صفحہِ اول

ہفتہ, جون 17, 2017

"قران پاک میں تذکرۂ انبیاء علیہم السلام"

قرآن کریم میں  انبیاء  کرام کا ذکر دو طرح سے آیا ہے ۔۔۔ایک "قصص الانبیاء"یعنی انبیاءعلہیم السلام پر گذرنے والے واقعات وحالات اور دوسرا انبیاء کی اقوام کی اُن کے ساتھ کشمکش ۔
قران پاک میں  پچیس رسولوں اور نبیوں کے نام  ہیں۔
 قران پاک میں  پچیس انبیاءکرام کے نام  اور ان کا جتنی بار بھی تذکرہ کیا گیا ہے اُس کی تفصیل درج ذیل ہے۔۔۔۔ 
 ٭ دو۔۔۔اول الانبیاءحضرت آدم علیہ السلام کا ذکرِمبارک  اُن کے نام کے ساتھ پچیس  (25 )  مقامات پر ہے۔ آخرالانبیاء حضرت "محمدﷺ"  کا نامِ گرامی قران پاک میں چار جگہ آیا ہے اور احمدﷺ ایک جگہ آیا ہے ۔۔۔ 
٭1) محمدﷺ۔۔ سورہ آلِ عمران(3)  آیت 144۔۔
٭2)  محمدﷺ۔۔۔سورہ احزاب( 33)آیت 40۔۔
٭3)  محمدﷺ۔۔۔سورہ محمد(47) آیت 2۔۔
٭4) محمدﷺ۔۔۔ سورہ فتح(48) آیت 29۔۔
اور "احمد"ﷺ ایک جگہ۔۔سورہ الصف(61) آیت6۔  ترجمہ۔۔"اور جب عیسٰی بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل!بےشک میں اللہ کا تمہاری طرف رسول ہوں (اور) تورات جو مجھ سے پہلے ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہوں اور ایک رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہو گا، پس جب وہ واضح دلیلیں لے کر ان کے پاس آگیا تو کہنے لگے یہ تو صریح جادو ہے"۔
٭اٹھارہ انبیاء کرام  کا ذکرسورہ انعام(6)کی چار آیتوں 83 تا86 میں ایک ساتھ آیا ہے۔۔۔
٭آیت 83 میں  ایک نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بیان ہے جبکہ قران پاک میں  کُل 69 مقامات پر  آپ کا ذکر ہوا ہے۔
٭ترجمہ آیت 83۔۔۔"اور یہ ہماری دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے مقابلے میں عطا کی تھی۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجے بلند کردیتے ہیں۔ بےشک تمہارا پروردگار دانا اور خبردار ہے"۔
٭آیت84 میں نو انبیاءکرام کا ذکرِمبارک ہے۔۔۔۔
ترجمہ آیت 84۔۔"اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب بخشے۔ (اور) سب کو ہدایت دی۔ اور پہلے نوح کو بھی ہدایت دی تھی اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسیٰ اور ہارون کو بھی۔ اور ہم نیک لوگوں کو ایسا ہی بدلا دیا کرتے ہیں"۔
حضرت اسحاق علیہ السلام( 17 مقامات)۔۔
حضرت یعقوب علیہ السلام دس سورتوں میں 16مقامات پر ۔۔
حضرت نوح علیہ السلام( 43بار)۔۔
حضرت داؤد علیہ السلام( 16 بار)۔۔
حضرت سلیمان علیہ السلام(17بار)۔۔
حضرت ایوب علیہ السلام(4مقامات)۔۔
حضرت یوسف علیہ السلام(27 مقامات)۔۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام (  تقریباً 136بار)۔
حضرت ہارون علیہ السلام(20 مقامات)۔
٭آیت85۔۔ چار انبیاءکرام۔۔۔ترجمہ آیت85۔۔۔"اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس کو بھی۔ یہ سب نیکوکار تھے"۔
حضرت زکریا علیہ السلام(7مقامات)۔۔
حضرت یحییٰ علیہ السلام(5 مقامات)۔۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام(25 بار)۔۔
حضرت الیاس علیہ السلام( 2 مقامات۔۔سورہ انعام(6) اورسورہ الصافات(37)  آیت 123 )۔
٭آیت86۔۔ چار انبیاء کرام۔۔ترجمہ آیت86۔۔۔ "اور اسمٰعیل اور الیسع اور یونس اور لوط کو بھی۔ اور ان سب کو جہان کے لوگوں پر فضلیت بخشی تھی" ۔
حضرت اسماعیل علیہ السلام(12 بار)۔۔ 
حضرت الیسع علیہ السلام(2 مقامات)۔۔ سورہ انعام(6) اور سورہ ص(38) آیت 48۔۔
حضرت یونس علیہ السلام(4 مقامات)۔سورہ انعام(6)۔۔سورہ یونس(10) آیت98۔۔سورہ الصافات(37)  آیت139۔
 حضرت لوط علیہ السلام(27مقامات)۔
٭ تین انبیاء کرام ۔۔۔۔قران پاک میں اِن تین انبیاء کا ذکر اکثر مقامات پر اکٹھے ہی آیا ہے۔ 
حضرت صالح علیہ السلام(9 مقامات)۔۔
حضرت ہود علیہ السلام(7 مقامات)۔۔
حضرت شعیب علیہ السلام(11 مقامات)۔
٭ دو انبیاء کرام۔۔۔
حضرت ادریس علیہ السلام(2 مقامات) ۔۔سورہ مریم (19) آیت 56 اورسورہ الانبیا(21) آیت 85۔
حضرت ذوالکفل علیہ السلام(2 مقامات)۔ سورہ الانبیا(21) آیت 85اورسورہ ص(38)آیت 48۔
۔۔۔۔۔
قرآن کریم میں پیغمبروں کے نام سے چھ سورتیں ہیں۔۔۔
٭  10 ویں سورہ ۔۔سورة یونس ۔
٭11 ویں سورہ ۔۔سورة ہود۔
٭12ویں سورہ۔۔سورة یوسف۔
٭14 ویں سورہ۔۔سورة ابراہیم۔
٭47ویں سورہ۔۔سورة محمدﷺ۔ 
٭ 71ویں سورہ۔۔سورة نوح۔
۔۔۔۔۔۔۔

سوموار, مئی 29, 2017

"تھینک یو ایڈیسن "

اتوار‬‮82مئی7102 | 
 ربڑ آخری کوشش تھی‘ وہ لیبارٹری میں ربڑ بنانا چاہتا تھا‘ ربڑ بن گیا لیکن کوالٹی اچھی نہیں تھی‘ وہ کوالٹی بہتر بنانے کی کوشش کرتا رہا لیکن موت کا فرشتہ آ گیا‘ وہ مسکرایا اور اپنا آپ اس کے حوالے کر دیا‘ موت کا فرشتہ اسے لے گیا مگر مجھے یقین ہے موت کے فرشتے کو اس کی جان قبض کرتے وقت بہت افسوس ہوا ہو گا‘ وہ اس سے آنکھ نہیں ملا پایا ہو گا‘ وہ ایک ایسے انسان کی آنکھ میں آنکھ کیسے ڈالتا جس نے اللہ کے دیئے ہوئے ایک ایک لمحے کو استعمال کیا‘ جس نے اپنی زندگی دوسروں کی زندگی بہتر بنانے کےلئے وقف کر دی‘ میں صبح دس بجے اس عظیم انسان کی اس لیبارٹری کے دروازے پر کھڑا تھا جس میں اس نے نسل انسانی کو 1100 ایسی ایجادات دیں جنہوں نے ہم سب کی زندگی بدل دی‘ یہ دنیا رہنے کےلئے زیادہ بہتر ہو گئی‘ گارڈ نے تالہ کھولا‘ لوہے کے گیٹ سے چڑڑ چڑڑ کی آواز آئی اور ہم اندر داخل ہو گئے۔آپ دنیا کے کسی کونے میں بیٹھ جائیں‘ آپ کچھ بھی کر رہے ہوں‘ آپ زندگی کی کسی بھی نعمت سے لطف اندوز ہو رہے ہوں آپ تھامس ایڈیسن کا شکریہ ادا کئے بغیر نہیں رہ سکیں گے‘ پلاسٹک ہو‘ سیمنٹ ہو‘ چھت کا پنکھا ہو‘ ٹیلی پرنٹر ہو‘ ٹائپ رائٹر ہو‘ آڈیو سسٹم ہو‘ فلم ہو‘ ایکسرے ہو‘ بیٹری ہو‘ فوم ہو‘ بجلی کا بلب ہو‘ ٹارچ ہو‘ بال پین ہو اورالیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن سسٹم ہو آپ دنیا کی کسی اہم ایجاد کا نام لیں آپ کو اس کے پیچھے ایڈیسن کا نام ملے گا‘ وہ ان پڑھ تھا‘ وہ چند ماہ سکول گیا‘ اساتذہ نے اسے نالائق قرار دے کر نکال دیا‘ آٹھ سال کی عمر میں تجربے شروع کئے‘ گھر کو آگ لگ گئی‘ مار پڑی لیکن وہ باز نہ آیا‘ ماں نے اسے گھر سے ذرا سے فاصلے پر تجربہ گاہ بنانے کی اجازت دے دی‘ وہ تجربے کرتے کرتے دس سال کا ہوا‘ ریل گاڑی میں اخبار بیچنے لگا‘ وہ اپنا اخبار خود شائع کرتا تھا‘ وہ ریل گاڑی کے باتھ روم میں بھی تجربے کرتا تھا‘ تجربوں کے دوران ایک دن ڈبے میں آگ لگ گئی‘ گارڈز نے اسے پلیٹ فارم پر پٹخ دیا‘ یہ مار اس کے ایک کان کی قوت سماعت لے گئی‘ وہ آدھا بہرہ ہو گیا لیکن وہ اس کے باوجود ڈٹا رہا‘ وہ تجربے کرتا رہا یہاں تک کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا سائنس دان بن گیا‘ دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی‘ ایڈیسن سے پہلے کی دنیا اور ایڈیسن سے بعد کی دنیا۔وہ نیوجرسی میں رہتا تھا‘ وہ جس شہر میں رہتا تھا وہ پورا شہر آج ایڈیسن کہلاتا ہے‘ ایڈیسن شہر نیویارک سے 30 منٹ کی ڈرائیو پر واقع ہے لیکن یہ شہر آپ کو وقت اور شکر میں تین سو سال آگے لے جاتا ہے‘یہ آپ کے دماغ کی ساری کھڑکیاں کھول دیتا ہے‘ آپ اگر علم پسند ہیں تو پھر ایڈیسن شہر میں تھامس ایڈیسن سے متعلق تین مقامات دیکھنا آپ پر فرض ہو جاتے ہیں‘ پہلا مقام ایڈیسن کی تجربہ گاہ ہے‘ یہ تجربہ گاہ سائنس کا کعبہ ہے‘ ہم اڑھائی گھنٹے اس کعبے میں رہے اور ہر پانچ منٹ بعد دنیا کے اس عظیم انسان کا شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے‘ لیبارٹری کے بے شمار حصے ہیں‘ پہلا حصہ ایڈیسن کی لائبریری ہے‘ یہ لکڑی کی تین منزلہ عمارت ہے‘ عمارت کے چاروں طرف کیبن بنے ہیں‘ ہر کیبن کی دیواروں پر کتابیں لگی ہیں اور کتابوں کے درمیان ایک کرسی پڑی ہے‘ ہر کیبن سائنس کا ایک سیکشن ہے‘ ایڈیسن ان پڑھ تھا لیکن اس نے فرنچ‘ جرمن اور اطالوی زبانیں سیکھ لیں‘ وہ دن کا ایک بڑا حصہ لائبریری میں کتابیں پڑھ کر گزارتا تھا‘ لائبریری میں اس کا بیڈ بھی رکھا ہوا تھا‘ وہ اکثر اوقات پڑھتے پڑھتے وہیں سو جاتا تھا‘ میں نے زندگی میں بے شمار لائبریریاں دیکھی ہیں لیکن یہ لائبریری انوکھی بھی تھی اور پرکشش بھی‘ یہ میرے دل میں اتر گئی‘ لیبارٹری کے دوسرے فلور پر ”فونو گرام“ کا کمرہ تھا‘ ایڈیسن نے فونو گرام ایجاد کر کے ہم انسانوں کو آڈیو سسٹم دیا تھا‘ فونو گرام پر ایڈیسن کے 35 سال خرچ ہوئے لیکن اس نے کمال کر دیا‘ اس سیکشن میں اس کے ایجاد کردہ فونو گرام اور ریکارڈ (ڈسکیں) رکھے ہیں‘ ا سے اگلا سیکشن اس کی چھوٹی تجربہ گاہ ہے‘ اس تجربہ گاہ میں ہزاروں چھوٹے بڑے آلات اور اوزار رکھے ہیں‘ یہ تجربہ گاہ ایک بڑی خراد گاہ سے منسلک ہے‘ خراد گاہ میں بڑی مشینیں لگی ہیں‘ اس نے خراد گاہ کےلئے بجلی کا اپنا نظام بنا رکھا تھا‘ وہ سسٹم تاحال موجود ہے‘ خراد سے اگلے سیکشن میں اس کی ایجاد کردہ اشیاءرکھی ہیں‘ اس سیکشن سے گزرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے دنیا کی ہر اہم چیز ایڈیسن نے ایجاد کی تھی‘ ایکسرے مشین کے سامنے کھڑے ہو کر پتہ چلا‘ یہ مشین اس نے بڑی مشکل سے ایجاد کی تھی‘ ایکسرے کی ایجاد کے دوران اس کے بے شمار ورکرز تابکاری کا نشانہ بنے اور انتقال کر گئے‘ وہ خو بھی تابکاری کا شکار رہا لیکن جب ایکسرے ایجاد ہو گیا تو اس نے یہ ایجاد عام کر دی‘دنیا کا کوئی بھی شخص اور کوئی بھی کمپنی ایکسرے مشین بنا سکتی تھی‘ یہ اس کی ذات کا کھلا پن اور فراخ دلی تھی‘ ایڈیسن کی تجربہ گاہ کا دوسرا اہم مقام کیمسٹری لیب تھا‘ یہ لیب لیبارٹری کے احاطے میں ایک الگ کمپاﺅنڈ میں قائم تھی‘ ہم کیمسٹری لیب میں داخل ہونے لگے تو گائیڈ نے اعلان کیا ”آپ دنیا کے ایک ایسے مقام میں داخل ہو رہے ہیں جس نے پوری دنیا کا لیونگ سٹینڈرڈ بدل دیا‘ یہ لیب انسانوں کی بہت بڑی محسن ہے“ ہم اندر داخل ہوئے‘ یہ کسی سائنس کالج کی لیبارٹری جتنی لیب تھی لیکن اس میں دنیا کی بڑی بڑی ایجادات وقوع پذیر ہوئی تھیں‘ بیٹری‘ ٹارچ‘ ایکسرے‘ فونو گرام کی ڈسک اور ربڑ سمیت بے شمار ایجادات نے اس لیب میں آنکھ کھولی تھی‘ لیب میں تمام اشیاءجوں کی توں رکھی تھیں‘ شیشے کے جاروں میں کیمیائی مادے بھی اسی طرح رکھے تھے اور میزوں پر ٹیوبیں اور اوزار بھی ایڈیسن کا انتظار کر رہے تھے‘ لیبارٹری کے شیشے دودھیا تھے‘ گائیڈ نے بتایا ایڈیسن کے حریف پہاڑی پر دوربینیں لگا کر اس کے کام کی جاسوسی کرتے رہتے تھے‘ ایڈیسن نے ان جاسوسوں سے بچنے کےلئے شیشے دودھیاں کر دیئے تھے‘ یہ لیبارٹری سردیوں اور موسم بہار میں قابل برداشت ہوتی تھی لیکن یہ گرمیوں میں ناقابل برداشت حد تک گرم ہو جاتی تھی مگر اس کے باوجود ایڈیسن اور اس کے ساتھی کام کرتے رہتے تھے‘ لیبارٹری کے صحن میں سیاہ رنگ کا وہ سٹوڈیو بھی موجود تھا جس میں ایڈیسن نے پہلی موشن فلم بنائی تھی‘ یہ سٹوڈیو دنیا میں سینما کی بنیاد تھا اور وہاں ایڈیسن کا بنایا ہوا دنیا کا پہلا بلب اور پہلا ٹائپ رائیٹر بھی موجود تھا‘ لیبارٹری کا ایک ایک انچ اس کے جینئس ہونے کی دلیل تھا اور آپ ہر جگہ رک کر دنیا کے اس عظیم انسان کا شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے تھے۔ایڈیسن کا گھر تیسرا قابل زیارت مقام تھا‘ یہ گھر لیبارٹری سے پانچ منٹ کی ڈرائیو پر واقع تھا‘ یہ 29 کمروں کا محل نما گھر تھا‘ یہ گھر اس نے اپنی دوسری بیگم میناملرکےلئے خریدا تھا‘ گھر کے دائیں بائیں وسیع جنگل تھا‘ پچاس فٹ اونچے چیڑھ کے درخت تھے‘ درختوں کے درمیان چہل قدمی کےلئے راستے بنے تھے‘ گھر کے چاروں اطراف وسیع لان تھے‘ لان میں پھولوں کے قطعے اور بیلوں کی لمبی باڑ تھی‘ گھر اندر سے بادشاہوں کی رہائش گاہ لگتا تھا‘ دیواروں پر قیمتی پینٹنگز لگی تھیں‘ فرنیچر اور کراکری انتہائی قیمتی تھی‘ قالین اور صوفے سو سال پورے کر چکے تھے لیکن اس کے باوجود یوں محسوس ہوتے تھے جیسے ایڈیسن ابھی یہاں سے اٹھ کر گیا ہے اور وہ کسی بھی وقت واپس آ جائے گا‘ ایڈیسن کے ہیٹ‘ چھڑیاں‘ بوٹ اور کپڑے بھی سلیقے سے رکھے تھے‘
 کچن اور ڈائننگ روم بھی قابل استعمال محسوس ہوتا تھا‘ سٹڈی میں رائٹنگ ٹیبل رکھی تھی اور دیواروں میں کتابوں کی شیلفیں تھیں‘ وہ مطالعے کا رسیا تھا شاید اسی لئے اس کے گھر اور لیبارٹری دونوں جگہوں پر ہزاروں کتابیں موجود تھیں‘ وہ ایک باذوق انسان تھا‘ اس کا ذوق اور نفاست گھر کی ایک ایک چیز سے جھلک رہی تھی‘ گھر کے پچھواڑے میں دو قبریں تھیں‘ ایک قبر میں ایڈیسن محو آرام ہے اور دوسری میں اس کی اہلیہ مینا ملر‘ دونوں قبریں زمین کی سطح پر چھ انچ اونچی ہیں‘پتھر کی سلیٹی رنگ کی سل پر دونوں کے نام‘ تاریخ پیدائش اور انتقال کا سن تحریر تھا‘ سرہانے پھولوں کے درخت لگے ہیں‘ ہم قبر پر پہنچے تو شکور عالم صاحب نے فاتحہ کےلئے ہاتھ کھڑے کر دیئے‘ وہ دعا پڑھ کر فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا ”سر کیا غیر مسلم کی فاتحہ پڑھی جا سکتی ہے“ شکور صاحب نے فرمایا ”میں نے کسی غیر مسلم کی فاتحہ نہیں پڑھی‘ میں نے انسانوں کے محسن کا شکریہ ادا کیا ہے‘ یہ شخص نہ ہوتا تو ہم آج بھی اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہوتے‘۔یہ ہمارا محسن ہے‘ ہم اگر اس کا شکریہ ادا نہیں کرتے تو ہم احسان فراموش کہلائیں گے“ میں نے شکور عالم صاحب سے اتفاق کیا‘ زور سے تھینک یو ایڈیسن کا نعرہ لگایا اور ایڈیسن کی قبر کو سیلوٹ کر دیا‘ وہ شخص حقیقتاً پوری دنیا کے سیلوٹ کا حق دار تھا‘ وہ نہ ہوتا تو شاید ہم اتنی شاندار دنیا میں نہ ہوتے‘ ہماری راتیں شاید اندھی اور دن شاید بےرنگ ہوتے۔

منگل, مارچ 14, 2017

"کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے"


" اردو اردو"
وطن کو دھرتی ماں کہا جاتا ہے تو اردو اس کے سر کی ردا ہے۔ اور وطن کی مٹی کی بات ہو تو اردو اس مٹی کی خوشبو ہے۔وہ خوشبو جو قریب رہ کر اتنی محسوس نہیں ہوتی۔ لیکن ! جیسے جیسے فاصلہ بڑھتا ہے ،انسانوں کے ہجوم میں تنہائی گرفت میں لیتی ہے ،شناخت کی بےیقینی تشنگی میں بدلتی ہے تو پھر ماں کی ردا اور بارش میں سوندھی مٹی کی مانند خوشبو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔
اردو  املاء میں غلطیاں۔۔۔۔۔
٭1)جناب  محمد ظہیر قندیل(صدر شعبہ اُردو،کیڈٹ کالج حسن ابدال)نے اردو  لکھتے ہوئے عام غلطیوں کی نشاندہی کی جو ہم عام طور پر کرتے رہتے ہیں ۔
تحریر از محمدظہیرقندیل۔۔۔"عربی فارسی کے بہت سے الفاظ ایسے ہیں جن کےآخر میں ‘‘ہ’’ آتی ہے۔ اس سے پہلے لفظ پر اگر زبر ہو تو اس کی آواز ‘‘ہ" کی طرح نہیں نکلتی بل کہ اپنے سے پہلے حرف کو ہلکا سا سہارا دیتی ہے۔ جیسے : کعبہ، پیمانہ، پردہ، جلوہ ، نعرہ، قبلہ وغیرہ۔ اس ‘‘ہ’’ کو ‘‘ہائے مختفی’’ کہا جاتا ہے۔ یاد رکھیے کہ یہ ہائے مختفی صرف فارسی اور عربی کے الفاظ کے آخر میں لگتی ہے۔ ان کے سوا کسی بھی زبان کے الفاظ کے آخر میں ‘‘ہ’’ نہیں لگتی۔ ہم اردو میں کثرت سے ایسے الفاظ کا املا غلط کرتے ہیں۔
ان میں سے چند درست الفاظ یہ ہیں جنھیں ہائے مختفی کے ساتھ غلط طور پر لکھا جاتا ہے۔
بھروسا، پتا ( ایڈریس) ،(پتّا ۔درخت کا)، اکھاڑا، باڑا، روپیا، پیسا، رکشا، ڈراما، گھنٹا، بلبلا، بنگلا، بدلا، میلا، بھُرتا، سموسا، پیڑا، پسینا، تولیا، تانگا، ٹخنا، کمرا، جھروکا، بھوسا، توٹکا، ٹولا، چارا(جانوروں کی خوراک)، خاکا، چھاپا، دھاگا،راجا، زردا، ڈھکوسلا،کٹورا، کھاتا، کیمرا، گملا، گھونسلا، لاسا، مسالا، ملغوبا، ملیدا، ملبا، مورچا، مہینا،۔
۔۔۔۔۔
٭2)زبان خامہ کی چند عام خامیاں ازطالب الہاشمی۔۔۔۔
قائمقام؟ کچھ عرصہ سے ہمارے بعض صحافی دوست اپنی تحریروں میں ’’قائم مقام‘‘ کی جگہ ’’قائمقام‘‘ لکھ رہے ہیں۔ ایک ’’م‘‘ کو حذف کر دینا بِلا جواز ہے۔ ’’قائم مقام‘‘ ہی صحیح لفظ ہے۔ ناراضگی، حیرانگی، محتاجگی، درستگی وغیرہ؟ ناراضی، حیرانی، محتاجی اور درستی کی جگہ ناراضگی، حیرانگی، محتاجگی اور درستگی لکھنا اور بولنا فصاحت اور قاعدے کے خلاف ہے۔ فارسی قاعدہ یہ ہے کہ اگر اسمِ صفت کا آخری حرف ہ (ہا) نہ ہو تو حاصل مصدر بنانے کے لئے اس کے آخر میں ی (یا) لگاتے ہیں چنانچہ ناراض، حیران، محتاج، درست وغیرہ جتنے اسمائے صفات ’’ہ‘‘ پر ختم نہیں ہوتے ان کے حاصل مصدر ناراضی، حیرانی، محتاجی، درستی بنتے ہیں۔ صرف دو لفظ ’’ادا‘‘ اور ’’کرخت‘‘ اس قاعدے سے مستثنیٰ ہیں۔ ان کے حاصل مصدر کرختی اور ادائیگی کے بجائے کرختگی اور ادائیگی بنائے گئے ہیں ورنہ اصولاً جب کسی اِسم صفت کا آخری حرف ہ ہو تو ’’ہ‘‘ کی جگہ ’’گی‘‘ لگا کر اس کا حاصل مصدر بنایا جاتا ہے مثلاً عمدہ، شستہ، مردانہ، کمینہ، نمایندہ، فرزانہ، درندہ، زندہ، فریفتہ، وارفتہ، سنجیدہ کے حال مصدر عمدگی، شستگی، مردانگی، کمینگی، نمایندگی، فرزانگی، درندگی، زندگی، فریفتگی، وارفتگی، سنجیدگی ہوں گے۔ خوامخواہ؟ صحیح لفظ ’’خواہ مخواہ‘‘ جس کا مطلب ہے ’’چاہو یا نہ چاہو‘‘ ایسے موقع پر بولا جاتا ہے جب کوئی شخص کسی دوسرے کے معاملے میں بِلاجواز یا زبردستی دخل دے۔ معلوم نہیں بعض اہلِ قلم اپنی تحریروں میں ’’خواہ‘‘ کے بعد ’’ہ‘‘ کو کیوں خذف کر دیتے ہیں۔
۔۔۔۔۔
٭ غلط۔۔۔سمجھ نہیں آتی.۔۔۔ دوران ۔۔۔۔
درست ۔۔۔سمجھ میں نہیں آتی۔۔۔دوران میں ۔۔

۔۔۔۔۔
٭3)اصلاح زبان ۔۔ رُمُوزِ لُغَتْ از اردو ڈائجسٹ
غلط املا۔۔۔ صحیح املا
آذان۔۔۔ اذان
آسامی۔۔۔ اسامی
احتیاطً۔۔۔ احتیاطًا
استعفیٰ (غلط العام)۔۔۔ استعفا
اسلام علیکم۔۔۔ السَّلَامُ عَلَیکُم
اصلذر۔۔ اصل زر
اغلبًا۔۔۔ غالبًا
انہوں (غلط العام)۔۔۔ انھوں
انہیں (غلط العام) ۔۔۔انھیں
اوللعزم۔۔۔ اولوالعزم
اعلانیہ۔۔۔ علانیہ
اندازاً (اندازہ پر تنوین اندازے سے یاتخمینًا غلط ہے)۔
اوسطً (آخر میں تنوین اوسط غلط ہے)۔
برائے کرم۔۔۔ براہِ کرم
بدیہ گوئی۔۔۔ بدیہہ گوئی
بالمشافہ۔۔۔ بالمشافہہ
بھروسہ(غلط العام)۔۔۔ بھروسا
پایۂ تخت۔۔۔پائے تخت
پرواہ (آخر میں ہ غلط ہے)۔۔۔ پروا
پہیہ ۔۔۔پہیا
تشبیہہ۔۔۔ تشبیہ
تقاضہ۔۔۔ تقاضا
تنبیہہ۔۔۔ تنبیہ
توجیہہ۔۔۔ توجیہ
جائیداد۔۔۔ جائداد
چاق و چوبند۔۔۔ چاق چوبند
چوہدری۔۔۔ چودھری
حامی بھرنا۔۔۔ ہامی بھرنا
حیرانگی۔۔۔ حیرت۔ حیرانی
خوردو نوش۔۔۔ خورو نوش
درستگی۔۔۔ درستی
دولہا۔۔۔ دولھا
دونو۔۔۔دونوں
بچگانہ۔۔۔ (گ کے ساتھ غلط بچکانہ ہے)۔
برس ہابرس۔۔۔ برسہا برس سالہا سال
غلط املا۔۔۔ صحیح املا
بمع، ۔۔۔۔بمعہ مع
بے نیل و مَرام۔۔۔ بے نَیلِ مَرام یا بے نَیل و مَرام
پٹاخہ ۔۔۔پٹاخا
پشیمانگی۔۔۔ پشیمانی
پیسہ ۔۔۔پیسا
تماشہ۔۔۔ تماشا
تمہارا، تمہیں، ۔۔تمہارے تمھارا، تمھیں
۔(غلط العام) تمھارے
ٹانگہ۔۔۔ تانگہ
جنہوں،۔۔۔ جنہیں جنھوں، جنھیں
(غلط العام)
چولہا۔۔۔ چولھا
چیخ و پکار ۔۔۔چیخ پکار
حلوہ ۔۔۔حلوا
خورد ۔۔۔خُرد
دائم المریض دائم المرض یا دائمی مریض
دوکان دُکَان ۔۔۔ دُکَّان
دلہن۔۔۔ دلھن
دھوکہ (غلط العام)۔۔۔ دھوکا
دھیلہ۔۔۔دھیلا
ذخّار۔۔۔زخّار
رُجْحَان۔۔۔ رُجْحان
روئیداد۔۔۔ روداد
سہولیت۔۔۔ سہولت
شان گمان،سان گمان ۔۔۔سان و گمان
غرضیکہ ۔۔۔غرض کہ
فوتیدگی۔۔۔وفات، انتقال
فی الواقعہ۔۔۔فی الواقعی فی الواقع
غلط املا ۔۔۔صحیح املا
قمیض۔۔۔ قمیص
قریب المرگ (غلط العام) قریب الموت
کانٹ چھانٹ۔۔۔ کاٹ چھانٹ
کُرتہ۔۔۔ کُرتا
کمہار۔۔۔ کمھار
کوائف (غلط العام)۔۔۔ کیفیات
کلہاڑا، کلہاڑی۔۔۔ کلھاڑا، کلھاڑی
کلیجہ۔۔۔ کلیجا
گرم مصالح۔۔۔گرم مسالا
گذارہ۔۔۔گزارہ
گذرنا۔۔۔ گزرنا
دوئم۔۔ دوم
ذکریا۔۔ زَکَرِیَّا
زرا۔۔۔ ذرا
سوئم۔۔۔ سوم
طلاطم۔۔۔ تلاطم
عیدالضحیٰ عید الاضحیٰ، عید اضحیٰ
غیض و غضب۔۔۔ غیظ و غضب
فی البدیہ۔۔۔ فی البدیہہ
قہقہ۔۔۔ قہقہہ
کارکردگی۔۔۔ کار گزاری
کاروائی۔۔۔ کارروائی
کولہو ۔۔۔کولھو
کھنڈرات کھنڈر (واحد اور جمع دونوں کے لیے صحیح ہے)۔
گذارش ۔۔۔گزارش
گذر۔۔۔ گزر
گذشتہ ۔۔۔گزشتہ
غلط املا۔۔۔صحیح املا
لاپرواہ، لاپرواہی ۔۔۔بے پروا، لاپروائی
بے پرواہ، بے پرواہی۔۔۔ بے پروا، بے پروائی
مُتَوَفّیِ(بمعنی وفات پا مُتَوْفّیٰ جانے والا)۔
مکتبۂ فکر۔۔۔ مکتبِ فکر
مہینہ (غلط العام)۔۔۔ مہینا
ناطہ۔۔۔ ناتا
نقطہ چینی۔۔۔ نکتہ چینی
نگہت۔۔۔ نکہت
لاچار۔۔۔ ناچار
مجرب غذا۔۔۔ چرب غذا
محتاجگی ۔۔۔محتاجی
مُربَّہ (غلط العام)۔۔۔ مُرَبَّا یا مُرَبّٰی
محمد الرّسول اللّٰہ۔۔۔ محمد رسول اللّٰہ
مسمی (غلط العام)۔۔۔ مُسَمّٰی
مشکور شاکر یا ممنون
مُعِمَّہ۔۔۔ مُعَمّا
مُؤَقَّف ۔۔۔مَوْ قِف
ناراضگی۔۔۔ ناراضی
ناواقفی۔۔۔ ناواقفیت
نکتۂ نظر۔۔۔ نقطۂ نظر
وطیرہ ۔۔۔وتیرہ
تلفظ
غلط تلفظ۔۔۔ صحیح تلفظ
نَامَسَاعَد۔۔ نَا مُساعِد
نَذَر۔۔۔ نَذْر
غلط تلفظ۔۔۔ صحیح تلفظ
نَشَاۃِ ثانیہ۔۔ نشأۃِ ثانیہ
(نش اَتِ ثانیہ)
نُکات۔۔۔ نِکات
وَابِستہ۔۔۔ وَابَستہ
واضحہ۔۔ واضح
وَجْدَان وِجْدَان
وَزَارت ۔۔۔وِزَارَت
وَصُول ۔۔۔وُصُول
وِقَار ۔۔۔وَقار
وَقُوع۔ وَقُوعہ وُقُوع، وُقُوعہ‘
وَلادَت۔۔۔ وِلادَت
ویدَک۔۔۔ وَیدِک
ہَدَایت۔۔ ہِدَایت
ہَرَج۔۔۔ ہَرْج
ہِل چُل۔۔۔ ہَل چَل
ہَمہ شَمہ۔۔۔ ہَما شَما
یَبُوسَت یُبُوسَت
یکسانِیت ۔۔۔یکسانی
یُورَش۔۔۔ یُورِش
ناواقفی۔۔۔ ناواقفیت
نَزِاع۔۔۔ نِزِاع
نِفَاست۔۔۔ نَفَاسَت
نِمَاز۔۔۔ نَمَاز
وَاپِس۔۔۔ وَاپَس
واقعا۔۔۔ واقع
وُرْثَا۔۔۔ وُرَثَا
وُسَاطَت۔۔۔ وَسَاطَت
وَفَاق۔۔۔ وِفَاق
وُقْعَت۔۔۔ وَقْعَت
وقایا۔۔۔ وقائع
وَلایت۔۔۔ وِلایت
غلط تلفظ۔۔۔صحیح تلفظ
ہَجُوم۔۔۔ ہُجُوم
ہِراس۔۔۔ ہَراس
ہِلاک۔۔۔ہَلاک
ہَلَیلہ۔۔۔ہَلِیلہ
ہَمَیانی۔۔۔ ہِمَیانی
یَکَم۔۔۔ یَکُم
یُوسَف۔۔۔ یُوسُف
۔۔۔۔
نہیں کھیل اے داغ،یاروں سے کہہ دو"
"کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے
( مرزا داغ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ
(1831۔1905۔۔۔)
پھرے راہ سے وہ یہاں آتے آتے
 اجل مر رہی تو کہاں آتے آتے؟
ابھی سن ہی کیا ہے؟ جو بیتابیاں ہوں
 اُنہیں آئیں‌گی شوخیاں آتے آتے
نتیجہ نہ نکلا، تھکے سب پیامی
 وہاں جاتے جاتے یہاں آتے آتے
نہ جانا کہ دنیا سے جاتا ہے کوئی
 بہت دیر کی مہرباں آتے آتے
سنانے کے قابل جو تھی بات ان کو
 وہی رہ گئی درمیاں آتے آتے
مرے آشیاں کے تو تھے چار تنکے
 چمن اُڑ گیا آندھیاں آتے آتے
نہیں کھیل اے داغ ، یاروں سے کہہ دو
 کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے
۔۔۔۔۔۔
"اردو ہے جس کا نام"۔۔۔کالم از شاہنوازفاروقی
٭حصہ اول ۔19فروری 2017۔
٭حصہ دوم۔۔۔20فروری 2017