سوموار, جون 15, 2015

" کیوں نام ہم اُس کا بتلائیں ۔۔۔ابنِ انشاء"



ابنِ انشاء۔۔
اصل نام ۔۔ شیر محمد خان
تاریخ پیدائش۔ 15 جون 1927 بمقام تھلہ گاؤں نزد پھلور ضلع جالندھر
تاریخ وفات۔ 11 جنوری 1978 بمقام لندن 
ابن انشاء کے لفظ ۔۔۔میری محبت 
پہلی محبت۔۔۔ پہلا پیار ہمیشہ ہمارا ہوتا ہے۔ ہمیشہ ساتھ رہتا ہے بس ہم اسے اپناتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔پہلی محبت کبھی ساتھ نہیں چھوڑتی ہم خود ہی اُس کے راستے سے ہٹ جاتے ہیں۔۔۔کبھی جان بوجھ کر اپنی نادانی جان کر۔۔۔کبھی انجانے میں دوسری محبتوں میں فراموش کر کے ہم اُس پہلے ساتھ کو بُھلا بیٹھتے ہیں۔ پر وہ روح کی طرح ہمارے وجود میں جانے کب حلول کر جاتا ہے ہم نہیں جان سکتے ۔وہ ایک سائے کی طرح ہمارے ساتھ چلتا ہے اور روشنی کی شام اُترتے ہی خاموشی سے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
عمر کے بڑھتے ماہ وسال ہمیں کتنا ہی بڑا اور معتبرکیوں نہ کر دیں، پہلی محبت ایک چھوٹے بچے کی طرح کلکاریاں مارتی ہمارے اندر سانس لیتی ہے۔وقت کی گھٹن میں گردآلود ہوتے ہوئے جب ذرا دیر کو کھلی ہوا میں سانس لینے کو جی چاہے تو یہ محبت نہ جانے کس طرح کہاں سے ایک بچھڑی محبوبہ کی طرح یوں دیوانہ وار اپنی آغوش میں لیتی ہےکہ پھر کچھ دکھائی نہیں دیتا۔۔۔ ہجر کی تپش نہ وصال کا انتظار۔ یاد رہتا ہے تو صرف یہ کہ محبوب وہی ہے جو صدیوں بعد بھی ملے تو اتنا تروتازہ۔۔۔ اتنا ان چھوا اور اتنا اپنا لگے کہ گلہ شکوہ سب بےمعنی ہو جائے۔۔راز کی بات ہے کہ پہلی محبت ہمارا پرتو ہوتی ہے اور ہم اسےاپنے آپ سے ہی چھپاتے ہیں۔
اپنے آپ کی پہچان ہو جائے تو ملنے والی محبتوں کی سمجھ بھی آجاتی ہے۔ پہلی محبت ہماری روح کی خوبصورتی ہے۔۔۔ہمارے اندر کا اندر۔جس کا ہماری خارجی زندگی سے بظاہرکوئی ربط نہیں دکھتا۔محبت انسان کی وہ کہانی ہے جواگر زندگی کی روشن اور بھرپور صبحوں کو نکھارتی ہے تو تنہائی اور کرب کی اداس شاموں میں ہر عارضی ساتھ سے بےنیاز بھی کر دیتی ہے۔
محبت توحید ہے اور کچھ بھی نہیں۔ محبت خواہ خالق سے ہو یا اس کی خلق سے۔انسان سے ہو یا اس کے لفظ سے،"محبت ایک ہے" اس کے بعد انسان جتنی بھی محبتیں کرتا ہے وہ پہلی محبت کا عکس ہوتی ہیں۔ ایک کھوج کی سی کیفیت محسوس ہوتی ہے جس میں انسان اس اولین لمس کی چاہ کرتا ہے۔بظاہر یہ بےوفائی یا سطحی پن کی بےقراری دکھتی ہے لیکن محبتوں کا سفر ہی انسان کو پہلی محبت پر یقین عطا کرتا ہے۔۔۔ وہ پہلی محبت جو روح میں اتر جاتی ہے تو اپنی روح کی سچائی بیان کرتی ہے،یہ محبت محبوب کی خوبی ہی نہیں بلکہ چاہنے والے کی اپنی ذات کا آئینہ بھی ہوتی ہے۔ آنکھ کا وہ منظر جو قربت کی انتہا میں ہماری آنکھ کے پردے پر ثبت ہو جاتا ہےاور یہ منظر عمر کے ہر موسم میں نہ صرف ساتھ رہتا ہے بلکہ اس کا ساتھ ہر موسم کی سختی سہنے کا ہنر عطا کرتا ہے۔ 
محبت ایک لامحدود جذبے کا نام ہے۔ محبت کو اگر صرف اپنے جیسے انسان سے مشروط کر دیا جائے تو محبت کے ساتھ اس سے بڑی ناانصافی اور کوئی نہیں ۔ انسان سے محبت صرف محبت کا جذبہ بانٹنے کی خواہش ہے اور کچھ بھی نہیں ۔انسان سے محبت کی ایک وجہ اُس کا جواب دینا ہے کہ رنگوں خوشبوؤں اور لفظوں سے محبت کے بعد ہمیں ان کی طرف سے وہ جواب نہیں ملتا جس کی چاہ ہماری جبلت کا حصہ ہے۔ہمارے قریب آنے والے ۔۔ہماری سوچ کے در پر دستک دینے والے زیادہ تر لوگ نہ ہماری محبت ہوتے ہیں اور نہ ہم اُن کی۔بلکہ اکثراوقات عمر اور رُتبے کے اعتبار سے بھی ہم سے میل نہیں کھاتے۔لیکن محبت کا حوالہ جب آتا ہے تو سب دوریاں نزدیکیوں میں بدل جاتی ہیں۔۔۔محبت کے اسرارورموز کھلتے ہیں۔۔۔ کبھی اُن سے مل کر اپنی محبتوں پر یقین مستحکم ہوتا ہے۔تو کبھی اُن کے فلٹر سے گذر کر اپنی سنہری محبت محض ریت ہی ریت دِکھتی ہے۔کبھی وہ ہمیں محبت کرنا سکھاتے ہیں تو کبھی محبت بانٹنا۔۔۔کبھی محبوب کی دلداری کے رمز سے آشنا کرتے ہیں تو کبھی محبوب کے منصب پر فائز کرتے ہیں۔ زندگی جینے کی خواہش رکھتے ہو تو اپنے ہر رنگ کو اپنانے کا حوصلہ بھی رکھو۔
۔۔۔۔۔۔۔
شعری مجموعے. ابنِ انشاء۔۔
٭چاند نگر ۔۔۔ 1955 
پیش لفظ ۔۔۔یہ اس زندگی کے خاکے ہیں جو میں نے اٹھائیس برس میں بسر کی ہے گرجا کا گھڑیال جو دو بجاتا ہے گاڑی کی سیٹی جو گونج اٹھتی ہے ریل کی پلیا بھی کہ مضافات میں نظر آتی ہے اور چاند۔۔۔آبادیوں اور ویرانوں کا چاند ۔۔۔یہ سب ماضی کی کھونٹیاں ہیں جن پر میں نے یادوں کے پیراہن لٹکا رکھے ہیں اب آپ میرا ساتھ چھو ڑ کر اس چاند نگر کی سیر کیجئے اور میں نے اسے تلانجلی دے کر کسی نئے سفر پر نکلوں گا۔ ایڈگرایلن پوکی ایک نظم ہے ال ڈے راڈو۔۔۔یعنی شہرِتمنا۔۔۔اگر تمہیں اس شہرجادو کی تلاش ہے تو چاند کی پہاڑیوں کے ادھر سایوں کی وادیء طویل میں قدم بڑھائے گھوڑا دوڑاتے آگے سے آگے بڑھتے جاؤ۔ شاعر کو بھی ذہنی طور پر سندباد جہازی یا یولیسس ہونا چاہیے یعنی اُس کے سامنے ایک نہ ایک ال ڈے راڈو ۔ایک نہ ایک چاند نگر کا ہونا ضروری ہے۔ سنا ہے اگر جادو کے موہوم شہروں کی طلب میں جولاں رہنے والے دیوانے نہ ہوتے تو یہ زندگی بڑی ہی سپاٹ اور بےرنگ ہوتی۔ لیکن نہ مجھے اپنا حُسن کا ال ڈےراڈو ملا ہے نہ زندگی کا شہرِ تمنا۔۔۔ میری منزل چاند کی پہاڑیوں کے ادھر سایوں کی وادی طویل میں ہے اس سے واپسی ہوئی تو جو کچھ دامن میں ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ کلیاں ،کانٹے، یا غبار، وہ پیش کروں گا۔۔
٭اس بستی کے اِک کوچے میں۔۔۔1976
پیش لفظ ۔۔۔ایک طرف اسباب دنیا کی فراوانی ہے غلے کے گودام بھرے ہیں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں دوسری طرف حبشہ اور چڈاریٹڑ کی جھلسی ہوئی ویرانی میں انسان اناج کے ایک دانے کے لئے جانوروں کا سوکھا گوبر کرید رہا ہے اور ہزاروں لاکھوں لوگ تپتے تانبے کے آسمان تلے ایڑیاں رگڑتے دم توڑ رہے ہیں‘۔ شاعر اور ادیب کا ضمیر عالم کی آواز کہلاتا ہے، اپنی ذات کے خول میں دم سادھے بیٹھا ہے احتجاج کی منحنی صدا بھی نہیں۔ ایسے میں ذاتی جوگ بجوگ کی دھوپ چھاؤں کا یہ مرقع پیش کرتے ہوئے ہم کیسے خوش ہو سکتے ہیں یہ ہمارے پچھلے بیس سال کا نامۂ اعمال ہے اب پڑھنے والا بھی حکم صادر کرے۔۔
٭دلِ وحشی۔۔۔ کتاب بعد از وفات(1978) شائع ہوئی۔
اس کے بارے میں جناب سردار محمود اور محمود ریاض نے یوں اظہارِخیال کیا ۔۔" ان کے کاغذات میں سے ایک بیاض بھی ملی تھی جس کا عنوان دل وحشی تھا۔ شاید انہوں نے اپنے تیسرے مجموعہ کلام کا عنوان سوچا تھا سو اب یہ مجموعہ اسی نام سے شائع کیا جا رہا ہے اس مجموعہ کلام میں جو غزلیں ،نظمیں،شائع کی جا رہی ہیں وہ انشا جی کی بیاض میں لکھی ہوئی ہیں ہو سکتا ہے ان کا ارادہ نظر ثانی کرنے کا ہو لیکن زندگی نے مہلت نہ دی ہمیں یہ جس حالت میں ملی ہیں اسی صورت میں شائع کر دی ہیں۔ بہت سی نظمیں۔ غزلیں،نامکمل ہیں ممکن ہے خام صورت میں ہوں۔ کچھ کے صرف ایک دو شعر ہی کہے گئے ہیں۔۔۔۔۔ یہ اشعار جو ہمیں ملے ہیں انشا جی نے مختلف ادوار میں کہے ہیں۔ اس لیے ہو سکتا ہے کہ قاری کو اس میں پہلے دور کی تازگی محسوس ہو۔ رہی رومانویت اور پرانے موسموں کی خوشبو جو چاند نگر کا خاصا ہیں اور کہیں اس پختگی کا احساس ہو جو اس بستی کے ایک کوچے میں پائی جاتی ہے لیکن مجموعی طور پر آپ کو اس میں انشا جی کا تیسرا رنگ نظر آئے گا اس میں انہوں نے اپنے جوگ بجوگ کی دھوپ چھاؤں کا مرقع ہی نہیں انسانی زندگی کی دھوپ چھاؤں کا مرقع بھی پیش کیا ہے۔
اس مجموعے میں اگر آپ کو کوئی خامی یا کمزوری نظر آئے تو اسے صرف ہم سے منسوب کیجئے گا انشا جی سے نہیں کہ اگر زندگی وفا کرتی تو نہ جانے کس صورت میں آپ کے ہاتھوں میں پہنچتا۔
سردار محمود ۔۔۔۔محمود ریاض
۔۔۔۔۔۔
۔"دلِ وحشی" سے انتخاب۔۔۔۔میری ڈائری سے میرے بلاگ تک۔۔
"کیوں نام ہم اُس کا بتلائیں" 
تم اس لڑکی کو دیکھتے ہو
تم اس لڑکی کو جانتے ہو
وہ اجلی گوری ؟ نہیں نہیں
وہ مست چکوری نہیں نہیں
وہ جس کا کرتا نیلا ہے ٘؟
وہ جس کا آنچل پیلا ہے ؟
وہ جس کی آنکھ پہ چشمہ ہے
وہ جس کے ماتھے ٹیکا ہے
ان سب سے الگ ان سب سے پرے
وہ گھاس پہ نیچے بیلوں کے
کیا گول مٹول سا چہرہ ہے
جو ہر دم ہنستا رہتا ہے
کچھ چتون ہیں البیلے سے
کچھ اس کے نین نشیلے سے
اس وقت مگر سوچوں میں مگن
وہ سانولی صورت کی ناگن
کیا بے خبرانہ بیٹھی ہے
یہ گیت اسی کا درپن ہے
یہ گیت ہمارا جیون ہے
ہم اس ناگن کے گھائل تھے
جب شعر ہماری سنتی تھی
خاموش دوپٹا چنتی تھی
جب وحشت اسے ستاتی تھی
کیا ہرنی سی بن جاتی تھی
یہ جتنے بستی والے تھے
اس چنچل کے متوالے تھے
اس گھر میں کتنے سالوں کی
تھی بیٹھک چاہنے والوں کی
گو پیار کی گنگا بہتی تھی
وہ نار ہی ہم سے کہتی تھی
یہ لوگ تو محض سہارے ہیں
انشا جی ہم تو تمہارے ہیں
اب اور کسی کی چاہت کا
کرتی ہے بہانا ۔۔۔ بیٹھی ہے
ہم نے بھی کہا دل نے بھی کہا
دیکھو یہ زمانہ ٹھیک نہیں
یوں پیار بڑھانا ٹھیک نہیں
نا دل مانا، نا ہم مانے
انجام تو سب دنیا والے جانے
جو ہم سے ہماری وحشت کا
سنتی ہے فسانہ بیٹھی ہے
ہم جس کے لئے پردیس پھریں
جوگی کا بدل کر بھیس پھریں
چاہت کے نرالے گیت لکھیں
جی موہنے والے گیت لکھیں
اس شہر کے ایک گھروندے میں
اس بستی کے اک کونے میں.
کیا بے خبرا نہ بیٹھی ہے
اس درد کو اب چپ چاپ سہو
انشا جی کہو تو اس سے کہو
جو چتون کی شکنوں میں لیے
آنکھوں میں لیے،ہونٹوں میں لیے
خوشبو کا زمانہ بیٹھی ہے
لوگ آپ ہی آپ سمجھ جائیں
کیوں نام ہم اس کا بتلائیں
ہم جس کے لیے پردیس پھرے
چاہت کے نرالے گیت لکھے
جی موہنے والے گیت لکھے
جو سب کے لیے دامن میں بھرے
خوشیوں کا خزانہ بیٹھی ہے
جو خار بھی ہے اور خوشبو بھی
جو درد بھی ہے اور دارو بھی
لوگ آپ ہی آپ سمجھ جائیں
کیوں نام ہم اس کا بتلائیں
وہ کل بھی ملنے آئی تھی
وہ آج بھی ملنے آئی ہے
جو اپنی نہیں پرائی ہے
۔۔۔۔۔۔
برسوں پہلے لکھے۔۔۔ مٹتے حرف ۔۔۔۔ میری ڈائری سے ۔۔۔۔۔۔

٭ابنِ انشاءاور عشقِ انشاء ۔۔
۔"اور اوکھے لوگ" از ممتاز مفتی
جلتا بُجھتا ۔۔صفحہ 35 ۔۔36
احمد بشیر کا کہنا ہے کہ انشا نے بڑی سوچ بچار سے عشق لگایا تھا۔ ایسی محبوبہ کا چناؤ کیا جو پہلے ہی کسی اور کی ہوچکی تھی۔شادی شدہ تھی، بچوں والی تھی۔ جس کے دل میں انشا کے لئے جذبہ ہمدردی پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔جس سے ملنے کے تمام راستے مسدود ہو چکے تھے۔ اپنے عشق کو پورے طور پر محفوظ کر لینے کے بعد اس نے عشق کے ساز پر بیراگ کا نغمہ چھیڑ دیا۔مواقع تو ملے مگر انشا نے کبھی محبوبہ سے بات نہ کی۔ ہمت نہ پڑی۔ اکژ اپنے دوستوں سے کہا کرتا۔۔۔ " یار اْسے کہہ کہ مجھ سے بات کرے "اس کے انداز میں بڑی منت اور عاجزی ہوتی پھر عاشق کا جلال جاگتا۔۔۔۔ کہتا۔۔۔ " دیکھ اس سے اپنی بات نہ چھیڑنا۔۔ باتوں باتوں میں برُا نہ منا لے۔ ۔"محبوبہ تیز طرار تھی۔ دنیا دار تھی۔ پہلے تو تمسخر اڑاتی رہی۔ پھر انشا کی دیوانگی کو کام میں لانے کا منصوبہ باندھا۔ اس دلچسپ مشغلے میں میاں بھی شریک ہوگیا۔ انشا کو فرمائشیں موصول ہونے لگیں۔ اس پر انشا پھولے نہ سماتا۔دوستوں نے اسے بار بار سمجھایا کہ انشا وہ تجھے بنا رہی ہے۔انشا جواب میں کہتا کتنی خوشی کی بات ہے کہ بنا تو رہی ہے۔ یہ بھی تو ایک تعلق ہے۔ تم مجھے اس تعلق سے محروم کیوں کر رہے ہو۔ایک روز جب وہ فرمائش پوری کرنے کے لئے شاپنگ کرنے گیا تو اتفاق سے میں بھی ساتھ تھا۔میں نے انشا کی منتیں کیں کہ انشا جی اتنی قیمتی چیز مت خریدو۔ تمہاری ساری تنخواہ لگ جائے گی۔انشا بولا۔ " مفتی جی ، تمہیں پتہ نہیں کہ اس نے مجھے کیا کیا دیا ہے۔ اس نے مجھے شاعر بنا دیا۔ شہرت دی۔۔ زندگی دی۔انشا کی آنکھوں میں آنسو چھلک رہے تھے۔ 
٭ابنِ انشاءاورقدرت اللہ شہاب۔۔۔۔
( شہاب نامہ ﺍﺯ ﻗﺪﺭﺕ ﺍﻟﻠﮧ ﺷﮩﺎﺏ )
صفحہ 1 تا 5۔۔۔
"ﺍﺑﻦ ﺍﻧﺸﺎﺀ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﺳﮯ ﺩﻭ ﮈﮬﺎئی ﺳﺎﻝ ﻗﺒﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﻣﻠﻨﮯ ﻟﻨﺪﻥ ﮔﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﻋﻼﺝ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﻣﻘﯿﻢ ﺗﮭﺎ۔ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﺧﺮﯼ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﺗﮭﯽ۔ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﺑنِ ﺍﻧﺸﺎﺀ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﻗﺪﺭ ﻣﺰﺍﺣﯿﮧ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﺟﺎئزہ ﻟﯿﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﻞ ﺟﺎئے ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻭﮦ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﮔﺰﺍﺭﻧﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﮔﺎ۔ﺍﺱ ﮐﯽ تشنئہ ﺗﮑﻤﯿﻞ ﺗﻤﻨﺎؤﮞ،ﺁﺭﺯﻭؤﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﻨﮕﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻔﺼﯿﻞ ﺍﺗﻨﯽ ﻃﻮﯾﻞ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺳﻨﺎﺗﮯ ﺁﺩﮬﯽ ﺭﺍﺕ ﺑﯿﺖ گئی۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ مجھ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻧﺼﯿﺐ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺑﺴﺮ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﻮ ﮔﮯ؟ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺨﺘﺼﺮﺍ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﮐﺞ ﻓﮩﻤﯿﻮﮞ، ﮐﻤﺰﻭﺭﯾﻮﮞ،ﺧﻄﺎ ﮐﺎﺭﯾﻮﮞ ﺍﻭﺭﻏﻔﻠﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﺻﻼﺡ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﮭﯽ ﻣﺠﻤﻮﻋﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮔﺰﺍﺭﻧﺎ ﭼﺎﮨﻮﮞ ﮔﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﮐﮧ ﻣﻮﺟوﺩﮦ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔"
۔۔۔۔۔۔
٭ابن انشاء-شاعر ترا، انشاء ترا۔۔۔۔از راشد اشرف
انشاء جی کی قبر پر کتبہ نہیں ہے۔
کچھ عرصہ قبل شام مغرب کے وقت مشفق خواجہ صاحب کی لائبریری کا قصد تھا اور وہاں حآضری سے قبل خیال آیا کہ انشاءجی کو سلام کرلیا جائے۔ دو برس پیشتر آج ٹی وی کے ایک رپورٹر جن کو ہم جناب ابن صفی کی قبر پر لے گئے تھے، قریب سے گزرتے وقت ہاتھ کے اشارے سے کہا تھا"یہ انشاء جی کی قبر ہے"۔
جس طرف وہ ہاتھ کا اشارہ کرتا تھا وہ قبرستان کا داخلی رستہ تھا، گاڑی چشم زدن میں اس کے سامنے سے گزر گئی تھی۔ اس روز نہ صرف انشاء جی کی بے نام ونشان قبر ملی بلکہ وہاں اطمینان سے فاتحہ پڑھنے کا موقع بھی نصیب ہوا۔
کراچی کے دوڑتے بھاگتے بے رحم ٹریفک سے بےنیاز، لب سڑک ہمارا پسندیدہ شاعر محوِاستراحت ہے، ایک پختہ احاطے میں خاندان کی پانچ قبریں--- کتبہ نہ ہونے کی وجہ سے عام لوگ بےخبر - ہاں مگر ایک پھول بیچنے والا باخبر نکلا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭خطوط ابنِ انشاء۔۔۔
ابنِ انشا اور خلیل الرحمٰن اعظمی
http://www.urdulibrary.org/…/36-ibn-e-insha-aur-khalil-ur-r
اہم حوالہ جات۔
شیر محمد، ابنِ انشاء "از ڈاکٹر ریاض احمد ریاض"
(سالگرہ کے حوالے سے خاص مضمون)
http://nlpd.gov.pk/uakhbareu…/junejuly2013/jun,%20jul_3.htm


2 تبصرے:

  1. حسن یاسر نے کہا۔۔۔
    دل بھی عجیب شہر ہے آباد ہونے کی خواہش کرے تو ایک شخص ہی اسے رنگوں میں نہلا دیتا ہے۔۔۔ روشنیوں سے سجا دیتا ہے۔عمر اور رتبے کا لحاظ وە کریں جو سود و زیاں کا حساب رکھتے ہیں۔ جن کے لیے محبت کا ایک حوالہ زندگی کی نوید ہو ان کے من صحرا میں تو عنایات کی برکھا ٹوٹ کے برستی ہے۔ محبت سے لی گئی سانس لوگوں کے ہجوم میں ایک چہرے تک رسائی حاصل کر کے زندگی کا مفہوم جان لیتی ہے۔ سانس کے لمس کو دل اپنی دھڑکنوں میں جذب کر کے زندگی کے "نور" سے بھر لیتا ہے۔ دنیا کی بھیڑ میں وە چہرہ گم بھی ہو جائے تو دل کا شہر اس کے مہکتے خیال سے آباد رہتا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. اسی لیے تو میرتقی میر نے کہا تھا
      دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہو سکے
      پچھتاؤ گے، سنو ہو، یہ بستی اجاڑ کے

      حذف کریں

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی

گوگل اورگاڈ - مجیب الحق حقی بشکریہ۔۔دلیل ویب سائیٹ۔۔اشاعت۔۔11نومبر 2017۔ خدا کی قدرت اتنی ہمہ گیر کس طرح کی ہوسکتی ہے کہ کائنات کے ہر ...