منگل, فروری 23, 2016

" زندگی اور ٹرک آرٹ"


یقین اور بےیقینی کی ناہموار ڈھلانوں  پر بےسمت سفر کرتے ہوئے زندگی کا طویل رستہ  کبھی کبھی جی ٹی روڈ پر رات کے اندھیرے میں ٹرک کے پیچھے جگمگاتی روشنیوں کی رہنمائی میں نامعلوم منزل کی اؐمید میں دھیرے دھیرے آگے بڑھنے کا  ہے۔اور پھر دن کے اجالے میں اپنی نادانی اور حماقت پر مسکرانے اور جھنجھلانے کا ہے جب پتہ چلتا ہے کہ وہ روشن چمکتی بتیاں تو محض خاص قسم کے رنگ برنگے کاغذی اسٹیکر تھے جو رات کی تاریکی میں  درمیانی فاصلہ خطرناک حد تک کم ہونے کے کسی ممکنہ حادثے سے بچنے کی خاطر چسپاں کیے جاتے ہیں۔
آج کے ترقی یافتہ دور کو گلوبل ولیج کہا جاتا ہےجب انسان اپنے گھر کے ایک گوشے میں بیٹھ کر ساری دُنیا گھوم لیتا ہے۔ وقت کے ایک ہی لمحے میں ہزاروں میل بسنے والے چہروں کو نگاہوں سے چھو لیتا ہے۔ آواز سے محسوس کرسکتا ہے اور اپنے دل کی آواز کسی کے دل تک بخوبی پہنچا دیتا ہے۔دورِجدید کی تیزرفتار ٹیکنالوجی کی بدولت زمینی فاصلے صرف خواہش اور وسائل کے محتاج ہیں۔ انسان خواہ ذہنی طور پر کتنا ہی آگے کیوں نہ نکل جائے اسے اپنی ضروریات کے لیے گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔
شیرشاہ سوری کی بنائی گئی جرنیلی سڑک جسے انگریزی میں گرینڈ ٹرنک روڈ یا مختصراً "جی ٹی روڈ" کہا جاتا ہے۔اس کی مخصوص پہچان وہ بھاری بھرکم ٹرک ہیں جو اگر  ٹریفک کے بہاؤ میں خلل ڈالتے ہیں تو اپنے رنگوں سے نظروں کو اپنی طرف مائل بھی کرتے ہیں۔چمکتے دمکتے  شوخ رنگوں  سے سجے ٹرک اگر نئی نویلی دُلہن کی طرح مہکتے ہیں تو وقت کی گرد میں اٹے اُجڑے ٹرک سفرِمسلسل کی کہانی  کہتے ملتے ہیں۔گردشِ دوراں اُن کی خوبصورتی  نچوڑکرظاہری طور پر بےحیثیت بنا بھی دے لیکن اُن کی قدروقیمت اُن کے چلتے رہنے کی وجہ سے کم نہیں ہوتی۔ایسے بوسیدہ تھکے ہوئے ٹرکوں کی اصل کشش اُن کے عارضی رنگ کی زندگی میں نہیں بلکہ اُن پر موتی کی صورت  لکھے لفظ میں  ملتی ہے۔ وہ لفظ جو لکھنے والے  یا تو اپنی ذہنی استعداد کے مطابق لکھتے ہیں یا پھر اُن سے لکھوائے جاتے ہیں۔
تعلیم وادب کا معیار کسی معاشرے کے مہذب ہونے کی پہلی  سیڑھی ہے یہ  ٹوٹے پھوٹے بےربط جملے یا بےوزن اور بظاہر عامیانہ اشعار کےلکھنے والے اگرچہ ادب  یا اعلیٰ تعلیم سے بےبہرہ ہوتے ہیں لیکن  معاشرے میں عام فرد کی ذہنی سطح کی بخوبی ترجمانی کرتے ہیں اور اکثر ان لفظوں اور جملوں کی گہرائی  کسی ادب کی کتاب سے بڑھ کر محسوس ہوتی ہے۔ کتاب کسی بھی لکھنے والے کی خاص ذہنی صلاحیت کو سامنے لاتی ہے تو نامعلوم افراد کی طرف سے لکھے گئے یہ مختصرجملے جو  سفر کرتے ہوئے بس کچھ ہی لمحوں کواچانک نظروں کے سامنے آتے ہیں اکثر بہت خاص سبق دے جاتے ہیں۔
 " وقت سے پہلے نہیں نصیب سے زیادہ نہیں "
"دیکھ پیارے زندگی ہماری"
 "موت سے دوستی سڑک سے یاری"
      

