صفحہِ اول

ہفتہ, ستمبر 07, 2013

" بابا صاحبا۔۔۔راہِ رواں "

 







 

بابا صاحبا۔۔۔ اشفاق احمد
 راہِ رواں۔۔۔بانو قدسیہ 
راہ رواں اور بابا صاحبا   ایسی دو کتابیں ہیں کہ ان میں  سوچنے والے اذہان کے سوال کا جواب کسی حد تک دینے کی صلاحیت ہےکہ ہر سوال کا جواب تو کتاب اللہ سے بہتر کہیں سے نہیں مل سکتا۔یہ دونوں کتب محترمہ بانو قدسیہ کی جانب  سے مرتب کی گئیں اور جناب اشفاق احمد کی وفات(سات ستمبر 2004) کے بعد آنے والے سالوں میں شائع ہوئیں۔
۔'بابا صاحبا'   کے پہلے نصف میں  محترم اشفاق احمد  ارض رومِ    میں قیام کے دوران   حیران کن  واقعات ،تجربات اور  شخصیات سے
  ملواتے ہیں  تو اختتام تک آتے آتے ڈیروں اور باطنی سفر    کے مرحلوں میں قاری کو شریک کرتے ہیں۔"بابا صاحبا "میں دل کی ان کہی سرگوشیاں اورانمول یادوں کی ایسی سوغاتیں ہیں جنہیں وہ اپنی کسی کتاب کی جلد میں قید کر سکے اور نہ ہی کبھی"زاویہ" کی بیٹھک میں اپنے سامعین کے روبروبیان کیا۔
۔'  راہِ رواں 'دو انسانوں کے   ایک   تعلق    کے پہلے سانس سے آخری سانس تک کی داستان ہے۔ ایک چلا گیا اور دوسرا منتظر ہے بگل بجنے کا (4فروری 2017 کو محترمہ بانو قدسیہ انتقال فرما گئیں )۔ "باباصاحبا" جناب اشفاق احمد کی کتاب ہے تو "راہِ رواں" اشفاق احمد کو مرکز بنا کر لکھی جانے والی کتاب ہے۔ راہ رواں ایک عام کتاب نہیں بلکہ ا نمول ذاتی یادوں کی ایسی قیمتی  پٹاری ہے جسے پڑھتے ہوئے قاری ان دو محترم ہستیوں  کے سفرِزیست کی ریل گاڑی پر سوار ہو جاتا ہے،راستے میں ملتے اجنبی منظروں میں اپنائیت دکھتی ہے تو کہیں یہ منظراتنے قریب آ جاتے ہیں کہ    پڑھنے والے کے دل کو چھو کر اس کے اندر کا حال بیان کرنے لگتے ہیں۔ ان دو کتابوں کو پرانے زمانے کے "بہشتی زیور ّ کتاب کی طرح سے نئی زندگی شروع کرنے والے ہر انسان کو پڑھنا چاہیےاور جو اس بندھن میں بندھ کر بھی مطمئن نہ ہوں ان کے لیے بھی رہنمائی موجود ہے  
 ۔"راہ رواں ۔۔۔۔ بانو قدسیہ "۔۔۔یہ کتاب بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کے ساتھ کی سفر کہانی ہے ، دونوں کی ساری کتب اور ہر تحریر کاعکس اس کتاب کے آئینے میں جھلکتا ہے، جس نے "راہِ رواں"نہیں پڑھی وہ بانو قدسیہ اور اشفاق احمد کے خیال کی گہرائی کو چھو نہیں سکا۔ اس بیش بہا کتاب میں ہر عمر اور ہر سوچ کے قاری کے ذہن میں اٹھنے والے زندگی کے پیچ وخم کے بہت سے راز کھلتے ہیں۔
رشتوں اور تعلقات کے رکھ رکھاؤ اور محبتعشق کی بھول بھلیوں کے ساتھ ساتھ دین اور دنیا کے اسرارورموز اپنی ذہنی سطح کے مطابق سمجھنے کے لیے میں نے آج تک اس سے بہتر تخلیق نہیں پڑھی ، اس کتاب کا ہر لفظ بار بار پڑھے جانےکے قابل ہے۔ 620 صفحات اور 1200 روپے قیمت کے ساتھ آج کے اس تیز رفتار دور میں یہ کتاب  ہر کسی کی پہنچ میں نہیں لیکن ٹیکنالوجی کا شکریہ کہ اب نیٹ سے ڈاؤن لوڈ کر کےپڑھی جا سکتی ہے۔

