جمعہ, ستمبر 06, 2013

اشفاق احمد اور7 ستمبر،2004 ء کی رات

 صفحہ 457 ۔۔۔۔۔ 
چھ ستمبر کی رات عجیب بےکسی سے پا پیادہ چل رہی ہے۔ خاں صاحب کی ڈوبتی نبض اتنی دھیمی تھی کہ بار بار شُبہ ہوتا ابھی ہے ابھی نہیں ہے،سُرخ وسپید چہرہ جس تکیے پر دھرا تھا اُسی کی مانند سفید ہو چکا تھا ۔ بازوؤں کا گوشت جھالر صفت لٹک رہا تھا ۔ نہ بالوں میں آب وتاب باقی تھی نہ داڑھی میں چمک تھی ۔ درد مسلسل چھاپے مار رہا تھا ،لیکن اُن کی آواز میں ناصبوری ،نا شکیبائی یا رتی بھر شکایتی لہجہ در نہ آیا تھا ۔
 وہ بار بار اُٹھتے مجھے بلاتے ،میں اُٹھتی پاس جاتی وہ کمزور مدہم آواز میں کہتے "میں نے تمہیں بہت تنگ کر رکھا ہے "۔ میں جواب میں کچھ نہ کہہ پاتی ۔ کچھ دیر میں اُن کا ہاتھ پکڑ کر بیٹھتی ۔ پھر وہ بڑے تردد کے ساتھ مجھے کہتے "سو جاؤ اوراب میرے بلانے پر بھی نہ اُٹھنا۔" 
اُن کی تکلیف اس قدر زیادہ تھی کہ اندر ہی اندر یہ دکھ مجھے ستا رہا تھا کہ کاش وہ قوت ِبرداشت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے روئیں ،چلائیں ،واویلا مچائیں  ۔لیکن خاموش شیرقالین تو صاحب ِفراش تھا ۔ ہم دونوں جاگ رہے تھے،دونوں ایک دوسرے کو سلانے کا مشغلہ اپنائے ہوئے تھے ۔
 رات قطرہ قطرہ گزر رہی تھی جیسے ڈرپ میں لگا خون ۔ 
کمرے میں ائیر کنڈیشنر کی آواز چہرے پر منڈلانے والی مکھی کی طرح بھنبھنا رہی تھی ۔کمرے میں لگا کلاک بڑی نحوست پھیلانے کے انداز میں سیکنڈ کی سوئی بجائے جا رہا تھا ۔آج اس کی آواز گویا کوچ کا نغمہ تھا ۔
 کمرے میں زیرو کا بلب روشن تھا ،جس کی روشنی پر یاس کا پیلا پن نمایاں تھا ۔
صفحہ 458۔۔۔۔ 
کتابوں سے لدی  الماریاں جامد  باسی اور پرانے کاغذوں کی بو باس کمرے میں سپرے کر رہی تھیں ۔ پتہ نہیں کیوں میری آنکھوں کو دھوکا ہو رہا تھا تھا کہ تمام خاکستری کتابیں زرد رنگ  کی ہو چکی ہیں اور اُن پر ہوائیاں اُڑ رہی ہیں ۔ کتابوں کے عنوانات جو خاں صاحب کی لکھائی میں کتابوں کے پشتوں پر تھے ،پڑھے نہ جاتے تھے۔ 
اُبھرنے والی صبح بچھڑنے والی رات سے گلے مل رہی تھی ۔ گویا مستقل وچھوڑے سے خوفزدہ ہو کر آنسوؤں سے بھیگ گئی ہو ۔
 قریباً چار بجے تھے جب  انہوں نے مجھے بلایا ۔
 "سنو انیس خاں کو فون کر دو ۔۔ وہ آ جائے ۔"
 میں نے پُراُمید ہونے کے انداز میں غلط جواب دیا ۔۔۔ "آپ فکر نہ کریں خاں صاحب! ابھی صبح ہونے والی ہے۔ وہ خواہ مخواہ پریشان ہوجائے گا ۔"
 "اچھا"۔انہوں نے  اپنی کربل کربل کرتی پریشانی کوبرداشت کے پتھر تلےدبا لیا۔ 
پھر چھ بجے کےقریب انہوں نےآواز دی "بانو ۔۔ سو گئیں؟"
" !میں جان بوجھ کر آنکھیں ملتی اُٹھی  "جی خاں جی 
" یہ ذرا میری نبض دیکھنا ۔"
 وہ بدھا روپی چہرہ لیے لیٹے تھے۔ چہرے پر رتی بھر پریشانی نہ تھی ۔ گرہ نیم باز کا قرض چکانے کے بعد مکمل اطمینان کی صورت۔
 
  سات ستمبر کا دن ابھی باقی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

3 تبصرے:

  1. بانو قدسیہ یا بانو اشفاق ۔۔۔ کیا قافلہ جاتا ہے!
    05-02-2017 حسنین جمال
    http://www.humsub.com.pk/43203/husnain-jamal-170/

    جواب دیںحذف کریں
  2. بانو نے ہمیں کوڑے سے اٹھایا اور محل پر چڑھا دیا!
    06-02-2017 وقار احمد ملک
    http://www.humsub.com.pk/43300/waqar-ahmad-malik-48/

    جواب دیںحذف کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...