اتوار, مارچ 31, 2013

" بندھن "

برسوں پہلے 
اِک جگمگ کرتی شادی تھی
منگنی اُبٹن مایوں مہندی
سارے چاؤ ساری رسمیں
سب نے خوب مل کر منائیں
رنگوں کی برسات میں اُبھری
گھر آنگن بارات جو اُتری
رُخصت ہو کر واہ میں آئی
چاہے جانے کی چاہ میں آئی
اپنے گھر جیسا ہی نگر
پایا تو ٹھہر سی گئی نظر
کانچ کی چوڑی سنبھلتی گئی
تتلی ڈال ڈال مہکتی گئی
پھولوں کا لمس چومتی گئی
رنگوں سے یوں بہلتی گئی
وقت کی دھول میں نکھرتی گئی
لمس کی پھوار میں بکھرتی گئی
اپنے رنگ جُدا ہی رکھے
راستے الگ سدا ہی رکھے
رشتے ناتے نبھاتے نبھاتے
زندگی گُزری جاتے جاتے
برسوں بعد
جو جگمگ کرتی شادی تھی
وہ جھلمل کرتی شادی ہے
وہ پریوں جیسی کہانی تھی
اب سانسوں جیسی روانی ہے
نیّا ساحل آ پہنچی
سفر تمام ہو جانا ہے
چاہت سے جو جوڑا تھا
وہ شہر تمام ہو جانا ہے
اپنے رب سے کہنا تھا
اپنے رب سے کہنا ہے
رب کی رضا میں بہنا ہے
دُور دیس جا رہنا ہے

جمعہ, مارچ 29, 2013

" تھکن"

بظاہر سرسبز و شاداب
 نظر آنے والے پودے کی رگوں میں
سرسراتی نادیدہ دیمک
 قطرہ قطرہ
زندگی کا رس نچوڑتی جا رہی ہے -


بدھ, مارچ 27, 2013

" کانچ کی چوڑی اور تتلی کہانی "

زندگی کی اس ڈھلتی شام کے ابرآلود موسم میں اُن روشن چمکیلی صُبحوں کا تصوّر کرتی ہوں۔۔۔
جب خوبصورت رنگوں سےسجی خواہشوں کی تتلیاں میری دسترس میں تھیں۔اُن اوّلین محبتوں میں کانچ کی چوڑیاں  بہت مسحور کرتیں، اُن کو جمع کرتی۔۔۔احتیاط سے پہنتی پھر سنبھال کر رکھ دیتی۔اُن کا ٹوٹنا مجھے بہت دُکھ دیتا تھا۔ اُن کی زندگی کی خاطر پہننے کی خواہش فقط خواہش ہی رہتی۔
برسوں بعد کانچ کی چوڑی یوں یاد آئی کہ یہ میری زندگی کا استعارہ بن گئی ہے۔ مجھے معاف کر دینا میرے دوست۔ یہ میری کمزوری بھی ہے اور میرا فخر بھی۔ مجھے کانچ کی چوڑیاں اور تتلیاں اب بھی اپنی جانب کھینچتی ہیں اور میں خود بھی کانچ کی ایک چوڑی ہی تو ہوں۔۔۔ جو کلائی میں سجی رہے تو نہ صرف اس کی قدر ہے بلکہ پہننے والے کی عزت افزائی بھی ۔ ٹوٹ جائے تو صرف فنا ہی مقدر نہیں بلکہ دوسرے کو بھی زخمی کر دیتی ہے۔ تتلیاں مجھے دُور دیس کے قصّے سُناتی ہیں۔ ان راستوں کے جن پر جانے والے اپنےقدموں کے نشان بھی نہیں چھوڑتے۔
تتلیاں تو اُڑ جاتی ہیں اُن سے کیا جی لگانا۔ روکو تو پر جھڑ جاتے ہیں۔۔۔ اُڑ پھر بھی جاتی ہیں۔ اس لیے میں ہاتھوں کے نشتر سے نہیں بلکہ پوروں کے لمس سےاُڑنا چاہتی ہوں۔
خوشبو اور بات دل میں ہی رہے تو اچھا ہے۔ ہوا میں بکھرجائے تو نہ خوشبو رہتی ہےاورنہ بات۔
بس یہ کہنے دو۔۔۔ہمیشہ ساتھ رہنے کی خواہش کبھی ختم نہیں ہوتی۔۔۔ لیکن یہ زندگی ہے۔۔۔ ہم رہ جاتے ہیں اور ہمارے پیارے چلے جاتے ہیں اورکبھی ہمیں جانا پڑتا ہے۔۔۔ تنہا۔۔۔سب کچھ ادھورا چھوڑ کر۔۔۔خالی ہاتھ۔۔۔ پرمحبت کی خوشبو اورعمل کی گھٹڑی ساتھ ہو تو ہر سفر آسان ہے۔
" تشکّر کہانی "
گردش ِدوراں نے کانچ کی چوڑی کو یوں برتا کہ وقت کی گرد نے اُسے ماند کیا اور نہ اُس کی شناخت ختم ہوئی وقتی کھنک اور ستائش کی چاہ خود فریبی تھی۔ اِک ان چھوا احساس سرمایۂ حیات ہے۔
"اور یہی شوقِ ِسفر ہے اور زادِ راہ بھی "
پچیس جنوری 2013

" تُحفہ "

 خوشبو سے بڑھ کر کچھ نہیں 
خوشبومحسوس کی جاتی ہے
  اسے چھوا نہیں جا سکتا
 پر اپنی  بھی تو ہو
پھر 
عکسِ  وجود ہی تحفہ ٹہرا
 کہ سدا
 تمہارےساتھ رہے گا
تمہارے پاس رہے گا

منگل, مارچ 26, 2013

جنم دن

اس خاص دن پر
کیا تُحفہ دوں
 لہجے کی کھنک
 لمس کی حدّت 
یا پھر 
لفظ کی رم جھم
 پر تم ملو تو سہی
بہار کے موسم میں
 روٹھنا نہیں اچھا
آج مان جاؤ
 کل چلے جانا

ہفتہ, مارچ 23, 2013

" مارچ 23 " ایک تاثر

ہم زندہ قوم ہیں اور ان شاء اللہ ہمیشہ رہیں گے"۔
A day to revive commitment
۔۔۔1995 میں ایک برطانوی مصّنفہ کے  تاثرات پڑھے جو ظاہر ہے تلخ تو لگے پر حقیقت پرمبنی بھی دِکھتے تھے۔۔۔ اُس نے کہا تھا "ایک وقت تھا جب یہ قوم(مسلمان) ایک ملک کی تلاش میں تھی-آج یہ ملک (پاکستان)ایک قوم کی تلاش میں ہے"۔
ہمارا اس بات پر کامل یقین ہے کہ پیارا ملک پاکستان ہم سب کے لیے اللہ کی خاص رحمت ہے۔یہ جذباتی جملہ  ہرگز نہیں۔ 1947 سے تاریخ اُٹھا کر دیکھی جائے ہمیں یعنی عوام اور ہمارے پاکستان پرکون سے ستم نہیں ڈھائے گئے۔اشرافیہ اور باہر کی دنیا کے چالباز جواریوں نے ہماری کس کس مقام پر نہیں لوٹا۔جس کا جہاں داؤ لگا وہ اس تاج و تخت کو تاراج کر کے ہی گیااور گیا بھی تو اس وجہ سے نہیں کہ ہم نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اوربھگا دیا بلکہ یا تو اس کا وقت پورا ہو گیا تھا یا قدرت نے اس مال ِغنیمت میں اس کا اتنا ہی حصہ مقرر کیا تھا۔بہرحال جو بھی آیا اپنی خوشی سے واپس نہیں گیا۔
یہ لوٹنے والوں کے منہ پرایک طمانچہ ہے اور ہمارے لیےاللہ کی طرف رُجوع کرنےاوراپنے قول وفعل سے شُکر گُزاری کا اظہار کرنے کا ایک موقع ہے۔یہ تو اُن شیطانی قوتوں کا احوال تھا جنہوں نے ہمارے سروں پر مسلّط ہونے کی کوشش کی اور رب کے کرم سے ہم ہر بار ایک نئے عزم سے اُن کے مکروفریب سے جان چُھڑا پائے۔
اب کچھ ذکر ناگہانی آفات کا بھی ہو جائے۔ہماری آزمائشوں کا سلسلہ یوں جاری رہا کہ کبھی زمین کی گہرائیاں اورآسمان کی وسعتیں  تنگ ہو گئیں،شہر کے شہر اُجڑ گئے۔۔۔ کبھی ہمارے اپنے تخلیق کردہ لوازماتِ زندگی کے اثرات آگ لگا گئے۔۔۔تو کبھی بدترین زمینی اور فضائی حادثات نے سیکنڈوں میں قیمتی زندگیاں صفحۂ ہستی سے مٹا ڈالیں۔کیا کچھ نہیں ہوا ہم عوام کے ساتھ اور ہمارے وطن پاکستان کے ساتھ۔۔۔ہمارے عظیم مُحسنوں کی ٹارگٹ کلنگ ہو یا قومی اداروں پر دُشمن کے ناپاک حملے۔ اور تو اور جو یہ سب کرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے وہ دوستی کا خوشنما لبادہ پہن کر "ثقافت کے نام  پرہماری اخلاقیات اور تہذیب کو تباہ وبرباد کرنے کے درپے ہوئے۔ یہ سب ہماری نظروں کے سامنے اور ڈنکے کی چوٹ پر ہوتا رہا اور یہی لوگ تھے جو ہمیں بُزدلی اور بےغیرتی کے طعنے دیتے رہے اور قیام ِپاکستان کے جواز کو بھی مسترد کرنے سے نہیں ہچکچائے۔ وقت کے فرعون تاریخ بنانے کے غرور میں تاریخ بدلنے پر تُل گئے۔قائدِ اعظم کی ذات میں کیا کچھ خامیاں نہیں کھوجی گئیں ہوا یوں کہ ہم چُپ چاپ سہتے چلے گئے تو اُن کے حوصلے بڑھتے گئے۔نشانے خطا ہونے لگے تو ان کے پاس کچھ باقی نہیں بچا سوائے اپنی گھسی پٹی چالیں دُہرانے کو۔
اب ہم جان گئے ہیں "پاکستان ہمارا ہے اور ہم ہی اس کے رکھوالے ہیں"۔پاکستان بچانے کے جھانسے میں نہیں آنا یہ سب
 دُکان داری چمکانے کی باتیں ہیں۔دل ودماغ کشادہ کرنا ہے کسی کی نیت پر شک نہیں کرنا۔جو جس راستے پر ہے جانے دو پراپنا قطب نما ساتھ رکھو۔ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور اللہ سے ہی مدد مانگنا ہے- اتحاد میں طاقت اور کامیابی ہے ایک اکیلا جتنا بھی مخلص ہو اپنی ہمت سے بڑھ کر بوجھ نہیں اُٹھا سکتا۔اپنی عقل سے کام لے کر اُس کا ساتھ دینا ہے جو نظریے کی بات کرے۔۔۔ ملکی وقار اور خود مختاری کو مقدّم جانے۔۔۔ ذاتیات سے بلند ہو کر اُصولوں کو فوقیت دے۔یاد رہے کسی آزمائے ہوئے کو ہرگز نہیں آزمانا۔ ہمارا دین بھی کہتا ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جاتا-اتنے سالوں اَن جانے میں لُٹتے رہے ،وعدوں پر اعتبار ہمیشہ کرتے چلے گئے اور وعدے کبھی وفا نہ ہوئے۔اوراعتبار اب بھی کرنا پڑے گا کہ میدان خالی نہیں چھوڑنا۔جہاں تک ہو سکے اپنے حصے کا کام کرنا ہے اُس چڑیا کی طرح جس نے آتش ِنمرود میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔عزم بلند اور حوصلہ جوان رکھنا ہے۔ہمارا وطن ہمارا گھر ہے اور ہم نے ہی اس کو سنوارنا ہے۔کوئی بھی انسان فرشتہ یا جن نہیں ہو سکتا کہ کبھی غلطی نہ کرے یا پہلے سے کی گئی غلطیوں کی لمحوں میں تلافی کر سکے. جب تک ہم خود سمجھ داری سے کام  لیتے رہےگےکوئی ہمارا بال بھی بیکا نہیں  کر سکتا ۔اگر ہمیں تحفظات ہیں، خاموش تماشائی بننے میں ہی عافیت جان رہے ہیں تو پھر آئندہ بھی چُپ چاپ اپنا تماشا دیکھتے جانا ہے۔یہ ہم سے ہوتا نہیں کہ ہم فقط بھڑاس نکالنا جانتے ہیں،کبھی نہیں مانتے کہ جب کرنے کا وقت تھا تو ہم ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہے۔ہمارے ملکی،غیرملکی،معاشی،معاشرتی،اخلاقی،انفرادی ،اجتماعی خانگی،جذباتی،روحانی، اوردینی مسائل اورمصائب کی وجہ صرف اورصرف ایک ہےکہ سونے کا انڈا دینے والی مرغی کو ذبح کیا جا رہا ہے۔ ہم صرف اس ایک کہانی سے سبق سیکھ لیں تو اُمید ہے کہ شاید سکھ کی کچھ سانسیں نصیب ہو جائیں۔باقی رب کی رضا ہے جسے سکون نہیں ملنا اسے قارون کا خزانہ بھی سکون نہیں دے سکتا۔
!آخری بات
ہم بحیثیت قوم اپنے ملک کی تلاش میں ہیں،اس کو دور جا کر ڈھونڈ رہے ہیں۔ ہم نےدُور کی نظر کے چشمے لگائے ہیں،کم عقل لوگ نہیں جانتے کہ نزدیک کی نظر بھی کم زورہو سکتی ہے۔ ہم خود ہی اپنے آپ کو بد قسمتی کی بند گلی میں دھکیل رہے ہیں۔اب بھی آنکھ کُھل جائے تو وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔یہ ملک اللہ کی امانت ہے۔۔۔اس کا تُحفہ ہے۔۔۔اُس کے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دُعا کا ثمر ہے۔اور اللہ ہمارا سب سے بڑا سہارا ہے۔
ہمارے پیارےوطن پاکستان کی بنیاد ایک نظریے پر رکھی گئی تھی اور نظریہ ہی اس کی پہچان ہے۔یہ پہچان جس نے ختم  کرنے کی کوشش کی وہ خود ہی نیست ونابود ہو گیا۔نظریۂ پاکستان کو اولّیت دینے میں ہی ہماری بقا ہے۔
 " پاکستان زندہ باد نظریۂ پاکستان پائندہ باد"


بدھ, مارچ 20, 2013

" محبت اور پہچان "

 محبت اور پہچان "
محبت اصل میں کیا ہے ؟ محبت اکائی ہے۔۔۔ توحید ہے تو ہم ایک کے ہو کر بھی بے قرار کیوں رہتے ہیں ؟ محبوب سامنے ہے تو پھر کس کی تلاش؟ کیا یہ ہمارے اندر کا کھوٹ ہے جس پر ظاہری لبادے ہمیں اپنی ہی نگاہوں سے اوجھل کیے جا رہے ہیں- یہ سب ایک حد تک درست ہے پرایسا کچھ بھی نہیں ہے-
محبت سب سے پہلے اپنی پہچان کا نام ہے۔۔۔ اپنے محبوب کی پہچان کا علم ہے۔۔۔ محبوب کو جان جاؤ تو ملنے والی ہرمحبت میں اُس کی جھلک ملتی ہے- ہرمحبت اُس سے قریب کر دیتی ہے- محبوب وہی ہے جو حقیقت میں خواب وخیال سے دُور ہوتا ہے۔۔۔ پرخواب وخیال کی دُنیا میں اُس سے بڑی حقیقت اورکوئی نہیں۔۔۔جس رنگ میں چاہو محسوس کر لو جو سوچو کہہ دو اور یہ سرشاری اُس کی دُوری کی کسک پر حاوی ہو جاتی ہے-
ہماری محبتیں گلاب کے پھول کی مانند ہوتی ہیں جو ہمارے آنگن سے باہر کہیں مہکتا ہے۔اور یہی بنیادی وجہ اُس سے دوری کےاحساس کی بھی ہے-
دل کے رشتے دل میں ہی رہ جاتے ہیں ۔۔۔دل کی ڈال میں دل سے لگے۔ جن کو بغاوت کر کے کسی طرح باہر لانے کی کوشش کی جائے تو مرجھانے لگتے ہیں۔شاخ سے ٹوٹا پھول کہاں تک وقت کی گردش کا مقابلہ کر سکتا ہے۔اُس کی نرمی۔۔۔اُس کا لمس صرف وہی محسوس کرتا ہے جس کے مقدر میں اترے۔زمانے کی آنکھ کی دسترس سے دور اُن کی اپنی دُنیا ہے۔ ہاں! اُن کی خوشبو ضرور دل سے نکل کر پورے بدن کو گل وگلزار بنا دیتی ہے۔انسان کو اپنے اس اعزاز کا ادراک ہو جائے تو اس کے اندر ایک نئی روح بیدار ہوتی ہے۔۔۔ایسی توانائی اورعزم عطا کرتی ہے کہ جو ناممکن کو ممکنات میں تبدیل کر دیتی ہے۔۔۔ لینے کی فکر سے بےنیاز کر کے محبت کی خوشبو داتا بناتی ہے۔۔۔ تو کہیں اُس کی تخلیقی صلاحیتوں کو مہمیز کرتی ہے۔۔۔کرب اور نارسائی کے دکھ میں لپٹی یہ ان چھوئی مہک  رنگوں اور لکیروں کی زبان میں کینوس پر اُترتی ہے۔۔۔تو کہیں سُروں کی لَےلفظوں کی موسیقیت میں ڈھل کر حال ِدل بیان کرتی ہے اور یوں  دیکھنے اور سُننے والے سر دُھنتے ہیں۔یہ احساس تخیّل کی بُلندیوں کو چھو جائے تو دُنیائے ادب کے شاہکار سامنے آتے ہیں۔جسم وجاں میں آکسیجن بن کر دوڑ جائے تو شوق ِ سفر کو مہمیز کرتا ہے اورانسان تلاشِ دوست میں ہمالیہ سر کر لیتا ہے- کبھی نارسائی کا کرب دردر بھٹکاتا ہے تو وہ ٹھوکریں کھاتا اپنے آپ کو فریب دیتا اللہ کے راستے پر چل پڑتا ہے - کبھی ایک خوابِ پریشاں جان کر ساری زندگی نظریں چُراتا ہے۔
بات صرف "اُس کی پہچان کی ہے اپنی پہچان کی ہے"اگر یہ خوشبو اصلی گلاب کی ہو تو اُس کی مہک اُس کی تازگی کبھی ساتھ نہیں چھوڑتی۔۔۔وہ بگڑے کام سنوارتی جاتی ہے۔۔۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ ہم اُس خوشبو کو قید کرنے کے تمنائی ہوتے ہیں۔اسی لیے ناآسودگی کی تپش میں جلتے ہیں - جان کر بھی نہیں جانتے کہ خوشبو کبھی گرفت میں نہیں آسکی - وہ پھول کی آغوش میں قرار پاتی ہے- پھول اگر گرفت میں آبھی جائے تو اپنی مہک کھو دیتا ہے کہ اُس کی نمو مٹی میں ہےاور خوشبو تو سانجھی ہوتی ہے - یہ پارس کی طرح ہے جو چھونے والے کو سونا بنا دیتا ہے پر اپنی شناخت پر حرف نہیں آنے دیتا ۔
"محبت کی خوشبو جہاں جس رنگ میں ملے اپنی ذات کے یقین کے ساتھ اُس کو محسوس کرنے میں دیر نہ کرو کہ وہ تمہاری طلب ہے اور تم اُس کی پہچان ہو۔

بدھ, مارچ 13, 2013

"ن والقلم "


سورۂ قلم (68) آیت 1
!ترجمہ
"نً اور قلم کی اور جو (اہل ِقلم) لکھتے ہیں اس کی قسم "
لفظ اچھے لگتے تھے لفظوں سے دوستی ہو گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ دوستی محبت میں بدل گئی، محبت نے اپنی جہت یوں تبدیل کی کہ ایک رشتے میں اپنے آپ کو سمو لیا اورپھر"میں اورتم " اب یہ حال ہے کہ ہر گزرتا پل لفظ میں سما جائے اور ہاتھ قلم بن جائیں- بے شک یہ اللہ کا کرم ہے.سوچ کی چمک انسانوں کے قریب لائی سوچ لفظوں میں ڈھلی تو لفظ کتابوں تک لے گئے اور پھر انسان اور کتاب ایک ہو گئے۔ہرانسان کتاب اورہرکتاب دوست بنتی چلی گئی وقت گزرا تو احساس جاگا کہ انسان کتاب کا عنوان ہے تو کتاب بھی تو انسانوں کی طرف واپسی کا سندیسہ ہے پھر کتاب کےساتھ ساتھ انسانوں کو پڑھنا شروع کیا تومحسوس ہوا ایک زندہ کتاب ہی کسی زندہ کتاب کو بہتر طورپر سمجھ سکتی ہے۔
علم کتاب میں نہیں زندگی میں ہے۔۔۔ کتاب بس علم کی تلاش میں مدد دیتی ہے۔کاغذ کی خوشبو میں لفظ محسوس کرنے والے نہیں جانتے کہ انسان سے زیادہ قیمتی کتاب اور کوئی نہیں۔لیکن اس قیمت کو دینے کی اہلیت بھی ہر کسی کا نصیب نہیں ۔ کبھی تو یہ زندگی کی تپتی دھوپ میں اپنا رنگ وروپ اجاڑتی ۔۔۔کوڑیوں کے مول ۔۔۔پرانی کتابوں کے ڈھیر کے ساتھ ۔۔۔ چھٹی والے روز۔۔۔خاموش ۔۔چپ چاپ ۔۔کسی کونے میں بےجان پڑی ملتی ہے۔۔۔تو کبھی کسی عالیشان گھر کے پیش قیمت کتابوں کے ریک میں سب سے اونچی جگہ دکھتی ہے۔ دل اس کے سرورق کی خوشبو اور رنگ کی رعنائی دیکھ کر چھونے کے لیے عقل کے ہاتھ چھڑا کر ایک ضدی بچے کی طرح بےدھڑک مچلتا ہے۔
اللہ کی پاک کتاب کی طرح انسان کی کھری کتاب بھی صرف اس کی دسترس میں آتی ہے جو احساس کی پاکیزگی سے مہکتا ہے تو غرض اور تعصب کے کھوٹ اور "شک" کی ملاوٹ سے پاک بھی ہونا ہے۔
سچ کی تلاش۔۔۔ اپنے آپ کی تلاش کا محور اور رہنما اگر اللہ کی کتاب ہے تو اس کا سرا زمین سے ملتا ہے۔۔ اپنے آپ سے ملتا ہے۔۔۔ اپنے جیسے انسان سے ملتا ہے۔۔۔اور پھر مور کی طرح اپنے پاؤں کی جانب دیکھ کر افسردہ بھی ہو جاتا ہے۔
لفظ اور کتاب سے دوستی رکھنے والے اس تلخ حقیقت کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں کہ اپنے اظہار کو لفظ کی صورت صرف اپنے پاس ہی محفوظ کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی اپنی عمر کے محدود حصار کے اندر۔ ہمارے جانے کے بعد تو سب ردی میں چلا جاتا ہے۔ کتاب کی صورت اپنے لفظ محفوظ کرنے کی خواہش تو ہر لکھاری کے دل میں رہتی ہے۔ لیکن کتاب کی چھپائی کے اخراجات عام آدمی کے بس کی بات نہیں.کسی طرح یہ مرحلہ طے بھی ہو جائے تو کتاب کی پزیرائی بھی ہر کسی کا نصیب نہیں.کتابوں کے بنڈل کتابوں کی دکانوں پر گردآلود ہوتےتو کبھی گھرکے سٹورروم میں ان چھوئے۔۔۔اُسی طرح بندھے رہ جاتے ہیں۔ کسی کے لکھے لفظ پڑھنا اگر ذوق کی علامت ہے تو ایک ایسا شوق بھی ہے جس کی قیمت یا تو جیب سے ادا کرنا پڑتی ہے اور یا پھر وقت سے۔ آج کل کے تیزی سے بدلتے دور میں لفظ تو وہیں موجود ہے لیکن اُنہیں پڑھنے کی اقدار بدل گئی ہیں ۔اب ہمارے پاس اپنے شوق اور ذوق کی تسکین کے لیے نہ جیب میں گنجائش ہے اور نہ ہی وقت اجازت دیتا ہے۔ ضروریاتِ زندگی سے سمجھوتہ کرتے کرتے اوروقت سے بچتے بچاتے اگر اپنے شوق وذوق کے لیے کچھ مہلت حاصل بھی ہو جائے تو وقت کی چوری سے مکمل تسکین پھر بھی نہیں ملتی۔
ہر وہ چیز جو ہمارے راستے میں آئے اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہےجو نہ دینے والا جانتا ہے اور نہ پانے والا۔
جیسے ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے اسی طرح ہر لفظ کے سمجھنے کا بھی ایک وقت ہوتا ہے۔زندگی میں ہم بےشمار لوگوں سے ملتے ہیں ۔۔۔بےشمار لفظ ہزار بار پڑھتے ہیں لیکن کبھی وہی شخص کچھ نیا دے جاتا ہے اور وہی لفظ پہلی بار سمجھ آتا ہے جسے یاد کر کے بھی بھول چکے ہوتے ہیں۔لیکن یہ اثر کب ہوتا ہے؟کیسے ہوتا ہے؟کیوں ہوتا ہے؟ہم نہیں جانتے اور یہ بھی نہیں کہ دل سے جو بات نکلے وہ کب ؟ اور کس کے دل کو چھو جائے؟ اور کس کے لیے لکھی ؟ یہ بھی ایک عجیب راز ہے۔شخصیت اہم نہیں خیال کی خیال تک رسائی اہم ہے۔ کسی انسان کو آئیڈیل بنانا ہمیشہ دکھ تکلیف کا باعث بنتا ہے کہ مکمل کوئی بھی نہیں ہوتا ۔ ہمارے پسندیدہ شاعر،لکھاری اور ہر وہ شخص جس کا کوئی ایک حرف ہی ہمارے دل کی زبان سمجھ جائےسب اسی زمرے میں آتے ہیں۔
جس طرح کہی سے زیادہ ان کہی غور کرنے اور محسوس کرنے کے لائق ہے۔۔۔جیسے لفظ پڑھتے ہوئے اس کی اہمیت سے انکار قطعی نہیں لیکن سطروں میں چھپے مفہوم جنہیں عام زبان میں "ان بٹ وین دی لائن" کہا جاتا ہےاپنی جگہ بہت خاص ہوتے ہیں۔۔۔ہمارے لیے نہ صرف نشان منزل ثابت ہوتے ہیں بلکہ ہمیں اپنی ذات کی آگاہی اور اس پر اعتماد بھی دیتے ہیں۔دنیا میں سانس لینے کے بعد ہمارا ایک ایک عمل ایک ایک رشتہ ایک ایک تعلق ہمارے لیے ہر گھڑی ایک نیا سبق عطا کرتا ہے۔ بات صرف غور کرنے کی ہے۔ کتاب مقدس کی تلاوت ہو یا انسانوں کے مابین رہ کر انہیں جانا جانا جائے جب تک پڑھنے سے زیادہ اُن پر "تفکر" نہیں کیا جائے گا کبھی بھی "روح" تک آشنائی کی لذت حاصل نہ ہو سکے گی۔بنا سمجھے بنا جانے محض تعظیم وتکریم کے بوسے دے کر "جسم" کودنیا وآخرت سنوارنے کی خوش خبری تو مل سکتی ہے لیکن قربت کی لذت کی آسودگی کبھی حاصل نہیں ہو سکتی ۔اللہ کی کتاب جس کا موضوع "انسان" ہے اور وہ آئی ہی انسان کی رہنمائی کے لیے ہے۔اس میں انسان کی ہر الجھن کا جواب موجود ہے۔ کتاب مقدس کو پڑھتے ہوئے کہیں سے بھی دیکھیں تو رب بار بار کہتا ہے۔"تم غور کیوں نہیں کرتے۔۔۔۔ تم سوچتے کیوں نہیں۔۔۔ الواقعہ ۔۔56 سورہ ،آیت 61،62 "۔
جس روز قران پاک محض پڑھنے کی بجائے ہمارے اندر جذب ہونے لگ جائےگا مسئلے اسی وقت حل ہونے لگیں گے۔
علم کی وسعت کے سامنے گنتی کے چند سالوں کی زندگی تو بہت ہی کم ہے۔ بس کمپیوٹرکے ہوم پیج کی طرح جو سامنےآئے اسے دیکھتے رہیں اور آگے بڑھتے رہیں۔ علم نافع تو بس کتاب اللہ ہی ہے۔ لیکن انسان کے لفظ کو محسوس کرنا اور اپنی زندگی میں تبدیلی لانا بھی عین حق ہے۔
کسی بھی قاری کی آنکھ سے پڑھا سکتا ہے۔لیکن اُس کے دل کی آنکھ سے محسوس نہیں کیا جاسکتا۔ ہر پڑھنے والا اپنے ظرف کی نگاہ سے لفظ کے اندر معنوں کے گہر تلاش کرتا ہے۔وہ تحریر جس میں زندگی کے احساسات کی ترجمانی ہوتی ہو جب تک جذب نہ ہو سمجھی نہیں جا سکتی۔ اور جذب کرنا ہر ایک کے اختیار میں ہے اور نہ ہی ظرف میں۔
آخری بات
یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہمیں ٹیپ ریکارڈر نہیں بننا ۔کیونکہ ہم تو بنے بنائے سپر کمپیوٹرز ہیں جن میں سب کچھ محفوظ ہو رہا ہے۔ کسی اور کے لیے نہیں بلکہ خود ہمارے لیے۔ نہ صرف آڈیو بلکہ ویڈیو بھی۔۔۔۔ ہمارے اعضائےجسمانی سے لے کر ذہن کے چھپے گوشوں تک کے افعال وکردار سب نہ ختم ہونے والی ہارڈ ڈرائیو میں بڑی چابک دستی سے من وعن محفوظ کیے جارہے ہیں۔ اللہ ہمیں اپنے لیے بہترین زاد راہ ساتھ لے جانے کی توفیق عطا فرمائے اور سوچ سمجھ کی دولت سے مالامال کرے۔آمین
آخری بات
لفظوں سے دوستی کرو وہ تمہیں اپنے دوستوں سے ملا دیں گے۔