ڈاؤن لوڈ کا لنک۔۔۔۔

*http://www.novelshouse.com/rahe-rawan-urdu-book-by-bano-qudsia/
  *http://zubiweb.net/read-rahe-rawan-bano-qudsia/
  "راہ ِرواں"
صرف ایک راہ ہی نہیں  ایک مکمل شاہراہ ہے ۔زندگی کو جاننے کی ،رشتوں کو برتنے کی ،تعلقات کو سمجھنے کی ،بندھن کو پرکھنے کی ۔ یہ وہ داستان الف لیلٰی ہے جو پڑھنے والے کی اُس کے معیار،اُس کے مزاج پرآ کر تسکین کرتی ہے،چاہے کوئی تاریخ کا طالب ِعلم ہو یا محبت کے مدرسے کا طُفل ِمکتب اور یا پھر زندگی کے اسباق بار بار پڑھ کر اُکتا چکا ہو  ۔یہ کتاب ہر ایک کو ماں کی آغوش کی طرح اپنے دامن میں سمیٹ لیتی ہے۔ کتاب کے فنی اور ادبی محاسن سے قطع نظر اس کی خوشبو اتنی دل آویز ہے کہ اس پر بات کرنے کے لیے صفحات بھی کم پڑتے ہیں ۔
راہ رواں از بانو قدسیہ  سے   کچھ اقتباسات اور ساتھ ساتھ ان شخصیات  اور اہم واقعات کا حوالہ بھی جو جناب اشفاق احمد  اور بانو قدسیہ  کی زندگی کہانی میں اہم مقام رکھتے ہیں۔۔۔
 پہلا صفحہ : 7 ۔۔۔
گھر سے گھر تک ( آغاز ِکتاب) ۔
ساتھ رہتے ہوئے بھی خاں صاحب ہر انسان کی طرح  میرے لیے  مانوس اجنبی تھے۔ میں انہیں کالج میں ملی ۔ پھر ہم نے گھر بسایا ۔ کرائے کے مکان بدلے اورآخری مرحلے میں اپنا گھر 121- سی ،ماڈل ٹاؤن میں بنا لیا ۔جہاں سے وہ اپنے اصلی گھر کو روانہ ہو گئے۔ یہ گھر اُن کی رُخصتی کے بعد گھر نہ رہا ،شہرت مابعد کا خزینہ بن گیا۔
صفحہ 9۔۔۔۔۔
ہمارے بابا جی نوروالے کہا کرتے تھے کہ جس درجے کی توفیق نہ ہو اُس کا اعلان نہیں کرنا چاہیے۔یہ بات عمر کے آخری حصے میں سمجھ آئی لیکن اُس وقت خاں صاحب کو خط لکھ کر،خط پا کر کچھ ایسا سرور ملتا تھا کہ اس شغل سے چھٹکارا ممکن نہ تھا۔محبت کا دماغ میں وہیں وقوف ہے جہاں عادت،نشہ ،اُکساہٹ اور لذت کا مقام ہے۔ سگریٹ،ہیروئن،چرس،بھنگ،افیون یہ سارے شوق 'ھل من مزید' کا نعرہ لگاتے ہیں۔کچھ ایسی ہی کیفیت محبت کی بھی ہے۔۔۔یہ آخری بار مل لوں۔۔۔آخری باردیکھ لوں۔۔۔بس یہی آخری لمس ہوگا۔غالباً جنس اور محبت دو علیحٰدہ دماغی حصوں میں بسرام کرتے ہیں۔محبت تسلسل کی آروز مند ہے جبکہ  سیکس اُبال کی شکل میں گھیرا ڈالتی ہے۔۔۔محبت کا متلاشی کبھی کبھی جان سے گزر جانے کو بھی کھیل سمجھتا ہے،مشکل تب پیش آتی ہے جب محبت میں اعتراف کی گانٹھ دونوں رسیوں میں مضبوط ہو جاتی  ہے ۔
اب اس محبت کو دائمی بنانے کی اُلجھن شادی کا کہا اور اُن کہاوعدہ بن جاتی ہے۔۔۔۔روز ازل سے مرد اور عورت جب کبھی محبت کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں،اُنہیں معلوم نہیں ہوتا کہ یہ سفر جو اُنہیں ایک دوسرے سے کمٹ کر رہا ہے،لمبا بھی ہے اور پُرخطر بھی۔اس میں وعدے کا پاس بسااوقات گلے کا پھندا بن جاتا ہے۔جس طرح کبھی کبھی منشیات بڑی قیمت وصول کرتی ہیں۔ایسے ہی محبت اور شادی پر منتج ہونے والی محبت ایک بہت بڑا چیلنج بن کر زندگی میں داخل ہوتی ہے۔۔۔۔۔
جس درجے کی توفیق نہ ہو اُس کا اعلان کر چکنے کے بعد آدمی کو یہ سمجھ نہیں  آتا کہ روزمرہ زندگی میں نشہ آور سرور کہاں گم ہو گیا؟ وہ ربط باہمی کس مقام پر کیوں اور کیسےکل ایش میں بدل گیا۔۔۔انسان چونکہ فطرتاً آزاد ہے۔اس شادی کے بندھن میں جو سب سے بڑا چیلنج اُسے پیش آتا ہے ۔وہ یہی فری ول کی آزادی ہے۔
...... free will...... clash..... commit.
صفحہ :13 تا 31۔۔۔۔۔۔۔
: اشفاق صاحب ۔۔۔۔ خاندان تعارف
مہمند پٹھان ۔۔۔ پنجاب میں ہوشیارپور آباء واجداد کا پہلا ٹھکانہ
پردادا ۔۔۔ معظم خان
 دادا۔۔۔۔۔ دوست محمد خان۔۔ ریاست حیدرآباد دکن ۔۔۔ دربار میں اپنی فضیلت ،فارسی دانی اورعلم دوستی کے باعث اتالیق کے عہدے پر فائز رہے۔
والد ۔۔۔ محمد خان۔۔۔ گورنمنٹ کالج سے ملحق موٹمورنسی کالج میں( جسے عوام ڈنگر ہسپتال کہتے تھے) تعلیم حاصل کی بعد میں مُکستر مشرقی پنجاب کے ایک قصباتی گاؤں میں رہائش اختیار کی ۔
والدہ ۔۔۔۔ بی بی سردار بیگم 
صفحہ:19۔۔۔۔۔
 بابا محمد خاں کے گھر نو بچوں نے جنم لیا ۔عجیب سی بات ہے کہ سب بچے دو دو سال کے وقفے کے بعد 20 مئی کو پیدا ہوئے.صرف اشفاق صاحب 22 اگست1925ء میں اس دُنیا میں تشریف لائے ۔ سنا ہے اسی دن بابا دوست محمد خاں دُنیا سے رُخصت ہوئے تھے. سنا ہے خاں صاحب ہو بہو اپنے دادا سے مشابہ تھے۔
صفحہ :32۔۔۔۔۔ 
خاندان کا شجرۂ نسب
صفحہ :455 ۔۔۔۔۔ 
کھڑکی کے ساتھ لگ کر ایک نوجوان کھڑا تھا ۔ گورا چٹا خوبصورت لڑکا جس نے کھڑکی کے ساتھ کہنی ٹیک رکھی تھی۔ جس وقت میں وہاں پہنچی وہ فوراً مودب انداز میں ایک طرف ہو گیا ۔ نظریں نیچی رکھیں اور مجھ سے بات کرنے کی کوشش نہ کی ۔ جب میں فیس دے چکی تو برسر صاحب نے تعارف کے انداز میں کہا " بی بی یہ اشفاق صاحب ہیں۔ یہ آپ کے ساتھ ایم اے اُردو کریں گے۔ ان کی فیس میں نے ابھی جمع کی ہے"۔
یہ میرا خاں صاحب سے پہلا تعارف تھا ۔۔۔۔۔۔
صفحہ 47 ۔۔۔۔۔
ابھی کتابیں کاپیاں رکھ کر سیٹل ہو ہی رہی تھی کہ ایک خوبصورت گورا چٹا اطالوی شکل و صورت کا نوجون اندر داخل ہوا ۔ اس نے لٹھے کی شلوار،نیلی لکیروں والا سفید کُرتا اور پشاوری چپل پہن رکھی تھی ۔ وہ ملائمت کے ساتھ آگے بڑھا اورمردانہ قطار میں مولوی طوطا کے ساتھ بیٹھ گیا ۔
چند لمحے خاموشی رہی۔پھر نوجوان نےاپنا تعارف کرانے کے انداز میں کہا۔۔"خواتین وحضرات! میرا نام اشفاق احمد ہے۔ میں مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور سے آیا ہوں ۔ ہمارے قصباتی شہر کا نام مکستر ہے۔ میرے والد وہاں ڈنگر ڈاکٹر تھے،پھر رفتہ رفتہ حیوان ِناطق کا علاج کرنے لگے ۔۔۔ ہم آٹھ بہن بھائی ہیں اوراس وقت موج ِدریا کے بالمقابل 1۔۔۔۔ مزنگ روڈ میں رہتا ہوں ۔ میرے پاس ایک سائیکل ہے جس پر اس وقت میں آیا ہوں" ۔
یہ کہہ کر اشفاق احمد نے کلاس کے لڑکے لڑکیوں پر نظر دوڑائی ۔سب خاموش تھے ،ابھی اورینٹیشن کی کلاسوں کا رواج نہ تھا ۔ لوگ اپنا تعارف ،حدود اربعہ ،ہسٹری بتاتے ہوئے شرماتے تھے، صرف اشفاق احمد نے سب کی سہولت کو مد ِنظر رکھ کر اپنا آپ تھالی میں رکھ کر پیش کر دیا۔
صفحہ :54 تا 62 ۔۔۔۔۔بڑھاپا ۔۔۔۔ از اشفاق احمد عمر 26 سال
صفحہ :79 ۔۔۔۔۔۔ہر انسان چالیس کے لگ بھگ پہنچ کر مڈل لائف کے کرائسس اور اس سے جنم لینے والی تبدیلیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس عمر کو پختگی کی عمر کہہ لیجیے لیکن یہی عمر ہے جب عام آدمی بڑی بڑی غلطیاں کرتا ہے اور عمل میں ناپختگی کا ثبوت دیتا ہے۔ تبدیلی کو خاموشی سے قبول نہ کرنے کی وجہ سے کئی بار انسان کا امیج سوسائٹی میں بالکل برباد ہو جاتا ہے۔ پے درپے شادیاں، معاشقے، معیارزندگی کو بلند کرنے کے لیے دربدرکی ٹھوکریں، ماں باپ سے ہیجانی تصادم، اولاد سے بے توازن رابطہ، غرض یہ کہ اس عہد کی تبدیلی میں زلزلے کی سی کیفیت ہوتی ہے۔
صفحہ 80۔۔۔چاند کا سفر (گورنمنٹ کالج ) مضمون از اشفاق احمد
صفحہ :87 ۔۔۔۔ذاتی ڈائری ۔۔ اشفاق احمد 1951
٭جب زندگی کے سارے باب بند ہو جاتے ہیں اور فرار کی تمام راہیں مسدود ہو جاتی ہیں تو موت چور دروازے سے آکرکہتی ہے۔"آؤ بھاگ چلیں"۔
٭میرے لیے ماں کا وجود اُس ٹائم پیس کی طرح ہے جسے میں نے مدت سے چابی نہیں دی ،لیکن جسے میں کسی خاص صبح جاگنے کے لیے چلا بھی دیتا ہوں اور الارم بھی لگا دیتا ہوں ۔
صفحہ :92 ۔۔۔۔۔۔
پہلی باقاعدہ بےقاعدہ بات چیت
صفحہ :96 ۔۔۔۔بانو قدسیہ ۔۔۔۔ نام کہانی
::  ٭میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب میرا پہلا افسانہ "داماندگیء شوق" ادب لطیف میں چھپ گیا ۔ وہ یہ رسالہ لے کر دستی میرے پاس آئے ۔ لیجیے مبارک ہو۔ ادبی سفر شروع ہو گیا
" رسالے کے اوپر لکھا تھا "کاش میں بھی ایسا ایک افسانہ لکھ سکتا
کہانی پر میرا نام بانو قدسیہ لکھا تھا ۔ یہ نام خاں صاحب نے اپنی طرف سے عنایت کیا تھا ۔اس کے بعد رفتہ رفتہ میرا یہی نام شہرت پکڑتا گیا اور میں اپنا آبائی نام قدسیہ چٹھہ خود بھی بھول گئی۔
یہ 'نام' کی بھی عجیب کہانی ہے۔
میری والدہ نے کبھی مجھے قدسیہ کہہ کر نہ پکارا ۔ وہ مجھے کاکی اور ریزی بھائی کو کاکا کہتی تھیں۔ لیڈی میکلیگن میں میری سہیلیاں جمیلہ ظفر ،امینہ ملک، انورملک اورآپی اقبال ملک مجھے"کو" کہہ کر پکارتیں ۔ میں بھی اس نام پر خوش رہی ۔ مفتی صاحب مجھے قدسی پکارتے رہے لیکن شہاب صاحب نے جب مجھے بانو کہہ کر بلانا شروع کیا توہر نام ماند پڑ گیا۔اب تک یہی نام مستعمل ہے ۔ چھوٹے بڑے مجھے "بانو آپا" کہہ کر پکارتے ہیں ۔
٭"ہم آ گئے" ریڈیو پروگرام "تراڑکھیل۔۔۔۔۔۔98۔۔
٭نکاح،شادی۔24،25 ۔۔170 ۔171
۔16دسمبر 1956 ،455 این سمن آباد
 اس دن میں نے پرانا سفید شلوار قمیض پہنا، قمیض تھوڑی سی پھٹی ہوئی تھی اشفاق صاحب معمولی لکیروں والے کرتے میں ملبوس تھے۔ مفتی جی، محمد حسین آرٹسٹ اور ڈیڈی جی براتی تھے۔ ریزی اور محمودہ اصغر میری والدہ سمیت مائیکہ والے تھے۔ نہ کوئی ڈھولک بجی نہ کوئی مہندی کی رسم ہی ہوئی۔
 نکاح کے بعد اشفاق احمد خاں صاحب نے اپنی پاس بک میرے ہاتھوں میں چپ چاپ تھما دی۔ اس میں نو سو روپے جمع تھے۔
٭بچے۔176 تا 179
٭ فلم دھوپ سائے201،282۔۔
٭121سی کی بنیاد رکھی گئی290،293
٭شادی کا نظام۔۔۔287،290
٭اشفاق احمد اور پاکستان۔۔۔۔319
٭براڈ کاسٹر تلقین شاہ۔۔۔199۔200،201،341،349
۔٭برکلے ایکسچینج۔۔۔428
٭راجہ گدھ ۔۔۔437
٭ بلڈ کینسر بانوقدسیہ۔۔485،479
٭آخری ایام کی باتیں 491،494
٭آخری ایام،457
٭آخری وقت 466
۔۔۔۔۔ 
لوگ لوگ"۔۔"
٭قدرت اللہ شہاب۔۔۔۔230۔۔۔
۔۔مردِابریشم،۔۔۔۔187،188،352،353
٭ٹرائیکا۔۔۔مفتی،شہاب،اشفاق۔۔۔352
٭عفت شہاب۔۔۔۔382،419
٭سرفرازشاہ صاحب۔۔۔۔420،421
٭محمد یحیٰ خان(بابا یحیٰ۔۔۔500
٭میرزا ادیب،صوفی غلام معطر۔۔501
٭چچا غلام علی۔۔۔۔503
٭قرۂ العین حیدر۔۔۔۔508
٭ممتاز مفتی۔۔508،512
٭عکسی مفتی۔۔۔۔184،185
٭انورخاور۔۔533
٭واجدہ تبسم۔۔553
535 ٭عبدالرحٰمن چغتائی۔۔
٭ابنِ انشاء۔۔537
٭انتظار حسین۔۔۔541
٭احمد ندیم قاسمی۔۔۔546
٭آذر زوبی۔۔۔547
٭ڈاکٹر محمودالرحٰمن۔۔۔549 
٭الطاف فاطمہ۔۔۔۔551
٭محسن احسان،شفقت۔۔۔۔552
٭واجدہ تبسم۔۔۔553
٭احمد فراز۔۔۔۔555
٭سلیم اختر،وزیرآغا،انورسدید۔۔۔۔554
٭مسعود کھدرپوش۔۔۔556
٭خواجہ جی/ نیلم خواجہ۔۔۔۔557
٭اصغرندیم سید۔۔۔۔559
٭ احمدعلی۔۔۔۔۔558
٭ اجمل نیازی۔۔۔560
٭قاضی جاوید۔۔565
٭محمدطفیل،جاوید طفیل۔۔۔567
٭ بیپسی سدھوا٭ مینوبھنڈارا۔۔۔567،569
٭افضل توصیف۔۔۔570
٭مستنصرحسین تارڑ۔۔۔۔570،571
٭ افتخار عارف۔۔۔ 571
٭امجداسلام امجد،عطاءالحق قاسمی۔۔۔572
٭سیما پیروز،یاسمین حمید، رخشندہ نوید۔۔۔573
٭ احمدعقیل روبی۔۔۔۔574
٭ محمد یونس بٹ۔۔۔576
٭حنا بابرعلی۔۔۔580
٭محترمہ نصرت بی بی۔۔ 584
٭چہار درویش۔۔۔۔586
٭عبدالرحمٰن میاں ( خاوند لکھاری بشرٰی رحمٰن)۔225،224
٭بشرٰی رحمٰن۔۔۔554
٭جمیلہ ہاشمی۔۔۔۔191،192،193
٭انورسجاد۔۔۔۔167،522
٭نعیم طاہر۔۔۔۔۔183،222
٭ایلیسا باؤسانی۔۔۔۔222
٭منیرنیازی۔۔۔۔234
٭ڈاکٹرحسنات(لیڈی ڈیانا)۔۔۔۔251،30
٭طفیل نیازی۔۔۔۔233،231
٭ملکہ ترنم نورجہاں۔۔۔۔253
٭فیض احمد فیض۔۔۔279،289
٭صوفی تبسم۔۔۔۔355،356
٭باب ہیز۔۔۔۔165،431
٭ امریکن نژاد شمس۔۔۔۔397،387،407
٭ خالدہ حسین۔۔۔۔83،85
 ٭ریزی (پرویزچھٹہ،، بڑابھائی بانوقدسیہ)۔۔۔۔۔۔70،71،73،89،115،174،179،208،210
٭جاوید ،صدیقہ۔۔۔۔173،179،،207،226،227،
٭ڈاکٹرمحمد عامر۔۔۔۔588
٭عاصم بخاری، پروفیسر محمد اعجاز چوہدری۔۔۔۔589
ڈاکٹر محمد مسعود قریشی۔۔۔۔590
٭ڈاکٹرطیب(سروسزہسپتال)۔۔۔۔۔590،591
٭ڈاکٹرشاہد محمود۔۔۔۔592
٭ڈاکٹراحمدخان۔۔۔۔593
٭ڈاکٹرعاطف مرزا۔۔۔۔594
٭ ڈاکٹر اکرم زبیر۔۔۔۔۔595
٭ ڈاکٹر جاوید شیخ۔۔۔۔596
٭راشد لطیف۔۔۔۔۔597
٭نورالحسن۔۔۔۔598
٭مجیب الرحمٰن شامی، چوہدری سردار محمدِ حمیدصاحب۔۔۔۔601
٭ مسعود میاں۔۔۔۔۔602
٭مہمان لکھاری
تحریر: انیس احمد خان (بیٹا) 359
٭ایک گھر کے دو راستےاز اجمل نیازی561تا565
٭اشفاق احمد از نورالحسن۔۔۔496،498
٭اشفاق احمد از عاطف گوہیر۔۔۔459
٭اسلم کولسری۔۔۔269
٭ریاض محمود۔۔259
٭اقبال...آذر زوبی کی نظر میں از ڈاکٹرمحمودالرحمٰن۔۔۔549
٭اشفاق احمد کی یاد میں از مسعودمیاں ۔۔۔۔،605،613
٭راجہ گدھ ایک تاثر از مسعود میاں۔۔۔۔
٭ممتاز مفتی ایک ذاتی خاکہ۔۔۔517
٭داستان گو اور اشفاق احمد از ممتاز مفتی۔۔۔521
۔۔۔
بانو قدسیہکچھ خاص ویڈیوز جن میں محترم اشفاق احمد اور محترمہ بانو قدسیہ نے اپنی ذاتی زندگی کے حوالے سے جوابات دئیے۔
 ٭نعیم بخاری کا بانو قدسیہ اور اشفاق احمد سے سوال کہ آپ کو اِن میں کیا پسند آیا شادی سے پہلے؟ سُنیے دونوں کے دلچسپ 
جوابات۔۔۔۔ بانو آپا کی صاف گوئی بھی ملاحظہ ہو۔
https://www.facebook.com/kitabmela/videos/1656292197971277/
٭بانو قدسیہ کا اشفاق احمد سے ایک بہت انوکھا اور تلخ سوال
https://www.facebook.com/kitabmela/videos/1652938918306605 

6 تبصرے :

  1. کتاب نامہ، شمارہ: 101
    اشاعت: 13 اپریل 2014ء

    * "داستان گو کی داستان"
    ممتاز محقق اور ادیب عقیل عباس جعفری کا بانو قدسیہ کی کتاب "راہِ رواں" پر تبصرہ
    http://www.akhbarekhyber.com/archive/northstar_pages/large/northstar_image_2014-04-13_2930.jpg

    جواب دیںحذف کریں
  2. بانو آپا بھی داستان سرائے سے چلی گئیں۔۔۔۔۔۔
    05-02-2017 صبا پرویز کیانی
    http://www.humsub.com.pk/43187/saba-pervaiz/

    جواب دیںحذف کریں
  3. بانو آپا اور تارِ عنکبوت – اوریا مقبول جان
    06/02/2017
    https://daleel.pk/2017/02/06/29174

    جواب دیںحذف کریں
  4. بانو آپا کی وصیت! عطا ء الحق قاسمی
    09/02/2017
    https://daleel.pk/2017/02/09/29755

    جواب دیںحذف کریں
  5. بانو قدسیہ (1928-2017)

    معروف ادیبہ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928 کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیم ہند کے بعد لاہور آگئیں۔
    ان کے والد بدرالزماں ایک گورنمنٹ فارم کے ڈائریکٹر تھے اور ان کا انتقال 31 سال کی عمر میں ہوگیا تھا۔ اس وقت ان کی والدہ ذاکرہ بیگم کی عمر صرف 27 برس تھی۔ بانو قدسیہ کی اپنی عمر اس وقت ساڑھے تین سال تھی۔ ان کا ایک ہی بھائی پرویز تھا جن کا انتقال ہوچکا ہے۔ بانو قدسیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبے ہی میں حاصل کی۔ انھیں بچپن سے ہی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا اور پانچویں جماعت سے انھوں نے باقاعدہ لکھنا شروع کردیا۔

    http://www.ufaqkaypaar.com/2017/02/1928-2017.html

    جواب دیںحذف کریں