صفحہِ اول

جمعرات, مئی 02, 2013

" نادان یا انجان "

" نادان یا انجان "
عورت اصلی پھول کی طرح ہے نرم ونازک ،خوشبودار اور رنگین - جو اپنی چند روزہ زندگی میں مالا مال کر دیتا ہے۔اپنےہونے کا ثبوت اپنے وجود میں رقم کرتا،چہار سُو خوشبو بکھیرتا ،احساس جگاتا ہے۔
لمس سے ان جان کہ کوئی کس طور برتے۔شہد کی مکھی کی طرح اُس کا عرق نکال کر طول وعرض میں پھیلا دے یا زردانوں کی صورت اُس کے وجود کے کلون بنا کر نسلیں آباد کرے یا طُوفان ِباد وباراں اُسے کِھلنے سے پہلے ہی اُجاڑ ڈالے۔ زمانے کی تپش کُمہلا کر اُس کا رس نچوڑ دے، کسی شاطرکی عیاری  یا بےخبر کی معصومیت اُسے مٹھی میں لے کر مسل ڈالے۔
سب سے بےنیاز پھول کا صرف ایک کام ہے کھِلنا اور بےپروا کھِلنا۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتا کہ پھولوں کی سیج منتظر ہے یا تازہ قبراُس کے لمس کی متلاشی؟کسی کی کلائی کا گجرا ہے یا جوڑے کا پھول؟ محبت کا پہلا تحفہ ہے یا عقیدت کا آخری نذرانہ؟پتیوں کی صورت اُس کا وجود ریزہ ریزہ کر کے پہلے تھالی میں سجا کر پھر قدموں تلے روندا جائے گا یا پھر محبت کی یاد کی صورت کسی پُرانی ڈائری کے اوراق میں محفوظ کر لیا جائے گا؟۔
المیہ ہے تو فقط یہ کہ عورت کو اپنے مقام اپنی اہلیت اور اپنی وسعت کا احساس نہیں۔اُس کے خیال میں چند روزہ زندگی اُس کے وجود کاحق ادا نہیں کر سکتی وہ امر ہونا چاہتی ہے محفوظ ہونا چاہتی ہے بلاؤں سے وباؤں سے۔ وہ زندگی کے میوزیم میں حنوط ہو کر 'ممی' کی طرح زمانوں کی قید سے آزاد زندگی کی تمنائی ہے۔اُس کے اندر کا تخلیقی جوہر اُسے بےکل رکھتا ہے وہ اپنی کائنات کے ہر گوشے میں اپنی خوشبو کا یقین چاہتی ہے۔اپنے رس کی پہچان کرانے کی ہوس نے اُسے بھکاری بنا دیا ہے وہ گلی گلی خوبصورت پیکنگ میں عام سودا بیچنے والی سیلز گرلز کی طرح صدا لگاتی ہے۔۔۔تلاش ِمعاش میں سرگرداں یہ کم نصیب جو تپتی دوپہروں میں دروازے کھٹکھٹاتی ہیں اوراکثر اوقات بےتوجہی سے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں یا پھر بدقسمتی سے تماش بین راستہ روک لیتے ہیں۔
مانتی ہوں عورت خوشبو ہے اور خوشبو کبھی قید نہیں ہو سکی اور وہ ہرایک کے لیے یکساں ہے لیکن کم از کم خوشبو کو خود تو احساس ہو جائے کہ وہ کیا ہے۔آج کل کی عورت خوشبو کے احساس سے ماورا ہارسنگھار کے دوسرے لوازمات سے آراستہ ہو کر شمع محفل بن کر قدم بہ قدم سفر طے کرنا چاہتی ہے۔نہیں جانتی کہ یہ راستہ دُشوار گُزاربھی ہے اور پتھریلا بھی جو سب سے پہلے اُس کی تازگی کا خراج مانگتا ہے اورنازکی کا رس چاہتا ہے اور پھول میں سے تازگی اور نازکی ختم ہو جائےتو فقط کاغذی وجود بچتا ہےجس کو سنوار کر ایک خوبصورت گلدستے کی صورت قیمتی گلدان میں سجا کر نظروں کو مسحور تو کیا جا سکتا ہے لیکن دلوں کو مُسخر نہیں کیا جاسکتا۔
آخری بات!
" اپنے آپ کو بُھلا کرہی اپنے وجود کا احساس دلایا جا سکتا ہے۔ یہی عورت کا اصل امتحان بھی ہے کہ وہ کس طرح اپنے آپ کی نفی کرکے اپنی شناخت برقرار رکھتی ہے اور یہی اُس کی سچائی کی گواہی بھی جو نہ صرف دیکھنے والی آنکھ کو نظر آتی ہے بلکہ
 خود اس کی ذات بھی تکمیل کی وہ منازل طے کرتی ہے جب ہار بھی جیت بن جاتی ہے"۔

1 تبصرہ :