صفحہِ اول

اتوار, مئی 26, 2013

" اجنبی دوست "

وہ ایک پیارا بچہ تھا اپنی زندگی کے کھٹے میٹھے رنگوں سے کھیلتا۔۔۔ زمانے کے سرد وگرم سے آشنا -ایک دن گھومتے پھرتے ان جانے میں ایک خواب لڑکی  کے دروازے پر دستک دے بیٹھا۔نہ اُسے  اجازت ملی اور نہ یہ اُس کی راہ تھی۔ بس اچانک چُپکے سے اُس کی زندگی کے میوزیم میں داخل ہو گیا۔ یہ ایک اور ہی دُنیا تھی ایک اور جہان جو اُس کی نگاہوں نے کبھی نہ دیکھا تھا وہ حیرت زدہ کھو جانے کے خوف سے اُس کا پلو تھامے آگے بڑھنا چاہتا تھا-
دیوار پرٹنگی تصویریں کھوجنے کا تمنائی۔۔۔اُس کے سفرکو جاننے کی جُستجو لیے وہ ضدّی بچہ اپنا آپ بھول گیا۔۔۔ کبھی روتا کبھی ہنستا۔۔ بس وہیں ٹھہرگیا اُس کے ہمراہ- ذرا سا وقت مانگتا لیکن اُس کے پاس وقت نہ تھا۔۔۔ وہ ایک اچھے میزبان کی طرح خوش آمدید تو بڑے تپاک سے کہتی اور پھر مہمان کوکہیں بٹھا کربھول جاتی-
 وہ جان کر بھی جاننا نہیں چاہتی تھی کہ وجود کا لمس،اُس کی موجودگی کا احساس ذات کے یقین سے زیادہ ضروری ہوتا ہے۔آنکھوں میں حیرانی لیےسوال پوچھتا توبچہ کہہ کر ڈانٹ دیتی ۔۔۔کہتا میں بچہ نہیں ہوں سب جانتا ہوں۔۔۔اُس کا بےساختہ پن یوں لگتا جیسے چھوٹے بچے بڑا سا جوتا پہن کر چلنے کی کوشش کرتے ہیں-
 وہ جانتی تھی اس کے اندر ایک بےچین  روح ہے۔۔۔وقت کی گردش نے جس کا بچپن چُرا کرایک دم بڑا کر دیا ہے- وہ  اُسے بتانا نہیں چاہتی تھی کہ اُس میوزیم میں تصویریں دیکھنے کے لیے دوسروں کی نظر میں اُس کا قد بہت چھوٹا تھا اوروہ  کسی  کی نظروں سے نہ صرف  اپنا آپ بلکہ اُسے بھی بچانا چاہتی-رفتہ رفتہ جب اُس نے لاتعلقی دیکھی تو ضدّی بچے سے ایک فرماں بردار بچہ بن گیا اب چُپ چاپ ایک کونے میں بیٹھا رہتا کچھ بتا دیتی تو سُُن لیتا۔۔۔
دل کی بات کہتی تو جان لیتا- کبھی جب اُس کا خیال رکھتا۔۔۔ اُسے محسوس کرتا۔۔۔ تو بڑا بڑا سا لگتا - اپنے لفظوں کی نرماہٹ سے اُس کے جسم کی تھکن دُور کردیتا -ایک جہاں دیدہ دوست کی طرح زمانے کے ہمراہ چلنا سکھاتا۔
وہ  کبھی سُنتی کبھی سوچ میں پڑ جاتی کہ وہ جو ایک بچہ تھا چھوٹا سا۔۔۔ کیسے اورکیوں زندگی میں شامل ہو رہا ہے۔۔۔اُس زندگی میں جو ہر طرح سے مکمل  ہے۔یہ زندگی گلاب کے پھول کی مانند تھی جس کو کسی شے کی طلب نہیں ہوتی ۔۔۔ جو ہر لمس  کی چاہ سے بےپروا۔۔۔ بس آنے والے وقت کا منتظر ہوتا ہے کہ کب وقت کی آندھی آئے اور کہانی ختم ہو جائے۔
 وہ بچہ دھیرےدھیرے اُس کے وجود میں سرایت کر رہا تھا۔۔۔آنکھ کا آنسو بن رہا تھا ۔۔۔نہیں جانتا تھا کہ آنسو درد کی کوکھ سے جنم لیتا ہے چاہے خوشی کا ہو یا غم کا۔ وہ اُس سے بھاگتی ۔۔۔ نہیں چاہتی تھی وہ اُس کے اندر کا اندر جان لے۔۔۔ اُس دنیا تک رسائی اس کی منزل نہیں تھی جو بس ختم ہونے والی تھی۔۔۔ ابھی تو نئی منزلیں نئے کارواں اُس کے لیے سر ِراہ تھے۔۔۔ لیکن وہ نادان ضدّی بچہ نہ جانے کیوں ٹھہرنا چاہتا تھا۔۔۔ سمجھنا چاہتا تھا۔۔۔ میوزیم میں لگی اُن تصویروں کو جن کے رنگ اُس کو بہت اپنے اپنے سے لگے تھے۔
 اُسے کیسے بتاتی تصویریں  رنگوں سے بڑھ کر لکیروں کا کھیل ہوا کرتی ہیں اورلکیریں وقت گزرنے سے ہی سمجھ آتی ہیں۔زندگی کہانی ورق ورق پڑھو توسفر طے ہوتا ہے۔ اگر آغاز میں ہی انجام پر نظر پڑ گئی تو سفر تھکاوٹ میں بدل جایا کرتا ہے۔ وہ اُسے تھکاوٹ سے بچانا چاہتی تھی ۔۔۔ اُس کی تازگی چلتے رہنے میں تھی ۔۔۔ قہقہوں میں تھی ۔۔۔ مُسکراہٹوں میں تھی تو اُسے اپنے آنسو کیسے دے  دیتی -
 حرف ِآخر!
زندگی کی تصویر پرزم کی طرح ان گنت رنگ اپنے اندر رکھتی ہے۔ ہماری آنکھ جس پل جس سفر پر ہو وہی رنگ کھوجتی ہے۔

کوئی تبصرے نہیں :

ایک تبصرہ شائع کریں