ہفتہ, اپریل 04, 2015

" ذوالفقارعلی بھٹو اوربھٹو خاندان"


ذوالفقار علی بھٹو تاریخ پیدائش 5 جنوری 1928
بمقام لاڑکانہ سندھ
تاریخِ وفات 4 اپریل 1979
بمقام راولپنڈی
   جائے مدفن ۔۔گڑھی خدابخش لاڑکانہ سندھ  
بھٹو قوم کے آباءواجداد اصل میں راجستھان کے راجپوت تھے جو مغل دورِ حکومت میں ہجرت کرکے سندھ کے مختلف علاقوں میں آکر آباد ہوگئے ۔ سندھ میں آباد ہونے والے ان گروہوں میں ایک اہم شخصیت سھتو خان بھٹو تھا جس کے پوتے پیر بخش خان نے اپنے علاقے کی دوسری طاقتور قوموں بشمول کلہوڑوں اور ابڑوں کو بیشتر مرتبہ علاقائی جنگوں میں شکستِ فاش دے کر اپنی طاقت کا سکہ جمایا ہوا تھا۔
۔1821میں خیرپور ریاست کے والی میرعلی مراد خان تالپور نے سردار پیر بخش کو اپنا بیٹا میروں کے پاس ضمانت کے طور پر بھیجنے کو کہا کیونکہ میروں کو بھٹوں کی طرف سے کسی بھی وقت امکانی بغاوت یا حملے کا اندیشہ رہتا تھا۔ مگر چونکہ بھٹوسردار کے دل میں ایسی کوئی بات نہیں تھی اس لئے پیر بخش خان نے کچھ عرصہ بعد اپنا بیٹا میر اللہ بخش خان کے پاس بھیج دیا جہاں وہ تقریباً پانچ سال تک نظر بندی میں رہا۔ 1842میں انگریزوں نے سندھ فتح کرنے کے بعد پیر بخش خان کے بیٹے دودو خان بھٹو کو اس علاقے میں بےانتہا جاگیر دی۔
بھٹو خاندان کی تاریخ میں واحد سردار دودو خان ہی تھا جس نے امن اور سکون کے ساتھ سرداری کی حالانکہ انگریز ی گماشتوں نے اس کوعلاقے کے دوسرے قومی سرداروں اور سرکش قوموں کے خلاف محاذ بنانے کی جان توڑ ترکیبیں بھی کیں مگر دودو خان نے پسگردائی میں رہنے والی قوموں بشمول چانڈیوں کے ساتھ بھی (جو کسی حد تک جنگجو تھے) محبت اور عزت بھرے معاملات قائم رکھے۔ دودو خان کا بیٹا خدا بخش ( جس کے نام پر بینظیر کے آبائی گاؤں گڑھی خدا بخش کی بنیاد پڑی) بہادر اور نفیس آدمی تھا مگر اپنے بیٹےغلام مرتضیٰ بھٹو (اول) کی کچھ کاروائیوں کے سبب برطانوی کلیکٹر کرنل مینھواسےجھوٹے سچےکیسوں میں پھنسا کر پریشان کرتا رہتا تھا جس کی وجہ سے ان دونوں کے درمیان آئے دن ان بن ہوتی رہتی تھی اور علاقے میں بھی کشیدگی کا سماں رہتا تھا۔
ایک دن جب خدابخش بھٹو اپنی زمینوں کی دیکھ بھال کے لئے جیکب آباد گیا ہوا تھا تو کرنل مینھو کے آدمیوں نے موقع دیکھ کر اسے کلہاڑیوں سے زخمی کردیا جو بالاآخرزخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا۔ پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کے خاندان کا یہ پہلا قتل تھا جس نے کرنل مینھواورمرتضیٰ بھٹو کے درمیاں کشیدگی کو اور ہوا دی ۔ کرنل مینھو کی بیٹی کا مرتضیٰ کے ساتھ پسند کا سلسلہ تھا جسے وہ بھگا کراپنے گاؤں لے آیا۔ کرنل نے اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے اسے جھوٹے کیسوں میں پھنسانا چاہا مگرچونکہ لڑکی بالغ تھی اور اپنی مرضی سے گئی تھی اس لئے ہر مرتبہ عدالت مرتضیٰ کو بے گناہ قرار دے کر آزاد کر دیتی تھی مگر اس کے باوجود کرنل کسی نہ کسی طریقے سے اسے تنگ کرتا رہتا تھا۔ اپنے خلاف مسلسل انتقامی کاروائیوں سے پریشان ہوکر ایک دن مرتضیٰ بھٹو اپنے علاقے سے بھاگ کر پہلے کچھ عرصہ بہاولپور رہا بعد ازاں افغانستان کی طرف چلاگیا۔ اسی طرح غلام مرتضیٰ (اول) بھٹو خاندان کا پہلا جلاوطن سردار تھا جس کے خلاف ریاستی دہشت گردی کی کاروائیاں ہوتی رہیں۔
کئی سالوں کی جلاوطنی کے بعد مرتضیٰ کراچی واپس آیا جہاں کمشنر جیمس سر ایوان سے پرانی وابستگی کی بنا پر تعاون ملا اور اس نے کرنل مینھو کی اپنے علاقے سے بدلی کروائی بعد ازاں جب بھٹو اپنے گاؤں گڑھی خدابخش واپس آیا تو اس کا شاندار استقبال کیا گیا مگر ایک ماہ بعد اسے کھانے میں زہر دے کر ماردیا گیا ، یہ اس خاندان کا دوسرا قتل تھا۔
مرتضیٰ کی موت کے وقت اس کا بیٹا شاہنواز بھٹو ۔۔۔1888۔۔1957 (ذوالفقار علی بھٹو کا والد) ابھی نابالغ تھا اس لئے برطانوی حکومت نے اس کے چچا الہٰی بخش (ممتاز بھٹو کے دادا)کو اس کا مختار بنایا جس نے شاہنواز کی تعلیم اور زمین و جائیداد کا احسن طریقے سے خیال رکھا۔ 1908 میں جب شاہنواز بھٹو اپنی تعلیم مکمل کرکے گاؤں واپس آیا تو کچھ عرصہ بعدایک دن اپنے چچا  الہٰی بخش کے ساتھ لاڑکانہ شہر کے ڈپٹی کلیکٹر سے ملاقات کرنے گیا جہاں سے شام ڈھلے واپسی پر دونوں روٹی کھا کر سوگئے اور صبح کو الہٰی بخش اپنے کمرے کے باتھ روم میں مردہ حالت میں پایا گیا۔ شاہنواز نے اپنے جواں سال چچا کی اچانک موت پر ڈائری میں تاثرات قلمبند کئے تھے کہ’ان کی عمر فطری موت مرنے کی نہیں تھی، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس کودل کا دورہ پڑا ہوگا جبکہ بیشتر کو شک تھا کہ اس نے خودکشی کی ہوگی ۔ مگر میں ان دونوں باتوں پر اس لئے یقین نہیں کر سکتا کیونکہ چچا مضبوط دل اور سالم دماغ رکھنے والا آدمی تھا اس کو دل کا دورہ کیوں پڑتا یا وہ خو دکشی بھی کیوں کرتا ‘۔ الہٰی بخش کی موت کے بعد اس کے دو بیٹوں اور اہل وعیال کی ذمہ داری بھی شاہنواز بھٹو کے کندھوں پر آن پڑی جسے اس نے بڑے احسن نمونے سے نبھایا۔ شاہنواز بھٹو کو انگریز سرکار کی طرف سے "سر" کا خطاب بھی ملا۔اُس نے لکھی بائی سے شادی کی جو ایک ہندو خاندان سے تھیں۔
شاہنواز بھٹو  کا بیٹا ذوالفقارعلی بھٹو 1970 کے عام انتخابات کے نتیجے میں برسرِاقتدار آیا اور پاکستان کا چوتھا صدر بنا۔ وہ دسمبر 1971ء تا 13 اگست 1973  تک اس عہدے پر فائز رہا۔۔ 14 اگست 1973ء کو نئے آئین کے تحت انہوں نے پاکستان  کے پہلے منتخب وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔چار سال بعد 1977 کےمتنازعہ انتخابات سے قطع نظرتاریخ میں ذوالفقارعلی بھٹو کا نام دوسری بار منتخب وزیرِاعظم کے طور پر محفوظ ہے۔ 5 جولائی 1977 کوچیف آف آرمی سٹاف جنرل محمد ضیا الحق نے مارشل لاء نافذ کر کے اُن کی حکومت برطرف کر دی۔۔ ستمبر 1977ء میں مسٹر بھٹو نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے۔ 18 مارچ 1978ء کو ہائی کورٹ نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا۔ 6 فروری 1979ء کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ 4 اپریل کو انھیں راولپنڈی جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی اولاد میں دو بیٹیاں بے نظیر اور صنم تھیں جبکہ میر مرتضیٰ اور شاہنواز نامی دو بیٹے تھے جنہیں بھٹو صاحب نے ضیا دورِ حکومت میں ہی افغانستان کے بادشاہ ظاہر شاہ کی پناہ میں بھیج دیا تھا کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ ضیا حکومت انہیں بھی مروادے گی۔ بینظیر بھٹو اس وقت اوکسفرڈ میں زیرِتعلیم تھی جبکہ صنم بھی پڑھ رہی تھی۔
میر مرتضیٰ اور شاہنواز دونوں نے ظاہر شاہ کی بھتیجیوں ناہید اور ریحانہ سے شادی کی جن میں سے دونوں کو ایک ایک بیٹی ہوئی میر مرتضیٰ کی بیٹی کا نام فاطمہ بھٹو اور شاہنواز کی بیٹی کا سسئی ہے۔ کچھ عرصہ بعد شاہنواز نے فرانس جاکر رہائش اختیار کرلی مگر 8جولائی1985 میں وہ فرانس کے شہر کینز میں واقع اپنے اپارٹمنٹ میں پراسرار طریقے سے مردہ پایا گیا ۔ اس وقت یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اسے زہر دے کر مارا گیا ہے اور اس معاملے میں شک اس کی افغان نزاد بیوی پر کیا جارہا تھا جبکہ فرانسیسی پولیس اس سانحے کا سبب بھٹو خاندان کی جائیداد سے متعلق کوئی چکر بتاتی رہی مگر چونکہ اس قتل کی تفتیش آج تک صحیح طریقے سے نہیں ہوئی اس لئے قتل کے اصل واقعات راز ہی رہے۔
میر مرتضیٰ 18 ستمبر 1954میں پیدا ہوا جس نے اپنے والد کی شہادت کے بعد افغانستان میں ٹھکانہ بنا کر جنرل ضیا کے خلاف محاذ قائم کیا ۔ اسے وہاں پناہ اور تربیت کی بہتریں سہولتیں ملیں۔ اس نے پاکستان پیپلز پارٹی کی ملٹری ونگ الذوالفقار کی بنیادڈالی اور اپنی کاروایوں سے جنرل ضیا اور اس کی فوجی حکومت کے لئے عرصے تک خوف وہراس کا باعث بنارہا۔ جنرل ضیا کے ہیلی کاپٹر کی تباہی سے ہونے والی موت کو بھی کئی مبصریں الذوالفقار کے کھاتے میں ڈالتے رہے۔ 1993 میں میر مرتضیٰ واپس اپنے ملک آیا۔ 1995 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی بنیادوں پر مخالفت شروع کی مگرعملی سیاسی زندگی کی شروعات میں ہی اسے 20ستمبر 1996 میں کراچی ستر کلفٹن میں واقع اپنے گھر جاتے ہوئے چھ دوسرے ساتھیوں کے ساتھ شہید کردیا گیا۔اس کی مبینہ  پولیس مقابلے میں اُس کی موت کا معمہ آج تک صیغۂ راز میں ہے۔المیہ یہی نہیں بلکہ اصل المیہ یہ ہے اس وقت اس کی بہن بےنظیر بھٹو پاکستان کی وزیرِاعظم تھیں ٓ۔سیاسی اختلافات اور وراثتی مسائل سے قطع نظر دیکھنے والی آنکھوں کو  آج بھی اس بہن  کی بےقراری اور آنکھوں کے آنسو یاد ہیں جب خبر ملنے کے بعد وہ اسی وقت اسلام آباد سے کراچی ہسپتال  اس کی میت کے پاس پہنچیں۔ 
ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی بےنظیر بھٹو1953 میں پیدا ہوئی ریڈ کلف اور اوکسفرڈ میں تعلیم حاصل کی۔ اپنے والد کی شہادت کے بعد اس نے سب سے زیادہ صعوبتیں اور تکلیفیں برداشت کیں، جیل در جیل جاتی رہیں، ذہنی، جسمانی اور سیاسی تشدد کا شکار رہیں بعد ازاں جلاوطن بھی ہوئیں۔ 1986 میں واپس اپنے ملک آکر بکھری ہوئی پیپلز پارٹی کو متحد کیا۔ 1986 کے اواخر میں اپنی والدہ کے منتخب کردہ آصف علی زرداری سے شادی کے رشتے میں منسلک ہوئیں۔ ان کے بطن سےایک بیٹا بلاول 1987۔دو بیٹیاں بخت آور 1990 اور آصفہ 1993 پیدا ہوئیں ۔1988  میں جنرل ضیاءالحق کے طیارے کے حادثے کے تین ماہ بعد عام چناؤ میں جیت کر پاکستان کی پہلی خاتون وزیرِ اعظم بنیں۔ 1990میں بدعنوانیوں کے الزامات لگا کر اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے اُن کی حکومت برطرف کردی۔1993 میں بےنظیر بھٹو دوسری مرتبہ وزیرِ اعظم بنیں اور نومبر 1996 میں اُں کی پارٹی کی طرف سے مقرر کئے گئے صدر فاروق احمد لغاری نے اُن کی حکومت ختم کردی۔ اس کے بعد بے نظیر نے برطانیہ اور دبئی میں جلاوطنی کے دن گزارے ۔ اکتوبر 2007 کو برسوں کی جلاوطنی کے بعد پاکستان آئیں۔ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا اور پھر27 دسمبر 2007 کی شام راولپنڈی میں ایک جلسے سے خطاب کے بعد واپس جاتے ہوئےدہشت گردی کے واقعے میں ایک بم دھماکے کے ساتھ ساتھ اُن کو بھی گولی مار کر قتل کردیا گیا۔
انتخاب۔۔۔بشکریہآصف رضا موریو


2 تبصرے:

  1. از راہ کرم پہلے مندرجہ ذیل ربط پر نظر ڈال لیجئے
    http://www.theajmals.com/blog/2012/06/06
    قدیم پنجاب کے وسطی علاقہ کی زبان وقت کے ساتھ بدلتی گئی اور کھوسو ۔ بھٹو وغیرہ کھوسہ اور بھٹہ ہو گئے لیکن کچھ شمالی اور جنوبی علاقوں میں زبان بہت کم بدلی جن میں موجودہ سندھ کا شمالی علاقہ اور پوٹھوہار بھی شامل ہیں ۔ شاید واہ میں آپ نے کسی کو گاجر کی بجائے گاجور کہتے سُنا ہو ۔ وسطی علاقہ میں بسنے والے کھوسہ اور بھٹہ تعلیم میں کھوسو اور بھٹو کی نسبت زیادہ فیض یاب ہوئے کیونکہ قدیم زمانے سے ہی وسطی علاقہ تعلیم کا گہوارہ تھا
    مندرجہ ذیل حقائق پر بھی نظر ڈال لیجئے
    1۔ انگریز حکمران کسی کو اچھے کام کرنے پر جاگیر نہیں دیتے تھے بلکہ ہندوستانیون کے خلاف انگریز حکمرانوں کا شاتھ دینے پر انعام سے نوازتے تھے ۔ اُنہوں نے تو ہندوستان کے تمام تعلیمی اداروں کی جاگیریں بھی ضبط کر لی تھیں
    2 ۔ جس کسی نے کوئی خط قائد اعظم کو لکھا وہ محفوظ رہا اور اب تک سب کچھ شائع ہو چکا ہے ۔ اگر قائد اعظم سے زبانی بھی کوئی اہم بات کی گئی تو وہ بھی مختلف اداروں نے شائع کر دی ہیں جیسا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ریکٹر جناب محمد شفیع صاحب کے بیٹے برگیڈیئر ریٹائرڈ اقبال شفیع صاحب (تا حیات صدر ۔ سرسیّد میموریل سوسائٹی) نے اپنی کتاب میں ایک مڈل سکول کے طالب علم کا قول رقم کیا ہے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر کہیں بھی نہیں ملتا سوائے بھٹو کے پرستاروں کے
    3 ۔ جس شاہنواز کا بیٹا قائد اعظم کا مداح بتانے کی کوشش کی گئی ہے اُس نے تو پاکستان کیلئے انتخابات میں قائد اعظم کے نام زد کردہ اُمیدوار کے خلاف انتخابات میں حصہ لیا تھا اور ہار کر اُسی سال (1946ء) ہمیشہ کیلئے بمبئی چلا گیا تھا

    جواب دیںحذف کریں
  2. بھٹو کا فیصلہ تاریخ کرے گی۔۔
    2017/ منگل‬‮ 4 اپریل‬‮/| 0:01
    http://javedch.com/javed-chaudhry-urdu-columns/2017/04/04/256818

    جواب دیںحذف کریں

"ہم سے پہلے"

۔"ہم سے پہلے"۔۔۔کالم جاویدچودھری۔۔۔جمعرات‬‮ 72 جولائی‬‮  بھارت کے کسی صحافی نے اٹل بہاری واجپائی سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں ...