" نورین تبسم"

"کچھ میرے بارے میں" 
بات ہے شناسائی کی۔۔
جب ہمیں کوئی کتاب اچھی لگتی ہے۔اس کے لفظ اپنی سوچ سے قریب محسوس ہوتے ہیں تو اس کے ورق ورق کو پڑھنے کی جستجو میں ہم اس کے سیاق وسباق سے بھی واقف ہونا چاہتے ہیں۔ چاہت اور بڑھے تو لکھاری کو جاننے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ یہ عام انسانی فطرت ہے اس کو سمجھنا چاہیے اور ماننا چاہیے۔ اہم بات یہ ہے کہ لکھنے والا اپنے لفظ کی عملی تفسیر بھی نظر آئے ورنہ عقیدت کے رنگ  خواہ کتنے ہی شوخ اور تہہ دار کیوں نہ ہوںبہت کچے ہوتے ہیں اور نظر کے ذرا سے لمس سے بھی پگھل کر بدرنگ ہو جاتے ہیں یہ اور بات کہ عقیدت مند اپنی ٹوٹ پھوٹ کا راز کبھی فاش نہیں کرتا۔
میرے لفظ پڑھنے والے لفظ پڑھتے پڑھتے میرے بارے میں بھی جاننے کی خواہش رکھتے ہیں۔
منظر نامہ" کی طرف سے10  جولائی 2013 کو  درج ذیل سوال نامہ  ارسال کیا گیا۔۔۔ 
نورین تبسم سے شناسائی
مصنف: محمد بلال خان - 10 جولائی 2013
اس بار سلسلہ شناسائی میں ہم جانیں گے ایک فی میل اردو بلاگر کے بارے میں ( خاتون لکھنا اکثر ناراضی کا سبب بنتا ہے )۔ انہوں نے حال ہی میں بلاگنگ میں قدم رکھا اور یہ کہنا بالکل غلط نہیں کہ یہ جو بھی لکھتی ہیں اچھا لکھتی ہیں بلکہ کمال لکھتی ہیں۔ ایک عام بلاگر اور ایک فی میل اردو بلاگر کے انٹرویو میں خاصا فرق ہوتا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کو ان کے بارے جان کر اچھا لگے گا۔ تو اب ہم نورین تبسم صاحبہ کے بارے میں جانتے ہیں۔ اور ان کا بلاگ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں ۔
خوش آمدید !۔
کیسے مزاج ہیں ؟
۔@ الحمداللہ
آپ کی جائے پیدائش کہاں ہے ؟ اور موجودہ رہائش کہاں ہے ؟
۔@ راولپنڈی ۔ اب اسلام آباد اور واہ کینٹ کے درمیان گھومتی ہوں ۔
اپنی تعلیم ، پیشہ اور خاندانی پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں ؟
۔@ فیڈرل کالج اسلام آباد سے بی ایس سی کیا اور پھر بقول بچوں کے کچھ نہ کیا ۔ والدین انڈیا سے پاکستان آئے انڈیا کیا چیز ہے کہ ابھی تک ہمارے نسب میں اس کا نام گردش کرتا ہے مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی ۔ والد ڈاکٹر ہیں پر اب پریکٹیس نہیں کرتے ۔
اردو بلاگنگ کی طرف کب اور کیسے آنا ہوا ؟ آغاز کب کیا ؟
۔@ یہ محض ایک سوال ہے پر اس کا جواب ایک مکمل کہانی ہے۔ جو میں ان شاء اللہ اپنے بلاگ کی صورت جلد دوں گی ۔مختصراً بتاتی چلوں ۔ نیٹ سے پہلا رابطہ بذریعہ فیس بُک ، 31 مارچ 2012 ، اردو کا پہلا لفظ نیٹ پر لکھا 19 ستمبر 2012 ، بلاگ بنایا 14 اکتوبر 2012۔
کیا مراحل طے کیے آغاز میں اور کس قسم کی مشکلات پیش آتی تھیں ؟
۔@ یہ ایک سفر تھا جو جاری ہے ایک کے بعد ایک مرحلہ طے ہوتا جا رہا ہے اور مشکلات ابھی بھی بہت ہیں لیکن میں ان کی پرواہ نہیں کرتی ۔ جو مل رہا ہے لیتی جاتی ہوں ۔
بلاگنگ شروع کرتے ہوئے کیا سوچا تھا؟ صرف بلاگ لکھنا ہے یا اردو بلاگنگ کو فروغ دینے کا مقصد پیش نظر تھا ؟
۔@ پہلے میں کاغذ پر لکھتی تھی اب مجھے نیٹ پر لکھنا تھا بس یہی میرا بلاگ بنانے کا مقصد تھا ۔
کن بلاگرز سے متاثر ہیں اور کون سے بلاگز زیادہ دلچسپی سے پڑھتی ہیں ؟
۔@ ایم بلال ایم ۔
لفظ ” بلاگ “ سے کب شناسائی حاصل ہوئی ؟
۔@ ایم بلال ایم کا ایک بلاگ پڑھا جس میں انہوں نے بتایا کہ فیس بک پر لکھنا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔بلاگ کی صورت بھی ہم اپنی بات کہہ سکتے ہیں ۔
اپنے بلاگ پر کوئی تحریر لکھنی ہو تو کسی خاص مرحلے سے گزارتی ہیں یا لکھنے بیٹھتی ہیں اور لکھتے چلے جاتی ہیں ؟
۔@ کاغذ پر لکھنے کے بعد دل کرتا ہے اسے جلد ازجلد بلاگ کی صورت دے دوں ۔ یہ ایک نشہ سا ہے جس سے میں خود بھی ابھی واقف ہوئی ہوں کسی خاص ماحول یا لفظ لکھنے کے بعد جب پڑھتی ہوں تو پھر اس کے معنی میرے اندر اترتے چلے جاتے ہیں ۔
کیا آپ سمجھتی ہیں کہ بلاگنگ سے آپ کو کوئی فائدہ ہوا ہے؟ یا کیا فائدہ ہوسکتا ہے؟
۔@ بہت فائدہ ہوا ہے اپنے آپ کو جاننے کا موقع ملا ہے ۔ دنیا کا ایک نیا روپ دیکھا ہے انسانوں پر اعتماد بڑھا ہے۔ اپنی ذات کا عرفان ہونے لگے اس سے بڑی دولت اور کیا مل سکتی ہے ۔
آپ کی نظر میں معیاری بلاگ کیسا ہوتا ہے ؟
۔@ مجھے معیار کا کچھ پتہ نہیں ۔ بس یہی ہے کہ کہیں بھی کوئی لفظ جب ہم پڑھیں وہ ایک دم دل میں اتر جائے یوں لگے کہ جیسے ہم نے لکھا ہے یا ہماری ذات کو سامنے رکھ کر کہا گیا ہے ۔ جیسے میں نے لکھا تھا ” لفظ کی حُرمت یہ ہے کہ جو پڑھے وہ جانے کہ یہ وحی صرف اس کے لیے اس کے دل پر ابھی نازل ہوئی ہے ” ۔
آپ کے خیال میں کیا اردو کو وہ مقام ملا ہے، جس کی وہ مستحق تھی ؟
۔@ نیٹ کے حوالے سے حیران کن حد تک اردو کو اس کا مقام ملتا جا رہا ہے یہ سفر دھیما ضرور ہے لیکن پُراثر ہے ۔
اردو کے ساتھ اپنا تعلق بیان کرنے کو کہا جائے تو کیسے کریں گی ؟
۔@ اردو بچپن سے میرا اوڑھنا بچھونا رہی ہے ، ایک غریب ماں کی طرح سائے کی مانند ہر وقت ساتھ ، انگریزی کی امارت مجھے ایک پل کو کبھی کمتری میں مبتلا کرنے لگتی تو اردو مجھے اپنی آغوش میں لے کر شانت کر دیتی ۔ اب میں انگریزی میں بھی لکھنے لگی ہوں اس کا علیحٰدہ سےبلاگ بنایا ہے یہ میرا وہ روپ تھا جس کی مجھے نیٹ پر آنے سے پہلے جھلک بھی نظر نہ آئی تھی، سب اللہ کا کرم ہے اور ایک راستے پر چلتے رہنے کا نتیجہ ہے۔
آپ کے خیال میں جو اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا وہ اطمینان بخش ہے ؟
۔@ جتنا میں نے نیٹ پر دیکھا ہے اس کو محسوس کر کے میں کہہ سکتی ہوں کہ تسلی بخش ہے لیکن ہماری عام زندگی میں اردو کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے ،اردو کے ساتھ ہمارے گھروں میں ،سکولوں میں ،دفتروں میں اور عام بول چال میں بہت برا سلوک کیا جاتا ہے ، جس پر مجھے دکھ بھی ہوتا ہے لیکن مایوسی نہیں کہ ہمیں صرف اپنے حصے کا چراغ جلانا ہے اور اس کی روشنی آگے منتقل کرنے کی سعی کرنا ہے اور بس ۔
آنے والے پانچ سالوں میں اپنے آپ کو اور اردو بلاگنگ کو کہاں دیکھتی ہیں ؟
۔@ یہاں پل کا بھروسہ نہیں ، میں صرف آج پر یقین رکھتی ہوں اسی لیے بسا اوقات تنقید کی زد میں بھی رہتی ہوں ۔ جس وقت جو لمحہ مل جائے وہی حاصل ِزیست ہے ۔
بلاگ کا نام ” کائناتِ تخیل ” ہی کیوں رکھا ؟
۔@ ” گلیکسی آف تھاٹس “بلاگ بناتے وقت یہ انگریزی نام ایک دم میرے ذہن میں آیا پھر جب اردو اور انگریزی بلاگ الگ کیے تو ایک مہربان نے ” کائنات ِتخیّل ” کا نام دے دیا۔
کسی بھی سطح پر اردو کی خدمت انجام دینے والوں اور اردو بلاگرز کے لیے کوئی پیغام؟
۔@ آپ سب کی اپنی زبان سےمحبت لائق تحسین ہے اور محبت کبھی ناآسودہ نہیں کرتی بس چلتے رہنا شرط ہے کسی صلے کی توقع رکھے بغیر۔
بلاگ کے علاوہ دیگر کیا مصروفیات ہیں؟
۔@ وہ تمام مصروفیات جو عام عورت کی ساری توانائی نچوڑ لیتی ہیں پھر بھی اسے کہا جاتا ہے کہ اس نے دنیا میں کچھ نہیں کیا۔
آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے ،کوئی ایسی خواہش جس کی تکمیل چاہتی ہوں؟
۔@ میری زندگی کا مقصد اب صرف چلتے رہنا ہے راستے اور ساتھ کی پرواہ کیے بنا ء کہ نیت سچی ہو تو منزل تک پہنچا ہی دیتی ہے ۔ خواہش تکمیل سے پہلے ہی پوری ہو جائے تو اور کیا چاہیے ۔ اللہ کا ہر سانس کے ساتھ شکر ادا کرتی ہوں ۔اب کچھ 
سوال ذرا ہٹ کے۔۔۔
پسندیدہ:۔
۔1۔ کتاب ؟
۔@ کتاب میری زندگی ہے اور میری سوچ کے سفر میں وقتاً فوقتاًکتابیں ملتی رہیں جیسے آج کل بانو قدسیہ صاحبہ کی ” راہ رواں ” مجھے اپنے آپ سے ایک پل جدا نہیں ہونے دیتی ۔ اس کتاب پر بھی ایک بلاگ لکھنا ہے جلد ان شاءاللہ ۔
۔2۔ شعر ؟
۔@آج کل یہ حسب ِ حال ہے ” ڈوبنے والا تھا میں اور ساحل پہ چہروں کا ہجوم
پل کی مہلت تھی میں کس کو آنکھ بھر کر دیکھتا ” ( احمد فراز )۔
۔3۔ رنگ ؟
۔@ فطرت کے سب رنگ ، شوخ رنگ جو زندگی کی طرف بلاتے ہیں ۔ زندہ رہنا ہے تو زندگی کے رنگوں کو برتنا چاہیے ورنہ ہر رنگ میں موت کا عکس نظر آتا ہے۔
۔4۔ کھانا ؟
۔@ اس کی پرواہ نہیں کرتی ، زندہ رہنے کے لیے جو بھی مل جائے۔
۔5۔ موسم ؟
۔@ اپنے اندر کا موسم اچھا ہو تو ہر موسم اچھا لگتا ہے ور نہ بہار پر بھی خزاں کا گمان ہوتا ہے۔
۔6۔ ملک ؟
۔@ پاکستان ، کوئی حُب الوطنی نہیں صرف یہ کہ یہ ہمارا ہے اور ہم یہاں نمبر ایک شہری ہیں جو دنیا میں کسی جگہ نہیں ہو سکتے، باقی رہی ٹھوکروں اور ناقدری کی بات تو یہ تقدیر کے فیصلے ہیں جس سے فرار نہیں ۔ ہمارا المیہ بھی یہی ہوتا ہے کہ ہم تقدیر بدلنا چاہتے ہیں ۔ تدبیر پر اختیار ہے تقدیر پر نہیں ۔ دیارِغیر کے مسافر لائق ِاحترام ہیں جنہوں نے اپنے وطن سے ربط قائم رکھا ہے۔ سفر بہت ضروری ہے آگے بڑھنے کے لیے ۔خواب میں جانے کا سوچوں تو اللہ کا گھر ،اس کے نبیﷺ کا در اس سے آگے کچھ نہیں ۔
۔7۔ مصنف ؟
۔@ اشفاق احمداور واصف علی واصف ، شاعری میں احمدفراز اور پروین شاکر ۔
۔8۔ گیت؟
۔@ سب گیت اچھے لگتے ہیں وہ جن کے الفاظ دل کو چھو جائیں ۔ گاڑی میں سفر کرتے ہوئے دھیمی آواز سے ۔ ور نہ گھر میں سننا پسند نہیں ۔
۔9۔ فلم ؟
۔@ چند ایک انڈین فلمز ۔ مجھے احساس کی خوبصورتی اپنی طرف بلاتی ہے کوئی ایک بھی مکمل طور پر پسند نہیں۔
غلط /درست:
۔1۔ مجھے بلاگنگ کرنا اچھا لگتا ہے ۔
۔@ یہ میری ڈائری ہے ذاتی ڈائری ۔ میری سرگوشیاں جو غلطی سے آن ایر چلی جاتی ہیں اور مجھے ڈر بھی نہیں لگتا ۔
۔2۔ مجھے اکثر اپنے کئے ہوئے پر افسوس ہوتا ہے؟
۔@ ہاں یہ سوچ کر کہ اب بھی برداشت کا ہنر سیکھنے میں کسر باقی ہے اور یہ سوچ مجھے مزید قوت ِبرداشت عطا کرتی ہے۔
۔3۔ مجھے کتابیں پڑھنے کا بے حد شوق ہے ؟
۔@ مجھے لفظ سے عشق ہے چاہے جس جگہ بھی مل جائے کتاب صرف ایک حوالہ ہے ۔ سوچ کا رخ جس سمت ہو کتابیں مجھے خود بخود ملتی جاتی ہیں ۔
۔4۔ مجھے سیر و تفریح کرنا اچھا لگتا ہے ؟
۔@ پہاڑوں پر ، بہتے دریاؤں کے کناروں پر ،سرسبز چراگاہوں میں ، چاندنی راتوں میں جھیل کنارے پر اپنے ساتھ وقت گزارنا میرا وہ خواب ہے جو پوارا بھی ہوتا رہتا ہے شمالی علاقے تقریباً سب دیکھ چکی ہوں ۔ لیکن حقیقت میں اپنے گھر سے ایک قدم بھی باہر نکالنا نہیں چاہتی ۔
۔5۔ میں ایک اچھی دوست ہوں ؟
۔@ نہیں ۔ جو مجھ سے دوستی کرتے ہیں وہ یقیناًً بہت اچھے ہیں کہ میری تمام تر بے نیازی اور تیکھے پن کے باوجود میرا ساتھ نہیں چھوڑتے۔
۔6۔ مجھے جلد ہی غصہ آجاتا ہے ؟
۔نہیں ، یہ میری خوبی بھی ہے اور خامی بھی ۔ خوبی ایسے کہ مجھے اس کا ثمر جلد مل جاتا ہے ۔خامی اس طرح کہ لوگ مجھے پھر ‘ٹیک اٹ فور گرانٹڈڈ ‘ لیتے ہیں ۔
7۔ میں بہت شرمیلی ہوں ؟
۔@ ہاں ! پر جب ان لوگوں کے ساتھ ہوں جو میرے قریب رہتے ہیں ۔اپنی ذات کی تنہائی میں ساری دنیا کا سامنا کر سکتی ہوں پورے اعتماد کے ساتھ۔
8۔ مجھے زیادہ باتیں کرنا اچھا لگتا ہے ؟
۔@ پر ان کے ساتھ جو میری زبان سمجھتے ہوں یا کم از کم سمجھنا چاہتے ہیں۔ ور نہ انسانوں کے ہجوم میں مجھ سے زیادہ گونگا کوئی نہیں۔
منظرنامہ کے لیئے کوئی تجویز دینا چاہیں گی ؟
۔@ اسی طرح آگے بڑھتے رہیں سوالوں میں ابھی مزید اضافے کی گنجائش ہے شاید وقت اور جگہ کی کمی بھی اہم ہے۔
آخر میں کوئی خاص بات یا پیغام ؟
۔@ یہ میری خود کلامی تھی ،اگر کسی کو اس سے اختلاف ہو تو سر آنکھوں پر ، سوال پڑھ کر میں نے جو محسوس کیا لکھ دیا ، غلطیوں کی معذرت ۔ زندگی کا حاصل صرف ایک لفظ ہے
“راضی بارضا ” یہ مالا مال کر دیتا ہے اگر اس کو اپنا لیں ۔
اپنا قیمتی وقت نکال کر منظرنامہ کو انٹرویو دینےکے لیئے آپ کا بہت بہت شکریہ
@ منظر نامہ کا شکریہ کہ مجھے کسی قابل جانا ! میری یہ باتیں صرف پڑھنے والوں کے لیے ہی نہیں بلکہ میرے لیے بھی نئی ہیں یہ سب لکھتے ہوئے مجھے بھی اپنی ذات کے اندر جھانکنے کا موقع ملا ، جس کے لیے سب کی تہہ دل سے مشکور ہوں۔
منظرنامہ کے سلسلے"نورین تبسم سے شناسائی" میں احباب کے تبصروں پر میرے جواب ۔۔۔۔
٭یہ میری کہانی نہیں ہر دور کا افسانہ ہے جس کے فقط کردار بدلتے جاتے ہیں ۔ اپنا کردار نبھانا ہی سب سے بڑا آرٹ ہے۔ جس کا فیصلہ وقت کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔
٭اکثر میں سوچتی ہوں کہ وہ کون سی دنیا کے باسی ہوں گے جو میرے لفظ سمجھ پاتے ہیں۔ لیکن اچھا بھی لگتا ہے کہ سوچ کے اس سیارے پر تنہا نہیں ہوں ۔ قدموں کے نشاں دھیرے دھیرے میرے بلاگ کی سرزمینوں پر اتر رہے ہیں ۔
۔۔۔۔۔
