منگل, مئی 07, 2013

" صدقہ جاریہ"

صدقہ جاریہ"

 ہم بخوبی جانتے ہیں اور سمجھتے بھی ہیں کہ سب بڑے گھروں میں بڑے لوگ نہیں رہتے اورچھوٹے گھروں میں چھوٹے لوگ نہیں بستے۔یہ ایک بڑے گھر میں رہنے والی اُس ہستی کی داستاں حیات ہےجن کی چھوٹی چھوٹی باتیں اور گہری یادیں میری زندگی میں ہمیشہ کے لیے ٹھہر گئیں ۔
روزانہ صبح 8 بجے کے قریب دل بےچین ہو جاتا ہے کہ وہ مہربان کاندھا کہیں سے مل جائے جس سے لپٹ کر جی بھر کر آنسو بہاؤں ،چیخ چیخ کرکہوں تم جیت گئیں ہم ہار گئے۔ ہم عقل والے دو اور دو چارکا سبق پڑھتے رہ گئے اورتم سب کو پڑھا کر علم اپنے اندر اُتار کر جاوداں ہو گئیں۔
کہانی زیادہ پرانی نہیں 19 مارچ 2011 کا دن تھا جب میری ماں بچھڑ گئیں ۔۔۔ وہ ماں جن سے جنم کا نہیں احساس کا رشتہ تھا اور ماں کی ممتا میرے وجود پر نچھاور کر کے ماں کی عظمت کا انمنٹ نقش چھوڑ گئیں ۔ وہ میرے گھر کے سامنے والے گھر میں رہتی تھیں۔۔۔ ایک ریٹائرڈ ہیڈمسٹریس۔۔۔ تعلیم اور علم کی دولت سے مالامال۔۔۔دنیاوی لحاظ سے سُرخرو کہ نہ صرف دوسری بچیوں کو علم کے زیور سے آراستہ کیا بلکہ اُن کے اپنے بچے بھی اعلیٰ ڈگریاں اوربڑے ملکوں میں ایک پہچان اپنا مقام رکھتے ہیں۔ 
 بیٹی کو اُنہوں نے جنم نہیں دیا شاید اسی لیے میرے اندر وہ اپنا آپ اپنی نسوانیت کھوجتی تھیں۔ اپنے ہمسفر کے سنگ اپنے گھر میں تنہا رہتیں، زندگی کے ہر رنگ ہر رشتے کو بحسن وخوبی برت کرمطمئن ومسرور ۔ کوئی گلہ نہیں، شکوہ نہیں نہ بندوں سے نہ رب سے۔
خوشیوں اورخواہشوں کی بارش میں شاداں وفرحاں لیکن وہ ایک انسان بھی تھیں جو بظاہراپنے اوپر کتنے ہی غلاف چڑھا لے،
اپنے اندر کا اپنا پن کسی اپنے سے بانٹ کر ہی مکمل ہوتا ہے چاہے وہ اُس کا جسم آشنا ہو یا مزاج آشنا۔ خود کلامی کی یہ لذت بے شک اُسے رب سے بڑھ کر کسی سے نہیں مل سکتی جو اُس کے ہر سوال کا جواب جانتا ہی نہیں بلکہ عطا بھی کرتا ہے لیکن جب تک جنس کو جنس کا لمس نہ ملے وہ قرار نہیں پاتی۔
وہ اپنے دل کی بات کہتیں ،خوابوں کے اسرار ورموز سے آشنا کرتیں،زمانے کی چیرہ دستیوں کا احوال سناتیں ہماری شاندار
تاریخ کا ورق ورق اُن کی آنکھوں میں نظر آتا اورقطرہ قطرہ میرے دل میں اُترتا جاتا۔یوں سفر کرتے ہوئے میں بھی اُسی ماحول میں سانس لینے لگ جاتی گویا وہ میرے لیے ایک ٹائم مشین تھیں جس میں داخل ہو کر میں بیتے ادوار میں چلی جاتی وہ ماضی کاخزینہ ہی نہیں تھیں بلکہ حال میں موجود میرا بنک اکاؤنٹ بھی تھیں۔۔۔"اےٹی ایم" کی طرح میں جب چاہتی من کی مراد بن مانگے مل جاتی -کبھی اپنے ہاتھوں کا نوالہ میرے منہ میں ڈالتیں کبھی میرے تھکے ہاتھوں پر مساج کرتیں ۔۔۔ انہیں چومتیں۔۔۔ کھانا بنا کر اُس کی خوشبو انہیں مجبور کر دیتی کہ وہ سب سے پہلے مجھے کھلا دیں۔۔۔کبھی کوئی پسندیدہ بچی ہوئی لذت میرے لیے چھپا کررکھ دیتیں اورچپکے سے دروازہ کھٹکھٹا کربنا کہےدے کرچلی جاتیں۔
 میرے غم اُن کے غم اور میری خوشی اُن کی خوشی تھی۔اُن کی محبت بےلوث اورعطا بےغرض تھی لیکن پھر وہی بات ہم انسان ہیں نا کوئی بھی کام کوئی بھی نیکی کسی غرض کے بغیر نہیں کرتے اُن کی غرض تھی تو فقط یہ کہ میں اپنے وقت میں سے چند پل ہی اُن کو دے دوں۔
 ہم محبوب اورمُحب کی طرح راز ونیاز کرتے اُن کے لمس میں بے تکلف دوستوں کی سی گرم جوشی تھی اورماں کی طرح شفقت۔وہ بہنوں کی طرح زمانے کے ساتھ چلنا سکھاتیں تو کبھی ناتجربہ کار بیٹی بن کر دکھ سکھ پرولتیں۔۔۔ہم سفرکی شکایتیں کرتیں۔۔۔ اُس کی ناقدری کا گلہ ایک پل کو اُن کی ذات کا اعتماد لے جاتا۔کبھی اُس کی محبتوں کی شدت بیان کرتے ہوئے اُن کی آنکھیں جگنوؤں کی طرح چمکنے لگتیں تو کبھی اُس سے سہم کر جی اچھا کہتے ہوئے حاضر سروس ہو جاتیں۔ کبھی پڑوسنوں کی طرح رشتوں کی ناقدری کا اظہار کرتیں تو کبھی ساس کی طرح وقت بے وقت حُکم بھی دیتیں۔۔۔ جو میں بہو بن کر بادل نخواستہ مان لیتی بعد میں افسوس بھی ہوتا کہ انسان کسی اپنے سے ہی تو کہتا ہے اور ہرایک اپنا نہیں ہوتا۔۔۔ ہم کسی کے ساتھ ساری عمر گُزار دیتے ہیں اپنا آپ نچھاور کر کے بھی وہ ہمیں اپناتا نہیں ۔
 ایسے ہی قربتوں کے کسی لمحے انہوں نے کہا "پتہ نہیں کون میرے اس گھر کو آباد کرے گا کیا یہاں کبھی بچوں کی آوازیں گونجیں گی؟ " آگے اُن سے کہا نہیں گیا لیکن میں نے سُن لیا کہ کیا میرا یہ آشیانہ جس سے مجھے بڑی محبت ہے ویران ہو جائے گا ؟- میں سوچتی تھی وہ زندگی گزارچُکی ہیں لیکن کبھی مرنے کی بات نہیں کرتیں جانے کا ذکر نہیں کرتیں؟ ایک الہڑ دوشیزہ کی طرح رنگوں اور خوشبوؤں کی موج میں رہتی ہیں۔
 اورمیں!!!جس کی جوانی نے بچپن میں ہی بیوگی کی چادر اُوڑھ لی تھی حیرت سے تکے جاتی کہ یہ اُس منزل کی بات کیوں نہیں کرتیں جو دو قدم کے فاصلے پر ہے۔ اُن سے دل کی بات کرنا چاہتی ،پوچھنا چاہتی کہ انسان کیسا محسوس کرتا ہے جب منزل قریب آنے لگتی ہے۔۔۔ گاڑی اسٹیشن کے قریب پہنچنے والی ہوتی ہے۔ وہ اپنا سامان سمیٹنا کب شروع کرتا ہے۔ مجھے لگتا وہ ابھی تک ریل گاڑی میں بیٹھی جاتے منظروں میں قید ہیں اس بات سے بےخبر کہ کب یہ منظر نگاہوں سے اوجھل ہو جائیں اور گاڑی رُک جائے۔
میں بڑا بن کر بتانا چاہتی لیکن اُن کے چہرے کی بشاشت میری خود ساختہ سنجیدگی پر غالب آجاتی اور ہم سب بھلا کر پھولوں خوشبوؤں تتلیوں اور پرندوں کی باتیں کرنے لگتے۔
ایک رات اچانک وہ اپنی بسائی جنتِ ارضی سے جنت ِابدی کی طرف روانہ ہو گئیں نہ کہا نہ سُنا شاید معراج ایسی ہی ہوتی ہے۔زندگی اورموت کا مفہوم میں نے اب جانا۔۔۔ جو بات لاکھ چاہنے کے باوجود میں اُن سے نہ پوچھ سکی انہوں نے اب بتا دی وہ میرے دل کاحال جانتی تھیں نا۔وہ مرنا نہیں چاہتی تھیں۔۔۔ زندگی کی طلب گار تھیں جس سے انہیں عشق تھا ۔ اللہ سے جو مانگو ملتا ہے اس کا عملی ثبوت میں نے دیکھا ۔ اُن کے جانے کے بعد وہ گھر واقعی ویران ہو گیا،اُجاڑ ہو گیا۔ لیکن یہ عارضی تھا بیج  بویا جا چکا تھا اوربارآور ہونے کے لیے وقت چاہیے موسم چاہیے اور سب سے بڑھ کردیکھنے والی آنکھ۔ تو وہ بیج جو میرے  سامنے بویا گیا تھا اورشاید میرے لیے ہی ۔۔۔ اُس کے ثمر کو میں نے ہی محسوس کیا۔
ایک سال گذر گیا اب اُس گھر میں صبح کا آغاز معصوم چھوٹے چھوٹے بچوں کی چہچہاہٹ ،دل میں اُترتی دُعاؤں اور پیارے نبی ﷺ کی شان میں مدھر درود پاک سے ہوتا ہے وہاں ایک سکول کھل گیا ہے جس سے قطعی اُن کا یا اُن کے بچوں سے کوئی تعلق نہیں۔اُنہوں نے اپنا فرض ادا کیا ،کام ختم کیا اور گھر کو روانہ ہوئیں اسی طرح اُن کے بچوں نے اپنے حصے کا کام کیا اور
اپنے گھروں میں شاد وآباد۔بعد میں آنے والے غیر لوگوں نے اس بات سے بےخبر کہ وہاں کتنے قیمتی لمحات سانس لیتے تھے اُس گھر کو مہنگے اورمغربی تعلیمی ادارے کے حوالے کردیا جن کے نصاب میں دین اور مذہب کو اوّلیت نہیںلیکن شاید یہ سچے دل کی طلب تھی جو اُس آنگن میں مہکتی ہے اورزندگی پر یقین مستحکم کرتی ہے۔ انسان زندہ رہنے کا فن جان جائے، زندگی اپنے اندر اُتار لے تو موت بھی اُس سے دُور بھاگتی ہے۔
آخری بات ! 
 صدقۂ جاریہ اصل میں یہی ہے کہ ہم اپنی نیت خالص رکھیں ،بےحساب دیں تو مالک ہمارے ظاہری وجود کے منظر سے ہٹنے کے بعد بھی ہماری خواہشات پوری کرتا ہے اور اجر عطا کرتا ہے۔
راز کی بات !
وہ میری آنکھ کا آنسو تھیں جو اُن کے ساتھ چلا گیا اورمیں خشک آنکھوں سے اُسے جاتے دیکھتی رہی۔ یہ حقیقت بھی ہے بے شک وہ میری ماں تھیں لیکن جب رُخصتی کا وقت آیا تو میں نے ایک ماں بن کر انہیں بیٹی کی طرح سپاٹ چہرے کے ساتھ رُخصت کیا۔
 میں حیران تھی کہ آنسو کہاں چلے گئے ہم تو کسی کے فراق میں آنسو بہا کر ساری چاہتوں کا حق ادا کر دیتے ہیں۔میں دل ہی دل میں نادم تھی کہ اُن سے میری محبت وقتی یاسرسری تھی؟ حقیقت اللہ جانتا ہے ہم نہیں ،ہم تو اپنی سوچ سے بھی انجان ہیں۔ وہ سانس لیتا ہوا جسم جس کی روح سے میری آشنائی تھی جب اُس کی روح جُدا ہوئی تو وہ جسم میرا تھا۔۔ اتفاق سے اُس جسم کو میرے سوا کوئی چھو بھی نہ سکا۔ میں نے بڑی چاہت سے اُس کو سمیٹا ،سجا کر ابدی گھر رُخصت کیا۔
اب یہ لفظ لکھتے ہوئے اُس لازوال روح نے میرے سارے آنسو بھی مجھے واپس کر دئیے میرا ادھورا پن مکمل کر دیا اور مجھے زندگی کا یہ عظیم سبق مل گیا کہ "محبت کبھی تشنہ نہیں چھوڑتی کبھی آزردہ نہیں کرتی ۔۔۔ محبت جسم میں اُتر کر روح کو آسودہ کر دیتی ہے اور یہ کہ محبت میں فراق اور وصال کوئی معنی نہیں رکھتے۔۔۔ محبت کا لمس مل جائے تو فراق بھی وصال بن جاتا ہے"۔
اہم بات ایک درخواست ! 
 اس پوسٹ کو پڑھنے والے ایک بار درود شریف پڑھ کر دعا ضرور کریں ، اپنے لیے ہم سب کے لیے اور اُس استاد کے لیے جو جانے کے بعد بھی زندہ ہے اپنے چاہنے والوں کے دل میں ۔

5 تبصرے:

  1. اللہ تبارک تعالیٰ والدہ محترمہ کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔۔۔ آمین۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. میں نہیں جانتی مین یہ سب پڑھنے کے بعد کیا کمنٹ کروں ۔بعض وقت اپنے احساس و تاثرات کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔میں نہیں جانتی یہ شدت احساس سے ہوتا ہے یا اس کے اظہار کے لئے الفاظ بنے ہی نہیں ہوتے ہیں۔۔۔۔خیر میں مرحومہ کی مقفرت اور بلندِدرجات کے لئے بدست دعا ہوں ، اللہ پاک قبول فرمائے

    جواب دیںحذف کریں
  3. اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے۔
    صدقہ جاریہ بذاتِ خود ایک مکمل "فیلڈ" ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. بلا کا تسلسل ہے اس تحریر میں۔ بہت خوبصورت پیرائے میں زندگی کی حقیقت کو لفظوں کی مالا میں پرو دیا آپ نے۔ قلم کی روانی لفظ کے بہاؤ میں تیرتی جاتی ہے۔ آپ کو اللہ تبارک تعالی نے لکھنے کی خداداد صلاحیت سے نوازا ہے۔ جو بہت کم لوگوں کے حصے میں آتی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. "صدقۂ جاریہ"
    میرے وہ لفظ جودوبرس پہلے آج کے روز مجھ پر اترے اور کچھ دیر بعد پوسٹ بھی کر دئیے۔ جب بھی انہیں پڑھتی ہوں تو کسی بھی قاری سے زیادہ مسحور ہو جاتی ہوں کہ یہ لفظ کاغذ پر تو بعد میں لکھے گئے میری روح میں بہت پہلے جذب ہو چکے تھے اور میں لکھنے سے پہلے بالکل بھی نہیں جانتی تھی ۔ اللہ کا ہزار شکر کہ اس نے لفظ کے ساتھ اس کا یقین بھی عطا کیا۔۔ بےشک ۔۔۔
    ۔"اللہ یقین کے ساتھ لفظ اتارتا ہے اور ہم لفظ لکھ کر اس پر یقین کرتے ہیں "

    جواب دیںحذف کریں

"ہم سے پہلے"

۔"ہم سے پہلے"۔۔۔کالم جاویدچودھری۔۔۔جمعرات‬‮ 72 جولائی‬‮  بھارت کے کسی صحافی نے اٹل بہاری واجپائی سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں ...