صفحہِ اول

اتوار, اکتوبر 27, 2013

"ممتاز مفتی سفرِآخرت "

 ممتاز مفتی۔۔۔۔۔۔
آخری  آرام گاہ ۔۔۔ اسلام آباد

 عکسی مفتی ۔۔۔۔ بیٹا
 راہِ رواں۔۔۔۔  بانو قدسیہ
( سال اشاعت 2011 )
 صفحہ۔۔ 513 
 ممتاز مفتی کی یادیں 
از عکسی مفتی 
 ہمیں چھوڑ جانے سے چند روز قبل ممتاز مفتی مجھ سے کہنے لگے۔ "یارعکسی ! تیرے لوک ورثہ دا کیہ فائدہ ! یار، یاد رکھنا جب میں مر جاؤں تو دو شہنائیوں والے اور ایک ڈھول والے کو بلوا لینا اور گھر کے باہر خوب شادیانے بجانا ۔خوشی منانا۔ وعدہ کرو یار۔ایسا ہی کرو گے"۔
والد سے کیا ہوا وعدہ تو میں نبھا نہ سکا ۔
 لیکن آج اتنا  ضرور عرض کروں گا  کہ ہمیں ممتاز مفتی کا سوگ نہیں منانا چاہیے بلکہ انہیں سیلیبریٹ کرنا چاہیے 
 So let us celebrate MUMTAZ MUFTEE
He was a gift to all us from ALLAH
  مجھے یہ زعم تھا کہ ممتازمفتی کے تمام رُفقاء کو ذاتی طور پر جانتا پہچانتا ہوں اور پھر ان میں سے بیشتر تو میرے بھی دوست ہیں لیکن یہ زعم ان کی وفات پر پاش پاش ہو گیا ۔ سینکڑوں ہزاروں  لوگ نہ جانے کہاں کہاں سے اُمڈ پڑے۔
اچھے،خاصے عمر رسیدہ بزرگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے۔ کچھ چیخ چیخ کر پکار رہے تھے
 "باپو باپو ۔۔ میں یتیم ہو گیا ۔" 
 میں حیرت سے ان سب کو دیکھ رہا تھا ۔
یہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ یہ کیونکر یتیم ہو گیا ؟ میں سوچتا رہا۔ 
 میراخیال تھا لوگ آئیں گے ،مجھے سہارا دیں گے،گلے لگائیں گے،دلاسہ دیں گے،غم بانٹیں گے، اُلٹا مجھے ہی ان سب کا دُکھ بانٹنا پڑ گیا۔ اور تو اور وہ مولوی حضرات جنہوں نے "لبیک" کے چھپنے پر مفتی جی کے خلاف فتوے جاری کیے ،یہ کون ہے جو بیت المکرم کو "کالا کوٹھا" کہتا ہے ۔ اس کی یہ جسارت کہ حج کا تمسخر اُڑائے کہ "کوٹھے والا مجھے آنکھیں مار رہا ہے"۔
  ان ہی میں سے ایک مولانا ممتاز مفتی کے قلم کو اسلام کی تلوار سے تشبیہ دینے لگا ۔
 میں حیرت سے سنتا رہا ۔
 اسی موقع پر جیب کترے بھی پیچھے نہیں رہے ۔ جیب کتروں کا ایک پورا گروہ جنازے کے دوران ممتاز مفتی کے پرستاروں کو لوٹتا رہا ۔ بہت سوں کی جیبیں کٹ گئیں۔ 
 ایک صاحب جن کی جیب کٹ چکی تھی ،فرمانے لگے "کیا مذاق ہے۔ ممتاز مفتی جاتے جاتے بھی ہاتھ دکھا گئے، پاس ہی کھڑا احمد بشیر بولا ،" نہیں صاحب ، ممتاز مفتی جاتے جاتے سب کو سب کچھ دے گئے ۔ جیب نہیں اپنا دل ٹٹولیں  اور کہیں کہ میں غلط تو نہیں کہہ رہا ہوں "۔
ممتاز مفتی جیب کتروں کو بھی کچھ دے گئے ہیں ۔
 صفحہ 516 ۔۔۔۔۔۔۔ 
 آخری سانس تک ممتاز مفتی کی آنکھوں میں چمک تھی ۔ قلم میں تلوار جیسی کاٹ تھی ۔ وہ علی پور کا ایلی تھا ۔ ہار ماننا اس کا شیوہ نہ تھا لیکن اب ممتاز مفتی دھیما پڑچکا تھا ۔ مجذوبیت رنگ بدل کر فقیری میں تبدیل ہو چکی تھی ۔ ایک بوسیدہ بستر پر پڑا رہتا یا پھر رنگین ٹکڑیوں والی رلی پر بیٹھ کر کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا ،کچھ سوچتا رہتا ۔
 لوگ یوں ہی کھنچے چلے آتے۔ لوگوں کی سیوا اس کا مسلک بن چکا تھا ۔ ایک گھنے درخت کی طرح اس کا سایہ دور دور پھیل چکا تھا لیکن اس کی تلاش ختم نہ ہوئی ۔ حالانکہ وہ بہت تھک چکا تھا ۔ اس کی آرزو جوان تھی ۔ اس کی جستجو میں چمک تھی ۔ وہ ایک لمحے کے لیے رُکا نہ تھا ۔ اس کا سفر جاری تھا ۔ 
 قلم میں لامکاں کی آرزو رکھنا" 
 نوے سال یا سو سال ، آخر ٹوٹ جاتی ہے
 گئے ممتاز مفتی جی
 ازل سےتا ابد پھیلی 
"کہانی رو پڑی ہے۔ 
 ممتاز مفتی کی زندگی دراصل ایک طویل تلاش ہے۔ ان کی آخری تصنیف کا نام  بھی "تلاش" ہے۔ 1905 سے لے کر 1945 تک جو کچھ ان پربیتا اس کا نام "ایلی" رکھا ۔ یہ پہلا حصہ ممتاز مفتی کی عالمِ شہادت کی روئیداد ہے۔"علی پور کا ایلی" تلاشِ ذات کا ناول ہے۔
 انیس سو پچاس سے انیس سو نوے۔۔۔۔ 1950 سے 1990 تک کی آپ بیتی کو" الکھ نگری" کا نام دیا ۔ یہ دوسرا حصہ
 ممتاز مفتی کا عالم الغیب کا سفر نامہ ہے ۔ 'لبیک' اور 'الکھ نگری' دراصل تلاش ِخدا کی روئیداد ہے۔ دونوں ہی ممتاز مفتی کی تلاش ہیں ۔ وہ مشاہدات ہیں جن میں سے ممتاز مفتی گزرا اور جن کی بدولت مفتی "ممتاز" ہو گیا اور دونوں تصانیف میں بلاشبہ بہت تضاد ہے۔
" علی پور کا ایلی کے دھوں دھار اندھیرے آنے والی کرن کو مزید چمک بخشیں گے۔ ایلی کے اندھیرے اور"الکھ نگری" کے  چمکیلے خواب ایک دوسرے سے جس قدر مختلف ہیں ،اسی قدر ممتاز مفتی کی شخصیت کے ارتقاء کی اہم کڑیاں ہیں ۔ یہ ایک ہی عمل کے دو ایسپیکٹس  ہیں، دو رُخ ہیں۔ 
اس عمل کے دوران کئی شخصیات ،کردار ،روحانی بابے ،بزرگ ،عامل ،پروفیسر حتٰٰی کہ خود قدرت اللہ شہاب سنگ ِمیل توضرور ہیں منزل نہیں ۔ ممتاز مفتی کا سفر یہاں ختم نہیں ہوتا ،جاری ہے ۔ 
ممتاز مفتی کی تلاش جاری ہے۔  

1 تبصرہ :

  1. بڑے ہی عجیب انسان تھے مفتی۔۔۔ کبھی ساحر تو کبھی مسحور۔۔۔ کبھی مومن تو کبھی مقسوم۔۔۔

    آج کل ان کی کتاب "مفتیانے" پڑھ رہا ہوں۔۔۔ کبھی وقت نہیں ملتا اور روز کا سبق چھوٹ جاتا ہے۔۔۔ عجیب انسان تھا مفتی۔۔۔ ہم جو سوچنے کی ہمت نہیں کرتے۔۔ وہ لکھ جاتا تھا، کہہ جاتا تھا۔۔۔

    آج مفتی زندہ ہوتے تو میں شاید ان کے چرنوں میں بیٹھا رہتا۔۔۔ اللہ کو جیسا وہ پہچانے، میں ویسی پہچان کی خواہش رکھتا ہوں۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں