بدھ, اگست 30, 2017

"اعجازِسورۃ قرانی"

سورہ الزمر(40)۔آیت27۔ترجمہ۔"اور ہم نے لوگوں کے لیے اس قرآن میں ہر قسم کی مثال بیان کر دی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں"۔
تلاوتِ قران پاک کے لیے قران پاک کی آیات کو سورتوں ، پاروں اورمنازل  میں تقسیم کیا گیا ہے۔
"منازلِ قران پاک" 
٭قرآن کریم کی پہلی منزل سورۂ الفاتحہ(1) سے سورۂ النساء (4)تک ہے۔ جس میں  چار سورتیں، پچاسی(85) رکوع اور چھ سو انہتر(669) آیات ہیں۔
۔۔۔
٭قرآن کریم کی دوسری منزل سورۂ المائدہ (5)سے سورۂ التوبہ  (9)تک ہے جس  میں پانچ سورتیں، چھیاسی(86) رکوع اور چھ سو پچانوے (695)آیات ہیں۔
۔۔۔
٭قرآن کریم کی تیسری منزل  سورۂ یونس (10)سے سورۂ النحل(16) تک ہے جس میں سات سورتیں، اڑسٹھ(68) رکوع اور چھ سو پینسٹھ (665)آیات ہیں۔
۔۔۔
٭قرآن کریم کی چوتھی منزل  سورۂ بنی اسرائیل(17) سے سورۂ فرقان (25)تک ہے جس میں نو سورتیں، چھہتر (76)کوع اور نو سو تین(903) آیات ہیں۔
۔۔۔
٭قرآن کریم کی پانچویں منزل  سورۂ الشعراء (26)سے سورۂ یٰس(36)  تک ہے جس میں گیارہ سورتیں، بہتر رکوع(72) اور آٹھ سو چھپن(856) آیات ہیں۔
۔۔۔
٭قرآن کریم کی چھٹی منزل سورۂ  الصّٰفٰت (37)سے سورۂ الحجرات(49) تک ہے جس  میں  تیرہ سورتیں، انہتر (69)رکوع اور اور آٹھ سو ستاسی (887)آیات ہیں۔
۔۔۔
٭قرآن کریم کی ساتویں منزل  سورۂ ق (50) سے سورۂ الناس (114)تک ہے جس میں پینسٹھ(65) سورتیں، ایک سو دو رکوع(102) اور ایک ہزار پانچ سو اکسٹھ (1561)آیات ہیں
۔۔۔۔
٭قرآن کریم کا سب سے بڑا پارہ تیسواں پارہ ہے جس میں سینتیس سورتیں (37)، انتالیس رکوع(39) اور پانچ سو چونسٹھ (564)آیات ہیں۔
۔۔۔
٭قرآن کریم کا سب سے چھوٹا پارہ چھٹا پارہ ہے جس میں ایک سو گیارہ(111) آیات ہیں۔
۔۔۔
٭قرآن کریم کی سب سے بڑی سورة البقرہ(2) ہے جس کی دو سو چھیاسی(286) آیات  اور چالیس(40) رکوع ہیں۔
۔۔۔
٭قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سورہ سورة الکوثر(108) ہے جس کی تین آیات ہیں۔
۔۔۔
٭سورة الاخلاص(112) تہائی قرآن ہے جبکہ سورة الکافرون(109) اور سورة زلزال(99) چوتھائی قرآن ہے۔(ترمذی)۔
۔۔۔
٭قران پاک میں موجود 114سورتوں کو تنزیل کے اعتبار سے مکی اور مدنی میں تقسیم کیا گیا ہے۔سورتوں میں 35 سورتیں ایسی ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ دوبار نازل ہوئیں ہیں ایک بار مکہ میں اور ایک بار مدینہ میں جیسے سورہ رحمن، سورہ رعد، سورہ زلزال وغیرہ۔
۔۔۔۔۔۔
٭قرآن کریم کے دوسرے پارے  (سَيَقُولُ السُّفَہاء) اور پانچویں پارے (والمحصنٰت)  میں نہ کسی سورت کی ابتداء ہے اور نہ ہی انتہا۔
۔۔۔
٭قرآن پاک کی  3سورتوں میں تین تین آیات ہیں ۔
سورہ العصر(103)۔
سورہ الکوثر(108)۔
سورہ النصر(110)۔
۔۔۔
٭قران پاک میں دو ایسی سورۂ ہیں جو تین پاروں میں شامل ہیں۔
٭1) سورۂ بقرۂ(2)۔۔۔۔ جو پہلے پارے سے شروع ہوتی ہے اور تیسرے پارے میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔
٭2)سورۂ النساء(4)۔۔۔جو پارہ چار سے شروع ہوتی ہے اور پارہ  چھ  میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔
۔۔۔
٭قرآن کریم کے آٹھ پارے ایک نئی سورہ سے شروع ہوتے ہیں۔
٭1)پارہ 1۔۔۔سورۂ الفاتحہ۔سورۂ البقرہ
٭2) پارہ 15۔۔سورۂ بنی اسرائیل(17)۔
٭3)پارہ17۔۔۔سورۂ الانبیاء(21)۔
٭4) پارۂ 18۔۔ سورۂ المومنون (23)۔
٭5)پارہ26۔۔سورۂ الاحقاف(46)۔
٭6)پارہ28۔سورۂ المجادلہ(58)۔
٭7)پارہ 29۔۔سورۂ الملک(67)۔
٭8) پارہ 30۔سورۂ النبا(78)۔
۔۔۔
٭ سورہ النمل(27) کے دو رکوع ہیں۔ایک رکوع مکہ معظمہ میں اور دوسرا رکوع دس سال بعد مدینہ منورہ میں نازل ہوا۔
۔۔۔
٭ سورۂ النمل (27) میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘دو مرتبہ آئی ہے۔ ایک بار ابتدا میں دوسری بار آیت (30)۔
۔۔۔
٭قرآن کریم کی  سورۂ مبارکہ سورة القمر (54)،سورة الرحمن(55) اورسورة الواقعہ(56)  میں لفظ اللہ نہیں۔
۔۔۔
٭ سورۂ توبہ (9) وہ واحد قرانی سورہ ہے جو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بغیر شروع ہوتی ہے۔
۔۔۔
٭قرآن کریم میں سب سے طویل نام والی سورت سورۂ بنی اسرائیل(17) ہے۔
۔۔۔
٭قرآن کریم کی پانچ سورتوں سورة طہٰ (20) ،سورة یٰسین(36) ،سورۂ ص (38)، سورة ق  (50) اور سورۂ القلم (68) کے نام  ان سورتوں کے پہلے لفظ  ہیں۔
۔۔۔
٭سورہ الفاتحہ کی سات آیات ہیں اور ان میں "ف" نہیں ہے۔
۔۔۔
٭ سورۃ الکوثر کی تین آیات ہیں اور ان میں "م" نہیں ہے۔
۔۔۔
٭قرآن کریم کی بارہ سورتیں ہیں جن کے نام میں کوئی نقطہ نہیں آتا۔
٭1)سورۂ المائدہ(5)۔
۔ 2)سورۂ ہود(11)۔
۔3)سورۂ الرعد(13)۔
۔4) سورۂ طٰہ(20)، ۔
۔5)سورۂ روم(30)۔
۔ 6)سورۂ ص(38)۔
۔ 7)سورۂ محمد(47)۔
۔8)سورۂ طور(52)۔
۔9)سورۂ ملک(67)۔
۔ 10)سورۂ دہر(76)۔
َ۔11)سورۂ الاعلی(87)، اور12)سورۂ عصر(103)۔
۔۔۔۔۔۔
٭قرآن کریم کی سورۂ التین (95)  کا آغاز دو پھلوں انجیر اور زیتون کے نام سے ہوا ہے۔
۔۔۔
٭قرآن کریم کی  سورۂ الاعلی(87)  کا اختتام دو نبیوں  حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسی  علیہ السلام کے نام پر ہوتا ہے۔
۔۔۔
٭قرآن کریم کی پانچ سورتوں کا آغاز الحمد سے ہوتا ہے۔
سورۂ الفاتحہ(1)،سورۂ الانعام(6)،سورۂ الکہف (18)،سورۂسبا(34)،سورۂ فاطر(35)۔
