ہفتہ, دسمبر 28, 2013

" تلاشِ دوست"

"ایک ادھوری شام کی مکمل کہانی "
 وہ ایک بڑا آدمی تھا لیکن اُس کے اندر ایک چھوٹا سا بچہ اپنی پوری تازگی کے ساتھ سانس لیتا تھا۔وطن کی مٹی سےوفا کا لباس اس کی اولین محبت اور لفظ سےعشق اس کی زندگی کا حاصل تھا۔ لفظ کی محبت اُسے لکھاریوں کی جانب کھینچتی ۔ وہ اُن آنکھوں اُن چہروں کو پڑھنا چاہتا جو لفظ سوچتے لفظ تراشتے تھے۔ وہ لفظ پڑھتا ہی نہیں اُن کے اندر اُتر کر انہیں محسوس بھی کرتا۔لفظ کے ساتھ ساتھ نامور لکھاریوں سے ملنا۔۔۔ باتیں کرنا۔۔۔اُن کو چھو کراُن کے وجود سےقربت  کااحساس  تسکین تو دیتا۔۔۔ لیکن اپنے اندر کی پیاس بےچین ہی رکھتی۔ بڑے لوگوں کی بڑی باتیں۔۔۔ وہ بڑے ہو کر بھی اُس بچے کے اندر کا بڑا پن نہ دیکھ سکے۔اُن کے پاس اُس کے سوالوں کے جواب نہ ہوتے۔اسے بہلاتے چمکارتے لیکن مطمئن نہ کر سکتے۔ وہ خاموشی سے اندر کی آگ چھپائے رفاقتوں کےخزینے اپنی یادوں میں سمیٹے جاتا۔ علم کی تلاش کے سفر میں اُس نےکتاب وفن کی دُنیا کو بہت قریب سے دیکھا۔۔۔اِن جانے مانے چہروں کے لفظ اور حقیقت میں اکثر اُسے گہرا تضاد ملا۔ اسباقِ زندگی یاداشت کے آرکائیو میں محفوظ ہوتے رہے۔جو محبت سے در کھٹکھٹاتا اُس کے سامنے یادوں کی پوٹلی کھول دیتا۔علم کی دولت جتنا بانٹتا کم نہ ہوتی ۔۔۔ جتنا لٹاتا۔۔۔۔ مالامال ہوتا جاتا۔ وہ تازگی جو لینے والے کو ملتی اُس سے بڑھ کر سکون اُس کے اندر اُترتا تھا۔
سوچ سفر کے انہی موسموں میں وہ ایک  لکھاری سے ملا جس کے لفظ کی خوشبو نےاُسےلمحوں میں اسیر کر لیا۔۔۔۔ پر وہ اپنی آنکھ کے لمس سےبھی اس خوشبو کا احساس چاہتا تھا۔ لفظ کواُس نے ہمیشہ بےجان کاغذ کی قید میں محسوس کیا تھا اور وہ اس پر ایمان کی حد تک یقین رکھتا تھا۔ شاید اُس کی زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا کہ کاغذ اور کتاب کے مضبوط حصار سے آزاد ایک جیتا جاگتا وجود لفظ کی گواہی دیتا تھا۔لکھاری سے زیادہ ایک بھرپور لیکن عام انسان کا روپ جہاں خوشگوار حیرت کا باعث تھا وہیں آنکھ کا یقین کچھ سوچنے سمجھنے سے قاصر بھی تھا۔ بولتی آنکھیں لفظ کی سچائی پر مہرِ تصدیق ثبت کرتیں تو لہجے کی سادگی بناوٹ سے کوسوں دور محسوس ہوتی۔ وہ پہلی بار ملے تھے لیکن ایسا لگتا تھا جیسے پہلی بار سے پہلے بھی بہت بار مل چکے ہوں۔ یوں محسوس ہوا کہ آج وہ کسی مانوس اجنبی سے نہیں ملا بلکہ اپنے آپ سے ملا ہو۔ اپنا یہ چہرہ بھی تو اس نے کبھی نہ دیکھا تھا۔وہ تو زندگی کے میلے میں تنہائی کے خوف کو اپنی خوداعتمادی کے آہنی لباس میں چھپائے بس چلتا چلا جارہا تھا۔وقت اور حالات نے اُسے ایک دم ہی کھلے آسمان تلے شجرِسایہ دار کی صورت ایستادہ کر دیاتھا۔
اس سمے بھٹکتے بادل کی مانند وہ مہربان ساتھ  یوں لگا جیسے تپتے بدن پر بارش کا پہلا قطرہ۔ کرسمس کی آمد کی نوید دیتی اس ڈھلتی شام کے خواب لمحے ہاتھوں میں دبی ریت کے ذروں کی طرح سرکتے جارہے تھے اور چاہتے ہوئے بھی کسی ایک پل کو سمیٹنا بس میں نہ تھا۔ لفظ لکھنا پڑھنا بہت آسان تھا لیکن اس کو آنکھ سے محسوس کرنا اور لمس سے جذب کرنا شاید مشکل ترین کام۔ لفظ خاموش تھے اور لمس حیران۔ وقت سے چرائے گئے چند لمحوں کا یہ ادھورا تعلق لفظ اور احساس کا یقین دے کر یاد کے آئینے میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا۔۔۔۔ایک خواب لمحہ حقیقت کی جھلک دکھا کر پھر خواب ہو گیا۔
دسمبر25۔۔۔۔ 2013
 اسلام آباد

جمعہ, دسمبر 27, 2013

"بےنظیربھٹو"



عورت صرف عورت ہے
چاہے 'ملال' میں ہو یا 'عافیت' میں
کون جانے کہ ناموں کا یہ کیسا اُلٹ پھیر ہے 
اس کی قسمت ایک سی ہے
یہ پھولوں کے ہار، یہ لو ہے کی زنجیریں
یا پھر خون کی لکیریں
سب نظر کا کھیل ہے
عورت ہمیشہ سے زنداں میں ہے
اور بےنظیر ہے

 ۔"سیاق وسباق" سے واقفیت رکھتے ہوئے بھی ہم نہیں جانتے کہ بےنظیر کیا تھی؟ اور کیوں تھی؟اس بحث سے قطع نظر بس ایک بات جانتے ہیں کہ وہ "بےنظیر" تھی۔جس نے اپنی مختصر زندگی میں آنے والے ہر "مرد" کا سامنا سر اٹھا کر کیا لیکن صرف ایک صرف ایک مرد سے اس کی زندگی شکست کھا گئی۔۔۔اب کون جانے کہ وہ "نامعلوم ٹارگٹ کلر "واقعی نامعلوم ہی تھا ؟
دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

 ۔ 27 دسمبر  2007 کی شام بےنظیر بھٹوکے  قتل اور پھر اس کے بعد جب سے اس کا خون رائیگاں گیااور قاتل کا بھی پتہ نہیں چلا،اس بات نےمعاشرے میں  عورت ذات کی قدروقیمت پر سوال اُٹھاتے ہوئے  اندر سے ہلا کر رکھ دیا ،کہ عورت چاہے کسی بھی مقام پر پہنچ جائے۔ اس کی شنوائی نہیں۔ اور اپنے ہی سب سے زیادہ دکھ دیتے ہیں غیر تو بہت بعد میں آتے ہیں۔
 بےنظیر کے سیاسی کردار کی سیاسی بحث سے دور رہتے ہوئے بےنظیر کو جس بےدردی سے قتل کیا گیا اورایک عشرہ گزر جانے کے بعد بھی قاتلوں کا نام ونشان نہیں۔ یہ ہم عام عوام سے بڑھ کر اس کے بااثر اہلِ خانہ کے منہ پرایک طمانچہ ہے جسے وہ بڑے فخر سے اپنے گالوں کی لالی قرار دیتے ہیں۔بےنظیر کتنی بھی بری سہی، ہمارے سیاست دانوں کی طرح دونمبر سہی ،بری عورت بھی سہی لیکن وہ ایک ماں تھی مکمل ماں جس کے بچے اس کی جان اورزندگی کے ہر محاذ پر ہمیشہ اوّلیت رہے۔شدید دُکھ اور افسوس اس بات کا  توہے کہ بچوں نے  اپنی ماں کو بھلا دیا  پر  غم وغصہ یہ بھی ہے کہ  ماضی سے حال تک ایوانِ اقتدار کی غلام گردشوں میں  اختیار کی  طاقت رکھنے کے باوجود اپنے حال میں اس کے
خون  کی قیمت پر اپنے مستقبل کی بنیاد رکھنے کی جستجو میں ہیں۔کاش  کوئی ان  کے کان میں سرگوشی کر سکے کہ  قبریں ہوں یا مزار ان پر محل  تو کیا معمولی جھونپڑا بھی تعمیر نہیں کیا جا سکتا اور قبریں بھی  قطاردرقطار  جن سےعبرت کا لہو رِس رہا ہوں اور جن کی مٹی مکافاتِ عمل کے نوحے پڑھتی ہے۔
میں بےنظیر کو نہیں جانتی لیکن بس اتنا ضرور جانتی ہوں کہ وہ ایک "مکمل" ماں تھی۔
بےنظیر دنیا کے اسٹیج پر اپنا کردار ادا کر کے رخصت ہو چکی ، اب اس کی زندگی کہانی کی جھلکیاں ہمیں اس طرح کی ویڈیوز کی صورت جب کبھی نظر آتی ہیں توحیرت بھی ہوتی ہے کہ بطور انسان 54  سال کی عمر میں جہاں اس کے بہت سے متنازعہ رخ سامنے آئے تو 20 سال سے کم عرصے میں نبھایا جانے والا "ماں" کا چہرہ سب پر حاوی دکھائی دیتا ہے۔ بس اسی تناظر میں "مکمل ماں " لکھ دیا ورنہ مکمل تو صرف اللہ کی ذات ہے ہم تو کوشش کر کے بھی ادھورے رہتے ہیں اور اسی طرح گزر جاتے ہیں۔
ایک ماں  اپنے بچوں کے ساتھ  ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
سید ولی محمد نظیر اکبر آبادی​(1739۔1830)۔
ٹک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں،مت دیس بدیس پھر مارا​
قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقارا​
کیا بدھیا بھینسا بیل شترکیا کوئی پلا سر بھارا​
کیا گیہوں چاول موٹھ مٹر،کیا آگ دھواں کیا انگارا​
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا​
کچھ کام نہ آوے گا تیرے، یہ لعل زمرد سیم و زر​
جو پونجی بات میں بکھرے گی پھر آن بنے جاں اوپر​
نقارے نوبت بان نشان دولت حشمت فوجیں لشکر​
کیا مسند تکیہ ملک مکاں کیا چوکی کرسی تخت چھپر​
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا​
ہر آن نفع اور ٹوٹے میں کیوں کیوں مرتا پھرتا ہے بن بن​
ٹک غافل دل میں سوچ ذراہے ساتھ لگا تیرے دشمن​
کیا لونڈی باندی دائی  دوا کیا بند چیلا نیک چلن​
کیا مندر مسجد تال کنویں کیا گھاٹ سرا کیا باغ چمن​
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا​
جب مرگ بنا کر چابک کو یہ بیل بدن کا ہانکے گا​
کوئی ناج سمیٹے گا تیرا کوئی گون سینے اورٹانکے گا​
ہو ڈھیر اکیلا جنگل میں تو ءاک لحد کی پھانکے گا​
اس جنگل میں پھر آہ نظیر اک بھنگا آن نہ جھانکے گا​
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا​
​۔۔۔​

بدھ, دسمبر 25, 2013

"شکوہ "

 کسی خاص موضوع پر جب لیکچرز کا اہتمام کیا جاتا ہےتوجہاں اُستاد پوری طرح اس پرگرفت رکھتا ہے وہاں ایسےطالب علم بھی ہوتے ہیں جو اس بارے میں پڑھ کر آتے ہیں باقاعدہ نوٹس بناتے ہیں یا کتابیں پڑھتے ہیں اُس بات کو اپنے طور پر بھی سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سب وہ صرف اپنی تسلّی کے لیے کرتے ہیں نہیں سوچتے کہ اُستاد سے آگے نکلنا ہے۔ کچھ طالب علم بالکل کورے ہوتے ہیں وہ بھی ٹھیک سوچتے ہیں کہ جو نقش اُبھرنا ہے ایک بار ہی اُبھرے اُوورلیپنگ نہ ہو۔ لیکچر کے دوران اوّل الذکر بہت پُرجوش ہوتے ہیں وہ بہت جلد بات سمجھ جاتے ہیں ،بلاوجہ اعتراض نہیں کرتے صرف وہی سوال اُٹھاتے ہیں جو لیکچر سے پہلے اُن کے ذہن میں آئے تھے، لیکچر کے اختتام پربھی وہی لوگ ہاتھ اُوپر کرتے ہیں جن کی  پہلے سے تیاری ہوتی ہے۔ یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں موضوع اتنا اہم اور وسیع ہے کہ ایک آدھ لیکچر سے سمجھ نہیں آسکتا اس لیے سیریز آف لیکچرز ہوتے رہتے ہیں۔
کوئی طالبِ علم  بھی ایک بار میں اس بات کو نہیں جان سکتا ۔
یہاں انتظامیہ سے اکثر ایک غلطی ہو جاتی ہے کہ وہ سب کو ایک جیسا سمجھنے لگتے ہیں ۔ وہ یہ جاننے سے قاصر ہوتے ہیں کہ کوئی کس طرح اس بات کو جان سکتا ہے جیسے کہ وہ کہی جارہی ہے ۔ان کی منطق بھی درست  نظر ہے کہ سب ایک ہی عمر کے لوگ ہوتے ہیں اور جس طرح پرچہ حل کرنے کا وقت تین گھنٹے ہوتا ہے اورکمرہ امتحان میں یہ وقت ہر حال میں گزارنا ہے تو وقت سے پہلے کوئی کس طرح باہر جا سکتا ہے۔ یہ وقت کا پیمانہ بھی ہر انسان کے لیےمختلف ہے۔ وہ طالب ِعلم جو نصاب سمجھ کر اسے اپلائی کرنا چاہتے ہیں  اُن کے نزدیک مزید لیکچرلینا محض وقت کا ضیاع ہے۔ وہ عمل کے میدان میں اترنا چاہتے ہیں اُن کے نزدیک کسی تھیوری کے صحیح یا غلط ہونے کا پتہ ہی اس کی اپلیکیشن سے ہوتا ہے۔ یہ ہماری زندگی کہانی ہے  بجائے اُن کے  نکتۂ نظر کو سمجھا جائے یہ کہا جاتا ہے کہ ہر بار زیرو سے شروع کیا جائے۔ اب کس طرح ممکن ہے کہ جس نے سمندروں کی وسعت دیکھی ہو وہ معمولی ندی نالوں کا اسیر ہو جائے حالانکہ منزل سب کی ایک ہے یہ ندی نالے بھی سفر کرتے ہوئے بالاآخر سمندر سے ہم آغوش ہوجاتے ہیں اِن کا بھی اپنا حسن اپنی اہمیت اور اپنی گرفت  ہے۔ لیکن کیا کیا جائے مسئلہ وقت کا ہے جو ہر آن گزرتا جا رہا ہے۔ ایک ایسی چادر ہے جو ہمارے ہاتھ سے پھسلتی جا رہی ہے ۔ ایک ایسی آندھی جو ہمارے قدم اکھاڑ رہی ہے۔ ہم کسی بھی وقت اس کاحصہ بن سکتے ہیں ۔ ہمیں وقت کا ساتھ دینا ہے اگر اس کے مخالف چلے تو کہیں کے بھی نہ رہیں گے۔
جو سبق جس وقت مل جائے جس وقت سمجھ آجائے غنیمت جانو اور اس پرعمل کرنے کی کوشش کرو۔ کامیابی کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دو۔
( میری پہلی تحریروں میں سے ایک) 
مارچ14 ۔۔ 2003

" ہیرا منڈی سے ہیرے تک "

٭ہیرا منڈیوں میں بکنے لگے تو واقعی کوڑیوں کے مول ہی بکتا ہے۔منڈی میں صرف بولی لگتی ہے جو جتنی بڑی بولی لگائے گا ۔۔۔جنس اُس کے حوالے۔ 
 ٭منڈی چاہے ہیروں کی ہو سبزیوں کی اور یا پھرقربانی کےجانوروں کی طرح کی فصلی منڈی ۔۔۔ خریداری یا سودا ہمیشہ مرد ہی کرتا ہے۔
٭جو ہیرا تاج میں نہیں لگ سکتا وہ منڈی کی زینت بن جاتا ہے۔
٭ہیرے کی قدر جانچنے پرکھنے سے ہوتی ہے تاج میں لگانے سے نہیں۔ تاج میں لگ جائے تو تاج کی قدر ہے ہیرے کی نہیں۔
٭ہیرا جب تک خود اپنی قدر نہ جانے وہ ہیرا کہلانے کا حقدار  نہیں۔ اپنی نظر میں اپنی قیمت کی پہچان ہونا اہم ہے ورنہ عام طور پر پتھر اپنے آپ کو ہیرا سمجھنے کے زعم میں مبتلا ملتے ہیں تو ہیرے اپنی ناقدری کا گلہ کرتے۔ پتھر کبھی ہیرا نہیں بن سکتا اور ہیرا ہمیشہ ہیرا ہی رہتا ہے۔۔۔ ظاہری تراش صرف ظاہر کو ہی متاثر کرتی ہے۔ اور کبھی وہی اس کی قیمت بھی ٹھہرتی ہے۔
٭ ہیرے کے پاس ہیرے ہی ملیں گے پتھر نہیں۔
 ہیرا منڈی ۔۔۔ ہیرے محض فریب ہیں ۔۔۔ کنچے۔۔۔ جنہیں گئے وقتوں میں بچے جیبوں میں بھرتےجاتے تھے اور والدین اس کھیل کو انتہائی ناشائستہ اور بیہودہ خیال کرتے تھے۔ انتہائی معصوم تھے اس زمانے کے بچے جو ان کنچوں کے رنگ دیکھ کر ان کی خوبصورتی اورملائمت پر فدا ہو کر پانے کی جستجو میں بےتاب رہتے تھے اوراُن سے بڑھ کرسادہ لوح اُن کے والدین تھے جو اس بےضرر سے مشغلے کو بےراہ روی جان کر لٹھ لے کرمارنے دوڑتے تھے۔
 نہیں جانتے تھے کہ آنے والے زمانوں میں دُنیا کی منڈی میں کیسے کیسے حیرت انگیز کنچے اُن کی آنکھوں کے سامنے ایک نئی دُنیا کا جادو جگائیں گے۔ جب جیب میں کنچے نہیں پیسہ بولے گا اور ہرکنچے ہیرے کا روپ دھار کر اپنی دسترس میں ہوں گے۔ پھر کوئی کسی کو روکنے ٹوکنے والا نہ ہو گا۔ یہ نیٹ کی دُنیا دورِجدید کی ہیرا منڈی ہے جہاں بولی لگتی ہے،تولا جاتا ہے۔ سودا نہ ہو بےعزت بھی کیا جاتا ہے۔اس سے تو پرانے زمانےاچھے تھے جب ہرچیزمیں رکھ رکھاؤ تھا محض اس لیے کہ برائی کو برائی جانا جاتا تھا اب تو اچھائی بھی بری نظر سے دیکھی جاتی ہے۔ سادگی اورسادہ دلی سے قطع نظر بناوٹ کا بناؤ سنگھار ہی معیارِحسن ہے کہ یہی وقت کا تقاضا ہے۔ جانے کتنے سچے موتی وقت کے سمندروں میں اپنے خول میں قید بھنور میں ڈوب جاتے ہیں۔

ہفتہ, دسمبر 21, 2013

" دل ،دریا سمندر "

دل دریا سمندر از جناب واصف علی واصف
کتاب کے لفظ اور اس کے ادبی محاسن کے بارے میں کچھ بھی کہنے یا منتخب کرنے کی نہ ہمت ہے اور نہ ہی چند الفاظ میں اس 
کا احاطہ ممکن ہے۔" دل دریا سمندر" پڑھنے کے بعد مجھ پر کس طور اثرانداز ہوئی ،اس کی جھلک آپ کو اس پوسٹ میں ملے گی۔یہ بارہ برس پہلے کی ایک تحریر  ہے اس دوست کے نام خط کی صورت جو اس کی دی ہوئی کتاب کا شکریہ ادا کرنے کے لیے لکھی گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
! میرے بہت قریب دوست ۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تعالٰی آپ کو دُنیا وآخرت میں سُرخرو کرے
 آج تقریباً گیارہ روز ہو گئے ہیں پڑھتے ہوئے لیکن ذہن ہے کہ مسلسل حرکت میں ہے۔ایسی کیفیت ہے جیسے کسی مائع کو ایک بند بوتل میں ڈال کر ہلایا جائے۔اگر اس کتاب کو اپنے حوالے سے ایک لفظ میں بیان کروں تو وہ "انجیوگرافی"ہے۔ پہلی رات کتاب کا جائزہ لیتے ہوئے بلکہ شروع کے چند صفحات پڑھ کرجو حالت ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔ میں انجیو گرافی کے بارے میں تو زیادہ نہیں جانتی لیکن جو سرسری سا معلوم ہے کہ کوئی دوا انجیکٹ کرتے ہیں جس سے رگیں نمایاں ہو جاتی ہیں۔ جیسے جیسے کتاب پڑھتی گئی حانکہ یہ میرے لیے بڑا کھٹن مرحلہ تھا مجھے اپنے آپ پریقین ہے کہ میں کسی بھی کتاب کو ایک جھلک میں جانچ لیتی ہوں پھراس کو حرف حرف پڑھ کر لطف اُٹھاتی ہوں ۔ لیکن یہاں معاملہ بالکل برعکس تھا۔ سب سے پہلے تو کتاب کے لیے مکمل تنہائی درکار تھی جب وہ ملتی اورمیں کتاب پڑھنا شروع کرتی تو دماغ اتنا وزنی ہو جاتا اور بےآواز چیخوں کا ایسا شوراُٹھتا کہ کتاب چھوڑنےپرمجبور ہوجاتی ۔ بہرحال اس مرحلے سے گزر ہی گئی ۔۔۔ یہ صرف کتاب ختم کرنے کی حد تک کہہ رہی ہوں ورنہ یوں محسوس ہو رہا ہے کہ کتاب میں جو کچھ بھی تھا وہ سب اندر اُترکر کہیں غائب ہو گیا ہے اورمیں ابھی تک تشنہ لب دریا کنارے کھڑی ہو۔انجیوگرافی کی وضاحت میں اتنا کہوں گی کہ جیسے جیسے یہ کتاب پڑھتی گئی میرے اندرکا ایک ایک احساس ایک ایک جذبہ لفظ کی صورت سامنے آتا گیا جیسے ڈائسیکشن کرتے ہوئے طلباء انسانی جسم کو ریشہ ریشہ کردیں اِسی طرح میرے جسم یا میری شخصیت کو کھول کر رکھ دیا گیا۔ میری سوچ کو میرے سامنے بیان کیا گیا ۔ یہ عمل مسلسل ہوتا رہا آخری صفحے تک ۔ یہاں تک کہ نتیجے کا اعلان بھی میرے سامنے ہی ہوا۔ اب جو بات بتانے والی ہوں وہ میرے لیے خوش کن بھی ہے اوربہت عجیب بھی ۔ خوش کن اس لیے کہ اللہ کا شکر ہے مجھے کوئی ایسی بیماری نہیں جسے چھپاؤں اوریہ وہی بات ہے جس کا مجھے پتہ تو تھا پر احساس نہ تھا کہ اس کی وجہ سے باقی سب بیماریاں لاحق ہیں۔ اب آتے ہیں عجیب کی جانب۔۔۔ جیسے جیسے پڑھتی گئی یہ احساس شدت سے ہوتا گیا کہ یہ سب تو میں بھی سوچتی ہوں بالکل ایسے ہی اوراتنے بڑے لکھاری نے کیسے یہ برسوں پہلے لکھ دیا ہے۔اسی وجہ سے ذہن پراتنا دباؤ پڑا کہ میں جسمانی طور پر تھک گئی ۔ آپ کو بتاؤں کہ گزشتہ دس گیارہ روز سے میں یہاں ہوتے ہوئے بھی یہاں نہیں ہوں،اتنی سخت تھکن ہے جیسے دور دراز کا سفر کر کے گھر واپس آئی ہوں، میری سمجھ سے باہر ہے کہ کیسے روٹین میں آؤں ۔اس ٹرانس سے نکلنے کا راستہ یہی دکھائی دے رہا ہے کہ میں کچھ لکھ کر آپ سے باتیں کروں ۔ سب سے پہلے تو آپ کی قابلیت کی تعریف کہ مجھے اس طرح محسوس کیا جو میں خود بھی نہیں جانتی تھی ۔ میں ذہنی طور پراس مرحلے میں تھی کہ خود اپنے آپ کو ایک نفسیاتی مریض سمجھنے پر مجبور تھی ،میری سمجھ سے باہر تھی یہ بات کہ مجھے زندگی عام انداز سے گزارنا کیوں نہیں آتی ، کبھی کسی کو مورد ِالزام سمجھتی کبھی قسمت کا کھیل تو کبھی اللہ کی آزمائش ۔۔۔ غرض کہ لوہا اتنا گرم ہوچکا تھا کہ جب آپ نے ضرب لگائی تو اس نے اپنی اصل کو پہچان لیا اور پھر اپنی عقل ِسلیم پر ندامت بھی ہوئی ۔
 بات صرف اتنی سی ہے کہ انسان کے اس دُنیا میں دو ساتھی ہیں ایک زندگی اور دوسرا محبت۔ نارمل انسان وہی ہے جو ان میں توازن برقرار رکھتا ہے۔ جب میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ زندگی اورمحبت تو مجھے ملتے ہی بچھڑ گئی تھی ۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ساڑھے گیارہ برس کی تھی میری دادی جن کی میں جان تھی اُن کا برین ہیمریج سے اچانک انتقال ہو گیا ۔ اُس زندگی اُس محبت کی خوشبو،اُن کا لمس میں آج تک نہیں بھولی اوراُن کی موت کا لمحہ وہ دن اورپوری رات جب میں اُن کی ڈیڈ باڈی کے ساتھ بیٹھی رہی اور شاید روئی بھی نہیں۔ یہ وہ عمر تھی جب مجھے دُکھ کا مفہوم بھی معلوم نہ تھا کہ یہ میرے نصاب میں پہلے کبھی نہ آیا تھا ،اسی لیے یاداشت کے'آرکائیو" میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا۔اُس وقت کا ہرمنظرایسے محفوظ ہے جیسے کل کی بات ہو۔ اس کے بعد میں جیسے ایک دم بڑی ہو گئی ۔ محبت میرے آس پاس ساون کی نرم پھوار کی صورت بکھرتی رہی اتنی محبت ملی کہ میں شرابور ہوگئی لیکن میرا من خالی ہی رہا ۔ میں نے ہرمحبت میں "اُس لمس" کو تلاش کیا۔پرجو چیز چلی جائے وہ لوٹ کر نہیں آتی۔ ملنے والی ہرمحبت کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ۔
۔۔"بانو قدسیہ " کے الفاظ یہاں لکھنا چاہوں گی کہ یہی میرا تجربہ بھی ہے۔
 ۔۔"دولت اورمحبت کی ایک سی سرشت ہے۔ دولت کبھی انجانے میں چھپر پھاڑ کر ملتی ہے کبھی وراثت کا روپ دھار کر ایسے ڈھب سے ملتی ہے کہ چھوٹی انگلی تک ہلائی نہیں ہوتی اورآدمی مالامال ہو جاتا ہے پھر اکلوتے لاڈلے کی طرح دولت اجاڑنے برباد کرنے میں مزا آتا ہے۔ کبھی پائی پائی جوڑتے رہنے پر بھی پورا روپیہ نہیں ہوتا ۔ کبھی محبت اور دولت ملتی رہتی ہے لیکن سیری کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی ۔ چادر پوری نہیں پڑتی تن پر۔ کبھی محبت رشوت کے روپے کی طرح ڈھکی چھپی ملتی ہے ۔لوگوں کو پتہ چل جائے تو بڑی تھڑی تھڑی ہوتی ہے کبھی کاسے میں پڑنے والی اکنی دونی کی خاطر ساری عمر تیرا بھلا ہو کہنا پڑتا ہے"۔۔۔۔۔(راجہ گدھ ۔۔۔صفحہ 302)۔
یہ تو میری زندگی کا پہلا دور تھا ۔اس کے اختتام پر میں نے باب ِمحبت کو خداحافظ کہا اورنئی زندگی کا فیصلہ قسمت پر چھوڑ دیا ۔ دوسرا دور پہلے کے بالکل برعکس ثابت ہوا.میرے خیال میں سب کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے لیکن میں نے اس بات کو بہت زیادہ محسوس کیا۔ اس دورمیں اتنا کچھ ملا کہ میں جس کے قابل بھی نہ تھی ۔۔۔ محبت ۔عزت۔ احترام .لیکن نہیں ملی تو وہ محبت نہیں ملی جس کو میں نے پہلے کبھی اہمیت ہی نہ دی تھی. کیونکہ وہ بن مانگے مل رہی تھی نا اس لیے۔اب احساس ہوا کہ وہ تو ایسا قیمتی خزانہ تھا جو خود بخود ہی ملتا ہے ہمارے والدین کی طرح ...جو پاس ہوں تو اُن کے ہونے کا پتہ بھی نہیں چلتا اوردور ہوں تو ہر سانس کے ساتھ ان کی پکار اُٹھتی ہے۔ خونی رشتوں کی محبت ہمیں اپنا ایسا عادی بنا دیتی ہے کہ پھر ہم اپنے بننے والے نئے رشتوں میں اس کی جھلک ڈھونڈتے رہ جاتے ہیں اورتھکن ہماری رگوں میں یوں اترتی چلی جاتی ہے کہ سیراب ہو کر بھی تشنگی کا احساس کم نہیں ہوتا۔ شروع میں بہت محسوس ہوا پھر سمجھ آیا کہ محبت ایسی چیز نہیں کہ جسے دینا ہمارے اختیار میں ہو۔یہ ہمارا وہ حق ہے جسے مانگنے کا ہم کبھی تصور بھی نہیں کر سکتے۔ محبت صرف ہوتی ہے یا پھر نہیں ہوتی ۔ یہ لین دین کا رشتہ ہے ہی نہیں اورزندگی میں جو نئے رشتے بنتے ہیں وہ صرف لین دین ہی کے بنتے ہیں بلکہ صرف دینے کے جتنا دیتے جاؤ کم ہے اور بدلے میں ذرہ بھی مل جائے تو بہت ہے ورنہ بیگار ہی زندگی کہانی کا حاصل ٹھہرتی ہے۔ 
کتاب کے لفظ اور اس کے ادبی محاسن کے بارے میں کچھ بھی کہنے یا منتخب کرنے کی نہ ہمت ہے اور نہ ہی چند الفاظ میں اس کا احاطہ ممکن ہے۔" دل دریا سمندر" پڑھنے کے بعد مجھ پر کس طور اثرانداز ہوئی ،اس کی جھلک آپ کو اس پوسٹ میں ملے گی۔     

منگل, دسمبر 17, 2013

"مقناطیسی سیاہی "

  محبت ایسی ڈائری ہے
 جس کے ہر صفحے پر
 کہانی نئی ہوتی ہے 
 مگر پہلے صفحے پر لکھی
 وہ جادوئی تحریر
مقناطیسی سیاہی
 سے رقم کچھ یوں ہوتی ہے
 کبھی مٹتی نہیں جاناں
 کبھی چھپتی نہیں جاناں
 اپنے پاس رکھتی ہے
 اپنے ساتھ رکھتی ہے 
 جسے چھونا تو آساں ہے
 پر پانا بھی آسماں ہے
 محبت وہ سفینہ ہے 
کہ جس کا ساحل نہیں کوئی 
اگر یہ ڈوبنے نہیں دیتا
 تو پانے بھی نہیں دیتا 

"دسمبر کی دھوپ"

 "خواہشوں کی ڈور سے اُلجھی کہانی ایک ادھوری سی  "
 دسمبر روگ دیتا ہے
 دسمبر روک لیتا ہے 
روٹھا یار منانے سے 
کبھی پیچھے جانے سے 
ان جان رستوں پر
 قدم آگے بڑھانے سے
 لمس تشنہ رکھتا ہے 
لب کی پیاس بجھانے سے 
کسی گمنام رستے پر
کوئی آہٹ کوئی سایہ 
پلٹ کے واپس آئے گا
اگر اظہار کرے تو
دسمبر ٹوک دیتا ہے
 دسمبر سوگ دیتا ہے
دسمبر روک لیتا ہے

منگل, دسمبر 10, 2013

" خواب اور سانپ "

۔" خواب اور سانپ "
نیند اور خواب کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ زندگی کے ایسے اسباق جو ہم کھلی آنکھوں سے دیکھ کر بھی نہیں سمجھ پاتے وہ بند آنکھوں میں خواب کی صورت ہماری روح پر القا ہوتے ہیں۔
خوابوں کو پڑھنے کے لیے بصارت نہیں بصیرت  درکار ہے جو بصارت کی طرح ہر انسان کو یکساں طورپرعطا ضرورہوتی ہے بات صرف اُس کی پہچان کی ہے۔ جس طرح انسان اپنے آپ کو عطا کردہ بصارت کی نعمت کو جان کر اُس کی حدود خلا سے بھی آگے لے گیا ہے اسی طرح بصیرت کی کرنیں بھی زمان ومکاں کی قیود سے آزاد ہیں ۔ خواب میں سانپ اکثر دکھائی دیتے ہیں ۔عام زندگی میں انسان شاید ہی کبھی سانپوں کے قریب جاتا ہو یا سانپ اس کے قریب آتے ہیں ۔
 حال میں انسانوں کی ہمہ ہمی اور اُن کی اذیت کا ڈنگ اتنی مہلت ہی نہیں دیتا کہ سانپوں کا خیال بھی ذہن میں آئے بہرحال شاید سانپوں سے یہی قربت یہی دوری ہے جو انہیں ہمارے خوابوں میں آنے پرمجبورکردیتی ہے۔سانپوں کے ان گنت رنگ اوراتنی ہی اقسام ہیں۔ انسانوں کی طرح ایک جیسے ہوتے ہوئے بھی لاتعداد بہروپ بدل کر بدل کر ہمارے خوابوں میں سفر کرتے ہیں ۔
ہم میں سے تقریباً ہر شخص زندگی میں ایک بارتو سانپ کو خواب میں ضرور دیکھتا ہے۔ کبھی زندگی کے تجربات اتنے تلخ یا پھر اتنے شیریں ہوتے ہیں کہ خواب میں سانپ کے ملنے یا نہ ملنے کا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ خوابوں سے باتیں کرنا بھی ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ بےخبری کی نیند اتنی گہری اتنی مکمل بھی ہو سکتی ہے یا ہوتی ہے کہ اکثر اوقات خواب ہوا کے جھونکے کی طرح چھو کر گزرجاتے ہیں اورپتہ بھی نہیں چلتا۔
 خواب عملی زندگی میں ایک الارم کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن بہت کم لوگوں کو اِس کا ادراک ہوتا ہے۔ سانپوں کو خواب میں دیکھنا اُن کی قسموں کی طرح بہت سے مختلف معنی رکھتا ہے۔
 ۔"خواب میں سانپ دشمن یا خزانہ یا عورت اور یا پھر اولاد ہے"ازخوابوں کی تعبیر کا انسائیکلوپیڈیا مؤلف علامہ عبدالغنی نابلسی، ترجمہ وتحقیق مولانا خالد محمود ۔ صفحہ 277)۔
جیسے خواب میں سفید رنگ کا سانپ نظر آنا بُزرگی کی علامت  ہے تو سُرخ رنگ کامیابی کی ۔ کالا سانپ دکھائی دینا دولت ملنے کی نشانی ہے۔ پیلا یا بھورا سانپ البتہ دُشمن سے واسطہ پڑنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ عام طورپر اسی طرح کے سانپ خوابوں میں دکھتے ہیں لیکن ایک نیلے رنگ کا سانپ بھی ہوتا ہے جو بہت کم کسی کو خواب میں نظر آتا ہے ۔ یہ آسمان کی علامت لیے بصیرت یعنی وژن کو ظاہر کرتا ہےاوراس کا دکھائی دینا اچھا سمجھا جاتا ہے۔ سانپوں کی اچھائی یا برائی کی تعبیروں سے قطع نظرخصلت کے اعتبار سے سانپ کی فطرت ہمیشہ نقصان پہنچانے کی رہی ہے اس لیے سانپ کا خواب میں دکھائی دینا کسی مشکل راستے کی نشاندہی کرتا ہے۔
!آخری بات
خوابوں کی پہچان نہ صرف ہمیں دوسروں کی پہچان عطا کرتی ہے بلکہ ہمارا اپنے اوپراعتماد بھی بحال کرتی ہے۔

منگل, دسمبر 03, 2013

" نامحرم "

 وہ مکمل طورپرمیرے رحم وکرم پرتھے۔ میرے ہاتھ اُن کی آنکھوں کو چھوتے تو کبھی اُن کی ٹھوڈی کو۔ کبھی میری انگلیوں کا لمس اُن کی انگلیوں کو سیدھا کرتا توکبھی میں بہت آرام سے اُن کی گردن کو دھیرے دھیرے حرکت دیتی۔ یہ وقت میری سخت دلی کا متقاضی تھا لیکن میرے ہاتھوں کی نرمی مجھے کوئی بھی سختی کرنے سے روکتی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب اُن کی شریک ِحیات اوربیٹی نے بھی اُن کا ساتھ چھوڑ دیا تھا ،وہ خالی خالی نظروں سے مجھے دیکھے جاتیں اورمیری بیٹی بھی پتہ نہیں باہرکس سےفون پرباتیں کرتی تھی۔
 یہ یکم دسمبر 2013 کی دوپہر کی بات تھی۔اس صبح میں نے ایسا کچھ بھی نہ سوچا تھا.اگر سوچا تھا تو یہ کہ جاتے سال کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا ہے اورسال کےحساب کتاب کا کھاتہ  کھولتے ہوئے پہلا خیال یہی آیا تھا کہ پچھلا سال 2012 زندگی کا بدترین اوربہترین سال تھا تو یہ سال صرف محبتیں سمیٹنے محبتیں بانٹنے کا سال تھا۔ 2012 میں اپنی زندگی کی مالا کا سب سے قیمتی نگینہ میری امی مجھ سے جدا ہو گئی تھیں اوراس سے پہلے کہ میرے ضبط کی لڑی بکھرتی انجان چہروں کی اپنائیت اورمحبت نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا( نیٹ پر میرے لکھنے کا آغاز امی کی وفات چارمارچ 2012 کے بعد ہی ہوا)اور میرے لفظ میری سوچ کا مرہم بنتے چلے گئے۔ لفظ آتے مجھ سے باتیں کرتے اورمیں اُن کو اُسی طرح کاغذ کے حوالے کردیتی ۔ پھرگوگل کے"کروم" سے بہت سے لوگوں کی دل کی آوازبن کر میری سرگوشیاں پھیلتی چلی جاتیں۔
 سال 2013  محبت کا سال تھا ایسی محبتیں جن کا دُنیا میں کسی نے خواب تو کیا خیال میں بھی نہ تصورکیا ہو گا۔ محبتوں کی ایک داستان ِالف لیلٰی تھی جو ہر روزایک انوکھے انگ سے میرے جسم وجاں پراُترتی اورمیں ایک جذب کے عالم میں پڑھے جاتی ،سنے جاتی اورلکھے جاتی کہ یہی میری زندگی تھی ۔ یوں لگتا کہ ایک خواب ہے طلسماتی خواب جو صرف ایک رات یا کچھ پل کا مہمان ہے اوراگلے روز کا اجالا صرف حساب کا روزِمحشرہی ہوگا۔
میں ڈرتی سہمتی دامن ِدل وا کیے چاہتوں کو گلے لگاتی کہ یہ ان چھوئی محبتیں مجھےمیرے ہونے کا ثبوت دیتی تھیں۔ میں اللہ سے بڑی معصومیت سے سوال کرتی کہ سوچ کو لفظ کا لباس دینے کی سعی کرنا، میری وجۂ تخلیق تھی ؟ میرے مالک میں نہیں جانتی کہ میں کس قابل ہوں۔ جانتی ہوں تو صرف یہ کہ لفظ سے محبت کرنے والے بہت بلند مقام پرفائز ہیں جو بدلے میں ایک نگاہِ لطف وکرم کی توقع بھی نہیں رکھتے۔ سچ تو یہ ہے کہ اُن کی محبت کی جزا دینے پرنہ تومیرا اختیار ہے اورنہ ہی میری اوقات ۔شاید یہ وہ صلاحیت ہے جو مجھے عطا ہی نہیں ہوئی۔
خیرمحبتوں کی رم جھم میں برسوں کی تشنگی مٹاتے یکم دسمبر کی وہ صبح ہرلحاظ سے مکمل تھی۔ سال کا ماہِ آخر میرے لیے شکر گزاری کے کلمات لکھتا تھا۔ جانتی تھی کہ زندگی ملنا اوربچھڑنا ہے اورمیں پانے سے زیادہ کھونے کی سچائی پر یقین رکھتی تھی اوراپنے تئیں ہروقت تیار بھی رہتی تھی لیکن اُس صبح کی دوپہر بہت ہی عجیب تھی ۔ ظہر کی پہلی اذان کے ساتھ وضو کرنا تو یاد ہے لیکن یہ یاد نہیں کہ نماز پڑھی یا نہیں۔ یاد ہے تو وہ منظر جب وہ بےجان جسم میرے سامنے تھا اور میں کسی سے ڈرے بغیر اپنا فرض پورا کرتی تھی ۔
 وہ میری بیٹی کی دوست کے والد تھے،زندگی میں شاید چند بار ہی اُن سے باقاعدہ بات چیت ہوئی تھی ، پہلی بار وہ مجھے دیکھ کو چونک سے گئے اوربڑی خوشگوار حیرت سے ملے کہ دوسروں کی طرح انہیں بھی اتنی بڑی بچی کی ماں ہونے پریقین نہ آیا تھا۔ دوسری بار شاید پندرہ بیس منٹ کے سفر میں میرے ہمسفر تھے اور میں اُن کی قربت سے فائدہ اُٹھا کر اُن کے ماضی کے بارے میں سوال کرتی اور وہ بڑا خوش ہو کر اپنی کتاب زیست کے اوراق پلٹتے جاتے۔سفر ختم ہو گیا لیکن ۔میری طلب بڑھ گئی۔لیکن اس روز کے بعد اُن سے دوبارہ اس طرح بات چیت کا موقع نہ مل سکا
 یہ ہمارا بہت بڑا المیہ ہےکہ ہم انسانوں سے زیادہ کاغذ کی کتابیں پڑھنےمیں فرحت محسوس کرتے ہیں حالانکہ کتابیں ہمیں تسکین تو دیتی ہیں کہ کسی کی سوچ ہماری سوچ سے مل جاتی ہے لیکن انسان سے مل کراُس کو پڑھ کر اگرہماری سوچ اُس کی سوچ سے ہم آہنگ ہو جائے،اُس کی آنکھوں کی چمک ہماری آنکھوں کو چھو جائے تو یہ وہ خوشی ہے جس کا مقابلہ دُنیا کی کوئی بڑی سے بڑی کتاب بھی نہیں کر سکتی ۔ لفظ لکھنے والا تو اپنے حصے کا کام کر چکا ہوتا ہے اُس کی خوشی اُس کی لذت تو انگلیوں کے رقص میں ہی تمام ہوجاتی ہے۔اُسے ہمارے احساس ہمارے لمس کا ذرہ برابر پتہ نہیں چلتا ۔ پر کیا کیا جائے کہ ہم انسان غلطی کرہی جاتے ہیں بلکہ کرتے ہی رہتے ہیں اورمالک کا فضل ہے کہ وہ نہ صرف معاف کرتا ہے بلکہ بخشش میں بھی کمی نہیں کرتا۔
عید کے روزاپنے گھر پرمختصرملاقات کے بعد آج اچانک ان کے گھر سے فون آ گیا کہ ابا کی طبیعت بہت خراب ہے جلدی آئیں ۔ ہمارے گھروں کے بیچ سات گھروں کا فاصلہ ہے اپنی بیٹی کے ساتھ میں بھی بھاگتی چلی گئی۔ اپنے بڑے سے آبائی گھرمیں وہ دونوں ماں بیٹی تنہا تھیں ، ماں گھر سے باہر پریشانی اور تذبذب کی کیفیت میں بیٹھی تھی اوراندر بیٹی باپ کی ڈوبتی سانسوں کو ایک ہاتھ سے چیک کرتی دوسرے ہاتھ سے کسی کو مدد کے لیے بلاتی نمبر سوچتی تھی ،میں اس وقت کچھ بھی کہنے سننے کی پوزیشن میں نہیں تھی ۔ زندگی میں پہلی بار میں نے کسی کی جان جسم سے جدا ہوتے ہوئے دیکھی ۔ مدد کے لیے بار بار فون کرتے رہے لیکن کوئی نہ آیا اور وہ قدرے آرام سے آخری سانس لے کر چپکے سے دُنیا سے منہ موڑ گئے۔ شاید موت کے آخری پل سے پہلے ہی اپنے حصے کے سارے کشت اُٹھا چکے تھے کہ اللہ نے ان پرکرم کر دیا ۔ ڈاکٹر آئے ٹارچ سے آنکھ میں روشنی کی جھلک نہ دیکھ کراورنبض کی خاموشی جان کرالٹے قدموں واپس چلے گئے۔ان ماں بیٹی کا اس وقت ہمارے سوا کوئی بھی نہ تھا۔میں نے اپنا کام شروع کیا۔پٹی دستیاب نہ تھی میں نے دکھ کے عالم میں اُن کی پرانی شرٹ کی پٹی پھاڑ کر دھجی کی صورت بنا کر پاؤں کے انگوٹھے باندھے اور پھر ایک اور پٹی ٹھوڈی کے نیچے سے گزار کر چہرے کے گرد باندھی۔۔۔ گردن کو موڑ کر داہنی جانب کیا ۔
یہ جان نکلنے کے فوراً بعد کیا جانے والا پہلا کام ہے جو اگر اُسی وقت نہ کیا جائے تو میت کے لیے اس سے بڑی سزا اورکوئی نہیں جو زندہ انسانوں کی طرف سے پہنچتی ہے۔۔۔ ۔رونےدھونے اوراپنا سرمایۂ حیات ہمیشہ کے لیے چھن جانے کے صدمے کو پس ِپشت ڈآل کر۔۔۔اس کے جسم کو مٹی کے حوالے کرنے کےعمل سے پہلے۔۔۔انسان سے اپنی محبت کا عملی ثبوت صرف یہی ہوتا ہے۔اگر جان نکلنے کے چند منٹوں کے اندراندر میّت کی آنکھیں بند نہ کی جائیں ،ہاتھ سیدھے نہ کیےجائیں ،ٹھوڈی کو اونچا کر کے منہ بند نہ کیا جائے،مصنوعی دانت یا بتیسی نکال کر چند سیکنڈز  کے لیے اُس کے دونوں ہونٹوں پر اپنی اُنگلیاں نہ جمائی جائیں،گردن گھما کر داہنی طرف نہ کی جائے اورپاؤں کے انگوٹھے نہ باندھے جائیں تو انسان کا جسم  جوجان نکلنے کے بعد اکڑنا شروع ہو جاتا ہےاور جس حالت میں اعضا ہو وہ اسی طورمنجمد ہوکر رہ جاتا ہے۔۔۔۔بعد میں جتنا چاہے کوشش کر لیں وہ اپنی جگہ سے کبھی ایک انچ بھی نہیں ہلتا۔
اپنی زندگی کے پچھلے چند برسوں میں ماں کی خوشبو لیے ماں اور اپنی حقیقی امی کی آخری سانس  کے فوراً بعد  میں نےیہی سب کیا تھا۔ لیکن کسی مرد اور وہ بھی جس کے ساتھ میرا کوئی رشتہ نہ تھا میرے  لیے ایک ناقابلِ فراموش لمحہ تھا۔محرم نامحرم کا خیال آتا تو سوچتی کہ ابھی کچھ دیر پہلے آنے والے محلے دار کیسے پڑھے لکھےدیندار مرد تھے جنہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ گھر میں صرف اکیلی چار خواتین ہیں۔ بےشک انہوں نے باہر جا کر دوسرے انتظامات کیے اورمحض چند گھنٹوں کے اندر ہی اُن کےجسد ِخاکی کو خاک کے  سپرد کرنے کے لیے بھاگ دوڑ بھی کی۔۔اللہ اُن کی بےغرض خدمت کا اجر دے لیکن یہ خیال کی بات تھی جو اس وقت ان کے ذہن میں نہیں آیا وہ خاموشی سے آئے اور دیکھ کر چلے گئے۔
 دسمبر پھر دکھ دے گیا۔۔۔۔
جانے کیا بات ہے کہ ہم سارا سال ہی خوشیوں اورغموں کی آنکھ مچولی کھیلتے رہتے  ہیں لیکن دسمبر میں اداسی کی مہک زیادہ ہی محسوس ہوتی ہے شاید یہ دسمبر کی دھند کا اثر ہے،اس کی  سرد دھوپ کا یا پھرگہرے بادلوں والی بھری دوپہروں کا جب یخ ہوائیں ہمیں اپنے اندرمقید ہونے پرمجبورکردیتی ہیں۔ جو بھی ہے دسمبرکی تنہائی اوراس کے ماتم کا اپنا ہی خاص رنگ اورحُسن ہے جو انسانوں سے لے کردرختوں تک صاف دکھائی دیتا ہے۔ لیکن دسمبر میں ملنے والی محبتیں بھی بہت خمار دیتی ہیں کہ قربت کی خوشبو کے ساتھ جدائی کا رنگ اُن کو ہمیشہ کے لیے لازوال یاد بنا دیتا ہے۔
 موت اورمحبت ۔۔۔۔۔۔
محبت کے ہزار روپ ہیں یہ انسان کا انسان پریقین قائم رکھتی ہے لیکن سانس کی ڈور ٹوٹنے کے بعد نہ جانے کیوں محبت ایک ڈرمیں بدل جاتی ہے۔زندہ انسان اپنے اس پیارے کے قریب جانے سے،اُسے چھونے سےہچکچاتے ہیں۔۔۔آنسو بہا کراپنی محبت کا اظہار تو کرتے ہیں لیکن محبت کے ساتھ جب تک عمل نہ ہو وہ بےکار ہے چاہے زندہ انسان سے کی جائے یا مردہ جسم کی حرمت کا سوال ہو۔
آخری بات۔۔۔۔۔۔
  سب پڑھنے والوں سے گزارش ہےکہ جہاں جناب  کے اہلِ خانہ  کے لیے دعائے مغفرت کریں تواُن کی اکلوتی بیٹی اور والدہ کی ہمت واستقامت کے لیے بھی دعا کریں۔اللہ کے ہرکام میں حکمت ہے اوروہ کسی پراس کی استطاعت سے بڑھ کربوجھ نہیں ڈالتا۔ لیکن جس وقت سر سے چادر اترتی ہے،پیروں سے زمین نکلتی ہے اس وقت لگتا ہےکہ قیامت آگئی۔ یہ بھی اللہ کا خاص فضل ہے کہ جب تک سانس آتی رہتی ہے مالک ایسی ہر قیامت کا سامنا کرنے کی استعداد بھی عطا کرتا جاتا ہے۔ایک دربند ہوتا ہے تو کئی در کھل جاتے ہیں۔

    

جمعہ, نومبر 22, 2013

"خوشبو سےخوشبو تک"

تاریخ ِپیدائش۔۔۔۔۔ 24 نومبر 1952۔۔۔۔۔ کراچی
تاریخ ِوفات ۔۔۔۔۔۔26 دسمبر1994۔۔۔۔۔۔ اسلام آباد
شعری مجموعے
٭1)  خوشبو۔ 1977
 ٭2)صد برگ۔ 1980
 ٭3)خودکلامی ۔1985
٭4) انکار۔1990
ماہ ِتمام (کلیات)۔ 1994۔وفات سے صرف تین ماہ قبل پروین شاکر نے خود اپنی متذکرہ چاروں کتابوں کی کلیات "ماہ تمام " کے نام سے چھپوائی۔ 
 ٭5)کفِ آئینہ۔۔۔۔1996 (بعد از وفات شائع ہوئی)۔
٭6)گوشۂ چشم (کالمز)۔
وہ مارگلہ کی نیلگوں پہاڑیوں سے دھیرے دھیرے اُترتی بادلوں سے ڈھکی ایک اُداس شام تھی۔زندگی  سے اپنے لیے ذرا سا
 وقت چُراتے ہوئے  وہ اپنے  کالج کی پرانی دوست کے ساتھ ایک لونگ ڈرائیو  پرتھی ۔ 26دسمبر 1994 کے اُس سرد دن  وقت تھا اورنہ  ہی موقع کہ شام کو ایک شادی کی تقریب میں بھی جانا تھا،پرجب دوست نے آواز دی تو رہ نہ سکی ۔گاڑی میں بس وہ دو تھےاور ڈھیروں ان کہی باتیں۔ لانگ ڈرائیو اوروہ بھی اس خوبصورت شام سب کچھ گویا ایک خواب سا تھا۔
رشتوں کے لیے ہم ساری زندگی بھی دے دیں اُن کی طلب پوری نہیں پڑتی اورنہ ہی ہمارا سفر۔ بس ایک دائرے میں دیوانہ وارگرو وپیش سے بےخبرچکر کاٹتے چلے جاتے ہیں جبکہ دوست کے ساتھ ہم چند پل بھی گزارلیں تو جدائی اوراُداسی کے ملبوس میں لپٹے یہ گلاب لمحے تا زندگی مہک دیتے ہیں،دوست خواہ دل میں رہتا ہو یا دُنیا کے دوسرے حصے میں خوشبو کی لکیر ہمیشہ درمیان میں کھنچی رہتی ہے۔اس شام پتہ نہیں کیا کیا باتیں ہوئیں اورکہاں گئے۔ یاد ہے تو بس اتنا کہ "سپر مارکیٹ"میں ایک بڑی کتابوں کی دُکان میں تھےاورجانے کیا تلاش کرتے تھے،سپر مارکیٹ کا خاص "کاٹج چیز" جو کیلے کے پتوں پرملتا ہے،کھایا  اورگہرے ہوتے اندھیرے میں گھر واپس آ گئے۔کون جانتا تھا یہ خوبصورت شام یادوں میں ہمیشہ گہری اُداسی لے کرطلوع ہو گی کہ جب رات کو شادی کی تقریب میں پتہ چلا کہ"خوشبو" کی شاعرہ آج ہم سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئی ۔آنے والے مہمانوں میں"نورین طلعت عروبہ" بھی تھیں جو شاید اُس کے آخری سفر پرروانہ ہونے سے پہلے اُس سے مل کرآئی تھیں۔پروین شاکر کے لفظ سے قربت اگر  کچی عمر کی پہلی محبت تھی تو  اسلام آباد میں ہونے والے مشاعروں میں اُس دل پذیر شاعرہ کی جھلک گویا خوابوں کی مجسم تصویر اور پھر بھوری ڈائری میں اُس  کومل شاعرہ کے  دستخط اور اس کے ہاتھ سے لکھا گیا اس کا شعر ہمیشہ کے لیے ایک قیمتی یاد بن کر محفوظ ہو گیا تھا۔ اس  رات  یوں لگا جیسے کوئی  تتلی پل میں چھب  دکھلا کر نظروں سے ہمیشہ کے لیے اوجھل ہوگئی ہو۔غرض کہ وہ دن جو خواب اورخوشی کے انوکھے ملاپ سے شروع ہوا تھا دل گرفتگی اوردُکھ کے ان کہے احساس پراختتام پذیر ہوا۔
آندھی کی زد میں آئے پھول کی طرح "
میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کے فضا میں بکھر گئی" ۔۔۔ پروین شاکراپنی آخری سانس کی کہانی بھی خود لکھ گئی۔
پروین شاکر کے بعد بس یوں لگا کہ "خوشبو" کے جانے سے خوشبو کا احساس ہی کھو گیا اورپھرشاعری کے حوالے سےکسی اوردرجانے کی خواہش ہی پیدا نہ ہوئی۔
خواب دیکھنے والی آنکھ اورخوابوں میں رہنے والا ہرمکین "خوشبو" کی سفیر کی قربت کے بھرپوراحساس سے واقف ہی نہیں بلکہ اُسے کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔ لیکن اُس دورمیں پروین شاکر کے لفظوں سے شناسائی تو ہوئی لیکن آشنائی کی لذت نہ مل سکی کہ "خوشبو" لمس کی ترجمان تھی ۔ پروین شاکر نے چاہنے اورچاہے جانے کے احساس کو لفظ میں پرویا تھا اوروہ لڑکی ابھی لمس سے کوسوں دورصرف خیال وخواب کے رستے میں تھی۔ خوشبو اپنی جگہ آپ بناتی ہے۔اُس سمے اُس نے اپنی جگہ توڈھونڈ لی تھی لیکن مہک کا احساس برسوں بعد اپنی زندگی کے رنگوں میں تصویر کشی کرتے ہوئے جاگا تو پھر یوں لگا کہ جیسے"خوشبو" تو صرف اُس کے لیے ہی لکھی گئی تھی اور"خوشبو" کے لفظ لفظ میں اُس کا اپنا وجود بولتا تھا۔ بلاشبہ یہ پروین شاکر کا اعجاز تھا کہ' ستمبر'76' میں محض 24 سال کی عمرمیں جب "خوشبو" کا دیباچہ لکھا تو اُس نے وہ سب کہہ دیا جو برسوں کی مسافت کے بعد جسم وجاں پروارد ہوتا ہے۔ اُس نے اپنی"خوشبو" کے دیباچے میں یہ راز افشا بھی کر دیا اوراُس سے بڑھ کر کسی نے کبھی اپنے آپ کا جائزہ اتنے بھرپوراندازمیں نہیں لیا ہو گا۔ چار سال بعد  1980 میں آنے والی  "صد برگ" کےانتظار سے،1985 کی"خود کلامی" کی لذت اورپھر1990"انکار"میں بغاوت سے لے کر اُس نے"ماہ ِتمام" میں سب کہہ کرگویا اپنی زندگی کا نوحہ خود ہی مکمل کر دیا۔ یہ اُس شاعرہ کاوجدان تھا کہ "خوشبو" ہی اُس کی ساری زندگی کا حاصل اورنچوڑٹھہری ۔آغازِسفر سےاختتام ِسفر تک کا احساس"خوشبو" میں ہرسو بکھرا ملتا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے"خوشبو"جب صفحۂ قرطاس پراُبھری اُس وقت ہرانسان کی طرح پروین شاکر کو بھی اپنے مستقبل کا ذرہ برابرادراک نہ تھا۔ "خوشبو" کی پہلی غزل صفحہ 35 سے  "خوشبو" کی آخری غزل صفحہ 356 تک اس کی زندگی کہانی کا لمحہ بہ لمحہ عکس ملتا ہے۔ 
 برسوں پہلے "پروین شاکر" کے ہاتھ سے لکھے لفظ عظیم شاعرہ کی خوشبو کی قربت کا احساس دلاتے ہیں۔



"پروین شاکر کی یادیں اوراس کی باتیں "
ان کی ایک عادت یہ تھی کہ وہ کسی بھی محفل میں اپنے جوتے اتار دیا کرتیں اور ننگے پیر پھرا کرتیں ،واپسی پر اکثر ہی جوتے گم ہو جایا کرتے اور انہیں ننگے پیر گھر آنا پڑتا،وہ گاڑی بھی جوتا اتار کر چلایا کرتیں،ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ وہ اسلام آباد کی جناح سپر مارکیٹ میں جوتوں کی دکان کے سامنے گاڑی روکے زورزور سے ہارن بجا رہی تھیں ، شاپ سے سیلزمین باہر آیا تو پتا چلا کہ پروین شاکر ہیں اور ننگے پیر ہیں انہیں جوتا چاہیے،اصل میں وہ کسی تقریب میں اپنا جوتا کھو بیٹھی تھیں اور اب جہاں جانا تھا وہاں بغیر جوتے کے جا نہیں سکتی تھیں۔ ان کے سفر میں جوتے کبھی آڑے نہیں آئے۔ کوئی چیز ان کی راہ میں حائل نہیں ہوئی۔
نہ جانے وہ کیا سوچتا ہو گا کہ گیارہ برس کے ساتھ ( 1976۔۔۔1987) میں کون خوش قسمت رہا اورکون بدقسمت، کس نے
کیا کھویا اور کس نے کیا پایا۔ ہم سفر " ڈاکٹر نصیر علی " کے ساتھ ۔۔۔۔
بیٹے 'مراد علی (1978) 'کے ساتھ
"اللہ پاک پروین شاکر کی ابدی دنیا کی منزلیں آسان کرے "
" پروین شاکر کی اپنی پسندیدہ غزل "
یارب! مرے سکوت کو نغمہ سرائی دے
زخمِ ہُنر کو حوصلہ لب کشائی دے
لہجے کو جُوئے آب کی وہ نے نوائی دے
دُنیا کو حرف حرف کا بہنا سنائی دے
رگ رگ میں اُس کا لمس اُترتا دکھائی دے
جو کیفیت بھی جسم کو دے ،انتہائی دے
شہرِ سخن سے رُوح کو وہ آشنائی دے
آنکھیں بھی بند رکھوں تو رستہ سجھائی دے
تخیلِ ماہتاب ہو، اظہارِ آئینہ
آنکھوں کو لفظ لفظ کا چہرہ دکھائی دے
دل کو لہو کروں تو کوئی نقش بن سکے
تو مجھ کو کربِ ذات کی سچی کمائی دے
دُکھ کے سفر میں منزلِ نایافت کُچھ نہ ہو
زخمِ جگر سے زخمِ ہُنر تک رسائی دے
میں عشق کائنات میں زنجیر ہو سکوں
مجھ کو حصارِ ذات کے شہر سے رہائی دے
پہروں کی تشنگی پہ بھی ثابت قدم رہوں
دشتِ بلا میں، رُوح مجھے کربلائی دے
"آخری ٹی وی مشاعرے ( پی ٹی وی) میں پروین شاکر نے یہ دو غزلیں پڑھیں"
٭بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے
یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے ،اس خاک سے ہے
خواب میں بھی تجھے بھولوں تو روا رکھ مجھ سے
وہ رویہ جو ہوا کا خس و خاشاک سے ہے
بزم انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے
اور میری ساری فضیلت اسی خاک سے ہے
اتنی روشن ہے تیری صبح کہ ہوتا ہے گماں
یہ اجالا تو کسی دیدہ نمناک سے ہے
ہاتھ تو کاٹ دیئے کوزہ گروں کے ہم نے
معجزے کی وہی امید مگر چاک سے ہے 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭بابِ حیرت سے مجھے اِذنِ سفر ہونے کو ہے
تہنیت اَے دِل کہ اَب دیوار دَر ہونے کو ہے
کھول دیں زنجیرِ دَر حوض کو خالی کریں
زندگی کے باغ میں اب سہ پہر ہونے کو ہے
موت کی آہٹ سنائی دے رہی ہے دِل میں کیوں
کیا محّبت سے بہت خالی یہ گھر ہونے کو ہے
گردِ راہ بن کر کوئی حاصل سفر کا ہو گیا
خاک میں مل کر کوئی لعل و گہر ہونے کو ہے
اک چمک سی تو نظر آئی ہے اپنی خاک میں
مجھ پہ بھی شاید توجہ کی نظر ہونے کو ہے
گمشُدہ بستی مسافر لوٹ کر آتے نہیں
معجزہ ایسا مگر بارِ دگر ہونے کو ہے
رونقِ بازار محفل کم نہیں ہے آج بھی
سانحہ اس شہر میں کوئی مگر ہونے کو ہے
گھر کا سارا راستہ اس سر خوشی میں کٹ گیا
اس سے اگلے موڑ کوئی ہمسفر ہونے کو ہے
یہ خوبصورت غزل پروین شاکر کی اپنی آواز میں درج ذیل لنک میں ملاحظہ فرمائیں۔
"خوشبو کی پہلی غزل صفحہ 35"
کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے
وہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے
تیری چاہت کے بھیگے جنگلوں میں
میرا تن، مور بن کرنا جانتا ہے
مجھے ہر کیفیت میں کیوں نہ سمجھے
وہ میرے سب حوالے جانتا ہے
میں اس کی دسترس میں ہوں، مگر وہ
مجھے میری رضا سے مانگتا ہے
کسی کے دھیان میں ڈوبا ہوا دل
بہانے سے مجھے بھی ٹالتا ہے
سڑک کو چھوڑ کر چلنا پڑے گا
کہ میرے گھر کا کچا راستہ ہے
خوشبو " کی آخری غزل صفحہ 356"۔۔۔ پروین شاکر نے چوبیس سال کی عمر میں اپنی پہلی کتاب کی آخری غزل میں اپنی زندگی کے ماہ تمام کا عکس رقم کر دیا تھا۔
کیا ذکرِ برگ وبار ، یہاں پیڑ ہل چُکا
اب آئے چارہ ساز کہ جب زہر کِھل چُکا
جب سوزنِ ہوا میں پرویا ہو تارِ خوں
اے چشمِ انتظار ! ترا زخم سِل چُکا
آنکھوں پہ آج چاند نے افشاں چُنی تو کیا
تارہ سا ایک خواب تو مٹی میں مِل چُکا
آئے ہوائے زرد کہ طوفان برف کا
مٹّی کی گود کرکے ہری ، پُھول کھِل چُکا
بارش نے ریشے ریشے میں رَس بھردیا ہے اور
خوش ہے کہ یوں حسابِ کرم ہائے گِل چُکا
چُھوکر ہی آئیں منزلِ اُمید ہاتھ سے
کیا راستے سے لَوٹنا ، جب پاؤں چِھل چُکا
اُس وقت بھی خاموش رہی چشم پوش رات
جب آخری رفیق بھی دُشمن سے مِل چُکا

سوموار, نومبر 18, 2013

"وظیفہ "

"ایک خط جو کبھی پوسٹ نہیں ہوا اوراب گیارہ برس بعد پہلی بار "شائع" ہو رہا ہے"
! پیاری دوست
 بانو قدسیہ نے ایک وظیفہ آپ کو بتایا جس کے پڑھنے سے آپ کے اندرکی آگ بُجھ گئی،آپ کو قرار آ گیا۔زندگی گزارنے کا ایک وظیفہ مجھے آپ کی ذات میں ملا کہ جسے محسوس کرکے ہی میری برسوں پرانی دہکتی آگ ٹھنڈک بن گئی۔یہ ایسا وظیفہ ہے جسے میں نے چھوا نہیں اورپڑھنے کی تو نوبت ہی نہیں آئی۔یہ بیش قیمت جُزدان میں لپٹی ایسی کتاب ہے کہ جس کے پانے کے تصور نے ہی مجھے مدہوش کر دیا ہے۔
 میں جذباتی ہرگزنہیں۔دل سے محسوس کرتی ہوں لیکن دماغ کی بات کو اوّلیت دیتی ہوں۔آج تک میرا کوئی ایسا رویہ کوئی ایسا جذبہ نہیں جس کی میرے پاس دلیل نہ ہو۔ ہرانسانی رویے کے پیچھے ایک ٹھوس جوازکہیں نہ کہیں پوشیدہ ضرور ہوتا ہے۔ دل کے اس احساس کو دماغ کے پاس قبول کرنے بھیجا تو اس نے ہرطرح چھان پھٹک کی ، بہت غور کیا کہ ایسا کیا ہوا؟ کیا بات دیکھی؟ کیا ملا؟ کہ میں مالا مال ہو گئی ۔ بہت غور کیا،بہت تلاش کی تومعلوم ہوا کہ آپ نے اپنی ذات کا ایک حصہ میرے نام کر دیا ہے۔اپنی ہر چیز میں ایک ایسی جگہ دے دی ہے جہاں میں دھونی رما کربدھ بھکشوؤں کی طرح بیٹھ گئی ہوں۔ یہ خیال یہ تصور جب میرے ذہن میں آیا تو یقین کریں (حالانکہ یہ لکھنا قطعاً بے معنی ہے کیونکہ یہ آپ کا یقین ہی ہے جس نے مجھے کہاں سے کہاں پہنچا دیا ہے) میں جسمانی طورپرکانپ سی گئی مجھے مسجد ِقرطبہ میں شہاب صاحب ۔۔۔ قدرت اللہ شہاب از شہاب نامہ یاد آ گئے۔ میری روح صدیوں سےعالم ِپرواز تھی اُسے آسمان کا سفر کرنے کے لیے زمین سے آغاز کرنا تھا۔ کہیں جگہ ہی نہ تھی،تھکن تھی کہ بڑھتی جا رہی تھی ۔ آپ کی ذات ایک ایسا کمرہ ہے جہاں صرف میں ہوں اور کوئی نہیں صرف آپ کی خوشبو ہے آپ خود بھی نہیں۔ میری آنکھیں بند ہیں روح آپ کی خوشبو کے ساتھ محو ِرقص ہے۔ جب آنکھیں کھولوں آپ کو موجود پاتی ہوں۔ دیکھنے سے تسکین ملتی ہے لیکن تشنگی بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے میں گھبرا کر پھر آنکھیں بند کر لیتی ہوں اورآپ باہر سے تالا لگا کر چلی جاتی ہیں۔ یہ کیسا احسان ہے کہ جب بھی میں آنکھیں کھولنا چاہوں آپ سامنے آ جاتی ہیں چاہے کتنی ہی بےخبر کیوں نہ ہوں یا کہیں بھی چلی جائیں ۔
 آپ کو سب بتانے کا مقصد صرف اپنے محسوسا ت بیان کرنا ہے تعریف وتوصیف مراد نہیں ۔لوگ تو پتھروں،بتوں سے بھی فیض حاصل کرتے ہیں،قبروں،مزاروں پر بار بار بھی جاتے ہیں۔ بے جان چیزوں سے فلاح ،سکون مانگتے ہیں ۔ یہ شرک ہے،گناہ ِعظیم ہے۔ میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتی ۔ بس یہ سوچتی ہوں کہ دُنیا میں زندگی گزارنے کے لیے ہمیں کسی ساتھ کی ضرورت ہے کہانی آدم سے شروع ہوتی ہے۔ ہم کسی انسان کے بغیر دُنیا میں زندہ نہیں رہ سکتے۔ یہ بات میں نےسائنس کے خلاف کہہ دی ۔ زندہ رہنے کے لیے تو صرف روٹی ،پانی اور آکسیجن چاہیے نا۔ یہ درست ہے اورحقیقت بھی یہی ۔ ہزاروں بلکہ اربوں انسان اسی فارمولے کے تحت زندہ ہیں اورکامیاب بھی ہیں ۔ میں سوچتی ہوں اللہ نے انسان کو دو چیزوں کا مرکب بنایا ہے۔ایک جسم دوسری روح ۔ جسم تو سائنس کا تابع ہے لیکن روح کی کچھ اورطلب ہے دونوں الگ الگ راہ کے مسافر ہیں ۔ جسم کو اگر روٹی ،پانی ،آکسیجن نہ ملے تو مر جاتا ہے اوراگر روح کو وہ سب نہ ملے جو اُس کی خوراک ہے تو وہ مرتی تو نہیں لیکن بے قرار رہتی ہے۔ جسم کو اپنے حصے کی توانائی ضروردیتی ہے لیکن خود اپنے لیے کچھ نہیں مانگتی۔ بات تو اتنی طویل ہے کہ الفاظ ختم ہونے میں نہیں آرہے۔ قصہ مختصر یہ کہ میں نہیں چاہتی کہ آنکھیں کھولوں اورآپ کو بار بار اپنی زندگی کے قیمتی وقت کی خیرات دینی پڑے لیکن میرا دل چاہتا ہے(یہ بھی آپ نے حوصلہ دیا ہے کہ کچھ کہہ سکوں)کہ اس کمرے کو اپنے ہاتھوں سے چھو کر محسوس کروں،اس جنت ِارضی کو محسوس کروں جومجھے عرش پر لے گئی ہے جانتی ہوں جنت جنت ہوتی ہے اُس کے لیے ہمارا جاننا یا نہ ماننا بے معنی سی بات ہے۔ میں خواہشیں نہیں پالتی کہ اگر ہماری ہرخواہش دعا بن کر قبول ہو جائے تو شاید ہمارے حق میں اچھا نہ ہو۔
تمہاری نورین
اٹھارہ دسمبر 2002  
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
! دوست کا جواب 
بےحد پیاری نورین ۔۔۔۔
 جس سنگاسنگ پر تم مجھے بٹھا رہی ہو میں ہر گز ہر گز اس قابل نہیں ۔یہ صرف تمہارا حُسن ِظرف ہے کہ مجھے اس قابل سمجھا کہ"میں بھی 'کچھ' ہوں" ۔ لیکن میری درخواست ہے کہ اللہ تعالٰی نے جو حساس دل ودماغ تمہیں دے دئیے ہیں اور جس طرح تم خود 'تلاش' کے سفرپرہو۔اس کو رُکنے نہ دو۔ تم بہت خوش قسمت ہو کہ اپنے احساسات کو صفحے پر الفاظ کی صورت لکھ دیتی ہو،میں نے اس عمر تک یہ کوشش بارہا کی لیکن الفاظ ساتھ دے بھی دیتے ہیں مگر احساس ِجرات ساتھ نہیں دے پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ گول مول طریقوں سے،ڈھکےچھپے الفاظ سے دل ودماغ ہلکا کرلیتی تھی یا ۔۔۔۔۔ ہوں ۔ بس میری شدید خواہش ہے کہ تم اپنی حساس طبیعت کے تحت اتنا اچھا لکھ لیتی ہو تو کیوں نہ اچھے افسانے لکھو تا کہ کسی طرح تمہیں آؤٹ پُٹ ملے۔ جذبات کا نکاس روح کو کافی حد تک ہلکا پھلکا کرڈالتا ہے۔ تم نے عمر کے اس دورمیں قدم رکھا ہے جہاں سے زندگی اب صحیح معنوں میں شروع ہوتی ہے۔اس سے پہلے کا دورتو امیچوراورپھر پچاس کے بعد کا دور ناطاقتی کا دورہو گا۔ اس گولڈن دورمیں جسمانی اور روحانی طاقتوں کو اپنی ذات کے اندر بیلنس کرو کہ تمہارے جیسے لوگ کم ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالٰی تمہارے لیے آسانیاں عطا کرے اورکرے گا کیوں کہ تم دوسروں کو آسانیاں مہیا کر رہی ہو۔
تمہاری ہمدم وہمراز
بارہ جنوری۔2003

" ایک عورت ہزارداستان "

دُنیا کے بالا خانے میں قسمت کی دُکان سجائے خواہشوں کے ہارسنگھار کیے۔۔۔راہ چلتے  مرد کی دسترس سے دور لیکن اُس کی   نگاہ کے دائرے میں  گردش کرتا  عورت کا ایک ایسا  روپ  بھی ہے جو ہر رشتے،ہر احساس،ہر تعلق  میں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طرح اُسے اپنی اوقات یاد دلاتا رہتا ہے۔
وہ لفظ جو منہ پر کہہ دیا جائے تو گالی ۔۔۔برتا جائے تو چند گھڑیوں کی پھلجھڑی ،گناہ ِبےلذت۔۔۔
کسی بڑے لکھاری کے قلم سے لکھا جائے تو اُس کےدُنیا سے جانے کے بعد کلاسیک ورنہ اُس کے سامنے فحش،قابلِ تعزیر۔۔۔
عام عورت کی زبان سے ادا ہو تو بےباکی۔۔۔عام عورت کے قلم سے محسوس کیا جائےتو اندر کی گھٹن۔۔۔
سنجیدہ نویس کے لیے معاشرتی برائی۔۔۔صحافی کی تحقیق سے سمجھا جائے تو چسکہ۔۔۔
اُس خاص" عورت کے وجود سے جھلکے تو بےشرمی۔۔۔"
دُنیا دار کے احساس کو چھو جائے تو مال ِمفت دل ِبےرحم۔۔۔دین دار کے لیے مردار کی بُو سے بھی بدتر۔۔۔
جوان دولت مند کے لیے ہوس ،عیاشی۔۔۔عمررسیدہ دولت مند کے لیے خطرے کا سائرن۔۔۔
غریب کے لیے طلب تو جہاں دیدہ کے لیے ماضی کی یادیں۔۔۔
مُقتدر حلقوں کے لیے بہتی گنگا تو ایوان ِاقتدار کے کارپردازوں کے لیے ثقافت کی جاذب نظر پیکنگ۔۔۔
استحصال شدہ معاشرے میں مرد سے پڑھی لکھی عورت کا انتقام۔۔۔
جبر کی چکی میں پستی عورت کی مجبوری یا تقدیر کا ایک کریہہ وار۔۔۔
بدنصیب عورت کا نصیب خواہ وہ جنم جلی ہو یا کسی اورکے گلشن کی کلی۔۔۔
خاتون ِخانہ کے خواب وخیال سے بھی کوسوں دور تو شمع محفل کے شب وروز کی کہی ان کہی داستاں۔۔۔
سچی محبت کی تلاش میں ماری عورت کے لیے سراب ِصحرا۔۔۔جھوٹی محبتوں کاغازہ لگائےتونابینا کر دینے والی چکاچوند۔۔۔
۔"غلطی"سے ماں جیسے مقدس رشتے سے آشنا ہو جائے تو آنے والی نسل کے لیے کلنک کا ٹیکہ۔جان بوجھ کر اولاد کی متمنی ہو تو اپنی جیسی جنس کی طالب اوراگر من چاہی جنس جنم دے لے تو میلہ چراغاں ورنہ نرالا دستور کہ رہتی دُنیا تک بےننگ ونام۔۔۔
اپنے آپ کی صحیح بولی لگانے کا ہنر جان لے تو کامیاب ترین "کاروباری"عورت۔۔۔
توبہ کے پانی سے غسل کرے تو آسمان چھو لے،بھٹکے ہوؤں کے لیے سنگ ِمیل بن جائے،بڑے بڑوں کو پار لگا دے۔۔۔
خودآگہی کے احساس کی انتہا کو چھو لے تو ٹھنڈے کمرے میں آتش فشاں بھڑکا دے اور گرم کمرے میں جامد گلیشئیر بن کر زمانوں کے لیے 'ممی' کی صورت حنوط ہو جائے۔ ۔۔
کیا ہے یہ عورت ؟ کیوں ہے یہ عورت ؟ کون ہے یہ عورت ؟
یہ عورت کا کون سا روپ ہے کہ نہ چاہتے ہوئے نہ مانتے ہوئے ہر احساس میں کہیں نہ کہیں یوں چپکے سے درآتی ہے جیسے ہنستی بستی جنت میں شیطان سانپ کا روپ دھار کر داخل ہوا تھا اور پھر نہ بستی رہی نہ جنت ۔ گریہ ہی بچا تھا اور یا پھرسانپ جو آج تک کبھی خواب کبھی خیال میں آکر اُسی طرح چُپکے سے اس دُنیا سے بھی دربدر کرانے کی خو میں ہے۔
! آخری بات

عورت صرف عورت ہے اگر اُس کو اپنی پہچان کا علم عطا ہو جائے تو نسلیں سنور جاتی ہیں ورنہ بےخبری اور قناعت کی اعلیٰ ڈگریاں آراستہ پیراستہ محل ہی بنا سکتی ہیں اورعورت کا جسم اس شان وشوکت میں مٹی کی قبربن کر دوسروں کے لیے محبت وعقیدت کی چادریں چڑھانے کا سزاوارتو ہو سکتا ہے لیکن اپنے لیے وہ پیوند ِخاک ہی رہتی ہے۔

"سوال"

"دھوپ چھاؤں "
وہ سردیوں کی دھوپ تھی اور وہ برف کا آدمی ۔ عجیب تضاد تھا یہ بھی کہ دھوپ کے اندر گلیشئیر کی سی ٹھنڈک منجمد رہتی اور اُس برف چہرے کے اندر آتش فشاں دہکتا تھا ۔ قربت کے لمحوں میں کبھی دھوپ برف کو پگھلانے لگتی تو کبھی بھٹی کی تپش صدیوں کی جمی برف پر اپنے نقش چھوڑ دیتی۔ نہ چاہتے ہوئے نہ مانتے ہوئے بھی وہ ایک ڈور میں بندھ گئےوہ جس کے سرے ازل تا ابد پھیلے تھے پر نظر نہ آتے تھے۔جتنی شدّت سے آگے بڑھتے اُتنی ہی تیزی سے دُور ہونے لگتے ۔بےخبر! نہیں جانتے تھےکہ دھوپ ڈھل گئی تو اندر کی آگ برف پگھلا ڈالے گی اورپھرکچھ باقی نہ بچے گا نہ برف نہ تپش اور نہ وجود۔ اور گلیشئیر پر جب تک قدم نہ اُتریں اُس کو سہج سہج فتح نہ کیا جائے تو اُس کی دھوپ چاندنی سب رائیگاں ہے۔
وہ بہت سوال کرتا تھا اورباربار دہراتا تھا۔ جب جواب نہ ملتا تو خفا ہو جاتا۔ کبھی کہتا ٹال دیتی ہوں،کبھی کہتا کہ سمجھتی نہیں،کبھی کہتا تمہیں کب پروا ہے کسی کی.کبھی کہتا کہ خودغرض ہو بس اپنی کہتی رہتی ہو۔ جب بہت تھک جاتا تو خاموش ہو جاتا کچھ نہ کہتا نہ سوال نہ جواب بس ایک سرد گلیشئیر جس کے اندرآتش فشاں دہکتا تھا۔
اُسے کیسے بتاتی کہ یہ حاضر جوابی کا کھیل نہیں کہ دوسرے کو نیچا دکھانا مقصود ہو۔ یہ مقابلے کا امتحان بھی نہیں تھا کہ پاس ہو کر کسی بڑے عہدے کی طلب ہو اورپھر حسب ِخواہش تعیناتی کا ارمان بھی۔یہ انا کی جنگ بھی نہ تھی کہ کسی فریق کے ہارنے کا خوف ہو۔ وہ سارے جواب جانتی تھی جواب دیتی بھی تھی لیکن اُس کے سامنے نہیں اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں بلکہ اُس کے ساتھ ،اُس کے پاس،اُسے محسوس کر کے آنکھیں بند کر کے سب کہہ دیتی اور وہ سُنے جاتا یوں جیسے کوئی رم جھم قطرہ قطرہ اُس کے تپتے صحرا میں جذب ہو رہی ہو۔ ساری تشنگی اپنے اندر سمیٹ رہی ہو۔ وہ پانے کی لذت میں سب بھلا دیتا۔ سوال جواب گلے شکوے۔ یکدم وقت گھڑی اُس کے اندرشورمچاتی سارے وجود کا احاطہ کر لیتی تو وہ فوم کا گڈا پھر پتھر بن جاتا۔ سوال جواب کے اس کھیل میں جانے کیوں وہ تھکنے لگی تھی۔وہ اسے سمجھا کر بھی نہ سمجھا پا رہی تھی کہ جب دوست کہہ دیا تو پھر کیسے سوال کہاں کے جواب۔۔۔دوست کو کسی امتحان میں نہ ڈالو،فیل ہو گیا تو وہ ہار جائے گا اور پاس ہو گیا تو تم ہار جاؤ گے۔

جمعہ, نومبر 15, 2013

" لاپتہ "

یہ دو بچیوں کی کہانی ہے جن میں کچھ بھی مشترک نہیں سوائے شناخت کی تلاش کے۔ایک  جسے کسی بدبخت  کینظر کھا گئی اور دوسری وہ جسے پیدائش کے چند گھنٹوں بعد ماں باپ نے اپنی رضا سے ہمیشہ کے لیے کسی انجان کے سپرد کر دیا جس سے انسانیت کے علاوہ اور کوئی رشتہ نہ تھا۔ 
 وہ ڈھائی سال کی ایک پیاری سی گول مٹول بچی تھی جسے جھیل کنارے اُمنڈتی گرد وغبارکی گھٹائیں نہ جانے کہاں سے کہاں لےگئیں۔وہ پہلی اولاد تھی ،نئے نئے بنے ماں باپ کی پہلی خوشی ۔۔۔ پہلا بچہ  پہلی محبت کی طرح ہوتا ہے جس کے اوّلین لمس کا احساس ساری زندگی ساتھ چلتا ہے۔جس کے ننھے جسم کی نرمی بڑے بڑوں کی کرختگی  جذب کر لیتی ہے تو اُس کی پہلی آواز، پہلا جملہ روح سرشار کر دیتا ہے۔
یہ جون2013 کے پہلے ہفتے کا ذکر ہے وہ اپنی لاڈلی کے ساتھ گھر سے دور لانگ ڈرائیو پرتھے۔ راستے میں خیال آیا کہ کیوں نہ آج راول جھیل کنارے کچھ وقت گزارا جائے۔ شادی کے آٹھ برس بعد اُن کے سُونے آنگن میں ایک ننھی پری کی چہکار سنائی دی تھی اوروہ پچھلے کئی سالوں کے ان کہے خدشات بھلا کراُس کی نازبرداریاں کرتے تھے۔
ابھی تو اس نے اٹک اٹک کر بولنا سیکھا تھا ۔۔۔ابھی تو وہ چھوٹے چھوٹے لفظوں کو جملوں میں تراشتی تھی ۔۔۔ابھی تو وہ اُڑتے پرندوں کو دیکھ کر انگلی سے اشارہ کرتی تھی ۔۔۔ ابھی تواس کی چھوٹی چھوٹی فرمائشیں اور ننھے ننھے نخرے شروع ہوئے تھے ۔۔۔ ابھی تو ماں باپ نے اُس کی شرارتوں پر ہلکا سا جھنجھلانا شروع کیا تھا ۔۔۔ ابھی تو وہ اُس کی معصومیت کے خمار سے نظر بچاتے اُسے اچھی باتیں یاد کراتے تھےاور رات  سونے سے پہلے اُس کے ٹوٹے پھوٹے لہجے میں دعائیں سن کر بےساختہ اپنے ساتھ لپٹانے کو لڑپڑتے۔اکثر ماں خود ہار مان لیتی باپ کی محبت دیکھ کر ۔۔۔۔
 باپ کی چاہت ہی ایسی ہوتی ہے بھرپور،مکمل ۔۔۔۔ یا شاید یہ مرد عورت کا رشتہ ہے اس کی کشش ہے جو روزِاول سے لکھ دی گئی ہے اسی لیے تو ماں کے وجود کا حصہ ہو کربھی بیٹی کو کبھی مکمل تسکین نہیں مل پاتی۔
ماں کے ساتھ عجیب محبت نفرت کا رشتہ ہوتا ہے۔ بیٹی کو ماں کی ممتا کاثبوت خود اپنے وجود سے ہٹ کرکبھی نہیں ملتا۔ ماں کے ساتھ جُڑی روک ٹوک ،ڈانٹ ڈپٹ اورمار پیٹ تک کی یادیں ایک بھیانک خواب کی صورت ماں کی حقیقت پر پردہ ڈالے رہتی ہیں۔ایک لڑکی خواہ  جتنا  بھی اپنی ماں سے محبت کے دعوے کرے، خود ماں بن کرماں کے جذبات کی گہرائیوں کو سمجھنے کا اعلان بھی کر دے لیکن  ماں کے سامنے دل میں اُس سے خفا خفا سی رہتی ہے کہ ماں اسے دُنیا کے سامنے سر اُٹھا کر چلنے کا اعتماد نہیں دیتی۔۔۔اُس کی ذات پر شک کرتی ہے۔
 ماں بیٹی کے اس احساس کوکبھی نہیں جھٹلاتی۔وہ جانتی ہے کہ لڑکیاں کانچ کے برتن سے بھی نازک ہوتی ہیں۔رویوں کے کھردرے لمس کا بال بھی اس شیشے میں خراش ڈال سکتا ہے۔ماں روکتی تو ہے پرچاہتی بھی ہےکہ بیٹی اپنا راستہ خود چُنے،آپ طے کرے کہ بند گلی کس سمت ہے۔ایک بچی ماں کے خواب کا عکس ہوتی ہے۔ ماں اپنے خواب کی حقیقت جانتی ہے لیکن پھر بھی اُس کا دل اپنے خواب کی سچی تعبیر کے لیے ہمکتا ہے۔ ماں کے ساتھ تخلیق کے درد کا رشتہ آخری سانس تک لاشعور میں لہروں کی صورت موجود رہتا ہے۔ اور باپ کے جسم کا ادھورا احساس ساری عمراپنے ملنے والے ہر رشتے میں محسوس ہوتا ہے چاہے وہ بھائی ہو،شوہر ہو،بیٹا ہو اوریا پھرکوئی اجنبی مہربان۔ 
 بات کہیں بہت دور چلی گئی ۔ خیر اُس روز جب وہ جھیل کے آس پاس خوش گپیاں کرتے لوگوں کو دیکھتے اسےاپنی زندگی کا حسین دن تصور کرتے تھے۔ نہیں جانتے تھے کہ یہ اُن کی زندگی کا بدترین دن ہو گا۔اس سمے اُٹھتی کالی آندھی ہمیشہ کے لیے اُن کی محبتوں کا باغ ویران کر دےگی ۔ اذان کی آواز رب کا بلاوا ہے کہ فلاح کی طرف آؤ اور عصر کا وقت تو ویسے بہت سے نافرمانوں کو سر جھکانے پر مجبور کر دیتا ہے۔اُس روز تقدیر اپنی چال چل رہی تھی ۔ماں بیٹی کو باپ کے حوالے کر کے وضو کرنے گئی اورعین اسی لمحے صورِاسرافیل کی صورت فون کی گھنٹی بجی۔یہ موبائل فون ایک عذاب ہے۔انسان خود کو کسی سُپر پاور کے صدر سے کم نہیں سمجھتا کہ گھنٹی بجتے ہی فوراً نہ اُٹھایا تو شاید حریف پہلے ایٹمی دھماکا نہ کر دے۔ ہم میں سے اکثر اسی خبط میں مبتلا ہیں کہ جانے دوسری طرف کس کا ضروری فون آیا ہے اور ستم یہ کہ کان سے لگاتے ہی دنیا مافیہا سے بےخبر ہو جاتے ہیں۔اُس روز بھی یہی ہوا نہ جانے کس کا فون تھا کتنی لمبی بات ہوئی ۔آنکھ اس وقت کھلی جب ماں نے واپس آ کر بیٹی کو نہ پایا ۔ باپ سے پوچھا تو اس نے پہلے تو بےنیازی سے کہا کہ میں سمجھا کہ تمہارے ساتھ چلی گئی ہے۔ اوراگلے ہی لمحے دونوں کے ہاتھوں سے طوطے اُڑ گئے۔
 عین اسی وقت سچ مچ کی آندھی چل پڑی اوردیکھتے ہی دیکھتے سب اپنی سواریوں میں بیٹھےاور بھاگنے لگے۔عجیب افراتفری کا عالم تھا ۔ شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔لوگ زندگی بچا کر خوشیوں کے دسترخوان لپیٹ کر بخیریت گھروں کو لوٹ رہے تھے اور یہ بدنصیب پاگلوں کی طرح ادھر ادھر بھاگتے راہ چلتوں کو روک کر اپنی جنت تلاش کر رہے تھے۔
کیسی شام ِغریباں تھی جو اُن بہتے پانیوں کے کربلا پراُتری تھی ۔۔۔ وہ کیسی وضو تھی کہ جس کی نماز نہیں تھی ؟۔۔۔ وہ کیسی آواز تھی کہ جس نےآنگن سونا کر دیا تھا۔۔۔ وہ کیسی لاپرواہی تھی کہ جس نے اُسی شاخ پر ضرب لگائی جس پر تنکا تنکا آشیانہ بنا تھا۔۔۔ وہ کیسا گناہ تھا کہ جس کی ندامت میں دونوں ایک دوسرے سے آنکھیں نہیں ملا رہے تھے۔۔۔ وہ کیسی خلش تھی کہ جو آنے والی راتوں میں انہیں ایک دوسرے سے یوں ڈرا دیتی تھی کہ دل کی دھڑکن بھی کہیں ایک دوسرے کی سرگوشی نہ سن لے۔۔۔ وہ کیسی بددعا تھی جو اُن کے دل سے نکلتی تھی تو لبوں تک آتے آتے دعا کی صورت اُن کا جگر چیر دیتی تھی۔۔۔
وہ جس کی آمد کی نوید کے لیے آٹھ برس انتظار کیا اب جیسےجیسے دن گزرتے جا رہے تھے کبھی معجزے کی صورت واپسی کی اُمید رکھتے تو کبھی حقیقت تسلیم کرتے ہوئے اپنے آپ سے بچ کر اُس کی عزت کی موت کی دعا مانگتے۔اُس آنگن کی کلی کیا کھوئی کہ جب اُس کی خوشبو کو باہر تلاش کیا تو پتہ چلا کہ دُنیا کے گندے بازاروں میں کچی کلیوں کو کس طرح مسلا جاتا ہے۔ آٹھ برس کی جامد خاموشی کے بعد ابھی صرف ڈھائی سال ہی تو نازک جذبوں کی پھوار برسی تھی اوراب دونوں طرف سنی سنائی باتوں کے خوف اوربولتی تصویروں نے مل کر ایسا حبس طاری کر دیا تھا کہ ساتھ رہتے ہوئے بھی وہ کوسوں دور چلے گئے۔ وہ مرد تھا اس نےباہرپناہ ڈھونڈ لی۔ فکرِمعاش کا لبادہ اُوڑھ لیا۔آنکھوں میں تیرتی نمی چھپائےدُنیا کا سامنا کرتا تھا ۔ خالی کمروں اوراُجڑی گود کے ساتھ ماں نے اللہ سے لو لگا لی ۔ صبروشکراور تسلیم ورضا کی چنری پہن کراعتکاف میں بیٹھی ۔ نہ جانے مالک نے کیسے اُس کے دل کو تسکین بخشی ہو گی۔۔۔ ہم نہیں جان سکتے۔ لفظوں کی چاہے جتنی مرضی کاری گری دکھا دیں،مالک اور بندے کےدرمیان رازونیازکی خوشبو بھی نہیں پا سکتے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں فرشتوں کے بھی پرجلتے ہیں ہم توعام انسان ہیں۔
 ایک کہانی اگر سب کے سامنے اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں غم کی سیاہی سے لکھی جارہی تھی تو دوسری طرف ایک کہانی ایک ماں کی کوکھ میں بھی پروان چڑھ رہی تھی ۔ وہ ماں جس کی دو معصوم سی بیٹیاں تھیں اوراب پھر اُمید کے غنچے اس کی شاخوں پر کھلتے تھے۔
یہ اس سال بڑی عید (اکتوبر2013) سے ایک دو روز پہلے کی بات ہےجب تین سو کلو میٹر کی دوری سے فون آیا کہ ابھی آؤ اور اپنی امانت لے جاؤ۔ یہ کیسا حساب تھا کیسی دوستی تھی کہ ایک ماں جس کی چھاتیوں میں ابھی تو بچے کی محبت کا رس بننا شروع ہی ہوا تھا ۔ ابھی تو وہ درد وتکلیف کے مرحلے سےبخیروعافیت سُرخرو ہو کر نیند کے انعام کی حقدار ٹھہری تھی ۔ابھی تو اس نے اپنے آپ کو تیار کرنا تھا کہ تیسری بیٹی پیدا ہونا کوئی جرم نہیں۔اللہ نے صحت کے ساتھ اپنی رحمت اُن کے گھر آنگن میں اتاری ہے۔ لیکن شاید اپنی دوست کے کرب کا احساس ہر احساس پرغالب آگیا اور اُس باپ پر بھی آفرین جس نے اپنی شریک ِحیات کی خواہش کو عبادت جان کر اپنا جگرگوشہ اُس لٹے پٹے جوڑے کے حوالے کر دیا جو اُسے اپنا کھویا ہوا خزانہ جان کر دامن میں سمیٹ کر لوٹ آئے۔
 اس سے آگے کچھ نہیں کہوں گی کہ تقدیر کے قلم کے آگے لفظوں کی بڑی سے بڑی فسوں کاری دم توڑ دیتی ہے۔ اللہ اس گھر کو آباد رکھے اور یکے بعد دیگرے آزمائشوں کے اس کھیل میں ثابت قدمی عطا فرمائے۔آمین۔
نومبر15 ،2013

سوموار, نومبر 11, 2013

"اُمتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم"

   "اُمتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم"
نبی کریم ﷺ کی اُمت دوسری تمام اُمتوں سے افضل ہے۔ سب سے 
افضل اُمتی وہ ہیں ۔۔۔۔۔ 
 جنہوں نے حضورﷺ کو دیکھا اورآپﷺ پرایمان لائے ،آپﷺ کی تصدیق کی ،آپﷺ سے بیعت کی ۔ آپﷺ کے ساتھ کُفار سے لڑے،آپﷺ کی عزت کی ،مدد کی ، اپنی جان اپنا مال آپﷺ کے لیے (راہ ِحق) میں صرف کردیا۔
ان سے بہتر 1400 ۔۔۔۔۔۔
 اس زمانہ کے لوگوں میں زیادہ افضل وہ ہیں جنہوں نے حُدیبیہ میں حضورﷺ کے دستِ مبارک پر بیعت کی جسے
بیعتِ رضوان کہتے ہیں۔ یہ چودہ سو افراد تھے۔
ان سے بہتر 313۔۔۔۔۔۔۔
اہلِ حُدیبیہ سے بہتر اصحاب ِبدر ہیں جن کی تعداد 313 تھی اور اصحاب ِطالوت کے برابر ہیں۔
ان سے بہتر 40 ۔۔۔۔۔۔۔
ان سے بہتردارِخیزران کے چالیس مرد ہیں جو حضرت عمررضی اللہ عنہ کے ساتھ اسلام لائے تھے۔
ان سے بہتر دس ۔۔۔۔۔۔۔
 ان سے افضل دس وہ ہیں جن کے بارے میں نبی کریمﷺ نے گواہی دی کہ یہ قطعی بہشتی ہیں۔ ان میں
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔ 
حضرت عمررضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔ 
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔ 
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔
حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔
حضرت سعد رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔
حضرت سعید رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔
حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔۔
ان سے بہتر چار ۔۔۔۔۔
چاروں خلفاء راشدین سب سے زیادہ نیکو کار اور افضل ہیں۔ مراتب کے لحاظ سے سب سے پہلے 
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ
پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ
اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ آتے ہیں۔

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...