صفحہِ اول

سوموار, اپریل 29, 2013

" محبوب اور ہمسفر "

" محبوب اور ہمسفر "
محبوب احساس ہے اور ہمسفر ہر احساس سے ماورا کر دیتا ہے۔ ہمسفر سر کی ردا اور بدن کی قبا ہے تو محبوب  آنکھ کا کاجل اور روپ کا کُندن ہے۔ ہمسفر کے سنگ وقت ایک خواب کی مانند گُزر جاتا ہےاورخواب تو خواب ہوتے ہیں اچھے بھی اور بُرے بھی اُن کی اپنی توضیح وتشریح ہوتی ہے بظاہر بُرا خواب بھی ایک اچھی تعبیر رکھتا ہے اور کبھی اچھا خواب کسی بھیانک تعبیر کی صورت سامنے آ جاتا ہے۔ تعبیریں کبھی لمحوں کبھی دنوں تو کبھی سالوں میں آشکار ہوتی ہیں ۔ محبوب ایک سچا خواب ہے جو لمس سے پرّے اور سوچ کے قریب ہوتا ہے اور ہمسفر ایک حقیقت جو پوروں کے لمس سے یقین کی منزل طے کرتا ہے اور خواب میں بھی اس حقیقت پر ایمان رکھتا ہے۔
محبوب کی قربت وقت کو لگام ڈال دیتی ہے وقت ایک مؤدب غلام کی طرح دروازے پربیٹھ جاتا ہے۔ یکجائی کا احساس ماہ وسال کا تغیر،زمان ومکاں کی پابندیاں،رُتبے منصب کا فرق سب بُھلا دیتا ہے۔
محبوب ہمیشہ دُور ہوتا ہے ہماری پہنچ سے دور اُس کی انفرادیت ہی اُس کی تلاش میں ہے۔ اس دُنیا میں وہ کبھی نہیں ملتا اس کی جھلک جابجا ملتی ہے اس کے رنگوں کو پہچان لو اس کے قریب آ جاؤ گے۔ محبوب کا ساتھ وہ خواب لمحہ ہوتا ہے جو حقیقت کی دُنیا میں ہرموڑ پرہمیں ذات کا اعتماد بخشتا ہے جبکہ ہمسفر ہمارا اپنا پن بھی لے کر اپنی ذات کے حصار میں قید کر لیتا ہے پریہ قید ِبامُشقت دنیا کے بےرحم بندی خانے سے نجات دلا دیتی ہے۔
ہمسفر چھتنار درخت ہے جو دھوپ کی تپش سے دور رکھتا ہےاورمحبوب اُس درخت سےجھلکنے والا آسمان ہے جوپہنچ سے دُورتو ہے پر اپنے ہونے کی گواہی بھی ہے۔آسمان کے بدلتے رنگ ،برستی بارش ،مہربان ہوا ،حبس بھری خاموشی ،طوفانی پکار تو کبھی بے موسم ژالہ باری سب ہمارے لیے ہی تو ہیں۔
ہمسفر جسم کی تشنگی مٹاکر اُس کو بارآور کرتا ہے تو محبوب خیال کا ہمسفر بن کر رفعت عطا کرتا ہے۔ ہمسفر کا لمس ہمارے وجود کا یقین بن کر گھر آنگن مہکاتا ہے تو محبوب کا احساس دل کی نگری میں ان چھوئی خواہشوں کے پھول کھلاتا دُنیا میں ہماری موجودگی کا جواز بنتا ہے- ہمسفر انسانوں کے ہجوم سے بچاتا یوں اپنی آغوش میں لیتا ہےکہ زندگی ٹھہر جاتی ہے،سفر تمام سا ہوجاتا ہے اورمحبوب ایک ہجوم میں اپنی نظر سے بھی بچاتا عرفانِ ذات کی اُن منزلوں سے روشناس کراتا ہے کہ زندگی جاوداں، راستے روشن اور وسیع ہوجاتے ہیں ۔
اپنے اپنے مقام پر اپنے ہمسفر کا خیال رکھیں کہ زندگی محض ایک سفر ہی تو ہے۔ خود کو پہچان جائیں تو پھر ہی  کسی کی پہچان  اپنے اندر اترتی ہے۔محبوب اور ہم سفر  احساس کے  سکے کے دو رُخ  ہیں اور زندگی کے بازار میں  کھنکتے چمک دار سکوں  سے جیبیں کتنی ہی بھری ہوں لیکن  محبت  کی ادائیگی صرف کھرے سکوں سے ہی ممکن ہے۔
آخری بات !
" ہمسفر جسم کا محبوب ہے اور محبوب روح کا ہمسفر "

3 تبصرے :

  1. آپ کی باتوں نے وجدانی کیفیت کو ایک لمحہ کے لئے میرے اندر پیدا کردی۔۔بہت عمدہ تحریر

    جواب دیںحذف کریں
  2. بہت خوب ہے
    آپ کی تحریریں واصف علی واصف کی تحریروں کی طرح فلسفیانہ انداز لئے ہوئے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  3. Farooq Hayat
    Oct 15, 2013
    waah, you made the difference very seamless yet clearly definable

    جواب دیںحذف کریں