جمعہ, اپریل 12, 2013

" تھکن کہانی "

 وہ ایک سانس لیتی لاش تھی۔۔۔بظاہر ایک سرسبزوشاداب اورپھلدارپودا!!! جس کی رگوں میں سرسراتی نادیدہ دیمک۔۔۔ قطرہ قطرہ زندگی کا رس نچوڑتی جا رہی تھی ۔ برسوں پہلے جیسے ہی زندگی کے رنگ اُس کے وجود میں جھلکنے لگے۔۔۔ پیشہ ور شکاریوں اورگدھوں جھپٹنا شروع کردیا۔ اپنا آپ بچاتی۔۔۔ جان کربھی ان جان بنتی وہ اپنی راہ چلتی رہی پر اُس کے اندر کی عورت مرتی گئی۔دیکھنے والے اُسے جس رنگ میں دیکھتے وہ اُسی میں نظر آتی۔۔۔کبھی موم کبھی پتھر،کبھی گل کبھی خار،کبھی خواب کبھی حقیقت۔ اپنا آپ بچانے کی جُستجومیں وہ لبادے اوڑھتی گئی اوربکھر بکھرکرسنورتی رہی۔ بےخبرتھی کہ بےنیازی سب سے بڑی خوشبو ہے جو پاس آنے بھی نہیں دیتی اوردُورجانے بھی نہیں دیتی۔ خوشبو بھی کبھی قید ہو سکی ہے!!! وہ یہ نہیں جانتی تھی۔اسی لیے اپنے حصار کی کشش سے خوفزدہ ہی رہتی ۔ ساری دُنیا سے چُھپ کراپنا وجود اُس کی جائے پناہ تھا۔۔۔ اپنےآپ سے باتیں کرتی،دُکھ سُکھ پرولتی اورسمجھوتے کی چادر تان کرسو جاتی ۔
 اُس نے ہر رشتے کو برتا۔۔۔ہرتعلق میں جھانکا۔۔۔ سب جگہ جسم ہی نظر آیا۔یہ جسم ہی تھاجس نےاُسے دُنیا کی رنگینی اور اُس کی سفاکی سے روشناس کرایا۔۔۔کبھی جسم نے اُسے دیوی بنایا تو کبھی سنگِ راہ ۔ یہ جسم ہی تھا جس نے اُسے دیارِحرم کی زیارت کی سعادت بخشی تو کبھی آنکھوں میں جلتی سلائیاں پھیر کر بینا نابینا کا فرق مٹا دیا۔
 جسم زندگی کے ہر موڑ پر سائے کی طرح تعاقب میں تھا۔۔۔ اوروہ روح کو خدا مان کر اُس کی تلاش میں دربدر تھی ۔ اسی کشمکش میں وہ اپنے جسم سے ناراض رہتی۔ اُسے وہ ایک کریہہ صورت بدبوداربھکاری کی مانند دکھائی دیتا۔۔۔ جو دُنیا کے بازارمیں اُس کا دامن تھامے اکنی دونی کا سوال کرتا اور وہ شرمندگی اورخوف کے مارے قدم نہ بڑھا پاتی۔زندگی اسی رفتار سے چلتی رہی۔۔۔ کوئی حل نہ پاکر اُس نے خیرات دینا شروع کر دی۔ پھراُسے پتہ چلا کہ وہ جواپنے آپ کولٹاپُٹا اورتہی داماں جان رہی تھی ابھی تو وقت کی ردا میں اُس کے لیے بہت سے جواہرات پوشیدہ ہیں۔
 وہ سخی تو ہمیشہ سے تھی اس جانکاری کے بعد اُس نے دونوں ہاتھوں سے لُٹانا شروع کر دیا۔ پھر معجزے ہونے لگے اُس مری ہوئی عورت میں زندگی کی رمق دھیرے دھیرے انگڑائی لینے لگی۔ سوئے ہوئے رنگ سورج کی روشنی میں جگمگا اُٹھے۔ اُس نے اپنے جسم سے دوستی کر لی۔جان گئی کہ یہ جسم ہی ہے جو اُس کی روح کا بوجھ سہار سکتا ہے۔روح جسم کے بغیر فقط سفرہے پرواز ہے جس کی اپنی کوئی شناخت نہیں۔جسم کے پاس بہت سی ان کہی،ان چھوئی کہانیاں اُس کے لمس کی مُنتظر تھیں۔اِن کہانیوں کی خوشبو نے اُس کی روح میں ایک نئی تازگی بھر دی۔وہ کہانی کار بن گئی۔۔۔لفظ باتیں کرتے اور وہ ان لفظوں کو حرفوں کی مالا میں پرو کردُنیا کے بتی والے چوراہے پرکھڑی ہو جاتی۔۔۔قدر دان مل جاتا تو خیر ورنہ ان پھولوں کی خوشبواُس کا دل آنگن تو مہکا ہی دیتی۔وہ مانتی تھی موت ایک بھکاری کی طرح اس کے تعاقب میں ہےاور کسی بھی وقت ساری خیرات جھپٹ سکتی ہے۔۔۔پر دینے کی لذت اتنی وسیع اور نشہ آور تھی کہ سمیٹنے یا بچانے کاخیال ہی نہ آتا تھا۔ وہ صرف ایک بات جان گئی تھی کہ یہ دُنیا بانٹنے کا کاروبار ہے کہیں ایک اور دُنیا ہماری منتظر ہے جو پانے کی جاہ ہے۔

4 تبصرے:

  1. بہت ثقیل مضمون ہے اور میرا ہاضمہ اب کمزور ہو چکا ہے

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات

    1. جناب چکھنے کو کس نے کہا ہے
      خوشبو محسوس ہو جائے یہی بڑی بات ہےـ
      طبیعت پر بار بننے کی معذرت

      حذف کریں
  2. خود کے بارے میں ایمانداری سے لکھنا بہت مشکل کام ہے۔۔۔ اور اس سے بھی مشکل کام یہ ہے کہ ایسے الفاظ کا چناو کیا جائے جو دنیا کے سامنے آپ کا بھرم بھی رکھ لیں اور آپ ہر بات کھل کر کہہ بھی دیں۔۔۔

    اللہ تعالیٰ نے آپ کو الفاظ کا خزانہ بخشا ہے۔۔۔ اور آپ اس خزانے کا بہترین استعمال کر رہی ہیں۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...