صفحہِ اول

ہفتہ, نومبر 02, 2013

"نسخہ"

 نسخہ ۔۔۔۔۔ جاوید چودھری 
۔۔۔۔" لومیں تمہیں انسان کو بندہ بنانے کا نسخہ بتاتا ہوں۔ اپنی خواہشوں کو کبھی اپنے قدموں سے آگے نہ نکلنے دو،جو مل گیا اس  پر شکر کرو،جو چھن گیا اس پرافسوس نہ کرو،جو مانگ لے اس کو دے دو،جو بھول جائے اسے بھول جاؤ،دُنیا میں بےسامان آئے تھے، بےسامان واپس  جاؤ گے، سامان جمع نہ کرو، ہجوم سے پرہیز کرو،تنہائی کو ساتھی بناؤ،"مفتی ہو تب بھی فتوی جاری نہ کرو"،جسے خدا ڈھیل دے رہا ہو اس کا کبھی احتساب نہ کرو،بلاضرورت سچ فساد ہوتا ہے،کوئی پوچھے تو سچ بولو،نہ پوچھے تو چپ رہو،لوگ لذت ہوتے ہیں اوردُنیا کی تمام لذتوں کا انجام برا ہوتا ہے،زندگی میں جب خوشی اور سکون کم ہو جائے تو سیر پر نکل جاؤ،تمہیں راستے میں سکون بھی ملے گا اورخوشی بھی ،دینے میں خوشی ہے ،وصول کرنے میں غم ،دولت کو روکو گے تو خود بھی رُک جاؤ گے ،چوروں میں رہو گے تو چور ہو جاؤ گے ،سادھوؤں میں بیٹھو گے تو اندر کا سادھو جاگ جائے گا ،اللہ راضی رہے گا تو جگ راضی رہے گا ،وہ ناراض ہو گا تو نعمتوں سے خوشبو اُڑ جائے گی،تم جب عزیزوں،رشتے داروں،اولاد اور دوستوں سےچڑنے لگو تو جان لو اللہ تم سے ناراض ہے اور تم جب اپنے دل میں دشمنوں کے لیے رحم محسوس کرنے لگو تو سمجھ لو تمہارا خالق تم سے راضی ہے اور ہجرت کرنے والا کبھی گھاٹے میں نہیں رہتا " بابے نے ایک لمبی سانس لی ،اس نے میری چھتری کھولی ،میرے سر پر رکھی اور فرمایا "جاؤ تم پر رحمتوں کی یہ چھتری آخری سانس تک رہے گی ،بس ایک چیز کا دھیان رکھنا کسی کو خود نہ چھوڑنا،دوسرے کو فیصلے کا موقع دینا،" یہ اللہ کی سنت ہے،اللہ کبھی اپنی مخلوق کو تنہا نہیں چھوڑتا،مخلوق اللہ کو چھوڑتی ہے اور دھیان رکھنا ،جو جا رہا ہو اسے جانے دینا مگر جو واپس آرہا ہو اس پر کبھی اپنا دروازہ بند نہ کرنا،یہ بھی اللہ کی عادت ہے،اللہ واپس آنے والوں کے لیے ہمیشہ اپنا دروازہ کھلا رکھتا ہے،تم یہ کرتے رہنا،تمہارے دروازے پرمیلہ لگا رہے گا"۔
(روزنامہ ایکسپریس۔۔۔ ستمبر2013،22)
مکمل کالم پڑھنے کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کریں۔
"نسخہ"
http://columnpk.net/nuskha-by-javed-chaudhry/

2 تبصرے :

  1. میں شروع میں اس سے اور بعد کی کئی باتوں سے متفق نہیں ہوں
    جو بھول جائے اسے بھول جاؤ

    جواب دیںحذف کریں
  2. لفظ خوشبو کی طرح ہے بےمول بے محابا ،بے غرض۔ پھولوں کے کسی گلدستے میں سے ضروری نہیں کہ ہمیں ہر پھول کی خوشبو ہی پسند آئے یا راس آئے، اور ہم جانتے ہیں نا کہ بعض لوگوں کو پھول کی خوشبو سے بھی الرجی ہوتی ہے،اللہ ہمیں بس اس بیماری سے بچائے۔ جو خوشبو جہاں ملے اسے سمیٹنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے ورنہ نہ وقت رہتا ہے اور نہ خوشبو۔اور بھولنے والوں کو بھولنا ہی اچھا کہ جب کسی کو ہماری ضرورت نہیں تو ہم کیوں اس کے غم میں ہلکان ہوں۔ یہ سبق مشکل اورتلخ ضرور ہے لیکن جتنا جلد سمجھ آ جائے اتنا جلد زندگی سہل ہونے لگتی ہے۔

    جواب دیںحذف کریں