" نورین تبسم"

"کچھ میرے بارے میں" 
بات ہے شناسائی کی۔۔
جب ہمیں کوئی کتاب اچھی لگتی ہے۔اس کے لفظ اپنی سوچ سے قریب محسوس ہوتے ہیں تو اس کے ورق ورق کو پڑھنے کی جستجو میں ہم اس کے سیاق وسباق سے بھی واقف ہونا چاہتے ہیں۔ چاہت اور بڑھے تو لکھاری کو جاننے کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔ یہ عام انسانی فطرت ہے اس کو سمجھنا چاہیے اور ماننا چاہیے۔ اہم بات یہ ہے کہ لکھنے والا اپنے لفظ کی عملی تفسیر بھی نظر آئے ورنہ عقیدت کے رنگ  خواہ کتنے ہی شوخ اور تہہ دار کیوں نہ ہوںبہت کچے ہوتے ہیں اور نظر کے ذرا سے لمس سے بھی پگھل کر بدرنگ ہو جاتے ہیں یہ اور بات کہ عقیدت مند اپنی ٹوٹ پھوٹ کا راز کبھی فاش نہیں کرتا۔
میرے لفظ پڑھنے والے لفظ پڑھتے پڑھتے میرے بارے میں بھی جاننے کی خواہش رکھتے ہیں۔منظرنامہ کے سلسلے"نورین تبسم سے شناسائی" میں احباب کے تبصروں پر میرے جواب ۔۔۔۔
٭یہ میری کہانی نہیں ہر دور کا افسانہ ہے جس کے فقط کردار بدلتے جاتے ہیں ۔ اپنا کردار نبھانا ہی سب سے بڑا آرٹ ہے۔ جس کا فیصلہ وقت کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔
٭اکثر میں سوچتی ہوں کہ وہ کون سی دنیا کے باسی ہوں گے جو میرے لفظ سمجھ پاتے ہیں۔ لیکن اچھا بھی لگتا ہے کہ سوچ کے اس سیارے پر تنہا نہیں ہوں ۔ قدموں کے نشاں دھیرے دھیرے میرے بلاگ کی سرزمینوں پر اتر رہے ہیں ۔
۔۔۔۔۔
٭ابھی بھی تشنگی باقی ہے ،بہت کچھ کہنا تھا بہت کچھ باقی ہے ۔ پتہ ہے ہم ساری عمر سننے والے کانوں اور سراہنے والی نظروں کی آرزو میں ہی جیتے ہیں یہ جانے بنا کہ ہم اس قابل ہیں بھی یا نہیں کہ کوئی اپنی تیز رفتار زندگی میں ذرا دیر کو ٹھہر کر ہمیں محسوس کر لے۔
۔۔۔۔۔
٭بات صرف پہچاننے کی ہے اپنے اوپر اعتماد کی ہے ۔ ہم میں سے ہر ایک بہت کچھ کر سکتا ہے اللہ نے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی ہنر عطا کیا ہے ۔ کسی کا کوئی ایک لفط بھی دل میں اتر جاتا ہے تیشے کی طرح۔ ہلا کر رکھ دیتا ہے اندر سے ۔
۔۔۔۔
٭کبھی کوئی منظر دور جانے سے واضح ہوتا ہے کہ قربت ہمیں اس کی اصل سے بے خبر ہی رکھتی ہے ۔ انسان بھی قدرت کا ایسا ہی ایک منظر ہے جو ان نظروں پر عیاں ہوتا ہے جو اسے پہچاننے کی جستجو میں ہوں ۔ ہوا بہار کی ہو یا خزآں کی ہر رنگ ہمارا ہے اور ہمارے لیے ہے۔
۔۔۔۔
٭بے شک آنکھ اگر کھل جائے تو قطرے میں سمندر اور سمندر میں قطرہ دکھائی دیتا ہے۔
۔۔۔
٭یہ لفظ پڑھنے اور محسوس کرنے والوں کا کمال ہوتا ہے جو بلاجھجھک سب کہہ دینے کا حوصلہ بخشتا ہے۔
۔۔۔
٭اپنی تحریر کے بارے میں صرف ایک وضاحت کہ “ناپ تول” کر کبھی نہیں لکھا۔
دل کی باتیں ہمیشہ بےساختگی میں کہی جاتی ہیں۔ہاں بےدھیانی میں کبھی پوسٹ نہیں کرتی۔املا اور گرامر کی غلطیوں کا خاص خیال رکھتی ہوں وہ بھی صرف اپنی تسلی کے لیے۔ بلاگ لکھنے کے بعد قاری کی آنکھ سے ضرور پڑھتی ہوں۔لیکن کسی کے دل کی آنکھ سے محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے پڑھنے والا اپنے ظرف کی نگاہ سے لفظ کے اندر معنوں کے گہر تلاش کرتا ہے۔
۔۔۔۔
٭میری کیا کسی کی بھی تحریر جس میں زندگی کے احساسات کی ترجمانی ہوتی ہو جب تک جذب نہ ہو سمجھی نہیں جا سکتی۔ اور جذب کرنا ہر ایک کے نہ اختیار میں ہے اور نہ ہی ظرف میں۔
۔۔۔۔
٭زندگی میرے سامنے جس رنگ میں عیاں ہو اس کو لفظوں میں سمیٹنے کی کوشش بھی ہے۔
۔۔۔۔
منظر نامہ کی طرف سے سوال نامہ ۔۔۔ اور میرے جوابات
جولائی 10 ،2013

نورین تبسم سے شناسائی

منظر نامہ۔۔۔ 

1 تبصرہ:

  1. Shehr Zaad
    ap ko jaan kr achha lga ............... bht bar ap ki tehreer prrh kr mehsoos hua k yeh e to merey dil mein tha ,shyed kbhi dil ki baat ko lafzon ka roop dy paoun mein b to tabsra ap ki tehreeron pr e kroun gi tongue emoticon
    · June 19 at 1:01am
    2015

    جواب دیںحذف کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...