صفحہِ اول

سوموار, نومبر 18, 2013

" ایک عورت ہزارداستان "

دُنیا کے بالا خانے میں قسمت کی دُکان سجائے خواہشوں کے ہارسنگھار کیے۔۔۔راہ چلتے  مرد کی دسترس سے دور لیکن اُس کی نگاہ کے دائرے میں  گردش کرتا عورت کا فقط ایک ہی روپ ہے جو ہر رشتے،ہر احساس،ہر تعلق  میں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طرح اُسے اپنی اوقات یاد دلاتا رہتا ہے۔
وہ لفظ جو منہ پر کہہ دیا جائے تو گالی ۔۔۔برتا جائے تو چند گھڑیوں کی پھلجھڑی گناہ ِبےلذت۔۔۔
کسی بڑے لکھاری کے قلم سے لکھا جائے تو اُس کے جانے کے بعد کلاسیک ورنہ اُس کے سامنے فحش ،قابل ِتعزیر۔۔۔
عام عورت کی زبان سے ادا ہو تو بےباکی۔۔۔عام عورت کے قلم سے محسوس کیا جائے تو اندر کی گھٹن۔۔۔
سنجیدہ نویس کے لیے معاشرتی برائی۔۔۔صحافی کی تحقیق سے سمجھا جائے تو چسکہ۔۔۔
اُس خاص" عورت کے وجود سے جھلکے تو بے شرمی۔۔۔"
دُنیا دار کے احساس کو چھو جائے تو مال ِمفت دل ِبے رحم۔۔۔دین دار کے لیے مردار کی بُو سے بھی بدتر۔۔۔
جوان دولت مند کے لیے ہوس ،عیاشی۔۔۔عمر رسیدہ دولت مند کے لیے خطرے کا سائرن۔۔۔
غریب کے لیے طلب تو جہاں دیدہ کے لیے ماضی کی یادیں۔۔۔
مُقتدر حلقوں کے لیے بہتی گنگا تو ایوان ِاقتدار کے کارپردازوں کے لیے ثقافت کی جاذب نظر پیکنگ۔۔۔
استحصال شدہ معاشرے میں مرد سے پڑھی لکھی عورت کا انتقام۔۔۔
جبر کی چکی میں پستی عورت کی مجبوری یا تقدیر کا ایک کریہہ وار۔۔۔
بدنصیب عورت کا نصیب خواہ وہ جنم جلی ہو یا کسی اورکے گلشن کی کلی۔۔۔
خاتون ِخانہ کے خواب وخیال سے بھی کوسوں دور تو شمع محفل کے شب وروز کی کہی ان کہی داستاں۔۔۔
سچی محبت کی تلاش میں ماری عورت کے لیے سراب ِصحرا۔۔۔جھوٹی محبتوں کاغازہ لگائےتونابینا کر دینے والی چکاچوند۔۔۔
۔"غلطی"سے ماں جیسے مقدس رشتے سے آشنا ہو جائے تو آنے والی نسل کے لیے کلنک کا ٹیکہ۔۔۔جان بوجھ کرمتمنی ہو تو اپنی جیسی جنس کی طالب اوراگرجنم دے لے تو میلہ چراغاں ورنہ نرالا دستور کہ رہتی دُنیا تک بےننگ ونام۔۔۔
اپنے آپ کی صحیح بولی لگانے کا ہنر جان لے تو کامیاب ترین "کاروباری "عورت۔۔۔
توبہ کے پانی سے غسل کرے تو آسمان چھو لے،بھٹکے ہوؤں کے لیے سنگ ِمیل بن جائے،بڑے بڑوں کو پار لگا دے۔۔۔
خود آگہی کے احساس کی انتہا کو چھو لے تو ٹھنڈے کمرے میں آتش فشاں بھڑکا دے اور گرم کمرے میں جامد گلیشئیر بن کر زمانوں کے لیے 'ممی' کی صورت حنوط ہو جائے۔ ۔۔
کیا ہے یہ عورت ؟ کیوں ہے یہ عورت ؟ کون ہے یہ عورت ؟
یہ عورت کا کون سا روپ ہے کہ نہ چاہتے ہوئے نہ مانتے ہوئے ہر احساس میں کہیں نہ کہیں یوں چپکے سے درآتی ہے جیسے ہنستی بستی جنت میں شیطان سانپ کا روپ دھار کر داخل ہوا تھا اور پھر نہ بستی رہی نہ جنت ۔ گریہ ہی بچا تھا اور یا پھرسانپ جو آج تک کبھی خواب کبھی خیال میں آکر اُسی طرح چُپکے سے اس دُنیا سے بھی دربدر کرانے کی خو میں ہے۔
! آخری بات

عورت صرف عورت ہے اگر اُس کو اپنی پہچان کا علم عطا ہو جائے تو نسلیں سنور جاتی ہیں ورنہ بےخبری اور قناعت کی اعلیٰ ڈگریاں آراستہ پیراستہ محل ہی بنا سکتی ہیں اورعورت کا جسم اس شان وشوکت میں مٹی کی قبربن کر دوسروں کے لیے محبت وعقیدت کی چادریں چڑھانے کا سزاوارتو ہو سکتا ہے لیکن اپنے لیے وہ پیوند ِخاک ہی رہتی ہے۔

3 تبصرے :

  1. کمال کرتی ہیں آپ بھی
    بہت اعلی اور سوچنے کے قابل تحریر
    بس یہی کہوں گا کہ آپ کی یہ تحریر مجھے یاد رہے گی
    ہمیشہ خوش رہیں

    جواب دیںحذف کریں
  2. میری بیگم نے پچھلے تین دن میں کم از کم چار دفعہ کہا ھے کہ یہ نورین تبسم بہت ہی اچھا لکھتی ہے۔


    جواب دیںحذف کریں

  3. کمال کی تحریر ہے ۔ لفظ نہیں موتی ہیں۔ایک لڑی میں پروئے ربط نہیں ٹوٹنے دیتیں آپ ۔ عورت کو ہر رخ سے بیان کر دیا

    جواب دیںحذف کریں