ہفتہ, فروری 20, 2016

"جنازہ"

  ظہر کے وقت ایک جنازہ اپنے آخری مقام پر روانگی کے لیے تیار تھا۔عجیب اتفاق ہے کہ آج سے تین برس پہلے اسی تاریخ اور اسی  وقت  گھر کی بنیاد رکھنے والے شراکت دار نے جانے میں پہل کی تھی۔
 آج سب چھوڑ جانا تھا۔ زندگی کی شام کا سورج ہمیشہ  کے لیے ڈوبنے کو تھا۔ دیہاڑی دار مزدور نے اپنے حصے کا کام کر کے خاموشی سے چلے جانا تھا۔وہ مکان جس کے ایک ایک راز سے وہ باخبر رہا خواہ وہ برسوں پہلے بچھائے گئے زمین دوز پائپ ہوں یا برقی قمقموں کی روشنیاں۔ وہ سب کا نگران اور محافظ تھا اور چٹکیوں میں ہر مسئلے کو جان جاتا۔آج اس لمحے اس نے  ہر شے سے اجنبی ہو جانا تھا۔یہ محض ایک انسان کی کہانی نہیں،ایک خاندان کی بنیاد رکھنے والے مرد وعورت کی کتھا نہیں بلکہ ہر مشقتی کی داستان بھی ہے۔سڑک بنانے والے محنت کش کی بےبسی ہے تو ہم سب کا فسانۂ زندگی بھی۔
 یہ تاریخ تو ہر ماہ آ جاتی ہے اور ظہر سے پہلے کا وقت بھی دن کے چوبیس گھنٹوں میں  روز آتا ہے لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کسی تاریخ،وقت اور مقام پر کوئی ایک خاص لمحہ ہمیشہ کے لیے ٹھہر جاتا ہے۔غور کرنے والے ذہن اور چاہنے والی آنکھ  میں وہ منظر  یاد کی ایک چھوٹی سے نظر نہ آنے والی قبر بن کر کچی مٹی کی  مہک دیتا  ہے اور اس لمحے آنکھ کا آنسو اس مٹی کو خشک نہیں ہونے دیتا۔
سنو!!! اگر تم چاہتے ہو کہ اتنے مضبوط ہو جاؤ ۔۔۔اتنےعقل مند ہو جاؤ کہ جانے والوں کی یاد میں کبھی آنکھ نم نہ ہو اورایسی محبتیں جن کے نشان تمہارے جسم وروح پر ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گئے کبھی  یاد نہ آئیں۔تو کبھی اس لمحے اس جگہ نہ جانا جہاں تم آخری بار ملے تھے۔آخری بار تھاما ہاتھ چھوڑا تھا۔۔۔آخری بار الوداع کہا تھا۔۔۔آخری بار نظر نے نظر کو چھوا تھا اور آخری بار یہ وعدہ کیا تھا کہ اب ہم نے زندہ تو رہنا ہے لیکن اپنے اپنے جسم میں اپنی ادھوری روح کے ساتھ۔۔۔
 تم تو چلے گئے لیکن وہ جگہ اس موسم اور اس لمحے نے تمہاری محبت کی ساری تشنگی اپنے اندر اُتارلی۔جان لو!اگر کبھی پلٹنا پڑ گیا تو اپنی بےحسی،بڑے پن یا فہم وفراست  سے کچھ نہ کچھ دان کرنا پڑے گا۔اس سمے سمجھداری کا جیسا بھی رین کوٹ پہن لو۔۔۔بن بادل برسات تمہیں اندر باہر سے شرابور کر دے گی۔

سوموار, فروری 15, 2016

"ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم "


۔"شکاری" کے خالق  معروف لکھاری جناب احمد اقبال کی ایک پراثر تحریر۔۔۔۔
ڈھونڈو گے گر ملکوں ملکوں 
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1987 ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﮨﯽ ﺑﺪﺣﻮﺍﺱ ﺗﮭﺎ ﺟﺘﻨﺎﮨﺮﺑﺎﭖ ﮐﻮ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ۔ﺑﺎﺭﺍﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺕ ﺳﻮ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﮐﮭﺎﻧﮯ کا انتظام کرنا تھا۔جون ایلیا ﻧﮯ ﻣﺸﻮﺭﮦ ﺩﯾﺎ "ﺟﺎﻧﯽ ﺭئیس ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺳﮯﭘﻮچھ ،ﺍﻥ ﮐﮯ ﻗﺒﻀﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺎﺕ ﮨﯿﮟ" رئیسﺍﻣﺮﻭﮨﻮﯼ ﻓﮑﺮِﺳﺨﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﻮ ﺗﮭﮯ۔ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎ ﮐﮯ ﺑﻮﻟﮯ"ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﺳﺐ ﮐﺮﺩﮮ ﮔﺎ۔۔ﻻﻟﻮ ﮐﮭﯿﺖ ﺳﭙﺮﻣﺎﺭﮐﯿﭧ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ "ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺑﺤرِﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻏﻮﻃﮧ ﺯﻥ۔۔۔۔ﺑﮍﯼ ﺣﯿﺮﺍﻧﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺐ ﭘﻮﭼﮭﻨﮯ ﭘﺮ ﺭﺍﮦ ﭼﻠﺘﮯﭘﮩﻠﮯﮨﯽ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺩﯾﺎ۔ﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻟﮯ ﺁﺗﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﻧﺌﮯ ﺑﺎﻭﺭﭼﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻧﭧ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ﺍﻭﭘﺮ ﻟﭩﮭﮯ ﮐﯽ ﻭﺍﺳﮑﭧ ﻧﯿﭽﮯ ﭼﺎﺭﺧﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻟﻨﮕﯽ۔ﺳﺘﺮ ﮐﮯ ﭘﯿﭩﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺑﺪﻥ ﺳﺮﺳﯿﺪ ﺧﺎﻥ ﻭﺍﻟﯽ ﺩﺍﮌﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﮔﻮﻧﺠﺘﯽ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﺁﻭﺍﺯ۔ﻭﮨﯿﮟ ﭘﭩﯽ ﭘﺮ ﭨﮏ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﻣﺪﻋﺎ ﮐﯽ۔ﺭئیس ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﭘﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍئے ﺍﻭﺭ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﻗﻄﻌﮧ دیکھ ﮐﮯ ﺑﻮﻟﮯ " ﮔﺮﻡ ﻣﺴﺎﻟﮧ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﮯ ﺁﺝ۔۔ﮐﮩﮧ ﺩﯾﻨﺎ ۔۔ﺧﯿﺮﻣﯿﺎﮞ۔۔۔ﮐﯿﺎ ﮐﮭﻼؤﮔﮯ ﺑﺎﺭﺍﺗﯿﻮﮞ ﮐﻮ۔ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﮐﺎ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻧﻔﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼﻧﮯ ﻟﮕﮯ"ﮔﺎﺟﺮ ﮐﺎ ﺣﻠﻮﺍ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﺎ "۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺣﯿﺮﺍﻧﯽ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺑﻨﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺧﻔﮕﯽ ﺳﮯ ﺑﻮﻟﮯ" ﻣﯿﺎﮞ ﺳﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔۔۔۔۔۔ﻧﺌﯽ ﮔﺎﺟﺮ ﮨﮯ ﭘﺎﻧﯽ ﻭﺍﻟﯽ۔۔ﮐﮭﻮئے ﮐﯽ ﻣﺎﺭ ﺩﻭ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺫﺍﺋﻘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺗﻮ ﺟﻮ ﺭﮐﮭﻮﮔﮯ ﮐﮭﺎﻟﯿﮟ ﮔﮯ۔ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﺧﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﻣﻞ ﺟﺎئے یہ ﮨﻤﯿﮟ ﻣﻨﻈﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ"ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ۔ﺩﯾﮕﺮ ﺍﻣﻮﺭ ﻃﮯ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﻮﭼﻠﺘﮯ ﭼﻠﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﮧ ﺑﯿﭩﮭﺎ " ﻣﯿﮟ ﺭئیس ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﭘﺮ ﺁ ﮔﯿﺎ۔ ﭘﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯿﺴﺎ ﭘﮑﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ"۔ﻧﺎﮔﻮﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭﺳﮯ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﺮﯼ ﻟﮕﯽ۔۔۔ﺍﻭﺭ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﻟﮕﺘﯽ۔۔ﮐﻮﺋﯽ ﻣﮩﺪﯼ ﺣﺴﻦ ﺧﺎﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﮧ ﻣﻌﺎﻭﺿﮧ ﺗﻮ ﻣﻞ ﺟائے ﮔﺎ ﻣﮕﺮ ﭘﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭖ ﮔﺎﺗﮯ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﯿﮟ۔۔ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﻭﮦ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ۔ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﻧﮯ ﺭئیس ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮯ ﺣﻮﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﻟﺤﺎﻅ ﮐﯿﺎ۔ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻗﺒﻞ ﺭﺍﺕ ﺑﺎﺭﮦ ﺑﺠﮯ ﮐﺎﻝ ﺑﯿﻞ ﭘﺮﻧﮑﻞ ﮐﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﺧﻮﺍﻥ ﭘﻮﺵ ﺳﮯ ﮈﮬﮑﺎ ﺗﮭﺎﻝ لیے ﻣﻮﺟﻮد۔۔۔ﮐﺴﯽ ﺗﻘﺮﯾﺐ سے ﻟﻮﭨﮯ ﺗﮭﮯ۔۔ﺑﻮﻟﮯ"ﻟﻮ ﻣﯿﺎﮞ۔ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮨﻢ ﮐﯿﺴﺎ ﭘﮑﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ"ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺯﻭﮐﯽ ﻣﯿﮟ بیٹھ ﯾﮧ ﺟﺎ ﻭﮦ ﺟﺎ۔۔ﯾﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﻋﺒﺚ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻓﻨﮑﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺳﻨﺪ ﺗﮭﺎ ﺑﺎﺭﺍﺕ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻗﺒﻞ ﻃﻠﺐ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ"ﻣﯿﺎﮞ ﺑﻨﮍﮮ ﮐﯽ ﺩﯾﮓ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﮔﺎ "۔ﻣﯿﮟ ﺳﭩﭙﭩﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ "ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ"۔ ﻭﮦ ﮨﻨﺴﮯ ﺍﻭﺭﺑﻮﻟﮯ"ﻣﯿﺎﮞ ﺩﻟﮩﻦ ﮐﮯ ﺳﺎتھ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺟﺎئے ﮔﺎ۔۔ﺧﯿﺮﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﮔﮯﮨﻢ"ﺗﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎتھ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮔﻮﭨﮯ ﮐﮯ ﮐﺎﻡ ﻭﺍﻟﮯ ﺧﻮﺍﻥ ﭘﻮﺷﻮﮞ ﺳﮯ ﮈﮬﮑﯽ ﺩﻭ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺩﯾﮕﯿﮟ ﺍﻟﮓ ﻻئے۔۔ﺧﻮﺩ ﺳﻨﮩﺮﮮ ﻃﺮﮮ ﻭﺍﻟﯽ ﭘﮕﮍﯼ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﺮﻭﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻋﺼﺎ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﮐﺮﺳﯽ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺷﺎﮔﺮﺩﻭﮞ ﮐﻮﮈﺍﻧﭧ ﮈﭘﭧ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﯿﭩﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﺨﺸﺎ۔ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻓﺎﺭﻍ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﮈﺍﻧﭧ ﻟﮕﺎﺗﮯ "ﻣﯿﺎﮞ ﻣﮩﻤﺎﻥ ﮨﻮ؟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮩﻦ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﺍﺕ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﺰﺑﺎﻥ ﮨﻮ ﺗﻢ۔۔ﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﻮ ﻣﮩﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ۔ﮐﺴﯽ ﻣﯿﺰ ﭘﺮ ﮐچھ ﮐﻢ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ "ﺭﺧﺼﺘﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮﻭﮦ ﻏﺎﺋﺐ۔۔ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔۔ﮐﯿﺴﮯ ﭼﻠﮯﮔﺌﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻟﺌﮯ ﺑﻐﯿﺮ؟ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺍﺳﺒﺎﺏ ﺳﻤﯿﺖ ﺟﺎ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﻭﻟیمہ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﭼﻮﺗﮭﯽ ﮐﯽ ﺭﺳﻢ۔۔ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺩﻥ ﻓﺮﺻﺖ ﻣﻠﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮔﯿﺎ۔ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭﭘﺎﺋﯽ ﮈﺍﻟﮯ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﻣﻠﮯ۔ﻣﯿﮟ ﻧﮯﮔﻠﮧ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﺳﺎﺭﺍ ﮐﺎﻡ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ۔خرابی ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﯽ ﮐﮧ ﭘﯿﺴﮯ ﻟیے ﺑﻐﯿﺮﭼﻠﮯ ﺁئے"۔ﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍئے ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ " ﻣﯿﺎﮞ ﻟﮍﮐﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﮯﮨﻢ ﻧﮯ۔ﺍﻟﻠﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺴﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﻮ، ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ﻧﺼﯿﺐ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺩﮮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻢ ﺧﻮﺩ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﻮ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺮﺗﮯ ﺩﻡ ﺗﮏ ﻧﮧ ﺁﺗﺎ "ﻣﯿﮟ ﺩﻡ ﺑﺨﻮﺩ ﭘﮕﮍﯼ ﻭﺍﻻ ﮐﻮ،ﺍﺱ ﺑﺎﻭﺭﭼﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻃﺮﮦ ﺩﺳﺘﺎﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﺎﻗﺎﺑﻞ ﯾﻘﯿﻦ ﻭﺿﻌﺪﺍﺭﯼ ﻓﺮﺍﺧﺪﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻮﮐﻞ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻈﺮﻣﯿﮟ ﻣﺎؤﻧﭧ ﺍﯾﻮﺭﺳﭧ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﻧﭽﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔۔ ﯾﮧ ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺭﻭﭘﮯﮐﯽ ﺭﻗﻢ ﺗﮭﯽ۔ ﺁﺝ ﺳﮯ ﺳﺘﺎﺋﯿﺲ ﺳﺎﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﯿﺲ ﮨﺰﺍﺭ ﺁﺝ ﮐﮯ ﮐﻢ ﺳﮯ ﮐﻢ ﺑﮭﯽ ﺩﻭ ﻻکھ ﺗﻮ ﺗﮭﮯ ﺷﺎﯾﺪ۔ ﺟﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﻭ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﮭﻮﮌﺩﯾﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻧﺼﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﻮں گے ﺗﻮ ﻣﻞ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺮﻧﮯ ﺗﮏ ﺍﯾﺴﺎ ﺭﮨﺎ ﮐﮧ ﮨﻢ ﻓﻮﻥ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺗﻘﺮﯾﺐ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﺍﯾﺴﮯ ﺳﻨﺒﮭﺎﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﯿﺰﺑﺎﻥ ﮨﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﺍﺏ ﯾﮧ ﻓﻘﺮﮦ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭼﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮒ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟﻭﮦ ﻣﺴﮑﺮﺍئے ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻟﮯ " ﻣﯿﺎﮞ۔ﻟﮍﮐﯽ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﮯﮨﻢ ﻧﮯ۔ﺍﻟﻠﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺴﺎ ﻭﻗﺖ ﮨﻮ، ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺁﺳﺎﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ۔ﻧﺼﯿﺐ ﮐﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩﮨﯽ ﺩﮮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻢ ﺧﻮﺩ ﺁﮔﺌﮯ ﮨﻮ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺮﺗﮯ ﺩﻡ ﺗﮏ ﻧﮧ ﺁﺗﺎ "
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ﮈﮬﻮﻧﮉﻭ ﮔﮯ ﮔﺮ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﻣﻠﮑﻮﮞ ، ﻣﻠﻨﮯ ﮐﮯ ﻧﮩﯿﮟ ، ﻧﺎﯾﺎﺏ ﮨﯿﮟ ﮨﻢ
ماخوذ
احمد اقبال

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...