منگل, دسمبر 03, 2013

" نامحرم "

 وہ مکمل طورپرمیرے رحم وکرم پرتھے۔ میرے ہاتھ اُن کی آنکھوں کو چھوتے تو کبھی اُن کی ٹھوڈی کو۔ کبھی میری انگلیوں کا لمس اُن کی انگلیوں کو سیدھا کرتا توکبھی میں بہت آرام سے اُن کی گردن کو دھیرے دھیرے حرکت دیتی۔ یہ وقت میری سخت دلی کا متقاضی تھا لیکن میرے ہاتھوں کی نرمی مجھے کوئی بھی سختی کرنے سے روکتی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب اُن کی شریک ِحیات اوربیٹی نے بھی اُن کا ساتھ چھوڑ دیا تھا ،وہ خالی خالی نظروں سے مجھے دیکھے جاتیں اورمیری بیٹی بھی پتہ نہیں باہرکس سےفون پرباتیں کرتی تھی۔
 یہ یکم دسمبر 2013 کی دوپہر کی بات تھی۔اس صبح میں نے ایسا کچھ بھی نہ سوچا تھا.اگر سوچا تھا تو یہ کہ جاتے سال کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو گیا ہے اورسال کےحساب کتاب کا کھاتہ  کھولتے ہوئے پہلا خیال یہی آیا تھا کہ پچھلا سال 2012 زندگی کا بدترین اوربہترین سال تھا تو یہ سال صرف محبتیں سمیٹنے محبتیں بانٹنے کا سال تھا۔ 2012 میں اپنی زندگی کی مالا کا سب سے قیمتی نگینہ میری امی مجھ سے جدا ہو گئی تھیں اوراس سے پہلے کہ میرے ضبط کی لڑی بکھرتی انجان چہروں کی اپنائیت اورمحبت نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا( نیٹ پر میرے لکھنے کا آغاز امی کی وفات چارمارچ 2012 کے بعد ہی ہوا)اور میرے لفظ میری سوچ کا مرہم بنتے چلے گئے۔ لفظ آتے مجھ سے باتیں کرتے اورمیں اُن کو اُسی طرح کاغذ کے حوالے کردیتی ۔ پھرگوگل کے"کروم" سے بہت سے لوگوں کی دل کی آوازبن کر میری سرگوشیاں پھیلتی چلی جاتیں۔
 سال 2013  محبت کا سال تھا ایسی محبتیں جن کا دُنیا میں کسی نے خواب تو کیا خیال میں بھی نہ تصورکیا ہو گا۔ محبتوں کی ایک داستان ِالف لیلٰی تھی جو ہر روزایک انوکھے انگ سے میرے جسم وجاں پراُترتی اورمیں ایک جذب کے عالم میں پڑھے جاتی ،سنے جاتی اورلکھے جاتی کہ یہی میری زندگی تھی ۔ یوں لگتا کہ ایک خواب ہے طلسماتی خواب جو صرف ایک رات یا کچھ پل کا مہمان ہے اوراگلے روز کا اجالا صرف حساب کا روزِمحشرہی ہوگا۔
میں ڈرتی سہمتی دامن ِدل وا کیے چاہتوں کو گلے لگاتی کہ یہ ان چھوئی محبتیں مجھےمیرے ہونے کا ثبوت دیتی تھیں۔ میں اللہ سے بڑی معصومیت سے سوال کرتی کہ سوچ کو لفظ کا لباس دینے کی سعی کرنا، میری وجۂ تخلیق تھی ؟ میرے مالک میں نہیں جانتی کہ میں کس قابل ہوں۔ جانتی ہوں تو صرف یہ کہ لفظ سے محبت کرنے والے بہت بلند مقام پرفائز ہیں جو بدلے میں ایک نگاہِ لطف وکرم کی توقع بھی نہیں رکھتے۔ سچ تو یہ ہے کہ اُن کی محبت کی جزا دینے پرنہ تومیرا اختیار ہے اورنہ ہی میری اوقات ۔شاید یہ وہ صلاحیت ہے جو مجھے عطا ہی نہیں ہوئی۔
خیرمحبتوں کی رم جھم میں برسوں کی تشنگی مٹاتے یکم دسمبر کی وہ صبح ہرلحاظ سے مکمل تھی۔ سال کا ماہِ آخر میرے لیے شکر گزاری کے کلمات لکھتا تھا۔ جانتی تھی کہ زندگی ملنا اوربچھڑنا ہے اورمیں پانے سے زیادہ کھونے کی سچائی پر یقین رکھتی تھی اوراپنے تئیں ہروقت تیار بھی رہتی تھی لیکن اُس صبح کی دوپہر بہت ہی عجیب تھی ۔ ظہر کی پہلی اذان کے ساتھ وضو کرنا تو یاد ہے لیکن یہ یاد نہیں کہ نماز پڑھی یا نہیں۔ یاد ہے تو وہ منظر جب وہ بےجان جسم میرے سامنے تھا اور میں کسی سے ڈرے بغیر اپنا فرض پورا کرتی تھی ۔
 وہ میری بیٹی کی دوست کے والد تھے،زندگی میں شاید چند بار ہی اُن سے باقاعدہ بات چیت ہوئی تھی ، پہلی بار وہ مجھے دیکھ کو چونک سے گئے اوربڑی خوشگوار حیرت سے ملے کہ دوسروں کی طرح انہیں بھی اتنی بڑی بچی کی ماں ہونے پریقین نہ آیا تھا۔ دوسری بار شاید پندرہ بیس منٹ کے سفر میں میرے ہمسفر تھے اور میں اُن کی قربت سے فائدہ اُٹھا کر اُن کے ماضی کے بارے میں سوال کرتی اور وہ بڑا خوش ہو کر اپنی کتاب زیست کے اوراق پلٹتے جاتے۔سفر ختم ہو گیا لیکن ۔میری طلب بڑھ گئی۔لیکن اس روز کے بعد اُن سے دوبارہ اس طرح بات چیت کا موقع نہ مل سکا
 یہ ہمارا بہت بڑا المیہ ہےکہ ہم انسانوں سے زیادہ کاغذ کی کتابیں پڑھنےمیں فرحت محسوس کرتے ہیں حالانکہ کتابیں ہمیں تسکین تو دیتی ہیں کہ کسی کی سوچ ہماری سوچ سے مل جاتی ہے لیکن انسان سے مل کراُس کو پڑھ کر اگرہماری سوچ اُس کی سوچ سے ہم آہنگ ہو جائے،اُس کی آنکھوں کی چمک ہماری آنکھوں کو چھو جائے تو یہ وہ خوشی ہے جس کا مقابلہ دُنیا کی کوئی بڑی سے بڑی کتاب بھی نہیں کر سکتی ۔ لفظ لکھنے والا تو اپنے حصے کا کام کر چکا ہوتا ہے اُس کی خوشی اُس کی لذت تو انگلیوں کے رقص میں ہی تمام ہوجاتی ہے۔اُسے ہمارے احساس ہمارے لمس کا ذرہ برابر پتہ نہیں چلتا ۔ پر کیا کیا جائے کہ ہم انسان غلطی کرہی جاتے ہیں بلکہ کرتے ہی رہتے ہیں اورمالک کا فضل ہے کہ وہ نہ صرف معاف کرتا ہے بلکہ بخشش میں بھی کمی نہیں کرتا۔
عید کے روزاپنے گھر پرمختصرملاقات کے بعد آج اچانک ان کے گھر سے فون آ گیا کہ ابا کی طبیعت بہت خراب ہے جلدی آئیں ۔ ہمارے گھروں کے بیچ سات گھروں کا فاصلہ ہے اپنی بیٹی کے ساتھ میں بھی بھاگتی چلی گئی۔ اپنے بڑے سے آبائی گھرمیں وہ دونوں ماں بیٹی تنہا تھیں ، ماں گھر سے باہر پریشانی اور تذبذب کی کیفیت میں بیٹھی تھی اوراندر بیٹی باپ کی ڈوبتی سانسوں کو ایک ہاتھ سے چیک کرتی دوسرے ہاتھ سے کسی کو مدد کے لیے بلاتی نمبر سوچتی تھی ،میں اس وقت کچھ بھی کہنے سننے کی پوزیشن میں نہیں تھی ۔ زندگی میں پہلی بار میں نے کسی کی جان جسم سے جدا ہوتے ہوئے دیکھی ۔ مدد کے لیے بار بار فون کرتے رہے لیکن کوئی نہ آیا اور وہ قدرے آرام سے آخری سانس لے کر چپکے سے دُنیا سے منہ موڑ گئے۔ شاید موت کے آخری پل سے پہلے ہی اپنے حصے کے سارے کشت اُٹھا چکے تھے کہ اللہ نے ان پرکرم کر دیا ۔ ڈاکٹر آئے ٹارچ سے آنکھ میں روشنی کی جھلک نہ دیکھ کراورنبض کی خاموشی جان کرالٹے قدموں واپس چلے گئے۔ان ماں بیٹی کا اس وقت ہمارے سوا کوئی بھی نہ تھا۔میں نے اپنا کام شروع کیا۔پٹی دستیاب نہ تھی میں نے دکھ کے عالم میں اُن کی پرانی شرٹ کی پٹی پھاڑ کر دھجی کی صورت بنا کر پاؤں کے انگوٹھے باندھے اور پھر ایک اور پٹی ٹھوڈی کے نیچے سے گزار کر چہرے کے گرد باندھی۔۔۔ گردن کو موڑ کر داہنی جانب کیا ۔
یہ جان نکلنے کے فوراً بعد کیا جانے والا پہلا کام ہے جو اگر اُسی وقت نہ کیا جائے تو میت کے لیے اس سے بڑی سزا اورکوئی نہیں جو زندہ انسانوں کی طرف سے پہنچتی ہے۔۔۔ ۔رونےدھونے اوراپنا سرمایۂ حیات ہمیشہ کے لیے چھن جانے کے صدمے کو پس ِپشت ڈآل کر۔۔۔اس کے جسم کو مٹی کے حوالے کرنے کےعمل سے پہلے۔۔۔انسان سے اپنی محبت کا عملی ثبوت صرف یہی ہوتا ہے۔اگر جان نکلنے کے چند منٹوں کے اندراندر میّت کی آنکھیں بند نہ کی جائیں ،ہاتھ سیدھے نہ کیےجائیں ،ٹھوڈی کو اونچا کر کے منہ بند نہ کیا جائے،مصنوعی دانت یا بتیسی نکال کر چند سیکنڈز  کے لیے اُس کے دونوں ہونٹوں پر اپنی اُنگلیاں نہ جمائی جائیں،گردن گھما کر داہنی طرف نہ کی جائے اورپاؤں کے انگوٹھے نہ باندھے جائیں تو انسان کا جسم  جوجان نکلنے کے بعد اکڑنا شروع ہو جاتا ہےاور جس حالت میں اعضا ہو وہ اسی طورمنجمد ہوکر رہ جاتا ہے۔۔۔۔بعد میں جتنا چاہے کوشش کر لیں وہ اپنی جگہ سے کبھی ایک انچ بھی نہیں ہلتا۔
اپنی زندگی کے پچھلے چند برسوں میں ماں کی خوشبو لیے ماں اور اپنی حقیقی امی کی آخری سانس  کے فوراً بعد  میں نےیہی سب کیا تھا۔ لیکن کسی مرد اور وہ بھی جس کے ساتھ میرا کوئی رشتہ نہ تھا میرے  لیے ایک ناقابلِ فراموش لمحہ تھا۔محرم نامحرم کا خیال آتا تو سوچتی کہ ابھی کچھ دیر پہلے آنے والے محلے دار کیسے پڑھے لکھےدیندار مرد تھے جنہوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ گھر میں صرف اکیلی چار خواتین ہیں۔ بےشک انہوں نے باہر جا کر دوسرے انتظامات کیے اورمحض چند گھنٹوں کے اندر ہی اُن کےجسد ِخاکی کو خاک کے  سپرد کرنے کے لیے بھاگ دوڑ بھی کی۔۔اللہ اُن کی بےغرض خدمت کا اجر دے لیکن یہ خیال کی بات تھی جو اس وقت ان کے ذہن میں نہیں آیا وہ خاموشی سے آئے اور دیکھ کر چلے گئے۔
 دسمبر پھر دکھ دے گیا۔۔۔۔
جانے کیا بات ہے کہ ہم سارا سال ہی خوشیوں اورغموں کی آنکھ مچولی کھیلتے رہتے  ہیں لیکن دسمبر میں اداسی کی مہک زیادہ ہی محسوس ہوتی ہے شاید یہ دسمبر کی دھند کا اثر ہے،اس کی  سرد دھوپ کا یا پھرگہرے بادلوں والی بھری دوپہروں کا جب یخ ہوائیں ہمیں اپنے اندرمقید ہونے پرمجبورکردیتی ہیں۔ جو بھی ہے دسمبرکی تنہائی اوراس کے ماتم کا اپنا ہی خاص رنگ اورحُسن ہے جو انسانوں سے لے کردرختوں تک صاف دکھائی دیتا ہے۔ لیکن دسمبر میں ملنے والی محبتیں بھی بہت خمار دیتی ہیں کہ قربت کی خوشبو کے ساتھ جدائی کا رنگ اُن کو ہمیشہ کے لیے لازوال یاد بنا دیتا ہے۔
 موت اورمحبت ۔۔۔۔۔۔
محبت کے ہزار روپ ہیں یہ انسان کا انسان پریقین قائم رکھتی ہے لیکن سانس کی ڈور ٹوٹنے کے بعد نہ جانے کیوں محبت ایک ڈرمیں بدل جاتی ہے۔زندہ انسان اپنے اس پیارے کے قریب جانے سے،اُسے چھونے سےہچکچاتے ہیں۔۔۔آنسو بہا کراپنی محبت کا اظہار تو کرتے ہیں لیکن محبت کے ساتھ جب تک عمل نہ ہو وہ بےکار ہے چاہے زندہ انسان سے کی جائے یا مردہ جسم کی حرمت کا سوال ہو۔
آخری بات۔۔۔۔۔۔
  سب پڑھنے والوں سے گزارش ہےکہ جہاں جناب  کے اہلِ خانہ  کے لیے دعائے مغفرت کریں تواُن کی اکلوتی بیٹی اور والدہ کی ہمت واستقامت کے لیے بھی دعا کریں۔اللہ کے ہرکام میں حکمت ہے اوروہ کسی پراس کی استطاعت سے بڑھ کربوجھ نہیں ڈالتا۔ لیکن جس وقت سر سے چادر اترتی ہے،پیروں سے زمین نکلتی ہے اس وقت لگتا ہےکہ قیامت آگئی۔ یہ بھی اللہ کا خاص فضل ہے کہ جب تک سانس آتی رہتی ہے مالک ایسی ہر قیامت کا سامنا کرنے کی استعداد بھی عطا کرتا جاتا ہے۔ایک دربند ہوتا ہے تو کئی در کھل جاتے ہیں۔

    

18 تبصرے:

  1. اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل

    جواب دیںحذف کریں
  2. اللہ مغفرت فرمائے اور آپ کی نیکی کا اجر یقینا اس کے پاس محفوظ ہے

    جواب دیںحذف کریں
  3. ڈیڈ باڈی کے اکڑنے کے عمل کو غالباً ریگور مورٹس کہا جاتا ہے۔ یہ اکڑنا ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ غالباً مرنے کے بعد میت کو تکلیف یا اذیت نہیں ہوتی۔

    (RIGOR MORTIS)

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. بہت شکریہ پوسٹ کو غور سے پڑھنے کا۔ آپ نے ٹیکنیکلی وضاحت بھی کی ۔ لیکن یہ کس "میت" نے بتایا کہ اسے تکلیف یا اذیت نہیں ہوتی۔ شکر کریں غالباً کہہ کر بچ گئے ورنہ یقین سے کہتے تو پھر میں ثبوت بھی مانگتی

      حذف کریں
    2. Hahaha @ saboot be Mangti

      God Bless You

      Sunny

      حذف کریں
  4. معذرت۔ یہ لکھنا ہی بھول گیا کہ آپ نے پہلی دفعہ ایسا بلاگ لکھا ہے جو میری سمجھ میں بھی آگیا۔

    بہت شکریہ۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. ایک وضاحت اس پوسٹ کو لکھنے کا میرا واحد مقصد پڑھنے والوں کو اس عمل سے آگاہ کرنا تھا جس کی میت کو جان نکلنے کے فوراً بعد ضرورت ہوتی ہے ورنہ جانے والا تو ہر ضرورت سے بےنیاز ہو چکا ہوتا ہے۔ ہم میں سے بہت سے لوگ اس بارے میں نہیں جانتے یہ بات میں نے ایسے مواقع پر کئی بار شدت سے محسوس کی ہے۔ پڑھے لکھے ڈگری یافتہ ہوں یا جہاں دیدہ عمر رسیدہ میں نے بہت دکھ کے ساتھ سب کو اپنے پیارے کے قریب جانے سے ہچکچاتے دیکھا ہے۔ پڑھے لکھوں نے شاید یہ سبق پڑھا نہیں اور بڑے اپنے آپ پر یہ وقت آنے کا سوچ کر ڈرتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  6. آپکی تحریریں میری سمجھ میں بھی نہیں آتی ہیں ۔۔۔( یہی حال میری تحریروں کا بھی ہے کہ بعض کہتے ہیں۔۔۔۔بھائی کیا لکھتے ہو ؟؟؟ ) ابھی حال ہی میں کالم نگار یاسر پیر زادہ نے کالم لکھا میں نے پڑھا جو کسی طور بھی پروفیسروں( پڑھانے والے) کی ہتک کے زمرے میں نہیں آتا ۔۔۔لیکن انکے قارئین کو ایسا لگا کہ یاسر نے اساتذہ کی ہتک کی ہے ۔۔۔ مجبوراً اُنہیں اپنے دوسرے کالم میں وضاحت کرنی پڑی کہ: قارئین بھائیو میرے والدین اور ایک بھائی پروفیسر ہیں بھلا میں اُنکی ہتک کیسے کرسکتا ہوں ؟؟۔۔۔
    میں جو محسوس کرتا ہوں لکھ دیتا ہوں ۔۔چاہے وہ کتنا ہی مہمل کیوں نہ ہو ۔۔۔ جیسے آپکے مردے کے ساتھ کئے گئے عمل کے حوالے سے میرے ذہن میں جو سوالات اُبھرے وہ تحریر کررہا ہوں ۔۔
    کیا ایسا کرنا مذہباً ہے ؟؟ یا یہ کہ قدیمی روایت چلی آرہی
    ۔۔۔اور یہ کہ کیا یہ عمل نیچر میں مداخلت کے ذمرے میں نہیں آئے گا؟؟؟ کہیں ہم انجانے میں مُردے کے اسٹریکچر کے ساتھ اچّھا کے بجائے۔ برا تو نہیں کر رہے ؟؟؟۔۔۔یعنی اسٹریکچر کے فطری( خُدائی) عمل کی ادائیگی میں رکاوٹ تو نہیں بن رہے ہیں ۔۔۔۔ آپ نے تو جو عمل کیا وہ نیک نیتی سے کیا ۔۔۔اور یہ تو آپ بھی جانتی ہیں کہ خُدا عمل کی " نیت " کو دیکھتا ہے ۔۔۔

    ۔ اب اجازت دیں۔۔ آپکا بُہت شُکریہ

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. ہر چیز سمجھی نہیں جا سکتی یہ تو ہم سب جانتے ہیں کچھ چیزیں بلکہ کائنات کی سب سے بڑی سچائی بھی محسوس کی جائے تو سمجھ آئی ہے ۔۔۔ ہمارا ایمان بنتی ہے۔ہم خود اپنے آپ کو نہیں سمجھ سکے تو کوئی ہماری تحریر کیا سمجھے گا ۔ یہ صرف احساس کا کھیل ہے۔ ہماری سوچ کے لمس کو کوئی ایک بھی چھو جائے یہ کافی ہے اپنی ذات پر اعتماد کے لیے۔ ورنہ ہمارا خالق ہماری نیت جانتا ہے اور وہی اس کا اجر دینے والا ہے۔ بس ہم انسان ہیں نا جب تک انسان سے دل کی بات نہ کہہ دیں چین نہیں آتا۔

      حذف کریں
    2. سوال کرنا اچھا ہے چاہے ہم اپنے جیسے انسان سے کریں یا اپنے رب سے۔ یہ ہمارے تعلق کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے اور جواب اگر ہمارے دل کو چھو جائےتو جواب دینے والے کی سچائی کو۔ لیکن انسان ہمیں کبھی بھی مکمل طور پر مطمئن نہیں کر سکتے اور مالک ہمارے وجود میں چھپی ہوئی پھانس بھی نکالنے پر قادر ہے۔ بہرحال پہلا جواب ۔۔۔۔۔۔ یہ کہ بحالت ِمجبوری جان بچانے کے لیے بہت کچھ جائز ہو جاتا ہے تو جان مالک کے حوالے کرنےکے لیے جس حالت میں اس نے عطا کی ہم زندہ انسان سب سے پہلے صرف یہی کر سکتے ہیں،کفن دفن اور غسل بعد میں آتے ہیں اور اُس میں محرم نامحرم کے مسائل ہم سب جانتے ہیں۔۔۔۔ قدرت میں مداخلت یا بے جان جسم کے ساتھ کوئی عمل کرنا میرا نہیں خیال کہ ایسا ہے کہ ہم تو جسم کو ایسی حالت میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ بالکل نارمل محسوس ہو۔ باقی اس سے آگے بہت لمبی اختلافی بحث ہے کہ کئی علاقوں میں مرنے والے کو دو بار نہلایا جاتا ہے پہلی بار عام کپڑے پہنا دئیے جاتے ہیں اور کفن پہنانے کے وقت دوبارہ نہلایا جاتا ہے اور بعض جگہوں پر تو عورت کے ہاتھوں پرمہندی بھی لگائی جاتی ہے چاہے وہ کسی بھی عمر میں وفات پا جائے۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سےاسی سال کی خاتون میت کے ہاتھـ تازی مہندی سے رنگے دیکھے ہیں۔ جگہ کا نام نہیں کہ پھر تعصب جھلکے گا۔ بس اللہ ہماری نیت کو خالص رکھے اور اس دنیا میں ہمیں ہر سوال کا جواب دینے کے قابل بنا دے تا کہ اس کی بارگاہ میں بھی ہم جواب دینے کی پوزیشن میں ہوں ۔آمین۔

      حذف کریں
    3. Log bhi na bus bal ki khal utarty hen

      حذف کریں
  7. آپ مردہ عورت کے ہاتھوں پر مہندی دیکھ کر حیرت میں مبتلا ہو رہی ہیں اسلئیے آپ اور آپکے پڑھنے والوں کیلئے اپنے محلے کا حقیقی واقعہ لکھ رہا ہوں ۔ وائف : میت کے گھر پُرسے کیلئے گئیں تھیں: جہاں بیوٹی پارلر والی کو بُلایا گیا تھا اور میک اپ کے بعد ہی میت دکھائی گئی تھی ۔ یقیناً اس روایت کے پیچھے بھی کوئی نہ کوئی اچّھی سی دلیل موجود ہوگی ۔۔۔اب اجازت دیں ۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ ۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. Heart touching and factful , very difficult to accept the eternal truth of death. Good that some nice people like you remain mindful at such events.
    Sorry for comment in Eng, actually was away from pc.

    جواب دیںحذف کریں
  9. Heart touching and factful , very difficult to accept the eternal truth of death. Good that some nice people like you remain mindful at such events.
    Sorry for comment in Eng, actually was away from pc.

    جواب دیںحذف کریں
  10. بارہا ایسا کچھ دیکھنے کو ملا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میّت کو چھوڑ کر لوگ رونے دھونے بیٹھ جاتے ہیں اور بعد میں شرمندگی ناقی رہ جاتی ہے
    بہر حال اللہ تعالٰی یوسفی صاحب کی آخرت کی منازل آسان کو آسان کرے اور آپ کو اجرِ عظیم سے نواز دے آمین

    جواب دیںحذف کریں
  11. خوب صورت انداز خوب صورت خیالات

    جواب دیںحذف کریں

"ہم سے پہلے"

۔"ہم سے پہلے"۔۔۔کالم جاویدچودھری۔۔۔جمعرات‬‮ 72 جولائی‬‮  بھارت کے کسی صحافی نے اٹل بہاری واجپائی سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں ...