منگل, مارچ 31, 2015

"یاک سرائے"

  "یاک سرائے۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ"
سفر ۔1987۔۔1995
اشاعت ۔1997
انتساب ۔احمد داؤد کے نام
اقتباسات۔۔۔
لفظ ارادے یا مشقت کے پابند نہیں۔۔وہ من موجی چیزیں ہیں آئیں تو انکی حاضری لگاتے لگاتے انگلیاں دُکھنے لگیں نہ آئیں تو کورا کاغذ ترس ترس جاۓ ۔
۔۔۔۔
ایک ادیب ہونا ، ایک اداکار ہونا زندگی کے حساس لمحوں میں اکثر انتہائی مہلک ثابت ہوتا ہے ۔۔۔ آپ کو قابل اعتبار نہیں سمجھا جاتا کیونکہ لفظ اور اظہار آپ کا پیشہ ہیں ۔۔۔ ۔۔۔۔ تو ایک ادیب اور ایک اداکار زندگی کے کسی ایک لمحے میں یہ کیسے ثابت کرے کہ وہ مخلص ہے ۔ اس کے لفظ سچے ہیں ۔ اس کی آنکھوں میں جو نمی ہے اس میں اس کی اداکارانہ صلاحیتوں کا ہرگز عمل دخل نہیں ۔
۔۔۔۔
مکمل تنہائی، شہر میں نہیں، صرف ویرانوں میں- میری محبوب ہے–چپ بیٹھنے سے، قدرت کے طلسم کدے میں چپ بیٹھنے سے، ایک ابدی تنہائی میں ایک ذرے کی حیثیت سے، اپنے دھیان میں گم بیٹھنے سے ہی انسان مکمل ہوتا ہے- اس دھیان میں ہی بہت سے بھید کھولتے ہیں- بہت سے در وا ہوتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
شہری آسائشوں اور عمر کے زوال نے میرے بدن کی ڈالیوں پر گھونسلے بنا  رکھے تھے اور ان میں تھکاوٹ اور پژمردگی کے پرندے بولتے تھے ۔میں ان کی ہوس اور کشش کے ہاتھوں بےبس تھا۔ 
۔۔۔۔
جونہی خیمے ایستادہ ہوئے سب لوگ پانی سے باہر تڑپتی مچھلیوں کی طرحغڑاپ غڑاپ اپنی آسائش کے پانیوں میں اتر گئے۔
۔۔۔
شام کی سیاہ بلی کی آہستہ خرامی کے پہلو بہ پہلو خنکی بھی ایک بے آواز چور کی طرح مترن داس کی گھاس پر اترنے لگی۔
۔۔۔۔
 حسن کی ایک جھلک اُس پوری کتاب پر بھاری ہوتی ہے جو اُس حسن کو بیان کرنے کے لیے لکھی جاتی ہے۔
حسن کا اور آزردگی کا کیا رشتہ ہے؟
اس میں مسرت کم اور پچھتاوا زیادہ کیوں ہے۔
 اگر حسن— خوبصورتی– اس قسم کا باغ بہاراں سدا نظروں کے سامنے رہے تو کیا پھر بھی آزردگی رہےگی یا اس کی جگہ اکتاہٹ اور یکسانیت لے لے گی— شاید بچھڑجانے کا پھر ملاقات ہو نہ ہو کا خدشہ ہی آزردگی کو جنم دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔
کیا واقعی یہ سفر کا اختتام ہے؟
کونسا ایسا سفر ہے جو آج تک نکتہ عروج پر پہنچ کر ہمیشہ کے لئے ختم ہوگیا ہو۔
کیا کوئی منزل ہوتی ہے؟
سفر بھی تو آواگان کا ایک چکر ہے اور اس چکر میں آئے ہوئے بولائے ہوئے پھرتے ہیں-صرف اس لئے کہ منزل کوئی نہیں— منزل کے سراب، دھوکے اور دکھاوے ہیں- اگر کچھ ہے تو بس وحشت ہے۔
۔۔۔
 منظر دو قسم کے ہوتے ہیں- ایک وہ جن کے اندر جاتے ہی آپ فوراً اپنے ساتھیوں سے رجوع کرتے ہیں، اُن کے ساتھ اُس منظر کی سحرآفرینی بانٹتے ہیں- اُنہیں شریک کر لیتے ہیں اور خوب غُل مچاتے ہیں کہ کیا شاندار جگہ ہے- اور دوسری قسم سکوت اور خاموشی والی ہوتی ہے- ایسے منظر میں پہنچ کر انسان کمینہ اور خودغرض ہو جاتا ہے اور وہ ہرگز اُس منظر میں کسی کو بھی شریک نہیں کرنا چاہتا-- بلکہ ساتھیوں کو ناپسندیدگی سے دیکھتا ہے کہ یہ یہاں کیوں آگئے- انہیں خواہ مخواہ ساتھ لے آیا۔
۔۔۔۔۔
 ۔"رسول، میرے اندر منظروں کی ہوس ختم نہیں ہوتی. .چشمے خشک نہیں ہوتے،چراگاہوں کی ہریاول برسوں قائم رہتى ہے۔برف زاروں کی یخ بستگی مرے برن کو سرد نہیں کرسکی. . .ہر صبح میری انگلیوں میں سے ان پانیوں کی مہک آتى ہے،جنہیں مدتوں پہلے میں نے چهوا تها. . .یہ ہوس کب ختم ہوگی؟"۔
 "کبھی نہیں. . ."اس نے میری ہتهیلی کی پشت کو سہلایا."یہی ہوس تمہیں لکهنے پر مجبور کرتی ہے تمہیں ایسی قوت دیتی ہے جو دوسروں کے پاس نہیں. . .اور میں تمہیں رشک کی نگاه سے دیکهتا ہوں،تم ایک خوش نصیب شخص ہو. . . . ."۔
۔۔۔
مجھے اپنا کراؤن پرنس سلجوق یاد آتا ہے جو میرے پکارنےپر"اچھا جی"کہہ کرمیری طرف اب بھی اُنہی نظروں سے دیکھتا ہے جن نظروں سے وہ اپنے پنگھوڑے میں ہمکتا ہوا میری طرف دیکھتا تھا۔مجھے میرا شہزادہ سمیر یاد آتا ہے جس کی خوش شکلی اُس کی سالگرہ پر ایسے کیک ہمارے گھر لاتی ہے جن پر کوئی نام نہیں ہوتا.. اور مجھے اپنی شہزادی عینی یاد آتی ہے جس کے خیال میں یہ دنیا صرف اُسی کے لیے تخلیق کی گئی ہے...۔
٭ورگوتھ گلیشئیر کراس کرنے کے بعد۔۔۔
دائیں سے بائیں۔۔۔مستنصرحسین تارڑ،شاہدعلی ایڈوکیٹ،میاں فرزندعلی ایڈوکیٹ (مرحوم)۔
سرائے ٹِیم...
 بمقام:- کرومبر جھیل کے قریب۔۔۔ سفید ریش مستنصرحسین تارڑ درمیان  میں۔۔۔
 

"جیم کا فساد"

عورت مرد کی 'جیب' دیکھتی ہے اور مرد عورت کا'جسم'۔اِسی'جستجو' میں دونوں ایک دوسرے کی اصل 'جھلک' سے محروم رہتے ہیں۔عورت کے نزدیک 'جیب' کی آسودگی دوسرے تمام جذبوں،تمام احساسات،تمام رویوں کی ہمواریوں اور ناہمواریوں کی وجہ بنتی ہے اور مرد کے مطابق عورت کے جسم کی ناآسودگی اِس کے لیے ہر میدان کو میدانِ جنگ بنا دیتی ہے خواہ وہ میدان اُس کا اپنا ہی جسم کیوں نہ ہو۔
۔"پہلی نظر" کے اس جائزے میں فرق صرف دیکھنے والی آنکھ کا ہے۔کوئی آنکھ جیب میں مال دیکھتی ہے یا پھر اس جیب کے اندر حسب نسب کی تہہ درتہہ پرتیں۔کبھی نگاہ اس جیب میں فہم وشعور کے موتی تلاش کرتی ہے تو کوئی تعلیم وتربیت کے نگینے ڈھونڈتی ہے۔ مرد کی آنکھ جب تماش بین کی آنکھ بن جائے تو ظاہری چمک دمک،بناؤسنگھار اور نازوادا کے رقصِ مجازی میں کھو جاتی ہے اور پھر ہمیشہ کے لیے اس جھنکار سے آگے کبھی نہیں دیکھ سکتی۔ یوں اس جادونگری میں وہ ساری عورت کہانی بُن لیتا ہے۔ایسی کہانی۔۔۔جو اُس کی عقل کے بند کمرے میں جنم لیتی ہے اور اُس کے احساس کی گھٹن کا شکار ہو کر فیصلہ سنا دیتی ہے۔
 فطرت اور جبلت کے اپنے اپنے دائروں میں سفر کرتے، ایک دوسرے کی کشش کے مدار  میں  داخل ہوتے مرد وعورت کے تعلق میں جنسی رویہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔جس عورت کو اپنی نسوانیت کا احساس نہ ہو وہ "حیوانیت " اور "مردانگی" میں تمیز کھو دیتی ہے دوسری طرف مرد کی محبت میں جب تک تحفظ کا احساس نہ ہو وہ مکمل نہیں ہوتی۔نامکمل محبت ادھورے وجود کی طرح ہوتی ہے جو نہ صرف اپنے لیے بلکہ دوسروں کے لیے بھی روگ بن جاتا ہے۔ جو محبت روگ بن جائے وہ محبت نہیں محبت کا دھوکا ہے اوردھوکا دکھ ہی دیتا ہے سُکھ نہیں۔یہ زندگی کی کافی کا وہ ذائقہ ہے جو بغیر 'شِیر' اور' شیرینی' کے ہرحال میں چکھنا ہے۔جب تک مرد اور عورت اپنی ظاہری نگاہ سے بلند ہو کر اندر کی آواز پر دھیان نہیں دیں گے وہ کبھی ایک دوسرے کے حقیقی رنگ کی جھلک محسوس نہیں کر سکیں گے۔
آخری بات
 رشتوں اور تعلقات کی  آنکھ مچولی کھیلتے مرد اور عورت جب ایک جائز تعلق کے حصار میں آتے ہیں تو ہر احساس اور خواہش کو یکسر بھلا کر ہی ایک نئے سفر کا آغاز   کرنا پڑتا ہے۔جس کا علیحدٰہ نصاب اور مختلف زاویہ نگاہ بھی ہوتا ہے۔ کانچ کی سی نازکی والے اس بندھن کو استوار رکھنے کے لیے چٹان کی سی ہمت درکار ہے جس کے سرورق کا پہلا سبق بھی"جیم"ہے" جی ہاں"۔۔۔یس سر ہی وہ راز ہے جو مرد اور عورت کی تخصیص سے قطع نظر رویوں کے فطری تضادات کوباہم ٹکرانے سے روکتا ہے۔ اگر مرد یا عورت میں سے کوئی ایک "جی ہاں" کی دہلیز کو نہ چھوئے تو "جیم کا یہ فساد" ایک نہ ختم ہونے والی میراتھن ریس کی طرح چلتا جاتا ہے۔ ایک دوسرے کے جائز یا ناجائز طرزِعمل سے سمجھوتہ کرتے ہوئے کوئی ایک "جھکنے" کی ہار مان لے تو زندگی ٹھہری ہوئی "جھیل" کی مانند گزر ہی جاتی ہے۔ ورنہ ساری زندگی "جوتیوں میں دال بٹتی " ہے جس میں نہ تو ذائقہ ہوتا ہے اور نہ ہی پیٹ بھرتا ہے۔ایک حرفِ انکارانسان کو پاتال میں گِرا دیتا ہےپھر یہ کیسی خود فریبی،کیسا نشہ،کیسا خمار۔آنکھ کُھلی اورزبان بند رہےتب گاڑی چلتی ہےاور احساس سویا ہی رہے تو بہتر ہے"خواب انسان کو بیداری کی اذیّت سے بچاتے ہیں"۔

سوموار, مارچ 30, 2015

"ماسکو کی سفید راتیں"

ماسکو کی سفید راتیں ۔۔۔۔ مستنصرحسین تارڑ
سفر۔۔۔۔ مئی۔1957 ۔۔۔ مئی 2007
اشاعت ۔۔۔۔۔2009
" لنڈن سے ماسکو تک "
زندگی کی پہلی ادبی تحریر۔۔۔۔
سفر۔۔ مئی1957
ماسکو آمد ۔۔۔نوجوانوں کا بین الاقوامی میلہ(یوتھ فیسٹیول)۔
برطانوی وفد کے ایک پاکستانی ممبر کی حیثیت سے
سال ِ اشاعت۔۔1958
چار اقساط میں شائع کیا گیا ۔۔۔۔ ہفتہ وار "قندیل"
صفحہ 8۔۔۔
میں تب آیا تھا1957ءمیں اور پھراب جاکر آیا تھا 2007ءمیں,محض پچاس برس بعد ...
1957برطانیہ میں پہلی عیدالفطر۔۔

















ریڈ اسکوائر۔۔۔۔ماسکو۔2007
ریڈ اسکوائر۔۔۔۔ماسکو۔2007
صفحہ 12۔۔۔
ویسے مجھے ان تغّیرات زمانہ سے کیا لینا دینا۔۔۔ کہ ثبات بھی تو صرف تغیّر کو ہے۔۔۔مجھےتب جب میں نے اپنی زندگی کی پہلی ادبی تحریر لکھی۔۔۔۔اور اسے آج سے نصف صدی پیشتر "لنڈن سے ماسکوتک" کا عنوان دیا تو ایک ترقی پسند دوست نے مشورہ دیا کہ تم اس کا نام "میں نے لینن کا روس دیکھا" قسم کا رکھو تو میں نے کہا تھا۔۔اور دوست جس کا نام غالباً آزاد تھا کہ آزاد ملک تو ہمیشہ اپنی ثقافت ،روایات اور زبان سے پہچانے جاتے ہیں۔اُنہیں کسی ایک شخصیت یا عقیدے کے حوالے سے ہرگز نہیں دیکھا جا سکتا۔آج وہ لینن کا روس ہے کل جانے کس کا ہوگا۔۔آزاد نے مجھے یقیناً فاترالعقل جانا ہوگا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ روس کبھی لینن کا نہ رہے۔۔۔
ایک عام انسان کا تو ذکر ہی کیا۔۔ملک اور سرزمینیں تو پیغمبروں کے حوالے سے بھی دائمی پہچان نہ بن سکے۔۔۔
صفحہ 30۔۔
بہت بعد میں میں نے اس سفر کے تجربات کو بنیاد بنا کر اپنا ناولٹ"فاختہ" تحریر کیا۔جس کے کرداروں میں وہ تین نقاب پوش لڑکیاں بھی تھیں جو جشن کی رات میں مجھے سُرخ چوک میں ملی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔" اٹھارہ سالہ نوجوان کی اپنے دوست ( جو یقیناً عمر میں اس سے بڑا تھا بقول تارڑ۔۔۔۔۔" ایک کٹر کمیونسٹ ۔۔۔ یہ سب انقلاب کے ڈسے ہوئے لوگ تھے۔۔۔اور میں ان سب میں سے کم عمر تھا۔ صفحہ 21 ) سے گفتگو اور اپنی سوچ پر یقین کی یہ کیفیت پڑھنے والے کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے ۔۔۔۔۔
کون کہتا ہے کہ وقت کے ساتھ اور عمر کے بڑھنے سے ہی انسان کی سوچ پختہ یعنی میچور ہوتی ہے؟؟؟ ایسا کبھی بھی نہیں۔ ایسا ہرگز ہرگز نہیں ۔ صرف اپنے فرسودہ اور ہٹ دھرم اعتقادات پر رہنے والے ہمیشہ سوچ کی اولین چمک کی روشنی سے محروم رہتے ہیں۔ نورین تبسم
صفحہ 242۔۔۔
میری زندگی میں ایک خواب ہے،اِک چراغ ہے اور تم ہو۔
ہر شخص کی حیات میں کم از کم ایک خواب ضرور ہوتا ہے،ایک چراغ بھی ہوتا ہے۔لیکن یہ طے نہیں ہے کہ ایک "تم" بھی ہو۔
صفحہ 253۔۔۔
ستائیسواں باب ۔۔۔"آئرینا اور صدائے روس" کے لیے ایک انٹرویو
میزبان:آئرینا مسکیم انکو 


 صفحہ 255۔۔۔۔
آئرینا کی اردو بہت نفیس اور بےجھجھک تھی اور ان کے کچھ سوال ایسے تھے جن کی میں توقع نہ کر سکتا تھا۔"صدائے روس" کے لیے یہ انٹرویو صرف اس لیے یادگار تھا کہ میں اس دوران آئرینا کی شفاف اُردو سے بےحد لُطف اندوز ہوا۔۔
۔ "آپ دوبارہ کب آئیں گے۔۔۔؟"۔
انہوں نے رُخصت ہوتے ہوئے مجھے چاکلیٹ کا ایک ڈبہ تحفے کے طور پر عنایت کرتے ہوئے پوچھا۔۔
۔" آئرینا۔۔ میں آج سے پچاس برس پیشتر آپ کے شہر آیا تھا اور اس کے بعد اب آیا ہوں تو اسی شیڈول کے مطابق آج سے پچاس برس بعد جب میں ایک سواٹھارہ برس کا ہوچکا ہوں گا'تو پھر آؤں گا ۔۔انشاءاللہ اور مجھے اُمید ہے کہ آپ تب بھی میرا انٹرویو ریکارڈ کرنے آئیں گی اور اتنی ہی خوشگوار اور خوبصورت ہوں گی "۔۔
صفحہ 266۔۔۔
میراایک ذاتی مشاہدہ ہے کہ کچھ لوگ ۔۔۔ادب کے ساتھ۔۔نثر یا شاعری کے ساتھ۔۔ کسی ذاتی منفعت کے باعث نہیں بلکہ محض دیوانگی کے باعث۔۔ شدید طور پر جُڑے ہوتے ہیں۔کسی ایک لکھنے والے کے ساتھ ایسے جُڑ جاتے ہیں کہ وہ پوری حیات اُس کی تحریروں کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔۔اپنی زندگی اُن کے ساتھ بسرکر دیتے ہیں اور یوں وہ کچھ کچھ اُس تخلیق کار کی طرح ہو جاتے ہیں۔۔اسی سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔
ٹالسٹائی کے لیے اپنےآپ کو وقف کرنے والے کسی حد تک اُس کی مانند کی زندگی اختیارکرتے ویسے ہی بولنے اور چلنے لگتے ہیں۔
شکسپئیر کے مداح اُس کا لب ولہجہ اور اظہار اختیار کر لیتے ہیں۔بہت نچلی سطح پر جو لوگ ارنسٹ ہیمنگوے سے متاثر ہوتے ہیں وہ اُس کے مشغلے،آوارہ گردی،شکار اور شراب کو اختیار کرلیتے ہیں ۔۔۔۔
تو اِسی طور لُڈمیلا نے بھی فیض صاحب کو اختیار کر لیا تھا۔۔۔اُن کے شعروں میں سانس لیتی اُن میں ڈھل کر کچھ فیض ہو گئی تھی۔۔
اور ۔۔۔لِیو ٹالسٹائی۔۔۔۔
صفحہ 275 تا صفحۂ آخر336
صفحہ 275۔۔۔
مرنے والوں کو کچھ فرق نہیں پڑتا کہ اُن کی قبر پر ایک تاج محل تعمیر ہوتا ہے۔۔۔یا وہ بارشوں میں دھنس کر ایک گڑھا بن جاتی ہےاور اُس میں کیڑے مکوڑے رینگتے ہیں اور یا اُس سے ٹیک لگا کر سائیں لوگ چرس کے سُوٹے لگاتے ہیں۔
بس یہ ہے کہ ییچھے رہ جانے والوں کو فرق پڑتا ہے۔
صفحہ 276۔۔۔۔
صفحہ 281۔۔۔
جس روز آپ نے کوئی عجوبۂ روزگار آثار دیکھنے ہوں ،یا کسی عشقِ خاص سے ملاقات کرنی ہو۔۔ایک ایسے چہرے کو دیکھنا ہو جسے دیکھ کر بھی یقین نہیں آتا کہ آپ اُسے دیکھ رہے ہیں تو اس روز صبح سویرے آپ کی کیفیت ہی جدا ہوتی ہے،خون کی گردش میں ایک سمفنی سی بجنے لگتی ہے اور آپ کے سامنے ایک شگوفہ آ گرتا ہے اور اُس خوشی کا تعلق چار مرغابیوں سے ہرگز نہیں ہوتا۔
صفحہ 302۔۔۔
میں نے کسی انٹرویوکے دوران کہا تھا کہ زندگی میں سب سے زیادہ وفا میرے ساتھ میری سٹڈی ٹیبل اور میرے قلم نے کی۔۔۔میرے ہر ہیجان،ہر دھندلے خیال کو۔۔۔مسرت اور سوگواری کواور لمحۂ موجود کو اور بیتے ہوئے زمانوں کو۔۔۔انہوں نے زبان دی۔۔۔جو بھی لکھنا چاہا ان دونوں نے ہمیشہ مجھ سے وفا کی۔۔
۔(جناب مستنصر حسین تارڑ کی سٹڈی ٹیبل جو کم وبیش 80 سال پرانی ہے۔ یہ میز کم از کم پچھلے 45 سال سے تارڑ صاحب کے استعمال میں ہے)۔۔۔
صفحہ 332۔۔۔
جن لوگوں کو کشف ہوتا ہے وہ اُس لمحے کو اپنی حیات کے تمام لمحوں پر فوقیت دیتے ہیں۔روس میں بسر کیے جانے والے پندرہ دنوں میں سے یہ ایک لمحہ بھیگتی ہوئی جنگلی ہریاول میں تنہائی کا ٹالسٹائی کی قربت میں وہ لمحہ تھا جو میرے لیے بھی ایک کشف کی مانند تمام لمحوں پر حاوی ہو گیا تھا۔
صفحہ 333۔۔۔
میں جب بھی "وار اینڈ پیس" کو کھولتا ہوں تو جامنی اور زرد پتیاں ناول کے حرفوں سے چپکی ہوتی ہیں۔۔حرفوں سے اُن کی شناسائی ہوگئی ہے کہ اُنہیں اس شخص نے تخلیق کیا تھا،جس کی قبر کی مٹی سے ہم نے جنم لیا تھا۔۔۔ میں اُنہیں دیکھ کر پھر سےاُس انہونی فہم سے باہر تنہائی میں چلا جاتا ہوں جہاں کوئی اور جہان ہے اور اُس میں جنگل خاموش ہے اور مٹی میں مٹی 
ہوتی ایک لمبی سفید ریش ہے اور میں بارش میں بھیگ رہا ہوں۔
صفحہ 336۔۔۔۔
آخری صفحہ ۔۔۔ آخری جملہ۔۔۔۔
اس پرائے نگر میں ہمارے دن پورے ہو گئے تھے۔۔
ہمیں ہمارے شجر بلاتے تھے۔۔
ماسکو کی سفید راتیں ۔۔پڑھنے کے بعد میرا احساس۔۔۔۔
"ماسکو کی سفید راتیں" اتنی اجلی اور مکمل نہ لگتیں اگر ان میں میمونہ تارڑ کا لمس اور لہجے کی کھنک نہ ملتی اور اگر فاضل مصنف کواس کتاب کے آخری صفحات میں "لیوٹالسٹائی" کی قربت نہ ہوتی توشاید لفظ کی جانب سفرِمحبت کا حق ادا نہ ہوتا۔
۔"ماسکو کی سفید راتیں" کی جان اس کے آخری صفحات۔۔۔ آخری باب۔۔۔"لیوٹالسٹائی" ہے جس میں زندگی اور موت کی خوشبوایسی رچی بسی ملتی ہے کہ پڑھنے والا زندگی اور موت کے رومانس میں کھو کر قبر کی کچی مٹی کی مہک میں بےخود سا ہو کر رہ جاتا ہے۔ از نورین تبسم )۔
مستنصر حسین تارڑ کے فیس بک آفیشل صفحے سے۔۔۔۔۔
Leo Tolstoy (September 9, 1828 – November 20, 1910)..

The scion of prominent aristocrats, 
Tolstoy was born in Yasnaya Polyana, the family estate in the Tula region of Russia. The Tolstoys were a well-known family of old Russian nobility.Tolstoy was born,about 130 miles (210 kilometers) south of Moscow, where he was to live the better part of his life and write his most important works
His teachers described him as "both unable and unwilling to learn.] Tolstoy left university in the middle of his studies.
His two most famous works, the novels War and Peace and Anna Karenina, are acknowledged as two of the greatest novels of all time and a pinnacle of realist fiction. Many consider Tolstoy to have been one of the world's greatest novelists.
In January of 1903, as he writes in his diary, Tolstoy still struggled with his identity: where he had come from and who he had become;
I am now suffering the torments of hell: I am calling to mind all the infamies of my former life—these reminiscences do not pass away and they poison my existence. Generally people regret that the individuality does not retain memory after death. What a happiness that it does not! What an anguish it would be if I remembered in this life all the evil, all that is painful to the conscience, committed by me in a previous life….What a happiness that reminiscences disappear with death and that there only remains consciousness..
The Tolstoy House was a bustling household, often with extended family members and friends visiting for dinner or staying for days at a time. The children and adults played, the piano, put on plays, sang Russia and Gypsy folk songs and read stories and poetry aloud. ..
Tolstoy died in 1910, at the age of 82. He died of pneumonia at Astapovo train station, after falling ill when he left home in the middle of winter. His death came only days after gathering the nerve to abandon his family and wealth and take up the path of a wandering ascetic.
Leo Tolstoy۔۔۔۔
٭All happy families resemble one another, each unhappy family is unhappy in its own way...
"Anna Karenina" opening line
٭Even in the valley of the shadow of death, two and two do not make six.
٭Boredom: the desire for desires.two do not make six.
٭Everyone thinks of changing the world, but no one thinks of changing himself.


The Wooden Grill was made by him.


His Signatures

بدھ, مارچ 25, 2015

"ورلڈکپ 92 اور میں "

ہر انسان کی زندگی میں کچھ لمحے کچھ دن ایسے ضرور ہوتے ہیں جن کی یاد دل سے نکل کر حقیقی زندگی میں بھی اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔کبھی یہ یادیں خوشگوار ہوتی ہیں دل اُن کے احساس سے معطر رہتا ہے۔کبھی ایسا روگ لگا جاتی ہیں جو سدا کتابِ زندگی کے سرورق کی بھرپور رنگینی کو بےرنگ کیے رکھتا ہے۔
مارچ کا مہینہ ۔۔۔خاص طور پر مارچ کا آخری عشرہ ہرپاکستانی کی یاد میں روشن چراغ کی مانند دمکتا ہے۔ تئیس مارچ 1940 کو قراردادِ پاکستان منظور ہوئی اور پچیس مارچ 1992کو پاکستان  کی کرکٹ ٹیم نےعمران خان کی قیادت میں کرکٹ  کا ورلڈ کپ جیتا۔ بظاہر دونوں واقعات میں کوئی مماثلت نہیں اورنہ ہی ان کے وقوع پذیر ہونےمیں کوئی باقاعدہ پلاننگ ہی سمجھی جاتی ہے۔۔۔۔تاریخ کی کتابوں سے پتہ چلتا ہےکہ قراردادِلاہور سے قراردادِ پاکستان کا نام ہندو اخبارنویسوں کے اندھے تعصب کا شاخسانہ ہے جو مسلمانانِ برِصغیر کے لیے تائیدِایزدی ثابت ہوا ۔اسی طرح  پےدرپے میچز ہارنےاور ڈک ورڈ لوئس میتھڈ کی بیساکھی کے سہارے سیمی فائنل تک رسائی کے بعد پھر قسمت اوریقین کے مضبوط جوڑ نے ورلڈ کپ کی ٹرافی کا حصول ممکن بنایا۔ عقل اور منطق کی موشگافیوں سے پرے مارچ کے یہ دو دن  ہر پاکستانی کا قابل فخر سرمایۂ احساس ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔  
سال 1992 میرے لیے بھی ایک  خاص سال تھا۔ دو بیٹوں کے بعد خاندان  مکمل کرنے کے لیے بس ایک بیٹی کی چاہ تھی۔ یہ خاندان مکمل کرنے کی بھی عجیب کہانی ہے۔ ہم ہروقت زندگی کواپنے حساب سے مکمل کرنے کی فکر میں رہتے ہیں۔ ہماری قابلیت فقط زندگی کی پزل کے بےترتیب ٹکڑوں کو ایک بامعنی تصویر دینے کی اہلیت سے مشروط ہوتی ہے۔ہماری خواہشیں یقین کی اُس حد کو چھونے لگتی ہیں جہاں ہم اپنی رضا کو رب کی رضا پر انجانے میں ہی سہی فوقیت دینے لگتے ہیں۔ آج کل کی ترقی یافتہ سائنس جو بھی کہے ہم اُس پر بھی حاوی ہونا چاہتے ہیں۔ عورت سے زیادہ مرد کو باپ کے روپ میں ایک بیٹی چاہ ہوتی ہے۔عورت زندگی کی خوشیوں اور طمانیت  کےچاہے کسی بھی مقام پر ہو بیٹی کی آمد اُس کے لیے ایک ان کہی انجانی سی اداسی دے جاتی ہیں جسے وہ جانتی تو ہے لیکن اپنی کم عقلی سوچ کر مانتے ہوئے ہچکچاتی ہے۔  
 یہ کہانی 25مارچ 1992 سے پہلے آنے والی رات کی ہے۔اس رات  فائنل کھیلنے والی پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی اُمید اور نااُمیدی  کے مابین ایک دوسرے سے چہرہ چھپائے اگر آنے والے دن کا سوچ کر جاگتے تھے تو ایک ماں آنے والے دن کے خدشات  بھلاتے ہوئے تقدیر اور تدبیر کو باہم ملانے کی جستجو میں تھی اور روزے دار بیسویں روزے کی سحری کا اہتمام کرتے تھے۔ اگلےروز کا سورج  ایک بیٹی کی نوید لے کرطلوع ہوا۔ دوپہر ڈھلنے سے پہلے ہی گھر لوٹ آئی۔ اور شام کو سب گھروالوں کے ساتھ قومی کرکٹ ٹیم کی  شاندار فتح کے لمحات نے اِس دن کو یادگار بنا دیا۔ ہرسال 25 مارچ کے روز اور رمضان المبارک کے 20 ویں روزے کو بیٹی کے جنم دن کے ساتھ ساتھ ورلڈ کپ کی یاد بھی تازہ  ہو جاتی ہے۔
!آخری بات
 ہماری ساری زندگی خوشیوں اور دکھوں کی پوٹلیوں کی گرہیں کھولتے گزر جاتی ہے۔ہم نہیں جانتے کہ وقت گھڑی  نےمقدر میں کیا لکھا ہے۔ایک بار پہلے بھی لکھا تھا کہ انسان کو اگر معلوم ہوجائے کہ آئندہ اُسے کیا خوشیاں ملیں گی تو وہ کبھی مرنے کو تیار نہ ہو ۔اور اگر اُسے یہ پتہ چل جائے کہ زندگی میں آگے اُسے کن غموں کا سامنا کرنے پڑے گا تو وہ مزید ایک پل بھی زندہ رہنے کی خواہش نہ کرے۔
اللہ ہم سب کو اپنی اپنی محبتوں  کی پہچان کا علم عطا فرمائے تاکہ ہم ابدی محبت کی لذت کو پانے کے قابل ہو سکیں۔
نورین تبسم
دوپہر 2 بجے
مارچ 25۔۔۔2015
۔۔۔۔۔۔
دو برس پہلے۔۔۔ مارچ 25۔2013 کا  احساس۔۔
"A Birth Day Expression"

جمعرات, مارچ 19, 2015

"کرنیں ۔(3)"


{اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ }
٭بے شک اللہ جانتا ہے ہم نہیں جانتے۔
٭انسانی عمر محدود ہے اور دنیا میں ہوش وحواس میں آکر سوچنے والی زندگی اس سے بھی کم ۔ بس ہماری ضرورتیں لامحدود ہو جاتی ہیں اور ہم بنا سوچے سمجھے اپنی زندگی کو مشکل بنائے چلے جاتے ہیں۔ ہم اللہ کے ہیں اپنے آپ کو اس کے حوالے کردیں تو یہی زندگی آسان ہو جاتی ہے۔
٭زندگی کہانی چند لفظوں میں کہہ بھی دی جائے لیکن چند لفظوں میں سمجھائی نہیں جا سکتی ۔
٭زندگی کے سبق کبھی زندگی گزار کر سمجھ آتے ہیں تو کبھی زندگی پڑھ کر۔
٭زندگی ہمیں کبھی بھی ہماری اپنی ٹرمز اور کنڈیشنز پر نہیں ملتی۔ تو وہ لمس اور لمحے جو ہمارے لیے زندگی بخش ہوتے ہیں ۔وہ کیسے ہمیں ہماری ٹرمز اور کنڈیشنز پر مل سکتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ Terms....Conditions
٭زندگی سے زندگی میں ملنا پل دو پل کو ہی سہی زندگی پر یقین قائم رکھتا ہے۔زندگی بخش احساسات زندگی میں ایک یادگار یاد کی صورت ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ورنہ زندگی تو نام ہی جسم وروح کے ملنے بچھڑنے کا ہے۔زندگی ایک یاد کہانی ہی تو ہے
۔۔۔ زندگی میں یاد نہیں آتی جب زندگی چلی جاتی ہے تو فقط یاد رہ جاتی ہے۔کبھی ہمارے پاس یادیں ہوتی ہیں تو کبھی ہم خود یاد بن جاتے ہیں۔ یاد بھی پانی طرح ہوتی ہے۔۔۔ حد سے بڑھ جائے تو چھلک پڑتی ہے۔
 ٭دنیا میں بہت سے لوگ مل کر بچھڑ جاتے ہیں لیکن بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو ملتے ہی بچھڑنے کے لیے ہیں۔بچھڑنے والوں  کا ساتھ زندگی کے سمندر میں لہروں کی مانند ہوتا ہے،اُن کی یاد اور احساس کتنا ہی قیمتی کیوں نہ ہو،وقت کی اُٹھنے والی طاقتور لہر بہت جلد اُن کی جگہ لے لیتی ہے۔
٭جن کی چاہ ہو وہ ملتے ضرور ہیں لیکن کبھی ہم سے پہلے گزر جاتے ہیں تو کبھی ہمارے ساتھ ہمارے پاس رہتے ہوئے بھی ہم اُنہیں پہچان نہیں پاتے۔۔۔کبھی زندگی کے پلیٹ فارم پر پل دوپل کو ملتے ہیں اور ہمارا اعتماد ہمارے حوالے کر کے بچھڑ جاتے ہیں۔
٭بچھڑنے کے لمحے ہمیشہ وقت گھڑی میں ٹھہر سے جاتے ہیں اور زندگی آگے بڑھ جاتی ہے۔ سب کچھ ملتا ہے زندگی سے لیکن وہ لمحہ وہ احساس نہیں ملتا۔
٭دنیاوی زندگی کے عذاب ثواب صرف سمجھ کا ہیرپھیر ہیں،اسی طرح ذہنی اور جسمانی عذاب ہوس یا عیاشی سے زیادہ فاصلہ نہیں رکھتے اگر برتنے کا ہنر نہ آتا ہو۔ مثالیں ہمارے آس پاس بکھری پڑی ہیں ۔چاہے ادب کے "کلاسک" ہوں یا ایک جائز تعلق کے ناجائز راستے۔۔۔جنہیں پہلے زمانے میں ہیرے کی منڈیوں سے تشبیہ دے کر عزت کا جامہ پہنانے کی بےکار کوشش کی جاتی تھی۔آج کل تو اتنا تردد بھی نہیں کیا جاتا۔
آگہی"۔۔۔۔"
جو جان گیا جانو جان سے گزر گیا کہ آگہی ایک نعمت ہے تو اتنی بھاری ذمہ دای بھی ہے۔جس کے بوجھ تلے انسان ساری زندگی سسکتا رہتا ہے اور اپنی چیخیں اپنے کانوں تک بھی نہیں پہنچنے دینا چاہتا کہ "آگہی کی پہلی شرط ۔۔۔پہلی منزل اور پہلی سیڑھی اور پہلا امتحان "شکرگزاری" کا احساس ہے۔
۔" شریعت" ۔۔۔۔
ایک ان دیکھی رسی کی مانند ہے جو کبھی موجود دکھتی ہے کبھی معدوم۔ اور صاحب ایمان کے اپنے محدود دائرۂ کار میں حلال رزق بھی ہے اور حرام رزق بھی۔ حلال عطا ہے تو حرام اس کے کیے کا پھل ۔ اب یہ اس کی اہلیت پر منحصر ہے کہ وہ حیوان کی طرح بنا سوچے سمجھے ہر طرف منہ مارتا رہے یا اپنی نگاہ کی وسعت پر بھروسہ کرے۔ اور اور جب وہ فنا فی الحق کے پائیدان کو چھونے لگے تو پھر جہاں چاہے آزاد پھرے کہ کبھی اپنے محور سے دور نہیں جا سکتا ۔
ڈگری"۔۔۔۔"
جب تک انسان کے ساتھ ڈگری نہ ہو چاہے۔۔۔ جعلی سہی ۔۔۔وہ محترم نہیں اور عورت کے ساتھ جب تک رشتے نہ ہوں۔۔۔۔ وہ محض بازار میں بکنے والی چیز۔ یہ انسانی فطرت ہے فطرت کو بدلا نہیں جا سکتا لیکن سمجھا جاسکتا ہے ۔فطرت کو عزت دی جا سکتی ہے اور ہم عزت دینا نہیں جانتے۔بس یہی اصل المیہ ہے ۔عزت کا لباس ہر مردوزن کا بنیادی حق ہے جو وہ دوسروں سے پہلے خود اپنے آپ کو دیتا ہے۔
"وقت ۔۔۔زندگی ۔۔۔خواہش"
کبھی وقت کم ہوتا ہے اور زندگی بہت ۔۔۔ اور جب وقت بہت ہوتا ہے تو زندگی تھوڑی رہ جاتی ہے۔
اسی طرح جب زندگی لمبی ہوتی ہےتو خواہشیں چھوٹی ہوتی ہیں۔ جب خواہشیں بڑھتی ہیں تو زندگی مختصر سے مختصر ہوتی چلی جاتی ہے۔
۔" خواہش" ۔۔۔۔
انسان اپنی خواہش سے بہت افضل ہے۔ خواہش تو اس کی شخصیت کی بس ایک ذرا سی جھلک ہے۔ جو اپنی اس جھلک سے خائف ہوجائے اس کے لیے یہ ناسور بن جاتی ہے اور جو اس سے دوستی کر لے اس کے وجود کا خاموشی سےحصہ بن کر چپ چاپ انتظار بھی کر لیتی ہے ۔
۔"تمنا"۔۔۔
اس وقت تک ناسور نہیں بنتی جب تک ہم اسے سمجھنے کی کوشش ترک نہیں کر دیتے۔سوال یہ ہے کہ تمنا کوپانا اہم ہے یا سمجھنا؟ پہلی خواہش پہلا احساس تو بلاشبہ پانے کا ہی ہوتا ہے۔ جب وہ دسترس سے باہر ہو تو ضدی بچے کی طرح ایڑھیاں نہیں رگڑنا چاہیےبلکہ اسے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو مہربان لیکن غریب ماں کی طرح اپنی آغوش میں لے کر بہلا بھی دیتی ہے۔
٭زندگی کی تلخی کو جب تک گھونٹ گھونٹ جذب کرتے رہوگے ۔۔۔ ناسور بنتی جائے گی۔اسی طرح زندگی کی خوشیوں کو جتنا سمیٹتے جاؤ گے ہوس بڑھتی رہے گی۔ رب موقع دے تو زندگی سے ملنے والے دکھ اور سکھ سب یہیں چھوڑ جانے چاہیں ۔جتنا ہلکے ہوں گی اتنی آسانی سے جان نکلے گی۔
کھوٹ"۔۔۔۔۔"
کھوٹ ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ جیسے۔۔۔۔۔
خالص سونا کسی کام کا نہیں۔ اسے ایک پتھر کے ڈلے کی طرح سنبھال کر تو رکھا جا سکتا ہے پر زیور کی صورت آراستہ نہیں کیا جاسکتا۔
انسان کا شرف ان دھاتوں سے بڑھ کر ہے وہ ان میں اپنی اصلیت کھوجتا ہے اپنا عکس تلاش کرتا ہے لیکن کوئی ایک بھی مکمل طور پر اس کی ترجمانی نہیں کر سکتا ۔
" سکے کے دو رخ"
جو حق پر ایمان رکھتے ہیں ان کے تخیل اور حقیقت میں کوئی دوئی نہیں ہوتی۔ زندگی کو نادر اور نایاب سکے کی طرح سنبھال کر رکھنے اور برتنے والے اس سکے کے دونوں رخ بھی پہچانتے ہیں۔ اور انجان محض ایک ہی رخ دیکھ کر سکے کی مالیت کا اندازہ بلکہ یقین کا تعین بھی کر لیتے ہیں۔ اور یوں "سچ جھوٹ" ، "ہاں نا" اور "ظاہر باطن" کے مخمصے میں اپنا قیمتی اثاثہ کھو دیتے ہیں۔
کسی نے کہا ۔۔۔نفرت کمزور کا غصہ ہے۔لیکن غصہ ہو یا نفرت اس کا اظہار ضرور کمزور اور طاقتور میں فرق کی نشاندہی کرتا ہے۔ کمزور اپنا غصہ اپنے آپ پر نکالتا ہے تو طاقتور اپنے سے کمتر پر۔ جہاں تک بات نفرت کی ہے۔ نفرت کی بےشمارجہت ہیں۔۔۔ مذہبی اور معاشرتی حوالوں سے قطع نظر انسان ہر اس چیز سے نفرت کرتا ہے جو اس کی پہنچ سے دور ہو یا اس کی پہنچ میں آ کر فیض نہ دے سکے۔
غیرت "۔۔۔۔۔ "
ضمیر کی آواز کا نام ہے۔ مردہ ضمیروں کی غیرت بھی مردہ ہوتی ہے اور روشن ضمیر اپنے نفس کی آواز دباتے نہیں بلکہ اسے سمجھاتے ہیں ۔
ضمیر"۔۔۔۔۔"
انسان کے اندر کا وہ رنگ ہے جس کی کالک چھپانے کے لیے اکثر فول پروف میک اپ کیا جاتا ہے لیکن وقت کی بےموسم بارش اسے ایک پل میں صاف کر کے اصل چہرہ دکھا دیتی ہے۔ اور کبھی ضمیر کا اجلاپن آنکھیں چندھیا دیتا ہے کہ اپنا ہی چہرہ اجنبی لگتا ہے اور انسان انسانوں کے ہجوم میں تنہا رہ جاتا ہے۔
شک"۔۔۔۔"
بےجا شک فخر وغرور کی ایک قسم ہے۔ حسد اگر نیکیاں کھا جاتا ہے تو شک زندگی کی خوشیاں نگل لیتا ہے۔
غلاف"۔۔۔۔"
غلاف کیا ہے۔۔۔۔ حجاب ۔۔۔پردہ ۔۔۔آئینہ ۔۔۔ جو سب عیاں کر کے بھی حقیقت سے دور رکھے۔
غلاف چاہے کعبہ کا ہو یا جسمِ انسانی پر ہمیشہ غلافِ عشق ہی ہے۔ اندھی عقیدت میں گندھے زائرین کبھی تو اُسے چپکے چپکے کُترتے ہیں۔۔۔ناکام رہیں تو اُس کے ریشوں کو متاعِ جاں جان کر اپنے فانی جسم کی بخشش کا ذریعہ بنانے کی لایعنی سعی کرتے ہیں۔ یہی حال انسانی جسم کا بھی ہے۔بدنگاہ کی نگاہ کو بھا جائے تو اُس کے غلاف کو تارتار کرنے کی ہوس میں اپنے تئیں محبت کی نہ جانے کون سی معراج طے کرنا چاہتے ہیں۔۔۔کبھی لفظوں کے نوکیلے نشتر اُتار کر اُسے چیر دیتے ہیں تو کبھی مکروہ ہاتھوں کے لمس سے ناپاک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
"پردہ"
٭زندگی میں پردے پڑے رہتے ہیں اور موت سب پردے اُتار دیتی ہے۔ پردہ عقل پر پڑجائے تو زندگی موت سے بھی بدتر ہے اور وقت گزرنے سے پہلے سب پردے ہٹ جائیں تو موت زندگی کی نوید ہے۔
"تلاش ذات "
کچھ لوگ کری ایٹر۔۔۔۔ ہوتے ہیں تو کچھ انوینٹر۔۔۔۔ کچھ رول ماڈل تو کچھ پایونئیر۔۔۔۔
Pioneer۔۔۔ Role model... Inventor....Creator....
کچھ سڑکیں بناتے ہیں اورچپ چاپ گزر جاتے ہیں۔وہ اپنا راستہ آپ تلاش کرتے ہیں۔اپنی دُنیا اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ کبھی یہ دشت گردی۔۔یہ آوارگی انہیں دردر بھٹکاتی ہے تو کبھی تلاش ِذات کے سفر پر لے جاتی ہے۔اور یہی لوگ رہتی دنیا تک اپنے نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ لیکن!!! زندگی میں ایسے اذیت ناک موڑ بھی آتے ہیں جب اوروں کے لیے راستہ بناتے بناتے دوسرے آپ پر قدم رکھ کر گزرتے چلے جائیں۔
سانس اور آس "۔۔۔۔۔"
سانس کہانی بھی عجب ہے۔ جب تک سانس آتی رہے آس باقی رہتی ہے اور سانس اٹکنے لگ جائے تو آس بھی ٹوٹنے لگ جاتی ہے۔ ہماری محبتیں سانس اورآس کے درمیان معلق رہتی ہیں ۔ سانس میں آس مل جائے تو سانس آ جاتی ہے ۔
٭سانس سے لے کر آس تک ہمیں زندگی اور زندہ رہنے کے سب وسیلے بنا کسی استحقاق کے مل جاتے ہیں۔
٭آخری سانس سے پہلے کوئی بھی "انکشاف" حتمی یا "عجیب" نہیں ہوتا۔ زندگی کا فسانہ ہر گھڑی رنگ بدلتا ہے۔
٭آخری سانس تک سانس لینے کی جدوجہد ہی زندگی کی ضامن ہے اور زندگی کا ہم پر حق بھی۔جتنی شدت سے زندگی سے مایوسی بڑھتی ہے اس سے بڑھ کر زندہ رہنے کی خواہش قدم روکتی ہے۔
٭زندہ رہنا صرف عمر کے محدود ماہ وسال کے پھیلاؤ کا نام نہیں۔۔۔بلکہ اپنے ذہن و جسم میں در آنے والی اس معمولی سی کسک کو بھی سمجھنا ہے جو امرپیل کی طرح یا پھر دیمک بن کر خوشیوں کا رس رس نچوڑنے کے درپے ہے۔زندگی کے ہر گزرتے پل کبھی یوں بھی لگتا ہے کہ جیسے گدھ جسم کو نوچ رہےہوں اورچیخیں صرف ہمارے کان ہی سن سکتے ہوں۔
٭ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں اُسی کی کہانی ہمارے اندر سانس لیتی ہے اور وہی سانس ہم باہر نکالنا چاہتے ہیں اور جب سانس باہر نہ لے پائیں تو پھر گھٹن کا احساس بہت بڑھ جاتا ہے چاہے جتنا مرضی کھڑکیاں کھول کر منظر دیکھتے رہیں۔
٭انسان وہ ناقدر شناس ناظر ہے۔ جو دیکھ کر بھی نہیں کچھ دیکھتا۔
٭کچھ لوگ وہ نہیں دیکھتے جو نظر آتا ہے بلکہ وہ دیکھتے ہیں جو محسوس ہوتا ہے اور جسے محسوس کیا جاتا ہے اسے ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔
٭"حقیقت افسانے سے زیاده حیران کن ہوا کرتی ھے"...وکٹرہیوگو
سکھی رہنا چاہتے ہو تو افسانوں میں کبھی حقیقت تلاش نہ کرو اور حقیقت کو ایک فسانہ سمجھ کر پڑھتے رہو چاہے وہ اپنے اوپر بیتی ہو یا آس پاس سانس لیتی دم بخود کرتی چیختی چنگھاڑتی کہانیاں ہوں۔
"بنجر"
بنجر کا لفظ بہت برا ہے۔انسان کے لیے اسے استعمال کرنے سے گریزکریں ناشکری کی بو آتی ہے ،ہم خود بھی نہیں جانتے اپنی زرخیزی کو یہ تو دوسرے کی آنکھ کا حسن ہے جو ہمارے اندر کا اندر دیکھ لیتا ہے۔
۔"لاوارث"۔
وہی نہیں جس کی نسل نہ ہو بلکہ لاوارث وہ ہے جس کی سوچ بنجر ہو جائے اور میرا رب کسی کو لاوارث نہیں رکھتا ۔ یہ ہمارا خیال ہےجو جسم سے آگے نہیں جاتا۔ اور ہر پیدا ہونے والاکسی بھی شجر کا حصہ ضرور ہوتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اسے سایہ نصیب نہ ہو ۔
"تعزیت"
الفاظ کبھی نہیں بھاگتے۔۔۔کبھی ساتھ نہیں چھوڑتے بس ان کااظہار بدل جاتا ہے۔کبھی لفظ چیختے ہیں چلاتے ہیں اور کہنے سننے والے کو  سر سے پیر تک   وقتی تسلی   کے احساس سے شرابور کر دیتے ہیں۔ کبھی۔۔۔۔۔۔ الفاظ خاموشی کی چادر اوڑھ کر دوست سے یوں لپٹ جاتے ہیں کہ اس سے کچھ بھی کہنے سننے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی۔ایسےمواقع پر ہماری خشک آنکھ کی مدھم سی نمی دوست کے دل کے سمندر میں اتر جاتی ہے ۔ اوروہ لمس کی حرارت پا کر اپنی ڈوبتی کشتی میں سے زندگی تلاش کرنے نکل پڑتا ہے۔
اللہ اس کٹھن موقع پر ہمیں ایک دوسرے کے لیے باعث سکون بنائےاور کڑے وقت اللہ کی رضا میں راضی رہنے کی توفیق عطا فرمائے کہ یہی وقت ایمان کی سلامتی کا اصل امتحان بھی ہوتا ہے۔ اللہ ہم سب کو ہر امتحان ہر آزمائش میں ثابت قدم رہنے کی ہمت عطا کرے۔ آمین

اتوار, مارچ 15, 2015

" وہ اور میں "

نہیں جانتی کہ پہلے وہ مجھےملا؟ یا میں اسے ملی؟ اس کے اور میرے بیچ فاصلے ہی فاصلے تھے۔۔۔ مٹی کے۔۔۔ زمین کے۔۔وقت کے۔۔۔ عمر کے۔۔۔رشتوں کے۔۔۔تعلق کے۔۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر حوالوں کے۔ ہمارے درمیان کچھ بھی تو مشترک نہ تھا۔ پھر اچانک دنیا کا سب سے پرُاعتماد تعلق ہمارے درمیان ایسےآیا کہ اُس نے سارے تکلف ساری مصلحتیں پرے رکھ دیں۔ہمارے بیچ اگر مروت یا توقع کے رشتے نہ تھےتو ہمارے ملنے یا ایک دوسرے کے قریب آنے میں ہماری طلب کا بھی ذرا سا دخل نہ تھا۔ ہم ہر رشتے ہر جذبے کی شدت اور انتہا کو چھو کر اپنی اپنی دُنیا میں مکمل اور آسودہ تھے۔۔۔عمر کے اس دور میں ملے جب انسان اپنے حالات سے سمجھوتہ کر کے کسی رازداں کی خواہش سے بھی بےپروا ہو جاتا ہے۔ انسانی فطرت کی غمازی کرتے مقصدِحیات پر سمجھوتہ کرکے کولہو کے بیل کی طرح بس اُسی کی تکمیل میں مگن تھے۔ ہماری خواہشات اور جذبات اپنے محور کے گرد گھومتے تھے۔ لیکن !!!کچھ نہ کچھ ایسا ضرور تھا جو ہمیں اس مدار سے باہر نکلنے پر اُکساتا اور ہم نے لفظ کی دنیا میں پناہ ڈھونڈ لی۔ یہ تو کہیں بعد میں پتہ چلا کہ ہمارے درمیان" لفظ" سے محبت ۔۔۔اس سے عشق کی قدر مشترک تھی۔ وہ عشق جسے ہم نے بڑی چاہت سے سنبھال کر اپنے دل کے نہاں خانوں میں برسوں چھپائے رکھا۔۔۔پھر جب دل اس عشق کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہوا تو قلم نے آگے بڑھ کر رہنمائی کی اور یوں ہم دونوں قلم کار بن گئے۔ ایسےقلمکار کہ لفظ جن کے دوست تھے۔
ہماری خود کلامی نے ہمیں اجنبیت کی ڈور سےنکال کر اعتماد کی لڑی میں پرو دیا۔ اب ہم خوب باتیں کرتے۔میرے پاس لفظ ہوتے اور اس کے پاس خاموشی۔ پھر ہمارے بیج بہت سے رشتے یوں چپکے سےدر آئے کہ پتہ بھی نہ چلا۔ نہ صرف انسان کے انسان سے بلکہ عورت اور مرد کے جتنے بھی تعلق کاتبِ تقدیر لکھتا ہے ہم اپنے احساس سے اُنہیں سمجھنے کی کوشش کرتے۔ کبھی بڑا بن کر سرزنش کرتی اور وہ سنی ان سنی کر دیتا۔ کبھی اتنا فرماں بردار کہ جیسے مجھے وقت دینے کے علاوہ دنیا کا کوئی دوسرا کام ہی نہ ہو۔ ہم زندگی کی گرہیں سلجھاتے سلجھاتے اکثر ایک دوسرے سے ہی اُلجھ پڑتے۔ اور اس لمحے میری خاموشی ہوتی اور اس کے لفظ ۔۔۔۔ ایسا لگتا جیسے برفوں میں چھپا کوئی خوابیدہ آتش فشاں سانس لے رہا ہو۔لیکن یہ صرف چند لمحوں کا کھیل ہوتا اور وہ پھر سمجھوتے کی چادر اوڑھ کر اپنےخول میں مستور ہو جاتا۔۔رفتہ رفتہ ہم دونوں کے بیچ خاموشی کے فاصلے اتنا بڑھ گئےکہ ایک دوسرے کے سامنے اداکاری کرنے لگےخوش مزاجی کی،بےپرواہی کی۔ ہمیں کسی سے کچھ نہیں چاہیے تھا سوائے احساس کے۔۔۔۔رشتوں کی کُند ڈور سے انگلیاں زخمی کرتےہمارے بیچ فرق تھا تو محض اتنا کہ میں خالی ہاتھ بھی آخری سانس تک جیتنے کی اُمید بچا رکھنا چاہتی تھی اوراُس نے سارا اختیار ہوتے ہوئے شکست تسلیم کرلی۔۔ لیکن بکھر میں بھی گئی اور ٹوٹتا وہ بھی جا رہا تھا۔۔۔۔حل میرے پاس بھی نہ تھا اور اس کے پاس بھی نہیں سوائے اپنی انا اپنی ذات اور اپنی سوچ کی قربانی دینے کے۔
شاید ہمارا تعلق ہمیشہ موجود اور معدوم کے بیچ معلق ہی رہتا اگر آنکھ کا یقین اس پر مہر ثبت نہ کرتا۔
آنکھ کا یقین۔۔۔دُنیاوی رشتوں اور تعلقات کو ماننے اور جاننے کے بیچ کی ایسی کڑی ہے جو شک اور گومگو کی کیفیت سے نکال دیتی ہے۔ آنکھ کا آنکھ سے لمحے بھر کا لمس اگر ذہن پر چھائی ہوئی بےاعتباری کی دھند صاف کرتا ہےتو ہمیشہ کے لیے ایک پائیدارنقش کی صورت اپنی ذات کا یقین بھی بحال کرتا ہے۔
!حرف آخر
اگر ہمارے بیچ 'بظاہر' کسی تعلق کا 'جواز'نہ تھا تو کیا ہرتعلق ظاہربھی ہوتاہے؟یا کسی تعلق کی عقلی دلیل بھی دی جا سکتی ہے؟۔۔۔۔ایسا بالکل بھی نہیں۔۔۔۔ہرگز نہیں۔ تعلق چاہے اپنے خالق سے ہو یا کسی انسان سے ہو اور یا پھر اپنے وجود کا اپنے آپ سے۔۔۔صرف اور صرف محسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔
وہ زندگی کی تپتی حبس زدہ دوپہر میں بنا کسی چاہ یا ارادے کے چھو جانے والا ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا ہی تو تھا۔۔۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ہم اپنی اپنی آگ بانٹتے تھےیا پھراپنے وجود کے منجمد گلیشئیرز کی ٹھنڈک۔۔۔اس پل یہ سطریں لکھتے ہوئے اپنے کچھ لفظ یاد آئے۔۔۔برسوں پہلے لکھے گئے یہ لفظ شاید آج کے اسی احساس کا کشف تھے۔۔۔۔ سراب ِدُنیا کی اس عارضی رفاقت کی امانت بھی تھے۔۔۔۔۔۔
"رفاقت"
گرم گھروں میں رہنے والے
مکمل انسان ہیں
سرد تنہائی
اور اندھیرے سے نا آشنا
آگ تا پتا ہوا شخص
اُس کے پاس وہی جائے گا
جسے حرارت چاہیے
---------------------
ٹھنڈے کمروں کے مکیں
لوُ دیتی گرم ہوا
کیا جانیں
دُور برگد کے نیچے
بیٹھے مسافر
درد آشنا ہیں
!اہم بات
یہ ایک ممکنہ تعزیتی بلاگ ہے۔بظاہر یہ لایعنی سی بات لگتی ہے کہ کسی  کی زندگی میں وہ سوچا جائے اور لکھا جائے جو شاید ہم اُس کے ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے پر محسوس کریں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بعد میں ہم چاہے تاج محل بنا دیں یا اُس کے فراق میں دیوان لکھ لکھ کر دُنیا کو مسمرائز کر دیں۔ وہ کبھی بھی کچھ بھی نہیں جان پاتا۔ اُس کا رابطہ اس دُنیا اور اِس کے معاملات سے ہمیشہ کے لیے منقطع ہو جاتا ہے۔تو کیوں نا ہم زندگی کی  عنایتوں کو زندگی میں ہی اپناتے ہوئے اُن کا احساس بھی کرلیں۔
"جیو۔۔۔۔ اس لیے کہ جینا رب کی رضا ہے"

جمعہ, مارچ 13, 2015

" ادا جعفری"

ادا جعفری.... ایک عورت۔۔ ایک ماں ۔۔۔ اور ایک شاعرہ۔۔۔
۔22 اگست 1924ء....13 مارچ2015
میں ساز ڈھونڈتی رہی ۔۔۔ پہلا شعری مجموعہ 1950
شہر درد۔۔۔ دوسراشعری مجموعہ 1967۔۔۔آدم جی ایوارڈ1968
غزالاں تم تو واقف ہو ۔۔۔۔ شعری مجموعہ 1974
ساز سخن بہانہ ہے ۔۔۔ہائیکو شاعری کا مجموعہ 1982
حرف شناسائی۔۔۔ شعری مجموعہ
موسم موسم ۔۔۔کُلیات2002ء
جو رہی سو بےخبری رہی۔۔۔خود نوشت 1995۔۔۔۔
 شعر۔۔۔۔۔۔
تم پاس نہیں ہو تو _____ عجب حال ہے دل کا 
یوں جیسے میں کچھ رکھ کے کہیں بھول گئی ہوں
۔۔۔۔۔
ادا جعفری۔۔۔۔
میں نے مردوں کی عائد کردہ پابندیوں کو قبول نہیں کیا، بلکہ اُن پابندیوں کو قبول کیا جو میرے ذہن نے مجھ پہ عائد کی ہیں۔۔۔ میں سمجھتی ہوں کہ بات کو بین السطور کہنا زیادہ مناسب ہے کیونکہ رمز و کنایہ بھی تو شاعری کا حُسن ہے۔
۔۔۔۔۔
 بشکریہ ۔۔
ادا جعفری کا جہان شعر
               شاہدہ حسن
جمع و ترتیب: اعجاز عبید
   ماخذ: پاکستانی ادب کے معمار: ادا جعفری: شخصیت اور فن از شاہدہ حسن
ادا جعفری کا دوسرا شعری مجموعہ ” شہر درد” طویل عرصے کے فرق کے ساتھ یعنی پہلے شعری مجموعے کی اشاعت کے سترہ سال بعد1967ء میں شائع ہوا۔ اس مجموعے کی بیشتر نظمیں 1965ء سے 1967ء تک گویا دو ڈھائی سال کے عرصے میں کہی گئی ہیں۔ یہ عملی زندگی کے سفاک تقاضوں میں گم ہو جانے والی زود حس شاعرہ کے لیے اپنے باطنی وجود کی از سر نو دریافت کا مرحلہ تھا۔۔
 ادا جعفری لکھتی ہیں۔
 اس طویل خاموشی کی اصل وجہ میں خود بھی نہیں جانتی۔ یا شاید یہ وجہ ہو کہ ان دنوں مامتا کے جذبے سے پہلی بار متعارف ہوئی تھی، جھولی میں اتنے پھول تھے کہ نظر اٹھا کر کسی اور سمت دیکھنے کا ہوش ہی نہیں تھا۔ لیکن اجلے اجلے دھندلکوں کی طرح خود فراموشی کتنی ہی دل فریب کیوں نہ ہو، شکر ہے کہ دائمی نہیں ہوتی۔ اگرچہ یہ بہت طویل عرصہ تھا اور بڑی نامانوس مسافت تھی۔ دشت بے آب و گیاہ بھی اور خیاباں خیاباں گل و سمن بھی۔ اپنے بچوں اور اپنے گھر میں بہت خوش بھی رہی اور تمام وقت ایک احساس محرومی بھی دل میں چبھتا رہتا تھا۔ پھر میرا کھویا ہوا قلم مجھے واپس مل گیا اور بھرپور اجالوں کی تمنا ” شہر درد” تک لے آئی۔
غزل۔۔ شہر درد
ہونٹوں پہ کبھی اُن کے مِرا نام ہی آئے 
آئے تو سہی، برسر الزام ہی آئے ۔۔۔۔ 
۔۔۔۔۔۔
جناب ادیب سہیل رقم طراز ہیں۔۔
 اگر آپ ادا جعفری کی شاعری کا شروع سے آخر تک جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ ان کی تمام تر شاعری ان کے اس شعر کے مصداق ایک حرف آرزو سے عبارت ہے۔
میں دشت زندگی میں کھلے سر نہیں رہی
اک حرف آرزو کی ردا مل گئی مجھے
اسی حرف آرزو نے ان کے شعروں میں جستجو، دروں بینی، ملائمت، نکتہ رسی اور حرارت داخل کر دی ہے۔ یہی شعر وسیع تناظر اختیار کر کے نظم “ساز سخن بہانہ ہے” بن گیا ہے اس نظم کا آخری حصہ ہے۔
میں بے قرار وخستہ تن
بس اک شرار عشق، میرا پیرہن
مرا نصیب ایک حرف آرزو
وہ ایک حرف آرزو
تمام عمر سو طرح لکھوں
آخری مجموعہ حرف شناسائی” میں شامل غزل کے چند اشعار
ہمیں خود سے بھی ملنا تھا، کسی ہم راز سے پہلے
کوئی آواز سننا تھی، کسی آواز سے پہلے
یہ جو بے ساختہ پن ہے یہی تو اصل راحت ہے
پروں کو دیکھنا واجب نہیں پرواز سے پہلے
 ابھی تو خواب چہرے سب دعا کی رہ گزر میں تھے
کہانی ختم کیسے ہو گئی آغاز سے پہلے
آج اپنے ابدی سفر پر روانہ ہو گئیں ۔اللہ اُن کی آخرت کی منزلیں آسان کرے۔ گناہوں کی  بخشش  عطا فرمائے۔۔ اور اُن کے ساتھ رحم کا کرم کا معاملہ فرمائے۔آمین

بدھ, مارچ 11, 2015

"فیض کِسے نئیں پایا"

فیض اللہ خان
تاریخِ پیدائش۔۔۔25فروری1968
بمقام راولپنڈی
تاریخ وفات۔۔۔6 مارچ 2015
جائےمدفن۔۔۔ ایچ الیون اسلام آباد

زندگی کا پرچہ حل کرتے وقت ہر گھڑی نئےسوال ہمارے سامنے آتے ہیں جن کے جواب جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں لیکن  وقت ضرور ان کے جواب جانتا ہے۔کبھی ہم اپنی زندگی میں کسی حد تک ان کے جواب جان جاتے ہیں ،کبھی جواب کے لیے بھٹکتے پھرتے ہیں تو کبھی جان کر بھی نہیں جان پاتے۔۔۔دیکھ کر بھی نہیں دیکھتے اور محسوس کر کےبھی انجان بنے رہتے ہیں۔شاید!اسی 'نادانی' اسی'کم عقلی' میں ہی ہماری بھلائی پوشیدہ ہو؟کون جانے۔ہماری زندگی میں خاموشی سے در آنے  والےبہت سے سوالوں میں سے ایسا ہی ایک سوال وہ بھی تھا۔۔۔
فیض اللہ خان۔۔۔ہم چار بہنوں کا ا کلوتا بھائی ۔۔۔ لفظ کا رندہ بےرحمی سے چلاؤ تو ذہنی پسماندہ اورلفظ کو سلیقے کے غلاف میں لپیٹ دو تو خاص فرد۔۔۔۔اسپیشل پرسن۔ یہ دو لفظ ہر طرح سے اس کی زندگی میں اس کی شخصیت پر کبھی پورا نہیں اُترے۔ برسوں سے اس کے قریب رہنے اس کی رگ رگ سے واقف ہونے کے بعد ہم بخوبی جانتے تھے کہ ذہنی طور پر وہ ہم بزعمِ خود نارمل لوگوں سے بہت آگے تھا۔ لمحوں میں کسی بات کسی اشارے کی تہہ تک پہنچنے والا۔محبت کی نگاہ اور نفرت کے انداز کو پل میں جانچنے اور ہمیشہ کے لیے یاد میں محفوظ کرنے والا۔ اُس کی یاداشت کسی بھی عام سوچ سمجھ والے مکمل انسان سے کئی درجہ بلند تھی سینتالیس سال کے سفر میں اسے دس برس کی عمر میں بچھڑ جانے والے رشتے یوں یاد تھے جیسے ابھی ملے ہوں۔۔وہ اگر اس دنیا کے روایتی طرزفکر سے بےبہرہ تھا۔۔۔پڑھے لکھے ڈگری یافتہ لوگوں کے بیچ ایک اُمی تھا تو"خاص" تو کسی طور سے کہیں بھی کبھی بھی نہ ہوا۔ تین برس پہلے تک ۔۔۔جنم دینے والی ماں کی زندگی میں صرف اس کے لیے۔۔۔ اس کے سامنے شاید خاص ہو تو ہو کہ وہ نہ صرف اُس کی ماں تھیں بلکہ صبروبرداشت کے اُس مقام پر تھیں جہاں کا سوچتے ہوئے بھی عام انسان کےپر جلتے ہیں۔ اُن کی زندگی میں وہ ہمیں کبھی نظر نہیں آیا کہ اُس کا عکس ماں کی آنکھ سے فلٹر ہو کر ہم تک پہنچتا۔۔۔اور ماں کا دل دنیا کو جو منظر دِکھانا چاہے وہی دِکھتا تھا۔ یہ تو ماں کے جانے(4مارچ 2012) کے بعد پتہ چلا کہ اُنہوں نے نہ جانے کتنے پل صراط طے کرتے ہوئے امانت کا حق ادا کیا ۔
ہم بہنوں نے اسے کبھی "خاص" سمجھا اور نہ ہی خاص ہونے کی اہمیت دی ۔وہ ہم جیسا ہی تو تھا۔۔ ہمارے ساتھ رہتا۔۔۔ ہمارے ساتھ سوتا۔۔ اسی لیے اس سے بات بھی ایسے ہی کرتے جیسےآپس میں ایک دوسرے سے اور اسی طور سمجھانے کی کوشش بھی کرتے۔جب وہ نہ سمجھتا نہ مانتا بلکہ ہنستا تو ہم بری طرح جھنجھلا جاتے۔جیسے وہ سب جانتا ہو اور جان بوجھ کر ہمیں تنگ کر رہا ہو۔برابری کے اس احساس میں اگر اس پرخاص توجہ نہ دینے کی خلش یا ملامت ہے تو اللہ کا شکر بھی ادا کرتے ہیں کہ مجبوری یا ترس کا عنصر بھی تو کبھی شامل نہ ہوا۔
ہم اگر سب جانتے ہوئے محض ایک ذمہ داری کی طرح اُس کا خیال رکھتے تو وہ دل سے کسی بھی غرض سے بےپروا بڑے چھوٹے سے محبت کرتا تھا۔ لیکن جیسے جیسے عمر بڑھ رہی تھی ۔۔۔ گھر میں محدود رہ کر صبح وشام کرنے سےوہ ذہنی طور پر تھکنے لگا۔اس کی خوش مزاجی چڑچڑے پن اور غصے میں بدل گئی تھی اور امی کے جانے کے بعد تو جیسے اس کی زندگی کا محور ہی غائب ہوگیا۔جنم دینے والی ماں کی  ڈھیروں ذمہ داریوں میں سے خاموشی سے پہلی توجہ کا مرکز  اب دوسروں کی زندگی کی مصروفیات  کی قطار میں سر جھکائے اپنے باری کا منتظر رہتا۔
"پچیس فروری"
ہر انسان کے لیے اس کا جنم دن خاص ہوتا ہے۔زندگی نے چاہے اسے کچھ دیا ہو یا نہ ہو پھر بھی اس روز ہر شخص  اپنے آپ اپنی ذات پر  ٹھہر کر ایک نظر ضرور ڈالتا ہے۔وہ اپنے سالوں، مہینوں اور دنوں کے شمار سے غافل  تو تھا لیکن عید،بقرعید اور خوشی کی تقریبات سے مکمل باخبر رہتا جس کے منانے میں اس کا واحد شوق  کپڑوں اور جوتوں کو سنبھال کر رکھنا اور گھر میں ہر آنے والے کو بطورِ خاص دِکھانا بھی ہوتا۔ اُس کا جنم دن خواہ کسی کو یاد ہو یا نہ ہو امی ہمیشہ یاد رکھتیں اور اپنی ذات کی تنہائی میں اس کے لیے اہتمام بھی کیا کرتیں۔اولاد چاہے زندہ ہو یا  اپنی جھلک دکھا کر اللہ کے پاس چلی جائے ہر ماں کے لیے اپنے بچوں کا جنم دن بہت خاص ہوتا ہے۔۔۔
۔"کبھی یہ دن  زندگی میں ایک اذیت ناک احساس  کی صورت ساری زندگی پر محیط ہو جاتا ہے۔ یوں ہوتا ہے کہ وہ تصویر نہ جانے کس وجہ سے،اللہ کی کون سی آزمائش کے سبب مکمل نہیں ہو پاتی۔ ایک ادھوری تحریر کی صورت کہ نہ آغاز پر نظر اور نہ انجام کی خبر، پھر ساری عمر ان بکھرے حرفوں کو سمیٹنے میں ہی گُزر جاتی ہے،اپنے لمس سے جتنا بھی نکھار لو ،وہ تحریر کبھی مکمل نہیں ہوتی۔عمر بیت جاتی ہے  وقت گزر جاتا ہے، زندگی نہیں گزرتی۔ یہ صرف ایک ماں کا ہی حوصلہ ہے جو اسے زندگی کے اس پل صراط پر ثابت قدمی عطا کرتا ہے"۔  
ساری زندگی ہم اس کے وجود  کے ساتھ سوالوں کی آنکھ مچولی کھیلتے رہے۔اس کی زندگی  ایک ایسا سوال رہی جس کو جتنا حل
 کرنے   کی کوشش کرتے اتنا ہی مشکل لگتا اور جتنا سلجھاتے اتنا ہی الجھتا جاتا۔ امی ابو کے جانے کے بعد اس کی زندگی کا جواز تلاش کرتے۔۔۔کبھی اللہ کی نہ سمجھ آنے والی مصلحت تو کبھی آزمائش کہہ کر اِس پر پورا اترنے کی دعا کرتے۔
اللہ نے امی کی وفات کے بعد تین برس اور ابو کے انتقال کے بعد صرف ساٹھ دن کی زندگی ہی اس کے مقدر میں لکھی تھی۔مقدر؟۔۔۔ہم اپنی عقلی صلاحیت سے کبھی نہیں جان سکے کہ اس کی تخلیق کا جواز کیا تھا؟ اگر وہ جنت کا مکین تھا تو دنیا میں اس کے لیے ہر طرف ناآسودگی اور بےاعتباری کیوں لکھی گئی؟ ہم میں سے کسی کو بھی اس کی پہچان نہیں تھی۔۔۔ بظاہریہ اُس کی آزمائش تھی؟ لیکن درحقیقت یہ تو ہماری پہچان کی آزمائش تھی اوراصل حساب کتاب اللہ ہی جانتا ہے۔
"خاص"
ہاں ایک وجہ سے وہ ہم بہنوں کے لیے بہت خاص تھا کہ وہ جیسا بھی تھا ہمارا بھائی تھا۔ اور اس بات پر ہم میں سے کسی کو بھی کبھی بھی دوسروں کے سامنے ہچکچاہٹ نہیں ہوتی تھی۔ 
قبر نمبر 4
پلاٹ نمبر 35

وہ ماں باپ کی وراثت اُن کے ترکے کا قانونی وارث تھا۔۔۔ پر وہ زندگی بھر مال اور زمین کے فتنوں سے دور رہا۔اگرچہ اُسے ہم زندہ انسانوں کی بھری دنیا میں اپنے نام کی تختی کی گنجائش نہ مل سکی لیکن اللہ نے دُنیا کی زندگی میں اس کا حصہ ضرور مقرر کیا ہوا تھا جو اُس کی آنکھ بند ہونے کے بعد ہم پر واضح ہوا۔اسلام آباد کا گھربننے کے بعد  بارہ برس کی عمر میں سب کے ساتھ یہاں منتقل ہوا۔پینتیس برس سے زائدکی رفاقت میں اپنے گھر کی گلی نمبر 35 اور اس کےمکینوں سےاُسے عجیب سی اُنسیت تھی۔اگر سب اُسے جانتے تھے تو وہ بھی ہر ایک سے بڑی تمیز تہذیب سے ملتا۔۔۔جانے انجانےسے ہاتھ بڑھا کر سلام کرنا اس کی عادت تھی۔انجان یا خواتین سے ہاتھ ملانے کی اس عادت سے ہم شرمندہ بھی ہوتے اور اُس کو منع بھی کرتے۔برسوں اپنی گلی میں خصوصاً شام کے وقت بچوں کو کھیلتے دیکھنا ہی اُس کی روزمرہ کی واحدتفریح تھی جس کے لیے وہ بڑے اہتمام سے تیار ہوتا۔
"آگئے"
۔ "آ گئے" اُس کا نعرہ کہہ لیں یا تکیہ کلام کہ وہ  گھر میں ہر وقت کسی نہ کسی کی آمد کا منتظر رہتا اور جب کسی کے آنے کی سُن گُن ملتی تو باآوازِ بلند"آ گئے"کہہ کر سارے محلے کو خبر کرتا۔ایک لمبی رفاقت میں سب اُس کے اشارے پہچانتے تھے اور جان جاتے کہ کوئی آنے والا ہے۔ اس کی وفات کے بعد جب چھوٹی چچی قبر پر گئیں تو بےاختیار اُن کے منہ سے نکلا ۔ "لو بھئی آج ہم آگئے"۔ پھر اُنہوں نے ہی کہا کہ اِس کے کتبے پر لکھوانا۔۔۔۔ "آگئے"۔
!آخری بات
اللہ سے اُس کے فضل کی دعا ہے کہ وہ  ہماری خطاؤں سے درگزر کرے جو اُس کے ساتھ رہتے ہوئے اُس کے حوالے سے ہم سے سرزد ہوئیں۔وہ تو بلاشبہ جنت کا مکین تھا کہ اس عارضی سرائے کے حساب کتاب کے کھاتے میں اس کا کچھ بھی لینا دینا نہیں تھا۔اللہ کی رحمت اور  بھائی کی محبت پر کامل یقین ہے کہ جس طرح یہاں رہتے ہوئے اور ہم سب کی اپنے اپنے ظرف کے مطابق  بےاعتنائی کے باوجود وہ ہم سے  بےغرض محبت کرتا تھا تو  اُس ابدی دنیا میں کسی خسارے کے موقع پر اپنے پیاروں کو  مشکل میں پڑنے سے بچانے کی کوشش ضرور کرے گا۔
 
   

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...