جمعرات, فروری 28, 2019

مکافاتِ عمل

مکافاتِ عمل۔۔۔
کاروبارِ حیات میں نفع نقصان کا حساب کتاب کرتے ہم دیکھتے ہیں کہ پکڑ ہمیشہ اُس گناہ کی نہیں ہوتی جو جانے انجانے میں سرزد ہو جائے۔لیکن سزا ملنے پر پہلا خیال اُس زیارتی کی طرف ضرور جاتا ہے جو چاہے برسوں پہلے ماضی کی قبر میں دفنا دی گئی ہو یا حال کے مردہ خانے میں اُس کا بےگوروکفن لاشہ سرِعام تعفن  دیتا دکھائی دے اور ابنِ آدم کی کمینگی کی تصویر ہی کیوں نہ بنا ہو۔یہ احساس  زیارتی کرنے والے کو نہ بھی ہو لیکن اُن خاموش گواہوں کو ضرور ہوجاتا ہے جو سب جانتے ہوئے سب مانتے ہوئے بھی گواہی دینے کی جئرات نہیں کر پاتے ،اس لیے نہیں کہ بزدل ہوتے ہیں  بلکہ اس لیے کہ عزت اور وقت خیرات میں نہیں دیا جا سکتا اور جو یہ ہمت کر بھی لے وہ خود قلاش ہو جاتا ہے۔ 
ایسے ہی مکافاتِ عمل کا شکار وہ بچہ بھی ہوا جس نے چند ماہ پہلے ہی مملکتِ پاکستان سے اپنی  شناخت کی رسید حاصل کی تھی۔ کہانی سمجھنے کے لیے تقریباً چالیس برس پیچھے جانا ہوگا۔اسلام آباد کا "جی" سیکٹر نیا نیا آباد ہو رہا تھا۔  مکان بنانےاور گھربسانے کے لیے   اپنی آبائی علاقوں کو چھوڑ کر   لوگ  خوشی خوشی نئے شہر کا رُخ  کر رہے تھے۔اسلام آباد ملک کے طول وعرض میں  رہنے والوں اور مختلف زبانیں بولنے والوں کا  ایسا خوش رنگ گلدستہ ہے جس میں سب برابری کی بنیاد پر ایک ہو کررہتے ہیں۔انہی میں ایک خاندان بٹ صاحب کا بھی تھا۔
اس دور میں   گلی میں گنتی کے چند گھر ہی  آباد  تھے سو رہنے والے بہت جلد ایک دوسرے کے قریب آ گئے،بڑے دکھ سکھ کے ساتھی اور بچے بچیاں نہ صرف کھیل کود بلکہ پڑھائی میں بھی ہم قدم۔ بٹ صاحب کا سب سے چھوٹا بیٹا   جس کی عمر یہی کوئی سات آٹھ سال ہو گی ،اپنی بھولی بھالی باتوں  سے محلے کی رونق تھا۔ ایک روز شام کے وقت  ڈھونڈ مچ گئی کہ وہ کہیں کھو گیا ہے۔  وہ بہت شرارتی  سا تھا ، سوچا کہ خود ہی کہیں چھپ نہ گیا ہو۔ جانے کس کےجی میں آیا کہ سامنے  بننے والے نامکمل گھر کا جائزہ لیا جائے۔ بہت کڑا وقت تھا جب مغرب کے وقت  کی دھندلی روشنی میں گھر کے پچھلے صحن میں پانی کی ٹینکی پر نظر پڑی تو اس معصوم کا جسم دکھائی دیا۔یوں محبتوں کی اس چھوٹی سی دنیا میں اجل کا پہلاپتھر گرا۔رفتہ رفتہ گلی میں گھر بننے اور آباد ہونے لگے۔  بچے بڑے ہوتے گئے،اُن کی شادیاں ہوئیں اور بڑے زندگی کاپلیٹ فارم خالی کرتے چلے گئے۔نئے آنے والے بھی بڑوں کی طرح سب کے ساتھ ایک لڑی میں سمٹے رہے۔  وقت گزرنے کے ساتھ یوں ہوا کہ بٹ صاحب کا گھر تو وہیں رہا لیکن مکین ایک ایک کر کے معاش اور تعلیم کی غرض سے دنیا کے دوسرے ممالک میں رہائش اختیار کرتے گئے۔اتفاق سے  اُس گھر میں خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد رہائش پذیر  رہا  یوں گھر کبھی خالی نہ  ہوا اور گھر  کی وجہ سے اُن کا تعلق اپنی مٹی  اور اپنے لوگوں سے اُسی طرح برقرار رہا۔ محبتیں فاصلوں کی قید سے آزاد ہوتی ہیں بلکہ فاصلے تو محبت کے چراغ کے لیے تیل کا کام دیتے ہیں۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ محبت صرف احساس کا نام ہے اور عملی زندگی میں عمل محبت پر بہرحال فوقیت رکھتا ہے۔ 
 برسوں بعد جب گھر بالکل خالی ہوا تو اس کے ایک حصے کو کرایہ پر دینے کے بارے میں سوچا گیا ۔ محض گھر کی حفاظت  کے لیے بہت دیکھ بھال کر کرایہ دار رکھے گئے۔لیکن  وقت  کے ساتھ ہی انسان کے کردار کا پتہ چلتا ہے۔ یوں جب کرایہ داروں نے دیکھا کہ مالک مکان ملک سے باہر رہتے ہیں تو وہ گھر پر قابض ہو گئے۔ شروع میں کرایہ دینے سے انکار کیا اور کہا کہ آپ کو گھر کی ضرورت نہیں آپ ہمیں فروخت کردیں۔رفتہ رفتہ  بات عدالت تک  اور مکان کی ملکیت کے دعوے تک جا پہنچی۔ ہمارے اندھے قانون کی پیچیدگیوں کہ "قبضہ سچا دعوی جھوٹا" کے مصداق  باہر سے آنے والے اپنے ہی گھر میں داخل ہونے سے رہ گئے تو وہ کہاں تک عدالت کی پیشیاں بھگتتے۔ آس پاس  کے لوگوں  سے صلاح کی کہ وہ ان   سے ملیں لیکن کرایہ داروں کے دروازے محلے والوں کو ہمیشہ بند  ملتے۔ قابض کرایہ داروں کو صرف گھر کے قبضے سے غرض تھی۔ پرانے لوگ چلے گئے تو نئے آنے والوں میں سے کون  مالک مکان کے حق میں گواہیاں دے کر خوار ہوتا۔ خیر  باہر سے آنے والے قبضہ مافیا کے ہاتھوں تھک ہار کر واپس چلے گئے۔ چند روز پہلے اچانک سے بٹ صاحب کے گھر کے باہر ایک مجمع لگا دیکھا۔پولیس والے بھی  موجود تھے کہ اس گھر کی گاڑی نے ایک شخص کو ٹکر مار دی ہے اور وہ ایمرجنسی میں خاصی تشویش ناک حالت میں ہے ۔ گاڑی کا ڈرائیور تو موقع سے فرار ہو گیا تھا۔کسی نے نمبر نوٹ کرلیا تو لاہور کی رجسٹرڈ گاڑی کی تلاش پولیس کو اُس گھر تک لے آئی۔پتہ چلا کہ گاڑی  اس گھر کا وہی اکلوتا بچہ چلا رہا تھا جو ابھی چند ماہ پہلے ہی اٹھارہ سال کا ہوا تھا اور ابھی نئی نئی گاڑی چلانا سیکھی تھی۔اس وقت گھر پر صرف اُس کی ماں تھی  وہی ماں جو کبھی دروازہ نہیں کھولتی تھی اور آج اردو ملی انگریزی میں پولیس والوں سے بازپرس کر رہی تھی لیکن وہ نہ ٹلے ،اسی دوران لڑکے کا باپ  آگیا ،اس نے بھی بہتیرا کہا کہ مجھے لے جائیں  میرے بیٹے کو چھوڑ دیں۔  پرایسا  کب ہوا ہے۔  خیر ماں باپ کی دہائیوں اور  تماشائی محلے والوں کے سامنے   پولیس بچے کو اٹھا لے گئی اور گاڑی بھی قبضے میں کر لی۔۔۔سب سے بڑے انصاف کرنے والے نے فیصلہ سنا دیا۔لیکن شاید رسی دراز تھی  یا پھر اس جگ ہنسائی   نے اُس خاندان کو زندگی کا نہ بھولنے والا سبق سکھانا تھا کہ گاڑی کی ٹکر سے زخمی ہونے والا بچ گیا اور اُس نے "معاف" بھی کر دیا۔ یوں بچہ اسی رات گھر واپس پہنچ گیا۔ اس ظاہری کہانی کے بعد نہیں جانتے کہ اندرونی طور پر  اُن ناجائز قابضین کا دل کیسے پلٹا کہ چند ماہ بعد ہی وہ گھر چھوڑ کر چلے گئے اور ان کے بعد اس گھر میں  بٹ صاحب کی بیٹی کا خاندان آباد ہو گیا۔

منگل, جنوری 01, 2019

"۔پہلا بچہ"

 اپنے اپنے ماحول میں،اپنے اپنے انداز سے  عمر کے ابتدائی سال طے کرنے والے مرد اور عورت معاہدۂ نکاح کے ذریعے  شادی کی شاہراہ پر قدم رکھتے ہیں۔جذبوں اور خواہشوں کے درِیار پرپلکوں سےدستک دیتے جب آنکھ کھلتی ہے تو  آگہی کا اُجالا ہر احساس کی قلعی  کھول دیتا ہے۔باہمی محبت سمجھوتے کا لباس پہنتے دیر نہیں لگاتی تو  کہیں سمجھوتے کے گلیشئیر محبت کی  تپش سے دھیرے دھیرے پگھلنے لگتے ہیں۔شادی   ہردو افراد کے لیے "زندگی" کا ایسا "ٹرننگ پوائنٹ " ہے جو  نہ صرف جسمانی کیمسٹری یکسر تبدیل  کر دیتا ہے  بلکہ انسان ذہنی اعتبار سے بھی کئی منازل پھلانگ جاتا ہے۔ ایک دوسرے کو سمجھتے سمجھاتے، شادی کے اس بندھن کا ٹر ننگ پوائنٹ" پہلا بچہ" ہے۔ پہلا بچہ وہ سوال وہ کردار ہے جو اگر اپنی موجودگی کے احساس سےکئی  سوالوں کا جواب بنتا ہے تو اس کی غیرموجودگی  بذاتِ خود ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ پہلا بچہ عام حالات میں  اگر ایک نعمت گردانا جاتا ہے تو کئی  مرتبہ ایک ایسی زنجیر یا ہتھکڑی بن جاتا ہے جس سے چاہ کر بھی فرار ممکن نظر نہیں آتا۔ کبھی یہ کمزور پڑتے رشتوں کو جوڑنے میں معاون ثابت ہوتا ہے تو کہیں گلے کا ایسا طوق،جو زندگی کی ساری خوشیوں کے  در بند کر کے بس  اپنے حصار میں جکڑ کر رکھ دیتا ہے۔ جو بھی ہو پہلے بچے کی آمد اگر خوشخبری کے زمرے میں آتی ہے تو اس "خوشخبری" کا نا ملنا   رشتوں اور تعلقات میں ان کہی پیچیدگیوں کا سبب بنتا ہے۔ بسا اوقات ایسی جامد خاموشی روح میں اترتی ہے کہ انسان اپنی ہی پکار سے خوفزدہ ہوجاتا ہے۔یہاں نہ صرف عورت کو  قصوروار کردانا جاتا ہے بلکہ عورت  ہی دوسری عورت کے حق میں زہرِقاتل ثابت ہوتی ہے۔اعتراض کرنے میںعام طور پر وہ خواتین پیش پیش ہوتی ہیں  جن کے اپنی اولاد نہیں ہوئی یا کئی سالوں بعد اللہ نے اس نعمت سے نوازا ہو۔حق تو یہ ہے کہ شادی اگر مرد اور عورت کا نجی معاملہ ہے تو بچے کا ہونا یا نا ہونا بھی ہر دو کا سراسر ذاتی  فیصلہ یا  مسئلہ ہوتا ہے۔اس بارے میں ان دو کے علاوہ کسی تیسرے کو رائے تو کیا سوال پوچھنے کا بھی اختیار ہرگز نہیں ہونا چاہیے خواہ وہ ان کے اپنے ہی کیوں نہ ہوں۔
