صفحہِ اول

بدھ, فروری 15, 2017

"صاحباں کے مرنے پر کُل خدائی آ گئی"

محترمہ بانو قدسیہ کے انتقال(5فروری 2017) کے بعد جنابمستنصرحسین تارڑ کے آنے والے دو کالم۔۔۔
٭1) 12فروری 2017۔۔۔
صاحباں کے مرنے پر کُل خدائی آ گئی۔۔۔مستنصرحسین تارڑ 
 ایک مرتبہ پھر ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر ’’داستان سرائے‘‘ کی جانب جتنی بھی گلیاں جاتی تھیں، جتنی سڑکیں اُس سرائے کی طرف اترتی تھیں وہ سب کی سب لوگوں کے ہجوم سے اَٹی پڑی تھیں، اتنے لوگ بے شمار کہ وہ حرکت نہ کرتے تھے، ہولے ہولے سرکتے تھے، نوجوان عورتیں اور بوڑھیاں جیسے گھر سے کسی ماتم کدہ کی جانب رواں ہوں، اُن کے چہرے الم کی تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے، صرف اُن کی آنکھیں تھیں جو آنسوؤں سے روشن ہوتی تھیں۔۔۔ وہاں معاشرے کے ہر طبقے کے افراد چلے آتے تھے، غریب اور مسکین بھی، ثروت مند اور حکمران بھی، کئی سفید ڈاڑھیوں والے نامعلوم درویش بھی۔۔۔ اور یہ سب سر جھکائے آنے والے لوگ حیرت انگیز طور پر آپس میں گفتگو نہ کرتے تھے، صرف اُن کی قدموں کی سرسراہٹ کی آواز آتی تھی جیسے کسی درگاہ پر حاضری دینے والے معتقدین کے قدموں سے آتی ہے۔۔۔ کبھی کبھار کسی پولیس کے ہوٹر کی آواز ماحول کی خاموشی پر ایک الم ناک چیخ کی مانند اتر کر اُس کو کرچی کرچی کر دیتی ہے۔۔۔
 آخر یہ کون سا میلہ تھا جہاں لوگ کشاں کشاں چلے آ رہے ہیں، کیا یہ اس جگ والا وہی میلہ تھا جو تھوڑی دیر کا ہوتا ہے، ہنستے ہوئے رات گزر جاتی ہے اور کچھ پتا نہیں سویر کب ہو جائے، وہی موت کا میلہ تھا۔اور آخر یہ کون سا ’’کھیل تماشا‘‘ ہے کہ اسے دیکھنے کی خاطر ایک دنیا اُمڈ اُمڈ آتی ہے۔
۔’’زبیر۔۔۔ یہ جان لو کہ یہ جنازہ اشفاق احمد کی بیوی کا نہیں، یہ بانو قدسیہ کا جنازہ ہے‘‘۔
 اور آج بانو قدسیہ ہار گئی تھی۔۔۔ جب اشفاق احمد نے اُس کے لئے اپنا خاندان، اپنا حسب نسب، اپنی جائیداد اور سب سگے چھوڑ دیئے، اشفاق کو اس لئے عاق کر دیا گیا کہ اُس نے اُن سب کی مخالفت کے باوجود چپکے سے چند دوستوں کے ساتھ قدسیہ بانو چٹھہ سے نکاح کر لیا تھا اور اُسے بانو قدسیہ کا نام دیا تھا تو اُس لمحے اُس چٹھہ جاٹ لڑکی نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنے پٹھان محبوب کے لئے اپنا سب کچھ تیاگ دے گی۔۔۔ ساری عمر اُس کی باندی بنی رہے گی، اُس کے پیچھے پیچھے سر جھکائے چلے گی، اپنی باگیں کھینچ کر اپنی انا اور تخلیق کے گھوڑے کو کبھی اس کرشن کی سرکشی کے گھوڑے سے آگے نہیں لے جائے گی۔۔۔ وہ اپنے آپ کو وقف نہیں تلف کر دے گی۔۔۔ وہ ایک میرا بائی ہو گئی جو کرشن سے بیاہی گئی اور ساری عمر اُس کے گیت گاتی رہی۔
ہے آنکھ وہ جو شام کا درشن کیا کرے
ہے ہاتھ وہ جو بھگوان کا پوجن کیا کرے
یعنی۔۔۔ رانجھا رانجھا کر دی میں آپ ہی رانجھا ہوئی۔۔۔
 اُس نے اشفاق احمد کو اپنا شام، اپنا کرشن، اپنا رانجھا اور مہینوال کر لیا۔۔۔ یہ لاہور کا ’’جادو گھر‘‘ فری میسن ہال تھا، کوئی ادبی تقریب اختتام پذیر ہوئی اور میں بانو آپا سے گفتگو کرتا باہر آنے لگا تو وہ صدر دروازے پر رُک گئیں ۔ ’’آئیں بانو آپا‘‘۔۔۔ وہ رُکی رہیں، دہلیز کے پار قدم نہ رکھا اورپھر کہنے لگیں ’’خان صاحب اپنے دوستوں اور مداحوں میں گھرے ہوئے ہیں، جب وہ آئیں گے اور باہر جائیں گے تو میں اُن کے پیچھے جاؤں گی، اُن سے پہلے نہیں‘‘۔مجھے یہ شوہر نامدار کی اطاعت کا رویہ اچھا نہ لگا تو میں نے شاید کہا کہ بانو آپا پلیز۔۔۔ تو وہ کہنے لگیں ’’مستنصر، پہلے انجن آگے جائے گا اور پھر اُس کے پیچھے ہی گاڑی جائے گی‘‘۔۔۔ اس اطاعت گزاری کے باوجود اشفاق صاحب کے خاندان نے کبھی اُنہیں مکمل طور پر قبول نہ کیا یہاں تک کہ اشفاق صاحب کے جنازے پر اُن کا ایک بھائی ایک سفید پیراہن میں تھا جس پر لکھا تھا ’’بانو قدسیہ میرے بھائی کی قاتل ہے‘‘۔۔۔ اُن کا کمالِ نَے نوازی اُن کے کچھ کام نہ آیا۔ میں یہاں وہ لفظ نہیں لکھ سکتا جو اُن کے کچھ اہل خاندان اُن کے لئے استعمال کرتے تھے۔۔۔ اُدھر اشفاق احمد بھی ایک بلند سنگھاسن پر براجمان ایک ایسے دیوتا تھے جن کے چرنوں میں اگر عقیدت کے پھول کم نچھاور کئے جاتے تھے تو وہ اسے پسند نہ کرتے تھے۔ پٹھان اشفاق احمد اکثر بابا اشفاق احمد پر حاوی ہو جاتا تھا۔۔۔
 یہ عجب اتفاق ہے کہ میں اُس روز ماڈل ٹاؤن پارک کے دوستوں کے ہمراہ عادل کے ترتیب شدہ سفر کے نتیجے میں لاہور سے باہر۔۔۔ بھائی پھیرو اور جڑانوالا کی جانب پنجاب کی ایک عظیم رومانوی داستان کی کھوج میں مرزا صاحباں کی نسبت سے مشہور گاؤں داناباد گیا تھا۔۔۔ صاحباں اور مرزا کی قبر پر فاتحہ پڑھ کر لوٹ رہا تھا، اور بارش بہت شدید تھی جب ایک ہم سفر نے مجھے بتایا کہ بانو قدسیہ مر گئی ہے۔۔۔
 میں اُس شب برستی بارش میں ’’داستان سرائے‘‘ پہنچا تو وہاں اتنا ہجوم تھا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔۔۔ نورالحسن روتا چلا جاتا تھا۔۔۔ اُن کا بیٹا اسیر میرے گلے لگ کر رو دیا۔۔۔
۔’’آپ اندر جا کر بانو آپا کو دیکھ لیں‘‘۔۔۔
’’نہیں، میں نے نہیں دیکھنا‘‘۔۔۔
 تو یہ اگلا دن ہے جب ’’داستان سرائے‘‘ کی جانب جاتے سب راستے ہجوم سے بھرے پڑے تھے اور آج بانو قدسیہ اپنے کرشن سے اس لئے ہار گئی تھیں کہ اُن کا جنازہ اُن سے بہت بڑا تھا۔۔۔
صاحباں ہار گئی تھی۔۔۔
مرزا کے جنازے پر کم لوگ آئے تھے۔۔۔
صاحباں کے مرنے پر پوری خدائی آ گئی تھی۔
۔۔۔
٭2)15فروری 2017)۔املتاس کا ایک زرد پُھول بانو قدسیہ کے سفید بالوں پر۔۔۔مستنصرحسین تارڑ
 اشفاق صاحب کی وفات کے بعد بانو آپا حقیقتاً بھری دنیا میں اکیلی رہ گئیں۔۔۔جس دیوتا کے چرنوں میں وہ ہمہ وقت عقیدت اور اطاعت گزاری کے پھُول چڑھاتی تھیں، وہ اپنا سنگھان چھوڑ کر چلا گیا تھا۔۔۔صرف اُن کے بیٹے اسیر نے اُن کا ساتھ نہ چھوڑا، بقیہ دو بیٹے بھی اپنی ماں کے وجود سے بے خبر اپنی اپنی حیات کے بکھیڑوں میں اُلجھے رہے، منظور جھلّے نے کہا تھا کہ :
واجاں ماریاں کئی وار وے۔۔۔ کسے نے میری گَل نہ سُنی
 اُنہوں نے بھی آوازیں بہت دیں پر کسی نے اُن کی بات نہ سُنی۔۔۔ نہ اشفاق صاحب کے رشتے داروں نے اور نہ ہی اُن کی کسی بہو نے۔۔۔بلکہ اُن پر اپنے دروازے بند کرلئے۔۔۔بانو کی زندگی یونانی المیہ ڈراموں سے بھی کہیں بڑھ کر الم ناک اور دُکھ بھری تھی۔ اشفاق صاحب کے رخصت ہونے پر وہ کبھی کبھار صبح سویرے ماڈل ٹاؤن پارک میں چلی آتیں، اپنا دوپٹہ بار بار سفید بالوں پر درست کرتیں، اپنے دھیان میں مگن چلی جاتیں۔۔۔وہ جون جولائی کے قہر آلود گرم موسم تھے اور پارک میں املتاس کے جتنے بھی شجر تھے اُن پر زرد چینی لالٹینیں روشن ہو گئی تھیں۔ ہوا کا ایک جھونکا سرسراتا آیا، املتاس کے پھولوں کے انبار میں ارتعاش پیدا ہوا اور وہ پھول درختوں سے جدا ہو کر ایک زرد بارش کی صورت دھیرے دھیرے گرنے لگے۔ ان میں سے ایک پھول، ایک زرد تتلی کی مانند ایک بھنورے کی مانند گھومتا اترا اور بانو آپا کے سفید بالوں میں اٹک گیا۔ وہ اُس کی موجودگی سے بے خبر تھیں اور یہ منظر میرے ذہن کے کینوس پر ہمیشہ کے لئے نقش ہوگیا۔۔۔ایک بوڑھی ہیر جس کا رانجھا اُس سے بچھڑ گیا تھا اُس کی اداسی میں گُم اور اُس کے سفید بالوں میں املتاس کا ایک زرد پھول یُوں اٹکا ہوا ہے جیسے وہ اُس کے محبوب کے ہاتھوں کا لکھا ہوا ایک خط ہو اور وہ بے خبر ہے کہ شاید اُس کے رانجھے نے اُسے یہ زرد پریم پتر بھیجا ہے اور تب مجھے محسوس ہوا جیسے اُس املتاس کے زرد پُھول کا رنگ اُن کے بالو میں سرایت کرتا اُنہیں زرد کرتا ہے، اُن کے چہرے پر پھیلتا اُسے سرسوں کا ایک کھیت کرتا ہے اور بانو قدسیہ اُس لمحے ملک چین کی کوئی زرد شہزادی لگ رہی تھی۔۔۔میں نے اس بے مثال زرد تصویر کو اپنے ایک کالم میں نقش کیا۔۔۔چونکہ میں نہ کبھی کسی کو اطلاع کرتا ہوں اور نہ ہی اپنے کالم کی کاپی روانہ کرتا ہوں کہ دیکھئے یہ میں نے آپ کے بارے میں لکھا ہے کہ میں کسی کے لئے نہیں صرف اپنے لئے لکھتا  ہوں۔۔۔تقریباً ایک ماہ کے بعد بانو آپا کا ایک خط آیا، اُن کے کسی چاہنے والے نے اُنہیں اس کالم کی فوٹوسٹیٹ روانہ کی تھی، بانو آپا نے جس طور اُس تحریر کو سراہا اُسے میں یہاں نقل کرنے سے گریز کرتا ہوں۔
 وہ میرے تینوں بچوں کی شادیوں میں شریک ہوئیں، ہر ایک کی ہتھیلی پر کچھ رقم رکھی۔۔۔اُن کے لئے دعا کی، اُنہیں پیار کیا۔۔۔ اُن کی موت کی خبر اُن تینوں تک نیویارک، فلوریڈا اور ہنوئی میں پہنچی تو وہ کتنے دُکھی ہوئے یہ میں بیان نہیں کرسکتا۔۔۔سُمیر نے کہا، ابّو میں نے ابھی تک وہ نوٹ سنبھال رکھا ہے جو بانو آپا نے مجھے پچھلی عید پر عیدی کے طور پر دیا تھا۔ وہ ہمیشہ میری خوشیوں میں شریک رہیں۔۔۔میری پچھترویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے لئے وہ اپنی نرس اور زبیر اکرم کے سہارے چلی آئیں۔ وہ اور عبداللہ حسین صدارت کے لئے میری پسند تھے کہ وہی میرے نزدیک اردو ادب کے سب سے بڑے نثرنگار تھے۔۔۔ جب ابرارالحق اور فریحہ پرویز میری سالگرہ کے گیت گانے کے لئے سٹیج پر آئے تو وہ مسکرانے لگیں، کبھی کبھی سر ہلا کر اُنہیں داد دیتیں۔۔۔جب گلزار صاحب کی آواز سپیکر پر گونجی اُنہوں نے سالگرہ کے حوالے سے کچھ توصیفی کلمات کہے تو پُوچھنے لگیں۔۔۔ یہ کون صاحب ہیں۔۔۔میں نے کہا بانو آپا یہ میرے دوست ہیں۔ یہ کہاں ہوتے ہیں۔۔۔ بعدازاں اُنہوں نے میرے بارے میں کچھ گفتگو کی اور میں جان گیا کہ بانو آپا اب بہکتی جا رہی ہیں، یادداشت اُن کا ساتھ چھوڑ رہی ہے، اُن کی آپ بیتی ’’راہ رواں‘‘ میں قدم قدم پر اُن کے بھٹک جانے کے آثار ہیں۔۔۔ وہ بُھلکڑ ہو گئی تھیں۔۔۔جِی چاہنے کے باوجود میں ’’داستان سرائے‘‘ جانے سے گریز کرتا کہ وہ نہ صرف خود ایک بھولی ہوئی داستان ہیں بلکہ وہ تو اپنی داستان بھی بھول چکی ہیں۔ ایک بار اُن کے ہاں گیا تو بہت دیر کے بعد کہنے لگیں ’’مستنصر تم ہو۔۔۔ تم تو اشفاق صاحب کے ڈراموں کے ہیرو ہوا کرتے تھے۔۔۔بُوڑھے کیوں ہو گئے ہو؟‘‘

فروری2017۔۔جناب مستنصرحسین تارڑ۔کراچی لٹریچرفیسٹیول۔۔
۔’’داستان سرائے‘‘کے آس پاس سب گلی کُوچے خلق خدا سے بھرے پڑے تھے، میمونہ کا کہنا تھا کہ بانو آپا کا جنازہ اس لئے 
اتنا بڑا تھا کہ لوگوں نے اُنہیں ہمدردی کا ووٹ ڈالا تھا۔۔۔جو کچھ اُن پر گزری اور اُنہوں نے اُف تک نہ کی، برداشت کیا تو لوگ اُن کے صبر کو سلام کرنے آئے تھے۔ وہ اشفاق احمد کی بیوی کے جنازے پر نہیں۔۔۔بانو قدسیہ کے جنازے پر آئے تھے۔۔۔اگر اُنہیں اس ہجوم کا کچھ اندازہ ہوتا تو وہ وصیت کر جاتیں کہ لوگو مت آنا۔۔۔ میرے جنازے پر کم آنا۔۔۔میرے محبوب کی نسبت میرے جنازے پر کم آنا۔۔۔ پر لوگ کہاں سنتے ہیں، وہ آئے اور بے حساب آئے۔ اور اس کے باوجود بانو آپا نے تُرپ کا آخری پتّا اپنی موت کے بعد یُوں پھینکا۔۔۔ کہ اشفاق صاحب کے قدموں میں دفن ہو گئیں۔ میں نے آگے بڑھ کر جھانکا تو اُن کی قبر بہت گہری تھی، لحد میں وہ اپنے سفید کفن میں روپوش سمٹی سی، سجائی ہوئی، شرمائی ہو ئی پڑی تھیں کہ اُن کے سرہانے اُن کا محبوب سویا ہوا تھا۔۔۔ اور بالآخر اُن کو وصل نصیب ہو گیا تھا۔ اور جب گورکنوں نے کُدالوں سے اُن کی قبر کو مٹی سے بھر دیا اور اُس پر پھول چڑھائے گئے تو مجھے ایک مرتبہ پھر عذرا پاؤنڈ کا وہ نوحہ یاد آگیا جو اختر حسین جعفری نے لکھا تھا۔۔۔
تجھے ہم کس پُھول کا کفن دیں
تو جُدا ایسے موسموں میں ہوا
جب درختوں کے ہاتھ خالی تھے

 املتاس کا ایک زرد بھنورا پُھول بھی نہ تھا۔۔۔

منگل, فروری 07, 2017

’’دروازے۔۔۔عرفان جاوید"



عرفان جاوید کے دروازے۔۔۔کالم جاوید چوہدری۔۔ اتوار5 فروری2017

قدرت اللہ شہاب مشہور ادیب اور بیوروکریٹ تھے۔ وہ گورنر جنرل غلام محمد، سکندر مرزا اور صدر ایوب خان کے پرنسپل سیکریٹری رہے۔ یہ عہدہ بیوروکریسی میں طاقت کی معراج سمجھا جاتا تھا۔ شہاب صاحب نے بنگال میں قحط کے دوران غلّے کے ذخائر بھوکے عوام کے لیے کھول دیے، جھنگ میں عوامی فلاح کے بیشمار کام کیے اور وہیں ان کا ایک پراسرار روحانی شخصیت سے سامنا ہوا، ایوب خان کو پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھنے کا مشورہ بھی انھوں نے ہی دیا تھا، شہاب صاحب نے ایک ایماندار افسر کی سادہ زندگی گزاری، اعلیٰ افسانے لکھے اور بے مثال سوانح عمری ’شہاب نامہ‘ تحریر کی۔

 احمد بشیر شہاب صاحب کے دوست تھے‘ وہ معروف صحافی اور ادیب تھے۔ وہ سوشلسٹ تھے اور وہ روحانی معاملات پر زیادہ یقین نہیں رکھتے تھے‘ شہاب صاحب 1960ء کی دہائی میں وزارت ِ تعلیم کے سیکریٹری تھے اور احمد بشیر ملازم‘ یہ دونوں ممتاز مفتی کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب تھے۔ ایک روز احمد بشیر کو قدرت اللہ شہاب کا فون آیا۔ شہاب صاحب کی آواز میں ہیجان تھا انھوں نے احمد بشیر سے کہا ’’آپ فوراً میرے دفتر آ جائیں‘‘ احمد بشیر شہاب صاحب کے دفتر پہنچے تو وہ اکیلے بیٹھے تھے۔ وہ احمد بشیر کو دیکھتے ہی بولے ’’آج میں بے انتہا خوش ہوں۔ مجھے بتا دیا گیا ہے‘ میں نے کب مرنا ہے۔‘‘
 شہاب صاحب خلاف ِ مزاج اپنی خوشی چھپا نہیں پا رہے تھے۔ احمد بشیر نے سوال کیا ’’آپ کو کس نے اور کیا بتایا‘‘ شہاب صاحب نے جواب دیا ’’میں صرف اتنا بتا سکتا ہوں مجھے ممتاز مفتی سے پہلے موت آئے گی۔‘‘ احمد بشیر نے یہ کشف مذاق میں اڑا دیا لیکن یہ بات بعد ازاں سو فی صد درست ثابت ہوئی۔
 شہاب صاحب چھیاسٹھ برس کی عمر میں فوت ہو گئے جب کہ ممتاز مفتی نے نوے برس کی طویل عمر پائی۔ یہ واقعہ احمد بشیر نے عرفان جاوید کو سنایا تو اُ س نے پوچھا ’’آپ لوگ کہیں شہاب صاحب کے عہدے کی وجہ سے تو ان سے متاثر نہیں تھے‘‘ احمد بشیر غصے میں آ گئے اور کہنے لگے ’’ہرگز نہیں۔ وہ بہت نفیس آدمی تھے وہ یحییٰ خان کے زمانے میں اصولی بنیادوں پر مستعفی ہو گئے تھے ہمیں ان کی ملازمت چھوڑنے اور وفات کے بعد دروغ گوئی کا کیا فائدہ؟‘‘
 یہ واقعہ عرفان جاوید نے اپنی خاکوں کی کتاب ’’دروازے‘‘ میں بیان کیا۔ ’’دروازے‘‘ میں ایسے سینکڑوں دلچسپ واقعات، تاریخی حقائق، ادیبوں کے قصّے اور عام لوگوں کی زندگیوں کا احوال ہے۔ اس میں عالمی ادب کی دلآویز باتیں‘ نفسیات اور فلسفے کے نکتے بھی ہیں۔ دروازے کے چند خاکے ایک برس تک اخبار میں شائع ہوتے رہے لیکن باقی نئے ہیں۔ میں نے ’’دروازے‘‘ اٹھائی تو میں یہ کتاب مکمل کیے بغیر سو نہ سکا‘ مجھے یقین ہے آپ بھی یہ کتاب شروع کرینگے تو ختم کیے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔
 آپ ’’دروازے‘‘ کا ایک اور واقعہ ملاحظہ کیجیے۔ تقسیم ہند کے موقع پر سکھوں کا ایک طبقہ پنجاب کو اکٹھا رکھنا چاہتا تھا۔ سکھوں کے لیڈر ماسٹر تاراسنگھ کا ساتھی گیانی ہری سنگھ اپنے ساتھیوں کے ساتھ قائداعظم کو ملا اور پاکستان میں رہتے ہوئے خودمختاری کی بات کی۔
 قائداعظم نے ان سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے جواب دیا ’’ماسٹر تارا سنگھ کو میرا پیغام دیدیں میں ان سے ملنے امرتسر جانے کے لیے تیار ہوں یہ صحیح معنوں میں سکھوں کے لیڈر ہیں۔ میں انھیں ان کی خواہش سے زیادہ دینے کے لیے تیار ہوں‘‘ گیانی ہری سنگھ قائد اعظم کا پیغام لے کر ماسٹر تارا سنگھ کے پاس گئے لیکن ماسٹر تارا سنگھ پر انتہا پسند ہندو سردار پٹیل کا بہت اثر تھا۔ وہ کرپان پر ہاتھ رکھ کر دھاڑنے لگا اور قائداعظم کے ساتھ ملنے سے صاف انکار کر دیا۔
 آزادی کے بعد گیانی ہری سنگھ پاکستان میں رُک گئے اور ننکانہ صاحب میں قیام کیا۔ ایوب خان کے دور میں تارا سنگھ ننکانہ صاحب آیا اور گیانی جی کو دیکھ کر بری طرح رونے لگا‘ وہ ندامت سے بولا ’’گیانی! مجھے معاف کر دو، میں نے پنتھ کے خلاف بڑا گناہ کیا‘‘ یہ واقعہ بھی احمد بشیر نے عرفان جاوید کو سنایا اور آخر میں بتایا ’’مجھے یہ بات خود گیانی ہری سنگھ نے سنائی اور اس کی تصدیق بعدازاں سکھ دانشور جسونت سنگھ کنول نے 1981ء میں لاہور میں میرے سامنے کی‘‘ دروازے میں مستنصر حسین تارڑ کا خاکہ بھی موجود ہے۔
 مستنصرحسین تارڑ نے بھی عرفان جاوید کو بیشمار واقعات سنائے‘ ان میں سے ایک واقعہ لاہور کے دو کرداروں سے متعلق تھا‘ ایک لڑکا اور ایک لڑکی اندرونِ شہرلاہور میں رہتے تھے، وہ محبت میں مبتلا ہو گئے۔ اُس دورمیں محبت کی شادی کو معیوب سمجھا جاتا تھا چنانچہ والدین نے ملاقات اور بات چیت پر پابندی لگا دی۔ دونوں نے طے کر لیا ہم آپس میں رابطہ نہیں رکھیں گے مگر کہیں اور شادی بھی نہیں کرینگے۔ کئی برس بیت جاتے ہیں۔ لڑکی کے بہن بھائیوں کی شادیاں ہو جاتی ہیں لیکن وہ اپنے فیصلے پر قائم رہتی ہے۔ یہاں تک کہ اُس کی بوڑھی ماں اس غم میں نڈھال رہنے لگتی ہے وہ سوچتی رہتی ہے اس کی موت کے بعد لڑکی کا کون پرُسانِ حال ہو گا؟ مگر جب وہ لڑکی کو شادی کا کہتی ہے تووہ اپنی یہ بات دُہرا دیتی ہے کہ اگر وہ شادی کریگی تو اُسی لڑکے سے کریگی۔
 ماں بیٹی کو سمجھاتی ہے وہ اب تک شادی کر کے کئی بچوں کا باپ بن چکا ہو گا مگر لڑکی کو اپنی محبت پر یقین ہے۔ بالآخر ماں آمادہ ہو جاتی ہے اور یہ شرط رکھتی ہے لڑکی کو فوری شادی کرنا ہو گی، میری زندگی کا کوئی بھروسا نہیں میں تمہیں اپنی موت سے پہلے دلہن دیکھنا چاہتی ہوں۔ لڑکی کسی طرح لڑکے سے رابطے کا ذریعہ تلاش کرتی ہے۔ وہ لڑکے کو فون ملاتی ہے تو دوسری جانب سے وہی لڑکا فون اُٹھاتا ہے۔ لڑکی کی آواز سن کر وہ پوچھتا ہے ’’بارات کب لاؤں؟‘‘ لڑکی کہتی ہے ’’آج شام!‘‘ اُسی شام اُن دونوں کی شادی ہو جاتی ہے۔
 عرفان جاوید کے ’’دروازے‘‘ میں ’’سب رنگ‘‘ کے بانی اور ’’بازی گر‘‘ جیسے شاہکار کے مصنف شکیل عادل زادہ کی زندگی کے بیشمار رنگین واقعات بھی شامل ہیں۔ اُن کا مینا کماری کے گھر میں قیام، کرشن چندر، جون ایلیا اور جوش ملیح آبادی کے قصّے، ضیاء الحق سے ملاقات کا احوال، ہندوستان کے شہروں کی سیاحت اور گھاٹ گھاٹ کی پرُلطف کہانیاں یہ خاکہ بھی خاکہ نہیں الف لیلیٰ ہے، شکیل صاحب نے ’’دروازے‘‘ میں رئیس امروہوی کی ناگہانی موت کے راز سے بھی پردہ اٹھایا۔ وہ پچاس سال پہلے مشتاق احمد یوسفی کی اس نصیحت کا ذکر بھی کرتے ہیں جسے اُنھوں نے عمر بھر مشعلِ راہ بنائے رکھا ۔
