صفحہِ اول

جمعرات, مارچ 13, 2014

" تشنگی"

تشنگی ! اے تشنگی۔۔۔ کہاں ہے تو؟۔۔۔ تیری حد کیا ہے؟۔۔۔ تو کیسا سمندر ہے جو ازل تا ابد پر محیط ہے۔۔۔ کون ہے جو تیری گہرائی میں اُتر کرگوہرِمراد پا سکا ہے؟۔۔۔ ایک اذیت کا جہان ہے۔ کبھی جسم کبھی روح کی تشنگی ۔۔۔ کبھی سوچ کبھی فکرکی پیاس۔۔۔ کبھی ساتھی کبھی محبوب کی خلش ہرپل آکٹوپس کی طرح اپنی گرفت میں یوں جکڑتی ہے کہ پھر سمندروں کی پیاس ہزار سمندر مل کر بھی نہیں بجھا سکتے۔
زندگی نفس کا وہ اتھاہ سمندر ہے جس میں چھلانگ لگانا قسمت ہے۔اس سے فراراس کی طلب میں اضافہ ہی کرتا ہے۔ اس کے لمس میں جو لذت ہےسرتا سرشرابورکردینے والی ۔۔۔ وہ لذت اگر جنموں کی پیاس لمحوں میں بجھاتی ہے تو اگلے ہی پل عرقِ ندامت میں بھی غرق کر دیتی ہے۔۔۔ پرنئے جنم کی چولی پہن کربھی خمارِیارکی خوشبو ساتھ نہیں چھوڑتی ۔۔۔ وہ خوشبو نفس کے ساحل پر کھڑا وہ سفینہ ہے جو تنہائی کے جزیروں پر اُترنے والوں کے لیے مدد کا اشارہ بھی ہے اور مالک کی رضا کا استعارہ بھی۔
ہرسمندر کا کنارہ ہے۔۔۔ لیکن! صرف اُس کے لیے جو ڈوبنے سے پہلے زندگی بچانے کے لیے ایک آخری کوشش تو کرے ۔۔۔ خواہ تیرنا آتا ہو یا نہ آتا ہو۔۔۔ خواہ بچانے والا ساتھ ہو یا نہ ہو۔۔۔ خواہ تنکے جتنا سہارا ہی کیوں نہ ہو جو فنا کے آخری پل کو ساری زندگی کا حاصل بنا دے۔۔۔ ساری عمر کی بیگار کی کمائی عطا کردے۔ لیکن خود فنا ہو کر دوسرے کی بقا مجبوری بن جائے تو اس سے فرار نہیں۔ اصل کامیابی اس منجمد سمندر سے بخیروخوبی باہرنکل آنا اورایک نئی زندگی کا آغاز کرنا ہے جس میں گزرے وقت کی بے لذت کیفیت کا شائبہ بھی نہ ہو۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے
۔۔ " کچھ اس طرح سےمجھ کو ملی داد ِتشنگی
مِرے قریب آ کے سمندر سمٹ گیا"۔
!آخری بات ۔۔۔اہم بات
پیاس کسی کے ساتھ مل کر بانٹی جا سکتی ہے لیکن کبھی کسی کے ساتھ مل کر بجھائی نہیں جا سکتی ۔ کوئی بھی دُنیا میں اس قابل نہیں کہ وہ ہماری پیاس بجھا سکے اور ہم بھی اس قابل نہیں۔ تشنگی حق ہے۔اس کو سمجھو۔۔۔اس کو جانو۔۔۔۔ پیاس بجھ جائے تو سفر رُک جاتا ہے۔ یہ وہ سبق ہے جو در در مانگنے سے آتا ہے اگر یہ سوچا کہ پہلے ہی جان گئے تومنزل تو کیا نشان منزل بھی نہیں ملتا۔

4 تبصرے :

  1. A precious feel for my words on Google plus
    Farooq Hayat...Mar 14, 2014
    It was agonically beautiful to read. If it hurts somewhere in readers' chest while going through it, he has reached the central idea.
    Its the strength of a pensive artist like you, to control and hold the emotions of readers, and sway them in desired direction. Congrats; as its not far away that you shall be joining that elite club.

    جواب دیںحذف کریں
  2. پیاس بجھ جائے تو سفر رُک جاتا ہے۔ یہ وہ سبق ہے جو در در مانگنے سے آتا ہے اگر یہ سوچا کہ پہلے ہی جان گئے تومنزل تو کیا نشان منزل بھی نہیں ملتا۔
    ................................................
    آخری بات میں تمام سوالوں کے جوابات موجود ہیں۔
    خوب لکھا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. سول کس نے کیا۔۔۔ جواب کس نے دیا۔۔۔ ہم جان کر بھی نہیں جان پاتے۔ رب کا فضل ہے جو ہمارے ذہن میں در آنے والےشک کے معمولی سے بال کو بھی نکالنے پر قادر ہے ۔

      حذف کریں