پیر, جنوری 22, 2018

"یہ جنگل ہمیشہ اداس رہے گا"

یہ جنگل ہمیشہ اداس رہے گا- جاوید چوہدری
۔23 جنوری 2018
میری منو بھائی کے ساتھ پہلی ملاقات 1996ء میں ہوئی‘ میں نے تازہ تازہ کالم لکھنا شروع کیا تھا‘ میرے تیسرے یا چوتھے کالم پر منو بھائی کا ٹیلی فون آ گیا‘ وہ اٹک اٹک کر بولے ’’جاوید میں منو بھائی بول رہا ہوں‘‘ میری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی‘ وہ فون میری توقعات کی فہرست میں شامل نہیں تھا‘ وہ سچے دل سے تعریف کر رہے تھے۔
میں نے ملاقات کی اجازت طلب کی‘ وہ بولے ’’بیٹا ضرور آؤ‘ ضرور ملو‘‘ اور میں اگلے ہی دن چھٹی لے کر لاہور پہنچ گیا‘ میں ریواز گارڈن میں ان کے گھر گیا‘ وہ گرمیوں کے دن تھے ‘ وہ پسینے میں بھیگی قمیض کے ساتھ ڈرائنگ روم میں بیٹھے تھے‘ میں ان کے گھٹنے کے ساتھ گھٹنا جوڑ کر بیٹھ گیا‘ وہ سیاسی انتشار کا زمانہ تھا‘ وزیراعظم بےنظیر بھٹو اور صدر فاروق لغاری کے درمیان اختلافات جوبن پر تھے۔
میں نے پوچھا ’’اس لڑائی کا کیا نتیجہ نکلے گا‘‘ وہ فوراً بولے ’’بی بی کی حکومت جائے گی اور نوازشریف آ جائے گا‘‘ میرے لیے یہ جواب غیرمتوقع تھا‘ میرا خیال تھا یہ لڑائی ختم ہو جائے گی اور حکومت اپنی مدت پوری کرے گی لیکن منوبھائی کے ایک فقرے نے میرے خیالات روند کر رکھ دیئے‘ میں ان دنوں آج سے زیادہ بوقوف ہوتا تھا لہٰذا میں نے ان کے ساتھ سینگ پھنسا لیے‘ ان کا کہنا تھا‘ یہ بےنظیر اور فاروق لغاری کی لڑائی نہیں‘ یہ دو وڈیروں کی جنگ ہے اور وہ دو وڈیرے آصف علی زرداری اور سردار فاروق احمدلغاری ہیں۔
یہ دونوں وڈیرے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور یوں بےچاری بےنظیر ماری جائے گی‘ میں نے عرض کیا ‘میاں نوازشریف کیسے اقتدار میں آئیں گے‘ وہ مسکرا کر بولے‘ میاں نوازشریف وہ دوسرا کانٹا ہیں جو پہلا کانٹا نکالنے کے لیے اٹھایا جاتا ہے اور جب پہلا کانٹا نکل جاتا ہے تو پہلے کے ساتھ دوسرا کانٹا بھی پھینک دیا جاتا ہے‘ نوازشریف بےنظیر بھٹو کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں‘ یہ جب پوری طرح استعمال ہو جائیں گے تو یہ بھی ڈمپ کر دیئے جائیں گے۔