 ’’دروازے‘‘ میں احمد فراز کی ذاتی زندگی کے کئی واقعات بھی ہیں، فراز اپنے ملازم میاں بیوی کے اکلوتے گونگے بہرے بچے سے کتنی محبت کرتے تھے‘ ان کی گرفتاری کی روداد اور جنرل حمید گُل سے ملاقات کا ماجرا بھی کتاب میں موجود ہے۔ ’’دروازے‘‘ میں درجنوں چھوٹے چھوٹے چٹکلے بھی ہیں۔
 مشہور افسانہ نگار منشا یاد اپنی جوانی کے زمانے میں نسیم حجازی سے ملنے گئے اور ان سے درخواست کی آپ مجھے اپنے دوستوں کے حلقے میں شامل کر لیں‘ یہ سن کر حجازی صاحب کہنے لگے ’’برخوردار! یہ عمر نئی دوستیاں بنانے کی نہیں ہوتی یہ پرانی دوستیوں پر نظر ثانی کی ہوتی ہے‘‘ عطا الحق قاسمی صاحب نے دعویٰ کیا بچپن کے دوستوں سے اس وقت دوستی قائم رہتی ہے جب ذہنی سطح ایک ہو یا پھر دلچسپی اور روزگار مشترک ہوں ورنہ ملاقات کے کچھ دیر بعد بات کرنے کے لیے کچھ نہیں بچتا دوست مختلف انسان بن چکے ہوتے ہیں۔ اسی طرح عموماً مرد اور عورت کی دوستی زیادہ دیر تک نہیں چلتی۔
 اس میں رومان یا دوسرے عوامل اثر انداز ہو جاتے ہیں، ایک مرتبہ فیض صاحب سے منوبھائی نے مشورہ مانگا تھا میں کس زبان میں شاعری کروں‘ فیض صاحب نے کلاسیک مشورہ دیا تھا ’’جس زبان میں خواب دیکھتے ہو۔‘‘ اے حمید کی زندگی کی بیشمار کہانیوں میں سے ایک کہانی درختوں اور پودوں کے احساسات کی کہانی ہے یہ اب یورپ و امریکا میں سائنسی طورپر تسلیم کی جا چکی ہے۔
 قیامِ پاکستان کے بعد لاہور کا ریڈیو اسٹیشن ایک اہم ثقافتی مرکز تھا ریڈیو پاکستان میں چوٹی کے شاعر اور ادیب اکٹھے ہوتے تھے۔ سردیوں کے دن تھے۔ زیڈاے بخاری مہتمم اعلیٰ تھے۔ دیوار کے ساتھ پیپل اور پیپلی کا ایک جوڑا ہوا میں جھومتا رہتا تھا۔ ایک روز بخاری صاحب نے درختوں کی جانب اشارہ کیا اور اے حمید نے اگلے روز دیکھا پیپلی کا درخت کٹا ہوا تھا اور اس کے تنے کا ٹنڈ زمین سے یوں باہر نکلا ہوا تھا جیسے ڈوبتے کا ہاتھ آخری مرتبہ پانی سے باہر آتا ہے۔ کٹے درخت کو دیکھ کر اے حمید کو یوں لگا جیسے ان کے گھر کا کوئی فرد مر گیا ہو۔
 واقعے کے چند روز بعد پیپل کا باقی رہ جانے والا درخت پیپلی کے دکھ میں مر جھانے لگا اور دو ماہ بعد خشک ہو کر مردہ ہو گیا۔ دروازے میں اے حمید کی سری لنکا، برما، ہندوستان کی آوارہ گردیوں کی بیشمار کہانیاں بھی ہیں اور ان کی بارش، جنگل، چائے، بادل، پرندوں وغیرہ سے رومان کی باتیں بھی‘ یہ باتیں دھیمی پھوار کی طرح اور پھول کی بھینی خوشبو کی مانند ہیں۔
