بدھ, اگست 30, 2017

قرانِ پاک کی سورتیں

  قران پاک کی وہ سورتیں جوایک سے زیادہ ناموں سے جانی جاتی  ہیں۔۔۔
٭ 1)سورۂ فاتحہ(1)۔۔۔ سورۂ واجبہ۔۔اُم القران
٭2)سورۂ التوبہ(9)۔۔سورۂ البراءَۃ۔
٭3)سورۂ بنی اسرائیل(17) ۔۔۔۔سورۂ الاسراء
٭ 4)سورۂ فاطر(35)۔۔سورۂ الملائکہ۔۔
٭5) سورۂ یسٰین(36)۔۔قلب القران
٭ 6)سورۂ المومن(40)۔۔۔سورۂ ٖ غافر
٭7)سورۂ حٰم السجدۂ (41)۔۔ سورۂ فُصِّلَت
٭8)سورۂ محمد(47) ۔۔سورۂ قتال
٭ 9)سورۂ الطلاق(65) ۔۔نساء صغرٰی
٭10)سورۂ المجادلہ(58)۔۔۔سورۂ ظہار
٭ 11)سورۂ ملک(67)۔۔سورہ تبارک ۔۔سورۂ  مانعہ ( باز رکھنے والی)،سورۂ واقیہ (حفاظت کرنے والی) ،سورۂ  منّاعہ(بہت زيادہ باز رکھنے والی اور روکنے والی)۔
٭12)سورۂ القلم(68)۔۔۔سورۂ ن۔۔
٭13)سورۂ دہر(76)۔۔۔سورۂ الانسان
٭14)سورہ النباء (78)۔۔ سورہ تساؤل اور سورۂ عَمَّ يَتَسَاۗءَلُوْنَ۔ 
٭15)سورۂ الکافرون(109) ۔۔ربع قران
٭16)سورۂ اخلاص(112)۔۔سورۂ صمد۔۔سورۂ نجات۔۔سورۂ اساس۔۔سورۂ معوذۂ۔۔سورۂ تفرید۔۔سورۂ تجرید۔۔۔سورۂ جمال۔۔سورۂ ایمان۔
٭17) سورۂ فلق(113)،سورۂ الناس(114)۔۔۔معوذتین

"سجدۂ تلاوت"

قران پاک کی  آیاتِ کریمہ کی تلاوت کرتے ہوئے یا سنتے ہوئے پندرہ  ایسے متعین  مقامات  ہیں  جہاں رُک کر سجدہ کرنا واجب ہے۔ان میں سے چودہ  مقاماتِ سجدہ تو متفق علیہ ہیں جبکہ سورۂ حج کے دوسرےسجدے(آیت77) میں کچھ آئمہ کرام کے نزدیک اختلاف ہے۔ ایسے تمام  پندرہ مقاماتِِ  سجدہ تلاوت  درج ذیل ہیں۔ 
٭1)سورۂ االاعراف(7)۔۔ آیت 206 ۔
٭2)سورۂ الرعد (13) آیت 15۔
٭3) سورۂ النحل(16)  آیت 49 ۔
٭4)سورۂ الاسراء (17) آیت 107۔(109) ۔
٭5) سورۂ مریم۔(19)۔آیت 58۔ 
٭6)سورۂ الحج(22)آیت 18۔۔
٭7) سورۂ الحج(22)آیت 77  (بقول امام شافعی)۔
٭8) الفرقان(25) آیت60۔۔
٭9) سورۂ النمل(27)۔۔۔آیت 25۔
٭10)سورۂ السجدہ(32)۔۔۔آیت 15۔
٭11)سورۂ ص(38) آیت 24۔
٭12)سورۂ حم السجدہ۔(41)۔۔ آیت 37 ۔(38)۔
٭13) سورۂ النجم(53)۔آیت 62۔
٭14)سورۂ  الانشقاق(84)۔۔۔آیت 21۔
٭15)سورۂ العلق(96)۔۔آیت 19۔

جمعہ, جولائی 28, 2017

"ہم سے پہلے"

۔"ہم سے پہلے"۔۔۔کالم جاویدچودھری۔۔۔جمعرات‬‮ 72 جولائی‬‮ 
بھارت کے کسی صحافی نے اٹل بہاری واجپائی سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں پوچھا ‘واجپائی نے مسکرا کر جواب دیا ’’مشرف کو سینس آف ہسٹری نہیں تھی‘‘ آپ کو یہ جواب یقینا عجیب محسوس ہوگا لیکن آپ جب گہرائی میں جا کر دیکھیں گے تو معلوم ہوگا لیڈروں اور قوموں کیلئے
سینس آف ہسٹری لازم ہوتی ہے‘ آپ اگرتاریخ کے بہاؤ کو نہیں سمجھتے تو آپ حال سے بھی ناواقف ہوتے ہیں اور آپ مستقبل بھی تعمیر نہیں کر سکتے‘ آپ خلاء میں گردش کرتے رہتے ہیں‘ یہ ایک تلخ حقیقت ہے اور دوسری تلخ حقیقت یہ ہے ہم اور ہمارے لیڈر دونوں سینس آف ہسٹری سے محروم ہیں چنانچہ ہم ستر برس سے اندھوں کی طرح ہاتھی کی دم کو پورا ہاتھی سمجھ رہے ہیں اور یہ ہمارا بنیادی مسئلہ ہے۔میں اپنی جذباتی قوم کو پوری ’’سینس آف ہسٹری‘‘ نہیں دے سکتاتاہم میں دونقطے پیش کرسکتا ہوں‘ ہم ان نقطوں پر غور کر کے اپنے بےشمارفکری قبلے درست کر سکتے ہیں‘ ہم پہلے جمہوریت کی طرف آتے ہیں‘ پاکستان میں ستر برسوں میں 23 سویلین وزیراعظم آئے‘ چھ وزراء اعظم نگران اور 17 باقاعدہ وزیراعظم بنے‘ ان17 وزراء اعظم میں سے کوئی اپنی مدت پوری نہیں کر سکا‘ یہ تمام لوگ خوفناک انجام کا شکار بھی ہوئے‘۔
 آپ خان لیاقت علی خان سے شروع کر لیجئے‘ یہ چار سال وزیراعظم رہے ‘ راولپنڈی میں شہید کر دیئے گئے‘۔
خواجہ ناظم الدین دو سال وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے اور باقی زندگی مشرقی پاکستان میں گمنامی میں گزار دی‘۔
محمدعلی بوگرہ سال سال کے دو دورانیے میں دو سال وزیراعظم رہے‘ہٹا دیئے گئے اور خاموشی سے ڈھاکہ میں فوت ہوگئے‘۔ 
چودھری محمدعلی ایک سال وزیراعظم رہے‘ ہٹا دئیے گئے اور باقی زندگی عسرت میں گزار دی‘۔
حسین شہیدسہروردی ایک سال وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے‘ مایوس ہو کر وطن چھوڑا اور لبنان میں انتقال کر گئے‘۔
اسماعیل احمدچندریگر دو ماہ وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے اور مایوسی میں لندن میں فوت ہوئے‘ ۔
فیروزخان نون دس ماہ وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے‘ سیاست سے کنارہ کش ہوئے اور اپنے گاؤں نورپور نون میں انتقال کر گئے‘۔
نورالامین 13 دن کیلئے وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے اورراولپنڈی میں گمنامی میں انتقال کر گئے‘۔
ذوالفقارعلی بھٹو پہلے تین سال سات ماہ وزیراعظم رہے پھر چار ماہ کیلئے وزیراعظم بنے‘ ہٹائے گئے اور پھانسی چڑھا دیئے گئے‘۔
 محمدعلی جونیجو اڑھائی سال وزیراعظم رہے‘ہٹا دیئے گئے اور مایوسی میں انتقال ہوا‘۔
بےنظیر بھٹو دو بار وزیراعظم بنیں دونوں بار اڑھائی اڑھائی سال بعد ہٹا دی گئیں‘ جلا وطن رہیں اور آخر میں شہید ہو گئیں‘۔
 میاں نواز شریف دو بار وزیراعظم بنے‘ دونوں بار اڑھائی اڑھائی سال بعد ہٹا دیئے گئے‘ جلاوطن ہوئے‘ واپس آئے‘ تیسری بار وزیراعظم بنے اور ہٹائے جا رہے ہیں'(28 جولائی 2017کو سپریم کورٹ نے نااہل قرار دیتے ہوئے نوازشریف کو  وزیرِاعظم کے عہدے سے برطرف کر دیا)۔
میر ظفر اللہ جمالی واحد بلوچ وزیراعظم تھے‘پونے دو سال بعد ہٹا دیئے گئے اور مایوسی‘ تاسف اور گمنامی میں زندگی گزار رہے ہیں‘۔
 شوکت عزیز تین سال وزیراعظم رہے‘ ملک سے باہر گئے اور دوبارہ واپس نہیں آئے‘ ۔
یوسف رضا گیلانی چار سال وزیراعظم رہے‘ ہٹا دیئے گئے‘ عدالتو ںمیں کیس بھگت رہے ہیں۔
راجہ پرویز اشرف آٹھ ماہ وزیراعظم رہے ‘ یہ بھی اس وقت نیب کے مقدمات فیس کر رہے ہیں‘۔
وزراء اعظم کی اس ہسٹری سے تین سینس ملتی ہیں‘۔۔۔۔
 اول‘ہمارا کوئی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کرتا‘یہ ہٹایا جاتا ہے اور یہ ہٹائے جانے کے بعد عبرت اور مایوسی کی زندگی گزارتا ہے‘۔
دوم‘ ہمارا ہر وزیراعظم عدالتوں میں دھکے ضرور کھاتا ہے اور یہ دھکے کھاتے کھاتے آخر میں گمنامی میں مرجاتا ہے اور
سوم ملک کے 17وزراء اعظم میں سے گیارہ انتقال کر چکے ہیں‘ قوم ذوالفقارعلی بھٹو اور بےنظیر بھٹو کے علاوہ کسی کی قبر سے واقف نہیںیہ تمام قصہ پارینہ بن چکے ہیں‘ ۔
آپ اب دوسری سینس آف ہسٹری ملاحظہ کیجئے۔پاکستان میں چار مارشل لاء لگے‘ جنرل ایوب خان‘جنرل یحییٰ خان‘ جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویزمشرف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنے‘ جنرل یحییٰ خان کے سوا تین جرنیلوں نے دس دس سال حکومت کی‘ جنرل ضیاء الحق کا اقتدار شہادت کے بعد ختم ہوا جبکہ باقی تینوں جنرلز عوامی تحریک کے ذریعے فارغ ہوئے ‘ تینوں کے خلاف مقدمے بنے لیکن کسی مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوا‘ کسی کو سزا نہیں ہوئی‘ پاکستان میں جب بھی فوجی حکومت آئی خطے میں کوئی نہ کوئی جنگ ضرور ہوئی ‘امریکا نے پاکستان کواپنااتحادی بنا کر اس جنگ میں ضرور جھونکااور آخر میں پاکستان اور فوجی آمر دونوں کو اکیلا چھوڑ دیا‘ جنرل ایوب کے دور میں امریکا اور سوویت یونین کی ’’کولڈ وار‘‘ہوئی‘ پاکستان روس کے خلاف امریکا کا اتحادی بنا‘ ہم نے اپنے فوجی اڈے تک دیئے اور ایوب خان کے دور میں 1965ء کی جنگ بھی ہوئی‘ امریکا نے یحییٰ خان کو چین کیلئے کے لئے استعمال کیا‘ 1971ء کی جنگ ہوئی‘ پاکستان ٹوٹ گیااور امریکا نے یحییٰ خان کو بھی اکیلا چھوڑدیا‘ جنرل ضیاء الحق کے دور میں افغان وار ہوئی‘امریکا نے پاکستان کو جی بھر کر استعمال کیا اور اکیلا چھوڑ دیا اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ہوئی‘پاکستان اس بار بھی امریکا کااتحادی بنا اور خوفناک نقصانات اٹھائے۔
 ہم اگر تاریخ کی ان دونوں سینسز کو سامنے رکھیں تو ہم بڑی آسانی سے چند نتائج اخذ کر سکتے ہیں‘۔
 ہمارا پہلا نتیجہ یہ ہو گا پاکستان میں کوئی جمہوری وزیراعظم اپنی مدت پوری نہیں کر سکتا‘ اقتدار سے رخصت ہونے والا ہر وزیراعظم گمنامی‘جلاوطنی اور مقدمے بھگتے گا اور اگریہ خاموشی اختیار نہیں کرے گا تو اس کی قبر پر گز گز لمبی گھاس اگ آئے گی‘۔
دوسرا نتیجہ‘ فوجی اقتدار کم از کم دس سال پر محیط ہو گا‘ ان دس برسوں میں کوئی نہ کوئی جنگ ضرور ہوگی‘پاکستان اس جنگ کا اتحادی بنے گا ‘ امریکا آخر میں پاکستان اورفوجی آمر دونوں کو تنہاچھوڑد ے گا‘ پاکستان پر مزید امریکی پابندیاں لگیں گی‘ ملک مزید کمزور ہو گا‘ جمہوری حکومت آئے گی‘ نئے لیڈر ڈویلپ ہوں گے‘یہ ایک دو برسوں کے اقتدار کے بعد اختیار مانگیں گے ‘یہ ہٹا دیئے جائیں گے‘یہ مقدمے بھگتیں گے‘یہ جلاوطن ہوں گے اور یہ تڑپتے سسکتے ہوئے گمنامی میں انتقال کر جائیں گے‘۔
تیسرا نتیجہ‘ ملک میں ہر ’’تبدیلی‘‘ کے بعد پہلے سے زیادہ کم عقل‘ نالائق‘ ناتجربہ کار اور کرپٹ لوگ اوپر آئیں گے‘ یہ لوگ بھی جب ضمیر کا بوجھ اٹھا اٹھا کر تھک جائیں گے‘ یہ جب ملک اور سسٹم سے مخلص ہو جائیں گے تو یہ بھی ہٹا دیئے جائیں گے اور ان کی جگہ ان سے بدتر لوگ سامنے آ جائیں گے‘آپ کو اگر یقین نہ آئے تو آپ کسی دن پارلیمنٹس کا ڈیٹا جمع کر لیجئے آپ کو ہر نئی پارلیمنٹ پرانی پارلیمنٹ کے مقابلے میں زیادہ نالائق اور زیادہ کرپٹ لوگوں کا مجمع ملے گی‘ آپ کو ملک میں ہر وہ شخص بھی زیادہ دیر تک مسند اقتدار پر نظر آئے گا جس نے کچھ نہیں کیا اور ہر اس شخص کی مدت کم ہوگی جو کچھ کرنے کی غلطی کربیٹھا ہو‘ ایوب خان کے مارشل لاء سے پہلے سات لوگ مسند اقتدار تک پہنچے‘ان میں سے ایک نے آئین بنانے کی غلطی کی اور وہ عبرت کی نشانی بن گیااور 
چوتھا نتیجہ ‘ ہماری ستر برس کی تاریخ نے ہماری جمہوریت اور فوج دونوں کے درمیان اختلافات پیدا کئے‘ دونوں کے درمیان خلیج پیدا ہوئی اور جمہوریت اور فوج دونوں اس خلیج سے کمزور ہوتے چلے گئے‘اس خلیج نے ہمارا بیوروکریٹک سسٹم بھی تباکر دیا‘ ملک میں احتساب اور انصاف کا جنازہ بھی نکل گیا اور ملک میں سیاسی چیلوں کا ایک ایسا غول بھی پیدا ہوگیا جو ہر وقت اقتدار کی خوراک کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے‘یہ لوگ پرانا تالاب سوکھنے سے پہلے اڑ جاتے ہیں اور جہاں نئے چشمے کے آثار پیدا ہوتے ہیں یہ وہاں ڈیرے ڈال لیتے ہیں‘ ان سیاسی چیلوں نے پورے ملک کا کلچر خراب کر دیا ‘ ہم سب مفادپرست ہو چکے ہیں اور ہم سب روز داؤ لگانے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں‘ ہمارا پورا معاشرہ گل سڑ چکا ہے۔ہمارے پاس اب کیا آپشن ہیں‘ ہمارے پاس اب دو آپشن ہیں‘ ہم یہ سلسلہ اسی طرح چلنے دیں اور قدرتی عمل کے بعد تاریخ کے خاموش قبرستان میں دفن ہو جائیں یا پھر ہم تاریخ کا دھارا بدل دیں‘ ہم اگر دوسرا آپشن لیتے ہیں تو پھر ہمیں یہ بات پلے باندھنا ہو گی کہ یہ ملک فوج کے بغیر بچ نہیں سکتا اور یہ جمہوریت کے بغیر چل نہیں سکتا چنانچہ دونوں طاقتوں کو ایک پیج پر آنا ہوگا‘ دوسرا‘ فوج اور عدلیہ کسی قیمت پر سیاست میں مداخلت نہ کریں‘ سیاسی جنگیں ہونے دیں‘یہ جنگیں سیاست کو خودبخود ٹھیک کر لیں گی اور تیسرا‘سیاسی قائدین قسم کھا لیں یہ پارٹی کو پارٹی کی طرح چلائیں گے‘ یہ اسے جاگیر یا فیکٹری نہیں بنائیں گے‘ یہ دوسروں کوغیر جمہوری طریقے سے ہٹائیں گے بھی نہیں اور عوام بھی یہ فیصلہ کر لیں ہم اپنے ووٹ کو جائےنماز کی طرح پاک رکھیں گے‘ یہ ملک بچ جائے گا ورنہ دوسری صورت میں ہمارے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں بچے گا اور ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا احتساب اور انصاف کے بغیرکوئی ملک ترقی نہیں کرتا‘ترقی بالٹی کی طرح ہوتی ہے اور کرپشن اور ناانصافی اس بالٹی کے سوراخ ہوتے ہیں‘ ہم جب تک یہ سوراخ بند نہیں کریں گے ہماری بالٹی اس وقت تک نہیں بھرے گی چنانچہ میاں نواز شریف کی موجودگی میں ہو یا پھر ان کے بعد ہو ہمیں بہرحال احتساب اورانصاف کا مضبوط سسٹم بنانا ہوگا‘ ایک ایسا سسٹم جو اگر مشرق کو مغرب کہہ دے تو پھر مغرب مشرق ہو جائے‘ کوئی اس ہونے کو روک نہ سکے اور ہم اگر یہ نہیں کرتے تو پھر ہمارے ساتھ وہ ہو کر رہے گا جو ہم سے پہلے تاریخ میں ہم جیسی قوموں کے ساتھ ہوتا رہا تھا۔

جمعہ, جون 23, 2017

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق  ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک  برس کے دوران "دلیل ویب سائیٹ" پر میری  چھیاسٹھ(66) تحاریر شائع ہوئیں،جن کی  ماہ بہ ماہ تفصیل کچھ یوں ہے۔
ویب سائیٹ "دلیل" پر2016 سے شائع ہونے والی تحاریر۔۔۔۔۔
(6)۔2016۔۔۔اگست (1) ۔۔۔ ستمبر(10)۔۔۔ ۔اکتوبر(11)۔۔ نومبر(6)۔۔۔ دسمبر
۔2017۔۔ ۔جنوری (7)۔۔۔ فروری(7) ۔۔۔۔مارچ(7) ۔۔اپریل (4)۔مئی (3)۔ جون(4)۔

