منگل, مارچ 12, 2013

" سبق اسباق"

کچھ طالبِ علم سبق اچھی طرح یاد کرنے کے لیے اُسے بار بارلکھتے ہیں اور کچھ ایک بار لکھتے ہیں اوربار بارپڑھتے ہیں۔یہ پرچے کی تیاری کے بنیادی اُصول ہیں- امتحان کب سے جاری ہے۔ پرچہ کسی وقت بھی واپس لیا جاسکتا ہے۔اس لیے جتنا جلد سمجھ کر بےشک چند لفظ ہی لکھ دیئے جائیں کافی ہے۔ یہ کاتبِ تقدیر کا کام ہے کہ وہ ہمارے تھوڑےلکھے کو بہت جانے ورنہ صفحے کے صفحے کالے کر دیئے جائیں تو پھر بھی پاس ہونے کی کوئی گارنٹی نہیں۔
ہمیں اپنے پرچے کو صرف ممتحن کے سامنے ہی پیش کرنا چاہیے کہ یہ راز ونیاز کی باتیں ہیں۔۔۔ اپنی کم مائیگی ،کم علمی کا اعتراف ہے۔ لیکن کیا کیا جائے۔۔۔ یہ بھی ایک اہم سبق ہے کہ جس گھاٹی سے گزریں اُس کے پیچ وخم سے پیچھے آنے والوں کو آگاہ کیا جائے کہ ہم بھی تو کسی جانے والے سے رہنمائی لے رہے ہیں۔ کسی کی نیکی کسی کے تجرباتِ زندگی ایک قرض ہوتے ہیں۔اگر ہمارا وقت ہماری سوچ اجازت دے تو لوٹانا ایک فرض بن جاتا ہے۔ یہ فرض اگر خلوصِ نیّت سے ادا کیا جائے تو اللہ اس کام میں برکت ڈال دیتا ہے۔ اورپھر جلوے ہی جلوے۔۔۔وقت ہی وقت۔
یوں بھی وقت تو ہمیشہ سے ہے لیکن ہم خود ہی گُزر جاتے ہیں۔ اورساری زندگی یہی رونا رہتا ہے کہ ہمیں وقت ہی نہیں ملا۔۔۔ہمارا وقت گزر گیا۔۔۔ہم جو چاہتے تھے وہ کر نہ سکے۔۔۔جو چاہت تھی وہ تشنہ رہ گئی۔۔۔اپنی پیاس بُجھا نہ سکے تو کس طور کسی اور کو سیراب کرتے۔۔۔- ہم تو خود اپنی ذات کی تکمیل کے لیے دردر بھٹکتے رہے ہم کس طرح دوسرے کو مکمل کرتے۔۔۔ہمیں تو کسی نے سہارا نہ دیا ہم کیوں کر کسی کی لاٹھی بنتے۔ ہمیں صرف اُس وقت سے ڈرنا چاہیے جب ہمارے سامنے ہماری کہانی رکھی جائے گی اور ساری وضاحتیں رد کر دی جائیں گی پھر ہمارے پاس کسی سوال کا کوئی جواب نہ ہو گا۔ 

۔"اللہ اُس وقت سے بچائے"- اس لیے دُنیا میں ہراُس سوال کا جواب یاد کر لو جس کا آگے سامنا ہو گا۔ سبق لکھنا،پڑھنا اور یاد کرنا بہت آسان ہےقابلیت صرف اُس کو سمجھنے اورعمل کرنے میں ہے۔ وقت کا سبق وقت پر سمجھ آجائے تو پرچہ حل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔سبق سمجھ آ جائے تو بتاتے ہوئے ڈر اس بات کا ہوتا ہے کہ پھر جلد امتحان دینا پڑتا ہے۔۔۔۔امتحان جتنا جلد ہو جائے اچھا ہے کہ تیاری تو آخری سانس تک مکمل نہیں ہو پاتی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...