 خیر پہلے بچے کی "خوشخبری" خواہ شادی کے چند ماہ بعد سنائی دے یا چند سالوں بعد،اصل مرحلہ عافیت کے ساتھ  اس   امید کا پایۂ تکمیل تک   پہنچنا ہے۔بقول  منیرنیازی 
ایک اور دریا کا سامنا تھا  منیرمجھ  کو 
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا
بلاگ یقینِ زندگی(1) سے اقتباس۔
پہلا بچہ اپنے رویوں اور احساسات میں بھی اول ہی ہوتا ہے۔گھر میں اس کا وجود محبتوں کی کُل کائنات سمیٹتا ہے جب تک کے اُس کا دوسرا بہن بھائی نہ آ جائے۔پھر اُس کی زندگی یکدم تین سوساٹھ درجے کے زاویے پر مڑ جاتی ہے۔یا تو وہ سمجھوتے کر کے اپنے سب اختیار سب خواہشیں خاموشی سے بانٹ دیتا ہے اور یا پھر ہمیشہ اپنی بڑائی کے حصار سے باہر نہیں آ پاتا۔ اس میں شک نہیں کہ اپنوں کے دل میں اُس کا خاص احساس ہمیشہ ویسا ہی رہتا ہے جو وقت کے ساتھ چاہے گھٹتا بڑھتا رہے لیکن اس سے ملنے والی خوشی اگر منفرد ہوتی ہے تو اس سے ملنے والے غم بھی دل زخمی کر دیتے ہیں۔ پہلے بچے کی سب سے خاص بات جو بسااوقات اس کی کمزوری یا کسک بھی بن جاتی ہے کہ اُسے مانگنا نہیں آتا۔عمر کے پہلے سال کا یہ احساس ایک جینیٹک کوڈ کی مانند اس کے ذہن میں ٹھہر جاتا ہے چاہے اگلے برس ہی اس کا شراکت دار آ جائے۔

اتوار, دسمبر 23, 2018

"دلیل پر 100 تحاریر"

"سامان سو برس کا "
۔  100 کا ہندسہ زندگی کے کلینڈر میں جس موڑ پر بھی آئے  اپنے اندر  ایک عجیب سی کشش  اور خوشی رکھتا ہے جیسے ایک سنگِ میل چھو لیا ہو۔۔۔یوں کہ جیسے  بہت کچھ مکمل ہو گیا ہو۔
انسانی عمر میں 100 برس اگر ناممکنات میں سے ہیں تو  ذہنی وجسمانی قوا کی مجبور ی اور لاچاری کی علامت بھی ہیں۔۔رب کی بنائی انسانی جان کی مشینری کا سو برس تک  پہنچنا محال ہے۔اس میں شک نہیں کہ   سو تو بہت دور کی بات ہےہم انسان تو اسی سے  نوے برس بھی اپنے مکمل ہوش وحواس ،جسمانی اور ذہنی  طاقت کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے۔پچاس کا ہندسہ پھلانگتے ہی انسانی عمر میں تنزلی کا سفر شروع ہو جاتا ہے اور یہاں تک آتے آتے انسان   رب کی طرف سے عطا کردہ  محدود مہلتِ عمر میں بد سے بدترین اور بہتر سے بہترین نشیب وفراز سے گزر چکا ہوتا ہے۔آسمانِ دنیا پر نئی کہکشاؤں  کو  دریافت کرنے اور ذہن کے زور پر  ساری دنیا پر حکومت کرنے والے   اپنی زندگی اور صحت   کے حوالے سے   یہاں آ کراپنے ہی جسم   سے شکست کھا جاتے ہیں۔
 جو بھی ہو سب جانتے بوجھتے اور سمجھتے ہوئے بھی ہم اپنی زندگی کے معاملات اور مشاغل میں  اعدادوشمار کو بہت  اہمیت دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کرکٹ کے کھیل میں "نروس 99" کی اصطلاح بہت عام ہے۔اور سو رنز پورے ہوتے ہیں کھلاڑی اگلی ہی گیند  پر آؤٹ بھی ہوجائے تو  نہ صرف دیکھنے والے بلکہ وہ خود  بھی اطمینان کا سانس لے کر واپس لوٹتا ہے۔
 اب بات   دلیل پر میری سو تحاریر کے سنگِ میل کی۔۔۔ دلیل ویب سائیٹ کا آغاز جولائی 2016 ہوا۔ اپنی کسی  بھی تحریر کی اشاعت سے بےپروا  دو ماہ کے عرصے میں   بحیثیت قاری دلیل سے تعلق  جڑا رہا ۔دلیل انتظامیہ کی جانب   سے اگست  2016 کو میری پہلی تحریر" گود کی گور" شائع ہوئی۔ اپنا نام اور تحریر اچانک سے دلیل ویب سائیٹ پر دیکھ کرخوشگوار حیرت  ہوئی۔بس اُس کے بعد سے جو سلسلہ شروع ہوا وہ تادمِ تحریر رُکا نہیں۔ دلیل انتظامیہ کی مشکور ہوں کہ  آج تک میری  طرف سے بھیجی گئی کسی  ایک تحریر کو بھی رد نہیں کیا گیا اور نا ہی کسی ایک لفظ کی  کانٹ چھانٹ کی  نوبت آئی۔ دو سال کی مدت میں سو تحاریر کی مسلسل اشاعت کے اس سفر میں   گر  ایک ماہ میں دس سے زیادہ تحاریر شائع ہوئیں تو   دلیل کی طرف سے کسی تکنیکی مسئلے کی وجہ سے   ایک یا دو ماہ   کے وقفے بھی ہوئے۔ دلیل پر شائع شدہ 100 تحاریر کے اس گلدستے میں    جہاں میرے احساس کے کینوس پر  رنگ بکھیرنے  والے مختلف النوع موضوعات  کی  جھلک  ملتی ہے   وہیں  رب کی طرف سے   دی  گئی  صلاحیت  اور اہلیت  کو بروئے کار لاتے ہوئے   یہ تحاریر   ایک قاری ہونے کے ناطے اپنے لکھاریوں کی  محبت کا احسان  چکانے کی ادنیٰ سی کوشش بھی ہیں۔ میرے نزدیک لفظ کا قرض لفظ سے ہی ادا کیا جا سکتا ہے۔سوشل میڈیا کی بدولت  آج کل "سب کہہ دو" کا زمانہ ہے۔ جس کے مثبت کے ساتھ منفی پہلو بھی ہیں کہ ہم اپنی عمر اور دوسرے کے تجربےکے ساتھ مسابقت بازی سے لے کر اپنی انا کی سربلندی تک پیچھے نہیں ہٹتے۔
میری تحاریر  تو بلاگ یا کتاب  کے معیار اور اصول وضوابط کے ایک فیصد پر بھی پورا نہیں اترتیں  کہ نہ  تومیں نے ڈھیر ساری کتب پڑھی ہیں اور نہ ہی بلاگ پڑھنے کا دعٰوی کر سکتی ہوں۔ میں نے تو شاید اتنے بلاگ بھی نہیں پڑھے جتنے لکھ چکی ہوں۔میری کم علمی سے صرفِ نظر رکھتے ہوئے اپنے بلاگز پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ آپ کے قیمتی وقت کی خواہش رکھتی ہوں۔۔۔"شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات"۔
 دلیل ویب سائیٹ   اور اس کی انتظامیہ  کے اعتماد کے لیے تہہ دل سے ممنون  ہوں کہ دلیل پر اشاعت سے میری تحاریر   کی ایک منظم  فہرست مرتب ہوئی۔زندگی نے ساتھ دیا  اوردلیل ویب سائیٹ نے   آئندہ موقع دیا  تو اس کے پلیٹ فارم سے  اپنی اب تک کی بہترین تحاریر  ضرور سامنے لاؤں گی۔ ان شااللہ ۔
ویب سائیٹ "دلیل" پر2016 سے شائع ہونے والی تحاریر۔۔۔۔
٭۔2016 (34)۔۔۔۔اگست (1) ۔۔ستمبر(10)۔۔اکتوبر(11)۔۔ نومبر(6)۔۔دسمبر(6)۔
٭۔ 2017(55)۔۔جنوری (7)۔۔۔فروری(7)۔۔۔مارچ(7) ۔۔۔اپریل (4)۔۔۔مئی (3)۔۔۔ جون(4)۔۔۔جولائی(2)۔۔اگست(5)۔۔۔ستمبر(2)۔۔۔اکتوبر(6)۔۔۔نومبر(6)۔دسمبر (2)۔
٭۔ 2018(11)۔.مارچ (2)۔۔اپریل (1)۔ مئی (3)۔ جولائی (1)۔ستمبر(1)۔اکتوبر(3)۔دسمبر (1)۔
۔۔۔۔
٭1)گود کی گور۔۔۔31 اگست 2016
۔۔۔۔
٭2)عورت ۔پیر کی جوتی۔۔یکم ستمبر2016
۔۔۔۔
٭3)لفظ اور کتاب سے دوستی۔۔3 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭4)آہ ہم عوام،واہ ہم عوام۔۔5 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭5)مستنصرحسین تارڑ۔۔عکس سے نقش تک۔7 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭6) تین لفظ۔۔8 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭7زندگی کا زیرو پوائنٹ۔9ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭8)اشفاق احمد اور 7 ستمبر کی رات۔۔بانو قدسیہ۔۔15 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭9)ماں کا دُکھ۔۔19 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭10) بیٹی اور اُس کا دُکھ۔25 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭11) پچیس برس کا سفرِزندگی مکمل ہونے پر ماں کا احساس بیٹے کے نام۔29 ستمبر 2016
۔۔۔۔
٭12)چاند اور زندگی کی چاندنی۔یکم اکتوبر 2016
۔۔۔
٭13)سوکن۔۔2 اکتوبر2016
۔۔۔۔۔
٭14)سرقہ۔6اکتوبر 2016
۔۔۔
٭15)آفتِ ارضی۔8 اکتوبر 2016
۔۔۔
٭16) رازِ زندگی 9 اکتوبر 2016
۔۔۔۔
٭17) کتے،کتاپن اور ہماری خواہشات۔ 18 اکتوبر 2016
۔۔۔۔
٭18)سال گرہ۔19 اکتوبر 2016
۔۔۔۔
٭19)اکرامِ میت۔23 اکتوبر 2016
۔۔۔۔
٭20)منتظمِ اعلیٰ اور استعفٰی۔25 اکتوبر 2016
۔۔۔۔۔۔
٭21)دھرنے اور آج کا اسلام آباد۔۔29اکتوبر2016۔
۔۔۔۔۔۔
٭22)کٹڑ پنجابی،کٹر پاکستانی اورکٹر اُردو ادیب۔۔ 31اکتوبر2016۔
۔۔۔۔۔۔
٭23)تبدیلی کی لہر کی واپسی اور جوان خون۔2 نومبر 2016۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
٭24)خودغرضی کی بھوک۔15نومبر2016۔
۔۔۔۔۔
٭25) نکاح۔۔کاغذ کہانی۔۔18 نومبر۔2016۔
۔۔۔۔۔۔
٭26) سیاسی حمام اور لولی پاپ کی سیاست 19۔نومبر۔2016۔
۔۔۔۔۔۔
٭27) ساتھ اور لباس کہانی ۔،20 نومبر 2016
۔۔۔۔۔
۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔
٭97) سرکاری ملازم۔۔30 ستمبر2018
۔۔۔
٭98) ماں کی ڈائری سے۔13 اکتوبر 2018
۔۔۔
٭99) آٹوگراف۔۔17 اکتوبر 2018

جمعہ, اکتوبر 19, 2018

ترکہ

 دُنیا بدبودار کیچڑ کی ایک دلدل ہے۔۔۔جس کے چھینٹے پاس سے گزرنے والےکو بھی آلودہ کر سکتے ہیں۔۔۔اس کا تعفن دورسے ہی قدم روک لیتا ہے۔اگر یہ آنکھوں دیکھی حقیقت ہے تو یہ بھی حقیقت ہے کہ ہمیں اسی دُنیا میں رہنا ہے۔۔۔ ایک مقررہ وقت تک ۔۔۔ اس کی تمام ترغلاظت اورہولناکی جانتے ہوئےبھی۔ اصل بات۔۔۔ اس سے بچ کر دور بھاگنا یا اس میں قدم رکھ کر اپنے آپ کو آلودہ ہونے سے بچانا نہیں بلکہ اس کو پرکھ کر اس میں ڈوبنے سے خود کو بچانا ہے۔ توبہ کا 'آب ِزم زم' ہروقت پاس ہے لیکن آب ِزم زم کی وافر دستیابی کو جواز بنا کر دُنیا کے اندر ہی اندر جانے کی خواہش سراسر حماقت ہے۔ یہ دُنیا جو دور سے کتنا ہی خوفناک منظر کیوں نہ پیش کر رہی ہو۔اس میں قدم رکھ کر آنکھ یوں بند ہوتی ہے کہ ہرطرف رنگوں اور خوشبوؤں کی برسات ایک لمحے میں سب اسباق بھلا دیتی ہے۔ دُنیا انسان کو خطرناک حد تک نابینا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اگر نابینا انسان کے دوسرے حواس بھی ساتھ چھوڑ دیں تو پھرڈوبنا مقدر ہے۔ دُنیا میں ڈوبنے والا نجات پھربھی نہیں پا سکتا کہ اس کا کھارا پانی جینے دیتا ہے اور نہ مرنےسے نجات کی صورت دکھائی دیتی ہے۔
انسان ساری زندگی محنت کرتا ہے۔۔۔ روپیہ پیسہ جمع کرتا ہے۔۔۔جائیداد بناتا ہے۔۔۔ برے وقت کے لیے پس اندازکرتا ہے۔۔۔ نہ صرف اپنے سکون کے لیے بلکہ اپنے اہل وعیال کے آرام وآسائش کے لیے جان توڑ کوشش کرتا ہے۔ زندگی اور معاملاتِ زندگی ایسا کنواں ہیں کہ جتنا پانی نکالتے جاؤ پیاس بڑھتی جاتی ہے۔۔۔  طلب کم ہوتی ہے اور نہ ہی رسد میں کمی آتی ہے۔۔۔یوں حاصل جمع ہمیشہ صفر آتا ہے۔۔۔ بظاہرکتنا ہی مال ومتاع دکھائی کیوں نہ دے رہا ہو سب خرچ ہو جاتا ہے۔ ایک وقت مقرر کے بعد جب واپسی کا نقارہ سنائی دیتا ہے۔۔۔ صرف وہی ساتھ جاتا ہے جو دل کی "خفیہ" تجوری میں محفوظ کررکھا تھا۔۔۔ اور جس کے بارے میں کوشش تھی کہ دوسرے ہاتھ کو خبر تک نہ ہو۔ ایسا بھی ہوتا ہے بلکہ ہمیشہ ایسا ہی  ہوتا ہے کہ وہ دولت یا وراثت جو کسی کے لیے جمع کی تھی آخری وقت میں کسی اور کے کام آتی ہے۔احساس کا جوار بھاٹا سفر زیست کے ساتھ رنگ بدلتاجاتا ہے۔زندگی کے لیے جسم سے زیادہ ذہن کی زندہ رہنے کی خواہش اہم ہے۔ دنیا کی چاہت ختم ہو رہی ہو لیکن ذہن کی تازگی برقرار رہے تو ذہن زندگی کا ساتھ چھوڑنے پر کبھی آمادہ نہیں ہوتا ۔ اُس لمحے جسم کو ایک نادان بچے کی طرح اُس کی بات ماننا پڑتی ہے اس کا ساتھ دینا پڑتا ہے،اس سمے خواہشوں کے دیے ٹمٹمانے بھی لگیں لیکن امیدوں کے چراغ ضرور روشن رہنا چاہیں۔ جیسےکبھی نہ کبھی مہیب کالے بادلوں سے ڈھکے آسمان پر کہیں نہ کہیں روشنی کی ایک کرن جھلک دکھلا دے یا ایک خوفناک گڑگڑاہٹ کے ساتھ لمحہ بھر کوبجلی سی کوند جائے،بس وہ ایک لمحہ اور اُس کے بعد اتنی جل تھل ہو کہ پیاسی مٹی سیراب ہو کر دوسروں کے لیے آبِ حیات بن جائے۔بےشک انسان کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی اس نے کوشش کی ۔ لیکن ایک کوشش عمل سے پہلے نیت کی بھی ہے۔نیت کتنا کھری ہے؟ اور اس میں لالچ، خودغرضی اور انا کی کھوٹ کتنی ہے؟ وقتی چمک دمک کی ہوس ہے یا ابدی روشنی کی تمنا؟۔
لمحۂ فکر یہ ہے کہ کرنے کا وقت ہماری اسی مادی زندگی تک ہی محدود ہے۔ہمیں اپنی اسی زندگی میں اپنے آپ کو بھی مطمئن کرنا ہے اوراپنے دینی ودنیاوی حقوق بھی احسن طریقے سے ادا کرنا ہیں۔اپنے اندر کی اواز پر دھیان دینا سب سے اہم ہے اور یہی سب سے مشکل ہے۔ہم سب اپنےآپ کو جاننے کے دعوے تو کرتے ہیں لیکن اکثراوقات ہماری طلب کی بازگشت ہماری ذات کے اندھے کنوئیں میں ٹکرا کر رہ جاتی ہے۔ہم کبھی توسب فانی کہتے ہوئے مایوسی کو ضبط وبرداشت کے پردے میں چھپا جاتے ہیں تو کبھی برداشت کی آخری حد سے گذر کر سب سودوزیاں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں  اپنے ساتھ وقت گزارنے کا وقت کبھی نہیں ملتا۔ہماری زندگی پر ہماری ذات کا اتنا ہی حق باقی رہتا ہے جتنا کہ ہمارا نام۔اہم یہ ہے کہ اپنے قریب آنے میں بھی حد درجہ احتیاط کی ضرورت ہے، اپنے خول میں سمٹنے والوں کو کبھی تو خود پسندی کی آگ جھلسا دیتی ہے تو کبھی خودترسی اور ناقدری کا گہن دیمک کی طرح اندر ہی اندر سرایت کر کے  احساس کھوکھلا کر دیتا ہے۔ہم ساری زندگی اپنا وقت اپنے لیے چوری کر کے حاصل کرتے ہیں اور اس بچی کچی خیرات میں سے آگہی کی کرنیں تلاش کر لینا ہی زندگی کمائی ہے۔
زندگی میں کامیابی کا فقظ ایک ہی راز ہے۔۔۔ اپنی اہلیت کو پہچاننا۔۔۔جانچنا اور پھر اس کے مطابق سمجھوتہ کرنا۔ وقت کی پکار پردھیان رکھنا۔ وقت وہ قیمتی اثاثہ ہے جس کی موجودگی کا ہمیں قطعاً احساس نہیں ہوتا۔وہ خاموشی سےایک تابعدارخدمتگارکی طرح ہمارے ساتھ چلتا چلا جاتا ہے۔ یہ آخری سانس تک ہمارا ہوتا ہےاوراس کے بعد بھی۔۔ وقت کبھی ہاتھ سے نہیں نکلتا لیکن ہم خود ہی اس کی قید سے نکل جاتے ہیں۔

مکافاتِ عمل

مکافاتِ عمل۔۔۔ کاروبارِ حیات میں نفع نقصان کا حساب کتاب کرتے ہم دیکھتے ہیں کہ پکڑ ہمیشہ اُس گناہ کی نہیں ہوتی جو جانے انجانے میں سرزد ہ...