میں ادب کے ساتھ ان سے اختلاف کرتا رہا لیکن وہ ہنس کر ٹالتے رہے‘ انھوں نے مجھے لکھنے کے چند نسخے بھی عنایت کیے‘ ان کا کہنا تھا‘ کوئی لکھاری اس وقت تک کالمسٹ نہیں بن سکتا جب تک وہ بیس سال تک مسلسل نہ لکھ لے‘ تم نے بھی اگر بیس سال تھکے اور اکتائے بغیر لکھ لیا تو تم بہت اوپر جاؤگے لیکن اگر درمیان میں ہمت ہار گئے تو پھر باقی زندگی ماتم کرتے رہو گے‘ ان کا کہنا تھا‘ اچھا لکھنے کے لیے زیادہ پڑھنا اور زیادہ پھرنا ضروری ہے‘ تم پھرتے رہو اور پڑھتے رہو‘ تمہاری تحریر میں کشش پیدا ہو جائے گی۔
مطالعہ گنے کی طرح ہوتا ہے‘ آدھا گلاس رہو کے لیے پانچ فٹ کا گنا بیلنا پڑتا ہے‘ فرمایا‘ کالم نگاری فل ٹائم کام ہے‘ تم یہ بات ذہن سے نکال دو تم کالم نگاری کے ساتھ کوئی دوسرا کام کر سکو گے‘ یہ عشق جیسا جنون ہے‘ یہ بندے کو کسی دوسرے کام کے لائق نہیں چھوڑتا‘ میں نے ان کی نصیحتیں پلے باندھ لیں‘ ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا اور واپس آگیا۔
میں چند ماہ میں منوبھائی کی سیاسی بصیرت کا قائل ہوگیا‘ فاروق لغاری نے واقعی بےنظیر بھٹو کی حکومت توڑ دی اور آصف علی زرداری کو جیل میں ڈال دیا‘ نئے الیکشن ہوئے اور میاں نوازشریف اقتدار میں آ گئے‘ میں نے منوبھائی کو فون کیا‘ وہ دیر تک ہنستے رہے‘ وہ چند دن بعد اسلام آباد تشریف لائے‘ میں ملاقات کے لیے ہوٹل گیا‘ میں نے ان سے پوچھا‘ کیا میاں نوازشریف اپنی مدت پوری کر لیں گے‘ وہ ہنس کر بولے‘ مشکل لگتا ہے‘ میں نے وجہ پوچھی‘ وہ بولے‘ نوازشریف پھڈے باز ہیں‘ یہ باز نہیں آئیں گے‘ یہ بھی گھر جائیں گے۔
منو بھائی نے اس کے بعد ایک عجیب انکشاف کیا‘ وہ بولے ’’بےنظیر بھٹو تیسری بار وزیراعظم بنے گی‘ یہ اس بار بدلہ لینے کے لیے اقتدار میں آئے گی اور عالمی طاقتیں اس کی سپورٹ کریں گی‘‘ میں نے وجہ پوچھی‘ وہ بولے ’’یہ بری طرح زخمی ہیں اور بھٹو جب زخمی ہوتے ہیں تو یہ خطرناک ہو جاتے ہیں چنانچہ یہ فوج سے انتقام کے لیے واپس آئے گی اور یہ ملک کے لیے اچھا نہیں ہو گا‘‘ منو بھائی کا خیال تھا بےنظیر بھٹو دو اڑھائی سال میں واپس آ جائیں گی۔
ان کی یہ پیشن گوئی آدھی غلط ثابت ہو گئی‘ میاں نواز شریف فارغ ہو ئے لیکن جنرل مشرف نے اقتدار بے نظیر بھٹو کے حوالے نہ کیا‘ وہ جلا وطن رہیں‘ منوبھائی کا کہنا تھا‘ یہ ضرور واپس آئے گی اور اپنا ایجنڈا پورا کرے گی‘ محترمہ 2007ء میں واپس آئیں لیکن وہ شہید ہو گئیں‘ منوبھائی کا خیال تھا ’’مارنے والے بے نظیر کے ایجنڈے سے واقف تھے‘ بےنظیر کے بعد یہ کام اب میاں نوازشریف کریں گے‘‘ ان کی یہ پیشن گوئی بھی غلط ثابت ہوئی‘ میاں نوازشریف 2008ء میں حکومت نہ بنا سکے۔
پیپلزپارٹی کی حکومت آئی اور وہ جیسے تیسے اپنی مدت پوری کر گئی‘ میں اس دوران انھیں ان کی پیشن گوئی یاد کراتا رہا‘ وہ ہر بار کہتے تھے نوازشریف ضرور آئے گا اور یہ بےنظیر کا ایجنڈا پورا کرے گا‘ میاں نوازشریف 2013ء میں آئے‘ پھڈے شروع ہوئے اور یہ ڈس کوالی فائی ہو گئے‘ میری اگست میں ان سے بات ہوئی ‘ ان کا کہنا تھا نوازشریف کو اگر اللہ تعالیٰ نے زندگی دی تو یہ چوتھی مرتبہ بھی آئے گا‘ بین الاقوامی طاقتیں اسے سپورٹ کریں گی اور یہ وہ کام کر جائے گا جو بھٹو اور بےنظیرنہیں کر سکی۔
میں اکیس برسوں میں ان سے درجنوں مرتبہ ملا‘ میں نے انھیں ہر حال میں کمال انسان پایا‘ اللہ تعالیٰ نے انھیں سیاسی بصیرت بھی دے رکھی تھی اور دانش ور کا دماغ‘ شاعر کی آنکھ‘ نثر نگار کا مشاہدہ اور ایک صوفی کا ظرف بھی‘ وہ حس مزاح سے بھی لبالب تھے‘ وہ روانی میں ایسا کاٹ دار فقرہ پھینک دیتے تھے کہ آپ پوری زندگی اس فقرے کا لطف لیتے رہتے تھے‘ کسی صاحب نے ان سے پوچھا ’’کیا آپ کی بیگم بھی آپ کو بھائی کہتی ہیں‘‘ وہ عینک کے پیچھے آنکھیں گھما کر بولے ’’وہ پہلے پہل صرف کہتی تھی‘ اب بھائی سمجھتی بھی ہے‘‘۔
وہ ایک دن فرمانے لگے ’’ 1947ء میں صرف امیروں کا پاکستان بنا تھا‘ صرف جاگیردار‘ تاجر اور رئیس آزاد ہوئے تھے‘ غریب آدمی کا پاکستان ابھی نہیں بنا‘ غریب ابھی آزاد نہیں ہوئے‘‘ چوہدری پرویز الٰہی کے دور میں لاہور میں ایک تقریب تھی‘ چیف منسٹر مہمان خصوصی تھے‘ منو بھائی اور میں ہوٹل کے سوئمنگ پول کے کنارے بیٹھ گئے۔
میرے ہاتھ میں کتاب تھی‘ منو بھائی نے کتاب لی اور ورق گردانی کرنے لگے‘ اتنے میں پرویز الٰہی آ گئے‘ وہ رکے اور بولے ’’چا چا جی تسی تے اج بھی پڑھنے پے او‘‘ منو بھائی نے پرویز الٰہی کو دیکھا اور ہنس کر بولے ’’بھتیجے میں اس بھیڑی عادت دی وجہ نال سی ایم نہیں بن سکا‘‘ (بھتیجے میں اس بری عادت کی وجہ سے سی ایم نہیں بن سکا) چوہدری پرویز الٰہی نے قہقہہ لگایا اور جھک کر ان کے گھٹنوں کو ہاتھ لگایا‘ میں نے ایکسپریس جوائن کیا تو میں نے انھیں دعوت دی آپ بھی ہمارے پاس آ جائیں۔
ہنس کر جواب دیا ’’مرد جب بیوی بدلنے کے قابل نہ رہے تو اسے نوکری نہیں بدلنی چاہیے‘‘ وہ اکثر کہتے تھے ’’یہ ملک پرانی گاڑیوں کے گیئر کی طرح پھنس گیا ہے‘ اب گیئر ٹوٹے گا یا پھر گاڑی‘‘ وہ جسم کے ایک ایک بال تک جمہوریت پسند تھے‘ وہ سمجھتے تھے یہ ملک جب بھی بدلے گا ووٹ کے ذریعے بدلے گا‘ آمریت اس ملک کو کھا جائے گی۔
وہ کہتے تھے‘ جنرل ضیاء الحق کے سارے جرائم معاف کر دیئے جائیں تو بھی اس کا ایک جرم معاف نہیں کیا جا سکتا‘ جنرل ضیاء الحق نے مولویوں کو باہر لا کر ملک کا بیڑہ غرق کر دیا‘ وہ بھٹو کے شیدائی تھے‘ وہ نظریاتی لحاظ سے لبرل کمیونسٹ تھے‘ وہ ملک میں انصاف اور برابری دیکھنا چاہتے تھے‘ وہ یہ خواہش لے کر دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن ملک میں برابری آئی اور نہ ہی انصاف۔
منو بھائی صحافی بڑے تھے‘ ادیب‘ شاعر‘ دانش ور یا پھر ڈرامہ نگار یہ فیصلہ کبھی نہیں ہو سکے گا‘ وہ پارس کا قلم لے کر پیدا ہوئے تھے‘ وہ ادب کی جس جس صنف کو چھوتے رہے‘ وہ سونا بنتی رہی یہاں تک کہ ادبی سونے کا انبار لگ گیا اور منو بھائی‘ منو بھائی نہ رہے وہ اردو ادب بن گئے‘ اردو ادب اور اردو صحافت آنے والے وقت میں کہیں بھی پہنچ جائے‘ یہ کسی بھی بلندی تک چلی جائے منو بھائی اس کی جڑ بن کر ہمیشہ زندہ رہیں گے‘ یہ منو بھائی سے اپنا دامن نہیں چھڑا سکے گی۔
منو بھائی بہت بڑے انسان بھی تھے‘ وہ سندس فائونڈیشن سے وابستہ ہوئے اور آخری سانس تک اس کا ساتھ نبھایا‘ سندس فائونڈیشن تھیلیسیما کے شکار بچوں کے لیے تازہ خون کا بندوبست کرتی ہے‘ منو بھائی اپنی اضافی آمدنی بھی اسے دے دیتے تھے اور اس کے لیے رقم بھی جمع کرتے تھے‘ میری ان سے آخری مرتبہ بات ہوئی تو ان کی آواز میں نقاہت تھی‘ وہ بار بار کہہ رہے تھے ’’جاوید میرے بعد میرے بچوں کا خیال رکھنا‘ سندس فائونڈیشن بند نہیں ہونی چاہیے‘ یہ لوگ جب بھی تم سے رابطہ کریں تم نے انھیں انکار نہیں کرنا‘‘ میں نے ان سے وعدہ کر لیا۔
منو بھائی 19 جنوری کو 84سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے‘ ہم ہمیشہ رخصت ہونے والوں کے بارے میں لکھتے ہیں ’’یہ خلاء کبھی پُر نہیں ہو گا‘‘ میں منو بھائی کے بارے میں یہ لکھنا چاہتا ہوں لیکن لکھ نہیں پا رہا‘ کیوں؟ کیونکہ دنیا میں ہر خلاء پُر ہو جاتا ہے مگر خلیج پُر نہیں ہوتی اور منو بھائی جاتے جاتے صحافت میں خلیج چھوڑ گئے ہیں اور منو بھائی کی خلیج کو منو بھائی کے علاوہ کوئی پُر نہیں کر سکتا‘ یہ جنگل اب ہمیشہ اداس رہے گا۔

ہفتہ, جنوری 06, 2018

"کہانی ایک رات کی"

انسان کی زندگی کہانی رات اور دن کی آنکھ مچولی کے مابین بھاگتےگزرتی ہے۔دن کے کھاتے میں گر ہار جیت کے برابر  امکانات  ہوتے ہیں تو رات نام ہی شکست کا ہے۔۔۔رات ڈھلتے ہی انسانی قوٰی زوال پذیر ہونے لگتے ہیں یوں رات زندگی سے دور کرتے ہوئے بناوٹ کی موت کا نام ہی تو ہے۔رات بےیقینی بھی ہے کہ کوئی نہیں جانتا آنے والی صُبح کا سورج کیا پیغام لے کر آئے۔
وہ رات!!! دو زندگیوں کی بقا کی رات تھی۔۔۔دونوں بہت قریب ہوتے ہوئے،ایک دوسرے کو محسوس کر کے بھی آنے والے وقت سے انجان،اپنی ذات کی تنہائی میں درد کی منازل طے کرتے تھے۔وہ زندگی بخش رات تھی لیکن موت کا خوف ہر چند منٹوں بعد رگِ جاں کی ساری توانائی نچوڑ لیتا۔نظریں گھڑی کی سوئی پر اٹک جاتیں، کبھی یوں لگتا جیسے وقت ٹھہر گیا ہو پھر اچانک کوئی جھنجھوڑ کر رکھ دیتا۔نیند تھی اور نہ ہی خواب۔اہم یہ ہے کہ خوف بھی نہ تھا۔۔۔۔ان ہونی کا خوف۔یاد تھی تو بس ایک بات کہ وقت سے پہلے کسی سے کچھ بھی نہیں کہنا اور یہ وقت کیا تھا؟ کب تھا؟ کون جانتا تھا۔۔۔سب اندازے تھے یا حساب کتاب کے پیمانے؟۔اس سمے اگر کوئی دوست تھا تو کتاب میں پڑھے گئے لفظ تھے جو ساری کہانی کی اصل سے آگاہ کیے ہوئے تھے تو دوسری طرف کلام اِلٰہی کا ورد ڈھلتی رات کی تنہائی میں دل کو تسکین دیتا تھا۔
اس رات کا اہم سبق یہ ملا کہ زندگی ہوش وحواس کو ممکن حد تک قابو میں رکھنے سے سمجھ میں آتی ہے۔ہم ساری دُنیا کو جاننے کے جتنے دعوے کر لیں،جب تک اپنی ذات کے اسرار سے واقف نہیں ہوں گے ہمیشہ بند گلی میں سفر کرتے رہیں گے۔
انسان اپنی زندگی میں جتنا اپنے آپ سے،اپنے رویے سے سیکھتا ہے اُتنا کسی اور کے تجربے سے کبھی نہیں سمجھ سکتا،ہماری مشکل ہی یہ ہے کہ ہم اپنے ذہن ودل پر دستک دئیے بغیر اُن ان جان مہربانوں کی تلاش میں بھٹکتے ہیں جو ہمارے درد کا درماں بن سکیں ۔اسی لیے کبھی سکون نہیں پاتے نہ قرار میں اور نہ ہی بےقراری میں ۔
یہ نصف صدی کے قصے میں گزرنے والی ہزاروں بےنام راتوں اور دنوں کے باب میں سے ایک ایسی رات کا احوال تھا جس کے ہر پل کا منظر آج بھی ذہن میں اُجالے بکھیرتا ہے۔۔۔۔ اجالے!!! شاید اس لیے بھی کہ اس رات کی اذیت کا ثمر ایک مکمل اور کامیاب شخصیت کی صورت ماں کے ساتھ ہے۔۔۔ ماؤں کو اپنے بچے ویسے بھی پیارے ہوتے ہیں۔اللہ صورت کی زیبائی کے ساتھ سیرت میں بھی سچائی اور گہرائی عطا کرے آمین۔
منسلک پوسٹ۔۔۔۔دردِ زہ ۔

"۔پہلا بچہ"

 اپنے اپنے ماحول میں،اپنے اپنے انداز سے  عمر کے ابتدائی سال طے کرنے والے مرد اور عورت معاہدۂ نکاح کے ذریعے  شادی کی شاہراہ پر قدم رکھتے ہی...