۔"دلیل ویب سائیٹ" کی سالگرہ کے لیے لکھی گئی خصوصی  تحریر۔۔
دلیل کا سفر اور کارواں کی تشکیل"- نورین تبسم"
۔27 رمضان1437ھ۔۔۔27رمضان 1438ھ
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
 ایک فرد اور پھر ایک گروپ کی سوچ سے آغاز کرنے والی" دلیل ویب سائیٹ"کے قیام  کو ایک برس مکمل ہوا۔دلیل انتظامیہ کو سفرِ بخیر کی بہت بہت مبارکباد۔دلیل  جڑنے والا تعلق دو جہتیں لیے ہوئے ہے۔۔۔ ایک قاری اور دوسرا لکھاری۔بحیثیت قاری  بات کی جائے تو "دلیل"حالاتِ حاضرہ  اور معاشرتی مسائل سے لے کر فرد کے ذاتی احساسات،مشاہدات اور تجربات کی نمائندگی کرتی تحاریر سے سجا ایسا رنگارنگ گلدستہ ہے جو آنے والے ہر قاری کی اس کی ذہنی سظح  اور اخلاقی رجحان پر آ کر تسلی وتشفی کرتا ہے۔"دلیل"پر نہ صرف کئی منفرد تحاریر پڑھنے کو ملتی ہیں بلکہ اخبارات  میں شائع ہونے والے کالمز کا عمدہ انتخاب  بھی "دلیل" کو ہم سب کے لیے خاص بنا دیتا ہے۔ 
بطور لکھاری محسوس کروں تو "دلیل"  اپنے لکھنے والوں کو ایک باوقار اور پُراعتماد  فضا فراہم کرتی ہے جہاں وہ  حدودوقیود کے اندر رہتے ہوئے  دل کی بات کہہ سکتے ہیں۔
  دلیل میں  قاری کی سہولت کے لیے کچھ تجاویز۔۔۔۔
٭ دلیل میں روزانہ کی بنیاد پر شائع ہونے والی تحاریر کی فہرست آنی چاہیے تا کہ قاری کو پتہ چلے کہ آج کتنی اور کون کون سی تحاریر  سامنے آئیں۔
٭ آن لائن اخبار میں "گذشتہ شماروں" کی طرز پر دلیل میں  بھی سابقہ تحاریر کی ایک مربوط  جگہ ہونی چاہیے جہاں قاری 
گذشتہ روز،گذشہ ہفتے  اور پھر پورے مہینے کی تحاریر  پر نظر ڈال سکے۔
٭ ہفتے کی بہترین تحریر یا مہینے کی عمدہ تحریر کی نشاندہی ضرور ہونی چاہیے۔ اس کے لیے  پوسٹ ویوز کے طریقِ کار سے ہٹ کر کچھ طے کیا جانا چاہیے کہ کبھی بہت ہی اچھی اور منفرد تحریر کو بھی بہت کم ویوز دکھائی دیتے ہیں۔
دلیل  میں لکھاری کے لیے۔۔۔
٭ دلیل میں شائع ہونے کے بعد اپنی کسی تحریر میں املاء  کی کوئی غلطی دکھائی دے جائے تو اسے ٹھیک کرنا محال ہو جاتا  ہے۔ جیسے کہ ہم اپنے بلاگ میں کوئی بھی تحریر پوسٹ کیے جانے کے بعد کبھی بھی  ایڈٹ کر کے  اُس کی درستگی  کر سکتے ہیں۔
٭ دلیل میں ڈائجسٹ ٹائپ کی سنسی خیز  طویل اور قسط وار تحاریر کی گنجائش  بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ ایک تو وقت کا زیاں دوسرے یہ دلیل   کے قاری کے مزاج پر گراں گذرتی ہیں۔ 
٭بےشک دلیل بنانے کا مقصد اللہ کی رضا میں رہتے ہوئے علمِ نافع کا حق ادا کرنے کی ادنیٰ سی کوشش ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ دلیل ویب سائیٹ مکمل طور پر  دعوت وتبلیغ کی اسلامی ویب سائیٹ نہیں کہ جس کے اجر کا ذمہ اللہ کے سوا کسی کے  پاس نہیں۔دلیل انتظامیہ کو ایک قدم اور  آگےبڑھتے ہوئے اشتہارات  یا سپانسرشپ کی طرف جانا چاہیے۔یہ دوسری بات ہے کہ اس میں بھی اسلامی اقدار  اور اخلاقیات  کو پہلی ترجیح دی جائے۔ یہ کوئی بری بات ہرگز نہیں بلکہ اس سے دلیل کے لیے کام کرنے والے "رضاکاروں" کی حوصلہ افزائی ہو گی اور وہ اپنے وقت اور علم  کو بہتر طریقے سے دلیل کے لیے وقف کر سکیں   گے۔رہی بات دلیل مصنقین کی تو اپنی سوچ کو لفظ میں ڈھالنے کے بعد لکھنے والے کا سب سے بڑا انعام ہی یہی  ہے کہ اس کے لفظ کسی کی نگاہ کو چھوتے ہوئے اُس کے دل میں اتر جائیں۔ دلیل مصنفین کے لیے ہرگز کسی قسم کے  مالی فوائد  کا اجراء نہیں ہونا چاہیے اس سے ایک تو لکھنے والے کی ذہنی آزادی متاثر ہوتی ہے اور دوسرے بلاوجہ کی چپقلش یا تعصب کا شائبہ بھی جھلکتا ہے۔
آخری بات 
دلیل ویب سائیٹ کی مزید کامیابیوں اور کامرانیوں کے لیے بہت سی دعائیں۔ دلیل انتظامیہ کی تہہِ دل سے مشکور ہوں کہ اُن کے  اعتماد کی بدولت میری تحاریر کا میرے بلاگ سے دلیل کی طرف سفر جاری رہا۔ 

منگل, جون 20, 2017

"رمضان،روزہ اور ہم"

