جمعہ, اکتوبر 27, 2017

"خوشی اور آزادی"

خوشی اور آزادی دو ایسے احساسات یا رویے ہیں جو عورت اور مرد کےکردار کی بُنت میں  بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔خوشی سراسر عورت کے وجود سے عبارت ہے تو مرد کی ذات آزادی کی ترجمانی کرتی ہے۔
ایک خاندان اور رشتوں کی عافیت کے سائے میں آنکھ کھولنے والے بچے سے بات شروع کی جائےتو عمر کے پہلے سال  شِیرخوار بچہ یا بچی ایک ہی طرح کا ردِعمل ظاہر کرتے ہیں اورصرف پہنے جانے والے لباس کے رنگوں کی شوخی اُن کی  شخصی انفرادیت ظاہر کرتی ہے۔بچہ جیسےجیسے چلنے پھرنے اور بھاگنے دوڑنے کے قابل ہوتا ہے اپنی اپنی جنس کے محسوسات کا فرق  نمایاں ہونے لگتا ہےجو نہ صرف گھر کے ماحول بلکہ بچوں کے رویوں میں بھی دِکھتا ہے۔بچیوں کی موجودگی گھر میں رنگوں کی گہماگہمی اور شوخیوں سے بھرپور ہوتی ہے جبکہ بچے کی توجہ کا مرکز گھر سے زیادہ باہر کی دنیا ہوتی ہے۔۔۔
بچیاں بہت چھوٹی عمر سے ہی اپنے کپڑوں اور اُن کے لوازمات کے بارے میں حساس ہوتی ہیں تو اُن کی عمر کے لڑکے نہ ہونے کے برابر پہنے جانے والےلباس کی پروا کرتے ہیں۔خوشی کی تقاریب اور خاص طور پر عیدین کے مواقع پر گھر میں بچیوں یا بچوں کی موجودگی کا فرق نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔چوڑیوں کی جھنکار،مہندی کی مہک اور رنگ برنگ چمکیلے پیرہن جہاں گھر کو خوشی سے بھردیتے ہیں وہیں  باورچی خانےسے اُٹھتی  کھانوں کی مہک گھر میں  صنفِ نازک کی  اہمیت کا احساس پیدا کرتی ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ  گھر میں جنم لیتی یہ رونق گھر کے مرد کی آنکھ کے بغیر  پھیکی اور بےمزہ ہی لگتی ہے،گھر میں کھانا  پکانے سے کھانا کھانے تک کی مصروفیات  مرد کے  نہ ہونے سے اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں۔
۔"ہوس اگر مرد کی منفی خصلت ہے تو سراہنے والی نگاہ بھی صرف اور صرف مرد  کا ہی خاصہ ہے"۔کائنات  میں رنگ اگر عورت کے دم سے ہیں تو اس رنگ کی پہچان  مرد کی خاص صفت ہے۔گرچہقیمتی سے قیمتی  مکان بھی عورت کے وجود کے بغیر بےحیثیت ہے تو اپنےبھرپور وجود سے مہکتے  مکان  میں عورت کسی رشتے کےحصارمیں نہ  ملے تو وہ کسی گلدان میں خوش رنگ کاغذی پھول کی مانند ہوتی ہے جو گرفت میں آگر پل میں اپنی اصلیت جِتا دیتا ہےجبکہ اپنے مقدس رشتوں کے درمیان اپنی شناخت  گم کرتی عورت،کسی کے احساس سے بےپروا  گھر کے ہر گوشے میں محسوس کی جا سکتی ہے۔اسی طور مرد کے  ساتھ ساتھ جڑے کسی جائز رشتے  کے بغیر ایک مکمل مکان  بھی  عورت کو کنکریٹ سے بنی چاردیواری  کا تحفظ تو دیتا ہے لیکن  اپنی ذات کی گہرائیوں میں   اِسے بےسکون ہی رکھتا ہے۔
 وقت کا پہیہ  گردش کرتا ہے ،عمر کی گاڑی  کے دھیرے دھیرے سرکنے سے  جہاں بچیاں اپنی ذات کے ہالے میں  جھلکنے والی  شعوری "خوشیاں" سمیٹتی ہیں  وہیں  اپنی ذات سے باہر دکھائی دینے والی  لاشعوری "آزادی" بچوں کو طمانیت سے سرشار رکھتی ہے۔
خوشی اور آزادی کی آنکھ مچولی کھیلتے بےفکرے بچے گھر کے گوشۂ سکون سے نکل کر جب عملی زندگی کے محاذ پر قدم دھرتے ہیں،نئے رشتوں میں اپنے آپ کو سموتے ہیں تو پلک جھپکتے  میں گویا سب ختم ہو جاتا ہے۔عورت کے لیے اپنی ذات سے جڑی بےقیمت خوشیاں حاصلِ زیست تھیں تو اب اپنی ذات ہی دان کرنا پڑتی ہے دوسری طرف مرد جو اپنی ذات سے بےپروا ہر سمت  حرکت کے لیےآزاد تھا تو اب اپنا آپ اپنی ذات کے دائرے میں محدود کرنا پڑتا ہے۔ 
 مقدور بھر اہلیت کے  غلاف میں  اپنی خواہشوں اور ظرف کے کھنکتے سکوں کو سمیٹتے ہم  اپنا خاندان مکمل کرنے کی چاہ  کرتے ہیں۔ انسان کہانی بھی عجیب ہے۔ مرد اور عورت مل کر ایک  رشتے کی بنیاد رکھتے ہیں۔دنیا کی زندگی کمائی میں اولاد کی آمد لکھی ہو تو خاندان کے بڑھنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ انگلی پکڑ کر پہلا قدم رکھنے والے وقت گذرنے کے ساتھ کاندھے کو چھونے لگتے ہیں۔یوں ایک "لائف سائیکل" شروع ہو جاتا ہے۔شادی کرنا اپنے فطری تقاضوں کو سمجھتے ہوئے  سکون کی خاطر ایک دوسرے سے ناواقف مرد اور عورت کے  تازندگی ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کا احساس ہےاور "نکاح" اسے معاشرے اور مذہب کے دائرے میں لانے کامعاہدہ ہے۔،اس معاہدے  میں فریقین کو جہاں بہت سی شرائط اور قواعدوضوابط کاسامنا کرنا پڑتا ہے وہیں اُس کی اصل  اور گہرائی کو سمجھنا بھی  بہت اہم ہے۔شادی اگر  جذبات اور احساسات کے بانٹنے کانام ہے تو نکاح اپنے خاندان، اپنی آنے والی نسل اور  معاشرے میں توازن برقرار رکھنے کے لیے اپنی ذات  کے حصار میں جنم لینی والی ذہنی  خوشی  اور شخصی آزادی اپنے آپ تک محدود رکھنے کے احساس اور سمجھوتےکا نام بھی ہے۔  
 نکاح  دراصل اجنبی مرد اور عورت  کے درمیان بننے والا لفظ کا وہ رشتہ ہے جو ان کی رضا سے ایک  ساتھ زندگی بسر کرنے  کی بنیاد رکھتاہے۔لیکن سچ یہ بھی ہے کہ میاں بیوی کے درمیان لفظ کا نہیں احساس کا رشتہ افضلیت رکھتا ہے۔ اور اس تعلق میں احساسِ ذمہ داری پہلے آتا ہےاور  احساسِ محبت بعد میں۔احساس کا رشتہ ہر رشتے سے بڑھ کر ہے اس کے علاوہ ہر رشتہ محض ذمہ داری  ہے  جسے نبھانا پڑتا ہےچاہے یہ محبت کا رشتہ ہی کیوں نہ ہو۔میاں بیوی کے درمیان محبت کا رشتہ ضروری نہیں لیکن ذمہ داری اور احساس کا رشتہ ہونا چاہیےلیکن جب ذمہ داری اور مجبوری کا ہو ،احساس کا نہ ہو تو بڑی گڑبڑ ہو جاتی ہے پھر یہ ٹوٹنے لگتا ہے۔ اس وقت اگر "خوف کا رشتہ" مل جائے تو بچ جاتا ہے۔کسی  تعلق  کے بکھرنے سے زندگی جڑنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی.زندگی  نے جلد یا بدیر  ہر حال میں بکھرنا تو ہے  ہی ،یہ حتمی ہے تو کیوں نہ تعلق کو بکھرنے سے روکا جائے۔   

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

" ووٹ کس کو دیں "

پانچ سال ایک شاندارجمہوریت کے مزے لُوٹنے کے بعد بالاآخر وہ دن آ ہی گیا جب ہمارے سر پر سہرا سجنے والا ہے وہ کمی کمین جونام نہاد جمہوریت ک...