منگل, اپریل 30, 2013

" شفا "

سورۂ الشعرآء آیت 80 : 
" اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے "
 تئیس برس پُرانا قصّہ ہے۔ رات کے دس گیارہ بجے کا وقت ہو گا۔ایک فکرمند باپ ،مصروف مسیحا  سُنسان راستوں پرتقریباً ایک گھنٹے کی مسافت سکوٹر پر طے کر کے اپنی بیٹی کے گھر پہنچا۔ جس کا نازک سا بچہ نمونیے کا شکار تھا۔باپ نے راز داری سے کسی سے کہے بغیر اپنے پاس موجود شیشی میں سے دوا نکالی اور اُس جاں بلب بچے کے حلق میں چند قطرے اُنڈیل دئیے پھر چُپ چاپ اپنا کام کر کے اُسی وقت واپس لوٹ گیا۔طبیب نے اپنے فہم  کے مطابق کام کیا وقت نے فیصلہ لکھا اوراللہ کی رضا سے بچہ  دنوں میں بھلا چنگا ہو گیا۔ اس میں کسی کی دوا یا دعا کا کمال نہ تھا۔بعد میں کسی نے پوچھا نہ دینے والے نے بتایا کہ وہ دوا کیا تھی۔ لیکن گمان یہی ہے وہ خُمارِممنوع تھا جس کا ایک گھونٹ چکھنا بھی حرام ہے۔ایسا تھا تو  کس نے اس باپ کو مجبورکیا کہ مشقت اُٹھا کروہ دوا تجویز کرے۔یہ رب کا حُکم ہے کہ جان پر بن آئے تو مُردار بھی کسی حد تک جائز ہے۔
برسوں پرانی یاد روشنی کے جھماکے کی طرح آج یوں ذہن میں کوندی کہ بحیثیت پاکستانی ہم بھی ایک جان لیوا مرض میں مبتلا ہیں۔ سب سے پہلے شناخت خطرے میں ہے کہ قوم ہیں یا ہجوم ،نہ صرف معاشی بلکہ اخلاقی طور پربھی دیوالیہ پن کی طرف گامزن۔ جس مسیحا کی طرف رجوع کیا اُس کی دوا نے بہتری کی بجائے ابتری کا سامان ہی پیدا کیا۔
اب پھر دوا کی ایک خوراک ملنے والی ہے۔۔۔شاید فیصلہ ہمارا  ہے یا پھرایک خوش فہمی ہمیشہ کی طرح۔ جو بھی ہے اب یہ دیکھنا ہے کہ اپنے آپ کو پُراُمید رکھتے ہوئے نئے عزم سے پھر وہی خوش رنگ دوا استعمال کی جائے جس کی پیکنگ مضبوط اور کمپنی مستند ہے۔۔۔ شاید اس بار وہ کوئی جادو دکھا دے یا پھر مایوسی کا شکار ہو کر اپنے آپ کو حالات کے دھارے پر چھوڑ دیں۔۔۔ کہ جب فنا ہی مقدر ہے تو کیا علاج کیا بھروسہ۔ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ اپنی قوت ِارادی کے بل بوتے پر اپنی دوا خود تجویز کریں کہ اب تو ہم بھی اپنا علاج کرنے کے قابل ہو چکے ہیں اور بخوبی جانتے ہیں کہ دوا کی تبدیلی ہی بہترین حل ہے۔
 بظاہر ان میں سے ہر فیصلہ درست اور منطقی ہے۔ لیکن ہم ایک بات بھول رہے ہیں کہ شفا اللہ کے پاس  ہے ہم تو شفا کے
معنی سے ہی واقف نہیں تو علاج کیا کریں گے۔ اور جب اللہ نے واضح کہہ دیا کہ جان بچانا افضل ہےچاہے جو بھی طریق ہو۔تو اللہ کے حُکم کے مطابق وہ دوا کیوں نہ استعمال کی جائے جس کی پیکنگ مستند نہیں جس کے خواص سے بھی ہم ناواقف ہیں اور جو اس سے پہلے استعمال بھی نہیں کی ۔یہ نہ سوچیں کہ یہ ہمارے دُکھوں کا مداوا ہے۔ بس یہ ذہن میں رہے کہ ہم نہیں جانتے شفا کیا ہے۔ شفا صرف ایک بیماری کے ختم کرنے میں ہوتی ہے یا تمام بیماریوں سے نجات پا کر انسان ہمیشہ کے سکون میں چلا جاتا ہے۔تو نئی دوا بھی یہ سوچ کر استعمال کریں کہ  سابقہ دواؤں کے برعکس  شاید آرام دے  سکے باقی رب کی رضا ہے کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے اوراس دوا کا کیا ردِعمل ہو۔
راز کی بات یہ ہے کہ ابھی حالات اُس نہج پر نہیں پہنچے کہ مردار کھانے کی نوبت آ جائے اس لیے بہتری کی اُمید  رکھتے ہوئے  یہ آخری بازی دل سے کھیلیں کہ ہارے بھی تو بازی مات نہیں۔
 آخری بات !
نئی دوا جُگنو کی چمک کی مانند ہوتی ہے جو منزل کا پتہ تو نہیں دیتی پر ایک پل کو راستہ ضرور روشن کر دیتی ہے۔
 ۔۔۔۔
 نوٹ !
یہ بلاگ میں نے مئی  2013 کے الیکشن  کے حوالے سے لکھا  جب میں ایک نئے رہنما کو موقع دینے کے حق میں تھی۔۔۔۔ہرجذباتی پاکستانی کی طرح پُرامید ۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ  اس الیکشن سے پہلے بحیثیت قوم ہمارا مالی معاشرتی اور ،معاشی لحاظ سے تو استحصال کیا جاتا رہا۔۔۔ لیکن اس کے بعد جس طرح جذباتی  طور پر ہم عام عوام کو اپنے ذاتی مقاصد کے  لیےاستعمال کیا گیا۔۔۔۔۔وہ انتہائی لائق نفرین اور حیرت انگیز بھی  ہے۔۔۔۔ اس طرح لٹنے والا  سب گنوا کر بھی یوں شاداں ہے جیسے اس پر احسان ِ عظیم ہوا ہے۔ پہلے والے لٹیرے تمام کے تمام  سیاست دان تو چلو ہماری نئی نسل کی عقل کا سودا تو نہیں کر کے گئے تھے لیکن اب ان خودساختہ سیاست دانوں نے ہماری نوجوان نسل ۔۔۔ ہمارے مستقبل کے معماروں۔۔ہمارے  پڑھے لکھے طبقے کی  بھی مت مار دی ہے۔ ایسے سبز باغ دکھائے اور ایسی جنتوں کی بشارتیں دیں کہ کیا مرد کیا عورت سب دُنیا تو کیا اپنا ایمان بھی گروی رکھنے پر خوشی خوشی آمادہ دکھائی دینے لگے۔
جہالت کے اس اندھیرے میں اللہ سے اس کے کرم کی دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ اللہ ہم سب کو کھرے کھوٹے کی تمیز  اور اپنے پرائے کی پہچان عطا فرمائے ۔ آمین۔
 فروری 9 ۔۔2015

2 تبصرے:

  1. کیا کی جئے، ہم بمع ساری قوم چلے ہوئے کارتوس، تھکے ہوئے گھوڑوں اور آذمائے ہوئے سیاستدانوں کے عادی ہیں، ۔ اللہ کرے، حالات بدل ہی جائیں، کچھ کچھ تو بیداری آ رہی۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. میرا تعلق تو پاکستان سے نہیں لیکن جب کبھی پاکستان کے حالات پڑھتا یا دیکھتا ہوں تو بہت ہی تکلیف ہوتی ہے کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کو اسلام کے نام پر بنایا گیا؟ آج کے حالات دیکھنے کے بعد مولانا ابولکلام آزاد کی وہ تقریر سو فیصد صحیح لگ رہی ہے جس میں انہوں آج کے پاکستان کا نقشہ کھیچا ہے۔ میں آپ کا پڑوسی ہونے کے ناطے اتنا آپ سب سے ضرور کہوں گا کہ خدا را صوبے زبانوں اور مسلک میں نہ بٹتے ہوئے اسلام کی سر بلندی کیلئے پاکستان میں جمہوریت کے بجائے اسلامی قوانین نافذ کرنے کی سعی کریں۔سکون اور فلاح و بہبود کیلئے بس یہی ایک راستہ ہے۔
    اللہ سے دعا ہے کہ اللہ پاکستان کے ساتھ ساتھ تمام دنیا کے مسلمانوں کی حفاظت فرمائے اور پوری دنیا کو امن کا گہوارا بنائے۔ آمین ثم آمین

    جواب دیںحذف کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...