منگل, مارچ 12, 2013

" سبق اسباق"

کچھ طالبِ علم سبق اچھی طرح یاد کرنے کے لیے اُسے بار بارلکھتے ہیں اور کچھ ایک بار لکھتے ہیں اوربار بارپڑھتے ہیں۔یہ پرچے کی تیاری کے بنیادی اُصول ہیں- امتحان کب سے جاری ہے۔ پرچہ کسی وقت بھی واپس لیا جاسکتا ہے۔اس لیے جتنا جلد سمجھ کر بےشک چند لفظ ہی لکھ دیئے جائیں کافی ہے۔ یہ کاتبِ تقدیر کا کام ہے کہ وہ ہمارے تھوڑےلکھے کو بہت جانے ورنہ صفحے کے صفحے کالے کر دیئے جائیں تو پھر بھی پاس ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں۔
ہمیں اپنے پرچے کو صرف ممتحن کے سامنے ہی پیش کرنا چاہیے کہ یہ راز ونیاز کی باتیں ہیں۔۔۔ اپنی کم مائیگی ،کم علمی کا اعتراف ہے۔ لیکن کیا کیا جائے۔۔۔ یہ بھی ایک اہم سبق ہے کہ جس گھاٹی سے گزریں اُس کے پیچ وخم سے پیچھے آنے والوں کو آگاہ کیا جائے کہ ہم بھی تو کسی جانے والے سے رہنمائی لے رہے ہیں۔ کسی کی نیکی کسی کے تجرباتِ زندگی ایک قرض ہوتے ہیں۔اگر ہمارا وقت ہماری سوچ اجازت دے تو لوٹانا ایک فرض بن جاتا ہے۔ یہ فرض اگر خلوصِ نیّت سے ادا کیا جائے تو اللہ اس کام میں برکت ڈال دیتا ہے۔ اورپھر جلوے ہی جلوے۔۔۔وقت ہی وقت۔
یوں بھی وقت تو ہمیشہ سے ہے لیکن ہم خود ہی گُزر جاتے ہیں۔ اورساری زندگی یہی رونا رہتا ہے کہ ہمیں وقت ہی نہیں ملا۔۔۔ہمارا وقت گزر گیا۔۔۔ہم جو چاہتے تھے وہ کر نہ سکے۔۔۔جو چاہت تھی وہ تشنہ رہ گئی۔۔۔اپنی پیاس بُجھا نہ سکے تو کس طور کسی اور کو سیراب کرتے۔۔۔- ہم تو خود اپنی ذات کی تکمیل کے لیے دردر بھٹکتے رہے ہم کس طرح دوسرے کو مکمل کرتے۔۔۔ہمیں تو کسی نے سہارا نہ دیا ہم کیوں کر کسی کی لاٹھی بنتے۔ ہمیں صرف اُس وقت سے ڈرنا چاہیے جب ہمارے سامنے ہماری کہانی رکھی جائے گی اور ساری وضاحتیں رد کر دی جائیں گی پھر ہمارے پاس کسی سوال کا کوئی جواب نہ ہو گا۔ 

۔"اللہ اُس وقت سے بچائے"- اس لیے دُنیا میں ہراُس سوال کا جواب یاد کر لو جس کا آگے سامنا ہو گا۔ سبق لکھنا،پڑھنا اور یاد کرنا بہت آسان ہےقابلیت صرف اُس کو سمجھنے اورعمل کرنے میں ہے۔ وقت کا سبق وقت پر سمجھ آجائے تو پرچہ حل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔سبق سمجھ آ جائے تو بتاتے ہوئے ڈر اس بات کا ہوتا ہے کہ پھر جلد امتحان دینا پڑتا ہے۔۔۔۔امتحان جتنا جلد ہو جائے اچھا ہے کہ تیاری تو آخری سانس تک مکمل نہیں ہو پاتی۔

" لانگ ڈرائیو "


دھند میں لپٹی زندگی
فقط "لونگ ڈرائیو" ہی تو ہے
بےسمت، بےمسافت
 اجنبی ہمسفر کے سنگ
ماہ وسال کی گنتی سے ماورا
 دسمبر تو بس اک بہانہ ہے

اتوار, مارچ 03, 2013

" نہ جانے کیوں "

 تم نہ ملو
  کچھ خالی خالی لگتا ہے
 جیسے
 پھول بغیر خوشبو کے 


"بند مٹھی میں دبی تتلی کی فریاد"


  مجھے آزاد کر دو
میں آنکھیں بند ہونے سے پہلے 
آنکھیں کھولنا چاہتی ہوں
۔۔۔۔۔۔
خواہشیں بھی توتتلیاں ہوتی ہیں
کوئی کہاں تک اُنہیں
قسمت کے
 کُھردرے لمس سے بچائے
۔۔۔۔۔پریاں کہانیوں میں
تتلیاں فضاؤں میں
اچھی لگتی ہیں
چھونے کی کوشش کرو
ہاتھ نہیں آتیں
ہاتھ آ جائیں تو
پریاں نہیں رہتیں
تتلیاں نہیں رہتیں
اِک ادھورا لمس رہ جاتا ہے
خالی رقص رہ جاتا ہے




" فاصلے کچھ اس طور مٹانے آئے"

 بے نور آنکھوں میں سپنے  سہانے آئے
 ڈھلتی شاموں کو نئے خواب جگانے آئے  
لمس کی چاہ میں وہ بھٹکتی رہی
چھونے کو جسے  کئی زمانے آئے
کہانی کہتے کہتے  پتھرا  گئی آنکھیں
 آج  نہ کوئی مجھ کو اُٹھانے آئے
 نیند میری ہو خواب اُس کے 
ہم سفر اس طرح سُلانے آئے 
 رقص کریں زلفوں میں اُنگلیاں اُس کی
 وعدۂ شب کبھی تو نبھانے آئے
ہجر کی آگ میں تنہا جلوں کب تک
اپنی بے قراری بھی تو سُنانے آئے
لب خاموش رہیں لمس باتیں کریں
 فاصلے کچھ اس طور مٹانے آئے
 خواب میں بھی بھولوں ممکن  نہیں
 وہ خواب میں بھی نہ منانے آئے
یہ بےرُخی عادت  نہیں اُس کی
 پاس آکر کیوں پھر رُلانے آئے

ہفتہ, مارچ 02, 2013

" پہلا قدم "

"مہارت"
 گہرے پانیوں سےگوہرِآبدارحاصل کرنےکے لیے تیراکی میں مہارت لازمی ہے۔ پرزندگی کےسمندرمیں غوطہ زن ہوکرتیرنا ہی اصل مہارت ہے۔اس مہارت کو حاصل کرنےمیں عمربیت جاتی ہے اورہم اپنے آپ میں کبھی اتنی صلاحیت نہیں پیدا کر پاتے کہ آگے بڑھ سکیں۔ ہمارے ساتھی اوراُستاد بھی خود اعتمادی بحال کرنے میں بہت کم معاون ثابت ہوتے ہیں۔ کوئی نہ کوئی کمی رہ جاتی ہے یوں ہم خواہش اورارادے کے درمیان معلّق رہتے ہیں۔
ہم میں سے بہت لوگ  کچھ کرنا چاہتے ہیں۔زندگی نے جو کچھ اُنہیں دیا ہےواپس لوٹانا چاہتےہیں۔اپنےتجربات دوسروں سے شئیر کرنا چاہتے ہیں۔یہ دُنیا بس ہماری آنکھیں بند ہونے تک ہی ہماری ہے۔اس کے بعد دُنیا ویسے ہی رواں دواں رہتی ہے لیکن ہم کسی اور رستے کے مسافر ہو جاتے ہیں۔ہمارے جانے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا بس ہماری خواہشیں ہمارے ساتھ دفن ہو جاتی ہیں۔اگرہماری کوئی سوچ کوئی خیال کسی کے دل ودماغ میں روشنی کی ایک چمک بن کر اُترجائے یاغوروفکر کا کوئی در وا کردے تو یہی حاصلِ زیست ہے۔
 اللہ نے ہر انسان کو احسن التقویم پر پیدا کیا ہے۔۔۔انسان دنیا کا ہرکام کر سکتا ہے شرط صرف مواقع اورماحول ملنے کی ہے۔ اورہم اِسی سے ناخوش ہوکراپنی ذات کے اندرقید ہو جاتے ہیں۔ ہمیں صرف پہلا قدم اُٹھانا ہے اللہ کو اپنے ہرکام میں شریک کرنا ہے۔ یاد رہے اللہ کےساتھ کسی کو شریک نہیں کرنا بلکہ اپنےکاموں میں اللہ کی توجہ کا طلب گارہونا ہے۔ پھر ہوتا یہ ہے کہ دروازے کُھلتے چلے جاتے ہیں۔۔۔ آنکھ ایک منظرسے سَیرنہیں ہو پاتی نیا منظرسامنے آجاتا ہے۔۔۔اگرکوئی راستہ بند ملتا ہے تو دوسرا دکھائی دے جاتا ہے۔

