صفحہِ اول

جمعہ, ستمبر 23, 2016

"دردِ زہ (2)؟

"کہانی ایک رات کی"
انسان کی زندگی کہانی  رات اور دن کی آنکھ مچولی کے مابین  بھاگتےگزرتی ہے۔دن کے کھاتے میں گر ہار جیت کے برابر امکانات ہوتے ہیں تو رات نام ہی شکست کا ہے۔۔۔رات ڈھلتے ہی انسانی قوٰی  زوال پذیر ہونے لگتے ہیں  یوں رات زندگی سے دور کرتے ہوئے بناوٹ کی موت کا نام ہی تو ہے۔رات بےیقینی  بھی ہے کہ  کوئی نہیں جانتا  آنے والی صُبح کا سورج کیا پیغام لے  کر آئے۔
 وہ رات!!! دو زندگیوں کی بقا کی رات تھی۔۔۔دونوں بہت قریب ہوتے ہوئے،ایک دوسرے کو محسوس کر کے بھی آنے والے وقت سے انجان،اپنی ذات کی تنہائی میں درد کی منازل طے کرتے تھے۔وہ زندگی بخش رات تھی لیکن موت کا خوف ہر چند منٹوں بعد رگِ جاں کی ساری توانائی نچوڑ لیتا۔نظریں گھڑی کی سوئی  پر اٹک جاتیں، کبھی یوں لگتا جیسے وقت ٹھہر گیا ہو پھر اچانک کوئی جھنجھوڑ کر رکھ دیتا۔نیند تھی اور نہ ہی خواب۔اہم یہ ہے کہ خوف بھی نہ تھا۔۔۔۔ان ہونی کا خوف۔یاد تھی تو بس ایک بات کہ وقت سے پہلے کسی سے کچھ بھی نہیں کہنا اور یہ وقت کیا تھا؟ کب تھا؟ کون جانتا تھا۔۔۔سب اندازے تھے یا حساب کتاب کے پیمانے؟۔اس سمے اگر کوئی دوست تھا تو کتاب میں پڑھے گئے لفظ تھے جو ساری کہانی کی اصل سے آگاہ کیے ہوئے تھے تو دوسری طرف  کلام اِلٰہی کا ورد  ڈھلتی رات کی تنہائی میں دل کو تسکین دیتا تھا۔
 اس رات کا اہم سبق یہ ملا کہ زندگی ہوش وحواس کو ممکن حد تک قابو میں رکھنے سے سمجھ میں آتی ہے۔ہم ساری دُنیا کو جاننے کے جتنے دعوے کر لیں،جب تک اپنی ذات کے اسرار  سے واقف نہیں ہوں گے ہمیشہ بند گلی  میں سفر کرتے رہیں گے۔
انسان اپنی زندگی میں جتنا اپنے آپ سے،اپنے رویے سے سیکھتا ہے اُتنا کسی اور کے تجربے سے کبھی نہیں سمجھ سکتا،ہماری مشکل ہی یہ ہے کہ ہم اپنے ذہن ودل پر دستک دئیے بغیر اُن ان جان مہربانوں کی تلاش میں بھٹکتے ہیں جو ہمارے درد کا درماں بن سکیں ۔اسی لیے کبھی سکون نہیں پاتے نہ قرار میں اور نہ ہی بےقراری میں ۔
 یہ نصف صدی کے قصے میں گزرنے والی ہزاروں بےنام راتوں اور دنوں کے باب میں سے ایک ایسی رات کا احوال تھا جس کے ہر پل کا منظر آج بھی ذہن  میں اُجالے بکھیرتا ہے۔۔۔۔ اجالے!!! شاید اس لیے بھی کہ اس رات کی اذیت کا ثمر ایک مکمل اور کامیاب شخصیت کی صورت ماں کے ساتھ ہے۔۔۔ ماؤں کو اپنے بچے ویسے بھی پیارے ہوتے ہیں۔اللہ صورت کی زیبائی کے ساتھ سیرت میں بھی سچائی  اور گہرائی عطا کرے آمین۔
منسلک پوسٹ۔۔۔۔دردِ زہ (1) 

منگل, ستمبر 13, 2016

"تکبیراتِ عید"

عید کے دن فجر کی نماز سے مغرب کی نماز تک یہ ورد جاری رکھیئے ۔ نماز کیلئے جاتے ہوئے اور واپسی پر بلند آواز میں پڑھنا بہتر ہے۔ 
 ٭اللہُ اکبر اللہُ اکبر لَا اِلَہَ اِلْاللہ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ لَہُ الّمُلْکُ وَ لَہُ الْحَمْدُ وَ ھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍ قَدِیر
 ۔۔۔۔۔۔
٭اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلہَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلہَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
اللہُ اکبر اللہُ اکبر لا اِلہَ اِلاللہ و اللہُ اکبر اللہُ اکبر و للہِ الحمد
 ۔۔۔۔۔
٭اللہُ اکبر کبِیرہ والحمدُللہِ کثیِرہ و سُبحَان اللہِ بکرۃً و أصِیلا

جمعرات, اگست 25, 2016

"آٹوگراف...مٹتی یادیں"


یہ لفظ کے رشتے بھی عجیب ہوتے ہیں۔عمر،مرتبہ،مقام،زبان، اور جنس کے فرق سے ماورا۔ ہمارے جسمانی رشتے اور جذباتی تعلق اگر ہمارے وجود کو تحفظ دیتے ہیں،ہمارا اپنے آپ پر اور محبتوں پراعتماد بحال کرتے ہیں تو لفظ سے جڑے رشتے ہمیں زندگی کا ایسا رُخ دکھاتے ہیں جس میں نہ صرف زندگی کی رنگینیاں اور خوشبوئیں دم بخود کرتی ہیں بلکہ زندگی کی تلخیوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ بھی ملتا ہے۔لفظ کے یہ تعلق اگر ہنساتے ہیں تو ہمارے آنسو بھی جذب کرتے ہیں۔دنیا کی زندگی جینا سکھاتے ہیں تو زندگی کے رازبھی کھولتے ہیں۔
 ڈھلتی عمر کی بےآواز بارشیں اپنے ساتھ بیت چکے موسموں کے کچے جذبوں اور جگنو خوابوں کوبڑی  آہستگی سے بہا لے جاتی ہیں ۔ایسے ہی خوابوں کی امین میری بھوری ڈائری پچھلے پینتیس برس سے میرے ہر ہر دور کے احساس کی گواہ ہے اور دنیا کی فانی کمائی کا بہت قیمتی تحفہ۔لفظ ِخیال اور سوچ سے محبت کے سفر میں  برسوں سے لفظ کی خوشبو کاغذ میں بکھیرنے والوں کے لمس کو ان کے دستخظ کی صورت محفوظ کرتی چلی جا رہی ہوں اس طویل سفر میں جب جب علم وادب،اورفن کی دنیا کے بڑے ناموں اور اسلوبِ زبان وبیاں کی قدآور شخصیات کی ایک جھلک دیکھنے کا موقع ملا میں نے خاموشی سے اپنی ڈائری آگے بڑھا دی۔ یوں اس میں بہت سے یادگار لمحات محفوظ ہیں ۔
لیکن سب سے خوبصورت وہ صفحہ ہے جس میں "جیوے جیوے پاکستان”کے لازوال جملے کے ساتھ جناب جمیل الدین عالی کے دستخط ہیں۔۔۔اسی ورق پر تقریباً 29 برس بعد ان کے بیٹے جناب راجو جمیل کے دستخط بھی لیے جو سال 2015 کے اسلام آباد ادبی میلے میں ملے اوراسی  لمحے جناب راجو جمیل نے اپنے ابا کو دکھانے کے لیےاپنے فون میں وہ صفحہ کلک کر لیا۔نہیں جانتی کہ وہ اپنے ابا کو دکھانے میں کامیاب بھی ہوئے یا نہیں  کہ اسی سال 23 نومبر 2015 کو محترم جمیل الدین عالی  نوے برس کا سفرِ زندگی طے کرنے کے بعد مالکِ حقیقی سے جا ملے۔اللہ محترم کی مغفرت فرمائے آمین۔
ایک خلش!۔
  اس فہرست میں جناب ممتازمفتی ،اشفاق احمد،احمد فراز کےنام نہیں جن کے لفظ کی خوشبو تو اپنے بہت قریب محسوس کی لیکن نظر اُن کی قربت سے آشنا نہ ہو سکی۔
حرفِ آخر!۔
لفظ کے تعلق ہماری روح کی تسکین کرتے ہیں بجا کہ ہماری جسمانی کمیوں اور تشنگی کو سہارنے میں مہربان ساتھ ثابت ہوتے ہیں لیکن  ظاہری طور پر ہمارے وجود میں پیوست ایک معمولی سی  پھانس بھی نکالنے پر قادر نہیں ہوتے۔ہم انجانے میں اپنے جیسے انسانوں کو مشکل کشا سمجھ بیٹھتے  ہیں یا پھر افعال وکردار کے لحاظ سے فرشتہ تصور کر لیتے ہیں۔یوں اکثر جب بُت ٹوٹے ہیں تو اس میں سراسر قصور ہمارا ہی ہوتا ہےجو ہم کبھی نہیں مانتے۔ اہم یہ ہے کہ لفظ کے رشتے لفظ تک ہی محدود رہنے چاہیں اور یاد رہے کہ ہر ایک اپنی سوچ اور ظرف کے مطابق نہ صرف اپنے اثاثوں کی پہچان رکھتا ہے بلکہ اُن کے اسی طورسنبھالنے کا ہنر جانتا ہے۔ 
 پروین شاکر ۔۔۔۔
ہارنےمیں اِک انا کی بات تھی
جیت جانے میں خسارہ اور ہے
امجد اسلام امجد ۔۔۔
یہی  بہت ہے کہ  دل اس کو ڈھونڈ لایا ہے
کسی کے ساتھ سہی وہ نظر تو آیا ہے 
منیرنیازی۔
خیال جس کا تھا مجھے خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے
انتظار حسین۔۔۔۔
عقیل عباس جعفری۔۔
زندہ رہنا عجب ہنر ہے عقیل
اور یہ ہنر عمر بھر نہیں آتا
 
عطاءالحق قاسمی۔۔۔
شام ہوتے ہی عطا کیوں  ڈوبنے لگتا ہے دل
کچھ نہ کچھ ہونے کو ہے اور ناگہاں ہونے کو ہے۔
مارچ 1986 اور  اپریل 2014





رضاعلی عابدی
 بلاگ لنک : رضا علی عابدی کی کتابیں

حمید کاشمیری

انورمسعود،طفیل ہوشیار پوری،دلاور فگارعنایت علی خان،نورمحمدہمدم
پروین فناسید،خاطرغزنوی،محمد شیرافضل، محشربدایونی،کلیم عثمانیِ
پروفیسرکرم حیدری،شہزاداحمد،،رضاہمدانی،زہرہ نگاہ،اصغرندیم سید،فاطمہ حسن،عکسی مفتی،سید ضمیر جعفری،پروفیسراحمدحسن دانی
جمیل الدین عالی،راجوجمیل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔



عکسی مفتی

پروفیسر احمد حسن دانی
جمیل الدین عالی ،راجو جمیل