زمانوں سے کہیں برتر ہوں۔۔۔ یہ گزر جائیں گے اور میں بھی گزر جاؤں گا لیکن۔۔۔ زمانے کی گزران کا کوئی گواہ نہ ہو گا۔۔۔ البتہ گھاس کے یہ سب تنکے اور پتیاں ’’لیوز آف گراس‘‘ یہ گواہی دیں گے کہ وہ یہاں سے گزرا تھا۔ ہم اس کے ہونٹوں کو ہریاول کرتے تھے، اُس کے بوڑھے رخساروں پر سبز تتلیاں ہوتے تھے ، اور اس کے برف سفید بالوں میں نصیب کی سبز لکیروں کی مانند نمایاں ہوتے تھے۔ وہ یہاں سے گزرا تھا۔۔۔ زمانے کا ہمیں کچھ پتا نہیں کہ گزرا بھی تھا یا نہیں!
جیسے خوبانی کے درختوں کے پتوں میں سے زرد سورج طلوع ہوتے ہیں ایسے ہمارے کچن ٹینٹ میں سلگتے سٹوو پر دھرے فرائنگ پین میں تلے جانے والے انڈروں کی زردی طلوع ہو رہی تھی۔
ہماری بستیاں آلودگی کے زہر میں سانس لیتی ہیں، شہروں کی فضائیں مسموم ہو کر مردہ ہو رہی ہیں اور ان بستیوں اور شہروں کے باسی آگاہ ہی نہیں کہ ہوائیں اگرحراموش کی شفافی سے نتھری ہوئی ٹھٹھرتی ہوں تو اُن میں اگر فرائنگ پین میں ایک انڈا تلا جا رہا ہو تو اُس کی باس میں کیسی دیوانگی اور پاکیزگی ہر سو دھو یں مچاتی ہے۔میں نے کم از کم تین زرد سورجوں کا ناشتہ کیا۔
سلپی کی خیمہ گاہ کے کناروں پر ایک پتھریلی دیوار پر کم از کم تیس پورٹر اپنے ہاتھ گھٹنوں پر رکھے براجمان تھے اور تماشے دیکھ رہے تھے کہ باہر کی دنیا سے آئے ہوئے یہ جنور کیا کھا رہے ہیں۔ کیا پہن رہے ہیں اور ان میں سے کون ہے جو ایک لوٹا تھامے کسی محفوظ گاہ کی تلاش میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ اور پھر کسی چٹان کی اوٹ میں غائب ہو جاتا ہے۔ ہماری خیمہ بستی مسمار ہونے لگی۔۔۔ اجڑ نے لگی۔خیمے سمیٹے گئے اور پورٹر سامان بوجھ کر کے جھکے جھکے مکئی کے کھیت کے برابر میں جو ایک پگڈنڈی نمایاں ہوتی تھی اس پر قدم رکھنے لگے تو اُس اکلوتے گدھے نے محض ایک ڈھینچوں کر کے گویا ہمیں الوداع کہا۔
میری کمر پر کوئی بوجھ نہ تھا۔ میرا ڈے پیک کامران کے مضبوط کاندھوں پر تھا۔
’’احسن۔۔۔ آج ہم کہاں جائیں گے۔۔۔ راستہ کیا ہے؟‘‘
ڈاکٹر رخصتی کے انتظامات میں مشغول تھا چونک کر کہنے لگا ’’سر آج تو یوں جانیے کہ ہم ماڈل ٹاؤن پارک کے ٹریک پر آسانی سے چلیں گے۔ایک متروک شدہ جیپ روڈ پر واک کریں گے، پھر تھوڑی سی چڑھائی ہے اور انشاء اللہ دوپہر تک جنگل کیمپ میں پہنچ جائیں گے۔وہاں ایک برفانی ندی کے کنارے کوہ حراموش کی برفوں کے سائے میں ایک سیاہ جنگل ہے، ایک دو جھونپڑے ہیں اور آپ اُن میں سے کسی ایک میں قیام کر سکتے ہیں۔یہ راستہ پیس آف کیک ہے سر۔۔۔‘‘
’’واقعی آج کا پہاڑی سفر ایک کیک کا ٹکڑا ہے؟‘‘
’’سرکیا میں آپ سے جھوٹ بولوں گا۔۔۔ آپ ہمارے مرشد ہیں سر۔۔۔‘‘
’’احسن، پچھلی شب میں اس خیمے میں ایک عذاب میں رہا۔۔۔ وہاں میں اُٹھ نہیں سکتا تھا تو آج کی شب میں میس ٹینٹ کی کشادگی اور بلندی میں بسر کروں گا۔جہاں میں آسانی سے کھڑا ہو سکوں‘‘۔
’’کیوں نہیں سر۔۔۔ ہم آپ کے مرید ہیں‘‘
میں آپ کو بتاتا ہوں کہ کبھی زندگی میں ایسے مریدوں کا اعتبار نہ کرنا۔۔۔ یہ سب فریبی اور دھوکا باز ہوتے ہیں، آپ کو ورغلاتے ہیں اور کبھی حقائق سے آگاہ نہیں کرتے، درپردہ ان کی خواہش ہوتی ہے کہ یہ بیکار سا بوڑھا مرشد کسی گلیشیئر کو عبور کرتے ہوئے زندگی کو عبور کر جائے تو ہم اسے آنسو بہاتے، اس کی مغفرت کی دعائیں کرتے برفوں میں دفن کر کے اس کی برف قبر پر چراغاں کر یں۔اُسے کوہ نوردی کا ’’سینٹ‘‘ ڈیکلیئر کر کے ہر برس ڈھول بجاتے ، بھنگڑے ڈالتے اس کے عرس میں شریک ہوں۔
ان مریدوں کی نیت تو یہی تھی۔میرے نصیب اچھے تھے۔
ویسے یہ حقیقت تھی کہ جب ہم مکئی کے کھیتوں کے پار ہوئے۔۔۔ قدرے بلندیوں کا سامنا ہوا لیکن ازاں بعد دامن کوہ سے لپٹی ہوئی ایک متروک شدہ روڈ تھی۔ سپاٹ ، ہموار پہاڑوں کے ساتھ بل کھاتی ایک روڈ تھی۔
ہم خوش تھے کہ حراموش تک یہی سڑک سیدھی جاتی تھی۔
بقول اُستاد امام دین۔۔۔ یہ سڑک سیدھی جلال پور جٹاں کو جاتی تھی۔۔۔ حراموش کو جاتی تھی۔
’’حاجی صاحب۔۔۔‘‘ سرفراز اپنے کاؤ بوائے ہیٹ کا کنارہ چھوتے ہوئے بولا ’’ہمیں یونہی ڈراتے رہے ہو کہ یہ ہو گا وہ ہو گا۔یہ تو ماڈل ٹاؤن پارک کے ٹریک سے بھی زیادہ آسان ہے‘‘۔
بائیں جانب ایک عمیق گہرائی گرتی تھی اور اُس کے نشیب میں ایک ندی تھی اور اُس کے پار کناروں پر تقریباً منہدم ہو چکی ایک جیپ روڈ کے آثار تھے جو کسی گمنام سلترو وادی کی پوشیدگی تک جایا کرتی تھی۔
یکدم سب لوگ رُکنے لگے۔۔۔آگے روڈ نہ تھی، ایک خلاء تھا۔سڑک کا ایک حصہ مسمار ہو کر کھائی میں گر چکا تھا۔اگرچہ روڈ کا نام و نشان نہ تھا۔۔۔ محض ایک خلاء تھا لیکن ہم پہاڑ سے چمٹ کر، ایک نوکیلی چٹان تلے سے جھک کر قدرے بہادر ہو کر شاید پار جا سکتے تھے۔
۔۔۔۔
٭!!)مجھ پہ کالی والے کا کرم ہو گیا تھا۔16 اکتوبر 2016