رمضان المبارک1438ھ بمطابق  جون 2017
" دہشت گردی سے شرانگیزی کی جنگ تک "
اس میں شک نہیں کہ روزہ روزہ ہوتا ہے،دورانِ روزہ  چاہے"سو سو کر جاگا جائے" یا جاگ جاگ کر سویا جائے۔ کیا دور آگیا ہے کہ وہ محاورے ماضی میں جن کی وضاحت کرنا پڑتی تھی آج من وعن اُسی طرح برتے جا رہے ہیں۔ بات ہو رہی تھی سو سو کر جاگنے کی تواس کا عملی ثبوت ہمیں اپنی زندگیوں میں یوں اُمڈ اُمڈ کر ملتا ہے جب راتوں کو جاگنے والے صبح دم گھوڑے گدھے بیچ کر سوتے ہیں ۔یہ دوسری بات ہے کہ راتیں خواہ لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں کٹیں،جناب میڈیا کے سامنے عقیدت کی چادر چڑھاتے ہوئے اور یا محب الوطنی کے اکلوتے ٹریڈ مارک"کرکٹ"کے میچز دیکھ کر۔ 
رمضان کا مہینہ سال کے گیارہ ماہ گزرنے کے بعد آنے والا وہ بارہواں مہینہ ہے جو ہر نام نہاد پیدائشی مسلمان کو ایک بار تو نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی دینی حمیّت جانچنے پر مجبور کر دیتا ہے ۔ کوئی کتنا ہی "موڈریٹ" مسلمان ہو یا نعوذ باللہ اسلام کی فرسودہ تعلیمات و پیغام کا زمانۂ حال کے مطابق پرچار کرنے والا لبرل عالم ِدین۔ اس ماہ کم ازکم ایک پل کو دل میں ہی سہی سوچتا ضرور ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔
ہمارے معاشرے میں اس ایک ماہ میں کچھ بھی تو نہیں بدلتا!!!  فرد کی سطح پر اور نہ ہی معاشرے میںکہیں ایک انچ کی تبدیلی بھی دکھائی نہیں دیتی۔ہمارے بازاراسی طرح پُررونق ہیں۔۔۔ہمارے تعیشات اسی طرح جاری وساری ہیں۔۔۔ہماری ملکی سیاست اسی طرح چند افراد۔۔۔ چند خاندانوں کے گھر کی لونڈی بنی ان کی خدمت میں مصروف ہے۔۔۔ ہمارے خوشحال طبقات اسی طرح "سانوں کی" کا ورد کرتے ہوئے زندگی کالطف اٹھائے جارہے ہیں۔۔۔ہماری افطاریاں ہماری سحریاں دیسی بدیسی طعام گاہوں  کے پُرکشش پیکجز سے استفادہ کرتی ہیں۔جہاں  بسااوقات ایک فردکے افطار یا سحر کا خرچ ایک پورے خاندان کے ہفتے بھر کے  کھانے کےبرابر سے بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔
بھرے پیٹ کے دین دار امیر آدمی کے لیے تو  پہلے بھی رمضان کا مہینہ  عظیم نعمت سے کم نہیں ہوتا تھا۔گرم موسم  میں  ڈائٹنگ کی مفت سہولت کے ساتھ ٹھنڈے کمروں  میں کاروبارِحیات سرانجام دے کر سحروافطار میں لذتِ کام ودہن بکھیرتی عالیشان کھانے کی میزوں سے لے کر  افطارپارٹیوں کے "گیٹ ٹو گیدر" عین کارِثواب  ہی تو ہیں ۔ بقول شاعر"رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی"۔ اب میڈیا کے توسط سے رمضان  کے "فیوض" میں عام آدمی بھی داخل ہو گیا ہے۔ وہ جس  کو دو وقت کی روٹی کے لیے ہر روز کنواں کھودنا پڑتا ہے ،اُس کے گھر میں اب ایک جادوئی ڈبہ موجود ہےجو کچھ پل کو ہی سہی اپنے ماحول سے یکدم دور کر دیتا ہے۔ پیٹ کی آگ جو کبھی نہیں بُجھتی لیکن نفس کی بھڑکتی آگ ضرور ذرا دیر کو تسکین پانے لگتی ہے تو پیٹ کی بھوک پیچھے رہ جاتی ہے۔ ویسے بھی روزے کی حالت میں پیٹ کا  یہ خطرہ دور ہی رہتا ہے۔ وہ پہلے دور کے قصے تھے جب محض اپنے گریبان میں جھانک کر شرم آتی تھی اب ساری دُنیا کے گریبان میں دیکھ لو ہر بات جائز اور منطقی ہے۔اور کیا فرق پڑتا ہے کہ روزہ روزہ ہوتا ہے چاہے قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے گزرے یا دین کی باتیں اپنے من پسند ریپرز میں لولی پاپ کی طرح چوستے ۔ وہ دور گیا جب روزہ صرف بندے اور مالک کا معاملہ تھا اب تو یہ بندوں اور چینلز یا پھر انسان اور بٹنز کے درمیان ہو کر رہ گیا ہے ۔ حد ہو گئی ریموٹ کے بٹن ہوں یا ماؤس کا کلک اور یا پھر موبائل فون کے پیکجز ہر طرف عجب انہماک کا عالم ہے ۔ قرآن کا نسخہ جو رمضان میں اونچے طاقوں سے اُتر کر بڑے ذوق وشوق سے ہماری زندگی میں شامل ہوتا تھا اور دل میں تہیہ کرتے تھے کہ قرآن پڑھنا ہے خواہ ایک سے زیادہ بار مکمل پڑھیں یا ایک بار ہی سمجھ کر پڑھیں۔ اب تو ٹرانسمیشن اشد ضروری ہے کہ "لائیو" ہے جو گزر گئی تو ریکارڈنگ بھی نہ ملے گی بس ابھی وقت ہے اس کی "نیکیاں" لوٹنے کا ۔ قرآن تو چودہ سو سال سے ہمارے پاس ہے اور محفوظ ہے اور ہم کونسا برا کام کر رہے ہیں یہ تو عین دین داری ہے دین کی باریکیوں کو جاننا ۔ دُکھ اس بات کا ہے کہ میڈیا کی چکا چوند ہمارے اندر کی روشنی سلب کر کے ہماری آنکھیں چندھیائے دے رہی ہے اور ہم سوچنے سمجھنے سے عاری روبوٹ بنتے جارہے ہیں ۔ کسی تعصب سے قطع نظر یہ بھی سچ ہےکہ سال کے گیارہ مہینے اگر چینلز پر خرافات دکھائی دیتے ہیں تو وہ اس ماہ مشرف بہ اسلام تو ہو جاتے ہیں۔اب یہ اور بات کہ چاند رات کو سب چینلز  پھر اپنی اوقات پر آ جاتے ہیں۔ اہم یہ ہے کہ زہر زہر ہوتا ہے چاہے اسے شہد میں ملا کر دیا جائے اور یہی ہمارے ساتھ ہو رہا ہے ۔اس ایک ماہ میں میڈیا سے محبت کا ایسا بیج بو دیا جاتا ہے جو بانس کے درخت کی طرح خاموشی سے یوں پروان چڑھتا ہے کہ گھر کے بڑے جو دینی ذوق سے یہ نشریات دیکھتے ہیں بعد میں اپنے بچوں کو روکنے ٹوکنے کے قابل بھی نہیں رہتے ۔ جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر دین کو پھیلانا بلاشبہ جہاد کا مقام رکھتا ہے لیکن کیا صرف اس ایک ماہ ہمارے جیّد عالم ِدین اور درد مند دل رکھنے والے اسلامی اسکالر پورے سال کا قرض چکا دیتے ہیں؟ کیا یہ محض مسلمان ہونے کی زکٰوۃ ہے جو سال گزرنے پر فرض ہو جاتی ہے؟ ۔ ایسا بالکل بھی نہیں ہونا چاہیے ۔ ہمارا دینی شعور ہماری اسلام سے محبت ہماری قرآن سے دوستی سال کے گیارہ ماہ بھی برقرار رہنی چاہیے اس  بینڈ باجے کے ساتھ نہ سہی یا پھر گھڑی کا الارم بھی نہ ہو جو ہڑبڑا کر جگا دے بلکہ اس چاہت کو دل کی دھڑکن کے ساتھ جڑی اس مدہم سی خاموشی کی طرح ہونا چاہیے جو سوتے جاگتے زندگی کی نوید دیتی ہے۔ سب سے پہلے اپنا محاسبہ کریں پھر چینلز کو بھی چاہیے اگر اسلام سے اتنی عقیدت ہے تو سال کے باقی مہینوں میں کیوں نہیں۔ اپنے "پیک آورز" نہ سہی دن یا رات کا کچھ وقت ہر روز ایسے ہی "لائیو" پروگرام کیوں نہیں کرتے۔ ٹی وی  جو ہرخاص وعام سے لے کرسب کے لیے ارزاں تفریح کا ایک ذریعہ ہے وہاں دین ودنیا" محمودوایاز" کی طرح ایک صف میں ملتے ہیں۔۔۔ ایمان بھی بچتا ہے اور نفس بھی تسکین پاتا ہے۔لیکن کون سا ایمان !!!!۔
ایمان کو پرکھنے کے تین درجےـ
 ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا-آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے اسے چاہیے کہ اسے اپنےہاتھ سے مٹائے اگر ہاتھ سے مٹانے کی طاقت نہ ہو تو اسے اپنی زبان سے مٹائے اور اگر زبان سے مٹانے کی طاقت نہ ہو اس برائی کو اپنے دل سے مٹائےیعنی دل سے اس سے نفرت کرے۔ یہ ایمان کا سب سے کمزورترین درجہ ہے"۔
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 179
جامع ترمذی:جلد دوم:حدیث نمبر 49
سنن ابوداؤد:جلد اول:حدیث نمبر 1137
سنن نسائی:جلد سوم:حدیث نمبر 1312
سنن ابن ماجہ:جلد اول:حدیث نمبر 1275
وقت اور حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ایمان کے سب سے آخری درجے پر قدم جمانا بھی دشوار سے دشوارتر ہوتا جا رہا ہے۔ سارا فساد ”ہم ” کا پھیلایا ہوا ہے جب سے ترقی یافتہ بننے کی صف میں۔۔۔ کھڑے ہونے کی ہوس میں مبتلا ہوئے ہیں ” میں اور تو ” گزرے دور کی کہانی لگتی ہے ۔ آسمان چھونے کی خواہش پیروں سے زمین نکال رہی ہے  اور ہم بغیر کسی مشقت میں پڑے“بو کاٹا ” کی صدا لگا کر گُڈیاں لوٹنا چاہ رہے ہیں۔حد ہو گئی ۔۔۔ملک ہمیشہ کی طرح تاریخ کے نازک دور سے گذر رہا ہے۔ دُشمن سرحد پار نفرتوں کی فصل کاٹ رہا ہے تو سرحد کی حد پر طبلِ جنگ بھی بجا رہا ہےملک کے اندر سیاہ ست دان آنکھوں پر طاقت کے کھوپے چڑھائے انا کی میوزیکل چئیرز میں مصروف ہیں تو بیمارِوطن دیارِغیر کی بہکی فضاؤں میں تالی بجاتے، کمر لچکاتے عجیب عالمِ فراموشی میں محورقص نظر آتے ہیں۔ اہلِ اقتدار اگر جانے یا نہ جانے کے مخمصے میں گرفتار ہیں تو اہلِ ہوس بچا کچا ایمان بھنبھورنے میں مصروف۔ مفاد کے غازے میں لتھڑا میڈیا دشمن ملک میں "اپنی ثقافت" کا ڈنکا بجانے والے فن کاروں کی ناقدری پر نوحہ کناں ہے تو حال سے بےحال ہم عام عوام  نسلوں کی  مایوسیوں کے  بوجھ  ڈھوتے  جانے کب سے برہنہ پا چلتے چلے جارہے ہیں۔
اس دور ِپُرفتن میں سب سے زیادہ خوشی دُشمن کو ہو رہی ہو گی تو سب سے بڑی ندامت بھی عظیم سُپر پاور کے ہی حصے میں آئی ہے کہ جو کام سالوں کے ڈرون نہ کر سکے ،جو افراتفری دہشت گردی کے بڑے سے بڑے حملے نہ پھیلا سکے ،جو کام ہماری قوم کے بڑے رہنماؤں کو ہلاک کرنے کی سازشیں نہ کر سکیں ،جو کام "اِن" کے ایوان ِاقتدار کے پالے ہوئے کتے نہ کر سکے جنہوں نے قوم کی عفت وعصمت ،غیرت وحمیت ڈالروں کے عوض گروی تو کیا ڈنکے کی چوٹ پر نیلام کر دی اور جو کام زرد صحافت کے لفافے نہ کر سکے، جو کام روٹی روزی کی دوڑ میں اور ریٹنگ کے لالچ میں سرگرم میڈیا نہ کر سکا اور سب سے بڑھ کر جدید ٹیکنالوجی سے لیس ،دُنیا کے مستقبل کی منصوبہ بندی ،ورلڈ آرڈر کا ورق ورق لکھنے والے بھی ایک دوسرے سے منہ چھپاتے ہوں گے کہ یہ قوم تو محض لاتوں کی بھوت تھی اور صرف پہلا پتھر پھینکنے کی دیر تھی۔
کیا کہیں کہ پہلا پتھر کس نے پھنکا تھا اور بات نکلی ہے تو دور تلک جائے گی بس یوں جانو کہ "گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے"  ہم کیا جانیں۔ ہم تو بس لاشے اٹھائے جاتے ہیں کبھی اپنوں کے کبھی سپنوں کے۔
ابنِ مریم ہوا کرے کوئی
اس درد کی دواکرے کوئی 
یہ اوپن سیکرٹ ہم جیسے عام لوگوں کو سمجھ آ ریا ہے تو پھر ہمارے "اعلیٰ"دماغ کہاں گھاس چر رہے ہیں یہ بات بھول کیوں گئے ہیں کہ اس شاخ پر اُن کا آشیانہ بھی ہے ۔ہم عام عوام تو چلو پِس ہی رہے ہیں اور پستے رہیں گے۔"وہ" تو پیدا ہی منہ میں سونے کا چمچہ لے کر ہوئے ہیں یا ہمارے ٹیکس کے بل پر ہمیں کنڑول کر رہے ہیں ، بیرونی دشمنوں سے بچانے کے علم بردار بھی ہیں ۔ کوئی بتائے ان کی ڈگریوں اور اندھےکی ریوڑیوں میں کیا فرق ہے ؟ ۔ ہم جاہل ہی بھلے کہ کم از کم یہ تو جانتے ہیں کہ "قاتل ہے دلداروں میں " سچ کہا ہے کہ
 ۔۔۔چوراں نال "مل" گئی اے " یا چوراں نام "رل" گئی ہے؟۔ہم نہیں جانتے۔جانتے ہیں تو بس یہ کہ اس ۔۔۔ میں ہر وہ شامل ہے جو جان کر بھی انجان بنا ہوا ہے۔
آنے والے وقت میں ممکنہ شرانگیزی کو روکنے کے لیے بحیثیت قوم ہمیں آگے بڑھنا ہے۔مسلک وفرقے کی تفریق سے بالاتر ہو کر صرف اسلام اور پاکستان کو سامنے رکھنا ہے ورنہ  آج کل ہونے والے فساد میں آنے والے وقت کا نوشتہ دیوار دوسروں کے ہاتھ سے لکھا نظر آ رہا ہے۔
حاصل ِ کلام یہ ہے کہ ہر شے کو اس کا جائز مقام دیا جائے اور نفسا نفسی کے اس دور میں اپنے آپ کو ایمان کے سب سے نچلے درجے پر کسی طرح برقرار رکھنے کی کوشش ضرور کریں کہ جو برائی ہے اس کو برائی جانا جائے  اور عارضی چمک دمک  کے پیچھے ابدی اندھیروں کا سودا نہ کیا جائے۔اللہ ہمیں ہمیشہ کی طرح ہمارے اس خود کے پیدا کردہ عذاب سے نجات دے اور مخلوق کے شر سے پناہ دے اور وسوسے ڈالنے والے شر سےبھی نجات دلائے۔اللہ ہمیں دہشت گردی سے شرپسندی کی اس جنگ میں ایمان کی سلامتی عطا فرمائے آمین۔