٭ابھی بھی تشنگی باقی ہے ،بہت کچھ کہنا تھا بہت کچھ باقی ہے ۔ پتہ ہے ہم ساری عمر سننے والے کانوں اور سراہنے والی نظروں کی آرزو میں ہی جیتے ہیں یہ جانے بنا کہ ہم اس قابل ہیں بھی یا نہیں کہ کوئی اپنی تیز رفتار زندگی میں ذرا دیر کو ٹھہر کر ہمیں محسوس کر لے۔
۔۔۔۔۔
٭بات صرف پہچاننے کی ہے اپنے اوپر اعتماد کی ہے ۔ ہم میں سے ہر ایک بہت کچھ کر سکتا ہے اللہ نے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی ہنر عطا کیا ہے ۔ کسی کا کوئی ایک لفط بھی دل میں اتر جاتا ہے تیشے کی طرح۔ ہلا کر رکھ دیتا ہے اندر سے ۔
۔۔۔۔
٭کبھی کوئی منظر دور جانے سے واضح ہوتا ہے کہ قربت ہمیں اس کی اصل سے بے خبر ہی رکھتی ہے ۔ انسان بھی قدرت کا ایسا ہی ایک منظر ہے جو ان نظروں پر عیاں ہوتا ہے جو اسے پہچاننے کی جستجو میں ہوں ۔ ہوا بہار کی ہو یا خزآں کی ہر رنگ ہمارا ہے اور ہمارے لیے ہے۔
۔۔۔۔
٭بے شک آنکھ اگر کھل جائے تو قطرے میں سمندر اور سمندر میں قطرہ دکھائی دیتا ہے۔
۔۔۔
٭یہ لفظ پڑھنے اور محسوس کرنے والوں کا کمال ہوتا ہے جو بلاجھجھک سب کہہ دینے کا حوصلہ بخشتا ہے۔
۔۔۔
٭اپنی تحریر کے بارے میں صرف ایک وضاحت کہ “ناپ تول” کر کبھی نہیں لکھا۔
دل کی باتیں ہمیشہ بےساختگی میں کہی جاتی ہیں۔ہاں بےدھیانی میں کبھی پوسٹ نہیں کرتی۔املا اور گرامر کی غلطیوں کا خاص خیال رکھتی ہوں وہ بھی صرف اپنی تسلی کے لیے۔ بلاگ لکھنے کے بعد قاری کی آنکھ سے ضرور پڑھتی ہوں۔لیکن کسی کے دل کی آنکھ سے محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے پڑھنے والا اپنے ظرف کی نگاہ سے لفظ کے اندر معنوں کے گہر تلاش کرتا ہے۔
۔۔۔۔
٭میری کیا کسی کی بھی تحریر جس میں زندگی کے احساسات کی ترجمانی ہوتی ہو جب تک جذب نہ ہو سمجھی نہیں جا سکتی۔ اور جذب کرنا ہر ایک کے نہ اختیار میں ہے اور نہ ہی ظرف میں۔
۔۔۔۔
٭زندگی میرے سامنے جس رنگ میں عیاں ہو اس کو لفظوں میں سمیٹنے کی کوشش بھی ہے۔
۔۔۔۔

نورین تبسم سے شناسائی

منظر نامہ۔۔۔ 

1 تبصرہ:

  1. Shehr Zaad
    ap ko jaan kr achha lga ............... bht bar ap ki tehreer prrh kr mehsoos hua k yeh e to merey dil mein tha ,shyed kbhi dil ki baat ko lafzon ka roop dy paoun mein b to tabsra ap ki tehreeron pr e kroun gi tongue emoticon
    · June 19 at 1:01am
    2015

    جواب دیںحذف کریں

" ووٹ کس کو دیں "

پانچ سال ایک شاندارجمہوریت کے مزے لُوٹنے کے بعد بالاآخر وہ دن آ ہی گیا جب ہمارے سر پر سہرا سجنے والا ہے وہ کمی کمین جونام نہاد جمہوریت ک...