صفحہِ اول

جمعہ, مارچ 07, 2014

" برہنگی"

برہنگی انسانی ذات کی ایسی کمزوری ہے جس سے فرارممکن ہی نہیں۔
کمزوری کیا ہے ؟ کمزوری ہماری اُس ضرورت کا نام ہے جو پوری ہو کر بھی کبھی پوری نہیں پڑتی۔ضرورت حد سے بڑھ جائے تو ہوس بن جاتی ہے۔ ضرورت کو سمجھا جا سکتا ہے،سمجھایا جا سکتا ہے لیکن ہوس وہ نابینا پن ہے جو سوچ سمجھ کے ہرمنظر کو تاریکی میں چھپا دیتا ہے۔
جس طرح انسان کے دو پہلو ہوتے ہیں جسمانی اور روحانی ۔ اسی طرح برہنگی کے بھی دو زاویے ہیں ۔۔۔
جسم کی برہنگی ۔۔۔ سوچ کی برہنگی۔
جسم کی برہنگی اگر حدودوقیود میں ہو تو جائز ٹھہرتی ہے۔اوراگر محض کمزوری نہ رہے ضرورت بن جائے تو نامحرم بھی محرم بن سکتا ہے۔ جبکہ سوچ کی برہنگی محرم نامحرم کی حدودوقیود سے آزاد توہے لیکن اس کی اپنی حدود بھی ہیں ۔ سوچ کی لہریں ہر کسی کی گرفت میں آبھی نہیں سکتیں ۔ اِن کی خاص فریکوئنسی ہوتی ہے۔ یہ صرف اُس لمس کو چھوتی ہیں جن سے ان کی ویو لینتھ مل جائے۔
جسم کو قرینے سے ڈھانپنے کا ہنر سوچ کے عکس کی صورت جہاں برہنگی کو زندگی کا حصہ بناتا ہے وہیں سوچ کی برہنگی کا رکھ رکھاؤ انسان کی جسمانی زندگی کا آئینہ دار بھی ہوتا ہے۔ اکثر کلف زدہ اُجلے کپڑوں والے اندر سے اتنے برہنہ ہوتے ہیں کہ اُن کی کائی زدہ بدبودار سوچ اُن کے جسموں سے چھلکتی پڑتی ہے۔ کبھی عام سے لباس میں کوئی درویش صفت اپنی مہک سے جگ کو منور کرتا ہے۔ جسم کی برہنگی فرد سے شروع ہو کر اُس کی ذات پر ہی ختم ہوتی ہےاورسوچ کی برہنگی لفظ کی قید میں ہو حرف کی صورت کاغذ پراُترے توکلاسک کے درجے تک جا پہنچتی ہے۔ چاہےوقتی طورپرایک مخصوص اندازِفکر کو ہی متاثر کیوں نہ کرتی ہو۔
برہنہ جسم ہو یا برہنہ سوچ جب تک اسے احتیاط سے برتا نہ جائے یہ ہمیشہ طبیعت پرگراں ہی گزرتا ہے۔ بے شک معاشرے میں جسم کی برہنگی قابلِ مذمت اورقابلِ گرفت ہے لیکن اپنے مالک کی بارگاہ میں قابلِ معافی بھی ہے۔ توبہ کا در کھلا ہے، ندامت کے آنسو پردہ پوشی کو کافی ہیں۔ سوچ کی آوارہ گردی اُس کی برہنگی کو معاشرے میں ذرہ برابر بھی اہمیت نہیں دی جاتی اورنہ ہی اس کی کوئی خاص سزا ہے۔ بلکہ کہیں تو یہ انتہائی اعلٰی درجے کا ادب گردانا جاتا ہے یا پھرعام بول چال کو وقتی غباریا بھڑاس کہہ کرصرفِ نظرکرلیا جاتا ہے۔
رب کی عدالت میں پکڑ پہلے سوچ یعنی طرزِفکر کی ہے جسے ہم بہت محدود رکھ کرصرف نیت کا نام دے کراپنے آپ کو بری الذمہ کرلیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہےکہ ذہنی عیاشی پراگندہ خیالات دراصل روح کی غلاظت ہیں جو جسم سے پہلے روح کو بیمار کردیتے ہیں ۔ ہمیں ان سے آگاہی اس لیے نہیں ہو پاتی کہ کبھی تو بظاہر بڑے دلفریب اوران کی چمک آنکھیں چندھیا دینے والی ہوتی ہے۔ جب یہ زندگی کے تحائف کی صورت بڑے خوبصورت ملبوس میں لپٹتے جابجا بکھرے ملتے ہیں۔ یاد رہے یہ خیال آنا بھی حق ہے کہ اسی طرح نہ صرف دوسروں کی اصلیت بلکہ اس پرہمارا برتاؤ ذہنی پختگی کا پتہ دیتا ہے۔ لیکن خیال کے بعد اس کو جاننا اورماننا بھی بہت اہم ہے۔ کسی بھی چیز کو بغیرسوچے سمجھے یک دم مسترد کردینا یا اس پر اپنا فوری ردِعمل ظاہر کرنا صرف ہماری کمزوری کی علامت ہے۔ 
!آخری بات
برہنگی انسانی فطرت کی غماز ہے۔انسان کا تمام سفراسی کے گرد کھومتا ہے۔ دُنیا میں آنکھ کھولنے سے پہلے سوچ کی برہنگی اور پھر پیدائش کی اولین ساعتوں کا برہنہ پن ۔ اس کے بعد سوچ اورجسم پرطرح طرح کے لبادے چڑھتے اُترتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اپنی فطرت کی طرف واپسی کا وقت آجاتا ہے اوراُسی ترتیب سے پہلے جسم کا لباس اترتا ہے اور بعد میں کہیں جا کرسوچ کا ۔ وہی وقت فیصلے کا بھی ہوتا ہے کہ آراستگی کے اس سفر میں کیا کھویا کیا پایا ۔ اللہ اس وقت کے برہنہ پن سے بچائے جب اپنے آپ کا جائزہ لینے کے لیے اپنی نگاہ ہی کافی ہو گی۔

3 تبصرے :

  1. اللہ اس وقت کے برہنہ پن سے بچائے جب اپنے آپ کا جائزہ لینے کے لیے اپنی نگاہ ہی کافی ہو گی۔۔۔ آمین!!

    بہت خوب :)

    جواب دیںحذف کریں
  2. بہت خوبصورت تحریر اور ایک واشگاف حقیقت کو الفاظ میں بیان کرنے کی کاوش. .
    اچها ہو کہ سوچ کی برہنگی پہ مزید دو تین پوسٹیں لکهیں تاکہ یہ بات کهل کے واضح ہو_ سدا خوش رہیں

    جواب دیںحذف کریں

  3. ""خوش لباسی خواہ وہ جسم کی ہو، روح کی، یا پھر سوچ کی ، ایک بتدریج عمل ہے ، ٹھہراؤ سے بالا- دنیا میں برہنہ آنے والا انسان زندگی بھر اس سے روشناس ہونے کی کوشش میں لگا رہتا ہے- کوشش مثبت ہو تو کامیاب ہو جاتا ہے ، منفی ہو تو وہی برہنگی اوڑھے دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے- آج کا انسان لباس کے اس خوبصورت تصور کو دقیانوسی نظریات اور خیالات کا نام دیتےھوئے جدت اور فیشن کے نام پر خود ساختہ برہنہ پن کی طرف مائل ہے، نہ صرف لباس بلکہ نظریے اور سوچ میں بھی - لیکن اگر وہ ماضی پر نظر ڈال سکے تو معلوم پڑے گا کہ اس کا اصل برہنگی نہیں، وہ تقدس تھا جسے ملائک سے سجدہ کروایا گیا- مگر پھر شجر ممنوعہ کے دلفریب تصور نے انسان سے اس کا تقدس چھین کر اسے درختوں کے پتوں سے اپنا ظاہرڈھانپنے پر مجبور کر دیا- روئے زمین پر آنے کے بعد روح اور جسم کی خوش پوشاکی کا سفر دوبارہ شروع ہوا اور بتدریج بہتری کی مںازل طے کرتے ھوئے ایک بار پھر اپنی اصل تک واپس پنہچا، اور اس زمین زدہ، درماندہ انسان کو وہ رہبر کامل صلی اللہ علیہ وسلم عنایت کیا گیا جس نے اسے اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلا کر آسمانوں تک معراج بخشی- ذرا غور کیجئے، سوچ ، نظریات اور لباس کی اس فیشن زدہ برہنگی کی منزل جدت ہے یا پھر شجر ممنوعہ کا وہی سہانا تصور...؟ ورغلانے والا تو ازل سے راندہ درگاہ ٹھہرا ، مگر اپنی سمت ، اپنی منزل کا تعین تو بہر حال انسان کی اپنی ہی ذمہ داری ہے......!!

    جواب دیںحذف کریں