صفحہِ اول

جمعہ, دسمبر 09, 2016

"میرا دل بدل دے"

مولا دل بدل دے از  حضرت پیر ذوالفقار احمد صاحب نقش بندی
مِرا غفلت میں ڈوبا دل بدل دے
ہوا و حرص والا دل بدل دے
خدایا فضل فرما دل بدل دے
بدل دے دل کی دنیا دل بدل دے

گنہگاری میں کب تک عمر کاٹُوں
بدل دے میرا رستہ دل بدل دے
سنوں میں نام تیرا دھڑکنوں میں
مزہ آ جاۓ مولا دل بدل دے

ہٹالوں آنکھ اپنی ما سِوا سے
جیوں میں تیری خاطر دل بدل دے
کروں قربان اپنی ساری خوشیاں
تو اپنا غم عطا کر دل بدل دے

سہل فرما مسلسل یاد اپنی
خدایا رحم فرما دل بدل دے
پڑا ہوں تیرے در پہ دل شکستہ
ر ہوں کیوں دل شکستہ دل بدل دے

تیرا ہوجاؤں اتنی آرزو ہے
بس اتنی ہے تمنّا دل بدل دے
میری فریاد سن لے میرے مولا
بنالے اپنا بندہ دل بدل دے

دلِ مغموم کو مسرور کردے
دلِ بےنور کو پُر نور کردے
فروزاں دل میں شمعِ طور کردے
یہ گوشہ نور سے معمور کردے

میرا ظاہر سنور جائے الٰہی
میرے باطن کی ظلمت دور کردے
ہے میری گھات میں خود نفس میرا
خدیا اسکو بےمقدور کردے

مئے وحدت پِلا مخمور کردے
محبت کے نشے میں چُور کردے

"صبحِ دوامِ زندگی"

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِترتیب
موت کیا ہے اِنہی اجزاء کا پریشاں ہونا
ایمان ہماری زندگی کا اصل اثاثہ ہے۔ اس زندگی پر ایمان جس کی حقیقت صرف رب جانتا ہے۔انسان کے عزم اور حوصلے پر ایمان جس کی نیت رب جانتا ہے اور وہی اس کا اجر دیتا ہے۔ انسان کے تضاد پر ایمان کہ اس میں فطرت کے سارے رنگ یوں باہم ملے جُلےہیں کہ کسی ایک رنگ کی جھلک سے کبھی بھی اس کا مجموعی تاثر جانا نہیں جا سکتا۔ انسان کے ظاہروباطن کے بھرپور اور مکمل ہونے پر ایمان اور سب سے بڑھ کر اپنے رب پر ایمان کہ وہ دلوں کا حال جانتا ہے اور ہر شے پر قادر ہے۔
زندگی صرف حیرت درحیرت ہے اور کچھ بھی نہیں آخری سانس تک ہم اسے جان ہی نہیں سکتے۔موت زندگی کی جڑواں بہن ہے۔۔لیکن ہماری نظریں،ہمارا فہم اور ہماری عقل اسے بدترین سوکن تصور کرتی ہے۔موت اپنا آپ چھپاتے ہوئے زندگی کے پہلے سانس سے بھی پہلےاُس کے اندر جذب ہوئی ملتی ہے جبکہ زندگی کی چکاچوند اور بھرپور موجودگی کے سامنے موت ایک کریہہ اور بدبودار بھکاری کی مانند ہاتھ پھیلائے نظر آئے تو ہم اس سے دامن بچا کر نکلنے میں ہی بھلا سمجھتے ہیں ۔ ہم کھلی آنکھ سے اُس زندگی کا ادراک کرہی نہیں سکتے جو آنکھ بند ہونے کے بعد نہ صرف ہماری روح بلکہ جسم پر وارد ہوتی ہے۔اس وقت کا ظاہری احساس ہماری عقل کی محض چند فیصد صلاحیت کا مرہونِ منت ہوتا ہے اور اتنا ہی اس کا اظہار ممکن ہے۔
 جیسے معمولی جسمانی تکلیف سے لے کر شدید ترین درد کی کیفیت،یہاں تک کےجان کنی کے عالم تک ہم بہت کچھ سمجھانے اور بتانے کی حالت میں ہوتے ہیں لیکن جان نکلتے ہی یکدم ایسا سکون اور خاموشی طاری ہوتی ہے جو اس وقت ہمارے لیے پریشان ہونے والوں کے دل کو بھی طمانیت سے بھر دیتی ہے۔اس لمحے جسم توسب کے سامنے سب کے ساتھ ہوتا ہے لیکن ہم عقل وشعور کے ہزارہا مراحل طے کر چکے ہوتے ہیں ۔بےشک اس کیفیت کا بیان ممکن ہی نہیں اور کتابِ مقدس کے الفاظ میں "جس پر طاری ہو وہی اس کا امین ہے"لیکن سمجھنے والوں اور غور کرنے والوں کے لیے نشانیاں اور مثالیں اُن کی اپنی ہی ذات کے اندر موجود ہیں، جیسے فالج کی بیماری میں ہمارا جسم ذرا سی بھی حرکت کے قابل نہیں رہتا، ہم سب دیکھ سکتے ہیں،سب سن سکتے ہیں سب محسوس کرسکتے ہیں لیکن کہہ نہیں سکتے،اظہار نہیں کر سکتے۔یہ کسی کے اس موذی مرض کا شکار ہونے کی ظاہری حالت کا تجزیہ ہی نہیں بلکہ ہمیں اپنی صحت مند زندگی میں بھی اکثر اس کیفیت کا ادراک ہوتا ہے جب ایک ہی پوزیشن میں بیٹھے بیٹھے جسم کا کوئی حصہ سُن ہو جائے جسے ہم عام بول چال میں "سوجانا" بھی کہتے ہیں۔
زندگی کے پلیٹ فارم پر ایک قطار میں سب اپنی باری کے منتظر ہیں کب کس کا بلاوا آ جائے؟ اور کب کسے قطار کے درمیان سے اُٹھا کر معلوم منزل کے نامعلوم سفر پر روانہ کر دیا جائے؟ ہم یہ سوچ کر مطمئن رہتے ہیں کہ ابھی قطار میں ہمارا نمبر کافی پیچھے ہے۔زندگی کے بڑھتے سالوں کی مشقت اور بھاگ دوڑ ہمیں اس سچ کے سامنے جان بوجھ کر آنکھ بند کرنے پر مجبور کر دیتی ہے تاوقت کہ ہمارااپنا،کوئی جگر کا ٹکڑا یا ہمیں چاہنے والا اس کی گرفت میں آکر ہمیشہ کے لیے نظر سے اوجھل نہ ہو جائے۔اس سمے بےحقیقت زندگی کے سامنے موت کی سچائی کھل کر سامنے آتی ہے۔جب ہم دیکھتے ہیں کہ زندگی کے ہر رنگ سے خوشبو کشید کرنے والا نہ صرف بےحس وحرکت اور جامد ہو جاتا ہے بلکہ اپنا ہر احساس مٹا جاتا ہے،اسی بات کو کسی نے کیا خوب کہا کہ "انسان ایسے جیتا ہے جیسے مرے گا ہی نہیں اور پھر یوں مر جاتا ہے جیسے کبھی آیا ہی نہ تھا"۔
موت برحق ہے۔اس 'حق 'کوجانے والا جانے سے پہلے جتنا جلد تسلیم کر لےاُس کے لیے واپسی کے سفر میں آسانی ہو جاتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ مرنے سے پہلے مرنا موت ہے۔ لیکن مرنے سے پہلے مرنے کے لیے تیار رہنا ہی اصل زندگی ہے ۔جب تک ہم مرنے سے پہلے مریں گے نہیں تو اس زندگی کی چکاچوند آخری سانس تک حسرت بن کر ہماری آنکھ کے پردے پر جھلملاتی رہے گی۔ دُنیا کی زندگی کی محبت میں سرتاپا غرق رہنے والے آخری لمحات میں بھی اس خانہ خراب کی اُلفت سےدامن بچا کر گزر ہی نہیں سکتے۔ کامیاب وہی ہوتے ہیں جو نہ صرف دُنیا کی زندگی کی خوشیوں کو بھرپور طور پر محسوس کریں بلکہ اس کے مسئلوں اور غموں کو سمجھتے ہوئے ممکن حد تک سنوارنے کی کوشش کریں اور پھر سب کچھ منجانب اللہ کا ایمان رکھتے ہوئے "راضی بارضا" ہو جائیں۔ اسی طرح عمر کے بڑھتے سالوں میں موت کے سناٹوں کی چاپ سنائی دینے لگے تو اپنی زندگی کے اس سب سے اہم سفر ۔۔۔آخری لمس کے لیے نہ صرف زادراہ تیار رکھیں بلکہ اپنے آپ کو اسے برداشت کرنے کا حوصلہ دیتے رہیں ۔۔۔ پیغمبر سے لے کر اولیاءاللہ تک سب نے اس سفر پر اسی راستے سے گزرنا ہے۔سب سے اہم بات کہ انسان کو یہ پہچان ہو جانی چاہیے کہ دُنیا کے ہر رشتے ہر تعلق اور ہر مادی شے کی چاہ صرف اس کی سانس کی ڈور سے بندھی ہے۔ اُس کے بعد وہ فنا تو سب فنا۔ اس لیے اگر نفرتوں سے جان چُھٹنا دُنیا کے عذابوں سے نجات پا جانا نعمت ہے تو سب لذتوں سے محرومی بھی محض سراب جدائی ہی ہے۔انسانی زندگی تدبیر اور تقدیر کے مابین چپقلش کو سمجھتے گزرتی ہے۔انسان اپنی عقل پر بھروسہ کرتے ہوئے اکثر تدبیر کی خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے لیکن درحقیقت وہ تقدیر کا غلام ہی رہتا ہے۔
غور کیا جائے توموت ایک دن اچانک کبھی نہیں آجاتی یہ قطرہ قطرہ سلوپوائزن کی طرح ہرآن ہمارے رگ وپے میں سرایت کر رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کبھی یہ تلخ دوا شکر میں لپیٹ کر دی جاتی ہےتوکبھی یکدم ہی اُس کا ذائقہ چکھنا پڑ جاتا ہے اورکبھی حوصلہ مُجتمع کرکے اپنےآپ کو تیار کر کے آہستہ آہستہ اس کی طرف قدم بڑھتا ہے۔ موت زندگی کے ساتھ ہے۔ ہر آگے بڑھنے والا قدم اگر زندگی میں نیا پن لاتا ہے تو موت کے بھی قریب کر دیتا ہے۔ ہم زندگی کے بڑھتے قدم توفوراً تھام لیناچاہتے ہیں لیکن موت کے سائے ہمیں کبھی نظر نہیں آتے۔ یہ سب ہماری نظر کے سامنے ہے پر ہمیں اس کا ادراک نہیں۔
المیہ بھی یہی ہے کہ ہمیں دیکھنا چاہیے،سوچنا چاہیے کہ جانے والے پر زندگی اپنےراستے کھول رہی ہوتی ہےیا سب دروازے ایک ایک کر کے بند کر رہی ہوتی ہے۔جانے والا یا تو اپنے کام سمیٹ رہا ہوتا ہے یا پھر اپنے آپ کوہر چیز میں بےانتہا مصروف کر رہا ہوتا ہے۔ وہ  پوری طرح مطمئن اور پُرباش ہوتا ہے یا ہر شخص ہر شے سے بےزار۔جانے والا یا تو اُمید کا دامن تھام کر لمبے فاصلے طے کرنے کا قصد کر رہا ہوتا ہے۔یا مایوسی کے اندھے کنوئیں میں میں اپنے آپ کو ڈوبتے دیکھ رہا ہوتا ہے۔جانے والا یا تو زندگی کی ہر لذت سے آشنا ہو کر نئی منزلوں کا خواہشمند ہوتا ہے یا اُسے ہرچاہ ،ہرلمس،ہراحساس ادھورا چھوڑ جانے کا دُکھ ستاتا ہے۔لیکن ایک بات طے ہے کہ جانے والا پہلے ہی جا چکا ہوتا ہے ہمارے درمیان اُس کا ہمزاد ہوتا ہے ڈھول کی طرح ایک بھرپور وجود پر اندر سے خالی -ستم یہ ہے کہ ڈھول پر پڑنے والی تھاپ توسنائی دیتی ہے لیکن جانے والا اس شور کو سمندر کی طرح اپنے اندر جذب کر کے بظاہر پُرسکون نظر آتا ہے۔
کوئی کچھ بھی کہے پر ہرانسان کے اندر کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہوتا ہے جو اسے خبردار کرتا رہتا ہے۔۔۔دل کی دھڑکن اگر جسم کی سلامتی کا اعلان کرتی ہے تو دماغ کی لہریں ایسی فریکوئنسی محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں جو چمکداردن میں کالے بادلوں کی پیش گوئی کرتی ہے۔ کبھی ہم اسے اپنا واہمہ سمجھتے ہیں کبھی کسی خواب مسلسل کو منفی طرزِفکرکہہ کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ بات جاننے کی یہ ہے کہ کب اُس کے لاشعور میں واپسی کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں؟ اور کتنا عرصہ پہلے اُسے اس بات کا احساس ہو جاتا ہے؟جسے شعوری طور پر وہ آخری لمحے سے پہلے کبھی نہیں جان پاتا۔
موت  وہ عمل ہےجس سے ہر ذی روح نے گُزرنا ہے۔یہ حیات ِفانی سے حیاتِ ابدی کے سفر کی پہلی منزل ہے،پہلا دروازہ ہےاگر اس میں سے سر اُٹھا کر گُزر گئے تو یقیناً آگے آسانی ہی ہو گی۔
موت کا فرشتہ  ہماری تلاش میں زندگی کے پہلے پل سے ہے۔ ہم سے بڑھ کراس کا محبوب اس کا کام اور کوئی نہیں۔ ہمیں پانے کی فکر اس کا مقصدِ حیات ہے۔ وہ صبح شام ہمارے گھر میں جھانکتا ہے کہ شاید کوئی منتظر ہو۔۔۔ شاید آج اس پل ملن لکھا ہو۔۔۔ وقت اس کے ہاتھ میں نہیں۔وہ اَن جان ہے کہ کام بتا دیا گیا ہے لگن ڈال دی گئی ہے لیکن وقت سے بےخبر وہ بھی ہے ہم بھی ہیں۔ہم خوف کے مارے دور بھاگتے ہیں اور وہ جھجھک کے مارے پرّے رہتا ہے۔ یہ کھیل چلتا رہتا ہےکہ وہ لمحہ آجاتا ہے جب سارے ڈر سارے خوف سامنے آجاتے ہیں اور وہ اپنا اصل چہرہ دکھا ہی دیتا ہے۔پھر امتحان صرف ہمارا ہی ہے کہ کیسے؟ اُس کا سامنا ہو جو برسوں سے تعاقب میں تھا۔کیا ہم اس قابل ہیں؟ کہ اعتماد سے اُس سے نگاہیں ملا سکیں۔ یہ کہنے کی بات نہیں برتنے کی بات ہے اور وقت ہی اس کا فیصلہ کرتا ہے۔۔کوئی ڈگری کوئی تجربہ کام نہیں آتا۔اللہ ہمیں ہر امتحان میں سُرخرو کرے اور ہمارے لیے ہر جگہ آسانی ہو کہ ہم بہت کمزور اورنادان ہیں۔جانے انجانے میں کیا کچھ کہہ جاتے ہیں۔۔۔کیا کچھ کر جاتے ہیں۔۔۔ہم تقدیرکے چکرمیں بندھے ہیں لیکن ہم صرف ایک کام کر سکتے ہیں کہ اپنی نیت خالص رکھیں اور اپنے رب کو ہمیشہ اپنے ساتھ اپنے سامنے محسوس کریں پھر
 تنگی میں بھی آسانی ہو گی اور آسانی میں بھی راحت ملے گی"( سورۂ الانشرح 94 )۔"
یہ رُکنے کا مقام ہے۔۔۔غور کرنے کی بات ہے کہ آسانیاں بھی ہمیں خوشی نہیں دیتیں۔ہمیں دروازے کُھلے ملتے ہیں ہم بس گُزر جاتے ہیں بغیر کسی تشکّر کے۔۔۔ اپنا حق جان کر۔۔۔ نئے دروازوں، نئی آسانیوں کی راہ پر۔۔۔ خوشی پیچھے رہ جاتی ہے اور ہم آگے بڑھ جاتے ہیں۔ یوں سفر کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اگر ہم ذرا رُک کر اپنی نعمت اپنی آسانی کو محسوس ہی کر لیں تو اس خوشی کی لذّت میں آگے کاسفر بہت آسان ہو جائے گا۔۔۔ اور دروازے خود بخود کُھلتے رہیں گے۔
دنیا سے جانے کے بعد کی جزاوسزا ہمارا اور رب کا معاملہ ہے۔۔۔ یہ "ون ٹوون ریلیشن شپ" ہے۔کرنے کا کام یہ ہے کہ اپنے آپ کو حالتِ سفر میں جانیں،اتنا بوجھ ہو جتنا اُٹھا سکیں،جس چیز کی ضرورت ہو وہی ہمراہ ہو۔ یہ نہ ہو کہ ہم تیاری کرتے کرتے اتنا سامان اکٹھا کرلیں کہ پہلے ہی مرحلے میں سب واپس کر دیا جائے اور ہماری ساری زندگی کی محنت ومُشقت رائیگاں جائے۔
"اللہ ہمیں اُس علم سے بچائے جو نفع نہ دے " آمین یا رب العالمین۔
موت کوسمجھے ہے غافل اختتام زندگی
ہے یہ شام زندگی صبح دوام زندگی

