ہفتہ, فروری 10, 2018

"رسائی"

 رسائی ۔۔ دسترس ۔۔سستا،مہنگا۔۔۔
"انسان کو اتنا سستا نہیں ہونا چاہیے کہ ہر کوئی اسے خرید سکے،مہنگی چیز ہی وقعت رکھتی ہے"
بادی النظر میں یہ کسی دانا کا قول دِکھتا ہے لیکن اگر  غور کیا جائے تو اس پر عمل  ہمیں خوار ہی کرے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اتنا سستا ہونا چاہیے  جیسے کہ ہوا۔۔۔کہ جو چاہتا ہو یا نہ چاہتا ہو ہر ایک کی پہنچ میں ہو۔اور اس کے ساتھ ساتھ اتنا  لطیف بھی کہ کوئی اس کی گہرائی کو چھونہ سکے۔ہروقت رسائی ہی وہ  ہنر ہے  جو اُسے ہر ایک کی عادت اور پھر ضرورت بنا دیتا ہے۔ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اُس کے بغیر جینا محال لگتا ہے۔ ویسےبھی جو چیز جتنا سستی ہوتی ہے  اتنا ہی اُس کی دیکھ بھال کی  پریشانی   نہیں ہوتی،اس کی رکھوالی کا  اندیشہ جاتا رہتا ہے،اسکی جدائی کا کھٹکا شدت اختیار نہیں کرتا اور سب سے بڑھ کر اس کے جانے کا دکھ بھی کم  کم محسوس ہوتا ہے۔اب یہ تو وقت وقت کی بات ہے کہ  جب وہ متاعِ جاں یکدم منظر سے ہٹ جائے پھر آگہی کا در یوں وا ہوتا ہے کہ اُس کے بنا اب زندگی کاتصور ہی نہیں ۔ اس کے برعکس مہنگی چیز انسان بڑے ذوق وشوق سے خریدتا ہے،اپنی خواہش کی تکمیل میں دوسرے کی پروا نہیں کرتا۔دوسروں کے سامنے فخروغرور سے سر اُٹھا کر اُن کو کم تر  سمجھتا ہے۔ایک عجیب سی ہوس اُس کے اندر لاشعوری طور پر بیدار ہو جاتی ہے۔ارمان پورے ہوتے ہیں لیکن سیری کی کیفیت  پیدا نہیں ہوتی ۔اپنے خودساختہ خزانوں کی حفاظت جان سے بڑھ کر کرتا ہے تو غیرمحسوس انداز میں اُس کا سکون رُخصت ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
بات دراصل یہ ہے کہ سستے یا مہنگے ہونے کا  پیمانہ   ہر ایک کے لیے   مختلف بلکہ بعض اوقات بالکل اُلٹ بھی  ہوتا ہے،جو چیز کسی کے لیے مہنگی ہے وہ دوسرے کے لیے  سستی بلکہ بےکار بھی ہوتی ہے۔کسی کی طلب   دوسرے کے لیے زہر بن جاتی ہے۔ اللہ ہمیں اپنے اثاثوں کی پرکھ کا علم عطا فرمائے۔

"منہ دکھائی سے منہ دیکھنے تک"

 عام بول چال  اور اردو زبان دانی میں "منہ دکھائی" ایک بہت ہی عام فہم  لفظ ہے۔روزمرہ زندگی میں  اس کا استعمال    دنیا میں زندگی ک...