جمعہ, مارچ 01, 2013

' لوگ "

دُنیا  رنگارنگ انسانوں کے  احساس سے سجا کیا ہی  عجیب میلہ ہے جہاں زندگی گذارتے، زندگی نبھاتے کئی طرح کی سوچ کے حامل سامنے آتے ہیں۔ایک جوسوائےاپنی ذات کے دُنیا کی ہر چیزمیں کسی نہ کسی برائی کا پہلو ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ اپنے آپ سےتو مطمئن رہتے ہیں لیکن لوگوں کے حوالےسے کُڑھ کراپنی زندگی خود اجیرن بنا لیتے ہیں۔
ایک وہ جوصرف اپنےماضی حال مستقبل سے واسطہ رکھتے ہیں۔۔۔انہیں اپنے آپ سےغرض ہوتی ہے۔ یہ بڑے خوش فہم اور مثبت سوچ کے حامل دِکھتے ہیں۔۔۔ ہربرائی میں "اپنے لیے" اچھائی تلاش کرلیتے ہیں جیسے کہیں آگ دیکھ کر پہلے اپنے ہاتھ سینکتے ہیں بعد میں اردگرد سے لوگوں  کو مدد کے لیے پکارتے ہیں یا پھر اپنی راہ لیتے ہیں۔ پرائی آگ میں کُودنا اِن کے نزدیک سراسر حماقت ہوتی ہے۔
ایک لوگوں کی قسم وہ بھی ہے جو کمی یا کوتاہی 
 سب سے پہلےاپنی ذات میںتلاش کرتے ہیں۔۔۔انہیں جو برائی دوسروں میں نظر آتی ہے پہلےاُسے اپنی ذات میں کھوجتے ہیں۔۔۔ اپنی کمی کو دُور کرنے کی سعی کرتے ہیں۔۔۔لوگوں کی بُرائیوں کی تہہ تک جاتے ہیں۔۔۔اُن کی کم عقلی کا ماتم کرتے ہیں یہ سوچتے ہوئے کہ برائی سب سے پہلے کرنے والے کو ہی نقصان پہنچاتی ہے۔دُنیا میں کسی کو بھی کوئی ایک شخص ایسا نہیں ملا جو اُس کی کہی ان کہی کو سمجھ سکے۔۔۔اُسے محسوس کرے۔۔۔ اُس کی روح کی گہرائی تک سکون وطمانیت اُتار دے۔
ہمارے قریب آنے والے ذہنی طور پر یا تو ہم سے بہت پیچھے ہوتے ہیں یا ہم سے بہت آگے۔ جو پیچھے دِکھتے ہیں اُن سے ہم دُوربھاگتے ہیں۔۔۔دُنیا کےہجوم میں تنہائی کی نعمت میسرہونے کو اِپنی بدقسمتی جانتے ہیں۔۔۔اپنے آپ کو اُس پانی کی طرح محسوس کرتے ہیں جو پیاس بجھانے کی بجائے مسلسل ضائع ہو رہا ہو۔۔۔اپنی میں اپنی ذات میں بادشاہ بن کر اپنا دربار لگاتے ہیں۔۔۔ خودساختہ فخر کا چولا پہن کر اپنی تاج پوشی کرتے ہیں۔۔۔دوسروں کو اُن کے حال پرچھوڑتے ہیں تو اپنے حال سے بھی کُلی طور پر مطمئن نہیں ہوتے۔اس دوران ایسے لوگ بھی ملتے ہیں جو ہمیں اپنے سے آگے نظر آتے ہیں۔اُن کی طرف حسرت سے دیکھتے ہیں ،رشک سے اور یا حسد سے۔۔۔اُن جیسا بننا چاہتے ہیں۔اسی آنکھ مچولی میں زندگی گزرتی رہتی ہے زندگی گزر بھی جاتی ہے،کبھی آنکھ سے عقیدت یا بےتوجہی کی پٹی اُتار کر دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ جس کی چمک دمک آنکھیں خیرہ کیے دیتی تھی وہ محض سرابِ نظر کےسوا کچھ نہیں۔یوں بھی ہوتا ہے کہ جو  دور سے بےکشش دکھتے ہیں قریب جانے پر اُن کے مدار سے نکلنا محال ہو جاتا ہے۔ یہی زندگی ہے اور زندگی کے ہر رنگ کو بقدرِظرف اپنانا اور ایمانداری سے برتنا ہی زندگی کا حسن اور سکون ہے۔
 وقت پر انسان کی پہچان ہی اصل امتحان ہےجو ہمیں اپنی ذات کا علم عطا کرتا ہے۔انسانوں کو پرکھنے میں ہماری"غلطی" بہت بڑا سبق بھی دے جاتی ہے ۔۔۔ہمیں بہت سی غلط فہمیوں سے نجات دلا کر اس کی قربت سے آشنا کرتی ہے جو صرف ہمارا ہوتا ہے اورصرف وہی جانتا ہے کہ ہمارے حق میں کیا صحیح ہے اور کیا غلط ۔۔۔ ہم جس طرح زندگی میں ملنے والے اچھے لوگوں اور خوشبو احساس کے شکرگزار رہتے ہیں کہ وہ ہماری پہچان رکھتے ہیں اسی طرح ملنے والے برے لوگوں اور ٹھوکروں کا بھی ممنون ہونا چاہیے جو ہمیں خود ہماری اپنی پہچان سے آشنا کرتے ہیں۔

1 تبصرہ:

  1. حسن یاسر نے کہا۔۔۔
    دنیا میں ایسے لوگ ضرور ہوتے ہیں جو کہی ان کہی باتیں سمجھ لیتے ہیں بھلے کم ہوں لیکن ہوتے ضرور ہیں ان سے ملاقات ہو جائےتو اپنا آپ چھپانا محال ہو جاتا ہے پھر دل چاہتا ہے کہ خود کو ان پر ظاہر کر دیا جائے اس کے بعد ان کی مرضی ہے وە آپ کو خود ساختہ فخر اور میں سے نکال کر انسانی چولے میں لے آتے ہیں یا نہیں۔ جو لوگ دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے میں لگے رہتے ہیں دراصل قابل رحم ہوتے ہیں اپنی ذات کی خامیاں دوسروں میں دیکھ کر خوش ہو لیتے ہیں کہ اس حمام میں اور بھی ہیں۔ زندگی کا اصل حسن تو نامناسب لوگوں کے ساتھ انکی خوبیوں خامیوں کے ساتھ نباہ کرنے کا نام ہے۔ آپ کسی کے ساتھ چلنے کے لیے اپنے دائیں ہاتھ سے اسکا دایاں ہاتھ پکڑ کر نہیں چل سکتے۔ مناسب نامناسب زندگی کا حصہ ہیں لوگوں کے بارے میں کوئی حتمی رائے اس لیے بھی نہیں دی جا سکتی کہ جو لوگ ہمارے لیے محض ایک لمحے کی گفتگو کا موضوع ہوں کسی دوسرے کے لیے زندگی بھر کی ریاضت کا صلہ ہوں۔ میری اپنی رائے ہے کہ جو ہم سے بہت پیچھے ہوتے ہیں ہمیں ان کو اپنے تک رسائی دینا چاہیے۔۔ اچھوں کے لئے تو سب اچھے ہیں پیچھے رہ جانے والوں کو ساتھ لیکر چلنے والے بہت کم ہیں اور انسان وہی ہیں ورنہ تو لوگوں کا ہجوم ہے......
    .5جون 2015 ۔۔۔۔۔۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں

"ہم سے پہلے"

۔"ہم سے پہلے"۔۔۔کالم جاویدچودھری۔۔۔جمعرات‬‮ 72 جولائی‬‮  بھارت کے کسی صحافی نے اٹل بہاری واجپائی سے جنرل پرویز مشرف کے بارے میں ...