بدھ, نومبر 23, 2016

"خاتونِ خانہ،کھانا اور اہلِ خانہ"

اس "دشت کی سیاحی" میں ایک طویل سفرِ لاحاصل گذار کر  بھی عورت گھر کے کارخانے میں ایک مشین سے زیادہ کچھ وقعت نہیں رکھتی۔جسے اپنی رفتار اُس مشین کو چلانے والوں کے حساب سے ایڈجسٹ کرنا پڑتی ہے۔لیکن چاہے کوئی مانے یا نہ مانے عورت گھر کے نظام کی سب سے طاقتور اکائی ہے، وہ غیرمحسوس طریقے سے افرادِ خانہ کی پسند ناپسند اپنی اہلیت اور سوچ کے مطابق موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
سب سے پہلے بچوں سےشروع کیا جائے تو بحیثیت ماں بچوں کے رویے بنانا مکمل طور پر اس کے ذمے ہے۔گرچہ بچے کے مزاج اور خواہشات پر گھر کے ماحول اور خصوصاً باپ کے خصائل وعادات بھی اثرانداز ہوتے ہیں لیکن ماں بچے کی پہلی درس گاہ یا انسپریشن ضرور ہے۔معذرت کے ساتھ کہوں کہ اگر ماں چٹوری اور کھانے پینے کی شوقین ہوگی تو کیسے وہ اپنے بچے کی عادات میں سادگی کی امید رکھ سکتی ہے۔عمر کے پہلے سال سے ہی گھر کی بنی چیزوں اور سب کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھ کر عام کھانا کھانے والے بچوں میں یہ فرق نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
بچوں کو شروع سے ناشتے میں سادی روٹی گھی سی چپڑی ہوئی یاپراٹھوں کی عادت باآسانی ڈالی جا سکتی ہے،بچپن کی یہ عادت ہمیشہ کے لیے راسخ ہو جاتی ہے۔اس کے ساتھ ساتھ بچی ہوئی یا سوکھی روٹی پانی لگا کر تلنا اور کسی بھی سبزی میں آٹا گوندھ کر اس کے پراٹھے بنا کر بچوں کو کھلائے جا سکتے ہیں۔چھوٹے بچے مکمل طور پر ماں باپ کی عادتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ جیسے جیسے بڑے ہوتے جائیں ان کے رویے تو بدلتے ہیں لیکن بنیادی عادات اپنی جڑیں گہری کر لیتی ہیں۔بڑھتے بچوں کے ساتھ ماں کا رویہ قدرے بدل جاتا ہے کہ بچوں کے پاس صرف ایک ماں ہی تو ہوتی ہے جس سے وہ جھگڑتے اور نخرہ کرتے ہیں اور زندگی کی بھاگ دوڑ میں صرف یہی وقت ہی اُن کے سکون کا ہوتا ہے۔ آنے والی زندگی میں معاشی اور معاشرتی مسائل انہیں سر کھجانے کی فرصت نہیں دیتے۔ اب یہاں بیٹوں اور بیٹیوں کے حوالے سے ماں کے رویے میں فرق بظاہر بہت نامناسب بلکہ سخت قابلِ اعتراض دِکھتا ہے خاص طور پر جب بیٹی بھی کہے کہ آپ کے شہزادے ہیں کہ نہ تو چھٹی والے روز جلدی اٹھنے کا کہتی ہیں اور نہ ہی کسی خاص کھانے پر اصرار کرتی ہیں۔ ماں بغیر بحث کیےسنی ان سنی کر جاتی ہے۔ اب کیا کہے کہ بیٹیوں نے گھر سنبھالنا ہوتا ہے اُن کی عادات سنوارنے کے لیے ان پر جبر کرنا پڑتا ہے جبکہ بیٹوں کو کسی اور انداز سےاپنے ڈھب پر لایا جاتاہے۔مردوں کا ایک خاص جملہ جو عورتیں بھی بڑے فخر سے کہتی ہیں کہ وہ تو پانی بھی اٹھ کر نہیں پیتے،کھانا پکانا یا کچن میں جانا تو دور کی بات ہے۔ دیکھنے میں تو یہ مرد کی خوبی ہے لیکن دراصل مرد کی کمزوری ہے کہ وہ اپنی بھوک پیاس مٹانے کے لیے دوسروں کا محتاج ہے اور وہ بھی کسی عورت کا۔ مانا کہ مرد کے ذمے کمانا اور گھر کے کام کرنا عورت کے فرائض ہیں۔ لیکن رشتوں کی قیمت پر گھر کی عورت خانساماں اور ماسی نہیں۔اور کیا ہم اپنی زندگی میں کسی کی بیٹی کو اس لیے بھی شامل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے مؤدب غلام کی طرح کھانے کی ٹرے سجا کر پیش کرے۔ دیکھا گیا ہے کہ جب بچے اپنے باپ کا ایسا طرزِ عمل دیکھتے ہیں تو وہ پہلے پہل اپنی بہنوں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کرتے ہیں، اپنی زندگی میں توبعد کی بات ہے۔بیٹیوں کی طرح بیٹوں کو بھی کچھ نہ کچھ کھانا بنانا ضرور آنا چاہیے کہ جب ضرورت پڑے تو وہ اپنے لیے تو کچھ بنا سکیں۔۔ ہلکے پھلکے انداز میں بچوں کے حوالے سے بات کو سمیٹوں تو بڑے بلکہ بہت بڑے ہو کر یہی بچے اپنی ماؤں کو زیادہ تر کھانے کےحوالے سے ہی تو یاد کرتے ہیں۔۔۔۔وہی کھانا جسے بچپن میں بنا کسی خاص لگاؤ یا ترغیب کے بس کھا لیا جاتا تھا۔
دوسری طرف ایک وہ کلاس ہے جہاں خاندان کےساتھ چھٹی کے روز یا شام کی سب سے بڑی تفریح نت نئے ریستوران میں کھانا کھانے جانا ہوتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ مست پھرتے ماں باپ نہیں جانتے کہ وہ اپنے بچوں کی عادات میں کس زہر کی آمیزش کر رہے ہیں۔ باہر کے چٹخارہ دار کھانوں کی مشکوک غذائی نوعیت اور ان کے اصراف سے ہٹ کر ایک اہم خرابی تو یہ ہے کہ بچوں میں  والدین کے محنت سے کمائے گئے روپے پیسے کا درد ختم ہوجاتا ہے۔ دوسرےمعاشرے میں عام لوگوں کی تکالیف اور ان کی بھوک پیاس سے بےحسی طاری ہوجاتی ہے۔گھر سے باہر اپنے خاندان کے ساتھ سیروتفریح کرنا اور کبھی کبھار باہر کے کھانے کھانا بری بات نہیں لیکن اسے عام سمجھ کر معمول بنا لینا نہایت غلط رویہ ہے۔ایسے  رویے آگے چل کرایسی پُختہ عادتوں میں بدل جاتے ہیں جو  نسلوں کی ذہنی اور جسمانی صحت کے بگاڑ کا سبب بنتی ہیں۔
اب بات کروں گھر کے کرتادھرتا، گھرکے مرد کی ۔۔۔جس کی عمر کے اس دور تک آتے آتے عادات پکی اور ذہنیت پختہ ہو چکی ہوتی ہے اسے اپنے سانچے میں ڈھالنا تقریباً ناممکن ہی ہوتا ہے۔رہی بات سادہ کھانے پکانے اور بنانے کی تو اس کے لیےغیرمحسوس طریقے سے راہ ہموار کرنا پڑتی ہے۔ وہ عورت ہی کیا جو ایک مرد کو نہ بدل سکے، مرد بھی وہ جو صرف چند گھنٹوں کے لیے گھر کی دنیا میں داخل ہوتا ہے۔مرد کی پہلی ترجیح گھر کا سکون ہے تو دوسری گھر میں پکا ہوا کھانا۔ اور یہ دونوں عورت کے اختیار میں ہیں بس اس کے لیے صرف اپنی انا،اپنی خواہشات اور اپنی زندگی میں اپنے وقت کی قربانی دینا پڑتی ہے۔عورت تو وہ ہستی ہے جسے صرف چاہ کی نظر بھی نہیں بلکہ اس کا احساس ہی کافی ہوتا ہے جس کے عوض وہ اپنی ساری زندگی بڑی خاموشی سے دان کر دیتی ہے۔اور اسی عورت کو جب ناقدری کا گہن لگ جائے یا ناسمجھی کی دیمک اس کے وجود میں گھر کر لے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی تباہ کر بیٹھتی ہے بلکہ خود سے وابستہ رشتوں کی پہچان بھلا دیتی ہے،بقول شاعر "گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے"۔
ایک گھر ایک خاندان کا آغاز کرتے ہوئے جب اپنا آپ کسی کے حوالے کر دیا تو اپنی عادتیں بھی کسی کے ساتھ شئیر کرنا پڑتی ہیں اور اسی طرح دوسرے کی عادات اپنانا ہوتی ہیں، یعنی ایک دوسرے کے رنگ میں رنگنے والی بات ہے۔ اب یہی اصل امتحان ہے کہ مرد وعورت کس طرح دوسرے کی بری عادتیں برداشت کرتے ہوئے اپنی اچھی عادتیں اس میں منتقل کریں۔مسئلہ یہ ہے کہ ہر چیز وقت مانگتی ہے اور عمر کا خراج چاہتی ہے۔اور انسان جلدباز واقع ہوا ہے یہ جلدبازی اس کی فطرت اور جبلت کا خاصہ ہے۔ زندگی کے سبق اکثر ہمیں زندگی گزار کر ہی سمجھ آتے ہیں اور اس وقت بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