منگل, مئی 28, 2013

" آنکھ کہانی"


زندگی اے زندگی ۔۔۔
بےجان چیزوں اور انسان کی قطرہ قطرہ پگھلتی زندگی میں فرق صرف آنکھ کا ہے۔کبھی دیکھنے والی آنکھ دیکھ کر بھی نہیں دیکھتی اور کبھی صاحب حال کا تمام تر شور آنکھ میں سمٹ آتا ہے جبکہ بےجان اپنے وجود کے قبرستان میں چپ چاپ اتر جاتا ہے۔
آنکھ سے آئینے میں اگر ہم اپنا عکس دیکھتے ہیں توآنکھ چہرے کا آئینہ بھی ہے۔۔آنکھ انسان کے اندر کا اندر دکھا دیتی ہے۔آنکھ انسان کا کردار ہے۔۔۔الفاظ اور لہجے پرخواہ جتنے بھی شائستگی کے غلاف چڑھا لیں پہلی نظر انسان کے اندر کا حال کہہ دیتی ہے بعد میں خواہ اس تاثر کی نفی بھی ہو جائے لیکن دل سے وہ کیفیت کبھی نہیں نکلتی۔آنکھ انسان کے جسم کا وہ واحد حصہ ہے جو پیدائش کے پہلے سانس سے آخری سانس تک نہ صرف ساتھ نبھاتا ہے بلکہ یکساں حُجم میں بھی رہتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ آنکھ کی تازگی اور چمک کم ہونے لگتی ہے،گردش ِزمانہ  اورگُزرتے وقت کے ساتھ انسان کے افعال وکردارکا عکس بھی آنکھ کے آئینے پرجھلملانے لگتا ہے۔
ہماری قربت کو لمس کے پوروں سے محسوس کرنے والے اگرچہ ہماری رگ رگ سےواقف ہوتے ہیں۔۔۔ہمیں مانتے ہیں۔۔ہمارا وجود دن کی روشنی میں اُن کی نگاہوں کے سامنے ہوتا ہے تو رات کے پہر ہماری آنکھوں میں چھپے خواب تک اُن کے سامنے عیاں ہو جاتے ہیں۔ صبح وشام ہمارے وجود کی گواہی سے ہمیں پرکھتے ہیں پھر مانتے ہیں۔لیکن!!! وہ ہمیں کبھی جان نہیں پاتے۔ہمارا اپنا آپ ہمارا ظاہر ہی نہیں ہمارا باطن بھی ہے۔۔۔ہمارا جسم ہی نہیں ہماری روح بھی ہے۔
ہمارا ظاہر اتنا بھرپور اتنا مکمل ہوتا ہے کہہمارے اندر کا اندر کبھی جھلکنے بھی لگے تو اکثر ہم خود بھی اُس کی پکار سے خوف زدہ ہوجاتے ہیں۔ہمارے ظاہر کی خواہشات اور ضروریات کی تکمیل کرنے والے اُس کو ماننے میں اتنے مگن ہوتے ہیں کہ جاننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوتی۔ ایک وقت ایسا ضرور آتا ہے جب وہ جان بھی جاتے ہیں۔یہ وقت ہمارے سامنے کبھی نہیں آتا۔انسان کے نظروں سے ہٹ جانے کے بعد وہ "نظر" آتا ہے۔
اپنے رشتوں کو اُن کی زندگی میں ماننے کے ساتھ جاننے کی بھی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ جاننے کا عمل اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس طرح مثبت اور منفی پہلو کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔کیونکہ بعد میں اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے کہ ساری عمر سونا جان کر چڑھاوے چڑھاتے رہے بعد میں پتہ چلا کہ کھوٹ ہی کھوٹ۔ اسی طرح کبھی ظاہر کے زخم دل پر خراشں ڈالتے رہے بعد میں جانا کہ وہ تو محض بہانہ تھا کہ بقول شاعر۔۔۔ ترے دل میں تو بڑا کام رفو کا نکلا۔
جاننے اورماننے کے پیج رسہ کشی چلتی رہے تو یہی زندگی کا قرینہ ہے کہ کسی ایک طرف بھی پلڑا بھاری نہ ہونے دیا جائے۔
دوسرے ہمیں ظاہر کی آنکھ سے دیکھتے ہیں اور باطن کی آنکھ سے فیصلہ سنا دیتے ہیں۔ جبکہ اپنے آپ کو باطن کی آنکھ سے دیکھنے اور ظاہر کی آنکھ کے فیصلے کو تسلیم کر لینے میں ہی  نجات ہے۔
یہ صرف آنکھ کا آنکھ سے سفر ہے۔ وہ آنکھ جس سے ہماری شناسائی ہو جس کی روح سے آشنائی ہو وہی آنکھ ہم سے باتیں کرتی ہے۔۔۔ ورنہ ہرآنکھ کو پڑھ کر اُس سے بھاگنے لگ جائیں یا اُس کی قربت کے تمنائی ہو جائیں تو جینا محال ہو جائے۔
آنکھ میں بچے کی سی معصومیت،حیرانی اور پاکیزگی برقرار رہے تو اس سے بڑا حُسن انسان کی شخصیت کا اور کوئی نہیں۔آنکھ کی یہی وہ کشش ہے جو آنکھوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔
"کمال کی آنکھ "
لیکن اصل کمال اسے دیکھنے والی آنکھ کا بھی ہے اور اس کے ساتھ اس احساس کو محفوظ کرنے والے کیمرے کا بھی۔

1 تبصرہ:

  1. عمدہ تحریر
    کہتے ہیں نگاہ شخصیت کی آئینہ دار ہوتی ہے. دل کی آنکھ جو دیکھتی ہے کاش لفظوں میں بیان کرے کوئی ..

    جواب دیںحذف کریں

"ہم سے پہلے"

۔"ہم سے پہلے"۔۔۔کالم جاویدچودھری۔۔۔جمعرات‬‮ 72 جولائی‬‮  بھارت کے کسی صحافی نے اٹل بہاری واجپائی سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں ...