بدھ, مارچ 26, 2014

"میاں خالد محمود ۔۔۔ چند یادیں کچھ باتیں "

والدِمحترم کی رحلت کے آٹھ برس بعد ایک بیٹے کی یادوں کی بےساختہ رم جھم ۔۔۔
جس میں ہماری تاریخ۔۔ہمارے ماضی کی جھلکیاں ملیں گی تو ایک باذوق اوردردِدل رکھنے والے انسان کی ذاتی زندگی کاعکس بھی نظر آئے گا۔اس کے ساتھ ایک مشفق باپ کی محبت کا آئینہ بھی جو بیٹے کی آنکھوں میں روشنی کی کرن بن کر جگمگاتا ہے تو پڑھنے والی آنکھوں۔۔۔محسوس کرنے والے دلوں اور سوچنے والے اذہان کو نہ صرف اپنےاسلاف سے قربت کی مہک آتی ہے بلکہ آج کی نسل کا اپنے اوپراعتبار بھی بڑھتا ہےکہ "ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی"۔
یہ احساس سے احساس تک کا سفر ہے جس میں بلاشبہ لفظ اضافی ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ لفظ کے بغیراحساس کا ابلاغ ممکن ہی نہیں۔ (نورین تبسم)۔
میرے ابُّو   
تحریر: سجاد خالد  
باپ کا علم نہ بیٹے کو اگر ازبر ہو
پھر پسر لائقِ میراثِ پدر کیونکر ہو
(اقبال)
 ہم اپنے والدین کا قرض اُتار ہی نہیں سکتے، کتنے دیوان درمدحِ والدین اورکتنی جلدیں اُس احسانِِ عظیم پر لکھی جائیں، کتنی زندگیاں اُس کوششِ ناتمام کے تزکارپرصرف ہوں تب بھی محبت کے اُس بحر کی بیکرانی شرمندہِ ضبطِ ساحل نہ ہو سکےگی۔
یہ کچھ یادیں تو اشارے ہیں جن کو سمجھنے کے لئے والدین کے احسان کی نعمت سے سرشاردل چاہیئں۔ ان کی شرح وہ دِل ہی کر سکتے ہیں اوراُنہی کے پاس اس کی تفسیر ہے۔
میاں خالد محمود
 سال پیدائش۔۔۔1934َ۔۔۔ چنیوٹ
سال وفات ۔۔۔2006  ۔۔۔۔ کراچی
ابو جنہیں ہم بچپن میں ابّی جی کہتے تھے، تمام عمر میرے خطاطی، تحریر،ڈرائنگ،زبان وادب اورآداب کے اُستاد رہے۔ میرا تعارف تادمِ آخر ایک کہکشانِ اہلِ دل، اہلِ علم وفن سے کرواتے رہے۔ جن میں اُستاد اللہ بخش، مولانا مودودی، غلام محمد( گاما پہلوان رُستمِ زماں)،عبدالرحمٰن چغتائی (مصور)، وی شانتا رام (اداکار،رائٹراورڈائریکٹر)،سہراب مودی (اداکار، ڈائریکٹر)، آغا حشر کاشمیری (انڈین شیکسپئر)، سید محمد عبداللہ (پرنسپل اوریئنٹل کالج)، الطاف حسین حالی، سرسید احمد خان، علامہ اقبال، محمد علی جناح، فاطمہ جناح، حاجرہ مسرور،سعادت حسن منٹو،عبد المجید سالک، مولانا غلام رسول مہر، مولانا امین حسن اصلاحی، علامہ شبلی نعمانی، مولاناعبدالماجد دریاآبادی، علامہ عنایت اللہ مشرقی، ابولکلام آزاد ، مولانا محمد علی جوہر، مجروح سلطان پوری، ساحر لدھیانوی، فیض احمد فیض، ابوالاثرحفیظ جالندھری، شورش کاشمیری ،خمار بارہ بنکوی،اے حمید ،شیرمحمد ابنِ اِنشاء،مشتاق احمد یوسفی، شفیق الرحمٰن، تاج الدین زریں رقم (مؤسس بیٹھک کاتباں لاہور)، عبدالمجید پرویں رقم (موجدِ نستعلیق لاہوری)، خورشید عالم خورشید رقم، محمد صدیق الماس رقم، راکا پینٹر، فیض آرٹسٹ، سلیم الزماں صدیقی، پطرس، مولانا عطاءاللہ حنیف، شیخ محمد حسن، خواجہ حسن نظامی،امیر خسرو، عمرخیام، عطاءاللہ شاہ بخاری، ابوبکرغزنوی، مولانا لاہوری ـــــــ
چارلی چپلن، مارلن برانڈو،الفریڈ ہچکاک،انتھونی کوئن، صوفیہ لورین، کلنٹ ایسٹ وُڈ جیسے لوگ شامل تھے۔
بچپن میں ٹائیفائڈ کے حملوں نے ابو کوعمر بھرصحتمند ہونے کا احساس نہ ہونے دیا۔ جوانی میں معدے کے السر نے آ لیا۔ والدین کی ادھیڑعمرمیں پیدا ہونے والا یہ نادرانسان اپنے لڑکپن سے ہی والدین کو بوڑھا دیکھ رہا تھا۔ تعلیم اے لیول تک رہی جس کا انہیں بہت احساس تھا۔ سات بہنوں کے دو بھائی اور دونوں میں پندرہ برس کا فاصلہ۔ بڑی بہنوں کی علمی قابلیت کا بھی ذکر کرتے تھے اورخود میں نے بھی انہیں دیکھا تھا۔ جن میں سے ایک میری پھوپھو رضیہ تھیں۔ جو دادا کی سیکرٹری اورسٹینو بھی تھیں۔ میں نے اپنے والد سے زیادہ خوشخط اگر کسی اورانسان کی تحریر ابھی تک دیکھی ہے وہ رضیہ آپا ہی کی تھی ۔ جو میری پیدائش کے شاید دو برس بعد بہت سے دُکھ جھیل کر بیماری کے ساتھ دنیا سے رُخصت ہو گئیں۔ اُن کے بڑے بھائی مسعود احمد اُن کے برعکس مجلسی،وسیع المشرب اور نسبتاً زیادہ تعلیم یافتہ تھے۔ اللہ نے میرے تایا کو ابو کی وفات کے بعد بھی زندگی دی جہیں ہم پنجابی میں چاچا جی کہتے تھے۔ چاچا جی 2012 میں اپنے چھوٹے بھائی، بہنوں، بیٹے اور نواسے کے غم کے ساتھ اور بہت سے غم سمیٹ کر تقریباً چورانوے برس کی عمر میں رُخصت ہوئے۔ ابوانہیں پنجابی میں 'بھا جی' کہتے تھے۔ دونوں بھائی ایک دوسرے پرجان دیتے تھے لیکن ناراض ہونے کاحق بالاتفاق ابو کو دے دیا گیا تھا۔وہ اپنے لڑکپن ہی میں کہیں' اینگری ینگ مین' بن گئے تھے
 وہ قحط الرجال کے دُکھ میں آدم بیزار ہو گئے تھے۔ سرمائے،آسائش، دکھاوے، نفاق کے کُھلے دشمن تھے۔
 ایک مسلسل محنت ایک غیر مختتم جدوجہد، ایک ہمیشہ زندہ رہنے والا درد، ایک سچا، سیدھا اور کھرا انسان جسے پہچاننے کے لئے بڑے فہم کی ضرورت تھی لیکن وہ فہم ناپید ہے۔۔۔ وہ سمجھ عنقا ہے۔۔۔ وہ آنکھ اس تہذیب میں کب کی بند ہے۔۔۔ کب کی بند
میں پیدا ہونے سے چالیس برس کی عمر تک اس آغوش میں پروان چڑھا۔ میرے ہرخاکے میں انہی کے خطوط
میری ہر تصویرمیں وہی نقوش، میرے ہرقدم میں انہی کی تحریک ۔
کبھی شاہد احمد دہلوی کی 'اُجڑا دیار'، کبھی 'ساحل' میں حکیم سعید شہید (ہمدرد یونیورسٹی کراچی) پرخالد جامعی کا مضمون، کبھی مشتاق احمد یوسفی کی 'چراغ تلے، زرگذشت اورآبِ گم،کبھی قدرت اللہ شہاب کی 'شہاب نامہ'، کبھی جاوید احمد غامدی کی 'مثنوی خیال وخامہ'، کبھی ابنِ انشاء کی 'اردو کی آخری کتاب'، کبھی ہفت روزہ الاعتصام، کبھی مولانا ابولکلام کا البلاغ اورالہلال، کبھی جوہر کا کامریڈ، کبھی عاصی کرنالی، کبھی عبدالحلیم شرر ـــــ
وہ سارا دن ادب پاروں میں سے اعلٰی ترین حصوں کو نشان زد کرتے، پیروں کے پیرے، صفحوں کے صفحے میرے گھر پہنچنے تک دودھ میں سے مکھن کی طرح نکال رکھتے۔ شام کو میرے گھر آنے پر مجھ سے کہتے 'یار کپڑے بدل لو' اور امی سے کہتے'اس کا کھانا یہیں میرے پاس رکھ دو'۔ تو پھرایک مختصر سی تمہید کے بعد وہ آبِ زم ام میں دُھلی ہوئی اُردو، شفاف اور مترنم آواز، ٹھہرے ہوئے پختہ لہجے میں مناسب ترین وقفوں کے ساتھ پڑھتے چلے جاتے۔ یہ چشمہ ایک ڈیڑھ گھنٹے میں میری استعداد کی رعایت سے تھم جاتا۔ درمیان میں ہم دونوں کسی جملے، کسی استعارے، کسی مصرعے پر والہانہ داد دیتے یا ابو کسی بات کا پس منظر بیان کرتے تاکہ میرا تجربہ جس حد تک ممکن ہو مکمل کر سکیں۔
تقسیمِ ہند سے پہلے دادا کی سرکاری ملازمت کے دوران گھر میں خدمت گاروں کے ساتھ ابو کی رازداری رہتی۔ یہ رازداری فیروزپور میں گھر کے پیچھے جنگل میں گھُسنے، پھر وہاں سے پرندے پکڑنے اورسانپوں کا مقابلہ کرنے کے لئے نیولے کا بچہ ڈھونڈ کر اُسے اپنے ہی گھر میں چھُپا کر پالنے سے متعلق تھی۔ باورچی سے سلام دُعا اپنے پالتو جانورروں کے لئے دودھ اور دوسری خوراک کی چوری کے لئے رکھنی پڑی۔ کوچوان اور ڈرائیور کے طور پر جان محمد اسی گھر میں رہے تھے۔ جان محمد نے اس گھر میں ملازمت بھی کی اور تعلیم بھی پائی۔ یہاں سے نوکری ختم ہوئی تو سرکاری سکول میں ٹیچر بھرتی ہو گئے اور ہیڈ ماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ جان محمد میرے لڑکپن تک باقاعدگی سے ابو کو خط لکھتے رہے اور ابو پوری محبت اور ذمہ داری سے جواب دیتے رہے۔ ابو کے بچپن کے دوستوں میں مُلا بشیر بھی تھے جو علمی کُتب خانہ لاہور میں ملازمت کرتے تھے اور اچھرہ میں رہتے تھے۔ یہ دوستی  ابو کی زندگی کے ساتھ ختم ہوئی۔ ابو اپنی کسی خاص کتاب کی جلد کی مرمت کے لئے ملا بشیر سے کہتے اور وہ بخوشی اس خواہش کو پورا کرتے۔
آدم بیزاری نے جانوروں سے محبت کی جو پنیری لگائی تھی وہ جوانی میں بیحد کم وسائل کے باوجود تناور درخت بن گئی تھی۔ اس شوق میں وہ چڑیا گھر چلے جاتے اور انگریز کیوریٹر سے دوستی ہو گئی۔ پھر اُن کے معاون کے طور پر کچھ عرصہ اعزازی خدمت بھی سرانجام دی۔ جانوروں کو اُن کے ناموں سے یاد کرتے۔ اُن کے ماں باپ کے نام بھی یاد تھے۔ بالاآخر جانوروں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اوراپنے حالات کے پیشِ نظر اس خدمت کو خیرباد کہہ دیا۔
ویسے تو تمام عمر ابو کے پاس کوئی نہ کوئی جانور رہا جس کی خدمت اور تربیت جاری رہی (آپ مجھے پہلے سے اس میں شامل کر چکے ہیں)۔ لیکن میرے بچپن کا ایک زمانہ وہ بھی تھا جب گھر ایک چھوٹے سے چڑیا گھر کا منظر پیش کرتا تھا۔ ٹولنگٹن مارکیٹ سے خریدی گئی سُرخیں، فنچز اورآسٹریلیئن طوطے، بڑے مرتبان میں ننھی پریوں جیسی چمکتی، بل کھاتی مچھلیاں، اپنے ہی گھر میں امرود کے درخت سے پکڑا گیا میاں مٹھو، پندرہ بیس دیسی مرغیاں اور کچھ ولائتی چوزے، انہی مرغیوں کی آغوش میں بطخ کے انڈوں سے نکلے ہوئے سنہرے سے چوزے، ایک بکرا (ببلُو)، ایک فاکس ٹیریئر کتیا (ٹومی)، لکّا کبوتروں کے دو جوڑے اورچار پانچ خرگوش۔ اِن میں سے جن جانوروں کو میں نے ابو کی ٹریننگ کے بعد حیرت انگیز کام کرتے دیکھا تھا، اُن میں ٹومی، ببلُو، مٹھو اور ولائتی مرغا کمال کی حدوں کو چھُو رہے تھے۔ یہ سب جانور اپنے ناموں سے پکارے جاتے۔ ان کے صبح اُٹھنے، دوپہر اور رات کو سونے، کھانے اور پیشاب یا پاخانہ کرنے کے اوقات طے شدہ تھے۔ ان کی حجامت کی تاریخیں جیسے کیلنڈر پر مارک ہوتیں۔ گھر کے کون سے حصوں میں کس جانور کو کس وقت آنے کی اجازت ہے اور کس کو نہیں یہ طے تھا۔ خلاف ورزی پر سزائیں اورعمل کرنے پرغیرمعمولی پیار ملتا تھا۔ ایک خاص وقت گزرنے کے بعد کسی جانور کو قید نہیں رکھا جاتا تھا اور نہ ہی باندھا جاتا تھا۔ میں نے ایک بار سُرخوں اور آسٹریلئن طوطوں کو ابو کی جیل سے آزاد کروا کر دیکھ لیا تھا۔ پہلے تو وہ اُڑ کے ہمارے گھر کے دو درختوں پر جا بیٹھے پھر دو ایک گھنٹوں کے لئے غائب ہو گئے اور شام کو واپس آکر ڈنر کا تقاضا کرنے لگے۔ اسی طرح ٹامی کو دو بارانتہائی دور رہائش پذیر مختلف دوستوں کے حوالے کیا گیا لیکن وہ بیس پچیس کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے پورے شہر کو چیرتی ہوئی راستے کے شیر جیسے کتوں کے دانتوں اور پنجوں سے انتہائی زخمی حالت میں منزلِ مراد پر بھوکی پیاسی پہنچی۔ دوسری بار ایسا ہونے پر گھر آئی اور کچھ دِن کے بعد ہم سب کو دیکھتے دیکھتے دُنیا سے رُخصت ہو گئی۔ اُس کے دو بچے تھے ایک  میں نے اپنے کلاس فیلو جاوید کو دیا تھا اور دوسرا ابو نے ماسٹر فریاد (ابو کے شاگرد اور ہمارے اُستاد) کو دیا تھا۔ یہ دونوں بچے اپنی ماں سے ملنے  آیا کرتے تھے۔
 بلیوں کی سُنیے،  جو ہماری مرغیوں، دوسرے پرندوں اور خرگوشوں کے شکار کو آتیں تو ہمارے مرغے کے غضب کا شکار ہو کر نشانِ عبرت بنی پھرتیں۔ ہماری فیملی فضائیہ کا چیف مرغا جب انہیں بھگا کر فاتحانہ انداز میں واپس لوٹتا تو اُس کی چونچ اور پنجوں میں بلی کی پیٹھ کے اچھے خاصے بال دکھائی دیتے جو وہ ہمارے سامنے آ کر جھاڑ دیتا۔ یہی حال ببلو (بکرا) کا تھا، کُتیا اورمرغے کی غیرموجودگی میں زمینی افواج کا سربراہ وہ ہوتا۔
ابو کے پسندیدہ مضامین میں شکاریات اور وائلڈ لائف کے ساتھ ساتھ جانوروں کی تربیت کے لئے چھپنے والا لٹریچر بھی تھا۔ کتوں اورگھوڑوں کے انسائکلوپیڈیاز، جِم کاربٹ کی سُندربن کے آدم خوروں پر کتاب، ماہنامہ حکایت میں شکاریات پر شائع ہونے والے مضامین اور نیشنل جیوگرافک، اینیماکس یا اینیمل پلینٹ پر نشر ہونے والے چوبیس گھنٹے کے پروگرام اُن کی دُنیا تھے۔ ان کے علاوہ میں ابو کے لئے برٹش کونسل اور امریک سنٹر لائبریری سے جانوروں سے متعلق ویڈیو ٹیپس بھی  لا کر دیتا تھا جسے وہ خود پر احسان تصور کرتے تھے۔ مجھے گھوڑوں اور کُتوں کی مختلف نسلوں کے نام اور خوبیاں یاد ہو گئے تھے۔
وہ جوانی میں ائرفورس میں بھرتی ہونے کا کوئی ابتدائی امتحان پاس کر آئے تھے جسے ہماری دادی اماں کی اجازت نہ ملنے پر چھوڑنا پڑا۔ اس مایوسی نے ایک نئے شوق کی بنیاد ڈال دی اور وہ تھا طیاروں کی اقسام اور نام یاد رکھنے کا شوق جو مجھے بھی دو سال کی عمر میں رٹوا دئے۔ اسی طرح گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے مشہور برانڈز اور ماڈلز کے نام بھی لکھ کر رکھتے تھے۔ اس کے ساتھ ائر فورس، بری اور بحری افواج کے تمام عہدے بھی یاد کئے اور مجھے بھی کروائے۔23 مارچ ہو، 14 اگست ہو یا 6 ستمبر، ٹی وی پر افواج ِپاکستان کی پریڈ اوراسلحے کی نمائش کو بیحد دلچسپی سے دیکھتے۔ نیوز کاسٹرز اور مبصرین میں اس حوالے سے لئیق احمد، اظہر لودھی اور ابصار عبدالعلی، شائستہ زید، ادریس احمد اور خالد حمید کو پسند کرتے تھے۔ کچھ نیوز کاسٹرز کے نام میرے ذہن سے محو ہو گئے ہیں، کبھی یاد آئے تو لکھوں گا۔ 
 نوجوانی میں والی بال کے اچھے کھلاڑی رہے تھے۔ کرکٹ اورہاکی کو دیکھنے کی حد تک پسند کرتے تھے۔ ٹی وی پرمیچ دیکھتے ہوئے شدید ردِ عمل کا مظاہرہ کرتے اور اپنے ہاتھ سے، اپنی نوٹ بُک پر سکوربورڈ کو ایڈیٹ کرتے رہتے تھے۔ پاکستانی ٹیم کی بُری کارکردگی پر فارسی، اُردو اور پنجابی کے ملامتی اشعار کا انبار لگا دیتے۔
ہم قافیہ، ہم وزن اور ہم آواز الفاظ  کے گروہ بنانا اوراُن کو یاد کر کے لکھنا اور پھر مجھے سُنانا اُن کا محبوب مشغلہ تھا۔ اسی طرح انڈیا اور پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ذاتوں کے ناموں کو جمع کرنا، ایک ہی لفظ کے مختلف زبانوں میں متبادل ڈھونڈنا اور لکھ رکھنا۔ کون سا مشہور آدمی کِس کا بیٹا، بھائی یا باپ تھا، کِس پوزیشن یا عہدے پر رہا، کس حال میں رُخصت ہؤا یہ خلاصے اُن کی نوکِ زبان پر دھرے تھے۔ آپ نام لیں اور ایک دلچسپ کہانی سُن لیں۔
ایک رجسٹر تھا جو بجائے خود ایک فن پارہ تھا۔ اس میں اُن کے پسندیدہ شعراء اور ادیبوں کی تحریروں کو اُردو، فارسی اور انگریزی میں کٹی ہوئی نِب کے ساتھ لکھ کر محفوظ کیا جاتا تھا۔ کبھی ملا تو اُس کی تصاویر دکھاؤں گا۔ اسی رجسٹر میں اخباروں کے تراشے جن میں اُن کے ہیروز اور ہیروئینیوں کی تصویریں نفاست سے کاٹ کر چسپاں کی گئی تھیں اور اُن کے ساتھ موزوں اشعار یا کوٹیشنز خوشخط تحریر ہوتیں۔
گانے والوں میں اختری بائی فیض آبادی، کے ایل سہگل، طلعت محمود (جو شاید مولانا عبدالماجد دریاآبادی کے بھانجے بھی تھے)، ہیمنت کمار، مناڈے، محمد رفیع، نور جہاں، لتا منگیشکر، آشا بھوسلے، شمشاد، ثریا، امانت علی خان، حبیب ولی محمد، ناشاد  وغیرہ شامل تھے۔ خود کچھ عرصہ ریڈیو پاکستان پر خبریں پڑھنے کا شوق بھی پورا کیا اور اپنی متلون مزاجی یا کسی کی افسری  کے ہاتھوں مجبور ہو کر جلد ہی ترک کر دیا۔  وہ نیم کلاسیکی، غزل، ترانہ، گیت، قوالی اور نعت پسند کرتے تھے۔ بھجن آ جاتا تو گانے والے پر منحصر تھا کہ وہ سُننے پر مجبور ہوں ورنہ بند کروا دیتے۔ اسی طرح انڈیا کا کوئی ترانہ یا قومی نوعیت کا گیت بھی نفرت سے دیکھتے تھے۔ وہ نیشنلسٹ بھی تھے اور کچھ لوگوں کو سرحد سے پار چاہنے پر مجبور بھی۔ ابوالکلام کی سیاست سے اختلاف کے باوجود غبارِ خاطر، الہلال اور تذکرہ  کو پسند بھی کرتے تھے۔ ہندو اور کانگریس سے دُشمنی کہیں اندر دبی ہوئی تھی جس کا اظہار بھی تُند لہجے میں کر تے تھے۔
اُن کے پسندیدہ رسالوں میں ریڈرز ڈائجسٹ، سپتنک، نیشنل جیوگرافک، اشراق، الاعتصام، ہیرلڈ، نیوزویک اور انڈین فلم انڈسٹری سے متعلق رسالے تھے جن کے نام میرے ذہن میں شاید زیادہ نقش نہ ہو سکے۔ فلمی رسالے لا کر دینے کی مقدس قومی ذمہ داری بھاجی ادا کرتے تھے۔ بھاجی اور ابو ہالی وڈ، انڈین، یوروپئن اور پاکستانی فلم انڈسٹری کے چلتے پھرتے انسائکلوپیڈیاز تھے۔
دو کتابیں ساری زندگی اُن کے ساتھ رہیں۔ پہلی اُردو کی لغات اور دوسری انگریزی کی ڈکشنری۔ اُردو کی لغات میں وہ نوراللغات اور کشور اللغات کے ساتھ کتابستان کی اُردو لغات کو پسند کرتے تھے۔ فرہنگِ آصفیہ ہمارے پاس نہیں تھی۔ انگریزی کی ڈکشنری میں انگریزی سے انگریزی اور اُردو کے سلسلے میں وہ جناب بشیر احمد قریشی کی مرتب کی ہوئی کتابستان کی ڈکشنری کو تمام مقامی ڈکشنریوں پر ترجیح دیتے تھے۔ بشیر احمد قریشی پرائمری یا ہائی سکول میں میرے ابو کے اُستاد رہے تھے اس لئے وہ اُن کی لیاقت کے بیحد قائل تھے۔ فیروزاللغات کا ایک درمیانہ ایڈیشن بھی گھر میں تھا جسے غصے کی حالت میں 'فراڈ اللغات' کے نام سے یاد کرتے تھے۔ اس میں الفاظ کے پورے کے پورے گروہ غائب تھے اور یہ بات مایوس کُن تھی۔ اِن ڈکشنریوں میں سلیقے سے کاٹے ہوئے کاغذ کے پرزوں پر ابو وہ الفاظ و معانی لکھ کر رکھتے تھے جنہیں وہ سیکھنا یا یاد کرنا چاہتے تھے۔ کاغذ کے یہ پرزے ہم بچوں کی ضائع شدہ کاپیوں سے لیے جاتے تھے یا پھر اُن کی سگریٹ کی ڈبیا کی پنی کی پشت بھی اکثر لغات میں جیسے اِستری کر کے رکھی ہوئی ملتے۔ یہ ٹکڑے بجائے خود فن پارے ہوتے تھے جن کی اِس قدروقیمت سے وہ خود کچھ بے نیاز تھے لیکن اُن پر لکھے ہوئے لفظ انہیں عزیز تر تھے۔
درویش صفت نابغوں میں ڈاکٹر امیر الدین اور مولانا حسرت موہانی اُن کے رول ماڈل رہے جبکہ پسندیدہ شخصیات میں میرے دادا شیخ عبدالرحیم علیگ ایڈووکیٹ جو ایم اے او کالج علی گڑھ کی 1910 سے 1914 کی ہر دلعزیز شخصیت، سر اسٹیچی ہال یونین کے صدر اور مصنف سفرنامہ 'پیرِ حرم اور زائرِ حرم' تھے۔
اسی طرح دادا کے دوستوں میں سے شیر محمد سید (دینی محقق/بیوروکریٹ)، جسٹس ریٹائرڈ غلام علی (دینی محقق ، قانون دان، جماعتِ اسلامی)، مولوی دوست محمد (ہیڈ ماسٹر اسلامیہ سکول چنیوٹ) کو اچھے الفاظ میں یاد کرتے۔ سعادت حسن منٹو اپنی بیباکی اور انتظار حسین اپنی زبان اور نازکی کی وجہ سے پسند رہے تھے۔
سادہ ترین اور سستے کپڑے، بیحد کم خوراک، انتہائی کم خرچ اور کم آمیز۔ اپنے کپڑے استری نہ کرواتے بس انہیں سوکھنے کے بعد قرینے سے تہہ کر کے تکیے کے نیچے رکھ لیتے۔ لوہے کی تار والی ٹوکری اُن کی سائیکل کے ہینڈل سے جُڑی تھی، پچھلے پہئے پر ایک کیریئر جس کے ساتھ صاف سُتھری رسی کا ایک ٹکڑا کمال سلیقے سے بندھا ہؤا تھا۔ اسی پہئیے پر گول تالا لگا ہوا تھا۔ ہینڈل پر ایک گھنٹی بھی تھی جو پورے سُر میں رہتی۔ یہ سائیکل غالباً 1970 کے زمانے میں خریدی گئی تھی جسے وہ نفاست کا نمونہ بنائے رکھتے۔
 ہروہ سہولت جس پراُن کی نظر میں زیادہ خرچ آتا ہو قابلِ نفرت تھی اورہرضروری چیز جس پر کچھ بھی معمولی سا خرچ ہو جائے اُن کے لئے قیمتی ہو جاتی تھی۔ وہ سب کچھ سنبھال کر رکھتے تھے۔ سگریٹ کی ڈبیاں اوراُن کے اندر کی پنیاں اور گتے، ماچس کی ڈبیاں اورجلی ہوئی تیلیاں، چلتے چلتے بند ہو جانے والے بال پوائنٹ اور جام ہوئے فاؤنٹین پین، خاکی، اخباری اور مومی لفافے،اخبار،لکڑی اوراینٹوں کے ٹکڑے،ریت،بجری،سیمنٹ جو بھی بچ جاتا وہ اُسے ایسے سلیقے سے باندھ لیتے اورایسی جگہ محفوظ کرتے کہ وقت آنے پر کہیں باہر جانے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔ لکڑی کا کام ہو یا بجلی کا،مستری کا کام ہو یا مزدورکا، پلمبر کا کام ہو یا کتابیں جلد کرنے کا اُن کے پاس ہر کام کے بنیادی اواز اپنے الگ الگ ٹول باکس میں صاف سُتھرے مل جاتے۔ ایسا لگتا تھا اُن کے زیرِتصرف ہر چیز اُن سے خوش ہے اور اُن کے بغیر رُل جائے گی۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ سنبھالی ہوئی چیزوں کو وہ کیا کرتے تھے تو میں کہوں گا کہ غربت کے ساتھ اگر علم اور کفایت شعاری ہو تو غربت خوبصورتی کے ساتھ کٹ جاتی ہے اور تنگ دستی کے ساتھ اگر جہالت اور بے سلیقگی ہو تو دُنیا میں جہنم کو دیکھا جا سکتا ہے۔
 میں چھوٹا سا تھا جب مجھ سے مرغی ذبح کروائی۔ وہ کہتے تھے کہ ان کے بچپن میں مسجد میں لے جا کر مولوی سے مرغی ذبح کروائی جاتی تھی اور ظہر کی نماز کے بعد مسجد سے ایک لڑکا خالی پلیٹ لے کر دروازہ کھٹکھٹاتا تھا کہ سالن دے دیں۔  اُنہیں ابتدائی عمر سے مولوی سے کچھ بیرسا ہو گیا تھا۔ جو حضرت سپارہ پڑھانے آتے تھے وہ سبق یاد نہ ہو سکنے پرانگلیوں میں پنسل کو پرو کر ہاتھ یوں دبایا کرتے تھے کہ دینی تعلیم اس نازک اور بیمار بچے کے لئے اذیت ناک ہو گئی تھی۔ دادا ابو کچھ سخت اساتذہ کو پسند کرتے تھے اور اُن کا علمی رعب بھی اس قدر تھا کہ چھوٹے بیٹے میں یہ جراءت کبھی نہ پیدا ہو سکی کہ علی الاعلان بغاوت کر دیتا۔ میں ذرا بڑا ہوا تو قربانی کا جانور میرے ہاتھ سے ذبح کروایا۔ جانور کی کھال اُتارنا سکھایا، ہڈیوں، پٹھوں اور جوڑوں کو میرے سامنے تدریسی انداز میں کاٹنے کا بارہا مظاہرہ کیا لیکن جو مجھے نہ سیکھنا تھا نہ سیکھ سکا۔
سائیکل، سکوٹر اور موٹرسائیکل کی دیکھ بھال اور صفائی کا فن اُن پر ختم تھا۔ اپنی جان سے زیادہ اپنے پالتو جانوروں، اوزاروں، سٹیشنری، کتابوں اور سواری کا خیال رکھنے والی بات محاورتاً نہیں لکھی ہے یہ سب کچھ تو آنکھوں دیکھا حال ہے اور وہ بھی زندگی بھر کا۔ وہ بہت کم گالی دیتے تھے لیکن کبھی بے اختیار غصے میں کسی کو حرام الدہر اور سؤر وغیرہ کی اولاد کہہ ڈالتے۔ اور زندگی میں ایک آدھ بار ایک ناقابلِ اشاعت گالی بھی اُن کی زبان سے سُنی جس سے اُن کے زمانے میں فارسی زبان کے غلبے کا اندازہ ہوتا تھا۔ میں نے بی اے میں فارسی زبان رکھی تو میرا ٹیسٹ لیا جس میں مجھے فیل کر دیا۔ شاید 100 میں سے بیس نمبر دئیے تھے ابو نے۔ جب بی اے کا نتیجہ آیا تو میرے نمبر سو میں سے اسی 80 تھے۔ میں نے نمبر بتائے تو افسوس سے کہنے لگے اب تو میرا اس نظامِ تعلیم سے بالکل اعتبار اُٹھ گیا ہے۔
تعلق میں وہ مان لینے یا منوا لینے کی بنیاد پر چلتے تھے۔ اگر انہوں نے کسی کی فضیلت کو دِل سے تسلیم کر لیا تو اُس پر جان بھی نثار اور اگر نہیں مانا تو بات کرنا بھی ضروری نہ سمجھتے تھے۔ جن لوگوں کو کبھی کم علم یا کم فہم سمجھ کراپنا راستہ الگ کر لیا اورجب وہ ابو کے علم کے قائل ہو گئے،اپنے عمل سے گواہی دیتے تو اُن کی بھی خدمت کرنے لگ جاتے۔ وہ سچے، سادہ، غریب اور صاحبِِ علم وفن پر فدا ہو جاتے تھے۔ ڈائری لکھنے کی عادت پرانی تھی لیکن اُسے پرائیویٹ رکھنے کے لئے انگریزی میں لکھتے۔ جب امی یا ان کے رشتہ داروں کے خلاف مجھ سے برملا کچھ کہنا ہوتا تو اُن کی موجودگی میں برجستہ انگریزی میں بات کرتے۔ یہ الگ بات ہے کہ امی یا کوئی بھی پرانا شکار خود ہی سمجھ جاتا کہ بات اُسی سے متعلق ہے اور ہے بھی عیب جوئی۔ 
اپنا مافی الضمیر لکھنے اورکہنے پراس درجے کا کمال تھا کہ پڑھنے والا اور سُننے والا وہ الفاظ وہ لہجہ اور وہ جذبہ کبھی نہ بھُلا پاتا۔ اسی طرح اُن کی غصیلی طبیعت سے مزاح کی اُمید عموماً کسی کو نہیں ہوتی تھی لیکن جب کوئی اُن کے غضب کا نشانہ بنتا تو اُن کی زبان وقلم سے برآمد ہونے والا مواد طعن وتشنیع، طنزومزاح اور ہجو واحتجاج کا شاہ پارہ بن جاتا۔
جن لوگوں سے دادا کی نسبت سے ابو کا رابطہ رہا ان میں سے اشفاق احمد (جنہیں ہمارے گھر میں پیار سے شقّو پکارا جاتا تھا)، اشفاق صاحب کے بڑے بھائی اور درویش صفت آفتاب احمد (جو میرے دادا کے اسسٹنٹ یا منشی تھے اور ابو اُن کو اشفاق احمد کے برخلاف پسند کرتے تھے) اشفاق احمد کی والدہ،مولانا غلام رسول مہر، مولانا عبدالمجید سالک، مولانا ظفرعلی خان، مولانا عطاءاللہ حنیف بھوجیانی، مولانا چراغ حسن حسرت، ابوالاثر حفیظ جالندھری، مولانا ابوالاعلٰی مودودی، مولانا امین احسن اصلاحی، ڈاکٹر سید محمد عبداللہ، شورش کاشمیری، مولانا متین ہاشمی، قاضی عبدالباقی (مولانا سلیمان منصورپوری کے پوتے)، نواب سمسام الدین فیروز (دادا جان کے علی گڑھ کے کالج فیلو)، اللہ بخش یوسفی (مدیر مجلہ سرحد - دادا کے علی گڑھ کے کالج فیلو)، ڈاکٹر مسعود (معروف ہومیو پیتھ)، علامہ عنایت اللہ مشرقی، کمال احمد (اداکار)، شیر محمد سید، جسٹس غلام علی اور ڈاکٹر امیر الدین جیسے ستارے تھے۔ بہت سارے ایسے لوگ جنہیں وہ پسند  کرتے تھے وہ یا تو ابو کے بچپن میں دادا سے ملے تھے یا تقسیمِ ہند کے بعد اُن سے بالمشافہ ملاقات نہ ہو سکی۔ اُن میں مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، بی اماں، غلام حُسین (مدیر کامریڈ)، ابوالکلام آزاد، شیخ محمد عبداللہ (صدر آزاد کشمیر)، خوشی محمد ناظر (کشمیری شاعراورسیاستدان)، بلراج سانی (ایکٹر اور سماجی کارکن)، منشی پریم چند، رتن ناتھ آزاد یا سرشار، آغا حشر کاشمیری، سرسید احمد خان، مارماڈُک پکتھل، عبداللہ یوسف علی، نواب بہادر یار جنگ، نواب صدیق حسن خان، مولانا عبدالماجد دریآبادی، غلام احمد پرویز، سر عبدالقادر (مدیر مخزن) اور علامہ محمد اقبال کے نام مجھے یاد رہ گئے ہیں۔
۔۔۔2006 میں  سینے کے کینسر کا موذی مرض والد صاحب کی جان کا خراج لے کرہی ٹلا۔
تم میں اپنے آپ کو دیکھا، خود میں تم کو پایا
دور چلا تو میں نے سوچا، میں نے دھوکا کھایا
ایک فسانہ لکھ کر تم نے شہر میں جا چھپوایا
ایک کہانی کہہ کر میں نے اپنا آپ گنوایا
ایک کتاب کی پیشانی پر عکس تمہارا دیکھا
ایک مزار کی لوح پہ میں نے اپنے نام کو پایا
 (سجاد خالد)

اتوار, مارچ 23, 2014

"سوچ سفر"

 کبھی سوچ سفر کا ہر رستہ
اِک بند گلی میں کھلتا ہے
اورخواب نگر کا ہر منظر  
سپنا ایک ہی بنتا ہے
 ذات کے عکس کی خوشبوپا کر
تنہا کب کوئی تھکتا ہے 
دل کی سونی نگری میں
ارماں یوں ہی مچلتا ہے
 منزل منزل سفر سفر
چلنا ہے اور چلتا ہے 

جمعرات, مارچ 20, 2014

"بیٹی "

آدم حوا کہانی میں عورت کی پہلی جھلک ایک ساتھی ۔۔۔ ایک دوست کی ہے جو جنت میں ملتا ہے تو جنت سے نکالے جانے کے بعد بھی ساتھ نبھاتا ہے۔۔۔ نعمتوں کا امین ہے تو خطا کے بعد توبہ کی گھڑی میں آنسوؤں کا رازداں بھی ہے۔۔۔ بی بی ہاجرہ کی صورت اللہ کی رضا کے لیے ساتھی کے حکم پر راضی ہے۔۔۔ تو زکریا کی دعا کی قبولیت کا علم بردار بھی۔ عورت کے اس روپ کی عظمت رہتی دُنیا تک قائم رہے گی ۔اس کے بعد عورت کا دوسرا روپ ماں کا ہے جس کی تعریف وتوصیف کا حق قلم تو کیا قول وفعل سے بھی ادا نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ خالق ومالک سے بڑھ کر کون ماں کے رتبے کے اسرار بیان کر سکا ہے۔۔۔ جس نے اپنی محبت کا پیمانہ ماں کی محبت سے مثال دے کر بیان کیا ہے۔
 ماں کے بعد عورت کا ایک روپ بیٹی کا ہے۔۔۔ وہ بیٹی جس کے احترام اوراُس سے محبت کی بیش بہا مثالیں جہاں تاریخ کا حصہ ہیں تو اس کی ناقدری اورکم مائیگی بھی زمانۂ جاہلیت سے لے کر آج کے جدید دور تک جابجا دیکھنے کو ملتی ہے۔ 
قران پاک کی سورۂ النحل (16) میں اس رویے کو یوں بیان کیا گیا ہے۔
ترجمہ::آیت 58۔۔۔ 59 ۔۔۔۔
حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بشارت دی جائے کہ تمہارے ہاں بیٹی ہو ئی تو غم اور پریشانی کے مارے اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ زہر کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔
اس بری خبر پراپنے قوم قبیلے سے منہ چھپائے پھرتا اوراس فکر میں ہوتا ہے کہ ذلت اٹھا کر اسے زندہ رہنے دے یا تہہء خاک چھپا دے۔ یہ لوگ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ 
اللہ تعالی نے سورہ شورٰی (42) میں ارشاد فرمایا ہے۔
ترجمہ:: آیت 49۔۔50۔۔۔
آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالی ہی کے لئے ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔ یا پھر لڑکے اور لڑکیاں ملا جلا کر دیتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے وہ بڑے علم والا اور کامل قدرت والا ہے۔
دنیائے انسانی میں ہمیشہ سے دستور چلا آیا ہے کہ عورت اور مرد  جب مل کر ایک نئے رشتے کی بنیاد رکھتے ہیں تو مالک اُن کے آنگن میں اولاد کی صورت مہربانی کرتا ہے۔اولاد اگر محض انسان کی فطری ضرورت اور جبلت کا ثمر ہے تو اُس کی جنس کا تعین بھی انسان کے شعوری احساس کی پہنچ سے کوسوں دور ہے۔ درج بالا آیت پر ایمان لاتے ہوئے کہ کسی کو بیٹا دیتا ہے تو کسی کو بیٹی یا کسی کو دونوں سے نوازتا ہے ۔اور کسی کو ایک دوسرے کے "ساتھ" کےاحساس کے سوا کچھ بھی نہیں۔یہ "ساتھ" کا احساس بظاہر مایوسی کا استعارہ لگتا ہے لیکن سب سے اہم بات ہےکہ پھر اس تعلق میں ایک دوسرے پر کسی قسم کا معاشرتی دباؤ نہیں ہوتا۔ ورنہ اولاد بعض اوقات پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہے۔ اور خاص طور پر اس وقت جب وہ صحت مند بھی پیدا نہ ہو۔ میاں بیوی اگر اولاد نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے نظریں چراتے ہیں تو وہ اولاد جو سہارا بننے کی بجائے خود سہارے کی محتاج ہو اُس کی زندگی اُنہیں اپنے ہر احساس ہر جذبے سے آنکھ بچانے پر مجبور کر دیتی ہے۔یہ ایسا غم ہے جس کے لیے شریکِ سفر کا کاندھا بھی نہیں ملتا۔ یہ دُنیا کے امتحانات ہیں اور اللہ جن پر یہ بوجھ ڈالتا ہے اُنہیں سہارنے کا حوصلہ بھی عطا کر دیتا ہے۔
 پہلے بچے خصوصاً بیٹی کی پیدائش پر ماں اورباپ دونوں کے احساسات مختلف ہوتے ہیں۔ ماں کا ذہن اِسے اپنی زندگی کہانی کا تسلسل دیکھتا ہے جبکہ باپ کے لیے اُس لمحے اپنے وجود کا عکس دیکھنا کائنات کا سب سے خوبصورت تُحفہ ہوتاہےجواُسے دُنیا میں اپنی ذات پر اعتبار بھی دیتا ہے۔ اس وقت عورت اور مرد کی شخصیت کے دو الگ رُخ واضح ہوتے ہیں۔۔۔ماں تکلیف اُٹھا کر اذیت برداشت کرکے ایک نیا وجود دُنیا میں لانے کا وسیلہ ٹھہرتی ہےتوباپ کو جسمانی طور پر خراش بھی نہیں آتی ۔ یہ قانونِ فطرت ہے۔ شاید اسی وجہ سے مرد زندگی بھرعورت کے جسمانی درد یا تکلیف کا اندازہ کبھی بھی نہیں لگا سکتا۔ مغربی دُنیا کے باسی عورت کے اندر کے کھوج میں اِس نکتے کو جان گئے اسی لیے وہاں بچے کی پیدائش کے وقت اُس کے باپ کی موجودگی ضروری سمجھی جاتی ہے۔جبکہ یہاں کی عورت شاید اس بات پر کبھی آمادہ نہ ہو۔شرم وحیا سے ہٹ کر عورت کی فطرت میں ہے کہ وہ جتنا ہو سکے اپنے دُکھ درد کو تنہا برداشت کرے چاہے وہ "بی بی مریم " کا "دردِ زہ" کا قرآنی واقعہ ہو یا"بی بی ہاجرہ" کی "سعی"۔ یہ ربِ کریم کا عورت کے لیے اعزازِخاص ہے کہ اُس نےعورت کی مشقت کو (جس کا رازداں اُس کے سوا کوئی بھی نہیں تھا) رہتی دُنیا تک زمانے کے سامنے نہ صرف آشکار کیا بلکہ عزت وتکریم کا مینارۂ نور بنا کر کیا مرد کیا عورت سب کو اُس کے قدموں کے نشان پر سجدہ ریز کرا دیا۔
زندہ وجاوید ادب کے ترجمان ۔۔۔لفظ سے دلوں کو فتح کرنے والےجناب  مستنصرحسین تارڑ نے اپنےسفرنامۂ حج "منہ ول کعبہ شریف" میں تین لفظوں میں سب کہہ دیا۔۔۔۔" حج ہاجرہ ہے"۔ اس تین لفظی جملے کو اگر کوئی سمجھ جائے تو نہ صرف مرد بلکہ عورت بھی اپنے اصل مقام کو پہچان کر ہمیشہ کی سعیء مسلسل سے قرار پا جائے۔وہ سعی جو صرف اور صرف جان پہچان کے محدود چکروں سے عبارت ہے اور ہم اپنی خواہشات کے گرد خود ترسی اورخودفراموشی کے لاحاصل طواف کیے جارہے ہیں ۔ 
متعدد احادیث ِمبارکہ میں بیٹیوں کی پرورش اور تربیت پر جنت کی بشارت اورنبی کریمﷺ کے ساتھ کی بشارت دی گئی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں۔۔۔ سب مانتے ہیں۔اوراب تو سائنس کی حیرت انگیز ترقی کی بدولت انسانی جینز کی پُراسرار دُنیا کے انکشافات نے اولاد کی جنس کا رازبھی فاش کردیا ہے۔ عورت کے اندر پھوٹتے محبت وفاداری کے چشموں اور ہر قسم کے حالات میں اپنے آپ کو ڈھال لینے کی خوبیوں کے باوجود بیٹی کی پیدائش ایک ان جانا سا دُکھ دے جاتی ہے۔ یہ معاشرے اورآس پاس کے لوگوں کا ان کہا رویہ ہوتا ہے جسے محسوس کرتے ہوئے ایک اچھا بھلا سمجھدارانسان دوسروں سے پہلے اپنے آپ کواس احساس پر لعن طعن بھی کرتا ہے۔۔ بیٹی کی پیدائش پرملنے والی دعائیں بھی اپنی معنویت میں اسی رویے کا ڈھکا چھپا اظہار ہوتی ہیں جیسے دل سے کسی کی دی ہوئی پرخلوص دعا "اللہ نصیب اچھے کرے" میں بھی کانٹے جیسی چبھن۔ یہ دعا بیٹے کی پیدائش پر شاذ ونادرہی دی جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟
 کیا بیٹے ہمیشہ سے"اچھا نصیب" لے کر پیدا ہوتے ہیں؟ کیا بیٹی کی پیدائش کے بعد سے ہی اُس کے نصیب کی فکر لگ جاتی ہے؟ کیا یہ بات سچ ہے کہ بیٹی کی ولادت سے باپ کی عمر میں یک دم اضافہ ہو جاتا ہے؟ اُس کی کمر جھک جاتی ہے؟ کیاایک صحت مند اولاد کا اپنے ماں باپ کی آغوش میں آ جانا رب کا سب سے بڑا انعام نہیں؟ کیا بیٹوں سے ہمیشہ سکھ ملتے ہیں؟ اوردکھ دینا دکھ پانا لڑکیوں کی قسمت میں لکھ دیا گیا ہے؟۔
جذباتی ہوکرسوچیں تو یہ سب غیر دانشمندانہ سوچ اورروایتی  جاہلانہ طرزعمل کا عکاس ہے۔ پر حقیقت بہت تلخ ہے اور ہمیں اس کے سامنے سر جھکانا پڑتا ہے۔
 بیٹی سونے کا چمچہ لے کربادشاہ کے گھر میں بھی پیدا ہو جائے۔۔۔ دُنیا میں"بےنظیر" بھی ہو۔۔۔ وقت کے مضبوط ترین قلعے میں محفوظ ہو کر جگ پر حکومت بھی کرنے لگے۔۔۔ لیکن ! وہ ایک عام مرد کے سامنے بےبس ہے۔ مرد کی افضلیت کا حق اس سے کوئی نہیں چھین سکتا۔عورت دُنیا فتح کر کے بھی ایک مرد سے ہار جاتی ہے۔ اور بیٹی کا روپ تو عورت کا سب سے کمزورترین پہلو ہے۔ تعلیم وتربیت کے میدانوں میں دُنیا کے افق پر جھنڈے گاڑنے والی لڑکی رات کی تاریکی میں تن تنہا گھر سے باہر نکل کرمحفوظ نہیں چاہے وہ دُنیا کے کسی مہذب اور اعلیٰ" اخلاقی" معیار کے حامل معاشرے میں سانس لے رہی ہو۔اُسے کسی مرد کا سہارا درکار ہے چاہے وہ دُنیا کا سب سے نالائق آدمی کیوں نہ ہو۔
 عورت کے عدم تحفظ کی انتہا یہ ہے کہ وہ اپنے گھر۔۔۔اپنے رشتہ داروں اور بعض اوقات اپنے محرم رشتوں کے ساتھ بھی محفوظ نہیں ہوتی ۔ گھر سے باہر تو سڑک پرگرنے والے سکے کی طرح ہے کہ چاہے جیبیں بھری ہوں لیکن ہر گزرنے والا اس آواز پر ایک بار رُک کر دیکھتا ضرورہے۔
کہاں کی آزادی؟ کون سے حقوقِ نسواں؟ کیا فائدہ سول سوسائٹی کے نعروں کا ؟ یہ نہ صرف مردوں کو بلکہ اپنے آپ کو بھی دھوکا دینے اورلمحاتی تسکین کے نظریے ہیں۔
پرانی کہاوت ہے کہ "بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں" لیکن اب اس کے معنی بدل گئے ہیں۔اب تو اپنی بیٹی بھی اپنی بات نہیں سمجھتی اورایک خیالی دُنیا میں آزادی کے انوکھے خواب دیکھتی ہے۔آج کی بیٹی ہرمیدان میں مرد کی برابری چاہتی ہے۔۔۔ جھکنا اس کی فطرت نہیں۔ دُنیا کو جوتی کی نوک پر رکھنے کی خواہشمند ۔۔۔ چاہے باپ ہو۔۔۔ بھائی ہو یا پھر آنے والی زندگی کے شریکِ حیات کا تصور۔ باپ سے زیادہ ماں کو اس کی ناسمجھی اور نادانی ایک آسیب کی طرح اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ وہ دل ہی دل میں اُس کے ٹھوکر نہ لگنے کی دعا کرتی ہے لیکن دُنیا کے پتھریلے رستوں پر ٹھوکر لگنا ناگزیر ہے۔۔۔یہی نصیب ہے۔۔۔یہی قسمت ہے۔جس کے اچھے ہونے کے لیے ہر ماں باپ کے دل سے دعا نکلتی ہے۔بیٹیوں کے والدین کی عجیب سوچ ہوتی ہے۔۔۔ 
۔"آڑے وقت کے لیے اُن کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں اور ہمیشہ یہ دعا  بھی کرتے ہیں کہ "آڑا وقت" کبھی اُن کی زندگی میں نہ آئے"۔
یہ بات نہیں کہ بیٹوں کو کبھی ٹھوکر نہیں لگتی یا اُن کے راستوں میں دلدلیں اورکھائیاں نہیں آتیں۔ بلکہ بیٹوں کے دکھ تو ماں باپ کو زندہ درگورکر دیتے ہیں۔ بیٹی کے دکھوں کا تو اس کی پیدائش سے ہی دھڑکا لگ جاتا ہے۔ بیٹی کی پیدائش کے ساتھ جنم لینے والی خلش آسمان پر نظر آنے والے بادل کی طرح ہے جو جانے کب بن موسم کے برس جائے۔ جبکہ بیٹوں کے دُکھ تو آندھی طوفان کی طرح سب کچھ تہہ وبالا کر دیتے ہیں۔۔۔بنے بنائے مکان جمے جمائے کاروبار خاک ہو جاتے ہیں۔جبکہ بیٹی خاک میں مل کر بھی اُس خاک کو مقدر جان کر آخری حد تک سنوارنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہی عورت کی عظمت کی معراج بھی ہے جو نام نہاد آزادی کے دعوؤں سے بلند اپنی 'اوقات' اپنی صلاحیت پر بھروسہ کر کے سر اُٹھا کر جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔
 بیٹیوں کے باپ کے دکھ سے بھی انکار نہیں۔ بیٹا جیسا بھی ہو گھر میں اس کی ضرورت اور اہمیت مسلم ہے۔ گھر کے بہت سے ایسے مسئلے۔۔۔ایسی آزمائشیں ہوتی ہیں جن سے نبردآزما ہونے کے لیے ایک مرد کی ضرورت بہرحال پڑتی ہے،بیٹے کو "بازو"کہنا بھی کسی حد تک درست ہے۔ 
بیٹیوں والا گھر بغیر چاردیواری کے مکان کی طرح ہے جس میں جھانکنا اوراس کے معاملات میں دراندازی کرنا ہرراہ چلتا اپنا حق اورہر'اپنا' اپنا فرض جان کرکرتا ہے۔
 بیٹیوں کا ایک دُکھ وراثت سے متعلق ہے۔ معاشرے میں جس طرح بیٹوں کا باپ کی وراثت پرحق نہ صرف کھلے عام تسلیم کرلیا جاتا ہے بلکہ وہ اس کے ساتھ کچھ بھی کریں۔۔۔ جب بھی اپنا حصہ مانگ بیٹھیں جائز ٹھہرتا ہے۔۔۔ اُن سے بازپرس بھی اس انداز سے نہیں کی جاتی جبکہ بیٹی شادی سے پہلے اور شادی کے بعد بھی جہاں تک ہو سکےاپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلاتی ہے۔ بیٹوں کے مقابلے میں ماں باپ کے دکھ درد کو دل سے محسوس کرتی ہے اوراُن کا 'شملہ"دوسروں کے سامنے اونچا رکھنا چاہتی ہے۔
سب سے تلخ اورزہریلا نشتر بیٹیوں کے باپ کو آخری عمر تک محض جائیداد کے وارث کے لیے دوسری شادی کا "مخلص" کا مشورہ دینے کا ہے جو اکثر پہلی بیوی کے سامنے بڑے دھڑلے سے دیا جاتا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ قریبی رشتہ دار جن کی سیوا میں بیوی کی عمرتمام ہو جاتی ہے اور"دیندار۔۔۔ مسجد کے ساتھی" بھی اس"کارِخیر" میں وقتاً فوقتاً اپنا حصہ ڈالتے رہتے ہیں۔ جیسے یہ گارنٹی ہو کہ باپ عمرِخضر لکھوا کر آیا ہے اور بیٹا ہی پیدا ہوگا جو تمام مسائل کی فکر سے آزاد کر دے گا 
!آخری بات
اللہ کی رضا پر راضی رہا جائے اورخوشدلی سے اولاد کی صورت میں جو عطا ہو اسے قبول کرلینا چاہیے۔ بیٹےکی پیدائش پر بےجا فخر کا اظہار نہ کیا جائےاوربیٹی کی ولادت پراپنے آپ کو اس عظیم نعمت کا اہل سمجھا جائےتو وقت گزرنے کے ساتھ رب کی حکمت کے اسرار کھلتے چلے جاتے ہیں۔

اتوار, مارچ 16, 2014

" انٹرنیٹ"


کہا جاتا ہے کہ عورت کی سوچ بہت محدود ہوتی ہیں ۔اُسے سب سے پہلے تو اپنی ذات سے ہٹ کر کچھ دکھائی نہیں دیتا۔۔۔ اُس کی خواہشات اُس کے وجود سے شروع ہو کر اُسی پرختم ہو جاتی ہیں۔۔۔ دُنیا میں کیا ہو رہا ہے؟ کیوں ہو رہا ہے؟ اُسے کوئی غرض نہیں.بس اُس کی سنی جائے،اُس کی مانی جائے۔ یہ نہیں سوچتی کہ غورتو کرے کہ اُس نے ہمیشہ دوسرے نمبر پر ہی رہنا ہے۔ ازل سے لکھ دیا گیا ہے ذرا سی ترمیم کی گنجائش نہیں۔ تو پھر برابری کے دعوے کیا معنی رکھتے ہیں.کیا کیا جائے کہ جو اُس نے اپنی ذات کے حوالے سےسوچ لیا وہی حرفِ آخر ہے۔
محترم اشفاق احمد اپنی کتاب "سفردرسفر"میں لکھتے ہیں۔۔
صفحہ145 تا 149۔۔۔۔۔ "مرد کا کام عورت کو سمجھنا نہیں، اس کو محسوس کرنا ، اس کی حفاظت کرنا ، اس سے محبّت کرنا ہے۔ عورت کو اگر اس بات کا علم ہو جائے کہ مرد اس کو سمجھنے لگا ہے،یا اس کے جذبات کو جانچنے کا راز پا گیا ہے تو وہ فوراً تڑپ کر جان دے دی گی۔ آپ عورت کے ساتھ کتنی بھی عقل ودانش کی بات کریں،کیسے بھی دلائل کیوں نہ دیں، اگر اس کی مرضی نہیں ہے تو وہ اس منطق کو کبھی نہیں سمجھے گی۔ اس کے ذہن کے اندر اپنی منطق کا ایک ڈرائنگ روم ہوتا ہے،جسے اس نے اپنی مرضی سے سجایا ہوتا ہے اور وہ اسے روشن کرنے کے لیے باہر کی روشنی کی محتاج نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ کسی عقل ودانش اور دلائل کے معاملے میں مانگے کی روشنی پر ایمان نہیں رکھتی۔ اس نے جو فیصلہ کر لیا ہوتا ہے وہی اس مسئلے کا واحد اور آخری حل ہوتا ہے"۔
اسی لیے تخلیق ِاوّل بُردبار انداز اختیار کرتے ہوئے اُس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے۔۔۔اُس کا دل رکھتا ہے۔۔۔اُس پر ترس کھاتا ہے اور سب سے بڑھ کر اپنی ہمدردی کے نرم گوشے کی پناہ میں رکھتا ہے۔ اُس کو چاہنا ،اُس سے محبت کرنا تو فطرت میں لکھ دیا گیا ہے یہ جبلتِ آدم ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ورنہ محبت تو اُس سے کی جاتی ہے جو ہرلحاظ سے مکمل ہو۔۔۔ جس میں ڈھونڈے سے بھی کوئی خامی نہ ملے۔۔۔سب سے بڑھ کر جو ہماری زبان سمجھ سکے ۔۔ہمارے ساتھ قدم سے قدم ملا کر ہمارے وجود کا حصہ دکھائی دے۔ سو مرد کی سب سے بڑی مجبوری عورت کو برداشت کرنا اور سب سے بڑی کمزوری اُس سے محبت کرنا ہے۔ اس مجبوری اور کمزوری سے فرارکی قطعاٍ گنجائش نہیں۔ یہ دُنیا کا سب سے بڑا امتحان بھی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے سے بڑا ولی اللہ بھی اس امتحان سے نہیں بچ سکا اوراس میں کامیاب ہونا راہِ سلوک کا پہلا قدم ہے۔ اس راہ میں مرد وعورت کی تخصیص نہیں کی جاسکتی کہ کس کا حوالہ معتبر ہے۔
صوفی کون ہوتا ہے وہ جسے ہر چہرے میں ایک کا عکس نظر آتا ہےاور ایک کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔عورت وہ صوفی ہے جس کی سوچ گھر سے شروع ہو کر گھرپرہی ختم ہوتی ہے
عورت دُنیا فتح کر لے پھر بھی اپنی ذات اپنے گھر سے دور نہیں جا سکتی ۔
گھرعورت کے لیے دُنیا کی سب سے بڑی لذت سب سے بڑا تحفہ ہے۔ قوتِ تسخیر سے چاند پر جا پہنچے تو وہاں بھی پہلی خواہش گھر کی ہی کرے گی۔قوتِ تخیل سے دُنیا کے بتی والے چوک میں ان راستوں پر بھی اپنے پرایوں کی خوشبو محسوس کرتی ہے۔
اس چوک کے وہ چار راستے جو"فیس بک ،گوگل پلس ،ٹویٹر اور لنکڈ ان" کی جانب کھلتے ہیں۔۔۔
سب سے پہلے ٹویٹر کی دُنیا کسی فائیو سٹار ہوٹل کی طرح دکھائی دی ۔جہاں ہر ایک اپنی مستی میں مست ہے۔ ذرا دیر کو کسی کی خوشبو یا رنگ اپنی طرف مائل کرتے ہیں پھر اپنوں کے ساتھ خوش گپیاں شروع ہو جاتی ہیں ۔ لیکن دیکھنے والی آنکھ انفرادیت پر متوجہ ضرور ہوتی ہے۔
لنکڈ اِن کا دیسی کلچر وہ بدیسی کلب دکھائی دیا جہاں بغیر سوٹ اور نکٹائی کے داخلہ ممنوع ہوتا ہے۔ پر ہم بدیسی کسی طرح راہ نکال ہی لیتے ہیں اور وہاں جا کر خود ہی راستے تلاش کرتے ہیں۔ کبھی ہماری سادگی کے اُجلے رنگ کسی کو اپنی طرف مائل بھی کر لیتے ہیں۔
گوگل پلس دارالحکومت کے پوش سکیٹرز میں بنے گھروں کی طرح ہے جہاں سب اپنی دنیا میں مست ہیں ۔ ہرایک کی اپنی ذاتی اخلاقیات اوراپنے لیے خود ہی کی مقررکردہ حدود ہیں۔ جس طرح پانچوں انگلیاں برابرنہیں اسی طرح یہاں بھی اچھائی اوربرائی کی ہر دو انتہائیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ دوسرے نیٹ ورکس پرگوگل پلس کو ترجیح دیتے ہوئے احساسِ تفاخر پھر بھی نمایاں دکھتا ہے۔اپنی تمام تر'اعلٰی ظرفی'کے باوجود چھوٹے گھر والوں کے ساتھ بیٹھنے سے ذرا ہچکچاتے بھی ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ گوگل پلس کی اہمیت زیادہ ہے۔۔۔ اوراس کے دائرۂ کارسے بھی اختلاف کی گنجائش نہیں ۔۔۔ پراس کے مکینوں کا طرزِعمل اُن کی لاعلمی ظاہر کرتا ہے۔
مکان اوراس کے حدوداربعہ کی اہمیت سے انکار نہیں۔ یہ روز روشن کی طرح کا عیاں سچ ہے۔۔۔ لیکن بڑے مکانوں میں رہنے والے ضروری نہیں قد آوربھی ہوں۔ انسان کے اپنے اندر کی روشنی اہم ہے۔۔۔ جو مٹی کے گھروندوں میں رہ کر بھی یوں سرابھارتی ہےکہ محلوں کے مکین جھک کر دیکھنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ بڑے گھر میں رہائش رکھنے سے انسان بڑا نہیں ہوجاتا۔ چھوٹے گھروں میں پیدا ہونے والے بھی بہت بڑے کام کر جاتے ہیں۔ بس ان کو مواقع ملنے میں تاخیر ہو جائے تو اور بات ہے۔
آخر میں آتے ہیں چھوٹی سی دُنیا فیس بک کی طرف۔۔۔ جو بنانے والے بدیسی چہروں سے زیادہ ہماری زبان کی چاشنی کی وجہ سے بالکل اپنی سی لگتی ہے۔ ہمارے معاشرے کے عام گلی کوچوں کےعام گھر جیسی۔۔۔ جہاں ایک دوسرے پر نظر بھی رکھی جاتی ہے اور آزادی بھی ملتی ہے۔ بڑا بن کرکسی غلطی کی نشاندہی کی جاتی ہے تو کبھی گرنے سے پہلے تھام لیا جاتا ہے۔۔۔ بےغرض مشورے دینے والے۔۔۔خیال رکھنے والے اچھے پڑوسی ملتے ہیں تو آڑے وقت پرکام آنے والے مخلص دوست بھی۔ لیکن ہر جگہ 'سب اچھا ہے' نہیں ہوتا۔ چہروں پر پے درپے نقاب چڑھائےایسے اجنبی بھی پڑوس میں آ جاتے ہیں جن کی اصلیت معلوم ہونے پرانسان کا انسانیت پرسےاعتبار اٹھنے لگتا ہے۔
!آخری بات
عورت کا اصل ٹھکانہ اس کا اپنا گھر۔۔۔ اپنا خاندان ہے۔۔۔ جس میں انسانوں کے بدن کی مہک ہو۔۔۔ جدید دور کی مشینوں کے لمس کی نہیں۔۔۔ اپنوں کے ساتھ کا غیرمرئی احساس ہو۔۔۔ اجنبی چہروں کے لمحاتی احترام کا نہیں۔ عورت کے لیے نام۔۔۔ مقام سے بڑھ کراس کا گھراہم ہے۔۔۔ جہاں وہ گمنام۔۔۔ بےمقام رہتے ہوئے اپنی ذات کی نفی کر کے۔۔۔اپنی خواہشوں پر دوسروں کی ذات کو مقدم جان کر ہی معاشرے میں باعزت کہلائی جاسکتی ہے۔
عورت کا اصل امتحان۔۔۔ اصل ہنراور اصل حسن اپنی ذات کی بند گلی میں سے کوئی ایسی درز دریافت کرنا ہے جہاں سے آنے والی تازہ ہوا اُس کا اپنے اوپر یقین قائم رکھے۔

جمعہ, مارچ 14, 2014

"رازِدروں"

"محبت اور اعتبار سب سے پہلے الله کے ساتھ"
ہو سکتا ہے
تمہاری شادی زمین پر پائے جانے والے سب سے بُرے شخص سے ہو جاتی
جیسے حضرت آ سیہ کی فرعون سے
لیکن یہ چیز انکی الله سے محبت کو بدل نہ سکی۔
ہو سکتا ہے
تمہاری شادی زمین پر موجود سب سے بہتر شخص سے ہو جاتی
جیسےالله کے نبی

 لیکن تم پهر بهی جنت پہنچ جانے سے رہ جاتیں
جیسے لوط علیہ السلام کی بیوی
اور یہ بهی ہوسکتا تها کہ
تمہاری شادی کسی سے بهی نہ ہوتی
جیسے مریم علیہا السلام
اور الله تعالی تمہیں جنت میں ہر عورت سے اونچا درجہ دے دیتا۔
اپنی ترجیحات کو جانو
محبت اور اعتبار سب سے پہلے الله کے ساتھ
 ( لکھاری نامعلوم)

جمعرات, مارچ 13, 2014

" تشنگی"

تشنگی ! اے تشنگی۔۔۔ کہاں ہے تو؟۔۔۔ تیری حد کیا ہے؟۔۔۔ تو کیسا سمندر ہے جو ازل تا ابد پر محیط ہے۔۔۔ کون ہے جو تیری گہرائی میں اُتر کرگوہرِمراد پا سکا ہے؟۔۔۔ ایک اذیت کا جہان ہے۔ کبھی جسم کبھی روح کی تشنگی ۔۔۔ کبھی سوچ کبھی فکرکی پیاس۔۔۔ کبھی ساتھی کبھی محبوب کی خلش ہرپل آکٹوپس کی طرح اپنی گرفت میں یوں جکڑتی ہے کہ پھر سمندروں کی پیاس ہزار سمندر مل کر بھی نہیں بجھا سکتے۔
زندگی نفس کا وہ اتھاہ سمندر ہے جس میں چھلانگ لگانا قسمت ہے۔اس سے فراراس کی طلب میں اضافہ ہی کرتا ہے۔ اس کے لمس میں جو لذت ہےسرتا سرشرابورکردینے والی ۔۔۔ وہ لذت اگر جنموں کی پیاس لمحوں میں بجھاتی ہے تو اگلے ہی پل عرقِ ندامت میں بھی غرق کر دیتی ہے۔۔۔ پرنئے جنم کی چولی پہن کربھی خمارِیارکی خوشبو ساتھ نہیں چھوڑتی ۔۔۔ وہ خوشبو نفس کے ساحل پر کھڑا وہ سفینہ ہے جو تنہائی کے جزیروں پر اُترنے والوں کے لیے مدد کا اشارہ بھی ہے اور مالک کی رضا کا استعارہ بھی۔
ہرسمندر کا کنارہ ہے۔۔۔ لیکن! صرف اُس کے لیے جو ڈوبنے سے پہلے زندگی بچانے کے لیے ایک آخری کوشش تو کرے ۔۔۔ خواہ تیرنا آتا ہو یا نہ آتا ہو۔۔۔ خواہ بچانے والا ساتھ ہو یا نہ ہو۔۔۔ خواہ تنکے جتنا سہارا ہی کیوں نہ ہو جو فنا کے آخری پل کو ساری زندگی کا حاصل بنا دے۔۔۔ ساری عمر کی بیگار کی کمائی عطا کردے۔ لیکن خود فنا ہو کر دوسرے کی بقا مجبوری بن جائے تو اس سے فرار نہیں۔ اصل کامیابی اس منجمد سمندر سے بخیروخوبی باہرنکل آنا اورایک نئی زندگی کا آغاز کرنا ہے جس میں گزرے وقت کی بے لذت کیفیت کا شائبہ بھی نہ ہو۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
۔۔ " کچھ اس طرح سےمجھ کو ملی داد ِتشنگی
مِرے قریب آ کے سمندر سمٹ گیا"۔
!آخری بات ۔۔۔اہم بات
پیاس کسی کے ساتھ مل کر بانٹی جا سکتی ہے لیکن کبھی کسی کے ساتھ مل کر بجھائی نہیں جا سکتی ۔ کوئی بھی دُنیا میں اس قابل نہیں کہ وہ ہماری پیاس بجھا سکے اور ہم بھی اس قابل نہیں۔ تشنگی حق ہے۔اس کو سمجھو۔۔۔اس کو جانو۔۔۔۔ پیاس بجھ جائے تو سفر رُک جاتا ہے۔ یہ وہ سبق ہے جو در در مانگنے سے آتا ہے اگر یہ سوچا کہ پہلے ہی جان گئے تومنزل تو کیا نشان منزل بھی نہیں ملتا۔

منگل, مارچ 11, 2014

"اسلام آباد"


اسلام آباد ایک غیرمحفوظ شہر ہے۔ 
مقدر۔۔۔ محفوظ غیرمحفوظ کی تکرار سے بہت دورکہیں لوح ِمحفوظ میں قلم بند ہے۔ قسمت اورتقدیر ساتھ نہ دے تو اپنا گھر،اپنا در،اپنا ہمسفراوریہاں تک کےاپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑدیتا ہے۔ ہم نہیں جانتےکہ سماعتوں میں صبح کی پہلی آواز کس کی سنائی دے گی اور شب کی آخری منزلوں میں کون ہماری پکارکا ہمسفر ہوگا۔ 
وہ آمدِ بہارکی نوید دیتا۔۔۔ خوبانی کے درخت پرشگوفوں کی ننھی کونپلیں سفید بھولوں کی صورت بکھیرتا آغازِمارچ  کا ایک روشن دن تھا۔ ہر روزکی طرح اسلام آباد کا سفر معمول کی بات تھی۔ کل چھٹی والے روزنئی گاڑی خوب چمکائی گئی تھی ۔اس لیےاُسے جی ٹی روڈ کی دھول مٹی اور رش سے بچانے کی خاطر موٹر وے ایم 2 سے جانا طے پایا۔ لیکن اس فیصلے کا عین گاڑی  مڑتے وقت جب پچھلی سواریوں کو پتہ چلا تو ہاں ناں کے بیچ سامنے سے آنے والی گاڑی ذرا سے فرق سے چھو کر گذر گئی۔
 ڈرائیونگ کے دوران راستے کا مکمل اختیار ہمیشہ ڈرائیور پرچھوڑ دینا چاہیے۔۔۔ خاص طور پر موڑکاٹتےہوئے فون کی گھنٹی بجنا یا بات چیت کرنا بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ کبھی لمحوں کی خطا ہمیشہ کی خلش بن جاتی ہے۔ گاڑی موٹروے پرچڑھی تو بلند ہوتےسورج کی کرنیں اطراف کا کینوس واضح کرنے لگیں۔ حدِنگاہ تک پھیلے ہرے بھرے زمینی کینوس اوران کے بیچ زرد رنگ کی پچکاریاں کرتے سرسوں کے کھیتوں نے روح میں تازگی بھر دی اورلمحوں پہلے کے خوف اور شش وپنج سے بےنیاز کردیا ۔
گاڑی میں پانچ مسافر تھے۔ ایک خاندان ،ایک گھر سے ایک ساتھ نکلے لیکن اس لمحے اس دن کے حوالے سے ہرایک کی سوچ جدا۔۔۔ منزل جدا اورترجیحات الگ تھیں۔اسلام آباد کی رونق میں اپنے بہت سے ادھورے کام مکمل کرنے تھے۔ گھر سے نکلتے ہوئے "اسلام آباد کچہری" میں آج صبح ہونے والی دہشت گردی کی ابتدائی خبر دیکھی تھی۔ اب اسلام آباد پہنچ کرحالات کی سنگینی کا احساس ہوا۔ کچھ دیر ٹی وی پر بریکنگ نیوز دیکھنے کے بعد قریبی مرکزمارکیٹ کا رُخ کیا توہلکی بارش میں بازار کی رونق عروج پرتھی۔ کہیں سے بھی گمان نہ ہوتا تھا کہ محض چند کلومیٹر کے فاصلے پرکیا قیامت بیت گئی ؟ کتنے گھروں کے چراغ گل ہو گئے؟۔ یہاں تک کہ بعض دکان داربھی اس سانحے سے قطعاً لاعلم تھے۔ کپڑا مارکیٹ میں معمول کی خریداری اور سموسوں پکوڑوں کے سٹال پرمردوں عورتوں کا رش دیکھ کرکوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ"اسلام آباد ایک غیر محفوظ شہر ہے"۔ خیرشام کو سب اپنے اپنے کام نپٹا کر پھراسی گاڑی میں یکجا تھے۔اس کے بعد  کھانا کھانے کے لیےبلندیوں پر"منال۔۔۔پیر سوہاوہ" جانے کا طے پایا۔ پھر وہی خوف جوصبح کی روشنی میں ابھرا تھا رات کے ڈھلتے سایوں میں آسیب کی صورت ذہن میں جگہ بنانے لگا۔ اس پل اس کی شدت اُس کے یقین پرحاوی دکھائی دیتی تھی ۔ لیکن خاموشی ہی بہترراستہ دکھتی تھی کہ سُننے والوں نے نہیں ماننا تھا۔ بخیریت اوپر پہنچ کر وہاں کی رنگینی اور روشنی نے پھر ذرا دیر کو ہر واہمے سے بےنیازکردیا۔ واپسی کا سفرہراندیشے کو بالائے طاق رکھ کرنیند کی آغوش میں پناہ کا تھا اورخود فراموشی نے ایک گھنٹے کا سفر مختصرکردیا۔ طمانیت کی آنکھ گھر آ کراس وقت کھلی جب سب اپنے اپنے بستروں پرمحوِخواب  تھےاورماں کا دل مصلے پر رب کے حضور سجدۂ شکر بجا لاتا تھا۔
دن ڈھلتے ہی ایک خاندان کے لیے رب ِکائنات کی سب سے بڑی نعمت رات کا پرسکون انداز میں اترنا ہے اورصبح آنکھ کھلنے کےبعد اپنے بستر سے صحیح وسالم اُٹھ جانا مالک کی طرف سے رات کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔۔۔ اورانسان پر رب کے کرم کا اشارہ ہے کہ وہ اُس سے مایوس نہیں ۔۔۔ گناہ گار ہے تو توبہ کا در کھلا ہے اورانجان ہے تو رب کی عنایات اور اُس کی نعمتوں کے ادراک کا راستہ روشن ہے۔
!آخری بات
 شہروں کی رونقیں محفوظ غیرمحفوظ کو نہیں مانتیں۔ رونق خواہ شہر کی ہو یا گھرکی جب تک سرسلامت رہیں ساز بجتے رہتے ہیں۔اللہ سب کو اپنے اپنے گھر میں سکھ چین سے رہنے اور ہرسفر کے بعد خیریت سے واپسی کا سکون نصیب کرے۔۔۔اور ہرآزمائش برداشت کرنے کا حوصلہ اورایمان پرثابت قدمی عطا فرمائے۔آمین  

جمعہ, مارچ 07, 2014

" برہنگی"

برہنگی انسانی ذات کی ایسی کمزوری ہے جس سے فرارممکن ہی نہیں۔
کمزوری کیا ہے ؟ کمزوری ہماری اُس ضرورت کا نام ہے جو پوری ہو کر بھی کبھی پوری نہیں پڑتی۔ضرورت حد سے بڑھ جائے تو ہوس بن جاتی ہے۔ ضرورت کو سمجھا جا سکتا ہے،سمجھایا جا سکتا ہے لیکن ہوس وہ نابینا پن ہے جو سوچ سمجھ کے ہرمنظر کو تاریکی میں چھپا دیتا ہے۔
جس طرح انسان کے دو پہلو ہوتے ہیں جسمانی اور روحانی ۔ اسی طرح برہنگی کے بھی دو زاویے ہیں ۔۔۔
جسم کی برہنگی ۔۔۔ سوچ کی برہنگی۔
جسم کی برہنگی اگر حدودوقیود میں ہو تو جائز ٹھہرتی ہے۔اوراگر محض کمزوری نہ رہے ضرورت بن جائے تو نامحرم بھی محرم بن سکتا ہے۔ جبکہ سوچ کی برہنگی محرم نامحرم کی حدودوقیود سے آزاد توہے لیکن اس کی اپنی حدود بھی ہیں ۔ سوچ کی لہریں ہر کسی کی گرفت میں آبھی نہیں سکتیں ۔ اِن کی خاص فریکوئنسی ہوتی ہے۔ یہ صرف اُس لمس کو چھوتی ہیں جن سے ان کی ویو لینتھ مل جائے۔
جسم کو قرینے سے ڈھانپنے کا ہنر سوچ کے عکس کی صورت جہاں برہنگی کو زندگی کا حصہ بناتا ہے وہیں سوچ کی برہنگی کا رکھ رکھاؤ انسان کی جسمانی زندگی کا آئینہ دار بھی ہوتا ہے۔ اکثر کلف زدہ اُجلے کپڑوں والے اندر سے اتنے برہنہ ہوتے ہیں کہ اُن کی کائی زدہ بدبودار سوچ اُن کے جسموں سے چھلکتی پڑتی ہے۔ کبھی عام سے لباس میں کوئی درویش صفت اپنی مہک سے جگ کو منور کرتا ہے۔ جسم کی برہنگی فرد سے شروع ہو کر اُس کی ذات پر ہی ختم ہوتی ہےاورسوچ کی برہنگی لفظ کی قید میں ہو حرف کی صورت کاغذ پراُترے توکلاسک کے درجے تک جا پہنچتی ہے۔ چاہےوقتی طورپرایک مخصوص اندازِفکر کو ہی متاثر کیوں نہ کرتی ہو۔
برہنہ جسم ہو یا برہنہ سوچ جب تک اسے احتیاط سے برتا نہ جائے یہ ہمیشہ طبیعت پرگراں ہی گزرتا ہے۔ بے شک معاشرے میں جسم کی برہنگی قابلِ مذمت اورقابلِ گرفت ہے لیکن اپنے مالک کی بارگاہ میں قابلِ معافی بھی ہے۔ توبہ کا در کھلا ہے، ندامت کے آنسو پردہ پوشی کو کافی ہیں۔ سوچ کی آوارہ گردی اُس کی برہنگی کو معاشرے میں ذرہ برابر بھی اہمیت نہیں دی جاتی اورنہ ہی اس کی کوئی خاص سزا ہے۔ بلکہ کہیں تو یہ انتہائی اعلٰی درجے کا ادب گردانا جاتا ہے یا پھرعام بول چال کو وقتی غباریا بھڑاس کہہ کرصرفِ نظرکرلیا جاتا ہے۔
رب کی عدالت میں پکڑ پہلے سوچ یعنی طرزِفکر کی ہے جسے ہم بہت محدود رکھ کرصرف نیت کا نام دے کراپنے آپ کو بری الذمہ کرلیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہےکہ ذہنی عیاشی پراگندہ خیالات دراصل روح کی غلاظت ہیں جو جسم سے پہلے روح کو بیمار کردیتے ہیں ۔ ہمیں ان سے آگاہی اس لیے نہیں ہو پاتی کہ کبھی تو بظاہر بڑے دلفریب اوران کی چمک آنکھیں چندھیا دینے والی ہوتی ہے۔ جب یہ زندگی کے تحائف کی صورت بڑے خوبصورت ملبوس میں لپٹتے جابجا بکھرے ملتے ہیں۔ یاد رہے یہ خیال آنا بھی حق ہے کہ اسی طرح نہ صرف دوسروں کی اصلیت بلکہ اس پرہمارا برتاؤ ذہنی پختگی کا پتہ دیتا ہے۔ لیکن خیال کے بعد اس کو جاننا اورماننا بھی بہت اہم ہے۔ کسی بھی چیز کو بغیرسوچے سمجھے یک دم مسترد کردینا یا اس پر اپنا فوری ردِعمل ظاہر کرنا صرف ہماری کمزوری کی علامت ہے۔ 
!آخری بات
برہنگی انسانی فطرت کی غماز ہے۔انسان کا تمام سفراسی کے گرد کھومتا ہے۔ دُنیا میں آنکھ کھولنے سے پہلے سوچ کی برہنگی اور پھر پیدائش کی اولین ساعتوں کا برہنہ پن ۔ اس کے بعد سوچ اورجسم پرطرح طرح کے لبادے چڑھتے اُترتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اپنی فطرت کی طرف واپسی کا وقت آجاتا ہے اوراُسی ترتیب سے پہلے جسم کا لباس اترتا ہے اور بعد میں کہیں جا کرسوچ کا ۔ وہی وقت فیصلے کا بھی ہوتا ہے کہ آراستگی کے اس سفر میں کیا کھویا کیا پایا ۔ اللہ اس وقت کے برہنہ پن سے بچائے جب اپنے آپ کا جائزہ لینے کے لیے اپنی نگاہ ہی کافی ہو گی۔

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...