جمعرات, اپریل 09, 2015

"سرابِ زیست"

اہم یہ نہیں کہ دوسروں سے ہمیں کیا ملتا ہے اہم یہ ہے کہ اپنے آپ سے ہمیں کیا ملتا ہے۔
اہم یہ نہیں کہ دُنیا کیا دیتی ہے اہم یہ ہے کہ ہم دنیا کو کیا دیتے ہیں۔
اہم یہ نہیں کہ دوسرے آپ کو کتنا سمجھتے ہیں اہم یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو کتنا جانتے ہیں۔
اہم یہ نہیں کہ ہمیں کیا نہیں ملا اہم یہ ہے کہ ہم نے کیا پایا۔
اہم یہ نہیں کہ کیا کیا کھو دیا اہم یہ ہے کہ کیا بچ گیا۔
اہم یہ نہیں کہ وقت گزر گیا اہم یہ ہے کہ کچھ تو رہ ہی گیا۔
اہم یہ نہیں کہ چوٹ لگ گئی اہم یہ ہے کہ ہمت بچ گئی۔
اہم یہ نہیں کہ دل دھڑکتا ہے اہم یہ ہے کہ دل اُسے سنتا بھی ہے یا نہیں۔
اہم یہ نہیں کہ دل میں کون دھڑکتا ہے اہم یہ ہے کہ ہم"اُس" دل کی دھڑکن بھی ہیں یا نہیں ۔
اہم یہ نہیں کہ دل کی مانے جاؤ اہم یہ ہے کہ اس کا نتیجہ بھی دل سے قبول کرو۔
اہم یہ نہیں کہ دنیا سراب ہے اہم یہ ہے کہ پیاس باقی ہے۔

1 تبصرہ:

  1. خوبصورت :)

    اہم یہ نہیں کہ دل کی مانے جاؤ اہم یہ ہے کہ اس کا نتیجہ بھی دل سے قبول کرو۔

    بہت عمدہ

    جواب دیںحذف کریں

"یہ جنگل ہمیشہ اداس رہے گا"

یہ جنگل ہمیشہ اداس رہے گا- جاوید چوہدری ۔23 جنوری 2018 میری منو بھائی کے ساتھ پہلی ملاقات 1996ء میں ہوئی‘ میں نے تازہ تازہ کالم لکھنا ...