جمعرات, اکتوبر 19, 2017

"معلوماتِ قران"

٭لفظ قرآن، قرآن مجید میں بطور معرفہ پچاس(50) بار اور بطور نکرہ اسی(80) بار آیا ہے ۔یعنی پچاس بار قرآن کا مطلب کلام مجید ہے اور اسی بار ویسے کسی پڑھی جانے والی چیز کے معنوں  میں استعمال ہوا ہے۔
٭قرآن کریم کی پہلی منزل سورۂ فاتحہ(1) سے سورۂ النساء (4)تک ہے۔ جس میں میں چار سورتیں، پچاسی(85) رکوع اور چھ سو انہتر(669) آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کی دوسری منزل سورۂ مائدہ (5)سے سورۂ توبہ  (9)تک ہے جس  میں پانچ سورتیں، چھیاسی(85) رکوع اور چھ سو پچانوے (695)آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کی تیسری منزل  سورۂ یونس (10)سے سورۂ نحل(16) تک ہے جس میں سات سورتیں، اڑسٹھ(68) رکوع اور چھ سو پینسٹھ (665)آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کی چوتھی منزل  سورۂ بنی اسرائیل(17) سے سورۂ فرقان (25)تک ہے جس میں نو سورتیں، چھہتر ر(76)کوع اور نو سو تین(903) آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کی پانچویں منزل  سورۂ الشعراء (26)سے سورۂ یٰس(36)  تک ہے جس میں گیارہ سورتیں، بہتر رکوع(72) اور آٹھ سو چھپن(856) آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کی چھٹی منزل سورۂ  الصّٰفٰت (37)سے سورۂ الحجرات(49) تک ہے جس  میں  تیرہ سورتیں، انہتر (69)رکوع اور اور آٹھ سو ستاسی (887)آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کی ساتویں منزل  سورۂ ق (50) سے سورۂ الناس (114)تک ہے جس میں پینسٹھ(65) سورتیں، ایک سو دو رکوع(102) اور ایک ہزار پانچ سو اکسٹھ (1561)آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کا سب سے بڑا پارہ تیسواں پارہ ہے جس میں سینتیس سورتیں (37)، انتالیس رکوع(39) اور پانچ سو چونسٹھ (564)آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کا سب سے چھوٹا پارہ چھٹا پارہ ہے جس میں ایک سو گیارہ(111) آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کی سب سے بڑی سورة البقرہ(2) ہے جس کی دو سو چھیاسی آیات  اور چالیس رکوع ہیں۔
٭قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سورہ سورة الکوثر(108) ہے جس کی تین آیات ہیں۔
٭سورة اخلاص تہائی قرآن ہے جبکہ سورة کافرون اور سورة زلزال چوتھائی قرآن ہے۔(ترمذی)۔
٭عرب ممالک میں ہر پارے کے دو حصے ہوتے ہیں ہر حصہ حزب کہلاتا ہے۔
٭قرآن کریم کی وہ سورتیں جو سو سے کم آیات والی ہیں مثانی کہلاتی ہیں۔
٭قرآن کی وہ سورتیں جو سو سے زیادہ آیات والی ہیں مَیں کہلاتی ہیں۔
٭قران پاک میں موجودسورتوں کو تنزیل کے اعتبار سے مکی اور مدنی میں تقسیم کیا گیا ہے۔ قران میں موجود 114 سورتوں میں سے 65 مکی ہیں جبکہ 18 سورتیں مدنی ہیں۔سورتوں میں 35 سورتیں ایسی ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ دوبار نازل ہوئیں ہیں ایک بار مکہ میں اور ایک بار مدینہ میں جیسے سورہ رحمن، سورہ رعد، سورہ زلزال وغیرہ۔
٭ سورۂ النمل (27) میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘دو مرتبہ آئی ہے۔
٭ سورۂ توبہ (9) وہ واحد قرانی سورہ ہے جو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بغیر شروع ہوتی ہے
٭قرآن کریم کے دوسرے اور پانچویں پارے میں نہ کسی سورت کی ابتداء ہے اور نہ ہی انتہا۔
  ٭قران پاک میں دو ایسی سورۂ ہیں جو تین پاروں میں شامل ہیں۔
٭1) سورۂ بقرۂ(2)۔۔۔۔ جو پہلے پارے سے شروع ہوتی ہے اور تیسرے پارے میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔
٭2)سورۂ النساء(4)۔۔۔جو پارہ چار سے شروع ہوتی ہے اور پارہ  چھ  میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔
٭قرآن کریم کے آٹھ پارے ایک نئی سورہ سے شروع ہوتے ہیں۔
٭1)پارہ 1۔۔۔سورۂ فاتحہ۔سورۂ البقرہ
٭2) پارہ 15۔۔سورۂ بنی اسرائیل(17)۔
٭3)پارہ17۔۔۔سورۂ الانبیاء(21)۔
٭4) پارۂ 18۔۔ سورۂ المومنون (23)۔
٭5)پارہ26۔۔سورۂ الاحقاف(46)۔
٭6)پارہ28۔سورۂ المجادلہ(58)۔
٭7)پارہ 29۔۔سورۂ الملک(67)۔
٭8) پارہ 30۔۔سورۂ النبا(78)۔
٭قرآن کریم کے مطابق سیدنا موسٰی علیہ السلام کو نو معجزے عطا فرمائے گئے۔۔۔۔
حوالہ ۔۔سورة النمل (27) آیت 12۔۔۔۔۔سورۂ بنی اسرائیل(17) آیت 101۔۔
٭پانچ نبی جن کے نام اللہ رب العزت نے ان کی پیدائش سے قبل بتا دیے تھے۔
٭1)سیدنا عیسٰی علیہ السلام ۔۔۔سورة آل عمران(3) آیت (45)۔
٭2)سیدنا اسحاق علیہ السلام ،3) سیدنا یعقوب علیہ السلام۔سورة ھود (11)آیت (71)۔
٭4)سیدنا یحیٰی علیہ السلام۔۔۔سورة المریم(19) آیت (7)۔
٭5)سیدنا احمد صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔سورة الصف (61)آیت (6)۔
لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ
٭پورا کلمہ طیبہ  قرآن کریم میں کسی ایک جگہ بھی نہیں آیا۔
٭قرآن کریم میں  صحابہ کرام میں سے صرف ایک صحابی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام آیا ہے۔(سورۂ الاحزاب آیت 37 )۔
٭قرآن میں کسی عورت کانام نہیں آیاہے فقط”حضرت مریم علیہا السلام“کا۔بی بی ”مریم “کانام قرآن میں 34مرتبہ آیاہے۔
٭ سورۂ لہب(111)۔۔۔قرآن کریم نے ابولہب کے علاوہ کسی کو کنیت سے نہیں پکارا۔عرب کسی کو عزت اور شرف سے نوازنے کے لیے کنیت سے پکارتے ہیں لیکن یہاں معاملہ اور ہے۔ ابولہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا جو ایک کہ شرکیہ نام ہے عزیٰ اس بت کا نام تھا جسے قریش کے کفار پوجتےتھے اور عبدالعزیٰ کا معنی عزیٰ کا غلام۔۔لہذا اللہ پاک نے شرکیہ نام سے پکارنے کی  بجائے ابولہب کو کنیت سے پکارا۔
٭قرآن میں لفظ ابلیس گیارہ مرتبہ آیا ہے۔
٭قرآن کریم میں سب سے طویل نام والی سورت سورۂ بنی اسرائیل(17) ہے۔
٭قرآن کریم کی پانچ سورتوں سورة طحہٰ (20) ،سورة یٰسین(36) ،سورۂ ص (38)، سورة ق  (50) اور سورۂ القلم 68(سورۂ ن) کے نام  ان سورتوں کے پہلے لفظ  ہیں۔
٭قرآن کریم کی بارہ سورتیں ہیں جن کے نام میں کوئی نقطہ نہیں آتا۔
٭1)سورۂ المائدہ(5)۔
۔ 2)سورۂ ہود(11)۔
۔3)سورۂ الرعد(13)۔
۔4) سورۂ طٰہ(20)، ۔
۔5)سورۂ روم(30)۔
۔ 6)سورۂ ص(38)۔
۔ 7)سورۂ محمد(47)۔
۔8)سورۂ طور(52)۔
۔9)سورۂ ملک(67)۔
۔ 10)سورۂ دہر(76)۔
َ۔11)سورۂ الاعلی(87)، اور12)سورۂ عصر(103)۔
٭قرآن کریم میں اللہ پاک نے اپنی صفت ربوبیت کا ذکر سب سے زیادہ مرتبہ فرمایا ہے۔قرآن کریم میں لفظ رب ایک ہزار چار سو اٹھانوے مرتبہ آیا ہے۔
٭قرآن کریم لفظ الرحمٰن ستاون بار اور الرحیم ایک سو چودہ مرتبہ آیا ہے۔
٭قرآن کریم میں لفظ اللہ دو ہزار چھے سو اٹھانوے دفعہ آیا ہے۔
٭قرآن کریم کی تین سورۂ مبارکہ سورة القمر (54)،سورة الرحمن(55) اورسورة الواقعہ(56)  میں لفظ اللہ نہیں۔
٭ سورۂ المجادلہ (58) کی  بائیس (22) آیات ہیں اور ہر آیت میں لفظ  "اللہ"  ہے۔پوری سورۂ مبارکہ میں کل چالیس بار "اللہ" آیا ہے۔  
٭قرآن کریم کی سورۂ التین (95)  کا آغاز دو پھلوں انجیر اور زیتون کے نام سے ہوا ہے۔
٭قرآن کریم کی  سورۂ الاعلی(87)  کا اختتام دو نبیوں  حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسی  علیہ السلام کے نام پر ہوتا ہے۔
٭قرآن کریم کی پانچ سورتوں کا آغاز الحمد سے ہوتا ہے۔
سورۂ الفاتحہ(1)،سورۂ الانعام(6)،سورۂ الکہف (18)،سورۂسبا(34)،سورۂ فاطر(35)۔
٭قرآن کریم کی پانچ سورۂ مبارکہ   کا آغاز قل سے ہوتا ہے۔
سورة الجن(72)،سورة الکافرون (109)،سورة االاخلاص(112)،سورة الفلق(113)،سورة الناس (109)۔
٭قرآن مجید کی اُنتیس(29)سورتوں کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے۔
 تمام سورۂ مبارکہ میں حروف  مقطعات  پہلی آیت کے طور پر ہیں۔صرف سورۃ الشوریٰ میں پہلی آیت میں  حٰمٓ اور دوسری آیت میں عٓسٓقٓ ملتا ہے۔
٭1)سورۂ البقرۂ(2) ۔الٓـمٓ۔
۔2) سورۂ  آل عمران(3) ۔الٓـمٓ ۔
۔3)سورہ  الاعراف(7)۔الٓـمٓـصٓ۔ 
۔4) سورۂیونس(10 )۔"الٓـرٰ۔
۔ 5) سورہ ہود (11) ۔"الٓـرٰ۔
۔6)سورہ  یوسف(12)۔"الٓـرٰ۔
۔7)سورۂ الرعد (13)۔الٓـمٓـرٰ ۚ۔
۔ 8)سورہ ابراہیم (14)۔الٓـرٰ۔
۔ 9) سورۂ  الحجر (15)۔ الٓـرٰ۔
۔ 10) سورۂ طہٰ (20)۔ ٰطهٰ۔
۔11)سورہ  مریم (25)۔ كٓـهٰـيٰـعٓـصٓ ۔
 ۔12)سورہ الشعراء (26)۔ٰطسٓمٓ  ۔
 ۔13) سورۂ النمل (27)۔ٰطـسٓ ۚ۔
۔ 14) سورۂ القصص(28)۔ ٰطسٓمٓ۔
۔15)سورہ العنکبوت(29)۔ الٓـمٓ۔
۔16)سورۂ الروم (30)۔ الٓـمٓ۔
۔17) سورۂ  لقمان (31)۔  الٓـمٓ ۔
۔ 18) سورۂ السجدہ (32)۔  الٓـمٓ ۔
۔19)سورۂ  یٰس(36)۔يٰـسٓ  ۔
۔20)سورۂ ص (38)۔صٓ۔
۔21)سورۂ غافر(40)۔حٰمٓ۔
۔22)سورۂ فصلت(41)۔حٰمٓ۔
۔ 23) سورۂ الشورٰی (42)۔حٰمٓ۔عٓسٓقٓ (2)۔
۔ 24) سورۂ الزخرف(43)۔حٰمٓ ۔
۔25)سورۂ  الدخان(44)۔حٰمٓ۔
۔26) سورۂ الجاثیہ (45)۔حٰمٓ۔
۔27) سورۂ  الاحقاف(46)۔حٰمٓ۔
۔28)سورۂ ق(50)۔ قٓ ۚ۔
۔29)سورۂ  القلم (68)۔نٓ ۚ۔
٭چھ سورۂ مبارکہ  سورة البقرة (2)،سورة آل عمران(3) سورة العنکبوت(29)،سورة الروم(30)،سورة لقمان(31) اور سورة السجدہ(32)"الٓــمٓ" سے شروع ہوتی ہیں۔
٭قرآن کریم میں دو سورتوں سورة الشعراء (26)اورسورة القصص(28) کا آغاز "طسٓمٓ  "سے ہوتا ہے۔
٭قرآن کریم کی حوامیم(یعنی جن سورتوں کا آغاز "حٰمٓ"سے ہوتا ہے) وہ سات ہیں۔
سورة غافر(40)،سورة فصلت(41)،سورة الشوریٰ(42)،سورة زخرف(43)،سورة الدخان(44)،سورة الجاثیہ (45)سورة الاحقاف(46) ۔
٭قرآن کریم کی پانچ سورۂ مبارکہ سورة یونس(10)سورة ہود(11)سورة یوسف(12)سورة ابراہیم(14) اورسورۂ الحجر (15)    کا آغاز"الٓـرٰ"سے ہوتا ہے۔
٭قرآن کریم کی  چار سورتیں سورة الحدید(57)،سورة الحشر(59)اورسورة الصف(61) سورۂ الاعلیٰ (87)  "  سَبَّحَ "سے شروع ہوتی ہیں۔
٭قرآن کریم میں دو سورتوں  سورة الجمعہ(62) اور سورة التغابن(64) کا آغاز " يُسَبِّـحُ" سے ہوتا ہے۔
٭دو سورتوںسورة الفرقان(25) اورسورة الملک(67) کی ابتدا "تَبَارَكَ الَّـذِىْ" سے ہوتی ہے۔
٭چار سورتوں سورة الفتح(48)،سورة نوح(71)،سورة القدر(97) اور سورة الکوثر(108)  کی ابتداء "اِنَّا" سے ہوتی ہے۔
٭دو سورتیں  سورة المطفیفین(83)، سورة الھمزہ(104) کا آغاز" وَيْلٌ" سے ہوتا ہے۔
٭ سات سورتیں سورۂ واقعہ56،سورۂ المنافقون63،سورۂ التکویر81،سورۂ انفطار82 ، سورۂ انشقاق84،سورۂ نصر110اور سورۂ زلزال99  ۔۔  ” اِذَا 'سے شروع ہوتی ہیں۔
٭ بیس سورۂ مبارکہ  "قسم" ،"و" سے شروع ہوتی ہیں۔۔
سورۂ الصافات 37۔۔۔سورۂ ص 38۔۔۔سورۂ ق 50۔۔۔سورۂ ذاریات 51۔۔۔سورۂ طور 52۔۔۔سورۂ نجم 53۔۔۔سورۂ ن 68۔۔۔سورۂ قیامت 75۔۔۔ سورۂ مرسلات 77۔۔۔سورۂ نازعات79۔۔۔سورۂ البروج 85۔۔۔سورۂ طارق86۔۔۔۔سورۂ فجر 89۔۔۔سورۂ بلد90۔۔۔۔سورۂ شمس 91۔۔۔سورۂ ضحیٰ 93۔۔۔سورۂ تین 95۔۔۔سورۂ عادیات 100۔۔۔سورۂ عصر 103 سورۂ لیل105۔۔۔۔
٭قرآن کریم میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گیارہ بار " يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ " پکارا گیا ہے۔
٭تین سورتوں  سورة الاحزاب(33) ،سور ة الطلاق(65) اور سورة التحریم (66)کی ابتدا " يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ"سے ہوتی ہے۔
٭قرآن کے تیسویں پارے میں37سورتیں ہیں۔
٭ قرآن کریم میں  چار فرشتوں کے نام آئے ہیں۔
۔(1) جبریل۔۔سورۂ بقرۂ (2)آیت 98،سورۂ التحریم(66) آیت 4۔۔۔
۔(2) میکائیل۔ ۔۔سورۂ بقرۂ (2)آیت 98۔۔ 
۔(3) مالک۔۔سورۂ الزخرف(43) آیت 77۔
۔(4) ہاروت و ماروت۔۔سورۂ بقرہ (2) آیت 102۔۔۔
٭ فرشتوں کی صفات کے نام پر  تین سورتیں  ہیں ۔
۔1)سورہ الصافات (37)ـ 2)سورۂ معارج(70) ـ3)سورہ مرسلات (77)،4)سورہ نازعات (79)ـ،بعض نے اس سے مراد فرشتوں کو لیا ہے ـ
٭ قیامت کے نام پر یا قیامت کی خوفناکیوں کے نام پر تیرہ سورتیں آئی ہیں ـ
۔1) سورہ الدخان 44۔۔ 2)سورہ الواقعہ56 ـ۔ 3)سورہ الحشر59۔۔ 4)سورہ التغابن64۔۔ 5)سورہ الحاقہ 69۔۔ 6)سورہ قیامہ75۔۔ 7)سورہ النبا78۔۔ 8)سورہ التکویر 81ـ 9)سورہ النفطار82۔۔ 10)سورہ الانشقاق84۔۔ 13)سورہ غاشیہ 88۔۔12)سورہ الزلزال 99۔۔13)سورہ القارعہ 101ـ
٭ازمان و اوقات کے نام پر آٹھ سورتیں ہیں۔
۔(1) سورہ الحج،(2) سورہ جمعہ،(3)سورہ فجر،(4) سورہ لیل ،(5)سورہ ضحٰی، (6) سورہ القدر، (7) سورہ العصر،(8) سورہ فلق،۔
٭ مقامات کے نام پر سات سورتیں ہیں۔۔۔
۔(1)سورہ اعراف 7۔
۔(2) سورہ الحجر 15۔
۔(3)سورہ الاحقاف46۔
۔(4) سورہ طور52۔
۔(5) سورہ البلد90۔
۔(6) سورہ الککوثر108۔
۔(7) سورہ التین95۔
٭قرآن کریم میں تین مساجد کا نام آیا ہے۔مسجد اقصٰی، مسجد الحرام اور مسجد ضرار
٭قران پاک میں  چھ پھلوں کے نام ہیں۔۔۔  کھجور،انگور،انار،کیلا،انجیر،زیتون
کھجور (نخل) ۔انگور(اعناب)۔۔۔سورۂ الانعام 6، آیت 99۔۔
انار (رمان)۔۔۔سورۂ  الرحمٰن55 آیت 68۔۔
کیلا۔۔۔ سورۂ واقعہ56 ،آیت 29
انجیر،زیتون(سورۂ والتین95)۔۔
٭قرآن کریم میں چار سبزیوں کا ذکر ہے۔ساگ، لہسن ،ککڑی  اور پیاز(البقرۂ2،آیت61)۔
٭قرآن کریم میں تین شہروں کا نام آیا ہے۔یثرب،بابل اور مکہ۔
٭قرآن کریم میں چار پہاڑوں کا نام آیا ہے۔کوہ جودی،کوہِ صفا،کوہِ مروہ اور کوہِ طور( سورہ طور52)۔
٭دو دریاؤں کے نام قرآن میں ذکر ہوئے ہیں۔دریاۓ نیل (سورہ انبیاء ) اور دریائے فرات(سورہ فرقان25،سورۂ فاطر 35) ۔
٭قرآن کریم میں چار دھاتوں کا ذکر آیا ہے۔
لوہا (سورۂ حدید57۔آیت 25)۔
سونا،چاندی(سورۂ دہر ِ76۔آِیت 16اورآیت 21)۔
تانبا(سورۂ الکہف18۔آیت96)۔
٭قرآن کریم میں تین درختوں کا نام آیا ہے۔
کھجور(سورۂ الکہف18۔آیت 32)۔
بیری(سورۂ واقعہ56۔آیت 28)۔
  زیتون(سورۂ التین 95)۔
٭قرآن کریم کی سات سورتیں حیوانوں کے نام پر ہیں۔
سورۂ البقرة(2) گائے۔۔
سورۂ الانعام(6)مویشی۔۔
سورۂ النحل(16)شہد کی مکھی۔۔
سورة النمل(27)چیونٹیاں۔۔
سورۂ العنکبوت(29)مکڑی۔۔
سورةۂ العادیات(100)گھوڑے۔۔
سورة الفیل(105)ہاتھی۔۔
٭قرآن کریم میں چارپرندوں کا ذکر آیا ہے۔
٭1)بٹیر(سلویٰ)سورۂ البقرہ(2) آیت(57)۔
٭2)کوا (غراب)۔سورۂ المائدہ(5) آیت(31)۔
٭3)  ہدہد۔سورۂ النمل(27) آیت (20) ۔
٭4)  ابابیل۔سورۂ الفیل 105۔

2 تبصرے:

  1. السلام علیکم و رحمۃ اللہ
    اُمید ہے کہ آپ مع اہل و عیال بخیر و عافیت ہوں گی
    اچھی معلومات فراہم کی ہیں ۔ جزاک اللہ خیراً
    اللہ سب مُسلمانوں کو قرآن شریف کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی وفیق دے

    جواب دیںحذف کریں
  2. وعلیکم السلام
    آمین
    اللہ کا شکر ہے۔ سب خیریت ہے۔
    اللہ تعالیٰ ہم سب کو علمِ نافع پڑھنے، سمجھنے اور عمل کرنے کی توفق عطا فرمائے آمین۔

    جواب دیںحذف کریں

"کہانی ایک رات کی"

انسان کی زندگی کہانی رات اور دن کی آنکھ مچولی کے مابین بھاگتےگزرتی ہے۔دن کے کھاتے میں گر ہار جیت کے برابر   امکانات  ہوتے ہیں تو رات نام...