صفحہِ اول

بدھ, مئی 01, 2013

" ہم عوام، ووٹ اور ماں "

ووٹ یہ سوچ کر کبھی نہ دینا کہ شاید اس بارتبدیلی کی یہ لہر تمہیں بہا کر تخت تک لے جائے گی۔۔۔اونچے محلوں کے دروازے تمہارے لیے کُھل جائیں گے۔۔۔کلف لگے کپڑے پہنے اکڑی گردنوں والے بڑے لوگ تمہیں ساتھ بٹھا کر کھانا کھلائیں گے۔۔۔ اپنی لمبی لمبی گاڑیوں میں ذرا سا سفر طے کرا دیں گے۔۔۔ تمہارے بچے  اُن کے بچوں کےساتھ تعلیمی اداروں میں پڑھ سکیں گے۔۔۔ کبھی کوئی بڑا تمہارے گھر آ کر ایک وقت کی چٹنی روٹی کھائے گا - یہ تبدیلی تمہارے دفتروں کے دھکے یا برسوں پرانے مقدمے ختم کرنے کے لیے نہیں۔ یہ نہ سوچنا کہ بوڑھے اب عزت سے پنشن وصول کریں گے ہسپتالوں میں وی آئی پیز کی طرح آؤبھگت ہو گی۔۔۔ہوائی جہازوں میں کبھی زندگی میں ایک بار ہر شہری کو سفر نصیب ہو گا۔۔۔ایک فلاحی ریاست کا خواب شرمندۂ تعبیر ہو گا-
ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔ پھر جب مایوسی ہی ہے تو کیا کریں چُپ کر کے اپنا تماشا دیکھیں۔۔۔اشرافیہ کو لعن طعن  کر کے دل کا غبار نکالیں۔ نہیں ! اگر تبدیلی کا نعرہ ہے تو اُس پر یہ سوچ کر یقین کرلو کہ واقعی ہمیں تبدیلی چاہیے۔۔۔ نجات چاہیے ایک فرسودہ نظام سے۔ کسی نے تبدیلی کا نام تو لیا ہے۔۔۔نام کی حد تک انصاف  کو اوّلیت تو ملی ہے۔۔-اپنے وطن کے نام کو سربلند رکھنے کے عزم کا اظہار تو ہے-
دھرتی ماں جس کی عزت وآبرو کی دھجیاں سالوں سے اُڑائی جارہی تھیں اور وہ سب بھلا کر پھر بھی اپنے بچوں کی سیوا میں لگی ہوئی تھی۔ جس کے کرم کا دستر خوان بہت وسیع ہے۔'اُس ماں' کی عظمت کا حق ادا کرنے کے لیے پہلا قدم تو اُٹھایا گیا ہے یہی بہت ہے- ہمارا کیا ہے۔۔۔ ہم تو چیونٹی کی طرح نسلوں سے محنت کیے جارہے ہیں۔۔۔ سو کرتے رہیں گے۔ بس ماں سلامت رہے وہ باقی تو ہمارا حوصلہ جوان-
" ماں کے بغیر گھر قبرستان بن جاتا ہے اور دھرتی ماں کے بغیر گھر بن تو جاتے ہیں لیکن جیسے پانی پر بنے ڈانواں ڈول یا پھر فلک بوس ( سکائی سکریپرز) مٹی کے لمس سے ناآشنا"
آخری بات !
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے یا شاید فیصلہ کرنے کی خوش فہمی جو بھی ہے ایک پل کوٹھہر کر اپنا فرض ضرور ادا کریں صرف وطن کی خاطر-

2 تبصرے :