بدھ, دسمبر 25, 2013

" ہیرا منڈی سے ہیرے تک "

٭ہیرا منڈیوں میں بکنے لگے تو واقعی کوڑیوں کے مول ہی بکتا ہے۔منڈی میں صرف بولی لگتی ہے جو جتنی بڑی بولی لگائے گا ۔۔۔جنس اُس کے حوالے۔ 
 ٭منڈی چاہے ہیروں کی ہو سبزیوں کی اور یا پھرقربانی کےجانوروں  کی فصلی منڈی ۔۔۔سودا  ہمیشہ مرد ہی کرتا ہے۔
٭جو ہیرا تاج میں نہیں لگ سکتا وہ منڈی کی زینت بن جاتا ہے۔
٭ہیرے کی قدر جانچنے پرکھنے سے ہوتی ہے تاج میں لگانے سے نہیں۔ تاج میں لگ جائے تو تاج کی قدر ہے ہیرے کی نہیں۔
٭ہیرا جب تک خود اپنی قدر نہ جانے وہ ہیرا کہلانے کا حقدار  نہیں۔ اپنی نظر میں اپنی قیمت کی پہچان ہونا اہم ہے ورنہ عام طور پر پتھر اپنے آپ کو ہیرا سمجھنے کے زعم میں مبتلا ملتے ہیں تو ہیرے اپنی ناقدری کا گلہ کرتے۔ پتھر کبھی ہیرا نہیں بن سکتا اور ہیرا ہمیشہ ہیرا ہی رہتا ہے۔۔۔ ظاہری تراش صرف ظاہر کو ہی متاثر کرتی ہے۔ اور کبھی وہی اس کی قیمت بھی ٹھہرتی ہے۔
٭ ہیرے کے پاس ہیرے ہی ملیں گے پتھر نہیں۔
 ہیرا منڈی ۔۔۔ ہیرے محض فریب ہیں ۔۔۔ کنچے۔۔۔ جنہیں گئے وقتوں میں بچے جیبوں میں بھرتےجاتے تھے اور والدین اس کھیل کو انتہائی ناشائستہ اور بیہودہ خیال کرتے تھے۔ انتہائی معصوم تھے اس زمانے کے بچے جو ان کنچوں کے رنگ دیکھ کر ان کی خوبصورتی اورملائمت پر فدا ہو کر پانے کی جستجو میں بےتاب رہتے تھے اوراُن سے بڑھ کرسادہ لوح اُن کے والدین تھے جو اس بےضرر سے مشغلے کو بےراہ روی جان کر لٹھ لے کرمارنے دوڑتے تھے۔
 نہیں جانتے تھے کہ آنے والے زمانوں میں دُنیا کی منڈی میں کیسے کیسے حیرت انگیز کنچے اُن کی آنکھوں کے سامنے ایک نئی دُنیا کا جادو جگائیں گے۔ جب جیب میں کنچے نہیں پیسہ بولے گا اور ہرکنچے ہیرے کا روپ دھار کر اپنی دسترس میں ہوں گے۔ پھر کوئی کسی کو روکنے ٹوکنے والا نہ ہو گا۔ یہ نیٹ کی دُنیا دورِجدید کی ہیرا منڈی ہے جہاں بولی لگتی ہے،تولا جاتا ہے۔ سودا نہ ہو بےعزت بھی کیا جاتا ہے۔اس سے تو پرانے زمانےاچھے تھے جب ہرچیزمیں رکھ رکھاؤ تھا محض اس لیے کہ برائی کو برائی جانا جاتا تھا اب تو اچھائی بھی بری نظر سے دیکھی جاتی ہے۔ سادگی اورسادہ دلی سے قطع نظر بناوٹ کا بناؤ سنگھار ہی معیارِحسن ہے کہ یہی وقت کا تقاضا ہے۔ جانے کتنے سچے موتی وقت کے سمندروں میں اپنے خول میں قید بھنور میں ڈوب جاتے ہیں۔

4 تبصرے:

  1. بڑی کڑوی سی تحریر لکھی ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. jumlon main diyanat huni chahiya aur ager kisi kay pass kisi kay likha ka chori zadasabit hu tu ossay kehnay kay bajae ref idher hi likh dena chahiya.blog ka maqsad hi yeahi keah saaf goi samnay rahy,, chay sirf ilzam trashi :)

    جواب دیںحذف کریں
  3. شکریہ میجر صابر شاہ! آپ نے غیر جانبداری سے اپنے رائے کا اظہار کیا

    جواب دیںحذف کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...