ہفتہ, ستمبر 07, 2013

سات ستمبر 2004 ، آخری روز ۔۔ اشفاق احمد


راہ رواں از بانو قدسیہ 
  صفحہ 466 ۔۔۔۔۔۔۔
خاں صاحب راضی بارضا بندے کی طرح مطمئن سیٹ سے کمر لگائےبیٹھے تھے۔ میں پچھلی سیٹ پر آگے ہو کر اُن کےکلے پر ہاتھ رکھے بیٹھی تھی ۔اُن کی آواز گودھیمی تھی لیکن نہ اُن کے حواس پراگندہ ہوئےنہ انہوں نے اپنے کسی انداز سے بچھڑنے ہی کا احساس دلایا۔
چھ ستمبر کی رات اُن کے صبر کی تصویر تھی ۔اُن کے درد کا یہ عالم تھا کہ بار بارچہرہ اس درد کا شاکی ہو جاتا۔آنکھوں میں اسی درد کے باعث خوف اور پریشانی لکھی تھی لیکن برداشت کا یہ عالم تھا کہ کسی حرکت ،آواز اور اشارے سے انہوں نے انداز کی حالت کا اظہار نہ کیا۔
 پاسپورٹ بن چکا تھا 
ویزہ لگ چکا تھا
 ٹکٹ بیگیج چیک ہو چکا تھا ۔
 انہیں شاید سیٹ نمبر بھی معلوم تھا،لیکن انہوں نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا اور پھر اُن کا سرذرا سا ڈھلک گیا ۔ وہ اپنے بےجان ہاتھ سے میرا ہاتھ تھپتھپاتے رہے ۔۔۔۔ وہ اپنے گھر جانے کا ارادہ کر چکے تھے۔
 داستان سرائے سے سائرہ ہسپتال تک کا راستہ دور نہ تھا ۔ راستے میں درخت ،پرندے،سڑک سب مل مل کر الوداع کہہ رہے تھے۔ جوں ہی کار رُکی ،وہیل چئیر پر اُنہیں بٹھایا گیا ۔۔۔۔۔ میں اُن کے ساتھ تھی ۔ پھر سسٹر مجھے ڈاکٹر صاحب کے حکم کے مطابق ڈاکٹر کے دفترمیں لے گئی ۔
" آپ پلیز یہاں بیٹھیں۔۔۔ ہم اُنہیں آکسیجن  لگانے لگے ہیں۔" 
اس وقت میں نے دو رکعت نفل پڑھے ۔۔۔ خاں صاحب کہتے تھے  "جب بھی کوئی لمبے سفر پر روآنہ ہو تو شکرانے کے دو نفل ضرور گزارنے چاہیں کہ اللہ  میاں کا مال واپس کرتے وقت نہ جھگڑا ہو نہ تقاضا ،نہ ندامت ہو نہ پچھتاوا ۔۔ حق کو حقدارکے سپرد کرنے کے بعد کسی قسم کا ملال نہ ہونا چاہیے۔
 ایسے ہی دو نفل میں نے اپنی ماں کی رُخصتی کے وقت پڑھے۔
 ایسے ہی دو نفل میں نے اپنے بھائی کے جانے کے وقت پڑھے تھے ۔ 
علیم ِمطلق جانتا ہے کب اور کس وقت کس کی روانگی موزوں، برحق اور پردہ پوش ہے۔
 دفتر میں سسٹر طاہرہ اندر آئی ۔ میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے گئی ۔
 وہ ہمیشہ کی طرح آنکھیں موندے لیٹے تھے  اُن کی ڈرپ ایک طرف لٹکی ہوئی تھی ۔ انیس اور اثیر اُن کی پائینتی کھڑے تھے۔نہ جانے کب اور کیسے ڈاکٹر صاحب نے انہیں راستوں سے بلا لیا تھا۔مجھے خاں صاحب کی حاشیہ برداری سے چھٹی مل گئی تھی،انہوں نے مجھے برطرف کر دیا تھا اور کوئی سفارشی خط بھی لکھ کر نہیں دیا تھا کہ میں کسی اور جگہ اسامی ڈھونڈ لیتی۔
یوں لگتا تھا واپسی کےجہاز میں وہ اس وقت اپنی سیٹ بیلٹ باندھ رہے تھے،لاہور کا منظر چھوٹےچھوٹے گھروں ہرےبھرے قطعوں اور بےمصرف سوئی ہوئی سڑکوں سے اوپر جا رہا تھا،پچھلے منظر دھندلا رہے تھے۔
 شاید اُنہیں اس شہر ،اس کے رہنے والوں سے بچھڑنے کا اتنا غم نہ تھا جس قدرگھر جانے کی خوشی تھی۔

7 تبصرے:

  1. آنکھوں میں آنسو آ گئے یہ پوسٹ پڑھ۔۔کسی کے کے بچھڑنے ک لمحے کس قدر مشکل ہوتے ہیں،،ؒیکن یہ کمبخت ؐموت نہ بڑی ظالم چیز ہے نہیں دیکھتی کون کیا ہے کتنا بڑا رائٹر یے ،،فنکار ہے یہ تو اپنے مقررہ وقت پر لے جاتی ہے نیں دیکھتی کہ پعچھے رونے والے کتنے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  2. اللہ پاک ان کا اگلا جہاں اچھا فرمائے، ایک خزانہ تھا علم و ادب کا ایک چشمہ تھا عقل و فہم کا جو ہم سے بچھڑ گیا۔۔۔۔۔ بہت درد ناک تحریر ہے، آنکھیں اشک اشک اور دل زار زار ہے۔

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی،
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. اب ڈھونڈ انہیں چراغِ رخِ زیبا لے کر

    جواب دیںحذف کریں

  4. بانو (قدسیہ) آپا کی آخری خواہش
    05-02-2017 امتیاز احمد
    http://www.humsub.com.pk/43205/imtiaz-ahmad-19/

    جواب دیںحذف کریں
  5. بانو آپا، مبارک ہو – محمود فیاض
    04/02/2017
    https://daleel.pk/2017/02/04/29063

    جواب دیںحذف کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...