٭12)مجھ پر کالی کملی والے کا کرم ہوگیا تھا۔19 اکتوبر 2016.
تو میں نے بھی پکارا کہ۔۔۔ ایک گھوڑا۔۔۔ہے کوئی گھوڑا جو مجھے اس برفانی اژدہے کے پار لے جائے۔
میں نے کامران کی پیشکش ٹھکرا دی اور پھر ایک پورٹر قادر نام کا شاید شمشال کا آگے آیا ’’صاحب۔۔۔ ہم آپ کا گھوڑا ہوتا ہے‘‘۔
وہ بہت ناتواں سا لگتا تھا اور میں اُس کی نسبت ایک بارہ من کی دھوبن تھا ’’پار لے جاؤ گے؟‘‘
۔’’ہاں صاحب۔۔۔ہم اپنی بیوی کو اٹھا کر پار لے جاتا ہے، اپنے باپ دادا کو کاندھوں پر اٹھا کر اس سے کہیں زیادہ شوریلی اور پانیوں کے سیلاب میں غرق ہوتی ندیوں کو عبور کر جاتا ہے۔ آپ بھی تو ہمارے باپ دادا ہو۔۔۔ آؤ۔
مجھے کچھ سبکی سی محسوس ہوئی کہ میں ایک ایسے انسان پر سواری کروں گا جو وزن میں مجھ سے آدھا بھی نہیں ایک پوّاہے لیکن۔۔۔پہاڑوں کے سفر کے دوران انسانیت کی اعلیٰ اقدار سے چشم پوشی کرکے خود غرض اور کمینہ ہو جانا ہی دانش مندی کی معراج ہوتاہے۔قادر، بغیر لڑکھڑاتے، ٹھوکر کھائے بغیر مجھ دھوبن کو پار لے گیا۔
اُس پار کے پار بہت چٹیل، بےآب وگیاہ چٹان بلندیوں کی گود میں ایک پگڈنڈی بمشکل چمٹی ہوئی تھی اور ہم بھی چمٹ گئے۔
اُس نالے کے پہلو بہ پہلو ذرا بلندی پر سنبھلتے چلنے لگے۔ میں بخوبی چلتا تھا۔۔۔ سانس چڑھتا تھا پر وہ رُکتا نہ تھا، میں تھکتا تھا پر گرتا تو نہ تھا۔۔۔واہ پروردگار یہ تیری شان ہے، میں کہیں بلند پہاڑوں میں روپوش کسی وادئ حراموش کی تلاش میں اپنے پاؤں پر چلتا جا رہا تھا۔۔۔ اور بہت دن تو نہیں گزرے جب میں نیشنل ہسپتال کے کمرہ نمبر 24 میں درجن بھر ٹیوبوں سے پر ویا ہوا، آکسیجن ماسک میں سانس لیتا کھڑکی کی جانب تکتا تھا اور باہر ایک میدان تھا جہاں سرشام کچھ فٹ بالر اور اتھلیٹ پریکٹس کرنے کے لئے آجاتے تھے، ورزش کرتے اُچھلتے کودتے تھے۔اُس کھڑکی کے ویران شیشے میں سے کبھی کبھار ایک فٹ بال بلند ہوتا اور گر جاتا۔ورزش کرتی اتھلیٹ لڑکیوں میں سے کوئی ایک لڑکی اُچھلتی، وہ سیاہ رنگت کی پونی ٹیل والی کوئی لڑکی تھی، میرے کمرے کی کھڑکی کے شیشے میں سے ابھرتی۔ پل بھر کے لئے تصویر ہو جاتی اور پھر گر جاتی۔ تب مجھے گمان بھی نہ تھا کہ میں کبھی اپنے قدموں پر چل سکوں گا۔۔۔ دن کی روشنی دیکھوں گا۔
راتوں کو مجھ پر وہی گھبراہٹ طاری ہو جاتی جو میرے چھوٹے بھائی زبیر پر حاوی ہو جاتی تھی جب وہ جگر کے کینسر میں مبتلا۔۔۔اپنے بستر سے اُچھلتا تھا اور فنا کی تاریکی میں گر جاتا تھا۔۔۔میری حالت بھی ویسی ہو چکی تھی۔۔۔ میرے مسیحا ڈاکٹر محمود ایاز نے اپنے آپ کو میری دیکھ بھال کے لئے وقف کر رکھا تھا تو میں نے اُن سے کہا ’’پچھلی شب۔۔۔ میرا کچھ تو دوا دارو کیجئے۔۔۔میں نے یہ سب ٹیوبیں اتار کر اس کھڑکی سے کود جانا تھا اتنی گھبراہٹ اور بے چینی مجھے شکار کرتی تھی۔ میں اس لئے نہ کود سکا کہ مجھ میں بستر سے اٹھ کر کھڑکی تک جانے کی سکت نہ تھی۔
ڈاکٹر صاحب نے کہا ۔۔۔’’میں آپ کو گراؤنڈ فلور پر کسی کمرے میں منتقل کردیتا ہوں تاکہ آپ کھڑکی سے باہر چھلانگ لگائیں تو پارکنگ لاٹ میں آگریں‘‘ اُنہوں نے مارفین کی ایک بھاری مقدار میرے بدن میں انجکٹ کرکے مجھے مدہوش کردیا ورنہ میں کُود چکا ہوتا۔
تو واہ جی واہ رب جی۔۔۔ کہاں وہ دن اور کہاں یہ دن۔۔۔ تیری شانیں نرالیاں ہیں۔۔۔ تو نے مجھے دوبارہ تخلیق کردیا ہے، نیا نکور کردیا ہے۔۔۔ تھینک یو۔۔۔ میں اپنے پاؤں پرایک پہاڑی راستے پر چل رہا ہوں۔
اُس نے نگاہ تو نہیں کی ہوگی، لیکن وہ سیاہ رنگت کی پونی ٹیل والی اتھلیٹ لڑکی ورزش کے دوران جب اُچھلتی میرے کمرے کی کھڑکی کے شیشے میں پل بھر کے لئے ظاہر ہوتی تھی۔۔۔ اگر وہ نگاہ کرتی اور اب نگاہ کرتی تو کیا وہ تحیر کی ایک بے یقینی میں نہ مبتلا ہو جاتی۔۔۔ یہ وہ شخص تو نہیں ہے آپریشنوں سے اُدھڑا ہوا، کچے ٹانکوں سے سِلا ہوا، آکسیجن ماسک کی مدد سے سانس لیتا ہوا جس کی تیمارداری کے لئے عبداللہ حسین اور وہ بھی خون کے کینسر میں مبتلا اور انتظار حسین لاٹھی کے سہارے چلتے آگئے تھے ۔ یہ وہ شخص تو نہیں ہے۔۔۔اُس اتھلیٹ لڑکی کو کیا پتہ کہ مجھ پر کملی والے کا کرم ہو گیا ہے۔ میں اُس کی قصویٰ اونٹنی کے پیچھے چلا آتا تھا، اُس کا سوار اگرچہ مڑ کر نہ دیکھتا تھا کہ یہ کون ہے جو قصویٰ کی مینگنیوں پر بھی میرے عشق میں مبتلا قدم نہیں دھرتا ۔۔۔ وہ اگرچہ پلٹ کر نہ دیکھتا تھا پر اُسے میرے حال کی سب خبر تھی، وہ جانتا تھا کہ یہ جو میری اونٹنی کے پیچھے پیچھے چلا آتا ہے، اس نے کبھی میری غار حرا میں ایک رات گزاری تھی۔۔۔ وہ اتھلیٹ لڑکی نہیں جانتی تھی کہ مجھ پر کملی والے کا کرم ہو چکا ہے۔
خشک اور پیاس کی ماری ہوئی پگڈنڈی نشیب میں اترنے لگی۔وہاں کچھ سایہ دار ٹھگنے سے شجر تھے اور کچھ جھاڑیاں اُن کی ہمجولیاں تھیں۔ اُن کی اوٹ میں کڑیل چٹانوں کی کوکھ میں سے ایک زور کرتی آبشار کا منہ زور بچہ پیدا ہوتا تھا۔۔۔ اُس کی پھوار کی بوندیں، آوارہ تتلیاں، اور سب تتلیاں پانی کے پروں کی۔۔۔ میرے پیاسے بدن کے مساموں میں گھونسلے بنانے لگیں۔
ہر بوند میں جو تتلی تھی اُس کے رنگ پروردگار کی شان کے رنگ تھے، وہ میرے بدن میں جذب ہوتی گئیں، گویا اب میں تو نہ تھا، نہ میرا بدن تھا، پانی کی تتلیوں کا ایک گھر تھا۔اس آبشار کے پار بھی جانا تھا۔
کامران قدرے ہنہنایا اور اس گھوڑے کے حصول کے لئے مجھے کوئی سلطنت فروخت نہیں کرنی تھی، یہ ایک مفت کا تگڑا گھوڑا تھا جو ہمیشہ وہاں آ موجود ہوتا تھا جہاں مجھے ایک گھوڑا درکار ہوتا تھا۔
میں اُس پر بے دریغ سوار ہو کر آبشار کے پار اتر گیا۔ یہاں قدم قدم پر آبشاریں تھیں
۔۔۔۔۔
٭13)پانی کی تتلیاں اور مٹھی چاپی۔23 اکتوبر 2016۔۔۔
یہاں قدم قدم پر آبشاریں تھیں۔۔۔
اس آبشار کے پار ہوئے۔ وہاں جتنے بھی پتھر تھے وہ آبشار کی مسلسل پھوار سے بھیگتے تھے اور اُن پر کائی جم رہی تھی۔۔۔ وہاں درختوں کے ایک جھنڈ کے نم آلود سائے قدم روکتے تھے۔۔۔ جیسے شریف کنجاہی کی ایک یادگار نظم ’’ون دا بوٹا‘‘ میں ون یا بان کا بوٹا اپنے قریب سے گزرتے بھوکے پیاسے مسافر کو پکارتا ہے کہ۔۔۔ اے پیاس اور بھوک سے نڈھال پر دیسی۔۔۔ آؤ میری چھاؤں میں بیٹھ جاؤ۔ میری پیلوں کھالو، ذرا آرام کر لو پھر چلے جانا۔۔۔ اسی طور اس آبشار کی پھوار کی ہر بوند مجھے پکارتی تھی۔۔۔ اے بوڑھے کوہ نورد کچھ دیر ٹھہر جا۔۔۔ ہم تیرے سفید بالوں پر موتیوں کی مانند اٹک جائیں گی، تمہارے پژمردہ بدن پر پانی کی تتلیاں بن کر اتریں گی۔ تجھے تازہ دم کر دیں گی۔۔۔ ٹھہر جا۔۔۔لیکن اگر ایک کوہ نورد کٹھن مسافتوں میں پڑتے ہر آبشار کی بوندوں کی بات سنے۔ ہر جھرنے کی منزل دل کے گیت سننے کے لیے تھم جائے۔ گھاس میں اُگے ہرپھول کی مہک آپ کے قدم روک لے۔۔۔ حیرانیوں کے ہر برف منظر کو دیکھ کر رک جائیں تو پھر کوہ نوردی کا کبھی اختتام ہی نہ ہو۔۔۔ آپ اُسی دل کش اور دل نواز مقام پر ہی جڑیں پکڑ جائیں اور ہمیشہ کے لیے حنوط ہو جائیں۔۔۔ چنانچہ ایسی کسی پکار پر کان نہ دھرئیے، سفر جاری رکھیے۔۔۔ چونکہ میں بالآخر کانوں سے بہرا ہو رہا ہوں تو میں یوں بھی پکار وغیرہ آبشار کی ہو یا کسی جھرنے کی ، سنتا ہی نہیں۔۔۔ چلتا جاتا ہوں۔
آبشار کی نم آلود چھاؤں سے نکل کر دھوپ میں آئے تو بدن پر جتنی بھی پانی کی تتلیاں پھڑپھڑاتی تھیں، اس کی حدت سے بھاپ میں بدل کر کافور ہو گئیں۔۔۔زائل ہو گئیں۔آبشار کے پاردھوپ میں قدم رکھا تو سامنے ایک اور چڑھائی کی دانت نکوستی کتیا غراتی تھی۔۔۔ یعنی یہ ایک کتی چڑھائی تھی ۔ ایک بل کھاتا کچاراستہ بلندی کی جانب اٹھتا ہی چلا جاتا تھا۔ جیسے کوئٹہ جاتے ہوئے جب درہ بولان کی چڑھائی شروع ہوتی ہے تو ٹرین کے ساتھ ایک اور انجن لگا دیا جاتا ہے جو اسے دھکیلتا چلا جاتا ہے۔۔۔ یوں کامران جو ابھی گھوڑا تھا وہ انجن ہو گیا جو مجھے دھکیلتا اوپر لے گیا۔۔۔ وہاں کھلی فضامیں سبزے کو ایک سفید سانپ کی مانند کاٹنے والی ایک برفانی نالی بہتی تھی اور اس کے اردگرد گھاس پر کچھ حضرات اوندھے پڑے تھے۔۔۔ انہیں آسانی سے کوہ نوردی کے شہید کہا جا سکتاتھا اور شہید زندہ ہوتے ہیں ہم انہیں مردہ نہیں کہہ سکتے۔۔۔ ان میں ڈاکٹر احسن، زیدی اور سرفراز پہچانے گئے۔ انہوں نے ہم سے کہیں طویل اور دشوار سفر طے کیا تھا۔۔۔ کسی گلیشیئر کی برفوں پر پھسلتے رہے تھے۔۔۔ اور اب حراموش کے یہ مسافر مدہوش پڑے تھے۔۔۔ اور میرے پکارنے پر اس مدہوش کیفیت میں بھی سرفراز نے اپنی ایک بلوری آنکھ کھولی اور کہا ’’آئی ایم اے کاؤ بوائے‘‘ اور پھر مدہوش ہو گیا۔۔۔ میں بھی تو برے حالوں میں تھا، لڑکھڑا کر گرا اور برفانی نالی کے کناروں پر مدہوش ہو گیا۔
کچھ دیر بعد میں نے یونہی کسی کو مخاطب کیا اور پوچھا ’’آج شب ہم کہاں کیمپ کریں گے‘‘۔
ٹریک کے آغاز سے ایک حراموشی اشدر نام کا ہمارے ساتھ ساتھ چلا آتا تھا نہ وہ پورٹر تھا ور نہ گائیڈ، پتا نہیں کیا تھا اور کیوں ہمارے ساتھ ساتھ چلا آتا تھا۔ مجھے اس کا انوکھا نام یاد نہ رہتا تھا چنانچہ میں اسے یوں یاد رکھتا تھا کہ۔۔۔ میں نے ایک جل پری دیکھی اور ششدر رہ گیا اور شین کی بجائے الف کا اضافہ کر دیں تو ہو گیا اشدر۔۔۔ وہ کہنے لگا۔۔۔ سر۔۔۔ جنگل کیمپ میں‘‘۔
مقیم جو پورٹروں کا حال مقیم شمشالی سردار تھا اپنی مختصر ڈاڑھی سہلا کر بولا ’’تارڑ صاحب۔۔۔ آپ جنگل کیمپ پہنچ کر شادمان ہو جائیں گے۔۔۔ سامنے حراموش کا پہاڑ باتیں کرتا ہے ، اس کی برفوں میں سے پھوٹنے والی ندی کیمپ کے کناروں پر شور کرتی ہے اور جنگل بھی بہت ہی جنگل ہے۔ دسو گاؤں کا شیر نادر بھی میری ڈھارس بندھانے لگا ’’سر جنگل میں منگل۔۔۔ اتنا گھنا جنگل۔۔۔ دور نہیں ۔۔۔ پاس ہے‘‘۔
اشدر ہمارا راہنما ہوگیا۔
ہم سے تو الفت کے تقاضے بھی نہ سہے جاتے تھے پر یہ تو پہاڑوں کی ہوس اور خواہش کے تقاضے تھے جو ہم سہتے گئے۔۔۔ چلتے گئے۔’’سر ۔۔۔ ہم معمول کے راستے پر نہ چلیں گے۔ میں یہاں آتا جاتا رہتا ہوں۔۔۔ ایک آسان راستہ ہے۔ چڑھائی اترائی کچھ نہیں، صرف کھیت اور چشمے ہیں، ہم ان کے کناروں پر آسانی سے چلتے جائیں گے۔ آئیے‘‘وہ راستہ نسبتاً آسان تھا لیکن کچھ بھیگا بھیگا تھا۔۔۔ کھیتوں میں پانی رواں تھے اور ہم اُن میں شڑاپ شڑاپ چلتے اپنے جوگرز بھگوتے تھے۔
ہمارے عین اوپر ایک گونجدار گڑ گڑاہٹ ہوئی جو دل میں ہول بھرنے والی تھی۔ وہاں ایک عظیم گلیشیئر بلندیوں پر معلق تھا اور شاید اس نے ایک گہرا سانس لیا تھا۔ اس گلیشیئر کے نشیب میں، سر سبز کھیتوں کی ایک پگڈنڈی پر دو تنہا شجر سر بلند تھے۔ شجر ثمر آور تھے۔۔۔ ان میں سے ایک شجر کے گھنے پتوں میں سے جھانکنے والی زرد رو خوبانیاں شہزادیاں۔۔۔ بے مثال رسیلے پن میں گھلی ہوئی تھیں۔۔۔ اور دوسرے درخت کی شاخوں سے پیوست کالے شاہ شہتوت نہیں صرف توت تھے، بہت ننھے منے، منی ایچر لیکن ۔۔۔ ایسے میٹھے اور مہلک آور کہ میں نے آج تک ایسے مٹھاس کے کیپسول بھی نہ چکھے تھے۔پہلے تو صرف ششدر بلکہ اشدر ان خوبانیوں اور توتوں کو شاخوں سے الگ کرتا ہمیں پیش کرتا رہا اور پھر ہم سے صبر نہ ہوا اور ذاتی طور پر انہیں حاصل کرنے کے لیے جت گئے۔تب مجھے یکدم اُن کی حلاوتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے سر فراز کا خیال آیا۔ وہ نہ صرف اپنی اولاد بلکہ بیگم کا بھی لاڈلا تھا۔ جانے اس پر کیا گزر رہی ہے کہاں ہے۔’’سر آپ اُن کی فکر نہ کریں۔ ملک صاحب کی حالت اچھی نہ تھی چنانچہ ایک تجربہ کار حراموشی پورٹر اور پہاڑوں کے مارخور جس کی ڈاڑھی بھی ہے یعنی طائف کی ڈیوٹی لگا دی گئی ہے کہ وہ ملک صاحب کی نگہبان ہو جائیں، اُنہیں سہارتے چلے آئیں۔ آپ جانتے ہیں کہ طائف ایک نک چڑھا مولوی ہے لیکن وہ ملک صاحب کا گرویدہ ہے اس نے خود پیشکش کی تھی۔۔۔ چنانچہ سکون کریں۔
کھیتوں کی ہریاول میں ایک پتھریلا گھر دکھائی دے رہا تھا لیکن وہ سفید چٹانوں میں دفن ہو کر اُن کے وزن سے کچلا جا چکا تھا۔’’سر۔۔۔ ابھی کچھ مدت پہلے حراموش کی برفوں تلے جو سفید چٹانیں دکھائی دے رہی ہیں وہ ایک سیلابی ریلے کے زور سے لڑھکتی ہوئی نیچے آئیں۔۔۔ اور اس اکلوتے گھر کو کچل کر رکھ دیا۔۔۔ وہاں دو نوجوان لڑکیاں مقیم تھیں اور وہ بھی کچلی گئیں‘‘۔ان بھیگے بھیگے کھیتوں کے درمیان میں کہیں کہیں سفید چٹانیں براجمان تھیں۔۔۔ اور اُن کی وہاں موجودگی سمجھ میں نہ آتی تھی۔۔۔ اب سمجھ آ گئی۔ بلندی پر گلیشیئر کے دامن میں ہم دیکھ سکتے تھے کہ سفید چٹانوں کی ایک بکھری ہوئی ، منشتر سلطنت ہے اور اس سلطنت کے لیے ٹکڑے کسی نہ کسی بہانے ٹوٹ کر اس وادی کی ہریاول میں گرتے رہتے تھے۔
ہم اس سلطنت کے سائے میں خوف میں چلے۔ ڈرتے ڈرتے چلے۔ اور تب سیراب ہوتے کھیتوں ، برفانی نالیوں اورثمر آور شجروں کے درمیان میں ایک شجر سایہ دار ایک پڑاؤ کی صورت میں آ گیا۔ یہ حراموش لوگوں کا ایک سایہ دار ڈیرہ تھا۔۔۔ ایک سمر کیمپ تھا۔ گھنے درختوں میں پوشیدہ کچی کوٹھڑیاں اور طویل برآمد ے والا ایک گھر تھا۔۔۔ مویشیوں کے گوبر کی بو کے ساتھ خوبانیوں کی خوشبو ہم بستری کرتی تھی ۔ درخت سایہ دار اور پھلدار تھے۔
ایک برفانی ندی اس چھاؤں بھری بستی کے بیچ میں سے گزرتی تھی۔ اس ندی کے پانیوں کی سرسراہٹ میں اس افیون کی اُونگھ تھی جس کی ایک گولی نگل کر کالر ج قبلائی خان کے ذناڈو میں منتقل ہو جاتا تھا۔ہم اس ڈیرے کو ڈھانپتے خوبانی اور شہتوت کے درختوں کی کہیں چھدری ، کہیں گھنی چھاؤں میں ڈھیر ہو گئے۔میں نے اپنے آپ کو ایک شہتیر پر توازن کیا ، اس پر براجمان ہو گیا اور کامران میرے حال کا محرم تھا۔ میری قدموں میں بیٹھ گیا اور میری دکھتی پنڈلیوں کو دبانے لگا۔ مٹھی چاپی کرنے لگتا۔
میں، مالش کروانے ، مٹھی چاپی یا بدن دبوانے سے ہمیشہ جھجکتا ہوں۔۔۔ یہ کسی حد تک مجھے ایک انسان کی تذلیل لگتی ہے۔ وہ ایک غلام کی مانند آپ کے بدن کی تواضع میں جت جاتے ۔۔۔ اور یوں بھی کوئی بھی میرے بدن کو ہاتھ لگائے تو مجھے گدگدی ہوتی ہے۔ میری گدگدی اور اجتناب اپنی جگہ لیکن بدن دبوانا اور دابنا ایک ایسی قدیم ثقافتی وراثت ہے جو مختلف معاشروں کی بودو باش کا ایک لازمی حصہ ہے۔ پنجاب کی رہتل کی تصویر تب تک مکمل نہیں ہوتی جب تک ایک چوہدری
صاحب نواری پلنگ پر دراز نہ پڑے ہوں اور اُن کے کمی کمین اُنہیں داب رہے ہوں۔۔۔
۔۔۔۔
ویڈیوقسط(11)۔
٭13)بلند قراقرمی چراگاہیں اور مکھی بھری لسی۔26 اکتوبر2016 


جمعہ, دسمبر 09, 2016

"میرا دل بدل دے"

مولا دل بدل دے از  حضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقش بندی
مِرا غفلت میں ڈوبا دل بدل دے
ہوا و حرص والا دل بدل دے
خدایا فضل فرما دل بدل دے
بدل دے دل کی دنیا دل بدل دے

گنہگاری میں کب تک عمر کاٹُوں
بدل دے میرا رستہ دل بدل دے
سنوں میں نام تیرا دھڑکنوں میں
مزہ آ جاۓ مولا دل بدل دے

ہٹالوں آنکھ اپنی ما سِوا سے
جیوں میں تیری خاطر دل بدل دے
کروں قربان اپنی ساری خوشیاں
تو اپنا غم عطا کر دل بدل دے

سہل فرما مسلسل یاد اپنی
خدایا رحم فرما دل بدل دے
پڑا ہوں تیرے در پہ دل شکستہ
ر ہوں کیوں دل شکستہ دل بدل دے

تیرا ہوجاؤں اتنی آرزو ہے
بس اتنی ہے تمنّا دل بدل دے
میری فریاد سن لے میرے مولا
بنالے اپنا بندہ دل بدل دے

دلِ مغموم کو مسرور کردے
دلِ بےنور کو پُر نور کردے
فروزاں دل میں شمعِ طور کردے
یہ گوشہ نور سے معمور کردے

میرا ظاہر سنور جائے الٰہی
میرے باطن کی ظلمت دور کردے
ہے میری گھات میں خود نفس میرا
خدیا اسکو بےمقدور کردے

مئے وحدت پِلا مخمور کردے
محبت کے نشے میں چُور کردے

"صبحِ دوامِ زندگی"

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِترتیب
موت کیا ہے اِنہی اجزاء کا پریشاں ہونا            
ایمان ہماری زندگی کا اصل اثاثہ ہے۔ اس زندگی پر ایمان جس کی حقیقت صرف رب جانتا ہے۔انسان کے عزم اور حوصلے پر ایمان جس کی نیت رب جانتا ہے اور وہی اس کا اجر دیتا ہے۔ انسان کے تضاد پر ایمان کہ اس میں فطرت کے سارے رنگ یوں باہم ملے جُلےہیں کہ کسی ایک رنگ کی جھلک سے کبھی بھی اس کا مجموعی تاثر جانا نہیں جا سکتا۔ انسان کے ظاہروباطن کے بھرپور اور مکمل ہونے پر ایمان اور سب سے بڑھ کر اپنے رب پر ایمان کہ وہ دلوں کا حال جانتا ہے اور ہر شے پر قادر ہے۔
زندگی صرف حیرت درحیرت ہے اور کچھ بھی نہیں آخری سانس تک ہم اسے جان ہی نہیں سکتے۔موت زندگی کی جڑواں بہن ہے۔۔لیکن ہماری نظریں،ہمارا فہم اور ہماری عقل اسے بدترین سوکن تصور کرتی ہے۔موت اپنا آپ چھپاتے ہوئے زندگی کے پہلے سانس سے بھی پہلےاُس کے اندر جذب ہوئی ملتی ہے جبکہ زندگی کی چکاچوند اور بھرپور موجودگی کے سامنے موت ایک کریہہ اور بدبودار بھکاری کی مانند ہاتھ پھیلائے نظر آئے تو ہم اس سے دامن بچا کر نکلنے میں ہی بھلا سمجھتے ہیں ۔ ہم کھلی آنکھ سے اُس زندگی کا ادراک کرہی نہیں سکتے جو آنکھ بند ہونے کے بعد نہ صرف ہماری روح بلکہ جسم پر وارد ہوتی ہے۔اس وقت کا ظاہری احساس ہماری عقل کی محض چند فیصد صلاحیت کا مرہونِ منت ہوتا ہے اور اتنا ہی اس کا اظہار ممکن ہے۔
 جیسے معمولی جسمانی تکلیف سے لے کر شدید ترین درد کی کیفیت،یہاں تک کےجان کنی کے عالم تک ہم بہت کچھ سمجھانے اور بتانے کی حالت میں ہوتے ہیں لیکن جان نکلتے ہی یکدم ایسا سکون اور خاموشی طاری ہوتی ہے جو اس وقت ہمارے لیے پریشان ہونے والوں کے دل کو بھی طمانیت سے بھر دیتی ہے۔اس لمحے جسم توسب کے سامنے سب کے ساتھ ہوتا ہے لیکن ہم عقل وشعور کے ہزارہا مراحل طے کر چکے ہوتے ہیں ۔بےشک اس کیفیت کا بیان ممکن ہی نہیں اور کتابِ مقدس کے الفاظ میں "جس پر طاری ہو وہی اس کا امین ہے"لیکن سمجھنے والوں اور غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں اور مثالیں اُن کی اپنی ہی ذات کے اندر موجود ہیں، جیسے فالج کی بیماری میں ہمارا جسم ذرا سی بھی حرکت کے قابل نہیں رہتا، ہم سب دیکھ سکتے ہیں،سب سن سکتے ہیں سب محسوس کرسکتے ہیں لیکن کہہ نہیں سکتے،اظہار نہیں کر سکتے۔یہ کسی کے اس موذی مرض کا شکار ہونے کی ظاہری حالت کا تجزیہ ہی نہیں بلکہ ہمیں اپنی صحت مند زندگی میں بھی اکثر اس کیفیت کا ادراک ہوتا ہے جب ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے جسم کا کوئی حصہ سُن ہو جائے جسے ہم عام بول چال میں "سوجانا" بھی کہتے ہیں۔
زندگی کے پلیٹ فارم پر ایک قطار میں سب اپنی باری کے منتظر ہیں کب کس کا بلاوا آ جائے؟ اور کب کسے قطار کے درمیان سے اُٹھا کر معلوم منزل کے نامعلوم سفر پر روانہ کر دیا جائے؟ ہم یہ سوچ کر مطمئن رہتے ہیں کہ ابھی قطار میں ہمارا نمبر کافی پیچھے ہے۔زندگی کے بڑھتے سالوں کی مشقت اور بھاگ دوڑ ہمیں اس سچ کے سامنے جان بوجھ کر آنکھ بند کرنے پر مجبور کر دیتی ہے تاوقت کہ ہمارااپنا،کوئی جگر کا ٹکڑا یا ہمیں چاہنے والا اس کی گرفت میں آکر ہمیشہ کے لیے نظر سے اوجھل نہ ہو جائے۔اس سمے بےحقیقت زندگی کے سامنے موت کی سچائی کھل کر سامنے آتی ہے۔جب ہم دیکھتے ہیں کہ زندگی کے ہر رنگ سے خوشبو کشید کرنے والا نہ صرف بےحس وحرکت اور جامد ہو جاتا ہے بلکہ اپنا ہر احساس مٹا جاتا ہے،اسی بات کو کسی نے کیا خوب کہا کہ "انسان ایسے جیتا ہے جیسے مرے گا ہی نہیں اور پھر یوں مر جاتا ہے جیسے کبھی آیا ہی نہ تھا"۔
موت برحق ہے۔اس 'حق 'کوجانے والا جانے سے پہلے جتنا جلد تسلیم کر لےاُس کے لیے واپسی کے سفر میں آسانی ہو جاتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ مرنے سے پہلے مرنا موت ہے۔ لیکن مرنے سے پہلے مرنے کے لیے تیار رہنا ہی اصل زندگی ہے ۔جب تک ہم مرنے سے پہلے مریں گے نہیں تو اس زندگی کی چکاچوند آخری سانس تک حسرت بن کر ہماری آنکھ کے پردے پر جھلملاتی رہے گی۔ دُنیا کی زندگی کی محبت میں سرتاپا غرق رہنے والے آخری لمحات میں بھی اس خانہ خراب کی اُلفت سےدامن بچا کر گزر ہی نہیں سکتے۔ کامیاب وہی ہوتے ہیں جو نہ صرف دُنیا کی زندگی کی خوشیوں کو بھرپور طور پر محسوس کریں بلکہ اس کے مسئلوں اور غموں کو سمجھتے ہوئے ممکن حد تک سنوارنے کی کوشش کریں اور پھر سب کچھ منجانب اللہ کا ایمان رکھتے ہوئے "راضی بارضا" ہو جائیں۔ اسی طرح عمر کے بڑھتے سالوں میں موت کے سناٹوں کی چاپ سنائی دینے لگے تو اپنی زندگی کے اس سب سے اہم سفر ۔۔۔آخری لمس کے لیے نہ صرف زادراہ تیار رکھیں بلکہ اپنے آپ کو اسے برداشت کرنے کا حوصلہ دیتے رہیں ۔۔۔ پیغمبر سے لے کر اولیاءاللہ تک سب نے اس سفر پر اسی راستے سے گزرنا ہے۔سب سے اہم بات کہ انسان کو یہ پہچان ہو جانی چاہیے کہ دُنیا کے ہر رشتے ہر تعلق اور ہر مادی شے کی چاہ صرف اس کی سانس کی ڈور سے بندھی ہے۔ اُس کے بعد وہ فنا تو سب فنا۔ اس لیے اگر نفرتوں سے جان چُھٹنا دُنیا کے عذابوں سے نجات پا جانا نعمت ہے تو سب لذتوں سے محرومی بھی محض سراب جدائی ہی ہے۔انسانی زندگی تدبیر اور تقدیر کے مابین چپقلش کو سمجھتے گزرتی ہے۔انسان اپنی عقل پر بھروسہ کرتے ہوئے اکثر تدبیر کی خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے لیکن درحقیقت وہ تقدیر کا غلام ہی رہتا ہے۔
