پیر, مارچ 30, 2015

"ماسکو کی سفید راتیں"

ماسکو کی سفید راتیں ۔۔۔۔ مستنصرحسین تارڑ
سفر۔۔۔۔ مئی۔1957 ۔۔۔ مئی 2007
اشاعت ۔۔۔۔۔2009
" لنڈن سے ماسکو تک "
زندگی کی پہلی ادبی تحریر۔۔۔۔
سفر۔۔ مئی1957
ماسکو آمد ۔۔۔نوجوانوں کا بین الاقوامی میلہ(یوتھ فیسٹیول)۔
برطانوی وفد کے ایک پاکستانی ممبر کی حیثیت سے
سال ِ اشاعت۔۔1958
چار اقساط میں شائع کیا گیا ۔۔۔۔ ہفتہ وار "قندیل"
صفحہ 8۔۔۔
میں تب آیا تھا1957ءمیں اور پھراب جاکر آیا تھا 2007ءمیں,محض پچاس برس بعد ...
1957برطانیہ میں پہلی عیدالفطر۔۔

















ریڈ اسکوائر۔۔۔۔ماسکو۔2007
ریڈ اسکوائر۔۔۔۔ماسکو۔2007
صفحہ 12۔۔۔
ویسے مجھے ان تغّیرات زمانہ سے کیا لینا دینا۔۔۔ کہ ثبات بھی تو صرف تغیّر کو ہے۔۔۔مجھےتب جب میں نے اپنی زندگی کی پہلی ادبی تحریر لکھی۔۔۔۔اور اسے آج سے نصف صدی پیشتر "لنڈن سے ماسکوتک" کا عنوان دیا تو ایک ترقی پسند دوست نے مشورہ دیا کہ تم اس کا نام "میں نے لینن کا روس دیکھا" قسم کا رکھو تو میں نے کہا تھا۔۔اور دوست جس کا نام غالباً آزاد تھا کہ آزاد ملک تو ہمیشہ اپنی ثقافت ،روایات اور زبان سے پہچانے جاتے ہیں۔اُنہیں کسی ایک شخصیت یا عقیدے کے حوالے سے ہرگز نہیں دیکھا جا سکتا۔آج وہ لینن کا روس ہے کل جانے کس کا ہوگا۔۔آزاد نے مجھے یقیناً فاترالعقل جانا ہوگا کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ روس کبھی لینن کا نہ رہے۔۔۔
ایک عام انسان کا تو ذکر ہی کیا۔۔ملک اور سرزمینیں تو پیغمبروں کے حوالے سے بھی دائمی پہچان نہ بن سکے۔۔۔
صفحہ 30۔۔
بہت بعد میں میں نے اس سفر کے تجربات کو بنیاد بنا کر اپنا ناولٹ"فاختہ" تحریر کیا۔جس کے کرداروں میں وہ تین نقاب پوش لڑکیاں بھی تھیں جو جشن کی رات میں مجھے سُرخ چوک میں ملی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔" اٹھارہ سالہ نوجوان کی اپنے دوست ( جو یقیناً عمر میں اس سے بڑا تھا بقول تارڑ۔۔۔۔۔" ایک کٹر کمیونسٹ ۔۔۔ یہ سب انقلاب کے ڈسے ہوئے لوگ تھے۔۔۔اور میں ان سب میں سے کم عمر تھا۔ صفحہ 21 ) سے گفتگو اور اپنی سوچ پر یقین کی یہ کیفیت پڑھنے والے کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے ۔۔۔۔۔
کون کہتا ہے کہ وقت کے ساتھ اور عمر کے بڑھنے سے ہی انسان کی سوچ پختہ یعنی میچور ہوتی ہے؟؟؟ ایسا کبھی بھی نہیں۔ ایسا ہرگز ہرگز نہیں ۔ صرف اپنے فرسودہ اور ہٹ دھرم اعتقادات پر رہنے والے ہمیشہ سوچ کی اولین چمک کی روشنی سے محروم رہتے ہیں۔ نورین تبسم
صفحہ 242۔۔۔
میری زندگی میں ایک خواب ہے،اِک چراغ ہے اور تم ہو۔
ہر شخص کی حیات میں کم از کم ایک خواب ضرور ہوتا ہے،ایک چراغ بھی ہوتا ہے۔لیکن یہ طے نہیں ہے کہ ایک "تم" بھی ہو۔
صفحہ 253۔۔۔
ستائیسواں باب ۔۔۔"آئرینا اور صدائے روس" کے لیے ایک انٹرویو
میزبان:آئرینا مسکیم انکو 


 صفحہ 255۔۔۔۔
آئرینا کی اردو بہت نفیس اور بےجھجھک تھی اور ان کے کچھ سوال ایسے تھے جن کی میں توقع نہ کر سکتا تھا۔"صدائے روس" کے لیے یہ انٹرویو صرف اس لیے یادگار تھا کہ میں اس دوران آئرینا کی شفاف اُردو سے بےحد لُطف اندوز ہوا۔۔
۔ "آپ دوبارہ کب آئیں گے۔۔۔؟"۔
انہوں نے رُخصت ہوتے ہوئے مجھے چاکلیٹ کا ایک ڈبہ تحفے کے طور پر عنایت کرتے ہوئے پوچھا۔۔
۔" آئرینا۔۔ میں آج سے پچاس برس پیشتر آپ کے شہر آیا تھا اور اس کے بعد اب آیا ہوں تو اسی شیڈول کے مطابق آج سے پچاس برس بعد جب میں ایک سواٹھارہ برس کا ہوچکا ہوں گا'تو پھر آؤں گا ۔۔انشاءاللہ اور مجھے اُمید ہے کہ آپ تب بھی میرا انٹرویو ریکارڈ کرنے آئیں گی اور اتنی ہی خوشگوار اور خوبصورت ہوں گی "۔۔
صفحہ 266۔۔۔
میراایک ذاتی مشاہدہ ہے کہ کچھ لوگ ۔۔۔ادب کے ساتھ۔۔نثر یا شاعری کے ساتھ۔۔ کسی ذاتی منفعت کے باعث نہیں بلکہ محض دیوانگی کے باعث۔۔ شدید طور پر جُڑے ہوتے ہیں۔کسی ایک لکھنے والے کے ساتھ ایسے جُڑ جاتے ہیں کہ وہ پوری حیات اُس کی تحریروں کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔۔اپنی زندگی اُن کے ساتھ بسرکر دیتے ہیں اور یوں وہ کچھ کچھ اُس تخلیق کار کی طرح ہو جاتے ہیں۔۔اسی سانچے میں ڈھل جاتے ہیں۔
ٹالسٹائی کے لیے اپنےآپ کو وقف کرنے والے کسی حد تک اُس کی مانند کی زندگی اختیارکرتے ویسے ہی بولنے اور چلنے لگتے ہیں۔
شکسپئیر کے مداح اُس کا لب ولہجہ اور اظہار اختیار کر لیتے ہیں۔بہت نچلی سطح پر جو لوگ ارنسٹ ہیمنگوے سے متاثر ہوتے ہیں وہ اُس کے مشغلے،آوارہ گردی،شکار اور شراب کو اختیار کرلیتے ہیں ۔۔۔۔
تو اِسی طور لُڈمیلا نے بھی فیض صاحب کو اختیار کر لیا تھا۔۔۔اُن کے شعروں میں سانس لیتی اُن میں ڈھل کر کچھ فیض ہو گئی تھی۔۔
اور ۔۔۔لِیو ٹالسٹائی۔۔۔۔
صفحہ 275 تا صفحۂ آخر336
صفحہ 275۔۔۔
مرنے والوں کو کچھ فرق نہیں پڑتا کہ اُن کی قبر پر ایک تاج محل تعمیر ہوتا ہے۔۔۔یا وہ بارشوں میں دھنس کر ایک گڑھا بن جاتی ہےاور اُس میں کیڑے مکوڑے رینگتے ہیں اور یا اُس سے ٹیک لگا کر سائیں لوگ چرس کے سُوٹے لگاتے ہیں۔
بس یہ ہے کہ ییچھے رہ جانے والوں کو فرق پڑتا ہے۔
صفحہ 276۔۔۔۔
صفحہ 281۔۔۔
جس روز آپ نے کوئی عجوبۂ روزگار آثار دیکھنے ہوں ،یا کسی عشقِ خاص سے ملاقات کرنی ہو۔۔ایک ایسے چہرے کو دیکھنا ہو جسے دیکھ کر بھی یقین نہیں آتا کہ آپ اُسے دیکھ رہے ہیں تو اس روز صبح سویرے آپ کی کیفیت ہی جدا ہوتی ہے،خون کی گردش میں ایک سمفنی سی بجنے لگتی ہے اور آپ کے سامنے ایک شگوفہ آ گرتا ہے اور اُس خوشی کا تعلق چار مرغابیوں سے ہرگز نہیں ہوتا۔
صفحہ 302۔۔۔
میں نے کسی انٹرویوکے دوران کہا تھا کہ زندگی میں سب سے زیادہ وفا میرے ساتھ میری سٹڈی ٹیبل اور میرے قلم نے کی۔۔۔میرے ہر ہیجان،ہر دھندلے خیال کو۔۔۔مسرت اور سوگواری کواور لمحۂ موجود کو اور بیتے ہوئے زمانوں کو۔۔۔انہوں نے زبان دی۔۔۔جو بھی لکھنا چاہا ان دونوں نے ہمیشہ مجھ سے وفا کی۔۔
۔(جناب مستنصر حسین تارڑ کی سٹڈی ٹیبل جو کم وبیش 80 سال پرانی ہے۔ یہ میز کم از کم پچھلے 45 سال سے تارڑ صاحب کے استعمال میں ہے)۔۔۔
صفحہ 332۔۔۔
جن لوگوں کو کشف ہوتا ہے وہ اُس لمحے کو اپنی حیات کے تمام لمحوں پر فوقیت دیتے ہیں۔روس میں بسر کیے جانے والے پندرہ دنوں میں سے یہ ایک لمحہ بھیگتی ہوئی جنگلی ہریاول میں تنہائی کا ٹالسٹائی کی قربت میں وہ لمحہ تھا جو میرے لیے بھی ایک کشف کی مانند تمام لمحوں پر حاوی ہو گیا تھا۔
صفحہ 333۔۔۔
میں جب بھی "وار اینڈ پیس" کو کھولتا ہوں تو جامنی اور زرد پتیاں ناول کے حرفوں سے چپکی ہوتی ہیں۔۔حرفوں سے اُن کی شناسائی ہوگئی ہے کہ اُنہیں اس شخص نے تخلیق کیا تھا،جس کی قبر کی مٹی سے ہم نے جنم لیا تھا۔۔۔ میں اُنہیں دیکھ کر پھر سےاُس انہونی فہم سے باہر تنہائی میں چلا جاتا ہوں جہاں کوئی اور جہان ہے اور اُس میں جنگل خاموش ہے اور مٹی میں مٹی 
ہوتی ایک لمبی سفید ریش ہے اور میں بارش میں بھیگ رہا ہوں۔
صفحہ 336۔۔۔۔
آخری صفحہ ۔۔۔ آخری جملہ۔۔۔۔
اس پرائے نگر میں ہمارے دن پورے ہو گئے تھے۔۔
ہمیں ہمارے شجر بلاتے تھے۔۔
ماسکو کی سفید راتیں ۔۔پڑھنے کے بعد میرا احساس۔۔۔۔
"ماسکو کی سفید راتیں" اتنی اجلی اور مکمل نہ لگتیں اگر ان میں میمونہ تارڑ کا لمس اور لہجے کی کھنک نہ ملتی اور اگر فاضل مصنف کواس کتاب کے آخری صفحات میں "لیوٹالسٹائی" کی قربت نہ ہوتی توشاید لفظ کی جانب سفرِمحبت کا حق ادا نہ ہوتا۔
۔"ماسکو کی سفید راتیں" کی جان اس کے آخری صفحات۔۔۔ آخری باب۔۔۔"لیوٹالسٹائی" ہے جس میں زندگی اور موت کی خوشبوایسی رچی بسی ملتی ہے کہ پڑھنے والا زندگی اور موت کے رومانس میں کھو کر قبر کی کچی مٹی کی مہک میں بےخود سا ہو کر رہ جاتا ہے۔ از نورین تبسم )۔
مستنصر حسین تارڑ کے فیس بک آفیشل صفحے سے۔۔۔۔۔
Leo Tolstoy (September 9, 1828 – November 20, 1910)..

The scion of prominent aristocrats, 
Tolstoy was born in Yasnaya Polyana, the family estate in the Tula region of Russia. The Tolstoys were a well-known family of old Russian nobility.Tolstoy was born,about 130 miles (210 kilometers) south of Moscow, where he was to live the better part of his life and write his most important works
His teachers described him as "both unable and unwilling to learn.] Tolstoy left university in the middle of his studies.
His two most famous works, the novels War and Peace and Anna Karenina, are acknowledged as two of the greatest novels of all time and a pinnacle of realist fiction. Many consider Tolstoy to have been one of the world's greatest novelists.
In January of 1903, as he writes in his diary, Tolstoy still struggled with his identity: where he had come from and who he had become;
I am now suffering the torments of hell: I am calling to mind all the infamies of my former life—these reminiscences do not pass away and they poison my existence. Generally people regret that the individuality does not retain memory after death. What a happiness that it does not! What an anguish it would be if I remembered in this life all the evil, all that is painful to the conscience, committed by me in a previous life….What a happiness that reminiscences disappear with death and that there only remains consciousness..
The Tolstoy House was a bustling household, often with extended family members and friends visiting for dinner or staying for days at a time. The children and adults played, the piano, put on plays, sang Russia and Gypsy folk songs and read stories and poetry aloud. ..
Tolstoy died in 1910, at the age of 82. He died of pneumonia at Astapovo train station, after falling ill when he left home in the middle of winter. His death came only days after gathering the nerve to abandon his family and wealth and take up the path of a wandering ascetic.
Leo Tolstoy۔۔۔۔
٭All happy families resemble one another, each unhappy family is unhappy in its own way...
"Anna Karenina" opening line
٭Even in the valley of the shadow of death, two and two do not make six.
٭Boredom: the desire for desires.two do not make six.
٭Everyone thinks of changing the world, but no one thinks of changing himself.


The Wooden Grill was made by him.


His Signatures

2 تبصرے:

  1. صدائے روس کی آواز دوست۔۔۔کالم مستنصرحسین تارڑ
    30دسمبر 2012
    http://www.dunyaurdu.com/2012/12/30/sadaye-russia-ki-awaz-dost-mustansar-hussain-tarar/

    جواب دیںحذف کریں
  2. اور نورین نے " مضمون مستنصر حسین تارڑ " پر اپنا مکالہ مکمل کر لیا ہے ،، پڑھنے والے پر ہے کہ اسے ایم اے ،،یا ،، ایم فِل ،،،یا ،،، پی ایچ ڈی کی ڈگری دیتا ہے یا،،، صرف "عقیدت و محبت " کا ہار پہناتا ہے !

    جواب دیںحذف کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...