صفحہِ اول

ہفتہ, نومبر 10, 2012

" دائرہ"

  "ہمارا حساب ہماری جیومیٹری"
ہر انسان آزاد ہے۔۔۔ وہ جوچاہے کرسکتا ہے۔۔۔ لیکن اُس کی حد اُس کی اپنی ذات ہے۔جہاں دوسرےکی ذات۔۔۔ کسی کے محسوسات۔۔۔ کسی کی عزت۔۔۔ کسی کی ذاتی زندگی اورسب سے بڑھ کراپنے مالک کی مقرّرکردہ حدود جو کہ ہماری اپنی بقا کے لیے ہی ہیں، شُروع ہوتی ہیں وہاں اُس کی حد ختم ہوجاتی ہے۔
ہم میں سے ہر شخص جو مرضی کرے۔۔۔ جس طرح کی زندگی کی خواہش رکھتا ہے اُسےگُزارے۔۔۔ جس شے سے اُسے خوشی ملتی ہے اُسے حاصل کرے۔۔۔ دوسروں کے ساتھ کسی طرح کا بھی رویہ اختیار کرے۔۔۔اپنے آپ کوجلا کرتسکین تلاش کرے۔۔۔ بس ایک کام ضرورکرے کہ اپنےدل کے ساتھ اپنی عقل کو بھی اس میں شامل کرے۔
خواہ خودغرض بن جائے کہ کسی کا فائدہ نہ سوچے اپنا مفاد عزیز رکھے لیکن اپنی آنکھیں کُھلی رکھے۔۔۔ بند آنکھوں سے کوئی کام نہ کرے۔اُس کام کی پائیداری دیکھ لے۔۔۔ یہ دیکھےاس فعل سے اسے کب تک اور کہاں تک سکون ملے گا؟یہ عمل کب تک اس کا ساتھ دے گا؟ اس کی اپنی زندگی میں اس سے کیا تبدیلی آئی ہے؟وہ خود کامیاب ہو گیا یا ناکام؟ اس کی خوشی بڑھ رہی ہے؟اوراس سوچ سےاُس کی عمر میں کتنا اضافہ ہوا ہے؟ یہ دیکھے۔ اگر اس کی عمرکی میعاد بڑھ گئی ہےتو پھر بہت اچھی بات ہے۔۔۔اگرہمیشہ کی بقا حاصل ہو جائےتو پھرکیا غم۔ جب کہہ دیا گیا کہ یہ کائنات انسان کے لیے تخلیق کی گئی تو یہ حرفِ آخرہے۔
ہمارا سب سےپہلا سبق اپنی عقل کا استعمال کرنا ہے۔اپنی سوچ کے'دائرے' کا اپنی ذات سےآغازکرنا ہے۔ پھریہ دائرہ خود بخود وسیع ہوتے ہوئے کائنات کے سربستہ رازوں کے کھوج تک پُہنچ جائے گا۔المیہ یہ ہےکہ ہم دائرے نہیں بناتے۔۔۔ لکیریں بناتےہیں۔۔۔دیواریں بناتے ہیں۔ جن کے مختلف سائزاورالگ زاویے ہوتے ہیں۔۔۔کوئی صفرسے شُروع ہوکر تین سوساٹھ درجے تک کہ پھرصفر سے شروع ہونا پڑتا ہے۔ کبھی ہم کسی زاویےکوپسند کرتے ہیں اورکبھی کوئی ہماری زندگی ہمارے طرزِفکر پرحاوی ہو جاتا ہے۔
اسی بھاگ دوڑ میں پرچہ ختم کرنےکا وقت آجاتا ہےاورابھی ہم لکیروں اورزاویوں کے پیچ وخم سے باہر نہیں نکلے ہوتے۔
دائرہ صرف اپنےوجود کی شناخت رکھتا ہےاس کا کوئی زاویہ کوئی سِرا نہیں ہوتا، اس کی کوئی حد نہیں، یہ بڑھتا جائےتو اس کے بہاؤ میں رُکاوٹ نہیں یہ اپنے اندراتنی گہرائی اتنی معنویت رکھتا ہے سب کچھ اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔
دائرہ ہی ہماری زندگی ہے۔ اس کی بھی حد ہے۔۔۔لکیر ہے۔۔۔ اور یہی ہماری تقدیر ہے کہ ہم ان لکیروں سے باہر نہیں جا سکتے۔ان کے اندر رہ کرہی ہم نے اپنے آپ کو سنوارنا بھی ہے اور بگاڑنا چاہیں تو اس کے بھی پورے مواقع ہیں۔
'' زندگی صرف دائروں کا کھیل ہے"
کبھی ہم کسی کی چاہ کے حصار میں ہوتے ہیں اورکبھی کوئی ہماری چاہ کےحصارمیں آجاتا ہے۔
ہم اپنے اپنے محورکےگردچکرکھاتے رہتے ہیں۔۔۔دیوانہ وار۔۔۔ حالت ِطواف میں، بےخودی میں۔۔۔ اِک عالمِ فراموشی میں۔۔۔اور کبھی سوچ سمجھ کرنپےتُلےقدم اُٹھا کر۔۔۔اپنےپاؤں زمین پرجما کر۔۔۔نگاہ آسمان سےلگاکر۔ 
