صفحہِ اول

جمعہ, اگست 19, 2016

"حال اور صاحبِ حال"

 انسان کائنات کی وجۂ تخلیق ہے۔کائنات کے اسرار پر غور کرنا ہماری اپنی زندگی کے لیے بھی اہم ہے۔اس کاذرہ ذرہ ہمیں کوئی نہ کوئی پیغام دیتا ہے۔آسمان کی  پنہائی میں جھانکنےاور زمین کی پرتوں کی سرسراہٹ ماپنے۔۔۔بلندوبالا پہاڑوں کی چوٹیوں کو قدموں تلے روندنے اور سمندروں  کی گہرائی  میں سانس لیتی مخلوق کی آواز سننے سے لے کر انسان نے کائنات کو کسی حد تک مسخر کرلیا ہےاور مزید کی جُستجو میں آگے بڑھ رہا ہے۔لیکن اتنا کچھ جاننے کے بعد اور اس علم کو بےدریغ پھیلانے سے لے کر ہم اگر اپنے مستقبل  سے قطعی لاعلم ہیں تو ماضی میں اپنی زندگی کے پہلے لمحے سے بھی ناواقف ہی رہتے ہیں۔
ہماری زندگی  ماضی اور حال کے درمیان سفر  کرتے گزر جاتی ہے جس میں مستقبل ایک دھندلکے کی مانند نگاہ رکھے ملتا ہے۔ ہم اپنے ماضی  سے تو بخوبی واقف ہوتے ہیں لیکن "صاحبِ حال" ہوتے ہوئے بھی اپنے حال کی بُنت پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔۔ سوال یہ ہے کہ  صاحب حال ؟ کیا معنی رکھتا ہے اور یہ حال کیا  ہے؟
ہم ہمیشہ سے جانتے ہیں کہ جس پر اس دُنیا میں رہتے ہوئے کسی اور دُنیا کے جلوے  آشکار ہو جائیں۔۔۔جو باطن کے سفر پر چل نکلے۔۔۔۔جس کی نگاہ قطرے میں سمندر اور سمندر میں قطرہ دیکھ لے،وہی صاحب حال ہے۔جس کے سامنے دُنیا کی حیثیت مشتِ خاک کے ذرے سے بھی کم ہو وہ صاحبِ حال ہے۔ اور "حال"کے لفظ سے ایک اور طرح سے بھی واقفیت  یوں ہوتی ہے کہ جب رات رات بھر جاری رہنے والی سماع کی محفلوں میں ہونے والی "نوٹوں کی بارش " کے سائے میں کوئی بےخود ہو کر ناچنا شروع کر دے یوں کہ تن بدن کا ہوش نہ رہے تو کہتے ہیں  کہ اُسے "حال" آ گیا۔اسی طرح عام  انسانوں کے عقائد کے مطابق کوئی کسی پاک روح یا بدروح کے زیرِاثرجلال میں آ جائے تو اسے بھی "حال" کہا جاتا ہے۔
ایک عام انسان  تو"صاحبِ حال" ہونے جیسی معراج کو چھو سکتا ہے اور نہ ہی " حال" میں آنے جیسے مافوق الفطرت تجربات کا داعی  بننے کا سوچ سکتا ہے۔درحقیقت عام زندگی بسر کرنے والا ہر شخص "صاحب ِحال" ہے۔اب یہ  اُس"حال" کے احساس کی بات ہے کہ کوئی اُس کا کتنا اثر لیتا ہے اور کس طرح اظہار کرتا ہے۔۔اور صاحبِ حال  وہی ہے جس پر وہ کیفیت پہلے سے گزر  چکی ہو جو آج کسی اور کے ساتھ پیش آ رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں  وہ اُس کرب  یا اس لذت کو بالکل اِسی طرح محسوس کرے جیسے یہ اُسی  کی کہانی ہو۔
محتصر الفاظ میں ہر وہ شخص جواپنے گزر چکے ماضی کے آسیب اور مستقبل کے نامعلوم اندیشوں سے بچتے ہوئے اپنے حال میں زندگی تلاش کرنے کی جستجو کرے وہی صاحبِ حال کہلانے کا حق دار ہے۔ 

ہفتہ, اگست 13, 2016

"آپ نے قائد کو کیسا پایا "

  آپ نے قائد کو کیسا پایا ۔۔۔اگست 2014 کے اردو ڈائجسٹ سے انتخاب 
ہمارے قائداعظم کی شخصیت اتنی بلند ہے کہ اُس کے ایک پہلو پر لکھنا خاصا مشکل ہے۔ اُن کی دیانت‘ امانت‘ صداقت‘ غرض ہر بات اپنی جگہ مسلم ہے۔ مثلاً مسلم لیگ کے ریکارڈ میں سے ایسی چٹیں بھی ملی ہیں جن میں چھوٹے چھوٹے حسابات درج ہیں۔ اگر کسی جلسے میں چائے پلائی گئی تو اُس کا حساب بھی لکھا ہے۔ اس بات سے اندازہ لگا لیجئیے کہ قائداعظم کی راہنمائی میں مسلم لیگ کے کارکنان اور راہنمائوں میں دیانت اور امانت کا کیسا جذبہ پیدا ہو گیا تھا۔
لیکن سچی بات یہ ہے کہ قائداعظم کی سب سے بڑی صفت اُن کی حقیقت پسندی ہے۔ وہ قوم کی صحیح قوت کو سمجھتے تھے۔ وہ ایسے جرنیل نہیں تھے جو فوج کی صحیح حالت اور قوت سمجھے بغیر اُسے لڑوا اورمروا دیں۔ لیڈر کاسب سے بڑا کمال یہ ہے کہ کم قوت سے بڑا مقصد حاصل کرلے۔ قائداعظم کا کمال یہی تھا کہ ہر موقع پر اتنی ہی قوت استعمال کرتے جتنی ضرورت ہوتی۔ انھیں جذبات پر بڑا قابو تھا۔ اُن کی بےلاگ منطق ہی سے گاندھی جی کے بھرم میں فرق آیا۔ ذیل میں قائداعظم کی شخصیت کے مختلف پہلو وا کرنے والی تحریریں پیش خدمت ہیں۔
صحافت کی آزادی
یہ واقعہ یاد کر کے میرا سر اظہار تشکر میں جھکتا اور احساس فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔
قیام پاکستان کے بعد کراچی میں ایک طویل گفتگو کے موقع پر انھوں نے میرے اخبار کے افتتاحیہ مقالوں میں آزادی رائے کی ضرورت پر زور دیا۔ میں نے ایک مضمون لکھا جسے چھپے لفظوں میں قائداعظم پر اعتراض سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ وہ اس کا مطالعہ فرما چکے تھے۔ اُسی روز شام کو اُن سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ انھوں نے صرف اتنا کہا: ’’میں تمہارا مضمون پڑھ چکا"۔
کچھ دیر بعد اُن کی زبان مبارک سے وہ الفاظ نکلے جنھیں میں تمام صحافیوں کے لیے آزادی کا منشور سمجھتا ہوں۔ انھوں نے فرمایا "کسی موضوع پر غور کرکے اپنے دل میں فیصلہ کرو۔ اگر تم اس نتیجہ پر پہنچ چکے کہ ایک خاص نظریہ یا اعتراض پیش کرنا ضروری ہے تو بالکل وہی لکھ ڈالو جو حقیقتاً تم نے محسوس کیا۔ کبھی پس وپیش نہ کرو‘ اس خیال سے کہ کوئی ناراض ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ اپنے قائداعظم کی ناراضی کی بھی پروا نہ کرو"۔
اس سے زیادہ قدر ومنزلت ہمارے پیشے کی اور کیا ہو سکتی ہے؟ حقیقتاً ایک عظیم المرتبت ہستی ہی یہ الفاظ ادا کر سکتی ہے۔ (الطاف حسین‘ مدیر ڈان)
۔۔۔۔۔
پہلے کام پھر طعام
محمد علی جناح دوسروں سے کام لینے میں سخت گیر واقع ہوئے تھے۔ لیکن وہ اپنے آپ کو بھی اُتنا ہی رگیدتے جتنا کہ دوسروں کو! اگر کچھ کرنا ہے تو اُسے جلد کرنا چاہیے، اُن کے پاس ضائع کرنے کے لیے وقت نہ تھا۔ کھانا‘ آرام اور نیند‘ ان سب کواپنی باری کا انتظار کرنا پڑتا۔ کام کو آگے بڑھانے کا جذبہ اور جوش ہی انھیں ٹھیک وقت پر کھانا کھانے یا آرام کرنے سے روکتا تھا۔ اِسی امر نے بعد کے برسوںمیں اُن کی جسمانی قوت کو اتنی جلد مضمحل کر دیا کہ وہ اُسے بحال نہ کر سکے۔اپنے کمزور جسم پر ناقابل برداشت بوجھ ڈالنے سے بالخصوص اپنی زندگی کے چندآخری برسوں میں وہ دق کا شکار ہو گئے جس نے انھیں قبر تک پہنچا دیا۔ مجھے یاد ہے‘ اُن کے ملازم آ کر انھیں دوپہریا رات کے کھانے کاکہتے۔ تب وہ کسی مسئلے پر بحث کر یا کوئی مسودہ یا خط لکھوا رہے ہوتے۔ وہ اُن کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے۔
بعض اوقات ان کی بہن فاطمہ جناح اپنے بھائی کا انتظار کرتے کرتے تھک جاتیں اور آ کر کہتیں کہ کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ لیکن وہ بہت اخلاق سے جواب دیتے ’’بس چند منٹ اور‘‘ یا ’’جائو شروع کرو‘ ــــمیں ذرا دیر میں تمہارے ساتھ شریک ہو جائوں گا۔‘‘ انھیں پہلے اپنا کام کرنا ہوتا تھا اور بعد میں کھانے یا کسی اور چیز کا خیال کرتے۔(ایچ اے اصفہانی)
 ۔۔۔۔
بمبئی کلاتھ ہاؤس میں دعوت
قصہ یوں ہے کہ دہلی میں دوران ملاقات سیٹھ حاجی محمد صدیق‘ مالک بمبئے کلاتھ ہاؤس نے قائداعظم سے عرض کی کہ اب کے آپ لاہور تشریف لائیں تو ہماری دکان کو بھی  زینت بخشیں۔ قائداعظم جو مسلمانوں کی بہتری وبہبودی کے لیے ہر وقت کوشاں رہتے تھے‘ یہ سن کر بہت خوش ہوئے کہ لاہور میں مسلمانوں اور وہ بھی میمن برادری کی ایک شایان شان دکان ہے۔ فرمانے لگے ،اب کے لاہور آیا تو تمھاری دکان بھی ضرور دیکھوں گا۔
چناںچہ اپریل ۱۹۴۴ء میں جب وہ لاہور تشریف لائے تو ایک دن بارہ بج کر دس منٹ پر آنے کا وعدہ کیا۔ دکان کے منیجر مسٹر محمد عمر نے دس کروڑ مسلمانوں کے اس عظیم الشان قائد کے استقبال کے لیے جو کچھ بھی ہو سکتا تھا ،کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ دکان زربفت کپڑوں سے دلہن کی طرح سجائی گئی۔ شاندار چائے پارٹی کا انتظام کر کے دیگر مسلمان تاجروں کو بھی بلا لیا گیا۔ معائنے کے دوران انھوں نے چائنہ کارڈ اورپیور ریشم کے کپڑے بھی پسند فرمائے جو ہم نے انھیں تحفتاً پیش کیے۔لیکن انھوں نے لینے سے انکار کر دیا اور خواہش ظاہر کی کہ اگر ان کپڑوں کابل پیش کر دیا جائے تو وہ لے لیں گے کیونکہ کپڑے انھیں پسند ہیں۔ ہم نے بہت کوشش کی کہ وہ انھیں بطور تحفہ قبول کر لیں‘ مگر وہ کسی طرح نہ مانے۔ آخر بل پیش کر دینے کے پختہ وعدے پر انھوں نے کپڑے رکھ لیے۔ ہم نے خواہش ظاہر کی کہ ایک اچکن ہم سے سلوائی جائے۔ وہ اس شرط پر رضامند ہوئے کہ درزی اچھا ہو اور ناپ ڈیوس روڈ پر ممدوٹ ولا میں لیا جائے جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہ دکان پر ناپ نہیں دینا چاہتے تھے۔
دوسرے دن ماسٹر فیروز کو لے کر میں قائداعظم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ناپ سے فارغ ہو کر ہم واپس آنے لگے توفرمایا کہ اچکن کے لیے حیدر آبادی بٹنوں کے سیٹ لے آنا۔ فرمائش کے مطابق دوسرے دن صبح دس بجے ہم ممدوٹ ولا پہنچے۔ بٹنوں کے سیٹ جو ہم ساتھ لائے تھے‘ اُن کو ایک نظر دیکھا اور چار سیٹ پسند کرکے الگ رکھ لیے۔ باقی واپس کر دیے۔ کہنے لگے، بل لاؤ۔ بل کے لیے وہ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ اصرار کر چکے تھے۔
چونکہ ہم بل نہیں دینا چاہتے تھے‘ اس لیے ٹال مٹول سے کام لیتے رہے‘ مگر شاید وہ ہمارا ارادہ سمجھ گئے۔ آج بل کے لیے قدرے سخت اور درشت لہجے میں مطالبہ کیا‘ کہنے لگے "میں اُدھار لینے کا عادی نہیں۔ بل لاؤ۔ ورنہ کپڑے واپس کر دیے جائیں گے"۔
میں نے منیجر سے کہا کہ یہاں ٹال مٹول سے کام نہیں چلے گا۔ بل دینا ہی پڑے گا۔ ورنہ وہ سارے کپڑے لوٹا دیں گے۔ منیجر نے خاصا رعایتی بل بنا کر دیا جو آدھے سے بھی کم قیمت پر مشتمل تھا۔ میں نے جا کر خدمت میں پیش کر دیا جسے دیکھ کر مسکرائے‘ کہنے لگے: ’’یہ بل مناسب نہیں ‘ تم نے قیمتیں جان بوجھ کر کم لگائی ہیں۔‘‘ میں نے کہا‘ منیجر نے آپ کو خاص رعایت دی ہو گی۔ کہنے لگے : ’’رعایت کی اور بات ہے۔ یہ رعایت سے مختلف صورت ہے۔ تم بل درست کر کے لاؤ‘‘ یہ کہہ کر بل واپس کر دیا۔ اس کے بعد میں نے بٹن والے کا بل پیش کیا‘ جو دس روپے کی مالیت پر مشتمل تھا۔
بل دیکھ کر فرمایا: ’’بھئی واہ۔ ایک سیٹ میں تو تین تین بٹن کم ہیں‘ لیکن بل تم نے پورے کا بنا دیا۔‘‘ یہ کہنا درست تھا۔ ایک سیٹ میں بٹن کم تھے۔ لیکن بل میں نے اس خیال سے دیکھا نہ تھا۔ دکاندار نے بھی اس کی پروا نہ کی تھی۔ بہرحال بل کو درستی کے لیے واپس لانا پڑا۔
لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ میں کئی دنوں تک سوچتا رہا کہ آخر کیا بات ہے کہ ایک طرف تو سیکڑوں روپے کی رعایت کو بھی یہ شخص قبول نہیں کرتا۔ دوسری جانب تین بٹنوں کے آٹھ آنے بھی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں؟(ولی بھائی)
 ۔۔۔۔۔
سیاست میں اخلاق
ء1946کا اوائل تھا۔ بنگال قانون ساز اسمبلی کے انتخابات ہونے والے تھے۔ میں مسلم چیمبر آف کامرس کلکتہ کی طرف سے امیدوار تھا۔ نامزدگی کی تاریخ سے صرف دو روز پہلے چیمبر کے ایک رکن نے اپنی نامزدگی کے کاغذات داخل کرا دیے۔ چیمبر کے پرانے ارکان اور راہنما سب سٹپٹا گئے۔ انھوں نے اُسے سمجھایا بجھایا اور دباؤ بھی ڈالا۔ مگر اُس نے کاغذات واپس لینے سے انکار کر دیا۔
اُن دنوں قائداعظم کلکتہ میں میرے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے۔ ایک شام ہم گاڑی میں سیر کر کے واپس آئے تو عبدالرحمن صدیقی جو ایک آزمودہ سیاست دان اورمیرے دیرینہ دوست تھے‘ دوڑے دوڑے آئے اور بتایا کہ وہ مخالف سے ملے تھے۔ لمبی چوڑی گفتگو کے بعد وہ شخص کاغذاتِ نامزدگی واپس لینے پر آمادہ ہو گیا ہے۔ شرط یہ رکھی کہ جو دو صد پچاس روپے فیس کے جمع کرائے ہیں‘ اُسے دے دیے جائیں۔
قائداعظم اپنے کسی خیال میں مستغرق تھے۔ انھوں نے بات نہ سنی۔ صدیقی سے فرمایا کہ وہ اپنے الفاظ دہرائیں۔ صدیقی صاحب نے حکم کی تعمیل کی۔ پھر کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح قائداعظم کے ملامت بھرے الفاظ ہمارے دل و دماغ میں پیوست ہو گئے "روپیہ ادا کر دو گے؟ ایک امیدوار کو بٹھانے کے لیے‘بالواسطہ رشوت؟ نہیں‘ کبھی نہیں۔اُسے جا کر یہ کہہ دو کہ تمہاری پیش کش مسترد کر دی گئی ہے۔ حسن تمہارا مقابلہ کرے گا"۔
عبدالرحمن صدیقی لمحہ بھر کے لیے بھونچکا رہ گئے۔ پھر سنبھلے اور عرض کیا: ’’میں آپ کا پیغام پہنچا دوں گا۔‘‘ اور چلے گئے۔ ہم عقبی برآمدے میں چلے آئے اور آرام کرسیوں پر بیٹھ گئے۔
قائداعظم مجھ سے مخاطب ہوئے: ’’میرے بچے! اُسے یہی جواب ملنا چاہیے تھا۔ سیاست میں اخلاق کی پابندی نجی زندگی میں اخلاقی اصولوں پر کاربند رہنے سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ اس لیے کہ اگر تم نے عوامی زندگی میں کسی غلط کام کا ارتکاب کیا‘ تو اُن لوگوں کو نقصان پہنچاؤ گے جو تم پر اعتماد کرتے ہیں۔‘‘
(ایچ اے اصفہانی)
۔۔۔۔۔۔
سفارشی رقعہ
قائداعظم سے ملنے کے لیے رائے پور کا ایک اسٹیشن ماسٹر دہلی آیا۔ وہ اُن کے سیکرٹری سے ملا اور بتایا ’’میں اپنی ملازمت کے سلسلے میں کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
سیکرٹری نے اُسے سمجھاتے ہوئے کہا: "قائداعظم ان دنوں بہت مصروف ہیں۔ اگر وہ چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے وقت دیتے رہے تو پھر تحریک پاکستان جیسا عظیم کام کس طرح انجام دے سکیں گے"۔
سیکرٹری نے اُسے واپس لوٹ جانے کا مشورہ دیا، لیکن اسٹیشن ماسٹرمجھ سے ملا اور بتایا ’’میں بڑی دور سے آیا ہوں۔ قائداعظم تک پہنچنے کے سلسلے میں تم ہی کچھ میری مدد کرو۔‘‘
میں نے اُسی دن قائداعظم سے تذکرہ کیا اور انھیں بتایا "اسٹیشن ماسٹر کو محض اس لیے ترقی نہیں دی جا رہی کہ وہ مسلمان ہے۔ حالانکہ وہ امتحان بھی پاس کر چکا اور اصولی طور پر اُسے بی گریڈ ملنا چاہیے"۔
قائداعظم اُسی وقت اُس شخص سے ملے۔ ریلوے کے ایک اعلیٰ انگریزی عہدیدار کو رقعہ لکھ کر اس دھاندلی کی طرف توجہ دلائی۔ فوری کارروائی ہوئی اور پندرہ منٹ کے اندر اندر اُسے بی گریڈ دیے جانے کے احکامات جاری ہو گئے۔
اسٹیشن ماسٹر خوشی خوشی کاندھے پر پھلوں کا ٹوکرا لادے قائداعظم کا شکریہ ادا کرنے واپس آیا۔ میں نے جب قائداعظم کواطلاع دی تو انھوں نے محض اس لیے ملنے سے انکار کر دیا "میں یہ نہیں چاہتا کہ کوئی شخص مجھ سے کہے‘ میں آپ کا ممنون ہوں یا آپ کا یہ احسان زندگی بھر نہیں بھولوں گا۔البتہ قائداعظم نے اُسے یہ پیغام ضرور بھجوایا:"خوب محنت سے کام کرو"۔
(محمد حنیف آزاد)
۔۔۔۔۔
گورنر جنرل کے منصب کا خیال
یہ اُس زمانے کا ذکر ہے جب قائداعظم علیل تھے اور کوئٹہ میں زیرعلاج۔ جب ہم نے محسوس کیا کہ کوئٹہ میں اُن کا قیام خطرے سے خالی نہیں‘ تو میں نے اصرار کیاکہ وہ کراچی تشریف لے چلیں۔ لیکن ہر بار انھوں نے تجویز رد کر دی۔ رات کو میں نے محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ اس مسئلے پر تفصیلی گفتگو کی۔ میرے اصرار پر انھوں نے بتایا کہ قائداعظم بیماری کی حالت میں گورنر جنرل ہاؤس واپس نہیں جانا چاہتے۔ پھر انھوں نے ملیر کے بارے میں میری رائے پوچھی۔ میں نے عرض کیا‘ وہ بھی اچھی جگہ ہے۔ لیکن وہاں قیام کا مسئلہ ہو گا۔
ملیر میں نواب بہاولپور کی کوٹھی تھی جس میں قائداعظم کے قیام کا اہتمام ہو سکتا تھا۔ وہاں اُن دنوں ولی عہد صاحب فروکش تھے۔ تاہم اُن سے کوٹھی خالی کرانا چنداں مشکل نہ تھا۔ طے یہ پایا کہ پہلے قائداعظم کو رضامند کر لیا جائے۔ کیونکہ وہ ۳۰ ستمبر کو لندن سے کراچی آ رہے ہیں۔
اٹھائیس اگست کی صبح میں نے قائداعظم کی خدمت میں تمام صورت حال رکھی اور امیربہاولپور کو تار ارسال کرنے کی اجازت چاہی۔ میری بات سن کر انھوں نے آنکھیں بند کر لیں اور قدرے توقف کے بعد فرمایا:"آپ نے سنا ہو گا‘ پہلے زمانے میں جب کوئی وکیل ہائی کورٹ کا جج بن جاتا تو کلبوں اور نجی محفلوں میں جانا ترک کر دیتا تھا مبادا اُس کی غیرجانب داری پر اثر پڑے۔ چناںچہ میں سمجھتا ہوں کہ مجھے گورنر جنرل کے اعلیٰ منصب کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ ہم ضرورت مند ہیں لیکن میں اپنی ذات کی خاطر اس عظیم منصب کی عظمت خاک میں نہیں ملا سکتا۔ اس لیے تار دینے کی اجازت دینے سے معذور ہوں"۔
(کرنل الٰہی بخش)
۔۔۔۔۔۔
پاکستان میں کوئی بادشاہ نہیں
دہلی میں آل انڈیا مسلم لیگ کاجلسہ ہو رہا تھا۔ ایک خوشامدی نے نعرہ لگایا:"شاہ پاکستان زندہ باد"۔
قائداعظم بجائے خوش ہونے کے فوراً بولے:"دیکھیں‘ آپ لوگوں کو اس قسم کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔پاکستان میں کوئی بادشاہ نہیں ہو گا، وہ مسلمانوں کی جمہوریہ ہو گی جہاں سب مسلمان برابر ہوں گے۔کسی ایک کو دوسرے پر فوقیت نہیں ہو گی"۔
(نواب محمد یامین خان)
 ۔۔۔۔۔
اعتماد کاووٹ
مجھے وہ وقت اچھی طرح یاد ہے جب مسلمانوں نے چاہا کہ مسلم لیگ کے صدر کا سالانہ انتخاب ختم کر کے قائداعظم ہی کو مستقل صدر بنانے کی قرارداد منظور کرائی جائے۔ مگر انھوں نے جواب دیا:"نہیں۔ سالانہ انتخابات نہایت ضروری ہیں۔ مجھے ہر سال آپ کے سامنے آ کر آپ کے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا چاہیے"۔(بیگم لیاقت علی خان)
۔۔۔۔۔۔
میں نے بہت کچھ سیکھا
قائداعظم کے ساتھ بارہ برس کی رفاقت میں‘ میں نے چند نہایت اہم باتیں سیکھی ہیں۔ اوّل یہ کہ اپنی زبان سے کوئی ایسی بات نہ کہو جس پر پوری طرح عمل کرنے سے قاصر رہو۔ دوسرے اپنے ذاتی تعلقات و رجحانات کوقومی مفاد میں خلل اندازنہ ہونے دو۔ اور اس معاملے میں دوسروں کے کہنے کی قطعاً پروا نہ کرو۔ تیسرے اگر تم سمجھتے ہو کہ کسی بات میں تم راستی پر ہو تو دشمن کے آگے خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو‘ ہرگز نہ جھکو۔ ( لیاقت علی خان)
 ۔۔۔۔۔
ہتک
ہم طلبہ سے دوران گفتگو انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ قوم کی زندگی اور ترقی کے لیے ضروری ہے‘ ہم میں سے ہر ایک بلالحاظ مرتبہ و حیثیت خود کو قوم کے مفاد کا نگہبان و محافظ سمجھے۔ اگر کسی کو ایسی حرکت کا مرتکب پائے جس سے قوم یا ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہو تو اپنا آرام و سہولت نظرانداز کر کے مرتکب کی گردن پکڑ لے۔ اس ضمن میں انھوں نے اپنا ایک واقعہ بھی بیان کیا۔
فرمایا:’’مدتوں پہلے کی بات ہے میں ایک دفعہ سفر کر رہا تھا۔ اُن دنوں بہت کم لوگ مجھے جانتے تھے۔ میں نے درجہ اوّل کا ٹکٹ خریدا۔مگر وہ سہواً ملازم کے پاس رہ گیا۔ جب میں منزل مقصود پر گاڑی سے اترا‘ تو مجھے ٹکٹ نوکرکے پاس چھوڑ آنے کا احساس ہوا۔ میں ٹکٹ کلکٹر کے پاس پہنچا اور کہا کہ میں ٹکٹ بھول آیا ہوں۔ تم مجھ سے کرایہ وصول کر لو۔ میں خریدے ہوئے ٹکٹ کے داموں کی واپسی کا مطالبہ کر لوں گا۔‘‘
ٹکٹ کلکٹر نے کہا:"تم مجھے دو روپے دو اور چلے جاؤ"۔
اُس کا یہ کہنا تھا کہ میں وہیں ڈٹ کر کھڑا ہوگیا اور کہا: ’’تم نے میری ہتک کی ہے۔ اپنانام اور پتا بتلاؤ۔‘‘ لوگ جمع ہو گئے اُن میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ کئی ایک نے مجھ پر فقرے بھی چست کیے مگر میں وہاں سے نہ ٹلا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسافروں کو لوٹنے والا بابو برخاست ہو گیا۔‘‘(عزیز احمد)
۔۔۔۔
کم کھاؤ‘ آرام پاؤ
مسٹر محمود حسن ایک دن محمد علی جناح کے ساتھ کھانا کھا رہے تھے۔ جناح نے حسب معمول بہت تھوڑا سا کھانا کھایا۔ اُس کے بعد چھڑی اُٹھا کر اسے اپنے ناخنوں سے بچانے لگے۔ (اس عادت سے اُن کے اکثر دوست واقف ہوں گے۔) مسٹر محمود جو اب تک کھانے میں مصروف تھے‘ کچھ خفت سی محسوس کرنے لگے اور بولے:"آپ نے تو کچھ کھایا ہی نہیں"۔
جناح نے جواب دیا:"دنیا والے اسی لیے تکلیفوں میں مبتلا ہوتے ہیں کہ وہ کھاتے بہت ہیں"۔
(مطلوب الحسن سید)
۔۔۔۔۔۔
گورنر جنرل بھی‘ انسان بھی
ایک ہی شخص کی دو شخصیتوں کا احساس جس قدر مجھے اُن سے ۱۹۴۸ء کی آخری ملاقات کے دوران ہوا‘ اُس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ اس موقع پر انھوں نے مجھے ایک سرکاری کام کے لیے بلایا تھا۔ جب تک سرکاری کاغذات اُن کے سامنے رہے‘ انھوں نے مجھ سے محض اُسی معاملے پر گفتگو کی۔ میری تجویز پر کڑی نکتہ چینی کی۔
ایک سوال کے بعد دوسرا‘ دوسرے کے بعد تیسرا‘ غرض سوالات کی بوچھاڑ کر دی۔ آخر جب پوری طور پر مطمئن ہو گئے اور کاغذات پر دستخط فرما دیے تو اُن کے چہرے پر فی الفور تبسم نمودار ہوا۔انھوں نے ملاقات میں پہلی بار میرا مزاج پوچھا۔ پھر ہنس ہنس کر باتیں کیں اور رخصت کیا۔مجھے محسوس ہوا کہ میں نے ایک ہی ملاقات میں قائداعظم محمدعلی جناح گورنر جنرل پاکستان کو بھی دیکھا اور اُن سے بہت ہی مختلف ایک اور انسان یعنی مسٹر محمد علی جناح کو بھی۔
(ممتاز حسن)
۔۔۔۔۔
لوگوں کا بابا
مجھے یاد ہے‘ ۱۹۴۸ء میں جب مجھے اپنے گاؤں جانے کا اتفاق ہوا‘ تو مرد عورتیں اور بچے آ آ کر مجھ سے اُن کی صحت کے متعلق استفسار کرنے لگے۔ ’’بابے نو کی تکلیف اے۔‘‘ ’’بابے دا ہن کی حال اے۔‘‘ ’’بابے دا کی حکم اے۔‘‘ ان لوگوں کو قائداعظم کا پورا نام بھی معلوم نہ تھا‘ مگر وہ جانتے تھے کہ اُن کا ملجا دمادا ایک ایسا شخص دنیا میں موجود ہے جس کی زندگی اُن کے لیے وقف ہے۔وہ اپنے ’’بابے‘‘ کی صحت کے لیے دست بدعا تھے۔ وہ اُن کا تھا اور وہ اُس کے۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ قائداعظم دولت مندوں کے حلیف تھے۔ مگر جن لوگوں نے انھیں عام مسلمانوں کے مجمعوں میں دیکھا ہے‘ وہ جانتے ہیں کہ غریب مسلمانوں کے لیے اُن کے دل میں کیا جذبہ موجود تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ ایسی بے پناہ عقیدت جو غریب مسلمانوں کو اُن کی ذات سے تھی‘ یک طرفہ ہو ہی نہیں سکتی۔(ممتاز حسن)
۔۔۔۔
سکنہ منٹگمری
جب قائداعظم کا دہلی میں طویل قیام ہوتا اور وہ ہجوم کار سے گھبرا جاتے تو باغپت (ضلع میرٹھ) تشریف لے جاتے اور غالباً وہاں ڈاک بنگلے میں رہتے۔ یہ ڈاک بنگلہ دریا کنارے واقع ہے۔ منظر بہت اچھا اورجگہ بڑے سکون کی ہے۔ وہیں ایک روز نواب صاحب باغپت نے قائداعظم سے کہا: ’’آپ کا خاندان تو تجارت پیشہ ہے‘ آپ میں کڑک کہاں سے آئی؟‘‘
قائداعظم نے مسکرا کر جواب دیا: ’’نواب صاحب میں تو پنجابی راجپوت ہوں۔ کئی پشتیں گزریں میرے ایک جد کاٹھیاواڑ چلے گئے تھے۔ وہاں انھوں نے ایک خوجہ کی لڑکی سے شادی کر لی اور انہی کے خاندان میں مل گئے۔ اُس وقت سے ہم خوجوں میں شمار ہونے لگے۔ میرے وہ جد جو کاٹھیاوار گئے‘ ضلع منٹگمری کے رہنے والے تھے۔‘‘(اسد ملتانی)
۔۔۔۔
جج بطور اسٹیشن ماسٹر
قائداعظم کی شخصیت کی جس خصوصیت سے لوگ عموماً ناواقف ہیں‘ وہ اُن کی لطافت مزاج ہے۔ کبھی کبھی وہ کھانے کی میز پر ہمیں مزے مزے کے لطیفے اور قصے سناتے۔ قائداعظم کا سنایا ہوا ایک لطیفہ مجھے اب تک اچھی طرح یاد ہے۔ ’’انگلستان کے کسی چھوٹے سے ریلوے اسٹیشن پر گاڑی معمول سے ذرا زیادہ ٹھہر گئی۔ ایک ہندوستانی جج نیچے اتر کر پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگا۔ اتنے میں ایک انگریز بھی گاڑی سے اترا۔ سیدھا جج صاحب کی طرف آ کر اُن سے پوچھنے لگا:’’گاڑی کب چھوٹے گی؟‘‘
جج نے جواب دیا: مجھے کیا معلوم؟
انگریز نے کہا:’’لیکن تمھیں معلوم ہونا چاہیے۔ کیا تم اسٹیشن ماسٹر نہیں ہو؟‘‘ اس نے جھنجھلا کر جواب دیا: "نہیں میں اسٹیشن ماسٹر نہیں ہوں"۔
انگریز بولا: ’’اگر نہیں ہو تو ویسے معلوم کیوں ہوتے ہو۔‘‘(فرخ امین)
۔۔۔۔
پہلے صحیح فیصلہ‘ پھر عمل
اپنی سیاسی زندگی میں قائداعظم نے سستی شہرت اور نام و نمود کی خواہش نہیں کی۔ قائداعظم وہی کچھ کرتے جسے وہ درست سمجھتے… قطع نظر اس امر کے کہ عوام کو وہ پسند ہے یاناپسند۔ ایک دفعہ انھوں نے پنڈت جواہر لال نہرو سے کہا: ’’تم پہلے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہو کہ عوام کو کیا پسند ہو گا اور پھر اُن کی پسند کے مطابق عمل کرتے ہو۔ لیکن میرا طریقہ عمل بالکل مختلف ہے۔ پہلے میں فیصلہ کرتا ہوں کہ صحیح کیا ہے؟ درست کیا ہو گا؟ اور پھر اُس پر عمل شروع کر دیتا ہوں۔ لوگ میرے گرد جمع ہونے لگتے ہیں اور مخالفت غائب ہو جاتی ہے۔‘‘(ھیکٹر بولائیتھو)
۔۔۔۔۔
قانون کا احترام
ھیکٹر بولائیتھو
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ نے جب ایک شام قائداعظم سے اپنے چند استادوں کے خلاف شکایت کی تو قائداعظم نے دریافت کیا: ’’تم میں سے کس کس کی سائیکل پر لیمپ ہے؟‘‘
قائداعظم نے پھر انھیں تنبیہہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’تم دوسروں پر اُس وقت تک نکتہ چینی نہیں کر سکتے جب تککہ خود قانون کا احترام نہ سیکھ لو"۔
۔۔۔۔۔
مشورے کا جواب
جلوس کے اختتام پر اسمبلی ہال میں انتقالِ اقتدار کی تقریب منعقد ہوئی۔ اس میں لارڈ مائونٹ بیٹن نے پاکستانیوں کو اپنے سفید فام جسم میں ہزار کدورتوں اور خیانتوں کی سیاہیاں چھپائے یہ مشورہ دیا کہ وہ نئی مملکت میں عدل و انصاف اور رواداری کی ایسی روایتیں قائم کریں جو مغل بادشاہ اکبر نے قائم کی تھیں۔
قائداعظم نے اپنی جوابی تقریر میں ماؤنٹ بیٹن کے اس مشورے کو للکارے بغیر نہ جانے دیا۔ انھوں نے بڑے باوقار انداز میں فرمایا’’ عدل و انصاف اور رواداری کی روایتیں ہمیں اس سے بہت پہلے نبی کریم ﷺ سے مل چکی ہیں"۔
۔۔۔۔۔
دنیا کا مصروف ترین انسان
محمد یوسف آزاد
میں نے قائداعظم کے موٹر ڈرائیور کی حیثیت سے زندگی کے پانچ اہم سال گزارے ہیں۔ ان پانچ برسوں میں‘ میں نے بہت کچھ سیکھا اور دیکھا۔ مجھ پر یہ راز بھی کھلا کہ صحیح معنوں میں قوم کی راہنمائی کرنا کتنا مشکل ہے۔ میں نے قائداعظم کو رات ڈھلے تک کام کرتے دیکھا۔ بارہا ایسا بھی ہوا کہ وہ سونے کے لیے لیٹ گئے۔ لیکن جیسے ہی انھیں کسی کام کا خیال آیا وہ فوراًبستر سے اُٹھ کر کام میں مصروف ہو گئے۔ میں نے قومی کاموں میں انھیں جس قدر منہمک پایا ہے۔ اُسے پیش نظر رکھتے ہوئے میں یہ کہتا ہوں:
’’وہ مغرور نہیں بلکہ مصروف انسان تھے‘ غالباً دنیا کے مصروف ترین انسان۔‘‘
۔۔۔۔۔
قول و فعل
واجد علی نے مجھے بتایا کہاکہ ایک روز قائداعظم نے کہا: ’’کیا بتایا جائے‘ ڈاک میں اتنی تعداد میں خطوط آتے ہیں کہ اُن کے جوابات دینے میں خاصا وقت صرف ہو جاتا ہے۔‘‘
واجد علی نے جواب میں عرض کیا’’آپ حکم دیں تومیں حاضر ہو جایا کروں اور خطوط کا جواب آپ کی ہدایت کے مطابق لکھ دیا کروں۔‘‘
اس پر قائداعظم نے فرمایا: ’’تم ایک بات بھول رہے ہو کہ یہ خط جناح کے نام آتے ہیں اور کسی کے نام نہیں"۔
یہ نکتہ بعد میں غور وفکر سے سمجھ میں آیا کہ ہر خط لکھنے والے کا یہ حق ہوتا ہے کہ وہ جس کو خط کے ذریعے مخاطب کرے‘ وہی اُس کا جواب دے۔
(فقیر سید وحیدالدین)
۔۔۔۔۔۔۔
معمولی آدمی
روزنامہ انقلاب بمبئی۔ ۲۵ دسمبر ۱۹۴۵ء
چوبیس دسمبر ۱۹۴۵ء کوای وارڈ ڈسٹرکٹ مسلم لیگ کے چند کارکن قائداعظم کے دولت خانے پر ایک جلسہ میں شرکت کی دعوت دینے گئے۔ اُن میں سے ایک شخص نے مصافحہ کرتے ہوئے جوش عقیدت سے مجبور ہو کر آپ کے ہاتھ کو چوم لیا۔ یہ حرکت دیکھ کر قائداعظم نے فرمایا ’’لوگوں کو چاہیے کہ وہ مجھے معمولی آدمی تصور کریں۔ پیر و مرشد نہ سمجھ لیں۔ اس طرح لوگوں میں غلط اور تباہ کن طریقہ پر سر جھکانے کی عادت پڑ جاتی ہے جسے عرف عام میں شخصیت پرستی کہتے ہیں۔ یہ مرض نقصان دہ اور مضرت رساں ہے‘ اور ناروا اور ناجائز ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔
دس کروڑ مسلمانوں کا تنہا وکیل
فقیر سید وحیدالدین
۔۴۵۔۱۹۴۴ء میں‘ میں کسی سرکاری کام سے بمبئی کے دورے پر گیا۔ وہاں اپنے عزیز سید واجد علی کے یہاں مقیم ہوا۔ واجد علی اکثر و بیشتر قائداعظم کا ذکر کیا کرتے تھے۔ اندازہ ہوا کہ وہ اُن کی ذات سے خاص دلچسپی بلکہ عقیدت رکھتے ہیں۔ قائداعظم بھی اُن پر مہربانی فرماتے۔ ملاقات کے لیے عزیز موصوف کو کوئی رسمی دشواری پیش نہیں آتی… انھوں نے قائداعظم کی قیام گاہ واقع مالا بارہل پر ٹیلی فون کیا اور ملاقات کا وقت لیتے ہوئے کہا کہ میرا ایک عزیز بھی میرے ہمراہ آنا چاہتا ہے۔ قائداعظم نے جواب میں غالباً اجازت دے دی۔ میری خوشی کا کیا پوچھنا۔ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کے سب سے بڑے راہنما سے شرف ملاقات کا موقع مل رہاتھا۔…
تھوڑی ہی دیر میں قائداعظم کی قیام گاہ پر تھے۔ زینہ طے کرتے ہوئے بالائی منزل پرپہنچے۔ وہاں قائداعظم اپنی ہمشیرہ کے ساتھ صوفے پر رونق افروز تھے۔ بڑے تپاک سے ملے‘ مصافحہ کیا اور بیٹھنے کو کہا۔ ملاقات میں کئی موضوعات پر باتیں ہوئیں۔ سب سے زیادہ اہم بلکہ گرم موضوع شملہ کانفرنس کاتھا۔ انھوں نے فرمایا: ’’میں آج ہی شملہ کانفرنس میں شریک ہونے جا رہا ہوں۔‘‘ پھر قدرے رک کر حسرت آمیز لہجے میں بولے:"دیکھو! میں یہاں تنہا بیٹھا مسلمانوں کا پورا مقدمہ تیار کر رہا ہوں۔ عین اس مکان کے سامنے انڈین کانگریس کے بہترین دماغ مل جل کر جوابِ دعویٰ تیار کر رہے ہیں"۔
میں نے اس مختصر ملاقات میں محسوس کیا کہ دس کروڑ مسلمانوں کے مستقبل کی اتنی بھاری ذمہ داریاں اپنے منحنی کاندھوں پر سنبھالنے کے باوجود وہ پُرامید ہیں اور کسی قسم کی بے چینی اور اکتاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ انھیں اس دن سفرکرنا تھا اور سفر بھی کس قدر ہنگامہ آفرین۔ اُن کی مصروفیات بھی غیرمعمولی تھیں۔ انھوں نے ملاقات کے دوران اپنے اضطراب ‘ عجلت اور بڑھی مصروفیات کا احساس نہیں ہونے دیا۔ کوئی دوسرا ہوتا تو اپنا اضطراب شاید نہ چھپا سکتا۔ ہم نے خود اُٹھ کر اجازت چاہی‘ تب انھوں نے رخصت دی۔

بدھ, جولائی 27, 2016

"ہنزہ کے انمول لمحے"

منگل 26 جولائی201
بلتت سے خنجراب تک"۔"
 جمعرات 28 جولائی 2016
صبح کے چار بجے تک "ایگل نیسٹ"میں اندھیرا تھا، میں بالکونی میں بیٹھا تھا، میرے سامنے پہاڑ اندھیرے کی چادر اوڑھ کر لیٹے تھے، آسمان پر گہرا سکوت تھا، وادی میں چیری، سیب، خوبانی اور انجیر کے درختوں کے نیچے دریا بہہ رہا تھا، فضا میں خنکی تھی اور اس خنکی میں گرمیوں کی مٹھاس تھی، چار بج کر پانچ منٹ پر چوٹیاں سفید ہونے لگیں، راکا پوشی نے اندھیرے کے لحاف سے منہ باہر نکالا، دائیں بائیں دیکھا اور پھر دوسری آٹھ چوٹیاں بھی  لحافوں سے باہر آنے لگیں۔ ’’لیڈی فنگر‘‘ میری دائیں جانب پیچھے کی طرف تھی، میں نے گردن گھما کر دیکھا، لیڈی فنگر کا سفید کلس بھی اندھیرے کا طلسم توڑ کر باہر آ چکا تھا، اس کے ہمسائے میں برف کا سفید گنبد تھا، اس کی چاندی بھی چمک رہی تھی۔
اب وہاں برف کی چاندی تھی، خنک ہوا تھی، لیڈی فنگر کا سفید کلس تھا، راکاپوشی کے بدن سے سرکتی چادر تھی، انجیر، خوبانی، سیب اور چیری کے درختوں کے نیچے بہتا دریا تھا، دور نگر کی مسجد سے فجر کی نماز کا بلاوا تھا ’’ایگل نیسٹ‘‘ کی بالکونی تھی، ہنزہ کا سویا ہوا قصبہ تھا،ال تت فورٹ کا اداس واچ ٹاور تھا، بلتت فورٹ کے دکھی جھروکے تھے اور وقت میں گھلتا ہوا وقت تھا اور پھر وہ لمحہ آگیا جس کی تلاش میں صدیوں سے لوگ یہاں آ رہے ہیں، ایگل نیسٹ کی ان چٹانوں پر بیٹھ رہے ہیں، رات کو دن میں بدلتے دیکھ رہے ہیں، میں نے کھلی آنکھوں سے راکا پوشی کی چوٹیوں کو سفید ہوتے، پھر اس سفیدی کو سونے میں ڈھلتے اور پھر اس سونے کو چمکتے دیکھا، وہ لمحہ مقدس تھا، انمول تھا،  میں نے دوبارہ لیڈی فنگر کی طرف دیکھا، لیڈی فنگر کا بالائی سرا دیے کی جلتی بتی بن چکا تھا اور لیڈی فنگر اب لیڈی فنگر نہیں رہی تھی، وہ موم بتی بن چکی تھی، میرے اندر سے آواز آئی ’’اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے‘‘ میرے منہ سے بے اختیار نکلا ’’بے شک، بے شک‘‘۔
میں جمعہ کی صبح ہنزہ پہنچا، میرا بیٹا شماعیل دو ہفتے پہلے یہاں سے ہو کر آیا تھا، اسلام آباد گلگت فلائیٹ پی آئی اے کی بہت بڑی مہربانی ہے، یہ اس پوشیدہ زمین کا چمکدار دنیا سے واحد فضائی رابطہ ہے،  یہ فلائیٹ دنیا کی خوبصورت لیکن خطرناک ترین فضائی روٹ ہے، جہاز گلگت ائیر پورٹ پر لینڈنگ سے پہلے ایسی تکون میں داخل ہوتا ہے جہاں دنیا کے تین بڑے پہاڑی سلسلے آپس میں ملتے ہیں، یہ جگہ پونجی کہلاتی ہے، اس جگہ ہمالیہ، کوہ ہندو کش اور قراقرم آپس میں ملتے ہیں چنانچہ گلگت کی لینڈنگ دنیا کی خطرناک ترین لینڈنگز میں شمار ہوتی ہے۔
میں گلگت سے گاڑی لے کر ہنزہ روانہ ہوگیا، پاکستان نے چین کی مدد سے حال ہی میں شاہراہ قراقرم دوبارہ تعمیر کی، یہ سڑک انسانی معجزے سے کم نہیں، آپ کو سلیٹی رنگ کے خشک پہاڑوں کے درمیان موٹروے جیسی رواں سڑک ملتی ہے، یہ سڑک ہنزہ کو گلگت سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر لے آئی ہے،  ہمارے بائیں جانب گہرائی میں دریا بہہ رہا تھا، دریا کے اوپر اترائیوں پر کھیت اور باغ تھے، ان کے اوپر سلیٹی رنگ کے خشک پہاڑ تھے اور ان کے درمیان ماضی کی شاہراہ ریشم اور آج کی قراقرم ہائی وے بہہ رہی تھی۔
میں دو گھنٹے میں ہنزہ پہنچ گیا۔ہنزہ48 دیہات اور قصبوں کی خوبصورت وادی ہے، یہ وادی اسماعیلی کمیونٹی اور طلسماتی حسن کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔
ہنزہ آج سے اڑھائی ہزار سال پہلے چین کے سفید ہنوں نے آباد کیا اور یہ ہنوں کی وجہ سے ہنزہ کہلایا، دریا کے ایک کنارے پر ہنزہ ہے اور دوسرے کنارے پر نگر۔ یہ دونوں شہر دو بھائیوں کی ملکیت تھے، یہ دونوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے، یہ پیاس صدیوں تک چلتی رہی، نگر کے لوگ ہنزہ کے لوگوں پر حملے کرتے رہے اور ہنزہ کے سپاہی نگر کی کی فصلیں، باغ اور جانور اجاڑتے رہے، یہ دشمنی آج تک قائم ہے، آج بھی نگر کے لوگ ہنزہ کے لوگوں کو پسند نہیں کرتے اور ہنزہ کے لوگ نگر کے باسیوں کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں، ہنزہ کے حکمرانوں نے نگر کے حملہ آوروں اور شاہراہ ریشم سے گزرتے قافلوں پر نظر رکھنے کے لیے 1100 سال پہلے دریا کے کنارے خوبصورت قلعہ تعمیر کیا، یہ قلعہ ال تت فورٹ کہلاتا ہے، مقامی زبان میں ال تت اِدھر کو کہتے ہیں اور بلتت اُدھرکو، ال تت کی تعمیر کے تین سو سال بعد بلتت کا قلعہ بھی تعمیر کیا گیا، یہ قلعہ آج بھی وادی کے دوسرے کنارے پر پہاڑوں کے دامن میں موجود ہے، بادشاہ گرمیوں اور سردیوں کے مطابق اپنی رہائش گاہ تبدیل کرتے رہتے تھے۔
ہنزہ کے بادشاہ میر کہلاتے تھے، ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں 1972ء میں پہلے نگر کو پاکستان میں شامل کیا گیا اور پھر 1974ء میں ہنزہ بھی پاکستان کا حصہ بن گیا، یہ دونوں شہر اس سے قبل آزاد ریاستیں تھیں، حکومت نے شمولیت کے بدلے نگر اور ہنزہ کے حکمران خاندانوں کو خصوصی مراعات دیں، دونوں کو اسلام آباد میں پانچ پانچ کنال کے پلاٹس، وظیفہ اور خصوصی اسٹیٹس دیا گیا، نگر کے حکمران آہستہ آہستہ کاروباری دنیا میں گم ہو گئے جب کہ ہنزہ کا حکمران خاندان سیاست میں آگیا ، میر غضنفر علی خان اس وقت گلگت بلتستان کے گورنر ہیں، ان کے صاحبزادے سلیم خان والد کی خالی نشست پر صوبائی اسمبلی کاالیکشن لڑ رہے ہیں، اسلام آباد کی پوش سڑک مارگلہ روڈ پر ہنزہ ہاؤس 30 سال سے گزرنے والوں کو ہنزہ کی عظمت رفتہ کی یاد دلاتا ہے، خاندان کے پاس پرانی کاروں کا خوبصورت بیڑہ بھی ہے، یہ لوگ جب اپنی پرانی قیمتی کاروں میں سڑک پر نکلتے ہیں تو لوگ ان کی سرخ رنگ کی نمبر پلیٹ اور اس پر ہنزہ ون اور ہنزہ ٹو دیکھ کر رک جاتے ہیں، آغا خان فاؤنڈیشن نے ہنزہ میں بے تحاشہ کام کیا۔
فاؤنڈیشن نے پورا ال تت گاؤں دوبارہ بنا دیا، ال تت گاؤں کی پرانی گلیوں اور قدیم ساخت کے مکانوں میں تاریخ بکھری پڑی ہے، ال تت فورٹ کا شکوہ بھی دل میں اتر جاتا ہے، بادشاہ کہاں بیٹھتا تھا، ملکہ کہاں رہتی تھی، درباری کہاں آتے تھے، قیدیوں کو زیر زمین قید خانے میں کس طرح رکھا جاتا تھا، شاہی خاندان کے واش روم کی غلاظت قید خانے میں قیدیوں پر کیوں گرائی جاتی تھی، قیدیوں کو قلعے کی کس دیوار سے پھینک کر سزائے موت دی جاتی تھی اور حملے کے دوران شاہی خاندان کو کس کمرے میں چھپا دیا جاتا تھا اور انھیں کس طرح سرنگ سے گزار کر پانی کے تالاب تک لایا جاتا تھا،یہ ساری کہانیاں ہوش ربا ہیں، ال تت گاؤں کے درمیان تالاب ہے، یہ تالاب گلیشیئر کے ٹھنڈے پانی سے لبا لب بھرا تھا، گاؤں کے نوجوان اور بچے تالاب میں نہا رہے تھے، خواتین انگور کی بیلوں کے نیچے بیٹھی تھیں اور بوڑھے تھڑوں پر بیٹھ کر جوانی کے قصے سنا رہے تھے، قلعے کے ساتھ چھوٹا سا گھریلو ریستوران تھا،ریستوران کا سارا اسٹاف خواتین پر مشتمل تھا، یہ خواتین گاؤں سے تعلق رکھتی تھیں،  میں دو گھنٹے ریستوران میں بیٹھا رہا، کھانا تازہ اور دیہاتی تھا، خاتون نے بتایا ریستوران آغا خان فاؤنڈیشن نے بنایا، اسٹاف کو ٹریننگ ’’سرینا‘‘ نے دی اور یہ وادی کا مقبول ترین ریستوران ہے۔
ایگل نیسٹ ہنزہ کا خوبصورت ترین مقام ہے، یہ لیڈی فنگر کے سائے میں انتہائی بلندی پر واقع ہے، یہ جگہ ریٹائرڈ فوجی جوان علی مدد کے پردادا کی تھی، علی مدد نے 1990ء کی دہائی میں اس جگہ ایک کمرہ بنایا اور اس پر ’’ایگل نیسٹ‘‘ لکھ دیا، اس کمرے نے پوری چوٹی کو ’’ایگل نیسٹ‘‘ کا نام دے دیا، یہ ہوٹل اب 41 کمروں کا خوبصورت ’’ریزارٹ‘‘ بن چکا ہے، یہ وادی کی ’’پرائم لوکیشن‘‘ ہے، آپ کو یہاں سے ہنزہ اور نگر کی وادیاں بھی دکھائی دیتی ہیں اور ہنزہ کی گیارہ چوٹیاں بھی، یہ ہوٹل بنانا اور اس ہوٹل کے گرد گاؤں آباد کرنا انسانی معجزہ ہے اور علی مدد اس معجزے کا ’’آرکی ٹیکٹ‘‘ ہے، یہ رات تک اپنے ہوٹل میں اس طرح پھرتا رہتا ہے جس طرح خوش حال دادا اپنی صحت مند آل اولاد کے درمیان خوش خوش پھرتا ہے، علی مدد نے اس مشکل جگہ سڑک بھی پہنچائی،پانی بھی اور زندگی کی دوسری سہولتیں بھی، یہ کوششیں بارآور ثابت ہوئیں اور یہ ہوٹل اب ہنزہ کا ’’آئی کان‘‘ بن چکا ہے۔
دنیا کے خواہ کسی بھی کونے سے کوئی مسافر آئے وہ ’’ایگل نیسٹ‘‘ ضرور پہنچتا ہے، ہوٹل میں کمرہ خوش نصیبی سے ملتا ہے، آپ یہاں سے لیڈی فنگر اور راکا پوشی کے سارے رنگ دیکھ سکتے ہیں، وہ چٹان بھی ایگل نیسٹ ہوٹل کے ساتھ ہے جہاں سے11 چوٹیاں نظر آتی ہیں، یہ تمام چوٹیاں 6 ہزار میٹر سے زیادہ بلند ہیں،یہ دنیا میں اس نوعیت کا واحد مقام ہے، آپ دس منٹ کی کوشش کے بعد دنیا کی اس چھت پر پہنچ جاتے ہیں جہاں سے آپ دائرے میں گھوم کر گیارہ برفیلی چوٹیاں دیکھ سکتے ہیں، یہ مقام طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت سیاحوں کی ’’عبادت گاہ‘‘ بن جاتا ہے، لوگ صبح کے وقت یہاں سے سورج کو گیارہ چوٹیوں پر دستک دیتے دیکھتے ہیں۔۔۔
ایگل نیسٹ ہوٹل  ہنزہ۔۔۔ طلوعِ صبح
آنکھوں کے سامنے برف پوش چوٹیاں اندھیرے کا نقاب الٹ کر سامنے آتی ہیں، پھر ان کے رخساروں پر سورج کا سنہرا پن اترتا ہے، پھر یہ سنہرا پن چمکنے لگتا ہے اور پھر پوری وادی میں نیا دن طلوع ہو جاتا ہے، یہ جگہ غروب آفتاب کے وقت ایک بار پھر مقدس ہو جاتی ہے، آپ اگر یہاں کھڑے ہوں تو سورج آپ کی نظروں کے سامنے اپنی کرنیں سمیٹے گا اور سونے کے لیے راکا پوشی کے برفیلے غاروں میں گم ہو جائے گا، صبح اور شام ایگل نیسٹ کے دو خوبصورت انمول وقت ہیں، یہ لائف ٹائم تجربہ ہیں اور میں دو دن یہ لائف ٹائم تجربہ کرتا رہا یہاں تک کہ میں کل سوموار کی صبح گلگت آنے سے پہلے بھی بالکونی میں بیٹھ کر راکا پوشی پر صبح صادق کو اترتے دیکھتا رہا، وادی میں اس وقت روحوں کے قہقہے اور فرشتوں کے پروں کی آوازیں آ رہی تھیں اور زندگی وقت کی تال پر رقص کر رہی تھی۔
وہ ایک انمول لمحہ تھا۔
ال تت قلعے سے ہنزہ اور اس کے  پہاڑی سلسلے۔۔
 
بلتت فورٹ ہنزہ کا دوسرا قلعہ ہے، یہ قلعہ شہر کے بالائی حصے میں پہاڑوں کے دامن میں پناہ گزین ہے، آپ کو محل تک پہنچنے کے لیے گلیوں کے اندر چڑھائی چڑھنا پڑتی ہے اور یہ ہم جیسے شہریوں کے لیے جان جوکھوں کا کام ہے لیکن آپ اگر سانس سنبھال کر محل تک پہنچ جائیں تو آپ کو وہاں مایوسی نہیں ہوتی، محل آپ کو مبہوت کر دیتا ہے، محل کی پچھلی دیوار کے ساتھ ماضی میں گلیشیئر ہوتا تھا، ماضی کے حکمرانوں نے پچھلی دیواروں کے ساتھ قدرتی فریج بنا رکھے تھے، گلیشیئر کی ٹھنڈی ہوائیں برفیلے غاروں سے ہوتی ہوئیں چھوٹے چھوٹے کمروں تک پہنچتی تھیں اور یہ ان کمروں کو فریج کی طرح ٹھنڈا کر دیتی تھیں، میر آف ہنزہ ان کمروں میں کھانے کی اشیا اسٹور کرتے تھے، اس قسم کا ایک کمرہ مین کچن کے ساتھ بھی تھا، میں نے اندرہاتھ ڈال کر دیکھا، وہ آج بھی دوسرے کمروں کی نسبت ٹھنڈا تھا، میر آف ہنزہ کے بیڈ روم میں ایک تنور نما گڑھا تھا، گائیڈ نے بتایا یہ تنور میر کی ’’وائن کیبنٹ‘‘ تھی، بادشاہ یہاں اپنی شراب اسٹور کرتا تھا، یہ ’’تنور‘‘ بھی قدرتی فریج تھا، یہ گرم مشروب کو ٹھنڈا رکھتا تھا، بادشاہ کی نشست کے سامنے ’’ریمپ‘‘ تھا، فریادی اور عوامی نمایندے ریمپ کے آخری سرے پر کھڑے ہوتے تھے۔
ریمپ کے نیچے سوراخ تھا، سوراخ پر لکڑی کا دروازہ تھا، فریادی بادشاہ سے مخاطب ہونے سے پہلے دروازہ اٹھا کر سوراخ میں نذرانہ ڈالتا تھا، یہ نذرانہ عموماً گندم، جو اور خشک خوبانیوں کی صورت میں ہوتا تھا، بادشاہ نذرانے کی وصولی کے بعد فریادی کو بولنے کا اشارہ کرتا تھا، ریمپ کے ساتھ پرانے زمانے کے پیمانے رکھے تھے، یہ پیمانے ناپ تول کے کام آتے تھے، بادشاہ بعض اوقات نذرانہ ناپنے اور تولنے کا حکم بھی جاری کر دیتا تھا اگر نذرانہ دینے والی کی استطاعت سے کم ہوتا تھا تو بادشاہ ناراض ہوجاتا تھا یوں فریادی کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑ جاتا تھا،محل کے نیچے بڑے بڑے گودام تھے، یہ نذرانے ان گوداموں میں پہنچ جاتے تھے اور بادشاہ اور اس کے اسٹاف کے کام آتے تھے، ہنزہ کے لوگ اس زمانے میں پتھر کے برتنوں میں کھانا پکاتے تھے، محل کے شاہی باورچی خانے میں قدیم زمانے کے توے، کڑاہیاں اور دیگچیاں رکھی ہیں، یہ پتھر کی بنی ہیں اور یہ پرانے زمانے کے لوگوں کی ہنرمندی کی ضامن ہیں، وہ لوگ کدو کے جگ، گلاس اور صراحیاں بناتے تھے، یہ مارخور اور یاک کے سینگھوں کے پیمانے، کپ اور پیالے بھی تیار کرتے تھے، یہ چیزیں بھی وہاں رکھی ہیں، قلعہ انسانی صناعی کا زندہ ثبوت ہے، یہ انتہائی بلند چٹانوں پر پتھروں اور لکڑیوں کی مدد سے بنایا گیا، قلعے کے ایک طرف وادی ہے۔
