صفحہِ اول

منگل, جون 16, 2015

"کردار سے دائرہ کار تک"

 معاشرہ فرد سے بنتا ہے۔مرد اورعورت معاشرے کے بنیادی جزو ہیں۔معاشرتی ،معاشی،اخلاقی اورمذہبی زنجیروں سے قطع نظر
۔۔۔ دنیا کا ہرانسان خواہ مرد ہو یا عورت اپنے افعال وکردار میں آزاد پیدا ہوتا ہے۔ ساری زندگی اِن زنجیروں کی جھنکار اسے اُس کی اوقات یاد دلاتی رہتی ہے۔۔یہ قید طاقت بھی ہے جو درحقیقت اُس کی سیماب صفت فطرت کے لیے آب حیات کا کام کرتی ہے۔ انسان اپنی طبعی عمر پوری کر کےاس فانی دنیا کی ہر قید وبند سے ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جاتا ہے۔آگے کی جزاوسزا ایک الگ کائنات کی کہانی ہے۔
مرد کا دائرہ کار اُس کے کردار کا تعین کرتا ہےجبکہ گھر میں عورت کا کردار اُس کے دائرہ کار کی راہ متعین کرتا ہے۔
گھر اور معاشرے میں عورت کے کردار کے حوالے سے مرد اور عورت دونوں اپنے طور پر ہمیشہ سے اُلجھن کا شکار رہے ہیں۔ایک"تہذیب یافتہ"معاشرے کا حصہ ہوتے ہوئے ہم سب جانتے ہیں سمجھتے ہیں لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی حقائق کو اپنے خیال پر فوقیت دینا پڑتی ہے۔اگر مرد اپنی ذاتی زندگی میں کم ازکم خیال کی حد تک عورت کی اہمیت اور ضرورت محسوس کر لے اورعورت حقیقت کی آنکھ سے دیکھ کر اپنا اصل مقام پہچان لے۔۔۔ توجہاں مثبت طرزفکر مرد کی گھریلو زندگی پرسکون بنا دیتا ہے۔۔۔ وہیں اپنے اصل مقام کی پہچان اور اس سے دیانت داری عورت کے لیے فکر وخیال کی نئی دنیاؤں کے راستے کھول سکتی ہے۔ہمارے معاشرے میں عورت کی سوچ اور فکر کی تازگی کے لیے سازگار ماحول کا ہونا خواب وخیال کی بات ہے۔۔ ہر وہ عورت جو ایک بنے بنائے راستے پر نہ چلنا چاہے اورخود سے وابستہ رشتوں کو ساتھ رکھتے ہوئے بھی صرف اپنی ذات کے لیے ایک نئے راستے کی چاہ کرے ۔اس کے لیے یہ سفر عشق کے سفر کی طرح پہاڑ میں سے دودھ کی نہر نکالنے کے مترادف ہے۔ عورت وہ چراغ ہے جس کی روشنی جانتے ہوئے،مانتے ہوئے بھی سب اُس سے خائف رہتے ہیں۔
عورت کا اصل مقام صرف اس کا گھر ہے۔وہ گوشۂ عافیت خواہ جہاں اس کی سوچ کی عزت دو کوڑی کی بھی نہ ہو۔۔۔ اس کے ذہن کو نہیں اس کے جسم کو اہمیت دی جاتی ہے۔۔۔اس کی انفرادی حیثیت نہیں بلکہ اس سے جڑے رشتوں کی وجہ سے اس کو پہچانا جاتا ہے،عورت جتنا جلد یہ بات سمجھ جائے اتنا جلد سمجھوتہ کرنے میں آسانی رہتی ہےلیکن یہ وہ پھانس ہے جو اکثر بہت چبھن دیتی ہے۔معاشرے کے پسے ہوئے طبقات کی کمزور اور ان پڑھ عورت کے مسائل سے پرے وہ عورت جو ڈگری یافتہ ہی کیوں نہ ہو اور معاشرے میں ایک مقام بھی رکھتی ہو اپنے گھر والوں کے حوالے سے ناقدری کی سوچ کبھی نہ کبھی اس کو ڈنگ ضرور مارتی ہے۔کچھ کے لیے یہ زہر زندگی بخش ثابت ہوتا ہے اور وہ اسے کہیں  اندر جذب کر کے،سر جھٹک  کر آگے بڑھ جاتی ہیں۔
ادب اور فنونِ لطیفہ کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کرنے والی تقریباً ہر عورت کی زندگی کہانی اس کی روشن مثال ہے۔کچھ نام جن کی زندگی کے بارے میں کتاب آشنا بخوبی جانتے ہیں۔بانو قدسیہ،پروین شاکر،کشورناہید(بری عورت کی کتھا)شبنم شکیل (شاعرہ)،ادا جعفری۔نیلم احمد بشیر(لکھاری اور  بشرٰی انصاری کی بڑی بہن)،خود بشرٰی انصاری اور ایک طویل فہرست ہے جن سے مطالعہ کرنے والے بخوبی واقف ہوں گے۔ ان سب میں عورت کے جذبات اور کردار کی حقیقی ترجمانی اور اپنی ذات کی نفی کر کے بھی اپنی ذاتی حیثیت منوانے کی بنا پر بانوقدسیہ زندگی کے ہر میدان میں  مثال کے حوالے سے  سرفہرست ہیں۔ بظاہر دیکھنے میں وہ چاند سورج کی جوڑی تھی۔۔۔ایک آئیڈیل ملاپ۔ زمانے سے ٹکرا جانے والی محبت کی داستان اور ایک ساتھی کے ہمیشہ کے لیے جدا ہونے تک "کامیاب" شادی شدہ زندگی۔لیکن اصل راز سے پردہ محترمہ بانو قدسیہ نے اپنی کتاب راہ رواں میں خود ہی اُٹھا دیا۔ وہ رام کہانی جس کے بارے میں ڈھکے چھپے انداز سے ممتازمفتی بھی کہتے رہے، یہ اور بات کہ اس سلیقے اور سادگی سے بانو قدسیہ نے اپنی پسپائی کو بیان کیا کہ پڑھنے والا کہیں بھی اسے خود ترسی نہیں سمجھتا۔۔۔ بانو قدسیہ نے اپنے مقام کو پہچان کر اس کے اندر رہتے ہوئے اپنا نام نہ صرف ادب کی دنیا میں منوایا بلکہ ایک بہترین ساتھی  اور مشفق ماں کی روشن  مثال ہیں۔ 
عورت کی دوسری انتہا،ایک اور رُخ یہ ہے کہ  بظاہر ترقی وکامرانی کی بلندیاں ہی کیوں نہ چھوتی نظر آئیں،کچھ آگہی کے اس زہر کے اثر سے  زہر آلود ہو جاتی ہیں پھر نہ صرف خود کو تباہ کر بیٹھتی ہیں بلکہ ایک خاندان اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔اس بارے میں ہم تقریباً ہر روز کہیں نہ کہیں دیکھتے اورپڑھتے رہے ہیں۔اندر کی بات نہ جانتے ہوئے بھی گھر بچانے میں عورت کا کردار مرد سے زیادہ اہم ہےاور زیادہ ذمہ داری عورت پر ہی عائد ہوتی ہے۔۔ ہر دو رویے دیکھنے والی آنکھ بخوبی سمجھ سکتی ہے۔


10 تبصرے :

  1. جی

    باجی

    سلام علیکم

    سب سے پہلے آپ کو رمضان کی خوشیاں مبارک ہوں... دعاء کی درخاست.

    ماشا اللہ بہت خوب تر لکھا ہے آپ نے بھی...

    آپ کے مضمون کے کچھ حصّہ کا میں احاطہ کروں گی. آپ کا مضمون بہت طویل ہے. ایک آپ ہی کے مضامین ہوتے ہیں اور تو کوئ لکھتا نہیں. آپ کا یہ مضمون آسان ہے اس لیئے لکھ رہی ہوں ورنہ اونچے معیار کے ہوتے ہیں آپ کے مضامین. پلّے ہی نہیں پڑتےمیرے تو لکھوں گی کیا.؟


    عورت ہر حال میں خیر
    ہے (ایک حدیث)

    (ترجمہ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اللہ کےرسول صلعم کے پاس آیا. اس نے کہا کہ اے خدا کے رسول ! لوگوں میں کون ہے جو سب سے زیادہ میرے حسن سلوک کا مصتحق ہے.؟ آپ صلعم نے فرمایا تمھاری ماں. اس نے کہا پھر کون.؟ آپ نے فرمایا تمھاری ماں. اس نے تیسری بار کہا پھر کون.؟ آپ نے فرمایا تمھاری ماں. اس نے پھر چوتھی بار پوچھا پھر کون.؟ آپ صلعم نے کہا تمھارا باپ.

    ماں کی صورت میں عورت کو سب سے زیادہ قابل احترام بنانا بتاتا ہے کہ اسلام کس قسم کا معاشرہ دیکھنا چاہتا ہے. اسلام کے نزدیک سب سے زیادہ بہتر معشرہ وہ ہے جس میں عورت کو سب سے زیادہ عزت و احترام کا مقام حاصل ہو. جو شخص "ماں" کے روپ میں ایک خاطون کا سب سے زیادہ لحاظ کرے. اس کے اندر لازمی طور پر یہ مزاج بنے گا کہ وہ دوسری خواتین کا بھی سب سے زیادہ لحاظ کرے گا. اس طرح پورے معاشرہ میں عورت کو وہ مقام مل جائگا جو گھر کے اندر ایک ماں کو ملا ہو.
    اظہار خیال کی آزادی

    خلیفہ ثانی عمر فاروق رضی اللہ عنہ ممبر پر کھڑے ہوئے اور لوگوں سے کہا کہ : تم لوگ عورتوں کے زیادہ مہر نہ باندھو.. اس کے بعد ایک عورت اٹھی اور اس نے بلند آواز سے کہا: اے عمر! اس معاملہ میں آپ کو دخل دینے کا حق نہیں. کیونکہ اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ اگر تم نے عورتوں کو زیادو مال دیا ہو تو اس میں سے کچھ نہ لو. یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی
    بات واپس لے لی اور کہا: عورت نے سہی بات کہی اور عمر نے غلطی کی.

    حضرت عمر فاروق اپنے وقت کے حکمران تھے. ان کو ایک عام عورت نے برسر عام ٹوک دیا اور کہا اور حکمران کو اپنی بات واپس لینی پڈی. اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک اسلامی معاشرے میں عورت کو کس قدر زیادہ حقوق حاصل ہوتے ہیں.

    موجودہ زمانہ کا یہ زہنی بگاڑ ہے کہ گھر سنبھالنے کو کم درجہ کا کام سمجھا جاتا ہے. اور با ہر کے کام کو زیادہ بڑا کام سمجھ لیا گیا ہے. مگر اسلام گھر سنبھالنے کے کام کو بھی ا تنی عزت کا درجہ دیتا ہے جتنا کہ باہر کے کام کو. حقیقت یہ ہے کہ دونوں یکساں اہمیت کے کام ہیں. ان میں سے کسی فریق کو یہ حق نہیں کہ وہ احساس برتری میں مبتلا ہو اور نہ کسی فریق کو چاہیئے کہ وہ احساس کمتری کا شکار ہو کر اپنی اہمیت خود اپنی نظر میں گھٹا لے.

    سب نہیں ، بعض مرد حضرات اپنے کام کو اتنا بڑھا کر پیش کرینگے جیسے پہاڑ کھود کر آرہے ہوں... (یہ میری رائے ہے)..

    وسلام
    بشرٰی خان
    * میری اردو بہت کمزور ہے غلطیاں معاف فرمائیگا. جتنا کچھ لکھ پائ ہوں محترم افتخار اجمل صاحب کی Guidance کی وجہ سے.

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. جزاک اللہ ۔آپ نے بہت سادگی اور سچائی سے اپنی سوچ شئیر کی ۔ نبی کریمﷺ اور اصحاب نبیﷺ کے بعد تو مزید کچھ کہنے کی گنجائش ہی نہیں۔ میں آپ کے خیال سے متفق ہوں۔ اسی طرح بلا جھجھکے کہہ دیا کریں۔

      حذف کریں
  2. Kamran Shahid
    اگر کوئی عورت پر ہاتھ اٹھاتا ہے اس کی تذلیل و تحقیر کرتا ہے اسے زدوکوب کرتا ہے یا کسی بھی قسم کی ظلم زیادتی اس پر روا رکھتا ہے...تو اسے مرد کہنا مردانگی کی تذلیل کرنا ہے...وہ حیوان ہے...لیکن اس کو حیوان بنانے میں عورت ہی قصوروار ہوتی ہے...
    خدا نے عورت کو لطافت نفاست و ضرافت جیسی پیچیدہ تر خوبیاں عطا کیں...اور اسے ایسی صلاحیتیں دیں جن سے مرد محروم ہے جو مرد نہیں کر سکتا جو مرد کی قوت سے بالاتر امور ہیں...کیونکہ اس سے بہت بڑا کام لیا جانا ہے بہت عظیم مقصد پورا کرنا ہے بہت بڑا بلند تر گہرا اور وسیع تر ہدف اور کام عورت کے ذمے ہے...
    اور وہ بڑا اور عظیم ہدف ھے انسان سازی...یعنی جو گوشت پوست کی یہ مخلوق ہے اس میں انسانی کمالات بیدار کرنا عورت کا کام ہے...تاکہ انسان بن کر یہ خلافت خدا کی عظیم ذمہ کے لیے اہل بن سکے...
    انسان عورت کی گود یا درسگاہ یا تربیت گاہ میں دو سال تک رہتا ہے تاکہ وہ عورت اس میں خدائی صفات کو اجاگر کر کے اسے سنوار کر اس میں خدائی صفات ڈال کر اسے انسانیت کے کمال تک پہنچائے...
    جہاں سے وہ خلیفہ خدا پیشوائے مخلوقات اور مخلوقات کی ملک و قوم کی امامت کے قابل بن سکے...
    یہ بڑی ذمہ داری عورت کے سپرد ہے...
    لیکن اگر عورت اپنی ذمہ داری میں غفلت کرے تو یہی وجود انسان کے بجائے حیوان و درندہ بن جاتا ہے اور پلٹ کر اسی عورت پرہاتھ اٹھاتا ہے اسی کی ذلیل کرتا ہے اسی کی عزت کو تارتار کرتا ہے...یہ غفلت کا نتیجہ ہے...
    الغرض عورت کا مقام بہت ہی بلند تر اور عظیم ہے اور اس کی ہستی خدا کے رازوں میں سے اک راز ہے...
    ہاں یہ الگ بات ہے کہ آج کے معاشرے میں فضلہ خور میڈیا نے اس سے اس کا مقام اس کا ھدف لے کر اسے کہیں اور لگا دیا ہے...

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. آپ نے بہت خوبی سے اس پیچیدہ رام کہانی کی گتھی سلجھانے کی کوشش کی۔ شاید یہی نکتہ میرے اس خیال کی بنیاد بھی ہے کہ عورت کو اپنے شرف کی پہچان ہی نہیں۔ معاشرے کے بہت سارے مسائل اور بگاڑ کی اصل وجہ بھی یہی ہے۔

      حذف کریں
  3. Baji

    Salam alekum

    Ramzan Mubarak Ho

    Aap ke Mazmun "Aurat" ke zere Unwan Sher o Nagma Peshe Qidmat hain.

    امید کہ آپ کو پسند آئیں گے...

    . . . . . . . . سچّے بول . . . . . . . .


    عورت پہ یہ تہزیب کے ڈالے ہوئے گھیرے
    کرگس کے ہیں چُنگل میں ممولوں کے بسیرے


    اب فلم کے نغموں سےابھرتی ہیں شعائیں
    ہوتے تھے کسی وقت نمازوں میں سویرے


    خاتون حرم کے لیئے گھر ہی میں امان ہے!
    جس دیس میں ہرسمت ہوں عصمت کے لٹیرے


    اِن اہل سیاست کےفریبوں میں نہ آنا!!
    سانپوں کو لیئے پھرتے ہیں جیبوں میں سپیرے


    باتوں سے بھی بدلی ہے کسی قوم کی تقدیر!
    جُگنو کی چمک سے کہیں جاتے ہیں اندھیرے


    اربابِ حکومت کے نہ وعدوں پہ لگا آس
    اے دوست! یہ سائے تو نہ میرے ہیں نہ تیرے!


    تہزیب فرنگی کے یہ سفّاک شکنجے
    زلفوں کے بھی سائےنہیں ہوتے گھنیرے!


    اس دَور پُر آشوب میں باطِل کے مقابل!
    کچھ بھی ہو مگر ڈال دیئے ہم نے بھی ڈیرے

    گمنام

    ......


    . . . . . . . . جہیز . . . . . . . .


    غریب باپ کی بیٹی
    دلہن نہیں بن سکتی
    اس کے پاس
    صرف ایک خوبصورت لڈکی یے
    اور دینے کے لیئے
    مال و زر نہیں
    سارا معاشرہ
    پھنسا ہے ایسے دلدل میں
    جس سے نکلنا
    بہت مشکل یے
    تب تک وہ نازک کلی
    نزرِ آتش ہو جائے گی
    اس سزا کا
    حقدار کون یے؟
    جو دلہن بننے سے پہلے
    جوگن بن جاتی ہے
    اس خطرناک بیماری کا
    سزا وار کون ہے؟
    ہم؟ یا آپ؟


    صبا کوثر*

    Bushra khan

    جواب دیںحذف کریں
  4. 18 جون 2015
    کامران شاہد نے کہا
    مجھے بچپن میں ہی عورت سے نفرت و چڑ سی ہوگئی تھی . . . اور اب تک ہے . . . اب جوانی میں عورت کی کشش کے برخلاف نفرت مزید پختہ ہو چکی . . . لیکن اس کے باوجود میں عورت کی عظمت وقوت اور اس کی حیرت انگیز و تعجب خیز صلاحیتوں سے انکار نہیں کرتا . . . اصل میں کر ہی نہیں سکتا . . . نہ ہی میرے انکار کرنے سے حقیقت بدل جاتی ہے . . . لیکن صلاحیتیں بےکار ہیں اگر عورت انہیں کام میں نہ لائے . . . اور انہیں کام میں لانے کےلیے ان کی شناخت ومعرفت و پہچان ازحد ضروری ہے . . . مختصراً جو عورت "خود شناس" ہے وہی عورت قدرت مند،زیبا،باعصمت،اہل شرف وکرامت،باصلاحیت و جرآت مند و اہل ہمت میں سے ہے . . . ان تمام آعلیٰ و ارفع انسانی کمالات وجواہر کا وہی عورت ادرک کر سکتی، پا سکتی اور استعمال میں لا سکتی ہے جو "خود" کو پا لے . . . یعنی خود شناس ہو جائے . .
    مجھے ایسی عورتوں کے بارے میں علم ہے . . . جو خود شناسی میں اس مقام تک پہنچ گئیں اور اپنی صلاحیتیں اس خوبصورت و باقوت انداز میں استعمال میں لا کر ایسے کام سرانجام دئیے . . . کہ ان کاموں کے فلسفے تک کو درک کرنے کیلے ہماری عقل وبصیرت کی حدیں ناکافی پڑھ جاتی ہیں . . .اور وہاں جا کر بڑے سے بڑا فلاسفر و عالم بحرِحیرت و تعجب میں سرتاپا ڈوب جاتا ہےاور سوچتا ہے . . .کہ کاش اگر خدائے عالمین و پروردگارعظیم و کبیر نے اپنے سوا اپنی مخلوق کیلے سجدے کی اجازت دی ہوتی تو یقینن یہ"خود شناس"عورت کو سجدہ فخر و مباہات ہوتا . . .
    یہ ہستی ایسی ہستی ہے...
    کہ اس ہستی سے ہستی ہے...

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. جزاک اللہ ۔
      آپ نے نہایت بےلاگ انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور آپ کی بات سے اتفاق کرتی ہوں۔
      مرد وعورت کی تخصیص سے قطع نظر اصل بات بحیثیت انسان اپنے شرف کی پہچان کی ہے اور جو انسان اس تلاش کی راہ پر پہلا قدم ہی رکھ دے۔ نگاہوں سے پردے ہٹنا شروع ہو جاتے ہیں ۔ اللہ سے دعا یہی کرنا چاہیے کہ ہمیں ان میں شامل نہ کرے جن کے قلوب پر مہریں لگ جاتیں ہیں ۔

      حذف کریں
  5. گھر ہو یا معاشرہ، تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے.ایک ہاتھ کی تالی ہمیشہ تال سے محروم ہی رہا کرتی ہے.بہر حال ہمارے معاشرے میں عورت کو خود سے جُڑے رشتوں اور خود اپنی ذات کے بچاؤ کے لیئے بھی وقتاً فوقتاً قربانیاں دینا پڑتی ہیں.اور اگر کوئی عورت خود سے جُڑے رشتوں کی حدود کو توڑنے کی کوشش کرتی ہے تو اسکا خمیازہ اُسے بھگتنا پڑتا ہے... مرد کا یہ کہ کہا جاتا ہے فطرتاً آزاد پیدا ہوا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں اس آزادی کا جس قدر غلط استعمال ہوا ہے آج اسکے نتائج ہمارے سامنے ہیں...آپ سے مکمل اتفاق ہے کہ عورت کا اصل مقام اسکا گھر ہے.اپنے اصل مقام کی ڈوری سے بندھ کر ہی وہ درست سمت میں سفر کر سکتی ہے...
    آپ کی کہی گئی باتیں سمجھ میں آتی ہیں دل میں گھر کرتی ہیں.بہت سوں کی شاید اصلاح ایسے ہی ممکن یو جائے.خداوند جزائے خیر دے.

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. آپ نے بہت خوبی سے تحریر کے مفہوم کی وضاحت کی۔دوسروں کی اصلاح سے پہلے ہر ایک اپنے آپ کو سمجھے تو ہی بہتری ممکن ہے۔ ہم سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔ اللہ پاک علم کے ساتھ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
      امید کرتی ہوں وقت نکال کراسی طرح اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہیں گی۔

      حذف کریں