اتوار, مارچ 15, 2015

" وہ اور میں "

نہیں جانتی کہ پہلے وہ مجھےملا؟ یا میں اسے ملی؟ اس کے اور میرے بیچ فاصلے ہی فاصلے تھے۔۔۔ مٹی کے۔۔۔ زمین کے۔۔وقت کے۔۔۔ عمر کے۔۔۔رشتوں کے۔۔۔تعلق کے۔۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر حوالوں کے۔ ہمارے درمیان کچھ بھی تو مشترک نہ تھا۔ پھر اچانک دنیا کا سب سے پرُاعتماد تعلق ہمارے درمیان ایسےآیا کہ اُس نے سارے تکلف ساری مصلحتیں پرے رکھ دیں۔ہمارے بیچ اگر مروت یا توقع کے رشتے نہ تھےتو ہمارے ملنے یا ایک دوسرے کے قریب آنے میں ہماری طلب کا بھی ذرا سا دخل نہ تھا۔ ہم ہر رشتے ہر جذبے کی شدت اور انتہا کو چھو کر اپنی اپنی دُنیا میں مکمل اور آسودہ تھے۔۔۔عمر کے اس دور میں ملے جب انسان اپنے حالات سے سمجھوتہ کر کے کسی رازداں کی خواہش سے بھی بےپروا ہو جاتا ہے۔ انسانی فطرت کی غمازی کرتے مقصدِحیات پر سمجھوتہ کرکے کولہو کے بیل کی طرح بس اُسی کی تکمیل میں مگن تھے۔ ہماری خواہشات اور جذبات اپنے محور کے گرد گھومتے تھے۔ لیکن !!!کچھ نہ کچھ ایسا ضرور تھا جو ہمیں اس مدار سے باہر نکلنے پر اُکساتا اور ہم نے لفظ کی دنیا میں پناہ ڈھونڈ لی۔ یہ تو کہیں بعد میں پتہ چلا کہ ہمارے درمیان" لفظ" سے محبت ۔۔۔اس سے عشق کی قدر مشترک تھی۔ وہ عشق جسے ہم نے بڑی چاہت سے سنبھال کر اپنے دل کے نہاں خانوں میں برسوں چھپائے رکھا۔۔۔پھر جب دل اس عشق کا بوجھ اٹھانے سے قاصر ہوا تو قلم نے آگے بڑھ کر رہنمائی کی اور یوں ہم دونوں قلم کار بن گئے۔ ایسےقلمکار کہ لفظ جن کے دوست تھے۔
ہماری خود کلامی نے ہمیں اجنبیت کی ڈور سےنکال کر اعتماد کی لڑی میں پرو دیا۔ اب ہم خوب باتیں کرتے۔میرے پاس لفظ ہوتے اور اس کے پاس خاموشی۔ پھر ہمارے بیج بہت سے رشتے یوں چپکے سےدر آئے کہ پتہ بھی نہ چلا۔ نہ صرف انسان کے انسان سے بلکہ عورت اور مرد کے جتنے بھی تعلق کاتبِ تقدیر لکھتا ہے ہم اپنے احساس سے اُنہیں سمجھنے کی کوشش کرتے۔ کبھی بڑا بن کر سرزنش کرتی اور وہ سنی ان سنی کر دیتا۔ کبھی اتنا فرماں بردار کہ جیسے مجھے وقت دینے کے علاوہ دنیا کا کوئی دوسرا کام ہی نہ ہو۔ ہم زندگی کی گرہیں سلجھاتے سلجھاتے اکثر ایک دوسرے سے ہی اُلجھ پڑتے۔ اور اس لمحے میری خاموشی ہوتی اور اس کے لفظ ۔۔۔۔ ایسا لگتا جیسے برفوں میں چھپا کوئی خوابیدہ آتش فشاں سانس لے رہا ہو۔لیکن یہ صرف چند لمحوں کا کھیل ہوتا اور وہ پھر سمجھوتے کی چادر اوڑھ کر اپنےخول میں مستور ہو جاتا۔۔رفتہ رفتہ ہم دونوں کے بیچ خاموشی کے فاصلے اتنا بڑھ گئےکہ ایک دوسرے کے سامنے اداکاری کرنے لگےخوش مزاجی کی،بےپرواہی کی۔ ہمیں کسی سے کچھ نہیں چاہیے تھا سوائے احساس کے۔۔۔۔رشتوں کی کُند ڈور سے انگلیاں زخمی کرتےہمارے بیچ فرق تھا تو محض اتنا کہ میں خالی ہاتھ بھی آخری سانس تک جیتنے کی اُمید بچا رکھنا چاہتی تھی اوراُس نے سارا اختیار ہوتے ہوئے شکست تسلیم کرلی۔۔ لیکن بکھر میں بھی گئی اور ٹوٹتا وہ بھی جا رہا تھا۔۔۔۔حل میرے پاس بھی نہ تھا اور اس کے پاس بھی نہیں سوائے اپنی انا اپنی ذات اور اپنی سوچ کی قربانی دینے کے۔
شاید ہمارا تعلق ہمیشہ موجود اور معدوم کے بیچ معلق ہی رہتا اگر آنکھ کا یقین اس پر مہر ثبت نہ کرتا۔
آنکھ کا یقین۔۔۔دُنیاوی رشتوں اور تعلقات کو ماننے اور جاننے کے بیچ کی ایسی کڑی ہے جو شک اور گومگو کی کیفیت سے نکال دیتی ہے۔ آنکھ کا آنکھ سے لمحے بھر کا لمس اگر ذہن پر چھائی ہوئی بےاعتباری کی دھند صاف کرتا ہےتو ہمیشہ کے لیے ایک پائیدارنقش کی صورت اپنی ذات کا یقین بھی بحال کرتا ہے۔
!حرف آخر
اگر ہمارے بیچ 'بظاہر' کسی تعلق کا 'جواز'نہ تھا تو کیا ہرتعلق ظاہربھی ہوتاہے؟یا کسی تعلق کی عقلی دلیل بھی دی جا سکتی ہے؟۔۔۔۔ایسا بالکل بھی نہیں۔۔۔۔ہرگز نہیں۔ تعلق چاہے اپنے خالق سے ہو یا کسی انسان سے ہو اور یا پھر اپنے وجود کا اپنے آپ سے۔۔۔صرف اور صرف محسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔
وہ زندگی کی تپتی حبس زدہ دوپہر میں بنا کسی چاہ یا ارادے کے چھو جانے والا ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا ہی تو تھا۔۔۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ہم اپنی اپنی آگ بانٹتے تھےیا پھراپنے وجود کے منجمد گلیشئیرز کی ٹھنڈک۔۔۔اس پل یہ سطریں لکھتے ہوئے اپنے کچھ لفظ یاد آئے۔۔۔برسوں پہلے لکھے گئے یہ لفظ شاید آج کے اسی احساس کا کشف تھے۔۔۔۔ سراب ِدُنیا کی اس عارضی رفاقت کی امانت بھی تھے۔۔۔۔۔۔
"رفاقت"
گرم گھروں میں رہنے والے
مکمل انسان ہیں
سرد تنہائی
اور اندھیرے سے نا آشنا
آگ تا پتا ہوا شخص
اُس کے پاس وہی جائے گا
جسے حرارت چاہیے
---------------------
ٹھنڈے کمروں کے مکیں
لوُ دیتی گرم ہوا
کیا جانیں
دُور برگد کے نیچے
بیٹھے مسافر
درد آشنا ہیں
!اہم بات
یہ ایک ممکنہ تعزیتی بلاگ ہے۔بظاہر یہ لایعنی سی بات لگتی ہے کہ کسی  کی زندگی میں وہ سوچا جائے اور لکھا جائے جو شاید ہم اُس کے ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے پر محسوس کریں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بعد میں ہم چاہے تاج محل بنا دیں یا اُس کے فراق میں دیوان لکھ لکھ کر دُنیا کو مسمرائز کر دیں۔ وہ کبھی بھی کچھ بھی نہیں جان پاتا۔ اُس کا رابطہ اس دُنیا اور اِس کے معاملات سے ہمیشہ کے لیے منقطع ہو جاتا ہے۔تو کیوں نا ہم زندگی کی  عنایتوں کو زندگی میں ہی اپناتے ہوئے اُن کا احساس بھی کرلیں۔
"جیو۔۔۔۔ اس لیے کہ جینا رب کی رضا ہے"

4 تبصرے:

  1. آپ لکھتی ہیں اور خوب لکھتی ہیں ۔ لکھتی رہیئے

    جواب دیںحذف کریں
  2. بہت خوبصورت تحریر ۔۔۔ خوش رہیں :)

    جواب دیںحذف کریں
  3. بہت منفرد اور احساس کی بھرپور شدت لیے ھوئے ، کسی کو کچھ بتانا بھی ایک خودکلامی سے شروع ھوتا ھے لیکن شاید کسی کو بتانا اتنا اھم نہیں جتنا پہلے خود کو بتانا ضروری ھے اور لفظ جب تک خیال ھوتے ھیں ان کے بیج سے کوئی کونپل نہیں پھوٹتی کہا ھوا لفظ آب وگل کی دنیا میں ثمربار ھوتا ھے تو ھمیں پتا چلتا ھے کہ ھم اور ھمارے ادراک میں کون موجود ھے اور کون حائل ھے۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. واہ ، واہ، واہ، واہ، واہ، واہ ، واہ، کمال، جتنی دفعہ لکھوں ، جتنی تعریف کروں حق ادائیگی ممکن نہیں۔ انتہائی کمال تحریر۔ مجھے یقین ہے میری طرح ہر پڑھنے والے کو یہی لگا ہو گا کہ الفاظ میرے اپنے ہیں، اور یہی کمال کسی لکھنے والے کو حاصل ہو تو کیا بات ہے۔ بہت اعلیٰ۔ آپ لکھنے کیلیے بنی ہیں لکھتی رہو۔ اور ہر سال پندرہ مارچ کو لکھنے کی بجائے ہر مہنے کی کم از کم پندرہ تاریخ کو ایسی تحریر لکھنا۔

    جواب دیںحذف کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...