جمعہ, مارچ 01, 2013

' لوگ "

دُنیا  رنگارنگ انسانوں کے  احساس سے سجا کیا ہی  عجیب میلہ ہے جہاں زندگی گذارتے، زندگی نبھاتے کئی طرح کی سوچ کے حامل سامنے آتے ہیں۔ایک جوسوائےاپنی ذات کے دُنیا کی ہر چیزمیں کسی نہ کسی برائی کا پہلو ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ اپنے آپ سےتو مطمئن رہتے ہیں لیکن لوگوں کے حوالےسے کُڑھ کراپنی زندگی خود اجیرن بنا لیتے ہیں۔
ایک وہ جوصرف اپنےماضی حال مستقبل سے واسطہ رکھتے ہیں۔۔۔انہیں اپنے آپ سےغرض ہوتی ہے۔ یہ بڑے خوش فہم اور مثبت سوچ کے حامل دِکھتے ہیں۔۔۔ ہربرائی میں "اپنے لیے" اچھائی تلاش کرلیتے ہیں جیسے کہیں آگ دیکھ کر پہلے اپنے ہاتھ سینکتے ہیں بعد میں اردگرد سے لوگوں  کو مدد کے لیے پکارتے ہیں یا پھر اپنی راہ لیتے ہیں۔ پرائی آگ میں کُودنا اِن کے نزدیک سراسر حماقت ہوتی ہے۔
ایک لوگوں کی قسم وہ بھی ہے جو کمی یا کوتاہی 
 سب سے پہلےاپنی ذات میںتلاش کرتے ہیں۔۔۔انہیں جو برائی دوسروں میں نظر آتی ہے پہلےاُسے اپنی ذات میں کھوجتے ہیں۔۔۔ اپنی کمی کو دُور کرنے کی سعی کرتے ہیں۔۔۔لوگوں کی بُرائیوں کی تہہ تک جاتے ہیں۔۔۔اُن کی کم عقلی کا ماتم کرتے ہیں یہ سوچتے ہوئے کہ برائی سب سے پہلے کرنے والے کو ہی نقصان پہنچاتی ہے۔دُنیا میں کسی کو بھی کوئی ایک شخص ایسا نہیں ملا جو اُس کی کہی ان کہی کو سمجھ سکے۔۔۔اُسے محسوس کرے۔۔۔ اُس کی روح کی گہرائی تک سکون وطمانیت اُتار دے۔
ہمارے قریب آنے والے ذہنی طور پر یا تو ہم سے بہت پیچھے ہوتے ہیں یا ہم سے بہت آگے۔ جو پیچھے دِکھتے ہیں اُن سے ہم دُوربھاگتے ہیں۔۔۔دُنیا کےہجوم میں تنہائی کی نعمت میسرہونے کو اِپنی بدقسمتی جانتے ہیں۔۔۔اپنے آپ کو اُس پانی کی طرح محسوس کرتے ہیں جو پیاس بجھانے کی بجائے مسلسل ضائع ہو رہا ہو۔۔۔اپنی میں اپنی ذات میں بادشاہ بن کر اپنا دربار لگاتے ہیں۔۔۔ خودساختہ فخر کا چولا پہن کر اپنی تاج پوشی کرتے ہیں۔۔۔دوسروں کو اُن کے حال پرچھوڑتے ہیں تو اپنے حال سے بھی کُلی طور پر مطمئن نہیں ہوتے۔اس دوران ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو ہمیں اپنے سے آگے نظر آتے ہیں۔اُن کی طرف حسرت سے دیکھتے ہیں ،رشک سے اور یا حسد سے۔۔۔اُن جیسا بننا چاہتے ہیں۔اسی آنکھ مچولی میں زندگی گزرتی رہتی ہے زندگی گزر بھی جاتی ہے،کبھی آنکھ سے عقیدت یا بےتوجہی کی پٹی اُتار کر دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جس کی چمک دمک آنکھیں خیرہ کیے دیتی تھی وہ محض سرابِ نظر کےسوا کچھ نہیں۔یوں بھی ہوتا ہے کہ جو  دور سے بےکشش دکھتے ہیں قریب جانے پر اُن کے مدار سے نکلنا محال ہو جاتا ہے۔ یہی زندگی ہے اور زندگی کے ہر رنگ کو بقدرِظرف اپنانا اور ایمانداری سے برتنا ہی زندگی کا حسن اور سکون ہے۔
 وقت پر انسان کی پہچان ہی اصل امتحان ہےجو ہمیں اپنی ذات کا علم عطا کرتا ہے۔انسانوں کو پرکھنے میں ہماری"غلطی" بہت بڑا سبق بھی دے جاتی ہے ۔۔۔ہمیں بہت سی غلط فہمیوں سے نجات دلا کر اس کی قربت سے آشنا کرتی ہے جو صرف ہمارا ہوتا ہے اورصرف وہی جانتا ہے کہ ہمارے حق میں کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔۔۔ ہم جس طرح زندگی میں ملنے والے اچھے لوگوں اور خوشبو احساس کے شکرگزار رہتے ہیں کہ وہ ہماری پہچان رکھتے ہیں اسی طرح ملنے والے برے لوگوں اور ٹھوکروں کا بھی ممنون ہونا چاہیے جو ہمیں خود ہماری اپنی پہچان سے آشنا کرتے ہیں۔

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...