غور کیا جائے توموت ایک دن اچانک کبھی نہیں آجاتی یہ قطرہ قطرہ سلوپوائزن کی طرح ہرآن ہمارے رگ وپے میں سرایت کر رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کبھی یہ تلخ دوا شکر میں لپیٹ کر دی جاتی ہےتوکبھی یکدم ہی اُس کا ذائقہ چکھنا پڑ جاتا ہے اورکبھی حوصلہ مُجتمع کرکے اپنےآپ کو تیار کر کے آہستہ آہستہ اس کی طرف قدم بڑھتا ہے۔ موت زندگی کے ساتھ ہے۔ ہر آگے بڑھنے والا قدم اگر زندگی میں نیا پن لاتا ہے تو موت کے بھی قریب کر دیتا ہے۔ ہم زندگی کے بڑھتے قدم توفوراً تھام لیناچاہتے ہیں لیکن موت کے سائے ہمیں کبھی نظر نہیں آتے۔ یہ سب ہماری نظر کے سامنے ہے پر ہمیں اس کا ادراک نہیں۔
المیہ بھی یہی ہے کہ ہمیں دیکھنا چاہیے،سوچنا چاہیے کہ جانے والے پر زندگی اپنےراستے کھول رہی ہوتی ہےیا سب دروازے ایک ایک کر کے بند کر رہی ہوتی ہے۔جانے والا یا تو اپنے کام سمیٹ رہا ہوتا ہے یا پھر اپنے آپ کوہر چیز میں بےانتہا مصروف کر رہا ہوتا ہے۔ وہ  پوری طرح مطمئن اور پُرباش ہوتا ہے یا ہر شخص ہر شے سے بےزار۔جانے والا یا تو اُمید کا دامن تھام کر لمبے فاصلے طے کرنے کا قصد کر رہا ہوتا ہے۔یا مایوسی کے اندھے کنوئیں میں میں اپنے آپ کو ڈوبتے دیکھ رہا ہوتا ہے۔جانے والا یا تو زندگی کی ہر لذت سے آشنا ہو کر نئی منزلوں کا خواہشمند ہوتا ہے یا اُسے ہرچاہ ،ہرلمس،ہراحساس ادھورا چھوڑ جانے کا دُکھ ستاتا ہے۔لیکن ایک بات طے ہے کہ جانے والا پہلے ہی جا چکا ہوتا ہے ہمارے درمیان اُس کا ہمزاد ہوتا ہے ڈھول کی طرح ایک بھرپور وجود پر اندر سے خالی -ستم یہ ہے کہ ڈھول پر پڑنے والی تھاپ توسنائی دیتی ہے لیکن جانے والا اس شور کو سمندر کی طرح اپنے اندر جذب کر کے بظاہر پُرسکون نظر آتا ہے۔
کوئی کچھ بھی کہے پر ہرانسان کے اندر کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوتا ہے جو اسے خبردار کرتا رہتا ہے۔۔۔دل کی دھڑکن اگر جسم کی سلامتی کا اعلان کرتی ہے تو دماغ کی لہریں ایسی فریکوئنسی محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جو چمکداردن میں کالے بادلوں کی پیش گوئی کرتی ہے۔ کبھی ہم اسے اپنا واہمہ سمجھتے ہیں کبھی کسی خواب مسلسل کو منفی طرزِفکرکہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ بات جاننے کی یہ ہے کہ کب اُس کے لاشعور میں واپسی کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں؟ اور کتنا عرصہ پہلے اُسے اس بات کا احساس ہو جاتا ہے؟جسے شعوری طور پر وہ آخری لمحے سے پہلے کبھی نہیں جان پاتا۔
موت  وہ عمل ہےجس سے ہر ذی روح نے گُزرنا ہے۔یہ حیات ِفانی سے حیاتِ ابدی کے سفر کی پہلی منزل ہے،پہلا دروازہ ہےاگر اس میں سے سر اُٹھا کر گُزر گئے تو یقیناً آگے آسانی ہی ہو گی۔
موت کا فرشتہ  ہماری تلاش میں زندگی کے پہلے پل سے ہے۔ ہم سے بڑھ کراس کا محبوب اس کا کام اور کوئی نہیں۔ ہمیں پانے کی فکر اس کا مقصدِ حیات ہے۔ وہ صبح شام ہمارے گھر میں جھانکتا ہے کہ شاید کوئی منتظر ہو۔۔۔ شاید آج اس پل ملن لکھا ہو۔۔۔ وقت اس کے ہاتھ میں نہیں۔وہ اَن جان ہے کہ کام بتا دیا گیا ہے لگن ڈال دی گئی ہے لیکن وقت سے بےخبر وہ بھی ہے ہم بھی ہیں۔ہم خوف کے مارے دور بھاگتے ہیں اور وہ جھجھک کے مارے پرّے رہتا ہے۔ یہ کھیل چلتا رہتا ہےکہ وہ لمحہ آجاتا ہے جب سارے ڈر سارے خوف سامنے آجاتے ہیں اور وہ اپنا اصل چہرہ دکھا ہی دیتا ہے۔پھر امتحان صرف ہمارا ہی ہے کہ کیسے؟ اُس کا سامنا ہو جو برسوں سے تعاقب میں تھا۔کیا ہم اس قابل ہیں؟ کہ اعتماد سے اُس سے نگاہیں ملا سکیں۔ یہ کہنے کی بات نہیں برتنے کی بات ہے اور وقت ہی اس کا فیصلہ کرتا ہے۔۔کوئی ڈگری کوئی تجربہ کام نہیں آتا۔اللہ ہمیں ہر امتحان میں سُرخرو کرے اور ہمارے لیے ہر جگہ آسانی ہو کہ ہم بہت کمزور اورنادان ہیں۔جانے انجانے میں کیا کچھ کہہ جاتے ہیں۔۔۔کیا کچھ کر جاتے ہیں۔۔۔ہم تقدیرکے چکرمیں بندھے ہیں لیکن ہم صرف ایک کام کر سکتے ہیں کہ اپنی نیت خالص رکھیں اور اپنے رب کو ہمیشہ اپنے ساتھ اپنے سامنے محسوس کریں پھر
 تنگی میں بھی آسانی ہو گی اور آسانی میں بھی راحت ملے گی"( سورۂ الانشرح 94 )۔"
یہ رُکنے کا مقام ہے۔۔۔غور کرنے کی بات ہے کہ آسانیاں بھی ہمیں خوشی نہیں دیتیں۔ہمیں دروازے کُھلے ملتے ہیں ہم بس گُزر جاتے ہیں بغیر کسی تشکّر کے۔۔۔ اپنا حق جان کر۔۔۔ نئے دروازوں، نئی آسانیوں کی راہ پر۔۔۔ خوشی پیچھے رہ جاتی ہے اور ہم آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یوں سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اگر ہم ذرا رُک کر اپنی نعمت اپنی آسانی کو محسوس ہی کر لیں تو اس خوشی کی لذّت میں آگے کاسفر بہت آسان ہو جائے گا۔۔۔ اور دروازے خود بخود کُھلتے رہیں گے۔
دنیا سے جانے کے بعد کی جزاوسزا ہمارا اور رب کا معاملہ ہے۔۔۔ یہ "ون ٹوون ریلیشن شپ" ہے۔کرنے کا کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو حالتِ سفر میں جانیں،اتنا بوجھ ہو جتنا اُٹھا سکیں،جس چیز کی ضرورت ہو وہی ہمراہ ہو۔ یہ نہ ہو کہ ہم تیاری کرتے کرتے اتنا سامان اکٹھا کرلیں کہ پہلے ہی مرحلے میں سب واپس کر دیا جائے اور ہماری ساری زندگی کی محنت ومُشقت رائیگاں جائے۔
"اللہ ہمیں اُس علم سے بچائے جو نفع نہ دے " آمین یا رب العالمین۔
موت کوسمجھے ہے غافل اختتام زندگی
ہے یہ شام زندگی صبح دوام زندگی

