منگل, مارچ 11, 2014

"اسلام آباد"


اسلام آباد ایک غیرمحفوظ شہر ہے۔ 
مقدر۔۔۔ محفوظ غیرمحفوظ کی تکرار سے بہت دورکہیں لوح ِمحفوظ میں قلم بند ہے۔ قسمت اورتقدیر ساتھ نہ دے تو اپنا گھر،اپنا در،اپنا ہمسفراوریہاں تک کےاپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑدیتا ہے۔ ہم نہیں جانتےکہ سماعتوں میں صبح کی پہلی آواز کس کی سنائی دے گی اور شب کی آخری منزلوں میں کون ہماری پکارکا ہمسفر ہوگا۔ 
وہ آمدِ بہارکی نوید دیتا۔۔۔ خوبانی کے درخت پرشگوفوں کی ننھی کونپلیں سفید بھولوں کی صورت بکھیرتا آغازِمارچ  کا ایک روشن دن تھا۔ ہر روزکی طرح اسلام آباد کا سفر معمول کی بات تھی۔ کل چھٹی والے روزنئی گاڑی خوب چمکائی گئی تھی ۔اس لیےاُسے جی ٹی روڈ کی دھول مٹی اور رش سے بچانے کی خاطر موٹر وے ایم 2 سے جانا طے پایا۔ لیکن اس فیصلے کا عین گاڑی  مڑتے وقت جب پچھلی سواریوں کو پتہ چلا تو ہاں ناں کے بیچ سامنے سے آنے والی گاڑی ذرا سے فرق سے چھو کر گذر گئی۔
 ڈرائیونگ کے دوران راستے کا مکمل اختیار ہمیشہ ڈرائیور پرچھوڑ دینا چاہیے۔۔۔ خاص طور پر موڑکاٹتےہوئے فون کی گھنٹی بجنا یا بات چیت کرنا بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ کبھی لمحوں کی خطا ہمیشہ کی خلش بن جاتی ہے۔ گاڑی موٹروے پرچڑھی تو بلند ہوتےسورج کی کرنیں اطراف کا کینوس واضح کرنے لگیں۔ حدِنگاہ تک پھیلے ہرے بھرے زمینی کینوس اوران کے بیچ زرد رنگ کی پچکاریاں کرتے سرسوں کے کھیتوں نے روح میں تازگی بھر دی اورلمحوں پہلے کے خوف اور شش وپنج سے بےنیاز کردیا ۔
گاڑی میں پانچ مسافر تھے۔ ایک خاندان ،ایک گھر سے ایک ساتھ نکلے لیکن اس لمحے اس دن کے حوالے سے ہرایک کی سوچ جدا۔۔۔ منزل جدا اورترجیحات الگ تھیں۔اسلام آباد کی رونق میں اپنے بہت سے ادھورے کام مکمل کرنے تھے۔ گھر سے نکلتے ہوئے "اسلام آباد کچہری" میں آج صبح ہونے والی دہشت گردی کی ابتدائی خبر دیکھی تھی۔ اب اسلام آباد پہنچ کرحالات کی سنگینی کا احساس ہوا۔ کچھ دیر ٹی وی پر بریکنگ نیوز دیکھنے کے بعد قریبی مرکزمارکیٹ کا رُخ کیا توہلکی بارش میں بازار کی رونق عروج پرتھی۔ کہیں سے بھی گمان نہ ہوتا تھا کہ محض چند کلومیٹر کے فاصلے پرکیا قیامت بیت گئی ؟ کتنے گھروں کے چراغ گل ہو گئے؟۔ یہاں تک کہ بعض دکان داربھی اس سانحے سے قطعاً لاعلم تھے۔ کپڑا مارکیٹ میں معمول کی خریداری اور سموسوں پکوڑوں کے سٹال پرمردوں عورتوں کا رش دیکھ کرکوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ"اسلام آباد ایک غیر محفوظ شہر ہے"۔ خیرشام کو سب اپنے اپنے کام نپٹا کر پھراسی گاڑی میں یکجا تھے۔اس کے بعد  کھانا کھانے کے لیےبلندیوں پر"منال۔۔۔پیر سوہاوہ" جانے کا طے پایا۔ پھر وہی خوف جوصبح کی روشنی میں ابھرا تھا رات کے ڈھلتے سایوں میں آسیب کی صورت ذہن میں جگہ بنانے لگا۔ اس پل اس کی شدت اُس کے یقین پرحاوی دکھائی دیتی تھی ۔ لیکن خاموشی ہی بہترراستہ دکھتی تھی کہ سُننے والوں نے نہیں ماننا تھا۔ بخیریت اوپر پہنچ کر وہاں کی رنگینی اور روشنی نے پھر ذرا دیر کو ہر واہمے سے بےنیازکردیا۔ واپسی کا سفرہراندیشے کو بالائے طاق رکھ کرنیند کی آغوش میں پناہ کا تھا اورخود فراموشی نے ایک گھنٹے کا سفر مختصرکردیا۔ طمانیت کی آنکھ گھر آ کراس وقت کھلی جب سب اپنے اپنے بستروں پرمحوِخواب  تھےاورماں کا دل مصلے پر رب کے حضور سجدۂ شکر بجا لاتا تھا۔
دن ڈھلتے ہی ایک خاندان کے لیے رب ِکائنات کی سب سے بڑی نعمت رات کا پرسکون انداز میں اترنا ہے اورصبح آنکھ کھلنے کےبعد اپنے بستر سے صحیح وسالم اُٹھ جانا مالک کی طرف سے رات کا سب سے بڑا تحفہ ہے۔۔۔ اورانسان پر رب کے کرم کا اشارہ ہے کہ وہ اُس سے مایوس نہیں ۔۔۔ گناہ گار ہے تو توبہ کا در کھلا ہے اورانجان ہے تو رب کی عنایات اور اُس کی نعمتوں کے ادراک کا راستہ روشن ہے۔
!آخری بات
 شہروں کی رونقیں محفوظ غیرمحفوظ کو نہیں مانتیں۔ رونق خواہ شہر کی ہو یا گھرکی جب تک سرسلامت رہیں ساز بجتے رہتے ہیں۔اللہ سب کو اپنے اپنے گھر میں سکھ چین سے رہنے اور ہرسفر کے بعد خیریت سے واپسی کا سکون نصیب کرے۔۔۔اور ہرآزمائش برداشت کرنے کا حوصلہ اورایمان پرثابت قدمی عطا فرمائے۔آمین  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

"معلوماتِ قران"

٭لفظ قرآن، قرآن مجید میں بطور معرفہ پچاس(50) بار اور بطور نکرہ اسی(80) بار آیا ہے ۔یعنی پچاس بار قرآن کا مطلب کلام مجید ہے اور اسی بار ویس...