صفحہِ اول

منگل, اپریل 09, 2013

" گورکھ دھندا "

 مُحاورات اور ضرب المثال ہماری زندگی کے ہر دورمیں ہونے والے تجربات کی بھرپورعکاسی کرتے ہیں۔ جب یہ ہمارے نصاب میں شامل ہوتے ہیں تو الفاظ کا اُلٹ پھیراوراُن کے ناقابل ِفہم معنی ہمیں اُلجھا دیتے ہیں۔۔۔اُن کو یاد کرنا اور صحیح جگہ استعمال کرنا دردِسر بن جاتا ہے۔یہ ماضی کی وہ تاریخ ہے جو ہمیں اُس وقت زمانۂ قدیم کی داستان محسوس ہوتی ہے جس کا ہماری روزمّرہ زندگی سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا۔صرف اور صرف پرچوں میں اچھے نمبر لینے کے لیے ان کے رٹے لگائے جاتے ہیں۔بمشکل تمام ان کے مطالب ذہن نشیں  ہوتے ہیں،درست جگہ پر استعمال کرلیا تو حساب کے سوالوں کی طرح پورے نمبر ملتے ہیں،اگر غلط مطلب نکالا یا وہی سمجھا جو لکھا ہوا ہے تو سنجیدہ بات بھی ایک لطیفہ بن جاتی ہے۔
 ان محاورات اور ضرب المثال کی اصل عملی زندگی میں یوں سامنے آتی ہے کہ یہ نصاب کا وہ سبق نہیں کہ جو پڑھا،رٹا لگایا،

امتحان دیا اور بھول گئے۔ زندگی کے تلخ حقائق کو سمجھانے میں یہی محاورات جوکبھی ذہن پرایک بوجھ کی طرح مُسلّط تھے ہمارے رفیق ِکار بن جاتے ہیں۔ ہر نیا سمجھوتہ ،ایک نیا جھٹکا ہمیں جب ڈگمگا دیتا ہے تو یہی ایک سچے دوست ،بےغرض رفیق کی طرح سہارا دیتے ہیں۔بس یہی خیال ثابت قدم رکھتا ہے کہ یہ تو ازل سے چلی وہی گھسی پٹی کہانی ہے جس کے کردار بدلتے جا رہے ہیں لیکن مکالمے اور انداز وہی پرانے ہیں-اب ان پر کیسا گھمنڈ ،کیسی بےبسی اور کیا جی کو روگ لگانا ۔

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں