جمعرات, مارچ 20, 2014

"بیٹی "

آدم حوا کہانی میں عورت کی پہلی جھلک ایک ساتھی ۔۔۔ ایک دوست کی ہے جو جنت میں ملتا ہے تو جنت سے نکالے جانے کے بعد بھی ساتھ نبھاتا ہے۔۔۔ نعمتوں کا امین ہے تو خطا کے بعد توبہ کی گھڑی میں آنسوؤں کا رازداں بھی ہے۔۔۔ بی بی ہاجرہ کی صورت اللہ کی رضا کے لیے ساتھی کے حکم پر راضی ہے۔۔۔ تو زکریا کی دعا کی قبولیت کا علم بردار بھی۔ عورت کے اس روپ کی عظمت رہتی دُنیا تک قائم رہے گی ۔اس کے بعد عورت کا دوسرا روپ ماں کا ہے جس کی تعریف وتوصیف کا حق قلم تو کیا قول وفعل سے بھی ادا نہیں کیا جاسکتا۔۔۔ خالق ومالک سے بڑھ کر کون ماں کے رتبے کے اسرار بیان کر سکا ہے۔۔۔ جس نے اپنی محبت کا پیمانہ ماں کی محبت سے مثال دے کر بیان کیا ہے۔
 ماں کے بعد عورت کا ایک روپ بیٹی کا ہے۔۔۔ وہ بیٹی جس کے احترام اوراُس سے محبت کی بیش بہا مثالیں جہاں تاریخ کا حصہ ہیں تو اس کی ناقدری اورکم مائیگی بھی زمانۂ جاہلیت سے لے کر آج کے جدید دور تک جابجا دیکھنے کو ملتی ہے۔ 
قران پاک کی سورۂ النحل (16) میں اس رویے کو یوں بیان کیا گیا ہے۔
ترجمہ::آیت 58۔۔۔ 59 ۔۔۔۔
حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بشارت دی جائے کہ تمہارے ہاں بیٹی ہو ئی تو غم اور پریشانی کے مارے اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ زہر کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔
اس بری خبر پراپنے قوم قبیلے سے منہ چھپائے پھرتا اوراس فکر میں ہوتا ہے کہ ذلت اٹھا کر اسے زندہ رہنے دے یا تہہء خاک چھپا دے۔ یہ لوگ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔ 
اللہ تعالی نے سورہ شورٰی (42) میں ارشاد فرمایا ہے۔
ترجمہ:: آیت 49۔۔50۔۔۔
آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالی ہی کے لئے ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے۔ یا پھر لڑکے اور لڑکیاں ملا جلا کر دیتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے وہ بڑے علم والا اور کامل قدرت والا ہے۔
دنیائے انسانی میں ہمیشہ سے دستور چلا آیا ہے کہ عورت اور مرد  جب مل کر ایک نئے رشتے کی بنیاد رکھتے ہیں تو مالک اُن کے آنگن میں اولاد کی صورت مہربانی کرتا ہے۔اولاد اگر محض انسان کی فطری ضرورت اور جبلت کا ثمر ہے تو اُس کی جنس کا تعین بھی انسان کے شعوری احساس کی پہنچ سے کوسوں دور ہے۔ درج بالا آیت پر ایمان لاتے ہوئے کہ کسی کو بیٹا دیتا ہے تو کسی کو بیٹی یا کسی کو دونوں سے نوازتا ہے ۔اور کسی کو ایک دوسرے کے "ساتھ" کےاحساس کے سوا کچھ بھی نہیں۔یہ "ساتھ" کا احساس بظاہر مایوسی کا استعارہ لگتا ہے لیکن سب سے اہم بات ہےکہ پھر اس تعلق میں ایک دوسرے پر کسی قسم کا معاشرتی دباؤ نہیں ہوتا۔ ورنہ اولاد بعض اوقات پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہے۔ اور خاص طور پر اس وقت جب وہ صحت مند بھی پیدا نہ ہو۔ میاں بیوی اگر اولاد نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے سے نظریں چراتے ہیں تو وہ اولاد جو سہارا بننے کی بجائے خود سہارے کی محتاج ہو اُس کی زندگی اُنہیں اپنے ہر احساس ہر جذبے سے آنکھ بچانے پر مجبور کر دیتی ہے۔یہ ایسا غم ہے جس کے لیے شریکِ سفر کا کاندھا بھی نہیں ملتا۔ یہ دُنیا کے امتحانات ہیں اور اللہ جن پر یہ بوجھ ڈالتا ہے اُنہیں سہارنے کا حوصلہ بھی عطا کر دیتا ہے۔
 پہلے بچے خصوصاً بیٹی کی پیدائش پر ماں اورباپ دونوں کے احساسات مختلف ہوتے ہیں۔ ماں کا ذہن اِسے اپنی زندگی کہانی کا تسلسل دیکھتا ہے جبکہ باپ کے لیے اُس لمحے اپنے وجود کا عکس دیکھنا کائنات کا سب سے خوبصورت تُحفہ ہوتاہےجواُسے دُنیا میں اپنی ذات پر اعتبار بھی دیتا ہے۔ اس وقت عورت اور مرد کی شخصیت کے دو الگ رُخ واضح ہوتے ہیں۔۔۔ماں تکلیف اُٹھا کر اذیت برداشت کرکے ایک نیا وجود دُنیا میں لانے کا وسیلہ ٹھہرتی ہےتوباپ کو جسمانی طور پر خراش بھی نہیں آتی ۔ یہ قانونِ فطرت ہے۔ شاید اسی وجہ سے مرد زندگی بھرعورت کے جسمانی درد یا تکلیف کا اندازہ کبھی بھی نہیں لگا سکتا۔ مغربی دُنیا کے باسی عورت کے اندر کے کھوج میں اِس نکتے کو جان گئے اسی لیے وہاں بچے کی پیدائش کے وقت اُس کے باپ کی موجودگی ضروری سمجھی جاتی ہے۔جبکہ یہاں کی عورت شاید اس بات پر کبھی آمادہ نہ ہو۔شرم وحیا سے ہٹ کر عورت کی فطرت میں ہے کہ وہ جتنا ہو سکے اپنے دُکھ درد کو تنہا برداشت کرے چاہے وہ "بی بی مریم " کا "دردِ زہ" کا قرآنی واقعہ ہو یا"بی بی ہاجرہ" کی "سعی"۔ یہ ربِ کریم کا عورت کے لیے اعزازِخاص ہے کہ اُس نےعورت کی مشقت کو (جس کا رازداں اُس کے سوا کوئی بھی نہیں تھا) رہتی دُنیا تک زمانے کے سامنے نہ صرف آشکار کیا بلکہ عزت وتکریم کا مینارۂ نور بنا کر کیا مرد کیا عورت سب کو اُس کے قدموں کے نشان پر سجدہ ریز کرا دیا۔
زندہ وجاوید ادب کے ترجمان ۔۔۔لفظ سے دلوں کو فتح کرنے والےجناب  مستنصرحسین تارڑ نے اپنےسفرنامۂ حج "منہ ول کعبہ شریف" میں تین لفظوں میں سب کہہ دیا۔۔۔۔" حج ہاجرہ ہے"۔ اس تین لفظی جملے کو اگر کوئی سمجھ جائے تو نہ صرف مرد بلکہ عورت بھی اپنے اصل مقام کو پہچان کر ہمیشہ کی سعیء مسلسل سے قرار پا جائے۔وہ سعی جو صرف اور صرف جان پہچان کے محدود چکروں سے عبارت ہے اور ہم اپنی خواہشات کے گرد خود ترسی اورخودفراموشی کے لاحاصل طواف کیے جارہے ہیں ۔ 
متعدد احادیث ِمبارکہ میں بیٹیوں کی پرورش اور تربیت پر جنت کی بشارت اورنبی کریمﷺ کے ساتھ کی بشارت دی گئی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں۔۔۔ سب مانتے ہیں۔اوراب تو سائنس کی حیرت انگیز ترقی کی بدولت انسانی جینز کی پُراسرار دُنیا کے انکشافات نے اولاد کی جنس کا رازبھی فاش کردیا ہے۔ عورت کے اندر پھوٹتے محبت وفاداری کے چشموں اور ہر قسم کے حالات میں اپنے آپ کو ڈھال لینے کی خوبیوں کے باوجود بیٹی کی پیدائش ایک ان جانا سا دُکھ دے جاتی ہے۔ یہ معاشرے اورآس پاس کے لوگوں کا ان کہا رویہ ہوتا ہے جسے محسوس کرتے ہوئے ایک اچھا بھلا سمجھدارانسان دوسروں سے پہلے اپنے آپ کواس احساس پر لعن طعن بھی کرتا ہے۔۔ بیٹی کی پیدائش پرملنے والی دعائیں بھی اپنی معنویت میں اسی رویے کا ڈھکا چھپا اظہار ہوتی ہیں جیسے دل سے کسی کی دی ہوئی پرخلوص دعا "اللہ نصیب اچھے کرے" میں بھی کانٹے جیسی چبھن۔ یہ دعا بیٹے کی پیدائش پر شاذ ونادرہی دی جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟
 کیا بیٹے ہمیشہ سے"اچھا نصیب" لے کر پیدا ہوتے ہیں؟ کیا بیٹی کی پیدائش کے بعد سے ہی اُس کے نصیب کی فکر لگ جاتی ہے؟ کیا یہ بات سچ ہے کہ بیٹی کی ولادت سے باپ کی عمر میں یک دم اضافہ ہو جاتا ہے؟ اُس کی کمر جھک جاتی ہے؟ کیاایک صحت مند اولاد کا اپنے ماں باپ کی آغوش میں آ جانا رب کا سب سے بڑا انعام نہیں؟ کیا بیٹوں سے ہمیشہ سکھ ملتے ہیں؟ اوردکھ دینا دکھ پانا لڑکیوں کی قسمت میں لکھ دیا گیا ہے؟۔
جذباتی ہوکرسوچیں تو یہ سب غیر دانشمندانہ سوچ اورروایتی  جاہلانہ طرزعمل کا عکاس ہے۔ پر حقیقت بہت تلخ ہے اور ہمیں اس کے سامنے سر جھکانا پڑتا ہے۔
 بیٹی سونے کا چمچہ لے کربادشاہ کے گھر میں بھی پیدا ہو جائے۔۔۔ دُنیا میں"بےنظیر" بھی ہو۔۔۔ وقت کے مضبوط ترین قلعے میں محفوظ ہو کر جگ پر حکومت بھی کرنے لگے۔۔۔ لیکن ! وہ ایک عام مرد کے سامنے بےبس ہے۔ مرد کی افضلیت کا حق اس سے کوئی نہیں چھین سکتا۔عورت دُنیا فتح کر کے بھی ایک مرد سے ہار جاتی ہے۔ اور بیٹی کا روپ تو عورت کا سب سے کمزورترین پہلو ہے۔ تعلیم وتربیت کے میدانوں میں دُنیا کے افق پر جھنڈے گاڑنے والی لڑکی رات کی تاریکی میں تن تنہا گھر سے باہر نکل کرمحفوظ نہیں چاہے وہ دُنیا کے کسی مہذب اور اعلیٰ" اخلاقی" معیار کے حامل معاشرے میں سانس لے رہی ہو۔اُسے کسی مرد کا سہارا درکار ہے چاہے وہ دُنیا کا سب سے نالائق آدمی کیوں نہ ہو۔
 عورت کے عدم تحفظ کی انتہا یہ ہے کہ وہ اپنے گھر۔۔۔اپنے رشتہ داروں اور بعض اوقات اپنے محرم رشتوں کے ساتھ بھی محفوظ نہیں ہوتی ۔ گھر سے باہر تو سڑک پرگرنے والے سکے کی طرح ہے کہ چاہے جیبیں بھری ہوں لیکن ہر گزرنے والا اس آواز پر ایک بار رُک کر دیکھتا ضرورہے۔
کہاں کی آزادی؟ کون سے حقوقِ نسواں؟ کیا فائدہ سول سوسائٹی کے نعروں کا ؟ یہ نہ صرف مردوں کو بلکہ اپنے آپ کو بھی دھوکا دینے اورلمحاتی تسکین کے نظریے ہیں۔
پرانی کہاوت ہے کہ "بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں" لیکن اب اس کے معنی بدل گئے ہیں۔اب تو اپنی بیٹی بھی اپنی بات نہیں سمجھتی اورایک خیالی دُنیا میں آزادی کے انوکھے خواب دیکھتی ہے۔آج کی بیٹی ہرمیدان میں مرد کی برابری چاہتی ہے۔۔۔ جھکنا اس کی فطرت نہیں۔ دُنیا کو جوتی کی نوک پر رکھنے کی خواہشمند ۔۔۔ چاہے باپ ہو۔۔۔ بھائی ہو یا پھر آنے والی زندگی کے شریکِ حیات کا تصور۔ باپ سے زیادہ ماں کو اس کی ناسمجھی اور نادانی ایک آسیب کی طرح اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ وہ دل ہی دل میں اُس کے ٹھوکر نہ لگنے کی دعا کرتی ہے لیکن دُنیا کے پتھریلے رستوں پر ٹھوکر لگنا ناگزیر ہے۔۔۔یہی نصیب ہے۔۔۔یہی قسمت ہے۔جس کے اچھے ہونے کے لیے ہر ماں باپ کے دل سے دعا نکلتی ہے۔بیٹیوں کے والدین کی عجیب سوچ ہوتی ہے۔۔۔ 
۔"آڑے وقت کے لیے اُن کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں اور ہمیشہ یہ دعا  بھی کرتے ہیں کہ "آڑا وقت" کبھی اُن کی زندگی میں نہ آئے"۔
یہ بات نہیں کہ بیٹوں کو کبھی ٹھوکر نہیں لگتی یا اُن کے راستوں میں دلدلیں اورکھائیاں نہیں آتیں۔ بلکہ بیٹوں کے دکھ تو ماں باپ کو زندہ درگورکر دیتے ہیں۔ بیٹی کے دکھوں کا تو اس کی پیدائش سے ہی دھڑکا لگ جاتا ہے۔ بیٹی کی پیدائش کے ساتھ جنم لینے والی خلش آسمان پر نظر آنے والے بادل کی طرح ہے جو جانے کب بن موسم کے برس جائے۔ جبکہ بیٹوں کے دُکھ تو آندھی طوفان کی طرح سب کچھ تہہ وبالا کر دیتے ہیں۔۔۔بنے بنائے مکان جمے جمائے کاروبار خاک ہو جاتے ہیں۔جبکہ بیٹی خاک میں مل کر بھی اُس خاک کو مقدر جان کر آخری حد تک سنوارنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہی عورت کی عظمت کی معراج بھی ہے جو نام نہاد آزادی کے دعوؤں سے بلند اپنی 'اوقات' اپنی صلاحیت پر بھروسہ کر کے سر اُٹھا کر جینے کا حوصلہ دیتی ہے۔
 بیٹیوں کے باپ کے دکھ سے بھی انکار نہیں۔ بیٹا جیسا بھی ہو گھر میں اس کی ضرورت اور اہمیت مسلم ہے۔ گھر کے بہت سے ایسے مسئلے۔۔۔ایسی آزمائشیں ہوتی ہیں جن سے نبردآزما ہونے کے لیے ایک مرد کی ضرورت بہرحال پڑتی ہے،بیٹے کو "بازو"کہنا بھی کسی حد تک درست ہے۔ 
بیٹیوں والا گھر بغیر چاردیواری کے مکان کی طرح ہے جس میں جھانکنا اوراس کے معاملات میں دراندازی کرنا ہرراہ چلتا اپنا حق اورہر'اپنا' اپنا فرض جان کرکرتا ہے۔
 بیٹیوں کا ایک دُکھ وراثت سے متعلق ہے۔ معاشرے میں جس طرح بیٹوں کا باپ کی وراثت پرحق نہ صرف کھلے عام تسلیم کرلیا جاتا ہے بلکہ وہ اس کے ساتھ کچھ بھی کریں۔۔۔ جب بھی اپنا حصہ مانگ بیٹھیں جائز ٹھہرتا ہے۔۔۔ اُن سے بازپرس بھی اس انداز سے نہیں کی جاتی جبکہ بیٹی شادی سے پہلے اور شادی کے بعد بھی جہاں تک ہو سکےاپنی چادر دیکھ کر پاؤں پھیلاتی ہے۔ بیٹوں کے مقابلے میں ماں باپ کے دکھ درد کو دل سے محسوس کرتی ہے اوراُن کا 'شملہ"دوسروں کے سامنے اونچا رکھنا چاہتی ہے۔
سب سے تلخ اورزہریلا نشتر بیٹیوں کے باپ کو آخری عمر تک محض جائیداد کے وارث کے لیے دوسری شادی کا "مخلص" کا مشورہ دینے کا ہے جو اکثر پہلی بیوی کے سامنے بڑے دھڑلے سے دیا جاتا ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ قریبی رشتہ دار جن کی سیوا میں بیوی کی عمرتمام ہو جاتی ہے اور"دیندار۔۔۔ مسجد کے ساتھی" بھی اس"کارِخیر" میں وقتاً فوقتاً اپنا حصہ ڈالتے رہتے ہیں۔ جیسے یہ گارنٹی ہو کہ باپ عمرِخضر لکھوا کر آیا ہے اور بیٹا ہی پیدا ہوگا جو تمام مسائل کی فکر سے آزاد کر دے گا 
!آخری بات
اللہ کی رضا پر راضی رہا جائے اورخوشدلی سے اولاد کی صورت میں جو عطا ہو اسے قبول کرلینا چاہیے۔ بیٹےکی پیدائش پر بےجا فخر کا اظہار نہ کیا جائےاوربیٹی کی ولادت پراپنے آپ کو اس عظیم نعمت کا اہل سمجھا جائےتو وقت گزرنے کے ساتھ رب کی حکمت کے اسرار کھلتے چلے جاتے ہیں۔

12 تبصرے:

  1. اردو بلاگر گروپ میں میں نے ابھی لکھا
    معاشرہ تو بعد میں آئے گا پہلے ہم خود تو اس سچائی کو قبول کر لیں۔ ابھی تو ہمارا اپنا ایمان ہی سب سے نچلے درجے پر ہے( یعنی محض دل سے مانتے ہیں ) ۔ پڑھے لکھے لوگوں اور سوچنے والے ذہنوں کے ہمدردانہ رویے سے انکار نہیں ۔ لیکن موقع شناسی کی بات ہے۔ بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والا معاملہ ہے۔ ہر گھر کے اپنے مرد اور بیٹے اپنے گھر کی عورت کے بارے میں رویہ درست کر لیں تو معاشرہ خود ہی سنور جائے گا۔ اور اس روئے میں مرد کے ساتھ عورت بھی برابر کی شریک ہے ۔ مرد سے پہلے عورت کو اپنا صحیح مقام پہچاننے کی ضرورت ہے۔ ۔دیدہ زیب اور چمکدار ریپرز میں لپٹی کوئی بھی چیز نا چاہتے ہوئے بھی نظروں کو اپنی طرف مائل کرتی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. ارد گرد کا یا معاشرہ کہہ لیجئے کا حال آپ نے درست لکھا ہے ۔ اللہ کی مجھ پر ہر موقع پر کرم نوازی رہی ۔ بیٹی اللہ نے دی ۔ اُس کی خواہشات کا بیٹوں سے زیادہ خیال رکھا اور کی کرم نوازی ہے کہ میرے دونو بیٹے بھی بہن کا بہت خیال کرتے ہیں ۔ اتفاق سے میرے بڑے بیٹے کی اب تک اولاد ایک بیٹی ہے جو اب ماشاء اللہ ساڑھے 9 سال کی ہے ۔ دوسرے بیٹے کا ایک بیٹا ساڑھے 4 سال کا اور ایک بیٹی 2 سال کی ہیں ۔ دونوں ہی اپنی بیٹیوں سے بہت پیار کرتے ہیں
    اللہ نے مرد کو قوام بنایا ہے جس کے ساتھ مرد کو ذمہ داریاں بھی دی ہیں ۔ لوگ اپنے دنیاوی لالچ کی وجہ سے پورا سچ کہنے کی بجائے آدھا سچ کہتے ہیں
    آپ نے آزادی نسواں کا ذکر کیا ہے ۔ اس گروہ میں شامل عورتوں سے کبھی آپ ملیں تو اندازہ ہو گا کہ یہ فقط نعرہ بازی ہے اُن کے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر

    جواب دیںحذف کریں
  3. آپ کی ذاتی زندگی کے توازن سے انکار نہیں ۔آپ کی تحاریر اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ معاشرہ مرد اور عورت سے مل کر بنتا ہے اور اس کے بگاڑ یا بناوٹ میں دونوں برابر کے شریک ہیں ۔کسی بھی ایک جنس کو اس کا کلی طور پر ذمہ دار کبھی بھی نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. آپ کی اس عمدہ تحریر پڑھنے کے بعد میں صرف اتنا ہی کہوں گی ۔۔ بلاشبہ توازن میں ہی ذندگی کی خوبصورتی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. السلام علیکم
    بلاشک سچا کھرا تجزیہ ۔۔
    بہت دعائیں
    نایاب

    جواب دیںحذف کریں

  6. ہمیشہ کی طرح ایک اور بہترین تحریر

    جواب دیںحذف کریں
  7. بہت اچھی تحریر، ترقی یافتہ دنیا کے منہ پر ایک طمانچہ، تہذیب کے اوپر ایک سوالیہ نشان۔

    جواب دیںحذف کریں
  8. بہت خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن پر اللہ رب العزت بیٹیوں کے ذریعے اپنی رحمتوں کے در وا کر دیتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  9. بہت خوب بہنا
    گویا یہی تھو وہ جو میرے بھی دل میں تھا ۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  10. آپ نے اپنے تمام تر سوالات کے جوابات بھی ازخود ہی اس آرٹیکل میں دے دیئے ہیں ، یہ درست ہے بیٹیاں نہ تو ذیادہ کھاتی ہیں اور نہ ماں باپ کو بیتوں سے زیادہ دکھ دیتی ہیں ، مگر واقعی ان کو اچھے نصیب کی دعا اس لئے بھی دی جاتی ہے کہ بیٹے پھر ماں باپ کے گھر ہی رہتے ہیں جبکہ بیٹیوں کو پال پوس کر دوسروں کے حوالے کر دیا جاتا ھے پھر روزانہ جو چولہے پھٹنے کی خبریں آتی ہیں ، یہی وجہ ہے کہ ماں باپ ان کو اچھے نصیب کی دعائیں دیتے ہیں ،

    جواب دیںحذف کریں
  11. 25 ستمبر 2016 کو "دلیل" کی مرکزی تحریر۔۔
    بیٹی اور اس سے وابستہ دکھ – نورین تبسم
    http://daleel.pk/2016/09/25/8640

    جواب دیںحذف کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...