یہ وادی قلعے کی چھت سے شاہراہ ریشم تک صاف دکھائی دیتی ہے جب کہ دوسری طرف گلیشیئر اور پہاڑ ہیں چنانچہ یہ قلعہ دونوں طرف سے محفوظ تھا، قلعے کے گرد اونچی نیچی گلیوں میں بلتت کا گاؤں آباد ہے، آغا خان فاؤنڈیشن نے گلیوں، گاؤں اور قلعہ تینوں پر کروڑوں روپے خرچ کیے، تزئین و آرائش کی اور سیاحوں کے لیے ان میں کشش پیدا کر دی، گلیوں میں چھوٹی چھوٹی دکانیں بھی ہیں، دکاندار ان دکانوں میں تازہ پھل، خشک میوہ جات اور ہنزہ کی جڑی بوٹیاں فروخت کرتے ہیں، گھر پرانے اور روایتی ہیں، گلیشیئر کا پانی چھوٹی بڑی نالیوں کے ذریعے تمام محلوں اور گھروں سے گزرتا ہے، لوگ یہ پانی پیتے بھی ہیں اور اس سے کھیتی باڑی بھی کرتے ہیں، صحنوں میں انجیر، خوبانی، آلو بخارے اور چیری کے درخت ہیں، چھتوں سے انگور کی بیلیں لٹک رہی ہیں، یہ لوگ کھیتوں میں آلو کاشت کرتے ہیں، ہنزہ کا آلو ہمارے پنجاب کے آلوؤں سے مختلف ہے، گاؤں میں ہنزہ کے روایتی کھانوں کے چند ریستوران بھی ہیں، آپ ان ریستورانوں میں یاک کی پنیر سے بنے کھانے کھا سکتے ہیں، بلتت کے لوگ بہت اچھے، ہنس مکھ اور مہربان ہیں، یہ اپنی دل آویز مسکراہٹ سے آپ کا دل موہ لیتے ہیں۔
خنجراب میری اگلی منزل تھا، یہ پاکستان اور چین کا مشترکہ بارڈر ہے، یہ اٹھارہ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے، چاروں طرف برف پوش پہاڑ ہیں، پہاڑوں کے درمیان بے شمار چشمے ہیں، یہ چشمے جمع ہو کر دریا بنتے ہیں اور یہ دریا گلگت کی طرف سفر شروع کردیتا ہے، یہ درہ ہزاروں سال سے برصغیر پاک وہند اور چین کے درمیان زمینی رابطہ ہے، یہ چھ ماہ برف میں دفن رہتا ہے، یہ شدید برفباری کی وجہ سے تین ماہ آمد و رفت کے لیے بند کر دیا جاتا ہے، چین نے کاشغر سے گلگت تک خوبصورت سڑک بنا کر دونوں ملکوں کو آپس میں جوڑ دیا یوں ماضی کا مشکل سفر حال میں آسان ہو گیا، میں اتوار کی صبح خنجراب روانہ ہوا، ہنزہ سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر عطاء آباد جھیل تھی، یہ قدرتی جھیل جنوری 2010ء میں پورا پہاڑ دریا میں گرنے سے معرض وجود میں آئی، پہاڑ پر عطاء آباد کا اندھیرا گاؤں تھا، گاؤں میں صرف دو گھنٹے کے لیے سورج کی روشنی پڑتی تھی، روشنی کی کمی کی وجہ سے گاؤں کی آبادی بہت کم تھی، یہ گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گیا لیکن یہ جاتے جاتے جھیل کو عطاء آباد کا نام دے گیا۔
 
دریا اور گلیشیئروں کے گدلے پانی عطاء آباد پہنچ کر صاف ہو جاتے ہیں، آپ جوں ہی عطاء آباد پہنچتے ہیں، جھیل کا سبز پانی آپ کے قدم روک لیتا ہے اور آپ بے اختیار جھیل کے کنارے رک جاتے ہیں، یہ پانی پانی نہیں شیشہ ہے اور اس شیشے میں پہاڑوں کا عکس پورے منظر کو میلوں تک پھیلی پینٹنگ بنا دیتا ہے، حکومت نے چین کی مدد سے جھیل کے ساتھ ساتھ پانچ ٹنلز بنائیں، سڑک ان ٹنلز کے اندر سے گزرتی ہے، یہ ٹنلزسات کلومیٹر لمبی ہیں اور یہ پاکستان میں اس نوعیت کا پہلا تجربہ ہے، یہ تجربہ کامیاب رہا، حکومت کو یہ تجربات مستقبل میں بھی جاری رکھنے چاہئیں، ٹنل ٹیکنالوجی پوری دنیا میں عام ہو چکی ہے، ناروے نے دنیا کی پہلی تیرتی ہوئی زیر آب سرنگ بنانے کا اعلان کیا ہے، اس سرنگ کا حجم 4 ہزار فٹ گہرا اور 3ہزار فٹ چوڑا ہو گا، اس سرنگ کی تعمیر سے سفر 21 گھنٹے سے کم ہو کر 11 گھنٹے رہ جائے گا، ہم بھی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، پورے ملک کو آپس میں جوڑ سکتے ہیں، ہم چوبیس گھنٹوں کے سفر کو آٹھ دس گھنٹوں تک لا سکتے ہیں۔
سست بارڈر پاکستان کا آخری ٹاؤن ہے یہاں امیگریشن اور کسٹم کے دفاتر ہیں، یہ ہنزہ سے دو گھنٹے کے فاصلے پر ہے جب کہ خنجراب کے لیے سست سے مزید دو گھنٹے سفر کرنا پڑتا ہے، یوں یہ سفر چار گھنٹوں پر محیط ہو جاتا ہے، سست غریبانہ، کم آباد اور گندہ سا گاؤں ہے، حکومت کو اس گاؤں پر خصوصی توجہ دینی چاہیے، کیوں؟ کیونکہ یہ چین کی طرف سے آنے والے مسافروں کے لیے پاکستان کا پہلا تعارف ہے اور ہمیں کم از کم اپنا تعارف ضرور ٹھیک کر لینا چاہیے، پاکستان کا آخری واش روم بھی ’’سست‘‘ میں ہے، یہ سہولت اس کے بعد کسی جگہ موجود نہیں حتیٰ کہ میں نے خنجراب میں سیکڑوں لوگوں، خواتین اور بچوں کو خوار ہوتے دیکھا، یہ غفلت غیر انسانی ہے۔
حکومت کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہیے، سست سے چڑھائی میں اضافہ ہو جاتا ہے، سڑک بل کھاتی جاتی ہے، اوپر چڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ یہ اس درے میں پہنچ جاتی ہے جو ہزاروں سال طالع آزماؤں، سیاحوں اور تاجروں کی توجہ کا مرکز رہا، یہ درہ شاہراہ ریشم کی گزر گاہ تھا، چین کے پاس ریشم بنانے کا فن تھا، چینیوں نے یہ فن دنیا سے ہزاروں سال خفیہ رکھا، یہ خفیہ طریقے سے ریشم کے کیڑے پالتے تھے، انھیں شہتوت کے پتوں میں ککون بنانے کا موقع دیتے تھے اور آخر میں ککون سے ریشم کا دھاگہ نکال کر اس کا کپڑا بُن لیتے تھے، یہ کپڑا درہ خنجراب پار کر کے دنیا تک پہنچتا تھا، یہ عمل اس وقت تک خفیہ رہا جب تک یورپ کے دو پادری اپنی دستی چھڑیوں میں ریشم کے چند کیڑے چھپا کر چین سے فرار ہونے میں کامیاب نہیں ہو گئے۔
یہ کیڑے جوں ہی چین سے نکلے دنیا پر ریشم کا راز افشا ہوگیا، ریشمی کپڑا ہزاروں سال اس درے کے ذریعے دنیا تک پہنچتا رہا، ریشم کا راز بھی یہیں سے باہر نکلا، درہ خنجراب قدرت کا خوبصورت معجزہ ہے، آپ جوں ہی درے میں داخل ہوتے ہیں آپ کو چاروں اطراف برف پوش پہاڑ نظر آتے ہیں، پہاڑوں کے درمیان ایک وسیع وادی ہے، وادی میں درجنوں چشمے بہہ رہے ہیں، یہ چشمے پہاڑوں کی چوٹیوں اور گلیشیئرز سے نکلتے ہیں، وادی کو سڑک دو حصوں میں تقسیم کرتی ہے۔
خنجراب کے شروع میں پاکستان کی سیکیورٹی پوسٹ ہے، پوسٹ کے ساتھ چین اور پاکستان کے جھنڈے لگے ہیں، پاکستانی پوسٹ سے چند سو میٹر کے فاصلے پر چین کی پوسٹ ہے، یہ دونوں پوسٹیں دونوں ملکوں کی نفسیات، معیشت اور اعتماد کو ظاہر کرتی ہیں، پاکستانی پوسٹ غریبانہ، شرمیلی اور پریشان حال ہے جب کہ چین کی پوسٹ انتہائی خوبصورت، بااعتماد اور باوقار ہے، چینی پوسٹ کے سامنے ہمارا صرف ایک سپاہی کھڑا تھا جب کہ چین کی طرف 8 آفیسرز لائن میں کھڑے تھے، ہماری سائیڈ پر ایک باریک سی رسی سرحد کی نشاندہی کر رہی تھی، جب کہ چین کی طرف 8 آفیسرز لائن میں کھڑے تھے۔۔۔۔