صفحہِ اول

سوموار, ستمبر 02, 2013

"بےنظیر، واہ زرداری، آہ زرداری "

اِک قطرۂ خوں سے نئی زندگی کی نوید دے کراور پھر اپنے جسم وجاں کی تمام ترتوانائی نچوڑنے کے بعد عورت کا خون اتنا ارزاں  اتنا بےمول کیوں ہو جاتا ہے کہ وہ جو اپنی تخلیق کاببانگ دہل اعلان کرتی ہے۔۔۔اُس کا اپناخون زمین پر گرنے کے بعد محض پانی کے فواروں سے یوں صفحۂ ہستی سےمٹا دیا جاتا ہے کہ ہاتھ کےنشانوں کو توچھوڑو اپنے چاہنے والوں اپنے جگر کے ٹکڑوں کے اذہان بھی بےحس ہو جاتے ہیں۔ 
عورت کہانی بس اتنی ہی ہے جتنی اُس کی زندگی ہے۔اُس کے رنگ ۔۔۔ اُس کی چمک۔۔۔اُس کا علم۔۔۔ اُس کی قابلیت کی چکاچوند زندگی بھر کسی کو رشک تو کسی کوحسد میں مبتلا رکھتی ہے لیکن اُس کی تلاش کا سفر جاری وساری رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔عورت کی جہدِمسلسل اُس کی 'گریس" ہے ورنہ ناقدری اورہوس زدہ رویوں کا کُھردراپن رگڑ کی صورت اُس کے وجود پرخراشیں ڈالتا رہتا ہے۔عورت ایک ری سائیکلڈ کاغذ کی طرح ہے لیکن اسے ٹشوپیپر بھی نہیں رول ٹشو کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔عورت بےنظیر ہےبخت آورہےچاہےوہ بگولوں کی زد میں کیوں نہ ہو۔
اُن کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا یا شام گیا(ستمبر 8... 2013)۔
( غالب سے معذرت کے ساتھ)
کہانی ختم ہو گئی یا کہانی شروع ہو گئی کوئی نہیں جانتا۔اور ہم یہ بھی نہیں جان سکتے کہ کہانی کب شروع ہوئی۔زندگی کی کتاب میں بکھری کہانیاں ہمیں کبھی سمجھ نہیں آتیں۔ ہم صرف اُن کے رنگ دیکھتے ہیں،ذائقے چکھتے ہیں،لمس محسوس کرتے ہیں،آوازیں سنتے ہیں اور اُن کی مہک اپنے اندر سموتے ہیں۔ہم صرف دیکھتے ہیں،نہیں جانتے کہ انمنٹ پھیکے بدنما رنگ،کڑوے ذائقے،کیکر لمس،کرخت آوازیں اور ناقابل ِبرداشت بھبھکے کسی کی مقدر کہانی میں کیوں لکھے جاتے ہیں؟ اورسدا بہار رنگوں سے سجی شیریں لذتیں ،ریشمی لمس،سریلی اور رسیلی چہکاروں سے مہکتے ماہ وسال کیوں دوسروں کو احساس ِکمتری میں مبتلا کردیتے ہیں؟ہم میں سے اکثر کی زندگی ساغر صدیقی کے اس شعر کی مانند گُزرتی چلی جاتی ہے۔
زندگی جبرِمسلسل کی طرح کاٹی ہے 
جانے کس جُرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں 
 دیکھتی آنکھوں کی بعض کہانیاں ایسی پُراسرار ہیں کہ سرتوڑ کوشش کے باوجود کوئی سرا کہیں سے بھی ہاتھ نہیں لگتا۔ ایسی ہی ایک کہانی سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہونے والے ایک گمنام امیرزادے کی بھی تھی جوایک چھوٹے سے شہرمیں بسنے والے خاندان کے پرآسائش ماحول میں سانس لیتا تھا۔دوستوں کے محدود حلقہ احباب میں مطمئن ومسرور،تعلیمی مدارج معمول کے انداز میں طے کرتا،بظاہر اُسے کسی چیز کی ہوس نہ تھی۔اُس کی خواہشات ضرورت کی سیڑھی پر پہنچنے سے پہلے ہی پوری ہوتی رہتیں۔نہ جانے اُس کی کون سی صفت کس کو بھائی کہ اُسے ایک شہزادی کے ہمسفر کے طور پر چُن لیا گیا۔وہ شہزادی!!! جو اس لمحے خود اپنی کھوئی ہوئی شناخت کی تلاش میں تھی۔کسی تعصب سے قطع نظر دیکھیں تو بندھن کہانی کے آغاز میں شہزادی کے پاس قابل ِفخر خاندانی پس منظر,شاندار ماضی ،اعلیٰ تعلیمی قابلیت اور تگ ودو کرتے حال کے سوا کیا تھا۔اُس کا مستقبل ابھی اُمیدوں اور اندیشوں کے بیچ ہلکورے لیتا تھا اوراس مرد ِبےنام کے پاس اپنے نام سے جُڑے زر کے سوا کچھ نہ تھا۔ان میں کوئی قدرمشترک نہ تھی۔۔۔
شہزادی سےاگرایک زمانہ آشنا تھا تویہ شہزادہ شاید ابھی خود شناسائی کی منزل سے بھی بہت دور تھا۔اسی تضاد کے ساتھ ایک رشتے کی بنیاد رکھی گئی تو کہانی اتنی تیزی سے آگے بڑھی کہ عام عوام تو کیا اُس کے کرداروں نے بھی کبھی اس کا تصورنہ کیا ہوگا۔ اقتدارکی مسند میں شراکت داری کے بعد پھر" اُس" نے پلٹ کر نہ دیکھا۔مسٹر ٹین پرسنٹ سے ہنڈرڈ پرسنٹ تک کے سفر میں قوم نے جو کھویا سو کھویا۔۔۔ لیکن اُس نے بھی بہت کچھ کھو کر کیا کچھ پایا یہ ہم کبھی نہیں جان سکے۔
 حاکمیت کی غلام گردشوں کی چکاچوند میں رہ کر بھی اُس کی ذات،اُس کے افعال پر دبیز پردے ہی پڑے رہے،ڈھونڈنے والےلاکھ کوشش کے باوجود کہیں بھی اس پتھر صورت میں خون ِناحق کا ایک قطرہ تلاش نہ کرسکے۔معذرت کے ساتھ یہ اُس کی فتح نہیں ساری دُنیا کی نا اہلی تھی۔۔صرف ہم پاکستانی نہیں،اقوام ِعالم کے انسانی حقوق کے علم برداروں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ ہوا کہ جو اس کھلے راز کا پردہ چاک کر سکا ہو۔
 آنکھوں دیکھا کانوں سنا سب سچ ہے تو پھر یہ بھی حق ہے کہ پاکستان میں رہنے والے اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں اور دیارِغیر میں بسنے والے محب ِوطن پاکستانیوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ ہوا جو اصل حقیقت جاننے کے بعد اسے سامنے لانے کی جۂرات بھی رکھتا ہو۔
 پاکستان کا امیر ترین اور سب سے کرپٹ شخص ہونے کے تمغے سے لے کر، اپنے بچوں کی ماں اور ہماری قومی لیڈر کے سرِعام بہنے والے خون کےخراج تک ہر قسم کا الزام اُس پر لگ چکا ہے۔ لیکن پھر بھی وہ ہمارے ملک کےسب سے اعلیٰ عُہدے پر فائز رہا اور پیٹھ پیچھےاُسے رکیک سے رکیک الزامات سے نوازنے والے اُس کے سامنے "جناب ِصدر " کہتے کورنش بجا لاتے۔ وہ اپنی کرپشن کی چھڑی گھما کر یا ہلاکو خان کی طرح کھوپڑیوں کے مینارسجا کر اس تخت ِشاہی تک نہیں پہنچا تھا ہم عوام نے خود اُسے کاندھوں پراُٹھا کراس جگہ پر بٹھایا ۔اُس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ہم ایک شخص کو اپنے گھر کے دروازے پر پہرے دار تعینات کریں اور نہ صرف گھر کے تمام کمروں بلکہ اُن کی خفیہ تجوریوں تک بھی رسائی دے دیں اور پھر آسمان سر پر اُٹھا لیں کہ وہ چور ہے،ڈاکو ہے ،قاتل ہے ،نااہل ہے۔
 دُکھ کی بات یہ نہیں کہ اُس نے ہمارے ملک کو اور ہمیں ناقابل ِتلافی نقصان پہنچایا۔ بلکہ دُکھ یہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم فہم وفراست کے امتحان میں بری طرح ناکام ہو گئے۔ کوئی بھی عالم فاضل بڑی سے بڑی ڈگری لینے والا اُس کا بال بھی بیکا نہ کر سکا۔عام عوام کا تو کیا کہنا جتنی بددعائیں اور کوسنے اُسے پڑے۔۔۔اُس کی سات پشتیں بھی کم ہیں ان کے اثرات سے فیض یاب ہونے کے لیے۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ اگر وہ واقعی وہی کچھ تھا جس کے چرچے زبان زد ِعام ہیں تو اپنی منصوبہ بندی اپنے ٹیلنٹ میں کمال کا آدمی تھا ۔ کاش اُس کی یہ جہت مثبت انداز میں ہوتی تو شاید ہم دُنیا کی سب سے بڑی سپر پاور بن جاتے۔ لیکن ہم عقل سے عاری جذباتی لوگوں کی وہ قوم ہیں۔ جو پہلے خود ہی کسی کواپنا مختارِکُل بناتے ہیں۔۔۔ اورجب وہ اپنی من مانی کرتا ہے تو نجس جانور سے تشبیہ دیتے یہ بھول جاتے ہیں کہ اس کیے دھرے میں ہمارا بھی حصہ ہے۔ جب وہ کرسی سے اُتر جاتا ہے یا اُتار دیا جاتا ہے تو اس کے جانے کے بعد اُس کے گن گانے لگ جاتے ہیں۔ یہ ہمارے سامنے کی مثالیں ہیں جو کھلی آنکھوں سے عیاں ہیں اوریہ وہ سبق ہے جو ہر پڑھا لکھا یا جاہل بخوبی جانتا ہے۔ ڈر ہے تو اُس وقت کا جب اُسے برا بھلا کہنے والے ہمیشہ کی طرح سر پر بٹھائیں گے کہ یہی ہمارا وطیرہ رہا ہے ۔ لیکن کیا ڈرنا۔
ہم ڈھیٹ قوم ہیں جس کا "ہاضمہ زبردست اورحافظہ کمزور" ہے۔
ڈرنا صرف اللہ کے عذاب سے چاہیے  کہ ابھی اس کی رسی دراز ہے۔ ہمارا مالک ہمیں گرنے کے بعد سنبھلنے کے مواقع دیے جا رہا ہے گناہوں میں لت پت ہونے کے باوجود توبہ کے دروازے کھلے ہیں ابھی ۔ گھٹا ٹوپ اندھیروں میں سے صبحِ نوکے اشارے مل رہے ہیں۔ وقت کی باگ دوڑ ابھی ہمارے ہاتھ سے نکلی نہیں ۔ ضرورت ہےتو صرف اس بات کی کہ اُس پرگرفت مضبوط رکھنی ہے اندھا دھند تو ریس کے گھوڑے بھی نہیں بھاگتے،اُن کے سامنے بھی ایک مقصد ہوتا ہے۔آنکھوں پر پٹی باندھ کر صرف وہ دوڑتے ہیں جن کو اپنے سواروں سے کوئی غرض نہیں ہوتی اورتماشائی اُن کی چیخوں سے حظ اُٹھاتے ہیں ۔
!آخری بات
سوچنے کا مقام یہ ہے کہ ایوریج تعلیمی معیار کا حامل "محض ایک شخص" ساری قوم کو تگنی کا ناچ نچا سکتا ہے(محض ایک شخص اس لیے کہ ہم نے ہمیشہ اس نام کو ہی ساری برائیوں کا گڑھ قرار دیا کبھی کسی نے اس کے پیچھے کسی لابی ،کسی سُپر پاور،کسی مافیا کا ذکر نہیں کیا)،پوری دُنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتا ہے تو ہمارے بڑے بڑے دماغ اگر اپنی صلاحیتیں ملک وقوم کے لیے وقف کرنے کا تہیہ کر لیتے تو پھر ہم نہ جانےکہاں سے کہاں پہنچ جاتے۔افسوس ہم آج تک اپنی ذات کی بقا ،اپنے وجود کی شناخت کی جدوجُہد میں ہی لگے رہے۔ 
اللہ ہمارے حال پر رحم کرے اور ہمیں  مستقبل میں وہ فیصلے کرنے کی توفیق نہ دے جن پربعد میں پچھتانا پڑے

3 تبصرے :

  1. Sometimes, I tend to think, Zardari was probably not that bad as much as he's been demonized...... OR else, the paak-saaf Judges, pawittar Politicians, pakeeza Generals, proficient Bureaucrats, patriotic Lawyers, passionate Media-persons or the Doodh mein Dhuli Public like us are not as good as they've been perceived to be....

    جواب دیںحذف کریں
  2. بےنظیر بھٹو۔۔ایک کہانی، ایک یاد۔۔۔۔
    http://noureennoor.blogspot.com/2013/12/blog-post_27.html

    جواب دیںحذف کریں