جمعہ, دسمبر 27, 2013

"بےنظیربھٹو"



عورت صرف عورت ہے
چاہے 'ملال' میں ہو یا 'عافیت' میں
کون جانے کہ ناموں کا یہ کیسا اُلٹ پھیر ہے 
اس کی قسمت ایک سی ہے
یہ پھولوں کے ہار، یہ لو ہے کی زنجیریں
یا پھر خون کی لکیریں
سب نظر کا کھیل ہے
عورت ہمیشہ سے زنداں میں ہے
اور بےنظیر ہے

 ۔"سیاق وسباق" سے واقفیت رکھتے ہوئے بھی ہم نہیں جانتے کہ بےنظیر کیا تھی؟ اور کیوں تھی؟اس بحث سے قطع نظر بس ایک بات جانتے ہیں کہ وہ "بےنظیر" تھی۔جس نے اپنی مختصر زندگی میں آنے والے ہر "مرد" کا سامنا سر اٹھا کر کیا لیکن صرف ایک صرف ایک مرد سے اس کی زندگی شکست کھا گئی۔۔۔اب کون جانے کہ وہ "نامعلوم ٹارگٹ کلر "واقعی نامعلوم ہی تھا ؟
دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

 ۔ 27 دسمبر  2007 کی شام بےنظیر بھٹوکے  قتل اور پھر اس کے بعد جب سے اس کا خون رائیگاں گیااور قاتل کا بھی پتہ نہیں چلا،اس بات نےمعاشرے میں  عورت ذات کی قدروقیمت پر سوال اُٹھاتے ہوئے  اندر سے ہلا کر رکھ دیا ،کہ عورت چاہے کسی بھی مقام پر پہنچ جائے۔ اس کی شنوائی نہیں۔ اور اپنے ہی سب سے زیادہ دکھ دیتے ہیں غیر تو بہت بعد میں آتے ہیں۔
 بےنظیر کے سیاسی کردار کی سیاسی بحث سے دور رہتے ہوئے بےنظیر کو جس بےدردی سے قتل کیا گیا اورایک عشرہ گزر جانے کے بعد بھی قاتلوں کا نام ونشان نہیں۔ یہ ہم عام عوام سے بڑھ کر اس کے بااثر اہلِ خانہ کے منہ پرایک طمانچہ ہے جسے وہ بڑے فخر سے اپنے گالوں کی لالی قرار دیتے ہیں۔بےنظیر کتنی بھی بری سہی، ہمارے سیاست دانوں کی طرح دونمبر سہی ،بری عورت بھی سہی لیکن وہ ایک ماں تھی مکمل ماں جس کے بچے اس کی جان اورزندگی کے ہر محاذ پر ہمیشہ اوّلیت رہے۔شدید دُکھ اور افسوس اس بات کا  توہے کہ بچوں نے  اپنی ماں کو بھلا دیا  پر  غم وغصہ یہ بھی ہے کہ  ماضی سے حال تک ایوانِ اقتدار کی غلام گردشوں میں  اختیار کی  طاقت رکھنے کے باوجود اپنے حال میں اس کے
خون  کی قیمت پر اپنے مستقبل کی بنیاد رکھنے کی جستجو میں ہیں۔کاش  کوئی ان  کے کان میں سرگوشی کر سکے کہ  قبریں ہوں یا مزار ان پر محل  تو کیا معمولی جھونپڑا بھی تعمیر نہیں کیا جا سکتا اور قبریں بھی  قطاردرقطار  جن سےعبرت کا لہو رِس رہا ہوں اور جن کی مٹی مکافاتِ عمل کے نوحے پڑھتی ہے۔
میں بےنظیر کو نہیں جانتی لیکن بس اتنا ضرور جانتی ہوں کہ وہ ایک "مکمل" ماں تھی۔
بےنظیر دنیا کے اسٹیج پر اپنا کردار ادا کر کے رخصت ہو چکی ، اب اس کی زندگی کہانی کی جھلکیاں ہمیں اس طرح کی ویڈیوز کی صورت جب کبھی نظر آتی ہیں توحیرت بھی ہوتی ہے کہ بطور انسان 54  سال کی عمر میں جہاں اس کے بہت سے متنازعہ رخ سامنے آئے تو 20 سال سے کم عرصے میں نبھایا جانے والا "ماں" کا چہرہ سب پر حاوی دکھائی دیتا ہے۔ بس اسی تناظر میں "مکمل ماں " لکھ دیا ورنہ مکمل تو صرف اللہ کی ذات ہے ہم تو کوشش کر کے بھی ادھورے رہتے ہیں اور اسی طرح گزر جاتے ہیں۔
ایک ماں  اپنے بچوں کے ساتھ  ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
سید ولی محمد نظیر اکبر آبادی​(1739۔1830)۔
ٹک حرص و ہوا کو چھوڑ میاں،مت دیس بدیس پھر مارا​
قزاق اجل کا لوٹے ہے دن رات بجا کر نقارا​
کیا بدھیا بھینسا بیل شترکیا کوئی پلا سر بھارا​
کیا گیہوں چاول موٹھ مٹر،کیا آگ دھواں کیا انگارا​
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا​
کچھ کام نہ آوے گا تیرے، یہ لعل زمرد سیم و زر​
جو پونجی بات میں بکھرے گی پھر آن بنے جاں اوپر​
نقارے نوبت بان نشان دولت حشمت فوجیں لشکر​
کیا مسند تکیہ ملک مکاں کیا چوکی کرسی تخت چھپر​
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا​
ہر آن نفع اور ٹوٹے میں کیوں کیوں مرتا پھرتا ہے بن بن​
ٹک غافل دل میں سوچ ذراہے ساتھ لگا تیرے دشمن​
کیا لونڈی باندی دائی  دوا کیا بند چیلا نیک چلن​
کیا مندر مسجد تال کنویں کیا گھاٹ سرا کیا باغ چمن​
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا​
جب مرگ بنا کر چابک کو یہ بیل بدن کا ہانکے گا​
کوئی ناج سمیٹے گا تیرا کوئی گون سینے اورٹانکے گا​
ہو ڈھیر اکیلا جنگل میں تو ءاک لحد کی پھانکے گا​
اس جنگل میں پھر آہ نظیر اک بھنگا آن نہ جھانکے گا​
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا​
​۔۔۔​

9 تبصرے:

  1. آپ کی تحاریر میں اتنی تلخی اور مایوسی کیوں ہوتی ہے۔
    فنا کے قانون سے کسی کو بھی استثنا نہیں۔ ہر کسی کو جانا ہے جلد یا بدیر ۔۔۔
    ایک سرائے میں بیٹھ کر مسافروں کا غم کرنا کوئی دانشمندی نہیں۔۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات

    1. تلخی ضرور ہے لیکن مایوسی نہیں بالکل بھی نہیں۔ اور دنیا کو سمجھ کر گزارنے،غور کرنے کا حکم بھی ہے۔ مسافروں کا غم نہیں بلکہ بےحسی کا غم ہے کہ ہم سب نے اسی راستے سے گزرنا ہے پھر کیوں ہم کسی کے لیے کانٹے بچھائے جاتے ہیں۔

      حذف کریں
  2. یعنی کہ اب کہیں خون خرابا پھیلا ہو تو بندہ پانی ڈال کر وائپر بھی نہ مارے؟
    اس سے تو محول میں اور پلوشن پھیلے گی۔
    خوامخاہ لوگ الٹیاں کرتے پھریں گے۔

    عورت ذات کے "دکھوں" کے بارے آپ کی سوچ محض یک طرفہ ہے۔ کبھی آدمی کی جگہ لے کر سوچیں تو عین ممکن ہے کہ آپ کی رائے بدل جائے۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. بےنظیر کے حادثے اور پھر اس کے بعد جب سے اس کا خون رائیگاں گیااور قاتل کا بھی پتہ نہیں چلا۔ اس نے مجھے اندر سے ہلا کر رکھ دیا ، کہ عورت چاہے کسی بھی مقام پر پہنچ جائے۔ اس کی شنوائی نہیں۔ اور اپنے ہی سب سے زیادہ دکھ دیتے ہیں غیر تو بہت بعد میں آتے ہیں

      حذف کریں
  3. دکھ لباس کی طرح ہوتے ہیں سوچ کا تن ڈھانپتے ہیں ، اس میں مرد عورت کی کوئی تخصیص نہیں آپ کا شکوہ بجا ہے اور جائز بھی لیکن میں عورت ہونے کی وجہ سے اپنے حصار سے باہر ہی نہیں نکل پا رہی۔ جانتی ہوں۔۔ مرد کے دکھ خاموشی کی کوکھ میں جنم لیتے ہیں اور اندر ہی اندر سرایت کر جاتے ہیں ۔ عورت کے آنسو ہر طرف شور کرتے ہیں اور مرد کی مردانگی اسے کبھی اجازت نہیں دیتی کہ وہ کھل کر اپنے دل کی بات کہہ سکے۔ میں آپ کے ساتھ ہوں ۔لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ مردوں کی دنیا ہے۔ عورت خواہ کتنی بھی بغاوت کرے آخر میں جھکنا اس کا مقدر ہے۔ اگر ہنسی خوشی اس بات کو تسلیم کر لے تو نہ صرف خود سکون سے رہتی ہے بلکہ دوسرے کے لیے بھی سکون کا باعث بنتی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. 27 دسمبر 2015
    "سیاق وسباق" سے واقفیت رکھتے ہوئے بھی ہم نہیں جانتے کہ بےنظیر کیا تھی؟ اور کیوں تھی؟اس بحث سے قطع نظر بس ایک بات جانتے ہیں کہ وہ "بےنظیر" تھی۔جس نے اپنی مختصر زندگی میں آنے والے ہر "مرد" کا سامنا سر اٹھا کر کیا لیکن صرف ایک مرد سے اس کی زندگی شکست کھا گئی۔۔۔۔۔اب کون جانے کہ وہ نامعلوم ٹارگٹ کلز واقعی نامعلوم ہی تھا ؟
    بےنظیر کی دہائی۔۔۔
    دیکھا جو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف
    اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
    بےنظیر کے سیاسی کردار کی سیاسی بحث سے دور رہتے ہوئے بےنظیر کو جس بےدردی سے قتل کیا گیا اورآج آٹھ سال بعد بھی قاتلوں کا نام ونشان نہیں۔ یہ ہم عام عوام سے بڑھ کر اس کے باثر اہلِ خانہ کے منہ پرایک طمانچہ ہے جسے وہ بڑے فخر سے اپنے گالوں کی لالی قرار دیتے ہیں۔بےنظیر کتنی بھی بری سہی، ہمارے سیاست دانوں کی طرح دونمبر سہی ،بری عورت بھی سہی لیکن وہ ایک ماں تھی مکمل ماں جس کے بچے اس کی جان اور اولیت تھے ہمیشہ سے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ بچوں نے بھی اپنی ماں کو بھلا دیا اور اس کا خون کیش کراتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. Unfortunately, koon e mard hazraat bhi is zimn mein arzaan hi raha hein..... Liaqat Ali Khan, Zia Ul Haq, Asif Nawaz, etc...

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. درست فرمایا جناب۔ زندگی کے حالات واقعات کے اُتارچڑھاؤ میں عورت مرد کی تخصیص قطعی نہیں کی جاسکتی۔

      حذف کریں

  6. "بےنظیر، واہ زرداری، آہ زرداری "
    http://noureennoor.blogspot.com/2013/09/Zardari.html

    جواب دیںحذف کریں

"ہم سے پہلے"

۔"ہم سے پہلے"۔۔۔کالم جاویدچودھری۔۔۔جمعرات‬‮ 72 جولائی‬‮  بھارت کے کسی صحافی نے اٹل بہاری واجپائی سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں ...