ہفتہ, اکتوبر 26, 2013

"علی پور کا ایلی"

ایک اٹھارہ سالہ لڑکی کی ڈائری سے جناب ممتاز مفتی کی "علی پور کا ایلی" سے چند اقتباسات جواس وقت نوٹ کیے جب وہ خود
بھی ان کے اصل مفہوم سے ناآشنا تھی۔
" علی پور کا ایلی" 
ممتاز مفتی 
سال اشاعت۔۔۔۔ 1962کتاب پڑھی ۔۔۔۔۔ 1985 
۔۔۔۔۔
پیش لفظ۔۔۔
یہ روئیداد ہے
ایک ایسے شخص کی جس کا تعلیم کچھ نہ بگاڑ سکی۔ 
جس نے تجربے سے کچھ نہ سیکھا۔ 
جس کا ذہن اور دل ایک دوسرے سے اجنبی رہے۔ 
جو پروان چڑھا اور باپ بننے کے باوجود بچہ ہی رہا۔ 
جس نے کئی ایک محبتیں کیں لیکن محبت نہ کر سکا جس نے محبت کی پھلجڑیاں اپنی انا کی تسکین کے لیے چلائیں لیکن سپردگی کے عظیم جذبے سے بیگانہ رہا اور شعلہ جوالہ پیدا نہ کر سکا جو زندگی بھر اپنی انا کی دھندلی بھول بھلیوں میں کھویا رہا حتٰی کہ بالاآخر نہ جانے کہاں سے ایک کرن چمکی اور اسے نہ جانے کدھر کو لے جانے والا ایک راستہ مل گیا۔
صفحہ 343 ۔۔۔۔۔ 
ان دنوں ایلی یہ نہ جانتا تھا کہ عورت کے لیے محبت محض ایک ماحول ہے چرن تپسیہ بھری نگاہوں اور رومان بھرے خوابوں سے بنا ہوا ماحول ۔ اُسے یہ معلوم نہ تھا کہ عورت کو مردانہ جسم کی خواہش ضمنی ہوتی ہے اس کے نزدیک محبت ایک ذہنی تاثر ہے جسم کو وہ صرف اس لیے برداشت کرتی ہے کہ وہ طلسم نہ ٹوٹے ،وہ تپسیہ بھری نگاہیں گم نہ ہو جائیں۔ 
صفحہ488 ۔۔۔۔۔۔
اب وہ محسوس کرنے لگا تھا کہ محبت میں ذہنی بے تعلقی کامیابی کی ضامن ہوتی ہے اورانسان جس قدر متاثر ہوتا ہے اسی قدر ناکام رہتا ہے شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عورت فطری طور پر اس مرد کی تسخیر پر شدت سے آمادہ ہوتی ہے جو ناقابل ِ تسخیر نظر آئے اور جو دل وجان سے اس کا ہو چکا ہو اس میں کوئی دلچسبی محسوس نہیں کرتی ۔
صفحہ 584۔۔۔۔ 
ایلی کو ابھی تک یہ علم نہ تھا کہ عشق میں ازلی طور پر خود کشی کا عنصر ہوتا ہے۔عشق بذات ِخود عاشق کو محبوب
کے وصال سے محروم کر دیتا ہے،اس علم نہ تھا کہ محبت محبوب کا حصہ ہے عاشق کا نہیں اوراگر کسی کی محبت حاصل کرنا مقصود ہو تو اسے محبوب بننے کی کوشش کرنا چاہیے نہ کہ عاشق اور بے نیازی محبوب کی بنیادی خصوصیت ہے۔ 
صفحہ 891۔۔۔۔۔ 
شرارت وہ لوگ کرتے ہیں جن پر شبہ نہ کیا جاسکے یا جن کا اعمال نامہ صاف ہو اوران پر حرف نہ آسکے۔ بدنام آدمی تو اپنا جائز تحفظ بھی نہیں کر سکتا وہ تو کانچ کے گلاس کی طرح ہوتا ہے ذرا ضرب لگی اورٹوٹ گیا۔
جھوٹ - سچ ۔۔۔۔۔ ایلی نے زندگی میں نئی بات سیکھی تھی وہ سچ کے ذریعے جھوٹ بولتا تھا ،اس نے تجربے کے زور پر اس حقیقت کو پا لیا تھا کہ سچی بات کہہ دی جائے تو سننے والا حیران رہ جاتا ہے اسکے دل میں نفرت کی بجائے دلچسپی اور ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے اور کبھی کبھی احترام بھی - اس کے علاوہ کہنے والے کے دل پر بوجھ نہیں رہتا اور بات کہہ دی جائے تو وہ پھوڑا نہیں بنتی ،اس میں پیپ نہیں پڑتی ،اکثر اوقات لوگ سمجھتے ہیں کہ مذاق کر رہا ہے انہیں یقین ہی نہیں آتا ۔ 
صفحہ 894۔۔۔۔
ایلی جذباتی طور پر ڈرا ہوا بچہ تھا اور ذہنی طور پر ایک نڈر مفکر۔
صفحہ 1010۔۔۔۔۔۔۔۔
شادی کے متعلق ایلی اب سوچنے سمجھنے اور پرکھنے کا قائل نہ رہا تھا ۔ زندگی میں بہت سی باتیں جو اس نے سوچ سمجھ کر کی تھیں ان کا انجام اچھا نہ ہوا تھا ۔ عورت کے متعلق تو اسے یقین ہو چکا تھا کہ وہ چاند کی طرح ایک مخصوص پہلو آپ کے سامنے پیش کرتی ہے اورعورت کے کئی ایک پہلو ہیں ، متبسم پہلو ، متذبذب پہلو ،'مجھے کیا ' پہلو ۔ 
ایلی سمجھنے لگا تھا کہ شادی ایک جوا ہے چاہے آنکھیں پھاڑ کر کھیلو یا آنکھیں بند کر کے۔
صفحہ 1018۔۔۔۔۔۔
اس روز ایلی نے محسوس کیا کہ وہ مسلمان تھا ۔ سیاسی خیالات کا سوال نہ تھا ،مسلم لیگی اور کانگرسی کا سوال نہ تھا، یہ سوال نہ تھا کہ آیا وہ اسلام سے واقف ہے آیا وہ شریعت کا پابند ہے یہ سوال نہ تھا کہ آیا رام دین سا مسلمان ہے یا محمدعلی سا۔۔۔۔
سوال صرف یہ تھا کہ وہ مسلمان ہے یا ہندو ۔ ایلی نے محسوس کیا کہ وہ مسلمان ہی نہیں بذات ِخود پاکستان ہے چاہے وہ پاکستان کے حق میں تھا یا خلاف ۔۔ چاہے وہ اسلام سے بیگانہ تھا ۔۔ چاہے وہ مذہبی تعصب سے بےنیاز تھا وہ بذات ِخود پاکستان تھا۔ اس کے دل میں کوئی چلا رہا تھا ۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد ۔۔۔۔ پاکستان زندہ باد
صفحہ 1019۔۔۔۔۔۔۔
ایلی کے تمام خیالات درہم برہم ہورہے تھے اس کا ذہن گویا ازسرِنو ترتیب پا رہا تھا ،پرانے خیالات کی اینٹیں اُکھڑی جا رہی تھیں ،نئی اینٹیں نہ جانے کہاں سے آ گئی تھیں اور اس کے ذہن میں آپ ہی آپ لگی جا رہی تھیں ۔
صفحہ 1029۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لاہور شہر میں ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ سڑکیں خالی پڑی ہوئی تھیں۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں چھپے بیٹھے تھے۔ رات کے وقت گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیتیں اور پھر موت کی سی خاموشی چھا جاتی۔ صبح سڑکوں پر یہاں وہاں لاشیں دکھائی دیتیں۔ انہیں دیکھ کر اپنے قدم راہگیر اور تیز کر دیتے تھے۔ سپاہی واردات کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر منہ موڑ لیتے جیسے انہیں علم ہی نہ ہو کہ کیا ہورہا ہے۔
مسلمانوں کی بےتابی بڑھ رہی تھی۔ بڑھتی جارہی تھی کہ 14 اگست کا دن قریب آرہا تھا۔اس روز پاکستان کا قیام عمل میں آنے والا تھا اور ریڈکلف ایوارڈ کا اعلان ہونے والا تھا۔
اس شام شہر پر مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ بازار سنسان پڑے تھے۔ سڑکیں ویران تھیں۔ لوگ گھروں میں سہمے ہوئے 

بیٹھے تھے۔ بازاروں میں مسلح فوج ہاتھوں میں مشین گنیں لئے گھوم رہی تھی۔ سڑکوں پر فوجی ٹرک کھڑے تھے۔
ایلی ریڈیو کھول کر بیٹھا تھا۔
گھڑی نے بارہ بجا دئیے۔ ایلی کا دل دھک سے رہ گیا۔ بارہ بجے اعلان ہونے والا تھا۔
آج وہ محسوس کر رہا تھا جیسے وہ اعلان اس کی زندگی کا اہم تریں واقعہ ہو۔ جیسے آج اس کی قسمت کا فیصلہ ہونے والا ہو۔ وہ یہ بھول چکا تھا کہ وہ مذہبی تعصب سے بلند و بالا ہے۔ وہ یہ بھول چکا تھا کہ قیام پاکستان سے بےگانہ ہے۔ وہ ہندوستان اور عوام کی بہتری کے فلسفے کو فراموش کرچکا تھا۔ وہ محسوس کررہا تھا جیسے وہ ایک بادشاہ ہو اور پاکستان کے قیام کا اعلان دراصل اس کی رسم تاج پوشی کا اعلان تھا۔ اس روز اسے معلوم ہونا تھا کہ اس کی قلمرو کہاں سے کہاں تک ہوگی۔ لیکن وہ خوش نہ تھا۔ ایک ان جانی اداسی اور پریشانی اس پر مسلط تھی جیسے اسے یقین نہ ہو کہ اس کی قلمرو اسے مل جائے گی۔ وہ مضطرب تھا۔ بے حد مضطرب۔
دفعتاََ حاجی صاحب اس کے روبرو آ کھڑے ہوئے۔ ان کی گردن ہل رہی تھی۔
" وقت آئے گا "۔ وہ مسکرائے۔ " انشاء اللہ "۔ وہ بولے۔
پاگ بابا چلانے لگا:" وہی کرنے والا ہے۔ وہی کرتا ہے۔ اسی کا کام ہے۔ وہ جانے۔ میں کون ہوں۔ میں تو کچھ بھی نہیں "۔
پھر ایک رومی ٹوپی ابھر رہی تھی۔ ابھر رہی تھی۔ ان کے پیچھے کنواں گڑ گڑا رہا تھا۔ سفید چادر میں لپیٹی ہوئی مسجد سجدے میں پڑی تھی۔
رومی ٹوپی والے نے مڑ کر دیکھا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل رہی تھی۔ اس پھیلتی ہو مسکراہٹ کو دیکھ کر دراز قد نے آنکھیں بند کر لیں۔
" الحمد اللہ۔ الحمد اللہ "۔ مدھم سی سر گوشی ابھری۔
ریڈیو نے مہر سکوت توڑ دی۔
طبل بجنے لگا۔
جیسے دور بہت دور ایک دل دھڑک رہا ہو۔
وہ مدھم دھڑکن قریب آرہی تھی۔ اور قریب۔ اور قریب۔
" ہم ریڈیو پاکستان سے بول رہے ہیں "۔
اعلان ایلی کے بند بند میں گونجا۔
پھر دھڑکن بن کر اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر گیا۔ اس کا سر بھن سے اڑ گیا۔ جیسے کسی نے بارود کو آگ دکھا دی ہو۔
پھر اس کے بدن پر چیونٹے رینگ رہے تھے۔ چیونٹے ہی چیونٹے۔
پھر کسی نے اس کے سر پر تاج رکھ دیا۔
" پاکستان زندہ باد "۔ کوئی چلایا۔
اس کے روبرو دنیا بھر کے مسلمان قطاروں میں کھڑے تھے اور ہر مسلمان کے سر پر تاج تھا۔
۔۔۔

5 تبصرے:


  1. اور نوعمری کے عشق ، اپنے شدید اثرات کے ساتھ ہمیشہ جب بھی سامنے آئیں ، مسکراہٹ لبوں پر اور نمی آنکھوں میں آہی جاتی ہے ،،،،یہ عشق بھلے کسی کتاب سے ہو یا اس کتاب کے کردار سے، کسی فلم سے ہو یا فلمی ہیرو/ ہیروئین سے ،اور الفاظ ،،،،،،،،اور وہ بھی اتنی چاہت سے لکھے گئے الفاظ جن کی سمجھ ہو نہ ہو ،لیکن عقل مندی کی دلیل لگتے ہیں ،،،، خواہ دوسروں کی تحریر ہو --یا ---- اپنی ،،،
    October 26, 2013 at 10:47pm

    جواب دیںحذف کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...