۔۔۔
٭قرآن کریم کی پانچ سورۂ مبارکہ   کا آغاز قل سے ہوتا ہے۔
سورة الجن(72)،سورة الکافرون (109)،سورة االاخلاص(112)،سورة الفلق(113)،سورة الناس (109)۔
۔۔۔
٭قرآن مجید کی اُنتیس(29)سورتوں کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے۔
 تمام سورۂ مبارکہ میں حروف  مقطعات  پہلی آیت کے طور پر ہیں۔صرف سورۃ الشوریٰ میں پہلی آیت میں  حٰمٓ اور دوسری آیت میں عٓسٓقٓ ملتا ہے۔
٭1)سورۂ البقرۂ(2) ۔الٓـمٓ۔
۔2) سورۂ  آل عمران(3) ۔الٓـمٓ ۔
۔3)سورہ  الاعراف(7)۔الٓـمٓـصٓ۔ 
۔4) سورۂیونس(10 )۔"الٓـرٰ۔
۔ 5) سورہ ہود (11) ۔"الٓـرٰ۔
۔6)سورہ  یوسف(12)۔"الٓـرٰ۔
۔7)سورۂ الرعد (13)۔الٓـمٓـرٰ ۚ۔
۔ 8)سورہ ابراہیم (14)۔الٓـرٰ۔
۔ 9) سورۂ  الحجر (15)۔ الٓـرٰ۔
۔ 10) سورۂ طہٰ (20)۔ ٰطهٰ۔
۔11)سورہ  مریم (25)۔ كٓـهٰـيٰـعٓـصٓ ۔
 ۔12)سورہ الشعراء (26)۔ٰطسٓمٓ  ۔
 ۔13) سورۂ النمل (27)۔ٰطـسٓ ۚ۔
۔ 14) سورۂ القصص(28)۔ ٰطسٓمٓ۔
۔15)سورہ العنکبوت(29)۔ الٓـمٓ۔
۔16)سورۂ الروم (30)۔ الٓـمٓ۔
۔17) سورۂ  لقمان (31)۔  الٓـمٓ ۔
۔ 18) سورۂ السجدہ (32)۔  الٓـمٓ ۔
۔19)سورۂ  یٰس(36)۔يٰـسٓ  ۔
۔20)سورۂ ص (38)۔صٓ۔
۔21)سورۂ غافر(40)۔حٰمٓ۔
۔22)سورۂ فصلت(41)۔حٰمٓ۔
۔ 23) سورۂ الشورٰی (42)۔حٰمٓ۔عٓسٓقٓ (2)۔
۔ 24) سورۂ الزخرف(43)۔حٰمٓ ۔
۔25)سورۂ  الدخان(44)۔حٰمٓ۔
۔26) سورۂ الجاثیہ (45)۔حٰمٓ۔
۔27) سورۂ  الاحقاف(46)۔حٰمٓ۔
۔28)سورۂ ق(50)۔ قٓ ۚ۔
۔29)سورۂ  القلم (68)۔نٓ ۚ۔
۔۔۔
٭چھ سورۂ مبارکہ  سورة البقرة (2)،سورة آل عمران(3) سورة العنکبوت(29)،سورة الروم(30)،سورة لقمان(31) اور سورة السجدہ(32)"الٓــمٓ" سے شروع ہوتی ہیں۔
۔۔۔
٭قرآن کریم میں دو سورتوں سورة الشعراء (26)اورسورة القصص(28) کا آغاز "طسٓمٓ  "سے ہوتا ہے۔
۔۔۔
٭قرآن کریم کی حوامیم(یعنی جن سورتوں کا آغاز "حٰمٓ"سے ہوتا ہے) وہ سات ہیں۔
سورة غافر(40)،سورة فصلت(41)،سورة الشوریٰ(42)،سورة زخرف(43)،سورة الدخان(44)،سورة الجاثیہ (45)سورة الاحقاف(46) ۔
۔۔۔
٭قرآن کریم کی پانچ سورۂ مبارکہ سورة یونس(10)سورة ہود(11)سورة یوسف(12)سورة ابراہیم(14) اورسورۂ الحجر (15)    کا آغاز"الٓـرٰ"سے ہوتا ہے۔
۔۔۔
٭قرآن کریم کی  چار سورتیں سورة الحدید(57)،سورة الحشر(59)اورسورة الصف(61) سورۂ الاعلیٰ (87)  "  سَبَّحَ "سے شروع ہوتی ہیں۔
۔۔۔
٭قرآن کریم میں دو سورتوں  سورة الجمعہ(62) اور سورة التغابن(64) کا آغاز " يُسَبِّـحُ" سے ہوتا ہے۔
۔۔۔
٭دو سورتوںسورة الفرقان(25) اورسورة الملک(67) کی ابتدا "تَبَارَكَ الَّـذِىْ" سے ہوتی ہے۔
۔۔۔
٭چار سورتوں سورة الفتح(48)،سورة نوح(71)،سورة القدر(97) اور سورة الکوثر(108)  کی ابتداء "اِنَّا" سے ہوتی ہے۔
۔۔۔
٭دو سورتیں  سورة المطفیفین(83)، سورة الھمزہ(104) کا آغاز" وَيْلٌ" سے ہوتا ہے۔
۔۔۔
٭ سات سورتیں سورۂ واقعہ56،سورۂ المنافقون63،سورۂ التکویر81،سورۂ انفطار82 ، سورۂ انشقاق84،سورۂ نصر110اور سورۂ زلزال99  ۔۔  ” اِذَا 'سے شروع ہوتی ہیں۔
۔۔۔
٭ بیس سورۂ مبارکہ  "قسم" ،"و" سے شروع ہوتی ہیں۔
سورۂ الصافات 37۔۔۔سورۂ ص 38۔۔۔سورۂ ق 50۔۔۔سورۂ الذاریات 51۔۔۔سورۂ طور 52۔۔۔سورۂ النجم 53۔۔۔سورۂ ن 68۔۔۔سورۂ القیامت 75۔۔۔ سورۂ المرسلات 77۔۔۔سورۂ النازعات79۔۔۔سورۂ البروج 85۔۔۔سورۂ الطارق86۔۔۔۔سورۂ الفجر 89۔۔۔سورۂ البلد90۔۔۔۔سورۂ الشمس 91۔۔۔سورۂ اللیل 92۔۔۔سورۂ الضحیٰ 93۔۔۔سورۂ التین 95۔۔۔سورۂ العادیات 100۔۔۔سورۂ العصر 103 ۔۔۔۔
۔۔۔
٭ فرشتوں کی صفات کے نام پر  تین سورتیں  ہیں ۔
۔1)سورہ الصافات (37)ـ 2)سورۂ المعارج(70) ـ3)سورہ المرسلات (77)،4)سورہ النازعات (79)ـ،بعض نے اس سے مراد فرشتوں کو لیا ہے ـ
۔۔۔
٭ قیامت کے نام پر یا قیامت کی خوفناکیوں کے نام پر تیرہ سورتیں آئی ہیں ـ
۔1) سورہ الدخان 44۔۔ 2)سورہ الواقعہ56 ـ۔ 3)سورہ الحشر59۔۔ 4)سورہ التغابن64۔۔ 5)سورہ الحاقہ 69۔۔ 6)سورہ قیامہ75۔۔ 7)سورہ النبا78۔۔ 8)سورہ التکویر 81ـ 9)سورہ النفطار82۔۔ 10)سورہ الانشقاق84۔۔ 13)سورہ غاشیہ 88۔۔12)سورہ الزلزال 99۔۔13)سورہ القارعہ 101ـ
۔۔۔
٭ازمان و اوقات کے نام پر آٹھ سورتیں ہیں۔
۔(1) سورہ الحج،(2) سورہ جمعہ،(3)سورہ الفجر،(4) سورہ الیل ،(5)سورہ الضحٰی، (6) سورہ القدر، (7) سورہ العصر،(8) سورہ الفلق۔
۔۔۔
٭ مقامات کے نام پر سات سورتیں ہیں۔
۔(1)سورہ اعراف 7۔
۔(2) سورہ الحجر 15۔
۔(3)سورہ الاحقاف46۔
۔(4) سورہ طور52۔
۔(5) سورہ البلد90۔
۔(6) سورہ الککوثر108۔
۔(7) سورہ التین95۔
۔۔۔۔
قرانی سورہ مبارکہ جوایک سے زیادہ ناموں سے جانی جاتی  ہیں"۔"
٭ 1)سورۂ فاتحہ(1)۔۔۔السبع المثانی (سورہ الحجر14،آیت 87)۔۔ سورۂ واجبہ۔۔اُم القران۔۔اُم الکتاب۔۔الدعا۔۔الشفا۔۔الصلوٰۃ۔۔الحمد۔۔الاساس۔۔الکنز۔۔ الشافیہ۔۔الکافیہ۔۔الوافیہ۔۔الرٰقیہ۔
٭2)سورۂ التوبہ(9)۔۔سورۂ البراءَۃ۔
٭3)سورۂ بنی اسرائیل(17) ۔۔۔۔سورۂ الاسراء۔
٭ 4)سورۂ فاطر(35)۔۔سورۂ الملائکہ۔
٭5) سورۂ یسٰین(36)۔۔قلب القران۔
٭ 6)سورۂ المومن(40)۔۔۔سورۂ ٖ غافر۔
٭7)سورۂ حٰم السجدۂ (41)۔۔ سورۂ فُصِّلَت۔
٭8)سورۂ محمد(47) ۔۔سورۂ قتال۔
٭ 9)سورۂ المجادلہ(58)۔۔۔سورۂ ظہار۔
٭10)سورۂ الطلاق(65) ۔۔نساء صغرٰی۔
٭ 11)سورۂ ملک(67)۔۔سورہ تبارک ۔۔سورۂ  مانعہ ( باز رکھنے والی)،سورۂ واقیہ (حفاظت کرنے والی) ،سورۂ  منّاعہ(بہت زيادہ باز رکھنے والی اور روکنے والی)۔
٭12)سورۂ القلم(68)۔۔۔سورۂ ن۔
٭13)سورۂ دہر(76)۔۔۔سورۂ الانسان۔
٭14)سورہ النباء (78)۔۔ سورہ تساؤل اور سورۂ عَمَّ يَتَسَاۗءَلُوْنَ۔
٭15) سورہ الزلزال(99)۔۔سورہ زلزلہ۔ 
٭16)سورۂ الکافرون(109) ۔۔ربع قران۔
٭17)سورۃ لہب(111)۔۔۔سورہ المسد۔
٭18)سورۂ اخلاص(112)۔۔سورۂ صمد۔۔سورۂ نجات۔۔سورۂ اساس۔۔سورۂ معوذۂ۔۔سورۂ تفرید۔۔سورۂ تجرید۔۔۔سورۂ جمال۔۔سورۂ ایمان۔ثلث القران(تہائی قران)۔
۔۔۔
٭"زہراوہین"۔
سورہ بقرہ (2)اور سورۃ آل عمران (3) کوزہراوہین"کہا جاتا ہے۔ 
٭"معوذتین (معوذات)"۔
سورۂ الفلق(113)،سورۂ الناس(114) کو معوذتین کہا جاتا ہے۔ یہ دونوں سورۂ مبارکہ  ایک ساتھ  نازل ہوئیں۔
٭"مسبحات"۔
قرآن میں  سورہ الاسرا(17)ء ، سورہ حدید(57) ،  سورہ الحشر(59) ،  سورہ الصف (61)،  سورہ جمعہ(62) ،  سورہ التغابن(64) اور سورہ الاعلیٰ (87)کو مسبحات کہا جاتا ہے۔
٭"حوامیم"۔
جن سورتوں کا آغاز "حٰمٓ"سے ہوتا ہے۔۔یہ سات سورۃ مبارکہ ہیں۔
سورة غافر(40)،سورة فصلت(41)،سورة الشوریٰ(42)،سورة زخرف(43)،سورة الدخان(44)،سورة الجاثیہ (45)سورة   الاحقاف(46)۔
۔۔۔
٭"السّبع الطّوالَ"۔
 سورہ الفاتحہ کے بعد والی 7 لمبی سورتوں کو "سبع الطوال" کہتے ہیں۔۔جن میں سورہ البقرہ،سورہ آلِ عمران،سورہ النسا،سورہ  المائدہ،سورہ الانعام،سورہ الاعراف،سورہ الانفال۔
۔۔۔۔
٭"المثانی"۔
قرآن کریم کی وہ سورتیں جو سو سے کم آیات والی ہیں "المثانی"کہلاتی ہیں۔
۔۔۔
٭"  المئین"۔
قرآن کی وہ سورتیں جو سو سے زیادہ آیات والی ہیں"  المئین"کہلاتی ہیں۔
۔۔۔۔
٭ "المفصّل"۔
سورہ الحجرات(49) یا  سورہ ق (50) سے سورہ الناس(114) تک کا حصہ مفصل کہلاتا ہے۔
۔۔۔
٭"العتاق الاول"۔
یہ 5 سورتیں ہیں۔۔سورہ  بنی اسرائیل(17) ،سورہ  الکھف(18) ،سورہ المریم (19)،سورہ طہ (20)،سورہ الانبیاء(21)۔   

"سجدۂ تلاوت"

قران پاک کی تلاوت کرتے ہوئے یا سنتے ہوئے پندرہ  ایسے متعین  مقامات  ہیں  جہاں رُک کر سجدہ کرنا واجب ہے۔ان میں سے چودہ  مقاماتِسجدہ تو متفق علیہ ہیں جبکہ  سورہ الحج کےدوسرےسجدے (آیت77) میں کچھ آئمہ کرام   کے نزدیک اختلاف ہے۔ ایسے تمام  پندرہ مقاماتِِ  سجدہ تلاوت  درج ذیل ہیں۔
۔۔۔
٭1) پارہ (9) "قال الملا"۔سورۂ االاعراف(7)۔۔آیت 206 ۔ترجمہ۔۔بےشک جو تمہارے رب کے ہاں (فرشتے) ہیں وہ اس کی بندگی سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاک ذات کو یاد کرتے ہیں اور اسی کو سجدہ کرتے ہیں۔
۔۔۔۔
٭2) پارہ (13)"ومااُبری"۔سورۂ الرعد (13) آیت 15۔ترجمہ۔۔اور چار و ناچار اللہ ہی کو آسمان والے اور زمین والے سجدہ کرتے ہیں اور ان کے سائے بھی صبح اور شام۔
۔۔۔۔
٭3)  پارہ (14) "ربما"۔سورۂ النحل(16)  آیت 49 ۔ترجمہ ۔۔اور جو آسمان میں ہے اور جو زمین میں ہے جانداروں سے اور فرشتے سب اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔
۔۔۔۔
٭4) پارہ (15)"سبحٰن الذی "۔سورۂ الاسراء (17) آیت 107۔(109) ۔ 
ترجمہ آیت 107۔۔کہہ دو تم اسے مانو یا نہ مانو، بے شک وہ لوگ جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب ان پر پڑھا جاتا ہے تو تھوڑیوں پر سجدہ میں گرتے ہیں۔
ترجمہ آیت 109۔۔اور تھوڑیوں پر روتے ہوئے گرتے ہیں اور ان میں عاجزی زیادہ کر دیتا ہے۔
۔۔۔۔
٭5) پارہ (16) "قال الم"۔سورۂ مریم۔(19)۔آیت 58۔ ترجمہ۔۔یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے انعام کیا پیغمبروں میں اور آدم کی اولاد میں سے، اور ان میں سے جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا، اور ابراہیم اور اسرائیل کی اولاد میں سے، اور ان میں سے جنہیں ہم نے ہدایت کی اور پسند کیا، جب ان پر اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو روتے ہوئے سجدے میں گرتے ہیں۔
۔۔۔۔ 
٭6) پارہ(17)"اقترب للناس"۔سورۂ الحج(22)آیت 18۔ترجمہ۔۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو کوئی آسمانوں میں ہے اور جو کوئی زمین میں ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور چارپائے اور بہت سے آدمی اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں، اور بہت سے ہیں کہ جن پر عذاب مقرر ہو چکا ہے، اور جسے اللہ ذلیل کرتا ہے پھر اسے کوئی عزت نہیں دے سکتا، بے شک اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
۔۔۔۔
٭7) پارہ(17)"اقترب للناس"۔سورۂ الحج(22)آیت 77 (بقول امام شافعی)۔ ترجمہ۔۔اے ایمان والو! رکوع اور سجدہ کرو اور اپنے رب کی بندگی کرو اور بھلائی کرو تاکہ تمہارا بھلا ہو۔
۔۔۔۔
٭8)پارہ (19)"وقال الذین"۔الفرقان(25) آیت60۔ترجمہ۔۔اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمان کو سجدہ کرو، تو کہتے ہیں رحمان کیا ہے، کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کے لیے تو کہہ دے اور اس سے انہیں اور زیادہ نفرت ہوتی ہے۔
۔۔۔۔
٭9)  پارہ (19)"وقال الذین"۔سورۂ النمل(27)آیت 25۔ترجمہ۔۔اللہ ہی کو کیوں نہ سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کو ظاہر کرتا ہے، اور سب جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو۔
۔۔۔
٭10) پارہ (21)"اتل مااُوحی"۔سورۂ السجدہ(32)آیت 15۔ترجمہ۔۔بس ہماری آیتوں پر وہ ایمان لاتے ہیں کہ جب انہیں وہ آیتیں یاد دلائی جاتی ہیں تو وہ سجدہ میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔
۔۔۔۔
٭11) پارہ(23)"ومالی"۔سورۂ ص(38) آیت 24۔ترجمہ۔۔کہا البتہ اس نے تجھ پر ظلم کیا جو تیری دُنبی کو اپنی دُنبیوں میں ملانے کا سوال کیا، گو اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی کیا کرتے ہیں مگر جو ایماندار ہیں اور انہوں نے نیک کام بھی کیے اور وہ بہت ہی کم ہیں، اور داؤد سمجھ گیا کہ ہم نے اسے آزمایا ہے پھر اس نے اپنے رب سے معافی مانگی اور سجدہ میں گر پڑا اور توبہ کی۔
۔۔۔۔
٭12) پارہ (24)"فمن اظلم"۔سورۂ حم السجدہ(سورہ فصِلت)۔(41)آیت 37 ۔(38)۔ 
ترجمہ آیت 37۔۔اور اس کی نشانیوں میں سے رات اور دن اور سورج اور چاند ہیں، سورج کو سجدہ نہ کرو اور نہ چاند کو اور اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔
ترجمہ آیت 38۔۔پھر اگر وہ تکبر کریں تو وہ لوگ جو آپ کے رب کے پاس ہیں رات دن اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تھکتے نہیں۔
۔۔۔۔
٭13) پارہ (27)"قال فما خطبکم"۔سورۂ النجم(53)آیت 62۔ترجمہ۔۔پس اللہ کے آگے سجدہ کرو اور اس کی عبادت کرو۔
۔۔۔۔
٭14) پارہ (30)"عم یتساءلون"۔سورۂ  الانشقاق(84)آیت 21۔ترجمہ۔۔اور جب ان پر قرآن پڑھا جائے تو سجدہ نہیں کرتے۔
۔۔۔۔
٭15)پارہ (30)"عم یتساءلون"۔سورۂ العلق(96)آیت 19۔ترجمہ۔۔ہرگز ایسا نہیں چاہیے، آپ اس کا کہا نہ مانیے اور سجدہ کیجیے اور قرب حاصل کیجیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جمعہ, اگست 18, 2017

"کردار سے دائرہ کار تک"

معاشرہ فرد سے بنتا ہے۔مرد اورعورت معاشرے کے بنیادی جزو ہیں۔معاشرتی،معاشی،اخلاقی اورمذہبی زنجیروں سےقطع نظردنیا کا ہرانسان خواہ مرد ہو یا عورت اپنے افعال وکردار میں آزاد پیدا ہوتا ہے۔ساری زندگی اِن زنجیروں کی جھنکار اسے اُس کی اوقات یاد دلاتی رہتی ہے۔۔یہ قید طاقت بھی ہے جو درحقیقت اُس کی سیماب صفت فطرت کے لیے آب حیات کا کام کرتی ہے۔انسان اپنی طبعی عمر پوری کر کےاس فانی دنیا کی ہر قید وبند سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جاتا ہے۔آگے کی جزاوسزا ایک الگ کائنات کی کہانی ہے۔
مرد کا دائرہ کار اُس کے کردار کا تعین کرتا ہےجبکہ گھر میں عورت کا کردار اُس کے دائرہ کار کی راہ متعین کرتا ہے۔گھر اور معاشرے میں عورت کے کردار کے حوالے سے مرد اور عورت دونوں اپنے طور پر ہمیشہ سے اُلجھن کا شکار رہے ہیں ایک"تہذیب یافتہ"معاشرے کا حصہ ہوتے ہوئے ہم سب جانتے ہیں سمجھتے ہیں لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی حقائق کو اپنے خیال پر فوقیت دینا پڑتی ہے۔اگر مرد اپنی ذاتی زندگی میں کم ازکم خیال کی حد تک عورت کی اہمیت اور ضرورت محسوس کر لے اورعورت حقیقت کی آنکھ سے دیکھ کر اپنا اصل مقام پہچان لے۔۔۔ توجہاں مثبت طرزفکر مرد کی گھریلو زندگی پرسکون بنا دیتا ہے۔۔۔وہیں اپنے اصل مقام کی پہچان اور اس سے دیانت داری عورت کے لیے فکر وخیال کی نئی دنیاؤں کے راستے کھول سکتی ہے۔ہمارے معاشرے میں عورت کی سوچ اور فکر کی تازگی کے لیے سازگار ماحول کا ہونا خواب وخیال کی بات ہے۔۔ ہر وہ عورت جو ایک بنے بنائے راستے پر نہ چلنا چاہے اورخود سے وابستہ رشتوں کو ساتھ رکھتے ہوئے بھی صرف اپنی ذات کے لیے ایک نئے راستے کی چاہ کرے ۔اس کے لیے یہ سفر عشق کے سفر کی طرح پہاڑ میں سے دودھ کی نہر نکالنے کے مترادف ہے۔عورت وہ چراغ ہے جس کی روشنی جانتے ہوئے،مانتے ہوئے بھی سب اُس سے خائف رہتے ہیں۔
عورت کا اصل مقام صرف اس کا گھر ہے۔وہ گوشۂ عافیت خواہ جہاں اس کی سوچ کی عزت دو کوڑی کی بھی نہ ہو۔۔۔ اس کے ذہن کو نہیں اس کے جسم کو اہمیت دی جاتی ہے۔۔۔اس کی انفرادی حیثیت نہیں بلکہ اس سے جڑے رشتوں کی وجہ سے اس کو پہچانا جاتا ہے،عورت جتنا جلد یہ بات سمجھ جائے اتنا جلد سمجھوتہ کرنے میں آسانی رہتی ہےلیکن یہ وہ پھانس ہے جو اکثر بہت چبھن دیتی ہے۔معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی کمزور اور ان پڑھ عورت کے مسائل سے پرے وہ عورت جو ڈگری یافتہ ہی کیوں نہ ہو اور معاشرے میں ایک مقام بھی رکھتی ہو اپنے گھر والوں کے حوالے سے ناقدری کی سوچ کبھی نہ کبھی اس کو ڈنگ ضرور مارتی ہے۔کچھ کے لیے یہ زہر زندگی بخش ثابت ہوتا ہے اور وہ اسے کہیں  اندر جذب کر کے،سر جھٹک کر آگے بڑھ جاتی ہیں۔
عورت کی دوسری انتہا،ایک اور رُخ یہ ہے کہ  بظاہر ترقی وکامرانی کی بلندیاں ہی کیوں نہ چھوتی نظر آئیں،کچھ آگہی کے اس  زہر کے اثر سے  زہر آلود ہو جاتی ہیں پھر نہ صرف خود کو تباہ کر بیٹھتی ہیں بلکہ ایک خاندان اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔اس بارے میں ہم تقریباً ہر روز کہیں نہ کہیں دیکھتے اورپڑھتے رہے ہیں۔اندر کی بات نہ جانتے ہوئے بھی گھر بچانے میں عورت کا کردار مرد سے زیادہ اہم ہےاور زیادہ ذمہ داری عورت پر ہی عائد ہوتی ہے۔۔  دیکھنے والی آنکھ ہر دو رویے بخوبی  محسوس کر سکتی ہے۔

مکافاتِ عمل

مکافاتِ عمل۔۔۔ کاروبارِ حیات میں نفع نقصان کا حساب کتاب کرتے ہم دیکھتے ہیں کہ پکڑ ہمیشہ اُس گناہ کی نہیں ہوتی جو جانے انجانے میں سرزد ہ...