 احمد ندیم قاسمی اپنے بٹوے میں ہر وقت کس دوست کی تصویر رکھتے تھے، مرتے وقت ’’اداس نسلیں‘‘ اور کئی شاہکار کتابوں کے مصنف عبداللہ حسین کو کیا خلش تھی، ’’ہر گھر سے بھٹو نکلے گا، تم کتنے بھٹو مارو گے‘‘ کا خالق نصیر جی ٹی روڈ پر ٹھنڈی بوتلوں کا کھوکھا لگاتا تھا اس نے کسمپرسی میں کینسر کے ہاتھوں وفات پائی اس کی آخری خواہش کیا تھی، تصدق سہیل ایک عجیب و غریب زندگی گزارنے والا افسانوی نوعیت کا بڑا مصور ہے‘ اس نے ساری زندگی شادی نہیں کی، پچاس سال لندن میں گزارے اور وہ اب پاکستان میں جانوروں اور پرندوں کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے۔
 یہ تمام لوگ عرفان جاوید کے ’’دروازے‘‘ کے پیچھے بیٹھے ہیں‘ ’’دروازے‘‘ فقط ایک کتاب نہیں‘ یہ گزری راتوں کا نوحہ اور بسر ہوتے مشاہیر کا مرثیہ ہے‘ میں نے طویل عرصے بعد ایک ایسی کتاب دیکھی جس میں شخصیات بھی ہیں‘ علم بھی‘ مشاہدہ بھی‘ تاریخ بھی اور ثقافت بھی‘ یہ کتاب پڑھنے کے بعد میرے دل سے بے اختیار نکلا ’’زندہ باد عرفان جاوید‘

سوموار, فروری 06, 2017

"تدفین کے آداب"

پانچ سال پہلے کا واقعہ ہے، ایک عزیزہ کی وفات کے موقع پر لاہور میں تدفین کے لیے قبرستان میں موجود تھے، سلیں رکھی جاچکی تھیں اور مٹی ڈالنے کا عمل شروع ہوچکا تھا۔۔۔۔۔
ایسے میں پیچھے سے آواز آئی کہ مٹی ڈالتے وقت کونسی آیات پڑھتے ہیں۔۔۔۔۔
 موجود لوگوں میں خاموشی سی چھا گئی، اکثر کو آتی ہی نہ تھی، کچھ کو کچی پکی یاد تھی اوریقیناً کچھ کو آتی بھی ہوگی۔۔۔۔۔۔
 لیکن ان سب سے پہلے سولہ سترہ سالہ گورکن کا بیٹا جو مٹی ڈالنے کے عمل میں بیلچہ سے شریک تھا، سیدھا ہوا اور کمال اعتماد سے بلند آواز میں وہ آیات پڑھ دیں۔۔۔۔۔
اس کے صاف تلفظ سے مجھ سمیت کئی لوگوں کوخوشگوار حیرت ہوئی۔۔۔۔۔
یہ آیات پڑھنے کے دوران بھی وہ اپنے کام میں مصروف رہا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 ہمارے ذہن میں یہ سوچ آسکتی ہے کہ اس کا بچپن بھی اسی ماحول میں گزرا، اس لیے اسے یاد ہوگئی ہوگی۔۔۔۔۔
بہرحال اس کے پڑھنے میں ایک شوق اور رغبت محسوس ہوئی۔۔۔۔۔۔
اصل بات یہ نہیں کہ اسے کیسے یاد تھی؟؟؟
بلکہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم بھی یاد کرلیں تو کتنا خوب ہوجائے۔
یہ سولہویں پارے میں موجود سورہ طٰہٰ کی آیت نمبر پچپن 55 ہے۔
تین دفعہ دونوں ہاتھوں میں مٹی بھر کرقبر پر ڈالنی ہے۔۔۔۔۔۔
پہلی دفعہ ڈالتے ہوئے پڑھنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ 
مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ۔۔۔۔۔
ترجمہ: اسی زمین سے ہم نے تمھیں پیدا کیا ۔۔۔۔
دوسری دفعہ ڈالتے ہوئے پڑھنا ہے۔۔۔۔۔
وَفِيْـهَا نُعِيْدُكُمْ۔۔۔۔۔
ترجمہ:اوراسی میں ہم تمھیں واپس (بعد موت) لے جائیں گے۔۔۔۔۔۔
تیسری دفعہ ڈالتے ہوئے پڑھنا ہے۔۔۔۔۔۔۔
وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى۔۔۔۔۔
ترجمہ:اور(قیامت کے روز) پھر دوبارہ اسی سے ہم تم کو نکال لیں گے۔۔۔۔
آیت بھی بہت آسان ہے اوربرکت بھی بہت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