جمعرات, نومبر 16, 2017

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔
خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ہر ذرّے کا اور ہر انسان کے خیالات اور جذبات و اعمال کا علم بھی اسے ہو، اس قدرت کے عملی پیرائے کیا ہوسکتے ہیں؟ یہ ہر عاقل انسان کے ذہن کو شل کرنے والا سوال ہے لیکن ہماری تسلّی اس طرح کرائی جاتی رہی ہے کہ خدا اور اس کی صفات و قدرت کو ہم نہیں سمجھ سکتے۔ یہ ایک درست بات ہے مگرایک سوچتا ذہن جو سائنسی بنیاد پر ہر چیزکا جواز تلاش کرتا ہے، وہ خدا کے حوالے سے بھی تجسّس کا اظہار کرنے میں حق بجانب ہوتا ہے کہ اسے ہر سوال کا مناسب عقلی استدلال ملے۔ اس دور کے نوجوان سوچتا ذہن رکھتے ہیں اسی لیے ہر عقیدے کا عقلی جواب طلب بھی کرتے ہیں اور تلاش بھی کہ تجسّس بھی اللہ کی تخلیق ہے۔ ہم اپنی عقل کے بموجب یہ جاننے کی سعی تو کر ہی سکتے ہیں کہ خدا کی قدرت کی نوعیت اور پیرائے کیا ہوسکتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ ایسی کھوج سے ہماری ایمانیات پر زد نہیں پڑتی کیونکہ ہمارا ایمان بالغیب ہمیں اللہ کی قدرت پریقین عطا کرتا ہے، مگر عقل کو چین سے بٹھانے کے لیے عقلی دلیل بھی ضروری ہے تاکہ وسوسوں کا راستہ بند ہو۔ اس لیے یہاں ہم اللہ کی عظیم الشّان قدرت کے پیرایوں کے فہم اور عقلی تشریح کے لیئے دلائل کی تلاش میں جدید سائنسی دریافتوں کی مدد لیتے ہیں۔
ہماری روزمرّہ کی زندگی میں تیزی سے داخل ہونے والے کمپیوٹر اور اسمارٹ فون نے سوچنے کے اتنے دریچے کھول دیے ہیں کہ بس دیکھنے والی آنکھ اور سوچنے والے ذہن کی توجّہ کی ضرورت ہے۔ آئیے ہم اس ضمن میں خدا کی قدرت سے قبل انسان کی قدرت پر غور کرتے ہیں کہ وہ کیا کچھ حاصل کرچکا ہے۔
انٹرنیٹ یعنی انٹرنیشنل  نیٹ ورک کئی ارب کمپیوٹرز کے مابین رابطے کا عالمی نظام ہے جو انٹرنیٹ پروٹوکول  (آئی پی) کی بنیاد پر چلتا ہے یعنی ہر کمپیوٹر ایک مخصوص نمبر کا حامل ہوتا ہے۔ سادہ لفظوں میں یہ ایک الیکٹرانک بازار ہے جس میں ہر طرح کی اشیاء، خدمات اور تفریحات موجود ہیں۔ ایک طرف تاجر نام کے ساتھ (ویب سائٹ) تودوسری طرف خریدار یا تفریح کنندہ آئی پی نمبر کے ساتھ۔ ایک ارب سے زائد ویب سائٹ کے اتنے وسیع عالمی سسٹم میں تلاش، آپس میں رابطے اور معلومات کے حصول کے لیے سرچ سوفٹ وئیر بنائے گئے جو اربوں کھربوں ایڈریس یا معلومات میں سے ہماری مطلوبہ معلومات تک رسائی ممکن بناتے ہیں۔ انہیں سرچ انجن کہا جاتا ہے۔ ان میں سب سے مشہور اور برق رفتار گوگل  ہے۔ ویب سائٹ "نیٹ مارکیٹ شیئر" کی مارچ 2017ء کی رپورٹ کے مطابق روزانہ ساڑھے چھ ارب ویب سرچ میں گوگل کا حصہ ساڑھے چار ارب سے زیادہ ہے۔ اسی لیے یہاں پر انٹر نیٹ سرچ انجن گوگل کی قدرت اور کارکردگی کا، جس کا آپ خود بھی روز مشاہدہ کرتے ہیں، ایک مختصر جائزہ مناسب ہوگا۔ آئیے اس کی دسترس کا اندازہ لگائیں۔
گوگل کروم کی انسٹالیشن کے بعد ہمارے کمپیوٹر اور گوگل سرورز کا ان دیکھا رابطہ قائم ہوجاتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق گوگل پر ہر سکینڈ میں اوسطاً 55 ہزار تلاش کے مطالبے آتے ہیں جن کا انتہائی برق رفتاری سے جواب دیا جاتا ہے۔ جس میں ہر سوال کے جواب کی تلاش میں اوسطاً اعشاریہ دو سیکنڈ میں 1000 کمپیوٹرز کا استعمال ہوتا ہے۔ اس سوفٹ وئیر کی رسائیت کا یہ عالم ہے کہ کسی بھی تلاش پر کی بورڈ پر ادھورے لکھے سوال کے آگے کے ممکنہ جملے یا ایڈریس بھی یہ ہمارے سامنے لاتا رہتا ہے، تاکہ ہمیں آسانی ہو، بلکہ آپ کی آواز سے بھی کہ، کسی ویب سائٹ کا نام پکاریں تو گوگل اس لنک کو لے آتا ہے۔ ہمارے اسمارٹ فون پرگوگل کی گرفت ایسی ہے کہ اگر کھو جائے تو یہ آپ کو نہ صرف اس کی لوکیشن بتا سکتا ہے بلکہ اس کو لاک کر سکتا اور اس کا ڈیٹا بھی ڈیلیٹ کر سکتا ہے۔ آزمانے کے لیے آپ ابھی کمپیوٹر پر اپنے گوگل اکاؤنٹ  پر جا کر اپنے گوگل رجسٹرڈ اینڈرائیڈ
android
 موبائل کی تلاش کا آپشن 
find-my-phone
 لکھیں تویہ گوگل نقشے پر اس کا مقام ظاہر کر دے گا اور آپ سے آپشن پوچھے گا کہ گھنٹی بجائے، لاک کرے یا ڈیٹا تلف کر دے! مگر آپ صرف گھنٹی بجانے پر اکتفا کریں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ ہر وقت کسی کی نگاہ میں ہیں۔
کارکردگی اور قوّت کی ایک جھلک:۔2013ء کی رپورٹ کے مطابق گوگل کو ایک ارب سترہ کروڑ افراد استعمال کرتے تھے۔
پندرہ فیصد نئے سوالات کے جواب ڈھونڈنے کے لیے گوگل روزانہ بیس ارب ویب سائٹ پیجز میں رینگتا ہے۔
نالج گراف ڈیٹا بیس میں پچاس کروڑ ستّر لاکھ اداروں کے 18 ارب حقائق ان کے آپس کے تعلّق کے ساتھ محفوظ ہیں۔
مئی 2017ء میں گوگل نے انکشاف کیا کہ اس کے ماہانہ انڈرائیڈ استعمال کرنے والی ڈیوائسز دو بلین تک پہنچ گئی ہیں۔
گوگل ایک سال میں 2 ٹریلین یعنی بیس کھرب سرچ کرتا ہے۔ ایک دوسری رپورٹ کے مطابق بارہ کھرب۔ اس پر 130 کھرب ویب پیج انڈکس ہیں۔
یو ٹیوب پر روزانہ ایک  ارب گھنٹے کی ویڈیو دیکھی جاتی ہیں۔ 2014ء میں اس کے ڈیٹا سنٹر میں استعمال ہونے والی توانائی امریکہ کے تقریباً تین لاکھ سڑسٹھ ہزار گھروں کے استعمال کے برابر تھی۔ گوگل کے تقریباً 78ہزار ملازمین ہیں۔ جی۔میل کو ایک ارب بیس کروڑ افراد استعمال کرتے ہیں۔
کم لوگوں کو علم ہوگا کہ گوگل کا ڈیش بورڈ وہ ڈیٹا بیس ہے جس میں ہر کسٹمر یا یوزر کا ہر طرح کا مکمّل ریکارڈ محفوظ ہوتا رہتا
ہے۔ اس میں ابتدا سے آج تک کی ہر گوگل ایپ
 application
 پر ہماری آپ کی ہر ہر نقل و حرکت تاریخ اور وقت کے ساتھ محفوظ ہوتی ہے۔ یوٹیوب پر اعلانیہ اور خفیہ نظارے اپنی ہسٹری کے ساتھ محفوظ ہیں۔ اس پر ہماری روز کی ہسٹری ڈیلیٹ کا اثر نہیں ہوتا بلکہ ڈیش بورڈ سے مواد الگ سے تلف کرناپڑتا ہے۔Google.com/history یا myactivity.google.com/myactivity
 آپ کو اپنی سرچ ہسٹری تک رسائی دے گا، لیکن مطمئن رہیں کہ گوگل آپ کے علاوہ یہ کسی اور کو نہیں دکھاتا۔ سرچ کے علاوہ کئی خدمتی پروگرام بھی ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔
سیکنڈ کے بھی ثانیوں میں آپ کے سوال اور تلاش کا جواب نگاہوں کے سامنے آنا اب معمول ہے، لہٰذا اس پر ہم غور کم کرتے ہیں کہ اس کے پیچھے سسٹم کیا ہے۔
مارچ 2016ء کی ایک محتاط رپورٹ کے مطابق دنیا کے مختلف خطّوں میں پچیس لاکھ سرورز کے پھیلے وسیع جال نے گوگل کا یہ محیّرالعقول نظام تخلیق کیا ہے۔ یہ تعداد روز بروز بڑھتی ہے۔ اس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ 2011ء میں سرورز کی تعداد نو لاکھ تھی۔
اوپر دی گئیں شماریات زیادہ تر مشاہدے اور قیاس و حساب پر ہیں کیونکہ گوگل اپنی کارکردگی عموماً شیئر نہیں کرتا۔ ان کے حوالہ جات آخر میں درج ہیں۔
گوگل کی کارکردگی ایک عام انسان کے لیے ناقابل یقین ہو سکتی ہے، لیکن کیونکہ ہمیں اس کے پیچھے سسٹم کا علم ہے، اس لیے یہ ہمارے لیے عجوبہ نہیں رہا۔ گوگل کی مثال سے ثابت ہوا کہ سامنے چلتے کسی بھی بڑے سسٹم کے پیچھے بھی بہت بڑی پلاننگ اور ایک ہمہ گیر کنٹرول سسٹم ہوتا ہے۔ اب ایک قدم آگے جاکر پورے انٹرنیٹ کے نظام کو دیکھیں کہ کس طرح فیس بک، ٹوئٹر، واٹس ایپ، مائیکروسوفٹ، اسکائپ، انسٹا گرام وغیرہ اپنے ایسے ہی مربوط نظام کے ساتھ روبہ عمل ہیں۔ سب سے دلچسپ اور اہم وائی فائی
 wi-fi (wireless-fidelity) 
کا ایک ان دیکھا نظام ہے جو کروڑوں اربوں معلومات لیے ہمارے اطراف "غیب" میں موجود ہوتا ہے۔ ہم میں سے اکثر اس نظام
 (wi-fi) 
سے لاتعلّق ہی رہتے ہیں، مگر جب ہمیں کسی معلومات یا کسی تسکین کی طلب ہوتی ہے تو اس کی بدولت دنیا کی ہر معلومات صحیح یا غلط، چندثانیوں میں کمپیوٹر یا اسمارٹ فون کی اسکرین پر آموجود ہوتی ہے۔
ہمارے مقام قیام سے دیکھا جائے تو اس انٹرنیٹ سسٹم کے دو حصّے ہوئے، ایک وہ جو طبعی یا فزیکل ہے، جس میں کمپیوٹر سرورز، مشینی انفرا اسٹرکچر، خلائی مصنوعی سیّارے اور کیبل کا نظام ہے جو ہماری آنکھوں سے فی الوقت اوجھل ہے، اور دوسرا وہ جو ہمارے اطراف وائی فائی کی شکل میں لیکن غیر مرئی طور پر موجود ہے۔ اس سسٹم سے بہرہ مند ہونے کے لیے ہمیں ایک ڈیوائس یعنی کمپیوٹر یا موبائل کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس سے ایک تعلّق قائم کر دیتا ہے۔ یہ ڈیوائس ہی، جو وائی فائی کے سگنل کو واپس معلومات میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کی حامل ہوتی ہے، اس خاص ماحول کے راز کو فاش کرتی ہے کہ کوئی عام سی فضا حقیقتاً خالی نہیں ہوتی بلکہ ایک بہت فعّال دنیا اس خاموشی میں موجود ہوسکتی ہے جس میں بے پناہ معلومات موجزن ہوں۔
اب گوگل کی تشریح کی جائے تو ایک ایسا نظام ہے جو ہر لمحے لاکھوں انسانوں کی بات سن بھی رہا ہے اور جواب بھی دے رہا ہے۔ انھی لمحات میں وہ ہر ہر شخص کے کمپیوٹر کی کلک بھی محفوظ کر رہا ہے گویا فرداً فرداً سب کے اعمال کا ریکارڈ بھی جمع کر رہا ہے۔ وہ سیٹلائٹ سے میپ پر کروڑوں لوگوں کو نہ صرف دنیا کا چپّہ چپّہ دکھاتا رہتا ہے بلکہ اسمارٹ فونزکی نقل و حرکت بھی محفوظ کر رہا ہے، مزید سب کو ٹریفک کی گنجانی بھی بتا رہا ہے۔ اگر اس کا کوئی تعلّق لائیو سیٹلائٹ ریکارڈنگ سے ہو تو سب کی گھر سے باہر کی تمام نقل و حرکت بھی ریکارڈ کر سکتا ہے، کریم اور اُوبر سروسز اس کی مثال ہیں۔ یہ سب کچھ شفّاف حقائق ہیں کہ ایک فعّال نظام بیک وقت کروڑوہا انسانوں سے مختلف پیرایوں میں رابطہ رکھنے کی صلاحیت کا خوگر ہے۔ گوگل انسان کی صلاحیت کو آشکارہ کرتا ہے کہ اس نے کس طرح ایک برق رفتار سسٹم کی تخلیق کی۔ اس سسٹم کی رکھوالی کرنے اور چلانے والے بھی تقریباً 78 ہزار انسان ہیں جو پس پردہ اس کا حصہ ہیں۔ گویایہ ہمہ گیر سسٹم ظاہر اور باطن میں مربوط پیرائے میں جاری ہے جس پر ایک کنٹرولنگ اتھارٹی ہے۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ گوگل انسان کا بنایا ہوا ایک سسٹم ہے تو بھلا جس ہستی نے انسان کو بنایا، وہ کیسے کیسے سسٹم کی تخلیق پر قادر نہ ہوگی۔ اس انٹرنیٹ اور سرچ سسٹم کو سمجھ کر ایک قدم آگے بڑھ کر کائنات کے نظم کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
گوگل کے نظام کی روشنی میں اگر ہم اس کائنات کے نظام کی تشریح کرنا چاہیں تو بآسانی بہت سے پہلوؤں کی وضاحت ہو سکتی ہے۔ اللہ کے نظام جس سسٹم کے تحت چل رہے ہیں، ہمیں ان کا فی الحال علم نہیں لیکن جدید ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم اور انٹرنیٹ ہم پر واضح کرتے ہیں کہ اس سے برتر نظام عین ممکن ہیں۔ یہ بات تو یقینی ہے کہ کوئی سسٹم بغیر پلاننگ کے نہیں بنتا اور نہ جاری رہ سکتا ہے اور کائنات بھی ایک سسٹم ہے۔ انسان کا اپنے رب سے تعلّق ہونا انتظامی ہی نہیں بلکہ فطری ضرورت بھی ہے۔ دنیا کا ہر ذی حیات اور ہر فرد ایک اسمارٹ فون کی طرح کسی روحانی یا انجانی پروٹوکول سے منسلک ہے۔
کائنات وہ سسٹم ہے جس کے دو رخ ہیں، ایک طبعی اور دوسرا غیر مرئی، لیکن انٹرنیٹ سسٹم کے مقابلے میں اس کائناتی نظم میں منفرد بات یہ ہے کہ اس کا یہاں پر معکوس یا اُلٹ اطلاق ہے۔ انٹرنیٹ میں ہم غیر مرئی ماحول (وائی فائی) سے منسلک ہوتے ہیں اور طبعی فنکشنل رخ ہم سے اوجھل اور کہیں دور ہوتا ہے، جبکہ کائناتی ماحول میں ہم طبعی ماحول میں ہوتے ہیں جبکہ اس کا فنکشنل نظم غیر مرئی اور ہمارے حواس سے اوجھل ہے کہ جس میں فطری قوانین، توانائیاں اور قوّتیں شامل ہیں۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہر نظام مربوط منصوبہ بندی سے لاگو تو ہوتا ہے مگر اس کی روانی میں مختلف کارندوں کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ کائنات کے نظام کے فنکشنل ہونے میں اللہ کے کارندوں کا جو اہم مقام ہے، اس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ اللہ نے اپنے بعد فرشتوں پر ایمان لازم قرار دیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خالق فرشتوں کا محتاج نہ ہونے کے باوجود انسان کو عقلاً بھی مطمئن کر رہا ہے کہ کائناتی سسٹم کس طرح بنایا اور چلایا جا رہاہے۔ یہاں ایک بات اور عیاں ہوتی ہے کہ اللہ نے انسان کو اپنا خالق بنانے سے پہلے اپنی کچھ صفات کا عکس اس میں منتقل کیا تو اسُی کے باوصف انسان انھی پیرایوں میں اپنے نظام چلا رہا ہے، یعنی پلاننگ، انتظام، اور ناظم سے رابطہ۔ جس طرح گوگل کے نظام کا خالق باہر رہ کر ایک عظیم سسٹم کو رواں رکھتا ہے، غالباً ایسا ہی کوئی نظم ہے کہ اللہ اس سسٹم سے باہر رہ کر کائنات اور زندگی رواں دواں رکھے ہوئے ہے۔
رب سے ایمانی تعلّق کیا ہے؟
گوگل کے اپنے فون انڈرائیڈ کے بلِٹ ان
 built-in 
سسٹم سے لیس ہوتے ہیں جس میں اپنا جی میل
 gmail.account 
ڈال کر آپ گوگل کے سرور سے منسلک ہوجاتے ہیں، بالکل اسی طرح ہر انسان خدا کے بارے میں ایک
 built-in 
فطری تجسّس لیکر پیدا ہوتا ہے جو روح میں پیوست ہے، اور محض اس کا اقرار اس کا رابطہ رب سے قائم کرنے کے پیرائے زندہ 
activate
 کر دیتا ہے۔
یہاں غور طلب یہ نکتہ ہے کہ ہم انٹرنیٹ کے ماحول یا نظم سے تعلّق اسی وقت قائم کر پاتے ہیں جب ہم اس کے فنکشنل طبعی رخ سے ہم آہنگ کوئی طبعی ڈیوائس استعمال کرتے ہیں، جیسا کہ کمپیوٹر اور اسمارٹ فون اپنی ہم آہنگ ساخت میں وائی فائی سسٹم یا کیبل کے توسّط سے ہمارا رابطہ انٹرنیٹ کے پس پردہ نظام سے جوڑ دیتے ہیں۔ تو سوال یہ اُٹھتا ہے کہ:
کیا کائنات کے غیر مرئی فنکشنل پیرامیٹرز سے تعلّق جوڑنے کے لیے ہمیں بھی غیر مرئی واسطے درکار نہ ہوں گے؟
جیسا کہ ابھی ہم نے گوگل سے رابطے کے لیے وائی فائی ڈیوائس کا تذکرہ کیا، اسی اُصول پریہ بات بھی عین منطقی ہے کہ کائنات کوچلانے والے غیر مرئی نظام کو جاننے اور اس کے خالق سے رابطے کا کوئی طریقہ یا "ڈیوائس" یعنی رابطوں کے غیر طبعی پیرائے موجود ہوں۔
مگر وہ کیا ہوسکتے ہیں؟
کیا شعور و عقل؟ یا
رسالت، عبادات و نماز تو نہیں؟
غور کریں!
مگر ایک اہم سوال اور:
کیا ڈیش بورڈ کی طرح کوئی اعلیٰ تر خفیہ نظام ہمارے تمام اعمال و حرکات کو محفوظ نہیں کرسکتا؟ اور
کیا کسی نے گوگل کو کبھی دیکھا؟
خدا کا انکار کرنے والے کیا ہمیں گوگل، فیس بک اور مائیکروسوفٹ دکھا سکتے ہیں! ذرا سوچیں!
یہاں مقصد ان کا خدا سے تقابل نہیں بلکہ یہ واضح کرنا ہے کہ دنیا کے طبعی ماحول میں بھی ایسے غیر مرئی عوامل موجود ہوتے ہیں جو ہمارے اعمال میں سرایت رکھتے ہیں۔
کیونکہ جدیدیت کا فلسفہ انسان ہی کو عقل کُل قرار دیتا ہے، اسی لیے اس فلسفے پر ایمان لانے والا جدید انسان خدا کو ایک بےجان اور بےعمل ہستی یا ایک تصوّر سمجھتا ہے، جبکہ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ جدید انسان اپنی ننّھی منّی عقل سے اپنی اور کائنات کی ابتدا ہی نہیں سمجھ پا رہا تو بھلا اللہ کو کیسے جان پائے گا۔ اس غیریقینی سوچ اور خبط ِ عظمت کے فطری نتیجے میں جدیدیت کا پیروکار انسان "عقل کے قبض" میں مبتلا ہو جاتا ہے، جس سے اس کی فکر میں ایسے منفی ذہنی قفل لگ جاتے ہیں، کہ ہٹ دھرمی کے باعث اپنے سے بہت برتر کسی قوّت یعنی خداکو قبول نہیں کر پاتا ۔
ورنہ، کشادہ عقل تو کہہ اٹھتی ہے کہ:
ہر جا تیری قدرت کے ہیں لاکھوں جلوے
حیراں ہوں کہ دو آنکھوں سے کیا کیا دیکھوں

منگل, نومبر 14, 2017

"لفظ سے لباس تک"

لفظ روح کا لباس ہیں اورلباس انسان کے جسم کی تفسیر۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ انسان کی اصلیت لباس میں نہیں جسم میں پنہاں ہے۔اورروح کی گہرائی لفظ سے نہیں عمل سے ماپی جاتی ہے۔
بیش قیمت زرق برق لباس وقتی طور دیکھنے والے کو مرعوب کر سکتا ہے۔۔۔نگاہوں کو خیرہ کر سکتا ہے۔۔۔ پرجسم کا راز جسم کو جاننے سے ہی کُھلتا ہے۔ اس کے لیے اپنے جسم کے اسرار ورموزسے آگاہی پہلی شرط ہے۔
اسی طرح الفاظ میں گھن گرج ہو یا بہتے چشموں کی سی نغمگی ۔۔۔ اگر اُن کی روح تک رسائی نہ ہو وہ محض کچھ پل کو متاثر کرتے ہیں۔ لمحاتی طور پر قدم ضرور روک لیتے ہیں۔ لیکن ہمیشہ کے لیے اپنا اسیر نہیں بنا پاتے۔
لباس ہو یا لفظ موسم اور وقت کے تابع ہوتا ہے اور ببانگ دہل اس کا اظہار کرتا ہے۔ لباس سے موسم کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے تو لفظ سے روح کی کیفیت کا راز کھلتا ہے۔
لباس کی شکنیں رات کی کروٹوں کی غمازی کرتی ہیں تو بےداغ ،بے شکن لباس روزِروشن کی طرح اندر کی کہانی سناتا ہے۔ ذات کے بھید کھولتا ہے۔ 
لفظ انسان کے کردار کی منظر کشی کرتے ہیں۔ سفاک،برہنہ لفظ جگر چھلنی کردیتے ہیں تو کہیں اصل شخصیت کو تہہ درتہہ چھپائے یہ تازہ قلعی شدہ دکھتے ہیں۔ آنچ کی ہلکی سی تپش پا کرجن کی اصلیت جلد ہی سامنے آ جاتی ہے۔ 
!حرفِ آخر
لفظ کی تابندگی خیال کی سچائی کا پتہ دیتی ہے۔بےشک حرف اہم ہیں پریہ ہماری شناخت ہرگز نہیں کہ شناخت صرف عمل سے ہےجو ہر کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرتا ہے۔جس قول میں عمل کی روح نہ ہو وہ اپنی موجودگی کا بھرپور احساس تو رکھتا ہے لیکن نظروں کو سالہا سال طواف پر مجبور نہیں کر سکتا۔اقوال کیسے ہی کیوں نہ ہوں عمل کی بنیاد ضرور ہوتے ہیں، جو کہنے کی جرات نہیں رکھتا وہ عمل کی کشتی کا ناخدا بھی نہیں ہوا کرتا۔ایسے لوگ بس سب تقدیر کا لکھا کہہ کر جان چھڑا جاتے ہیں۔اس کے باوجود انسان کا کہا گیا حرف آخر نہیں اور وہ خسارے کا سوداگر بھی ہے۔

جمعہ, اکتوبر 27, 2017

"خوشی اور آزادی"

خوشی اور آزادی دو ایسے احساسات یا رویے ہیں جو عورت اور مرد کےکردار کی بُنت میں  بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔خوشی سراسر عورت کے وجود سے عبارت ہے تو مرد کی ذات آزادی کی ترجمانی کرتی ہے۔
ایک خاندان اور رشتوں کی عافیت کے سائے میں آنکھ کھولنے والے بچے سے بات شروع کی جائےتو عمر کے پہلے سال  شِیرخوار بچہ یا بچی ایک ہی طرح کا ردِعمل ظاہر کرتے ہیں اورصرف پہنے جانے والے لباس کے رنگوں کی شوخی اُن کی  شخصی انفرادیت ظاہر کرتی ہے۔بچہ جیسےجیسے چلنے پھرنے اور بھاگنے دوڑنے کے قابل ہوتا ہے اپنی اپنی جنس کے محسوسات کا فرق  نمایاں ہونے لگتا ہےجو نہ صرف گھر کے ماحول بلکہ بچوں کے رویوں میں بھی دِکھتا ہے۔بچیوں کی موجودگی گھر میں رنگوں کی گہماگہمی اور شوخیوں سے بھرپور ہوتی ہے جبکہ بچے کی توجہ کا مرکز گھر سے زیادہ باہر کی دنیا ہوتی ہے۔۔۔
بچیاں بہت چھوٹی عمر سے ہی اپنے کپڑوں اور اُن کے لوازمات کے بارے میں حساس ہوتی ہیں تو اُن کی عمر کے لڑکے نہ ہونے کے برابر پہنے جانے والےلباس کی پروا کرتے ہیں۔خوشی کی تقاریب اور خاص طور پر عیدین کے مواقع پر گھر میں بچیوں یا بچوں کی موجودگی کا فرق نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔چوڑیوں کی جھنکار،مہندی کی مہک اور رنگ برنگ چمکیلے پیرہن جہاں گھر کو خوشی سے بھردیتے ہیں وہیں  باورچی خانےسے اُٹھتی  کھانوں کی مہک گھر میں  صنفِ نازک کی  اہمیت کا احساس پیدا کرتی ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ  گھر میں جنم لیتی یہ رونق گھر کے مرد کی آنکھ کے بغیر  پھیکی اور بےمزہ ہی لگتی ہے،گھر میں کھانا  پکانے سے کھانا کھانے تک کی مصروفیات  مرد کے  نہ ہونے سے اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں۔
۔"ہوس اگر مرد کی منفی خصلت ہے تو سراہنے والی نگاہ بھی صرف اور صرف مرد  کا ہی خاصہ ہے"۔کائنات  میں رنگ اگر عورت کے دم سے ہیں تو اس رنگ کی پہچان  مرد کی خاص صفت ہے۔گرچہقیمتی سے قیمتی  مکان بھی عورت کے وجود کے بغیر بےحیثیت ہے تو اپنےبھرپور وجود سے مہکتے  مکان  میں عورت کسی رشتے کےحصارمیں نہ  ملے تو وہ کسی گلدان میں خوش رنگ کاغذی پھول کی مانند ہوتی ہے جو گرفت میں آگر پل میں اپنی اصلیت جِتا دیتا ہےجبکہ اپنے مقدس رشتوں کے درمیان اپنی شناخت  گم کرتی عورت،کسی کے احساس سے بےپروا  گھر کے ہر گوشے میں محسوس کی جا سکتی ہے۔اسی طور مرد کے  ساتھ ساتھ جڑے کسی جائز رشتے  کے بغیر ایک مکمل مکان  بھی  عورت کو کنکریٹ سے بنی چاردیواری  کا تحفظ تو دیتا ہے لیکن اس پنی ذات کی گہرائیوں میں   اِسے بےسکون ہی رکھتا ہے۔
 وقت کا پہیہ  گردش کرتا ہے ،عمر کی گاڑی  کے دھیرے دھیرے سرکنے سے  جہاں بچیاں اپنی ذات کے ہالے میں  جھلکنے والی  شعوری "خوشیاں" سمیٹتی ہیں  وہیں  اپنی ذات سے باہر دکھائی دینے والی  لاشعوری "آزادی" بچوں کو طمانیت سے سرشار رکھتی ہے۔
خوشی اور آزادی کی آنکھ مچولی کھیلتے بےفکرے بچے گھر کے گوشۂ سکون سے نکل کر جب عملی زندگی کے محاذ پر قدم دھرتے ہیں،نئے رشتوں میں اپنے آپ کو سموتے ہیں تو پلک جھپکتے  میں گویا سب ختم ہو جاتا ہے۔عورت کے لیے اپنی ذات سے جڑی بےقیمت خوشیاں حاصلِ زیست تھیں تو اب اپنی ذات ہی دان کرنا پڑتی ہے دوسری طرف مرد جو اپنی ذات سے بےپروا ہر سمت  حرکت کے لیےآزاد تھا تو اب اپنا آپ اپنی ذات کے دائرے میں محدود کرنا پڑتا ہے۔ 
 مقدور بھر اہلیت کے  غلاف میں  اپنی خواہشوں اور ظرف کے کھنکتے سکوں کو سمیٹتے ہم  اپنا خاندان مکمل کرنے کی چاہ  کرتے ہیں۔ انسان کہانی بھی عجیب ہے۔ مرد اور عورت مل کر ایک  رشتے کی بنیاد رکھتے ہیں۔دنیا کی زندگی کمائی میں اولاد کی آمد لکھی ہو تو خاندان کے بڑھنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ انگلی پکڑ کر پہلا قدم رکھنے والے وقت گذرنے کے ساتھ کاندھے کو چھونے لگتے ہیں۔یوں ایک "لائف سائیکل" شروع ہو جاتا ہے۔شادی کرنا اپنے فطری تقاضوں کو سمجھتے ہوئے  سکون کی خاطر ایک دوسرے سے ناواقف مرد اور عورت کے  تازندگی ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کا احساس ہےاور "نکاح" اسے معاشرے اور مذہب کے دائرے میں لانے کامعاہدہ ہے۔،اس معاہدے  میں فریقین کو جہاں بہت سی شرائط اور قواعدوضوابط کاسامنا کرنا پڑتا ہے وہیں اُس کی اصل  اور گہرائی کو سمجھنا بھی  بہت اہم ہے۔شادی اگر  جذبات اور احساسات کے بانٹنے کانام ہے تو نکاح اپنے خاندان، اپنی آنے والی نسل اور  معاشرے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے اپنی ذات  کے حصار میں جنم لینی والی ذہنی  خوشی  اور شخصی آزادی اپنے آپ تک محدود رکھنے کے احساس اور سمجھوتےکا نام بھی ہے۔  
 نکاح  دراصل اجنبی مرد اور عورت  کے درمیان بننے والا لفظ کا وہ رشتہ ہے جو ان کی رضا سے ایک  ساتھ زندگی بسر کرنے  کی بنیاد رکھتاہے۔لیکن سچ یہ بھی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان لفظ کا نہیں احساس کا رشتہ افضلیت رکھتا ہے۔ اور اس تعلق میں احساسِ ذمہ داری پہلے آتا ہےاور  احساسِ محبت بعد میں۔احساس کا رشتہ ہر رشتے سے بڑھ کر ہے اس کے علاوہ ہر رشتہ محض ذمہ داری  ہے  جسے نبھانا پڑتا ہےچاہے یہ محبت کا رشتہ ہی کیوں نہ ہو۔میاں بیوی کے درمیان محبت کا رشتہ ضروری نہیں لیکن ذمہ داری اور احساس کا رشتہ ہونا چاہیےلیکن جب ذمہ داری اور مجبوری کا ہو ،احساس کا نہ ہو تو بڑی گڑبڑ ہو جاتی ہے پھر یہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ اس وقت اگر "خوف کا رشتہ" مل جائے تو بچ جاتا ہے۔کسی  تعلق  کے بکھرنے سے زندگی جڑنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی.زندگی  نے جلد یا بدیر  ہر حال میں بکھرنا تو ہے  ہی ،یہ حتمی ہے تو کیوں نہ تعلق کو بکھرنے سے روکا جائے۔   

"ریل گاڑی"

سفر زندگی ہے اور زندگی سفر کرنے کا نام ہے۔سفرِ زندگی کی بہت سی جِہت ہیں۔یہ اندرونی بیرونی دونوں طور پر ہمارے جسم وجاں پر وارد ہوتا ہے۔ سفر ذہنی بھی ہوتا ہے تو جسمانی بھی۔ ذہنی سفر جب تک جسم پر نہ اُترے اِس کی گہرائی کی شدت کا کبھی اندازہ نہیں ہو سکتا ۔اسی طرح جسمانی سفر انسان کو ذہنی طور پر ایسی منزلوں سے روشناس کراتا ہے جن کا تصور بھی جسمانی حوالے سے ممکن نہیں۔
ریل کا سفر زندگی کے یادگار تجربات میں سے ایک ہے۔یہ ایک الگ ہی دنیا کی کہانی ہے۔ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم سے لے کر سفر مکمل ہونے تک انسان سوچ سفر کی بہت سی منازل طے کرتا ہے۔یہ سفر ایک نہ بھولنے والا رومانس ہی نہیں حقائقِ زندگی کا ایک انمنٹ باب بھی ہے۔ ریل کا سفر پلیٹ فارم سے شروع ہو جاتا ہے۔ پلیٹ فارم کبھی کسی کا نہ ہوا۔۔۔
لوگ آتے ہیں بیٹھتےہیں انتظار کرتے ہیں اور اپنی مطلوبہ گاڑی پر روانہ ہو جاتے ہیں۔
 زندگی ریل گاڑی کے بند ڈبے میں سفر کرنے کا نام ہے جس میں ہمارے رشتے ہماری ضروریات کا خیال رکھتے ہیں تو ہمارے تعلقات ہماری حسیات کی ترجمانی کرتے ہیں۔
 سرپٹ دوڑتی زندگی کی گاڑی منزل کے قریب آتی جاتی ہے،آخری اسٹیشن کی بتیاں دکھائی دینے لگتی ہیں،نادان مسافر سامان باندھنے اور زادِ سفر مضبوطی سے تھامے رکھنے کی بجائے مُڑ مُر کر نظر کو چھو جانے والے منظروں کو دیکھتا ہے جو پلک جھپکنے تک آنکھ میں ٹھہرے تھے تو کبھی اُن رفقاء کی طرف خالی خالی نظروں سے دیکھتا چلا جاتا ہے جن کا ساتھ کتنا ہی دل کے قریب نہ ہو،وہ پانی پر بنے نقش سے زیادہ پائیدار ہرگز نہیں۔وقت مٹھی میں بند ریت کی طرح سرکتا ہے اور انجان ہتھیلی میں رہ جانے والے قیمتی احساس کو سنبھالنے کی بجائے دسترس سے نکل جانے والے بےوقعت لمحوں کے سوگ میں ماتم کناں ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں۔

جمعرات, اکتوبر 19, 2017

"معلوماتِ قران"

٭لفظ قرآن، قرآن مجید میں بطور معرفہ پچاس(50) بار اور بطور نکرہ اسی(80) بار آیا ہے ۔یعنی پچاس بار قرآن کا مطلب کلام مجید ہے اور اسی بار ویسے کسی پڑھی جانے والی چیز کے معنوں  میں استعمال ہوا ہے۔
٭قرآن کریم کی پہلی منزل سورۂ فاتحہ(1) سے سورۂ النساء (4)تک ہے۔ جس میں میں چار سورتیں، پچاسی(85) رکوع اور چھ سو انہتر(669) آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کی دوسری منزل سورۂ مائدہ (5)سے سورۂ توبہ  (9)تک ہے جس  میں پانچ سورتیں، چھیاسی(85) رکوع اور چھ سو پچانوے (695)آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کی تیسری منزل  سورۂ یونس (10)سے سورۂ نحل(16) تک ہے جس میں سات سورتیں، اڑسٹھ(68) رکوع اور چھ سو پینسٹھ (665)آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کی چوتھی منزل  سورۂ بنی اسرائیل(17) سے سورۂ فرقان (25)تک ہے جس میں نو سورتیں، چھہتر ر(76)کوع اور نو سو تین(903) آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کی پانچویں منزل  سورۂ الشعراء (26)سے سورۂ یٰس(36)  تک ہے جس میں گیارہ سورتیں، بہتر رکوع(72) اور آٹھ سو چھپن(856) آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کی چھٹی منزل سورۂ  الصّٰفٰت (37)سے سورۂ الحجرات(49) تک ہے جس  میں  تیرہ سورتیں، انہتر (69)رکوع اور اور آٹھ سو ستاسی (887)آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کی ساتویں منزل  سورۂ ق (50) سے سورۂ الناس (114)تک ہے جس میں پینسٹھ(65) سورتیں، ایک سو دو رکوع(102) اور ایک ہزار پانچ سو اکسٹھ (1561)آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کا سب سے بڑا پارہ تیسواں پارہ ہے جس میں سینتیس سورتیں (37)، انتالیس رکوع(39) اور پانچ سو چونسٹھ (564)آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کا سب سے چھوٹا پارہ چھٹا پارہ ہے جس میں ایک سو گیارہ(111) آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کی سب سے بڑی سورة البقرہ(2) ہے جس کی دو سو چھیاسی آیات  اور چالیس رکوع ہیں۔
٭قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سورہ سورة الکوثر(108) ہے جس کی تین آیات ہیں۔
٭سورة اخلاص تہائی قرآن ہے جبکہ سورة کافرون اور سورة زلزال چوتھائی قرآن ہے۔(ترمذی)۔
٭عرب ممالک میں ہر پارے کے دو حصے ہوتے ہیں ہر حصہ حزب کہلاتا ہے۔
٭قرآن کریم کی وہ سورتیں جو سو سے کم آیات والی ہیں مثانی کہلاتی ہیں۔
٭قرآن کی وہ سورتیں جو سو سے زیادہ آیات والی ہیں مَیں کہلاتی ہیں۔
٭قران پاک میں موجودسورتوں کو تنزیل کے اعتبار سے مکی اور مدنی میں تقسیم کیا گیا ہے۔ قران میں موجود 114 سورتوں میں سے 65 مکی ہیں جبکہ 18 سورتیں مدنی ہیں۔سورتوں میں 35 سورتیں ایسی ہیں جن کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ دوبار نازل ہوئیں ہیں ایک بار مکہ میں اور ایک بار مدینہ میں جیسے سورہ رحمن، سورہ رعد، سورہ زلزال وغیرہ۔
٭ سورۂ النمل (27) میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘دو مرتبہ آئی ہے۔
٭ سورۂ توبہ (9) وہ واحد قرانی سورہ ہے جو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے بغیر شروع ہوتی ہے
٭قرآن کریم کے دوسرے اور پانچویں پارے میں نہ کسی سورت کی ابتداء ہے اور نہ ہی انتہا۔
  ٭قران پاک میں دو ایسی سورۂ ہیں جو تین پاروں میں شامل ہیں۔
٭1) سورۂ بقرۂ(2)۔۔۔۔ جو پہلے پارے سے شروع ہوتی ہے اور تیسرے پارے میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔
٭2)سورۂ النساء(4)۔۔۔جو پارہ چار سے شروع ہوتی ہے اور پارہ  چھ  میں اختتام پذیر ہوتی ہے۔
٭قرآن کریم کے آٹھ پارے ایک نئی سورہ سے شروع ہوتے ہیں۔
٭1)پارہ 1۔۔۔سورۂ فاتحہ۔سورۂ البقرہ
٭2) پارہ 15۔۔سورۂ بنی اسرائیل(17)۔
٭3)پارہ17۔۔۔سورۂ الانبیاء(21)۔
٭4) پارۂ 18۔۔ سورۂ المومنون (23)۔
٭5)پارہ26۔۔سورۂ الاحقاف(46)۔
٭6)پارہ28۔سورۂ المجادلہ(58)۔
٭7)پارہ 29۔۔سورۂ الملک(67)۔
٭8) پارہ 30۔۔سورۂ النبا(78)۔
٭قرآن کریم کے مطابق سیدنا موسٰی علیہ السلام کو نو معجزے عطا فرمائے گئے۔۔۔۔
حوالہ ۔۔سورة النمل (27) آیت 12۔۔۔۔۔سورۂ بنی اسرائیل(17) آیت 101۔۔
٭پانچ نبی جن کے نام اللہ رب العزت نے ان کی پیدائش سے قبل بتا دیے تھے۔
٭1)سیدنا عیسٰی علیہ السلام ۔۔۔سورة آل عمران(3) آیت (45)۔
٭2)سیدنا اسحاق علیہ السلام ،3) سیدنا یعقوب علیہ السلام۔سورة ھود (11)آیت (71)۔
٭4)سیدنا یحیٰی علیہ السلام۔۔۔سورة المریم(19) آیت (7)۔
٭5)سیدنا احمد صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔سورة الصف (61)آیت (6)۔
لَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ
٭پورا کلمہ طیبہ  قرآن کریم میں کسی ایک جگہ بھی نہیں آیا۔
٭قرآن کریم میں  صحابہ کرام میں سے صرف ایک صحابی حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام آیا ہے۔(سورۂ الاحزاب آیت 37 )۔
٭قرآن میں کسی عورت کانام نہیں آیاہے فقط”حضرت مریم علیہا السلام“کا۔بی بی ”مریم “کانام قرآن میں 34مرتبہ آیاہے۔
٭ سورۂ لہب(111)۔۔۔قرآن کریم نے ابولہب کے علاوہ کسی کو کنیت سے نہیں پکارا۔عرب کسی کو عزت اور شرف سے نوازنے کے لیے کنیت سے پکارتے ہیں لیکن یہاں معاملہ اور ہے۔ ابولہب کا اصل نام عبدالعزیٰ تھا جو ایک کہ شرکیہ نام ہے عزیٰ اس بت کا نام تھا جسے قریش کے کفار پوجتےتھے اور عبدالعزیٰ کا معنی عزیٰ کا غلام۔۔لہذا اللہ پاک نے شرکیہ نام سے پکارنے کی  بجائے ابولہب کو کنیت سے پکارا۔
٭قرآن میں لفظ ابلیس گیارہ مرتبہ آیا ہے۔
٭قرآن کریم میں سب سے طویل نام والی سورت سورۂ بنی اسرائیل(17) ہے۔
٭قرآن کریم کی پانچ سورتوں سورة طحہٰ (20) ،سورة یٰسین(36) ،سورۂ ص (38)، سورة ق  (50) اور سورۂ القلم 68(سورۂ ن) کے نام  ان سورتوں کے پہلے لفظ  ہیں۔
٭قرآن کریم کی بارہ سورتیں ہیں جن کے نام میں کوئی نقطہ نہیں آتا۔
٭1)سورۂ المائدہ(5)۔
۔ 2)سورۂ ہود(11)۔
۔3)سورۂ الرعد(13)۔
۔4) سورۂ طٰہ(20)، ۔
۔5)سورۂ روم(30)۔
۔ 6)سورۂ ص(38)۔
۔ 7)سورۂ محمد(47)۔
۔8)سورۂ طور(52)۔
۔9)سورۂ ملک(67)۔
۔ 10)سورۂ دہر(76)۔
َ۔11)سورۂ الاعلی(87)، اور12)سورۂ عصر(103)۔
٭قرآن کریم میں اللہ پاک نے اپنی صفت ربوبیت کا ذکر سب سے زیادہ مرتبہ فرمایا ہے۔قرآن کریم میں لفظ رب ایک ہزار چار سو اٹھانوے مرتبہ آیا ہے۔
٭قرآن کریم لفظ الرحمٰن ستاون بار اور الرحیم ایک سو چودہ مرتبہ آیا ہے۔
٭قرآن کریم میں لفظ اللہ دو ہزار چھے سو اٹھانوے دفعہ آیا ہے۔
٭قرآن کریم کی تین سورۂ مبارکہ سورة القمر (54)،سورة الرحمن(55) اورسورة الواقعہ(56)  میں لفظ اللہ نہیں۔
٭ سورۂ المجادلہ (58) کی  بائیس (22) آیات ہیں اور ہر آیت میں لفظ  "اللہ"  ہے۔پوری سورۂ مبارکہ میں کل چالیس بار "اللہ" آیا ہے۔  
٭قرآن کریم کی سورۂ التین (95)  کا آغاز دو پھلوں انجیر اور زیتون کے نام سے ہوا ہے۔
٭قرآن کریم کی  سورۂ الاعلی(87)  کا اختتام دو نبیوں  حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت موسی  علیہ السلام کے نام پر ہوتا ہے۔
٭قرآن کریم کی پانچ سورتوں کا آغاز الحمد سے ہوتا ہے۔
سورۂ الفاتحہ(1)،سورۂ الانعام(6)،سورۂ الکہف (18)،سورۂسبا(34)،سورۂ فاطر(35)۔
٭قرآن کریم کی پانچ سورۂ مبارکہ   کا آغاز قل سے ہوتا ہے۔
سورة الجن(72)،سورة الکافرون (109)،سورة االاخلاص(112)،سورة الفلق(113)،سورة الناس (109)۔
٭قرآن مجید کی اُنتیس(29)سورتوں کا آغاز حروف مقطعات سے ہوتا ہے۔
 تمام سورۂ مبارکہ میں حروف  مقطعات  پہلی آیت کے طور پر ہیں۔صرف سورۃ الشوریٰ میں پہلی آیت میں  حٰمٓ اور دوسری آیت میں عٓسٓقٓ ملتا ہے۔
٭1)سورۂ البقرۂ(2) ۔الٓـمٓ۔
۔2) سورۂ  آل عمران(3) ۔الٓـمٓ ۔
۔3)سورہ  الاعراف(7)۔الٓـمٓـصٓ۔ 
۔4) سورۂیونس(10 )۔"الٓـرٰ۔
۔ 5) سورہ ہود (11) ۔"الٓـرٰ۔
۔6)سورہ  یوسف(12)۔"الٓـرٰ۔
۔7)سورۂ الرعد (13)۔الٓـمٓـرٰ ۚ۔
۔ 8)سورہ ابراہیم (14)۔الٓـرٰ۔
۔ 9) سورۂ  الحجر (15)۔ الٓـرٰ۔
۔ 10) سورۂ طہٰ (20)۔ ٰطهٰ۔
۔11)سورہ  مریم (25)۔ كٓـهٰـيٰـعٓـصٓ ۔
 ۔12)سورہ الشعراء (26)۔ٰطسٓمٓ  ۔
 ۔13) سورۂ النمل (27)۔ٰطـسٓ ۚ۔
۔ 14) سورۂ القصص(28)۔ ٰطسٓمٓ۔
۔15)سورہ العنکبوت(29)۔ الٓـمٓ۔
۔16)سورۂ الروم (30)۔ الٓـمٓ۔
۔17) سورۂ  لقمان (31)۔  الٓـمٓ ۔
۔ 18) سورۂ السجدہ (32)۔  الٓـمٓ ۔
۔19)سورۂ  یٰس(36)۔يٰـسٓ  ۔
۔20)سورۂ ص (38)۔صٓ۔
۔21)سورۂ غافر(40)۔حٰمٓ۔
۔22)سورۂ فصلت(41)۔حٰمٓ۔
۔ 23) سورۂ الشورٰی (42)۔حٰمٓ۔عٓسٓقٓ (2)۔
۔ 24) سورۂ الزخرف(43)۔حٰمٓ ۔
۔25)سورۂ  الدخان(44)۔حٰمٓ۔
۔26) سورۂ الجاثیہ (45)۔حٰمٓ۔
۔27) سورۂ  الاحقاف(46)۔حٰمٓ۔
۔28)سورۂ ق(50)۔ قٓ ۚ۔
۔29)سورۂ  القلم (68)۔نٓ ۚ۔
٭چھ سورۂ مبارکہ  سورة البقرة (2)،سورة آل عمران(3) سورة العنکبوت(29)،سورة الروم(30)،سورة لقمان(31) اور سورة السجدہ(32)"الٓــمٓ" سے شروع ہوتی ہیں۔
٭قرآن کریم میں دو سورتوں سورة الشعراء (26)اورسورة القصص(28) کا آغاز "طسٓمٓ  "سے ہوتا ہے۔
٭قرآن کریم کی حوامیم(یعنی جن سورتوں کا آغاز "حٰمٓ"سے ہوتا ہے) وہ سات ہیں۔
سورة غافر(40)،سورة فصلت(41)،سورة الشوریٰ(42)،سورة زخرف(43)،سورة الدخان(44)،سورة الجاثیہ (45)سورة الاحقاف(46) ۔
٭قرآن کریم کی پانچ سورۂ مبارکہ سورة یونس(10)سورة ہود(11)سورة یوسف(12)سورة ابراہیم(14) اورسورۂ الحجر (15)    کا آغاز"الٓـرٰ"سے ہوتا ہے۔
٭قرآن کریم کی  چار سورتیں سورة الحدید(57)،سورة الحشر(59)اورسورة الصف(61) سورۂ الاعلیٰ (87)  "  سَبَّحَ "سے شروع ہوتی ہیں۔
٭قرآن کریم میں دو سورتوں  سورة الجمعہ(62) اور سورة التغابن(64) کا آغاز " يُسَبِّـحُ" سے ہوتا ہے۔
٭دو سورتوںسورة الفرقان(25) اورسورة الملک(67) کی ابتدا "تَبَارَكَ الَّـذِىْ" سے ہوتی ہے۔
٭چار سورتوں سورة الفتح(48)،سورة نوح(71)،سورة القدر(97) اور سورة الکوثر(108)  کی ابتداء "اِنَّا" سے ہوتی ہے۔
٭دو سورتیں  سورة المطفیفین(83)، سورة الھمزہ(104) کا آغاز" وَيْلٌ" سے ہوتا ہے۔
٭ سات سورتیں سورۂ واقعہ56،سورۂ المنافقون63،سورۂ التکویر81،سورۂ انفطار82 ، سورۂ انشقاق84،سورۂ نصر110اور سورۂ زلزال99  ۔۔  ” اِذَا 'سے شروع ہوتی ہیں۔
٭ بیس سورۂ مبارکہ  "قسم" ،"و" سے شروع ہوتی ہیں۔۔
سورۂ الصافات 37۔۔۔سورۂ ص 38۔۔۔سورۂ ق 50۔۔۔سورۂ ذاریات 51۔۔۔سورۂ طور 52۔۔۔سورۂ نجم 53۔۔۔سورۂ ن 68۔۔۔سورۂ قیامت 75۔۔۔ سورۂ مرسلات 77۔۔۔سورۂ نازعات79۔۔۔سورۂ البروج 85۔۔۔سورۂ طارق86۔۔۔۔سورۂ فجر 89۔۔۔سورۂ بلد90۔۔۔۔سورۂ شمس 91۔۔۔سورۂ ضحیٰ 93۔۔۔سورۂ تین 95۔۔۔سورۂ عادیات 100۔۔۔سورۂ عصر 103 سورۂ لیل105۔۔۔۔
٭قرآن کریم میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو گیارہ بار " يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ " پکارا گیا ہے۔
٭تین سورتوں  سورة الاحزاب(33) ،سور ة الطلاق(65) اور سورة التحریم (66)کی ابتدا " يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ"سے ہوتی ہے۔
٭قرآن کے تیسویں پارے میں37سورتیں ہیں۔
٭ قرآن کریم میں  چار فرشتوں کے نام آئے ہیں۔
۔(1) جبریل۔۔سورۂ بقرۂ (2)آیت 98،سورۂ التحریم(66) آیت 4۔۔۔
۔(2) میکائیل۔ ۔۔سورۂ بقرۂ (2)آیت 98۔۔ 
۔(3) مالک۔۔سورۂ الزخرف(43) آیت 77۔
۔(4) ہاروت و ماروت۔۔سورۂ بقرہ (2) آیت 102۔۔۔
٭ فرشتوں کی صفات کے نام پر  تین سورتیں  ہیں ۔
۔1)سورہ الصافات (37)ـ 2)سورۂ معارج(70) ـ3)سورہ مرسلات (77)،4)سورہ نازعات (79)ـ،بعض نے اس سے مراد فرشتوں کو لیا ہے ـ
٭ قیامت کے نام پر یا قیامت کی خوفناکیوں کے نام پر تیرہ سورتیں آئی ہیں ـ
۔1) سورہ الدخان 44۔۔ 2)سورہ الواقعہ56 ـ۔ 3)سورہ الحشر59۔۔ 4)سورہ التغابن64۔۔ 5)سورہ الحاقہ 69۔۔ 6)سورہ قیامہ75۔۔ 7)سورہ النبا78۔۔ 8)سورہ التکویر 81ـ 9)سورہ النفطار82۔۔ 10)سورہ الانشقاق84۔۔ 13)سورہ غاشیہ 88۔۔12)سورہ الزلزال 99۔۔13)سورہ القارعہ 101ـ
٭ازمان و اوقات کے نام پر آٹھ سورتیں ہیں۔
۔(1) سورہ الحج،(2) سورہ جمعہ،(3)سورہ فجر،(4) سورہ لیل ،(5)سورہ ضحٰی، (6) سورہ القدر، (7) سورہ العصر،(8) سورہ فلق،۔
٭ مقامات کے نام پر سات سورتیں ہیں۔۔۔
۔(1)سورہ اعراف 7۔
۔(2) سورہ الحجر 15۔
۔(3)سورہ الاحقاف46۔
۔(4) سورہ طور52۔
۔(5) سورہ البلد90۔
۔(6) سورہ الککوثر108۔
۔(7) سورہ التین95۔
٭قرآن کریم میں تین مساجد کا نام آیا ہے۔مسجد اقصٰی، مسجد الحرام اور مسجد ضرار
٭قران پاک میں  چھ پھلوں کے نام ہیں۔۔۔  کھجور،انگور،انار،کیلا،انجیر،زیتون
کھجور (نخل) ۔انگور(اعناب)۔۔۔سورۂ الانعام 6، آیت 99۔۔
انار (رمان)۔۔۔سورۂ  الرحمٰن55 آیت 68۔۔
کیلا۔۔۔ سورۂ واقعہ56 ،آیت 29
انجیر،زیتون(سورۂ والتین95)۔۔
٭قرآن کریم میں چار سبزیوں کا ذکر ہے۔ساگ، لہسن ،ککڑی  اور پیاز(البقرۂ2،آیت61)۔
٭قرآن کریم میں تین شہروں کا نام آیا ہے۔یثرب،بابل اور مکہ۔
٭قرآن کریم میں چار پہاڑوں کا نام آیا ہے۔کوہ جودی،کوہِ صفا،کوہِ مروہ اور کوہِ طور( سورہ طور52)۔
٭دو دریاؤں کے نام قرآن میں ذکر ہوئے ہیں۔دریاۓ نیل (سورہ انبیاء ) اور دریائے فرات(سورہ فرقان25،سورۂ فاطر 35) ۔
٭قرآن کریم میں چار دھاتوں کا ذکر آیا ہے۔
لوہا (سورۂ حدید57۔آیت 25)۔
سونا،چاندی(سورۂ دہر ِ76۔آِیت 16اورآیت 21)۔
تانبا(سورۂ الکہف18۔آیت96)۔
٭قرآن کریم میں تین درختوں کا نام آیا ہے۔
کھجور(سورۂ الکہف18۔آیت 32)۔
بیری(سورۂ واقعہ56۔آیت 28)۔
  زیتون(سورۂ التین 95)۔
٭قرآن کریم کی سات سورتیں حیوانوں کے نام پر ہیں۔
سورۂ البقرة(2) گائے۔۔
سورۂ الانعام(6)مویشی۔۔
سورۂ النحل(16)شہد کی مکھی۔۔
سورة النمل(27)چیونٹیاں۔۔
سورۂ العنکبوت(29)مکڑی۔۔
سورةۂ العادیات(100)گھوڑے۔۔
سورة الفیل(105)ہاتھی۔۔
٭قرآن کریم میں چارپرندوں کا ذکر آیا ہے۔
٭1)بٹیر(سلویٰ)سورۂ البقرہ(2) آیت(57)۔
٭2)کوا (غراب)۔سورۂ المائدہ(5) آیت(31)۔
٭3)  ہدہد۔سورۂ النمل(27) آیت (20) ۔
٭4)  ابابیل۔سورۂ الفیل 105۔

جمعرات, ستمبر 28, 2017

" اعجازِآیاتِ قرانی"

٭قرآن مجید کی  سورہ الحجر(15) کی آیت (9)  میں اللہ نے حفاظت قرآن کا وعدہ لیا ہے۔
آیت ترجمہ۔"ہم نے یہ نصیحت اُتاری ہے اور ہم ہی اس کے نگہبان ہیں"۔
٭قرآن کریم کی سب سے بڑی آیت سورة البقرہ (2)کی آیت (282) ہے۔اس آیتِ قرانی میں 'الف' سے لے کر 'ی' تک حروفِ تہجی موجود ہیں۔
٭آیت الکرسی قرآن مجید کی  سورۂ بقرۂ (2) کی آیت 255  ہے۔
٭وسط کلمہ قرآن ”وَلْيَتَلَطَّفْ“ہے جو سورہ کہف (18) آیت 19میں آیاہے۔
٭قرآن کریم کی سب سے چھوٹی آیت(پانچ حرفی) سورة المدثر کی آیت (21)ہے۔
آیت۔۔"ثم نظر"( پھر تامل کیا)۔
٭قرآن کریم کا سب سے بڑا رکوع سورۂ الصّٰفٰتت(37) کا دوسرا رکوع ہے جس میں تریپن(53) آیات ہیں۔
٭قرآن کریم کا سب سے چھوٹا رکوع سورة المزمل(73) کا دوسرا رکوع ہے جس میں ایک ہی آیت ہے۔
٭قرآن کریم میں سب سے زیادہ اسماء الحسنےٰ کا ذکر سورة الحشر (59)کی آیت 23میں ہے۔
٭سورہ ”الزمر (39)کی پہلی آیت اور آخری آیت میں لفظ ”اللہ“ آیا ہے۔
٭ سورۂ المجادلہ (58) کی  بائیس (22) آیات ہیں اور ہر آیت میں لفظ  "اللہ"  ہے۔پوری سورۂ مبارکہ میں کل چالیس بار "اللہ" آیا ہے۔
٭قرآن کریم کی  دو آیات ایسی ہیں  جن کو الٹی سمت میں بھی پڑھا جائے تو مطلب اور تلفظ وہی رہتا ہے۔
٭ كُلٌّ فِىْ فَلَكٍ ۔۔۔۔۔سورة الانبیا،(21) آیت (33)۔
٭ رَبَّكَ فَكَـبِّـرْ۔۔۔۔۔۔سورة المدثر(74)، آیت (3)۔
٭قرآن کریم میں سب سے زیادہ دہرائی جانے والی آیت سورة الرحمن(55) میں ہے جو اکتیس بار(31) دہرائی گئی ہے۔
"فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُـمَا تُكَـذِّبَانِ"
ترجمہ آیت۔۔پس تم اپنے پردردگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔
٭سورة الاخلاص(112) کی تمام آیات "د"پر ختم ہوتی ہیں۔
٭ قران پاک کی   تین سورتوں میں تین  آیات ایسی ہیں جن میں "الف" سے لے کر "ی" تک حروفِ تہجی موجود ہیں۔
  ٭1)سورۂ البقرۂ(2) آیت 282۔
٭2)سورۂ آلِ عمران (3) آیت154۔
٭3)سورۂ فتح آیت 29۔
٭سورة التوبہ(9) کی آیت نمبر 36 میں بتایا گیا ہے کہ مہینوں کی تعداد بارہ ہے۔
 ترجمہ آیت 36۔۔۔بے شک اللہ کے ہاں مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں اللہ کی کتاب میں جس دن سے اللہ نے زمین اور آسمان پیدا کیے، ان میں سے چار عزت والے ہیں، یہی سیدھا دین ہے، سو ان میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو، اور تم سب مشرکوں سے لڑو جیسے وہ سب تم سے لڑتے ہیں، اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔
٭قرآن کریم کی سورۂ  الحاقہ(69)، آیت (17)میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ پاک کے عرش کو آٹھ فرشتوں نے تھام رکھا ہو گا۔
 ترجمہ آیت 17۔۔۔"اور اس کے کنارے پر فرشتے ہوں گے، اور عرشِ الٰہی کو اپنے اوپر اس دن آٹھ فرشتے اٹھائیں گے"۔
٭سورۂ البقرۂ(2) کی آیت 26 میں مچھر کا  ذکر ہے۔
ترجمہ آیت۔بے شک اللہ نہیں شرماتا اس بات سے کہ کوئی مثال بیان کرے مچھر کی یا اس چیز کی جو اس سے بڑھ کر ہے۔
٭قرآن مجید کی سورۃ الحج آیت 73میں مکھیوں کا ذکر آیا ہوا ہے۔
 ترجمہ آیت73۔۔۔ "اے لوگو! ایک مثال بیان کی جاتی ہے اسے کان لگا کر سنو، جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ ایک مکھی بھی نہیں بنا سکتے اگرچہ وہ سب اس کے لیے جمع ہوجائیں، اور اگر ان سے مکھی کوئی چیز چھین لے تو اسے مکھی سے چھڑا نہیں سکتے، عابد اور معبود دونوں ہی عاجز ہیں"۔
٭قرآن کریم میں سورۂ فرقان25 اور سورۂ رحمٰن55 میں دو دریاؤں کا ذکر آیا ہے کہ ایک ساتھ بہنے کے باوجود ان کا پانی آپس میں نہیں ملتا۔ یہ دونوں دریا جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاون میں واقع ہیں۔
آیات  ترجمہ ۔۔۔
٭1)سورۂ فرقان 25۔۔۔آیت 53۔۔۔اوروہی ہےجس نے دو دریاؤں کو  آپس میں ملا دیا۔ یہ میٹھا خوشگوار ہے اور یہ کھاری کڑوا ہے۔اور ان دونوں میں ایک پردہ اور مستحکم آڑ  بنا دی۔
٭سورۂ الرحمٰن 55۔۔۔ آیت 19،20 ۔اس نے دو سمندر ملا دیے جو باہم ملتے ہیں(19)۔ان دونوں میں پردہ ہے کہ وہ حد سے تجاوز نہیں کرسکتے(20)۔

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...