ہفتہ, جون 17, 2017

"قران پاک میں تذکرۂ انبیاء علیہم السلام"

قرآن کریم میں  انبیاء  کرام کا ذکر دو طرح سے آیا ہے ۔۔۔ایک "قصص الانبیاء"یعنی انبیاءعلہیم السلام پر گذرنے والے واقعات وحالات اور دوسرا انبیاء کی اقوام کی اُن کے ساتھ کشمکش ۔
قران پاک میں  پچیس رسولوں اور نبیوں کے نام  ہیں۔
 قران پاک میں  پچیس انبیاءکرام کے نام  اور ان کا جتنی بار بھی تذکرہ کیا گیا ہے اُس کی تفصیل درج ذیل ہے۔۔۔۔ 
 ٭ دو۔۔۔اول الانبیاءحضرت آدم علیہ السلام کا ذکرِمبارک  اُن کے نام کے ساتھ پچیس  (25 )  مقامات پر ہے۔ آخرالانبیاء حضرت "محمدﷺ"  کا نامِ گرامی قران پاک میں چار جگہ آیا ہے اور احمدﷺ ایک جگہ آیا ہے ۔۔۔ 
٭1) محمدﷺ۔۔ سورہ آلِ عمران(3)  آیت 144۔۔
٭2)  محمدﷺ۔۔۔سورہ احزاب( 33)آیت 40۔۔
٭3)  محمدﷺ۔۔۔سورہ محمد(47) آیت 2۔۔
٭4) محمدﷺ۔۔۔ سورہ فتح(48) آیت 29۔۔
اور "احمد"ﷺ ایک جگہ۔۔سورہ الصف(61) آیت6۔  ترجمہ۔۔"اور جب عیسٰی بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل!بےشک میں اللہ کا تمہاری طرف رسول ہوں (اور) تورات جو مجھ سے پہلے ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور ایک رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہو گا، پس جب وہ واضح دلیلیں لے کر ان کے پاس آگیا تو کہنے لگے یہ تو صریح جادو ہے"۔
٭اٹھارہ انبیاء کرام  کا ذکرسورہ انعام(6)کی چار آیتوں 83 تا86 میں ایک ساتھ آیا ہے۔۔۔
٭آیت 83 میں  ایک نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بیان ہے جبکہ قران پاک میں  کُل 69 مقامات پر  آپ کا ذکر ہوا ہے۔
٭ترجمہ آیت 83۔۔۔"اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے"۔
٭آیت84 میں نو انبیاءکرام کا ذکرِمبارک ہے۔۔۔۔
ترجمہ آیت 84۔۔"اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے۔ (اور) سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں"۔
حضرت اسحاق علیہ السلام( 17 مقامات)۔۔
حضرت یعقوب علیہ السلام دس سورتوں میں 16مقامات پر ۔۔
حضرت نوح علیہ السلام( 43بار)۔۔
حضرت داؤد علیہ السلام( 16 بار)۔۔
حضرت سلیمان علیہ السلام(17بار)۔۔
حضرت ایوب علیہ السلام(4مقامات)۔۔
حضرت یوسف علیہ السلام(27 مقامات)۔۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام (  تقریباً 136بار)۔
حضرت ہارون علیہ السلام(20 مقامات)۔
٭آیت85۔۔ چار انبیاءکرام۔۔۔ترجمہ آیت85۔۔۔"اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو بھی۔ یہ سب نیکوکار تھے"۔
حضرت زکریا علیہ السلام(7مقامات)۔۔
حضرت یحییٰ علیہ السلام(5 مقامات)۔۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام(25 بار)۔۔
حضرت الیاس علیہ السلام( 2 مقامات۔۔سورہ انعام(6) اورسورہ الصافات(37)  آیت 123 )۔
٭آیت86۔۔ چار انبیاء کرام۔۔ترجمہ آیت86۔۔۔ "اور اسمٰعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو بھی۔ اور ان سب کو جہان کے لوگوں پر فضلیت بخشی تھی" ۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام(12 بار)۔۔ 
حضرت الیسع علیہ السلام(2 مقامات)۔۔ سورہ انعام(6) اور سورہ ص(38) آیت 48۔۔
حضرت یونس علیہ السلام(4 مقامات)۔سورہ انعام(6)۔۔سورہ یونس(10) آیت98۔۔سورہ الصافات(37)  آیت139۔
 حضرت لوط علیہ السلام(27مقامات)۔
٭ تین انبیاء کرام ۔۔۔۔قران پاک میں اِن تین انبیاء کا ذکر اکثر مقامات پر اکٹھے ہی آیا ہے۔ 
حضرت صالح علیہ السلام(9 مقامات)۔۔
حضرت ہود علیہ السلام(7 مقامات)۔۔
حضرت شعیب علیہ السلام(11 مقامات)۔
٭ دو انبیاء کرام۔۔۔
حضرت ادریس علیہ السلام(2 مقامات) ۔۔سورہ مریم (19) آیت 56 اورسورہ الانبیا(21) آیت 85۔
حضرت ذوالکفل علیہ السلام(2 مقامات)۔ سورہ الانبیا(21) آیت 85اورسورہ ص(38)آیت 48۔
۔۔۔۔۔
قرآن کریم میں پیغمبروں کے نام سے چھ سورتیں ہیں۔۔۔
٭  10 ویں سورہ ۔۔سورة یونس ۔
٭11 ویں سورہ ۔۔سورة ہود۔
٭12ویں سورہ۔۔سورة یوسف۔
٭14 ویں سورہ۔۔سورة ابراہیم۔
٭47ویں سورہ۔۔سورة محمدﷺ۔ 
٭ 71ویں سورہ۔۔سورة نوح۔
۔۔۔۔۔۔۔

سوموار, مئی 29, 2017

"تھینک یو ایڈیسن "

اتوار‬‮82مئی7102 | 
 ربڑ آخری کوشش تھی‘ وہ لیبارٹری میں ربڑ بنانا چاہتا تھا‘ ربڑ بن گیا لیکن کوالٹی اچھی نہیں تھی‘ وہ کوالٹی بہتر بنانے کی کوشش کرتا رہا لیکن موت کا فرشتہ آ گیا‘ وہ مسکرایا اور اپنا آپ اس کے حوالے کر دیا‘ موت کا فرشتہ اسے لے گیا مگر مجھے یقین ہے موت کے فرشتے کو اس کی جان قبض کرتے وقت بہت افسوس ہوا ہو گا‘ وہ اس سے آنکھ نہیں ملا پایا ہو گا‘ وہ ایک ایسے انسان کی آنکھ میں آنکھ کیسے ڈالتا جس نے اللہ کے دیئے ہوئے ایک ایک لمحے کو استعمال کیا‘ جس نے اپنی زندگی دوسروں کی زندگی بہتر بنانے کےلئے وقف کر دی‘ میں صبح دس بجے اس عظیم انسان کی اس لیبارٹری کے دروازے پر کھڑا تھا جس میں اس نے نسل انسانی کو 1100 ایسی ایجادات دیں جنہوں نے ہم سب کی زندگی بدل دی‘ یہ دنیا رہنے کےلئے زیادہ بہتر ہو گئی‘ گارڈ نے تالہ کھولا‘ لوہے کے گیٹ سے چڑڑ چڑڑ کی آواز آئی اور ہم اندر داخل ہو گئے۔آپ دنیا کے کسی کونے میں بیٹھ جائیں‘ آپ کچھ بھی کر رہے ہوں‘ آپ زندگی کی کسی بھی نعمت سے لطف اندوز ہو رہے ہوں آپ تھامس ایڈیسن کا شکریہ ادا کئے بغیر نہیں رہ سکیں گے‘ پلاسٹک ہو‘ سیمنٹ ہو‘ چھت کا پنکھا ہو‘ ٹیلی پرنٹر ہو‘ ٹائپ رائٹر ہو‘ آڈیو سسٹم ہو‘ فلم ہو‘ ایکسرے ہو‘ بیٹری ہو‘ فوم ہو‘ بجلی کا بلب ہو‘ ٹارچ ہو‘ بال پین ہو اورالیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن سسٹم ہو آپ دنیا کی کسی اہم ایجاد کا نام لیں آپ کو اس کے پیچھے ایڈیسن کا نام ملے گا‘ وہ ان پڑھ تھا‘ وہ چند ماہ سکول گیا‘ اساتذہ نے اسے نالائق قرار دے کر نکال دیا‘ آٹھ سال کی عمر میں تجربے شروع کئے‘ گھر کو آگ لگ گئی‘ مار پڑی لیکن وہ باز نہ آیا‘ ماں نے اسے گھر سے ذرا سے فاصلے پر تجربہ گاہ بنانے کی اجازت دے دی‘ وہ تجربے کرتے کرتے دس سال کا ہوا‘ ریل گاڑی میں اخبار بیچنے لگا‘ وہ اپنا اخبار خود شائع کرتا تھا‘ وہ ریل گاڑی کے باتھ روم میں بھی تجربے کرتا تھا‘ تجربوں کے دوران ایک دن ڈبے میں آگ لگ گئی‘ گارڈز نے اسے پلیٹ فارم پر پٹخ دیا‘ یہ مار اس کے ایک کان کی قوت سماعت لے گئی‘ وہ آدھا بہرہ ہو گیا لیکن وہ اس کے باوجود ڈٹا رہا‘ وہ تجربے کرتا رہا یہاں تک کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا سائنس دان بن گیا‘ دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی‘ ایڈیسن سے پہلے کی دنیا اور ایڈیسن سے بعد کی دنیا۔وہ نیوجرسی میں رہتا تھا‘ وہ جس شہر میں رہتا تھا وہ پورا شہر آج ایڈیسن کہلاتا ہے‘ ایڈیسن شہر نیویارک سے 30 منٹ کی ڈرائیو پر واقع ہے لیکن یہ شہر آپ کو وقت اور شکر میں تین سو سال آگے لے جاتا ہے‘یہ آپ کے دماغ کی ساری کھڑکیاں کھول دیتا ہے‘ آپ اگر علم پسند ہیں تو پھر ایڈیسن شہر میں تھامس ایڈیسن سے متعلق تین مقامات دیکھنا آپ پر فرض ہو جاتے ہیں‘ پہلا مقام ایڈیسن کی تجربہ گاہ ہے‘ یہ تجربہ گاہ سائنس کا کعبہ ہے‘ ہم اڑھائی گھنٹے اس کعبے میں رہے اور ہر پانچ منٹ بعد دنیا کے اس عظیم انسان کا شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے‘ لیبارٹری کے بے شمار حصے ہیں‘ پہلا حصہ ایڈیسن کی لائبریری ہے‘ یہ لکڑی کی تین منزلہ عمارت ہے‘ عمارت کے چاروں طرف کیبن بنے ہیں‘ ہر کیبن کی دیواروں پر کتابیں لگی ہیں اور کتابوں کے درمیان ایک کرسی پڑی ہے‘ ہر کیبن سائنس کا ایک سیکشن ہے‘ ایڈیسن ان پڑھ تھا لیکن اس نے فرنچ‘ جرمن اور اطالوی زبانیں سیکھ لیں‘ وہ دن کا ایک بڑا حصہ لائبریری میں کتابیں پڑھ کر گزارتا تھا‘ لائبریری میں اس کا بیڈ بھی رکھا ہوا تھا‘ وہ اکثر اوقات پڑھتے پڑھتے وہیں سو جاتا تھا‘ میں نے زندگی میں بے شمار لائبریریاں دیکھی ہیں لیکن یہ لائبریری انوکھی بھی تھی اور پرکشش بھی‘ یہ میرے دل میں اتر گئی‘ لیبارٹری کے دوسرے فلور پر ”فونو گرام“ کا کمرہ تھا‘ ایڈیسن نے فونو گرام ایجاد کر کے ہم انسانوں کو آڈیو سسٹم دیا تھا‘ فونو گرام پر ایڈیسن کے 35 سال خرچ ہوئے لیکن اس نے کمال کر دیا‘ اس سیکشن میں اس کے ایجاد کردہ فونو گرام اور ریکارڈ (ڈسکیں) رکھے ہیں‘ ا سے اگلا سیکشن اس کی چھوٹی تجربہ گاہ ہے‘ اس تجربہ گاہ میں ہزاروں چھوٹے بڑے آلات اور اوزار رکھے ہیں‘ یہ تجربہ گاہ ایک بڑی خراد گاہ سے منسلک ہے‘ خراد گاہ میں بڑی مشینیں لگی ہیں‘ اس نے خراد گاہ کےلئے بجلی کا اپنا نظام بنا رکھا تھا‘ وہ سسٹم تاحال موجود ہے‘ خراد سے اگلے سیکشن میں اس کی ایجاد کردہ اشیاءرکھی ہیں‘ اس سیکشن سے گزرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے دنیا کی ہر اہم چیز ایڈیسن نے ایجاد کی تھی‘ ایکسرے مشین کے سامنے کھڑے ہو کر پتہ چلا‘ یہ مشین اس نے بڑی مشکل سے ایجاد کی تھی‘ ایکسرے کی ایجاد کے دوران اس کے بے شمار ورکرز تابکاری کا نشانہ بنے اور انتقال کر گئے‘ وہ خو بھی تابکاری کا شکار رہا لیکن جب ایکسرے ایجاد ہو گیا تو اس نے یہ ایجاد عام کر دی‘دنیا کا کوئی بھی شخص اور کوئی بھی کمپنی ایکسرے مشین بنا سکتی تھی‘ یہ اس کی ذات کا کھلا پن اور فراخ دلی تھی‘ ایڈیسن کی تجربہ گاہ کا دوسرا اہم مقام کیمسٹری لیب تھا‘ یہ لیب لیبارٹری کے احاطے میں ایک الگ کمپاﺅنڈ میں قائم تھی‘ ہم کیمسٹری لیب میں داخل ہونے لگے تو گائیڈ نے اعلان کیا ”آپ دنیا کے ایک ایسے مقام میں داخل ہو رہے ہیں جس نے پوری دنیا کا لیونگ سٹینڈرڈ بدل دیا‘ یہ لیب انسانوں کی بہت بڑی محسن ہے“ ہم اندر داخل ہوئے‘ یہ کسی سائنس کالج کی لیبارٹری جتنی لیب تھی لیکن اس میں دنیا کی بڑی بڑی ایجادات وقوع پذیر ہوئی تھیں‘ بیٹری‘ ٹارچ‘ ایکسرے‘ فونو گرام کی ڈسک اور ربڑ سمیت بے شمار ایجادات نے اس لیب میں آنکھ کھولی تھی‘ لیب میں تمام اشیاءجوں کی توں رکھی تھیں‘ شیشے کے جاروں میں کیمیائی مادے بھی اسی طرح رکھے تھے اور میزوں پر ٹیوبیں اور اوزار بھی ایڈیسن کا انتظار کر رہے تھے‘ لیبارٹری کے شیشے دودھیا تھے‘ گائیڈ نے بتایا ایڈیسن کے حریف پہاڑی پر دوربینیں لگا کر اس کے کام کی جاسوسی کرتے رہتے تھے‘ ایڈیسن نے ان جاسوسوں سے بچنے کےلئے شیشے دودھیاں کر دیئے تھے‘ یہ لیبارٹری سردیوں اور موسم بہار میں قابل برداشت ہوتی تھی لیکن یہ گرمیوں میں ناقابل برداشت حد تک گرم ہو جاتی تھی مگر اس کے باوجود ایڈیسن اور اس کے ساتھی کام کرتے رہتے تھے‘ لیبارٹری کے صحن میں سیاہ رنگ کا وہ سٹوڈیو بھی موجود تھا جس میں ایڈیسن نے پہلی موشن فلم بنائی تھی‘ یہ سٹوڈیو دنیا میں سینما کی بنیاد تھا اور وہاں ایڈیسن کا بنایا ہوا دنیا کا پہلا بلب اور پہلا ٹائپ رائیٹر بھی موجود تھا‘ لیبارٹری کا ایک ایک انچ اس کے جینئس ہونے کی دلیل تھا اور آپ ہر جگہ رک کر دنیا کے اس عظیم انسان کا شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ایڈیسن کا گھر تیسرا قابل زیارت مقام تھا‘ یہ گھر لیبارٹری سے پانچ منٹ کی ڈرائیو پر واقع تھا‘ یہ 29 کمروں کا محل نما گھر تھا‘ یہ گھر اس نے اپنی دوسری بیگم میناملرکےلئے خریدا تھا‘ گھر کے دائیں بائیں وسیع جنگل تھا‘ پچاس فٹ اونچے چیڑھ کے درخت تھے‘ درختوں کے درمیان چہل قدمی کےلئے راستے بنے تھے‘ گھر کے چاروں اطراف وسیع لان تھے‘ لان میں پھولوں کے قطعے اور بیلوں کی لمبی باڑ تھی‘ گھر اندر سے بادشاہوں کی رہائش گاہ لگتا تھا‘ دیواروں پر قیمتی پینٹنگز لگی تھیں‘ فرنیچر اور کراکری انتہائی قیمتی تھی‘ قالین اور صوفے سو سال پورے کر چکے تھے لیکن اس کے باوجود یوں محسوس ہوتے تھے جیسے ایڈیسن ابھی یہاں سے اٹھ کر گیا ہے اور وہ کسی بھی وقت واپس آ جائے گا‘ ایڈیسن کے ہیٹ‘ چھڑیاں‘ بوٹ اور کپڑے بھی سلیقے سے رکھے تھے‘
 کچن اور ڈائننگ روم بھی قابل استعمال محسوس ہوتا تھا‘ سٹڈی میں رائٹنگ ٹیبل رکھی تھی اور دیواروں میں کتابوں کی شیلفیں تھیں‘ وہ مطالعے کا رسیا تھا شاید اسی لئے اس کے گھر اور لیبارٹری دونوں جگہوں پر ہزاروں کتابیں موجود تھیں‘ وہ ایک باذوق انسان تھا‘ اس کا ذوق اور نفاست گھر کی ایک ایک چیز سے جھلک رہی تھی‘ گھر کے پچھواڑے میں دو قبریں تھیں‘ ایک قبر میں ایڈیسن محو آرام ہے اور دوسری میں اس کی اہلیہ مینا ملر‘ دونوں قبریں زمین کی سطح پر چھ انچ اونچی ہیں‘پتھر کی سلیٹی رنگ کی سل پر دونوں کے نام‘ تاریخ پیدائش اور انتقال کا سن تحریر تھا‘ سرہانے پھولوں کے درخت لگے ہیں‘ ہم قبر پر پہنچے تو شکور عالم صاحب نے فاتحہ کےلئے ہاتھ کھڑے کر دیئے‘ وہ دعا پڑھ کر فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا ”سر کیا غیر مسلم کی فاتحہ پڑھی جا سکتی ہے“ شکور صاحب نے فرمایا ”میں نے کسی غیر مسلم کی فاتحہ نہیں پڑھی‘ میں نے انسانوں کے محسن کا شکریہ ادا کیا ہے‘ یہ شخص نہ ہوتا تو ہم آج بھی اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہوتے‘۔یہ ہمارا محسن ہے‘ ہم اگر اس کا شکریہ ادا نہیں کرتے تو ہم احسان فراموش کہلائیں گے“ میں نے شکور عالم صاحب سے اتفاق کیا‘ زور سے تھینک یو ایڈیسن کا نعرہ لگایا اور ایڈیسن کی قبر کو سیلوٹ کر دیا‘ وہ شخص حقیقتاً پوری دنیا کے سیلوٹ کا حق دار تھا‘ وہ نہ ہوتا تو شاید ہم اتنی شاندار دنیا میں نہ ہوتے‘ ہماری راتیں شاید اندھی اور دن شاید بےرنگ ہوتے۔

منگل, مارچ 14, 2017

"کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے"


" اردو اردو"
وطن کو دھرتی ماں کہا جاتا ہے تو اردو اس کے سر کی ردا ہے۔ اور وطن کی مٹی کی بات ہو تو اردو اس مٹی کی خوشبو ہے۔وہ خوشبو جو قریب رہ کر اتنی محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن ! جیسے جیسے فاصلہ بڑھتا ہے ،انسانوں کے ہجوم میں تنہائی گرفت میں لیتی ہے ،شناخت کی بےیقینی تشنگی میں بدلتی ہے تو پھر ماں کی ردا اور بارش میں سوندھی مٹی کی مانند خوشبو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔
"وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا "
کاغذ کی یہ مہک یہ نشہ روٹھنے کو ہے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی
 بہت بڑی بات کہہ دی کہنے والے نے۔ جو " پیش گوئی،استفسار یا محض خدشہ " ہی نہیں ایک سفاک نوشتۂ دیوار ضرور ہے۔ اس سے بھی اہم بات کہ "اردو زبان" کے حوالے سے  کہ یہ شعر اگرسوفیصد سچائی ہے تو اردو زبان و ادب اور اس کی تاریخ سے انسیت رکھنے والی ہماری نسل بس آخری نسل ہے جو آنے والے وقت کی تیزرفتاری کی آگاہ ہے تو اپنے دم توڑتے اس علمی اثاثے کی امین بھی۔آنے والی نسل کو جس کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس کی   وقعت واہمیت کا رتی برابر احساس۔آنے والےبرسوں میں کتابیں شاید کسی نہ کسی صورت کتب خانوں میں زندہ تو رہیں بےشک عجائب گھروں میں ممیوں کی صورت لیکن آج کی" پڑھی لکھی "نسل میں اردو زبان سمجھنے کی حد تک ختم ہو چکی، لکھنے کی حد تک بس رواداری میں آخری سانسیں لے رہی ہے،پڑھنے کی حد تک اپنے "قیمتی" وقت کا زیاں ہے اور بولنے میں دقیانوسیت اور کم مائیگی ہے۔ کاش اپنی جڑ سے دور ہوتے ان سربلند پودوں کو کوئی بتائے کہ جب تک کسی کے وجود میں پاکستان کی مٹی سے جڑا کوئی ایک ذرہ بھی باقی ہے اس کی سوچ اور تخیل ہمیشہ اپنی زبان میں پنپتا رہے گا۔
۔۔۔۔۔۔
اردو  املاء میں غلطیاں۔۔۔۔۔
٭1)جناب  محمد ظہیر قندیل(صدر شعبہ اُردو،کیڈٹ کالج حسن ابدال)نے اردو  لکھتے ہوئے عام غلطیوں کی نشاندہی کی جو ہم عام طور پر کرتے رہتے ہیں ۔
تحریر از محمدظہیرقندیل۔۔۔"عربی فارسی کے بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کےآخر میں ‘‘ہ’’ آتی ہے۔ اس سے پہلے لفظ پر اگر زبر ہو تو اس کی آواز ‘‘ہ" کی طرح نہیں نکلتی بل کہ اپنے سے پہلے حرف کو ہلکا سا سہارا دیتی ہے۔ جیسے : کعبہ، پیمانہ، پردہ، جلوہ ، نعرہ، قبلہ وغیرہ۔ اس ‘‘ہ’’ کو ‘‘ہائے مختفی’’ کہا جاتا ہے۔ یاد رکھیے کہ یہ ہائے مختفی صرف فارسی اور عربی کے الفاظ کے آخر میں لگتی ہے۔ ان کے سوا کسی بھی زبان کے الفاظ کے آخر میں ‘‘ہ’’ نہیں لگتی۔ ہم اردو میں کثرت سے ایسے الفاظ کا املا غلط کرتے ہیں۔
ان میں سے چند درست الفاظ یہ ہیں جنھیں ہائے مختفی کے ساتھ غلط طور پر لکھا جاتا ہے۔
بھروسا، پتا ( ایڈریس) ،(پتّا ۔درخت کا)، اکھاڑا، باڑا، روپیا، پیسا، رکشا، ڈراما، گھنٹا، بلبلا، بنگلا، بدلا، میلا، بھُرتا، سموسا، پیڑا، پسینا، تولیا، تانگا، ٹخنا، کمرا، جھروکا، بھوسا، توٹکا، ٹولا، چارا(جانوروں کی خوراک)، خاکا، چھاپا، دھاگا،راجا، زردا، ڈھکوسلا،کٹورا، کھاتا، کیمرا، گملا، گھونسلا، لاسا، مسالا، ملغوبا، ملیدا، ملبا، مورچا، مہینا،۔
۔۔۔۔۔
٭2)زبان خامہ کی چند عام خامیاں ازطالب الہاشمی۔۔۔۔
قائمقام؟ کچھ عرصہ سے ہمارے بعض صحافی دوست اپنی تحریروں میں ’’قائم مقام‘‘ کی جگہ ’’قائمقام‘‘ لکھ رہے ہیں۔ ایک ’’م‘‘ کو حذف کر دینا بِلا جواز ہے۔ ’’قائم مقام‘‘ ہی صحیح لفظ ہے۔ ناراضگی، حیرانگی، محتاجگی، درستگی وغیرہ؟ ناراضی، حیرانی، محتاجی اور درستی کی جگہ ناراضگی، حیرانگی، محتاجگی اور درستگی لکھنا اور بولنا فصاحت اور قاعدے کے خلاف ہے۔ فارسی قاعدہ یہ ہے کہ اگر اسمِ صفت کا آخری حرف ہ (ہا) نہ ہو تو حاصل مصدر بنانے کے لئے اس کے آخر میں ی (یا) لگاتے ہیں چنانچہ ناراض، حیران، محتاج، درست وغیرہ جتنے اسمائے صفات ’’ہ‘‘ پر ختم نہیں ہوتے ان کے حاصل مصدر ناراضی، حیرانی، محتاجی، درستی بنتے ہیں۔ صرف دو لفظ ’’ادا‘‘ اور ’’کرخت‘‘ اس قاعدے سے مستثنیٰ ہیں۔ ان کے حاصل مصدر کرختی اور ادائیگی کے بجائے کرختگی اور ادائیگی بنائے گئے ہیں ورنہ اصولاً جب کسی اِسم صفت کا آخری حرف ہ ہو تو ’’ہ‘‘ کی جگہ ’’گی‘‘ لگا کر اس کا حاصل مصدر بنایا جاتا ہے مثلاً عمدہ، شستہ، مردانہ، کمینہ، نمایندہ، فرزانہ، درندہ، زندہ، فریفتہ، وارفتہ، سنجیدہ کے حال مصدر عمدگی، شستگی، مردانگی، کمینگی، نمایندگی، فرزانگی، درندگی، زندگی، فریفتگی، وارفتگی، سنجیدگی ہوں گے۔ خوامخواہ؟ صحیح لفظ ’’خواہ مخواہ‘‘ جس کا مطلب ہے ’’چاہو یا نہ چاہو‘‘ ایسے موقع پر بولا جاتا ہے جب کوئی شخص کسی دوسرے کے معاملے میں بِلاجواز یا زبردستی دخل دے۔ معلوم نہیں بعض اہلِ قلم اپنی تحریروں میں ’’خواہ‘‘ کے بعد ’’ہ‘‘ کو کیوں خذف کر دیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
٭ غلط۔۔۔سمجھ نہیں آتی.۔۔۔ دوران ۔۔۔۔
درست ۔۔۔سمجھ میں نہیں آتی۔۔۔دوران میں ۔۔

۔۔۔۔۔
٭3)اصلاح زبان ۔۔ رُمُوزِ لُغَتْ از اردو ڈائجسٹ
غلط املا۔۔۔ صحیح املا
آذان۔۔۔ اذان
آسامی۔۔۔ اسامی
احتیاطً۔۔۔ احتیاطًا
استعفیٰ (غلط العام)۔۔۔ استعفا
اسلام علیکم۔۔۔ السَّلَامُ عَلَیکُم
اصلذر۔۔ اصل زر
اغلبًا۔۔۔ غالبًا
انہوں (غلط العام)۔۔۔ انھوں
انہیں (غلط العام) ۔۔۔انھیں
اوللعزم۔۔۔ اولوالعزم
اعلانیہ۔۔۔ علانیہ
اندازاً (اندازہ پر تنوین اندازے سے یاتخمینًا غلط ہے)۔
اوسطً (آخر میں تنوین اوسط غلط ہے)۔
برائے کرم۔۔۔ براہِ کرم
بدیہ گوئی۔۔۔ بدیہہ گوئی
بالمشافہ۔۔۔ بالمشافہہ
بھروسہ(غلط العام)۔۔۔ بھروسا
پایۂ تخت۔۔۔پائے تخت
پرواہ (آخر میں ہ غلط ہے)۔۔۔ پروا
پہیہ ۔۔۔پہیا
تشبیہہ۔۔۔ تشبیہ
تقاضہ۔۔۔ تقاضا
تنبیہہ۔۔۔ تنبیہ
توجیہہ۔۔۔ توجیہ
جائیداد۔۔۔ جائداد
چاق و چوبند۔۔۔ چاق چوبند
چوہدری۔۔۔ چودھری
حامی بھرنا۔۔۔ ہامی بھرنا
حیرانگی۔۔۔ حیرت۔ حیرانی
خوردو نوش۔۔۔ خورو نوش
درستگی۔۔۔ درستی
دولہا۔۔۔ دولھا
دونو۔۔۔دونوں
بچگانہ۔۔۔ (گ کے ساتھ غلط بچکانہ ہے)۔
برس ہابرس۔۔۔ برسہا برس سالہا سال
غلط املا۔۔۔ صحیح املا
بمع، ۔۔۔۔بمعہ مع
بے نیل و مَرام۔۔۔ بے نَیلِ مَرام یا بے نَیل و مَرام
پٹاخہ ۔۔۔پٹاخا
پشیمانگی۔۔۔ پشیمانی
پیسہ ۔۔۔پیسا
تماشہ۔۔۔ تماشا
تمہارا، تمہیں، ۔۔تمہارے تمھارا، تمھیں
۔(غلط العام) تمھارے
ٹانگہ۔۔۔ تانگہ
جنہوں،۔۔۔ جنہیں جنھوں، جنھیں
(غلط العام)
چولہا۔۔۔ چولھا
چیخ و پکار ۔۔۔چیخ پکار
حلوہ ۔۔۔حلوا
خورد ۔۔۔خُرد
دائم المریض دائم المرض یا دائمی مریض
دوکان دُکَان ۔۔۔ دُکَّان
دلہن۔۔۔ دلھن
دھوکہ (غلط العام)۔۔۔ دھوکا
دھیلہ۔۔۔دھیلا
ذخّار۔۔۔زخّار
رُجْحَان۔۔۔ رُجْحان
روئیداد۔۔۔ روداد
سہولیت۔۔۔ سہولت
شان گمان،سان گمان ۔۔۔سان و گمان
غرضیکہ ۔۔۔غرض کہ
فوتیدگی۔۔۔وفات، انتقال
فی الواقعہ۔۔۔فی الواقعی فی الواقع
غلط املا ۔۔۔صحیح املا
قمیض۔۔۔ قمیص
قریب المرگ (غلط العام) قریب الموت
کانٹ چھانٹ۔۔۔ کاٹ چھانٹ
کُرتہ۔۔۔ کُرتا
کمہار۔۔۔ کمھار
کوائف (غلط العام)۔۔۔ کیفیات
کلہاڑا، کلہاڑی۔۔۔ کلھاڑا، کلھاڑی
کلیجہ۔۔۔ کلیجا
گرم مصالح۔۔۔گرم مسالا
گذارہ۔۔۔گزارہ
گذرنا۔۔۔ گزرنا
دوئم۔۔ دوم
ذکریا۔۔ زَکَرِیَّا
زرا۔۔۔ ذرا
سوئم۔۔۔ سوم
طلاطم۔۔۔ تلاطم
عیدالضحیٰ عید الاضحیٰ، عید اضحیٰ
غیض و غضب۔۔۔ غیظ و غضب
فی البدیہ۔۔۔ فی البدیہہ
قہقہ۔۔۔ قہقہہ
کارکردگی۔۔۔ کار گزاری
کاروائی۔۔۔ کارروائی
کولہو ۔۔۔کولھو
کھنڈرات کھنڈر (واحد اور جمع دونوں کے لیے صحیح ہے)۔
گذارش ۔۔۔گزارش
گذر۔۔۔ گزر
گذشتہ ۔۔۔گزشتہ
غلط املا۔۔۔صحیح املا
لاپرواہ، لاپرواہی ۔۔۔بے پروا، لاپروائی
بے پرواہ، بے پرواہی۔۔۔ بے پروا، بے پروائی
مُتَوَفّیِ(بمعنی وفات پا مُتَوْفّیٰ جانے والا)۔
مکتبۂ فکر۔۔۔ مکتبِ فکر
مہینہ (غلط العام)۔۔۔ مہینا
ناطہ۔۔۔ ناتا
نقطہ چینی۔۔۔ نکتہ چینی
نگہت۔۔۔ نکہت
لاچار۔۔۔ ناچار
مجرب غذا۔۔۔ چرب غذا
محتاجگی ۔۔۔محتاجی
مُربَّہ (غلط العام)۔۔۔ مُرَبَّا یا مُرَبّٰی
محمد الرّسول اللّٰہ۔۔۔ محمد رسول اللّٰہ
مسمی (غلط العام)۔۔۔ مُسَمّٰی
مشکور شاکر یا ممنون
مُعِمَّہ۔۔۔ مُعَمّا
مُؤَقَّف ۔۔۔مَوْ قِف
ناراضگی۔۔۔ ناراضی
ناواقفی۔۔۔ ناواقفیت
نکتۂ نظر۔۔۔ نقطۂ نظر
وطیرہ ۔۔۔وتیرہ
تلفظ
غلط تلفظ۔۔۔ صحیح تلفظ
نَامَسَاعَد۔۔ نَا مُساعِد
نَذَر۔۔۔ نَذْر
غلط تلفظ۔۔۔ صحیح تلفظ
نَشَاۃِ ثانیہ۔۔ نشأۃِ ثانیہ
(نش اَتِ ثانیہ)
نُکات۔۔۔ نِکات
وَابِستہ۔۔۔ وَابَستہ
واضحہ۔۔ واضح
وَجْدَان وِجْدَان
وَزَارت ۔۔۔وِزَارَت
وَصُول ۔۔۔وُصُول
وِقَار ۔۔۔وَقار
وَقُوع۔ وَقُوعہ وُقُوع، وُقُوعہ‘
وَلادَت۔۔۔ وِلادَت
ویدَک۔۔۔ وَیدِک
ہَدَایت۔۔ ہِدَایت
ہَرَج۔۔۔ ہَرْج
ہِل چُل۔۔۔ ہَل چَل
ہَمہ شَمہ۔۔۔ ہَما شَما
یَبُوسَت یُبُوسَت
یکسانِیت ۔۔۔یکسانی
یُورَش۔۔۔ یُورِش
ناواقفی۔۔۔ ناواقفیت
نَزِاع۔۔۔ نِزِاع
نِفَاست۔۔۔ نَفَاسَت
نِمَاز۔۔۔ نَمَاز
وَاپِس۔۔۔ وَاپَس
واقعا۔۔۔ واقع
وُرْثَا۔۔۔ وُرَثَا
وُسَاطَت۔۔۔ وَسَاطَت
وَفَاق۔۔۔ وِفَاق
وُقْعَت۔۔۔ وَقْعَت
وقایا۔۔۔ وقائع
وَلایت۔۔۔ وِلایت
غلط تلفظ۔۔۔صحیح تلفظ
ہَجُوم۔۔۔ ہُجُوم
ہِراس۔۔۔ ہَراس
ہِلاک۔۔۔ہَلاک
ہَلَیلہ۔۔۔ہَلِیلہ
ہَمَیانی۔۔۔ ہِمَیانی
یَکَم۔۔۔ یَکُم
یُوسَف۔۔۔ یُوسُف
۔۔۔۔
نہیں کھیل اے داغ،یاروں سے کہہ دو"
"کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے
( مرزا داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ
(1831۔1905۔۔۔)
پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے
 اجل مر رہی تو کہاں آتے آتے؟
ابھی سن ہی کیا ہے؟ جو بیتابیاں ہوں
 اُنہیں آئیں‌گی شوخیاں آتے آتے
نتیجہ نہ نکلا، تھکے سب پیامی
 وہاں جاتے جاتے یہاں آتے آتے
نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
 بہت دیر کی مہرباں آتے آتے
سنانے کے قابل جو تھی بات ان کو
 وہی رہ گئی درمیاں آتے آتے
مرے آشیاں کے تو تھے چار تنکے
 چمن اُڑ گیا آندھیاں آتے آتے
نہیں کھیل اے داغ ، یاروں سے کہہ دو
 کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے
۔۔۔۔۔۔
"اردو ہے جس کا نام"۔۔۔کالم از شاہنوازفاروقی
٭حصہ اول ۔19فروری 2017۔
٭حصہ دوم۔۔۔20فروری 2017

قرانِ پاک کی سورتیں

   قران پاک کی وہ سورتیں جوایک سے زیادہ ناموں سے جانی جاتی  ہیں ۔۔۔ ٭ 1)سورۂ فاتحہ(1)۔۔۔ سورۂ واجبہ۔۔اُم القران ٭2)سورۂ التوبہ(9)۔۔سور...