بدھ, نومبر 23, 2016

"خاتونِ خانہ،کھانا اور اہلِ خانہ"

اس "دشت کی سیاحی" میں ایک طویل سفرِ لاحاصل گذار کر  بھی عورت گھر کے کارخانے میں ایک مشین سے زیادہ کچھ وقعت نہیں رکھتی۔جسے اپنی رفتار اُس مشین کو چلانے والوں کے حساب سے ایڈجسٹ کرنا پڑتی ہے۔لیکن چاہے کوئی مانے یا نہ مانے عورت گھر کے نظام کی سب سے طاقتور اکائی ہے، وہ غیرمحسوس طریقے سے افرادِ خانہ کی پسند ناپسند اپنی اہلیت اور سوچ کے مطابق موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
سب سے پہلے بچوں سےشروع کیا جائے تو بحیثیت ماں بچوں کے رویے بنانا مکمل طور پر اس کے ذمے ہے۔گرچہ بچے کے مزاج اور خواہشات پر گھر کے ماحول اور خصوصاً باپ کے خصائل وعادات بھی اثرانداز ہوتے ہیں لیکن ماں بچے کی پہلی درس گاہ یا انسپریشن ضرور ہے۔معذرت کے ساتھ کہوں کہ اگر ماں چٹوری اور کھانے پینے کی شوقین ہوگی تو کیسے وہ اپنے بچے کی عادات میں سادگی کی امید رکھ سکتی ہے۔عمر کے پہلے سال سے ہی گھر کی بنی چیزوں اور سب کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھ کر عام کھانا کھانے والے بچوں میں یہ فرق نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
بچوں کو شروع سے ناشتے میں خالص گھی سے چپڑی ہوئی سادہ روٹی یاپراٹھوں کی عادت باآسانی ڈالی جا سکتی ہے،بچپن کی یہ عادت ہمیشہ کے لیے راسخ ہو جاتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بچی ہوئی یا سوکھی روٹی پانی لگا کر تلنا اور کسی بھی سبزی میں آٹا گوندھ کر اس کے پراٹھے بنا کر بچوں کو کھلائے جا سکتے ہیں۔چھوٹے بچے مکمل طور پر ماں باپ کی عادتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ جیسے جیسے بڑے ہوتے جائیں ان کے رویے تو بدلتے ہیں لیکن بنیادی عادات اپنی جڑیں گہری کر لیتی ہیں۔بڑھتے بچوں کے ساتھ ماں کا رویہ قدرے بدل جاتا ہے کہ بچوں کے پاس صرف ایک ماں ہی تو ہوتی ہے جس سے وہ جھگڑتے اور نخرہ کرتے ہیں اور زندگی کی بھاگ دوڑ میں صرف یہی وقت ہی اُن کے سکون کا ہوتا ہے۔ آنے والی زندگی میں معاشی اور معاشرتی مسائل انہیں سر کھجانے کی فرصت نہیں دیتے۔ اب یہاں بیٹوں اور بیٹیوں کے حوالے سے ماں کے رویے میں فرق بظاہر بہت نامناسب بلکہ سخت قابلِ اعتراض دِکھتا ہے خاص طور پر جب بیٹی بھی کہے کہ آپ کے شہزادے ہیں کہ نہ تو چھٹی والے روز جلدی اٹھنے کا کہتی ہیں اور نہ ہی کسی خاص کھانے پر اصرار کرتی ہیں۔ ماں بغیر بحث کیےسنی ان سنی کر جاتی ہے۔ اب کیا کہے کہ بیٹیوں نے گھر سنبھالنا ہوتا ہے اُن کی عادات سنوارنے کے لیے ان پر جبر کرنا پڑتا ہے جبکہ بیٹوں کو کسی اور انداز سےاپنے ڈھب پر لایا جاتاہے۔مردوں کا ایک خاص جملہ جو عورتیں بھی بڑے فخر سے کہتی ہیں کہ وہ تو پانی بھی اٹھ کر نہیں پیتے،کھانا پکانا یا کچن میں جانا تو دور کی بات ہے۔ دیکھنے میں تو یہ مرد کی خوبی ہے لیکن دراصل مرد کی کمزوری ہے کہ وہ اپنی بھوک پیاس مٹانے کے لیے دوسروں کا محتاج ہے اور وہ بھی کسی عورت کا۔ مانا کہ مرد کے ذمے کمانا اور گھر کے کام کرنا عورت کے فرائض ہیں۔ لیکن رشتوں کی قیمت پر گھر کی عورت خانساماں اور ماسی نہیں۔اور کیا ہم اپنی زندگی میں کسی کی بیٹی کو اس لیے بھی شامل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے مؤدب غلام کی طرح کھانے کی ٹرے سجا کر پیش کرے۔ دیکھا گیا ہے کہ جب بچے اپنے باپ کا ایسا طرزِ عمل دیکھتے ہیں تو وہ پہلے پہل اپنی بہنوں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کرتے ہیں، اپنی زندگی میں توبعد کی بات ہے۔بیٹیوں کی طرح بیٹوں کو بھی کچھ نہ کچھ کھانا بنانا ضرور آنا چاہیے کہ جب ضرورت پڑے تو وہ اپنے لیے تو کچھ بنا سکیں۔۔ ہلکے پھلکے انداز میں بچوں کے حوالے سے بات کو سمیٹوں تو بڑے بلکہ بہت بڑے ہو کر یہی بچے اپنی ماؤں کو زیادہ تر کھانے کےحوالے سے ہی تو یاد کرتے ہیں۔۔۔۔وہی کھانا جسے بچپن میں بنا کسی خاص لگاؤ یا ترغیب کے بس کھا لیا جاتا تھا۔
دوسری طرف ایک وہ کلاس ہے جہاں خاندان کےساتھ چھٹی کے روز یا شام کی سب سے بڑی تفریح نت نئے ریستوران میں کھانا کھانے جانا ہوتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ مست پھرتے ماں باپ نہیں جانتے کہ وہ اپنے بچوں کی عادات میں کس زہر کی آمیزش کر رہے ہیں۔ باہر کے چٹخارہ دار کھانوں کی مشکوک غذائی نوعیت اور ان کے اصراف سے ہٹ کر ایک اہم خرابی تو یہ ہے کہ بچوں میں  والدین کے محنت سے کمائے گئے روپے پیسے کا درد ختم ہوجاتا ہے۔ دوسرےمعاشرے میں عام لوگوں کی تکالیف اور ان کی بھوک پیاس سے بےحسی طاری ہوجاتی ہے۔گھر سے باہر اپنے خاندان کے ساتھ سیروتفریح کرنا اور کبھی کبھار باہر کے کھانے کھانا بری بات نہیں لیکن اسے عام سمجھ کر معمول بنا لینا نہایت غلط رویہ ہے۔ایسے  رویے آگے چل کرایسی پُختہ عادتوں میں بدل جاتے ہیں جو  نسلوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے بگاڑ کا سبب بنتی ہیں۔
اب بات کروں گھر کے کرتادھرتا، گھرکے مرد کی ۔۔۔جس کی عمر کے اس دور تک آتے آتے عادات پکی اور ذہنیت پختہ ہو چکی ہوتی ہے اسے اپنے سانچے میں ڈھالنا تقریباً ناممکن ہی ہوتا ہے۔رہی بات سادہ کھانے پکانے اور بنانے کی تو اس کے لیےغیرمحسوس طریقے سے راہ ہموار کرنا پڑتی ہے۔ وہ عورت ہی کیا جو ایک مرد کو نہ بدل سکے، مرد بھی وہ جو صرف چند گھنٹوں کے لیے گھر کی دنیا میں داخل ہوتا ہے۔مرد کی پہلی ترجیح گھر کا سکون ہے تو دوسری گھر میں پکا ہوا کھانا۔ اور یہ دونوں عورت کے اختیار میں ہیں بس اس کے لیے صرف اپنی انا،اپنی خواہشات اور اپنی زندگی میں اپنے وقت کی قربانی دینا پڑتی ہے۔عورت تو وہ ہستی ہے جسے صرف چاہ کی نظر بھی نہیں بلکہ اس کا احساس ہی کافی ہوتا ہے جس کے عوض وہ اپنی ساری زندگی بڑی خاموشی سے دان کر دیتی ہے۔اور اسی عورت کو جب ناقدری کا گہن لگ جائے یا ناسمجھی کی دیمک اس کے وجود میں گھر کر لے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی تباہ کر بیٹھتی ہے بلکہ خود سے وابستہ رشتوں کی پہچان بھلا دیتی ہے،بقول شاعر "گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے"۔
ایک گھر ایک خاندان کا آغاز کرتے ہوئے جب اپنا آپ کسی کے حوالے کر دیا تو اپنی عادتیں بھی کسی کے ساتھ شئیر کرنا پڑتی ہیں اور اسی طرح دوسرے کی عادات اپنانا ہوتی ہیں، یعنی ایک دوسرے کے رنگ میں رنگنے والی بات ہے۔ اب یہی اصل امتحان ہے کہ مرد وعورت کس طرح دوسرے کی بری عادتیں برداشت کرتے ہوئے اپنی اچھی عادتیں اس میں منتقل کریں۔مسئلہ یہ ہے کہ ہر چیز وقت مانگتی ہے اور عمر کا خراج چاہتی ہے۔اور انسان جلدباز واقع ہوا ہے یہ جلدبازی اس کی فطرت اور جبلت کا خاصہ ہے۔ زندگی کے سبق اکثر ہمیں زندگی گزار کر ہی سمجھ آتے ہیں اور اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...