دائرے پھیلتےسمٹتے جاتے ہیں۔کبھی ہم ان کےاندر ہوتے ہیں اورکبھی یہ ہمارے اندرآ جاتے ہیں۔نظروں کےسامنےہوتے ہیں اورنظروں سے پرے بھی۔ہم دیکھنا چاہیں تو اپنی چَھب دِکھلاتے ہیں۔نہ دیکھنا چاہیں تو وقت کی چکاچوند میں اپنے آپ کو کیموفلاج بھی کرلیتے ہیں لیکن کبھی اپنا وجود، اپنا تشخص نہیں کھوتے۔اپنا مان،اپنی پہچان انمٹ سیاہی سےلکھ کرہمارے وجود کے لوح محفوظ پر رقم کرتے جاتے ہیں۔۔۔ لیکن کب تک ؟
اگر ہم اپنی لگن میں سچّے ہوں، ایمان دار ہوں تو رب العالمین ہماری محنت،ہماری مشقت،ہماراسفر،رائیگاں نہیں جانےدیتا۔۔۔
وہ ہمارے سب دائروں کواپنی نظرِکرم سے اپنے خاص دائرے میں سمو لیتا ہے۔ہم جوچھوٹےچھوٹےدائروں کےبےحقیقت ذرات ہوتے ہیں اُس دائرے میں آکرقرار پا جاتے ہیں۔
اپنی شناخت کےمتلاشی بکھرےہوئےمادے جب یقینِ کامل کی بھٹی میں تپتےہیں توکُندن بن کرنکلتے ہیں۔ وہ کُندن نہ صرف اُن کی اپنی ذات کوتازگی عطا کرتا ہےبلکہ اس کی چمک دُور دُورتک جاتی ہے۔ ویسے بھی ایک نیا سفر تازہ دم ہو کرشُروع ہوتو اچھا ہے۔
"تھکے ہوئے جسم ، مُردہ روحیں کہاں نئی منزلوں کے امین ہو سکتے ہیں"۔ 
کسی حصار سے باہر نکلے بغیر ہم کوئی فیصلہ کبھی بھی نہیں کر سکتے۔ حصارچاہے رشتوں کے ہوں۔۔۔ یا دم بخود کردینے والے جادوئی جذبوں کی یورش کے۔۔۔ یا پھرکسی آسیب کی طرح جسم وجاں کی ساری توانائیاں نچوڑتی خود غرضی اور خود فراموشی کی قید کے۔۔۔۔۔ یا پھر چاہ کی لذتوں کا سحر ہو جو پیاس بجھا کربھی پیاس بھڑکا دیتی ہیں ۔ ہمیں مکروفریب سے بچاتے ہیں تو آگے بڑھنے بھی نہیں دیتے۔ قدم روک لیتے ہیں۔ دائرے میں سفر کرنے پر یوں مجبورکر دیتے ہیں کہ قدم شل ہو جاتے ہیں اورسفرتمام نہیں ہوتا۔ سفر کی تھکن اُترتی ہے اورنہ ہی آسودگی کا احساس پل کو سکون دیتا ہے۔
حصار محبتوں کے ہوں یا نفرتوں کے یا پھر کالے جادو جیسے۔۔۔ شدتوں میں اتنے طاقتور ہوتے ہیں کہ اُن کا توڑ بسااوقات مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہو جاتا ہے۔حصار اگر جسم کی طلب اور روح کی لذت کی انتہا کو چھو جائے تو گلے کا ایسا ہار بن جاتا ہے جو بظاہر خوشنما اور دلفریب تو دکھتا ہے لیکن درحقیقت پھانسی کا وہ پھندا بن جایا کرتا ہے جو ہمیشہ ناکردہ گناہ کے سوال کی صورت جینے دیتا ہے اور نہ ہی مرنے سے نجات کی صورت دکھائی دیتی ہے۔
ہرحصار کا توڑ ہوتا ہے جو ہمیں اس سے باہر نکال دیتا ہے،آزاد کر دیتا ہے۔ بےشک وقت سے بڑھ کر توڑکچھ اورہو بھی نہیں سکتا ۔ لیکن محبت کا حصار وہ دائرہ ہے جس کا توڑ محبت کے ایک بڑے دائرے میں داخل ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ بہت توڑ پھوڑ ہوتی ہے۔۔۔ دکھ ہوتا ہے۔۔۔آنسومنظر دھندلا دیتے ہیں۔ لیکن کسی بڑی منزل کے حصول کی خاطر ہمیں ہمیشہ اپنی ذات کے حصار میں جنم لینے والی محبت کے چھوٹے حصار کی قربانی دینا پڑتی ہے۔وہ حصار جو ہمیں سمیٹے رکھتا ہے۔۔۔ جس کی مانوس مہک ہمیں گرنے سے پہلے سنبھلنے کا ایک موقع ضرور دیتی ہے۔
محبتوں کے یہ حصار پار نہ بھی لگائیں پرکبھی ڈوبنے نہیں دیتے۔۔۔ گرداب نہیں بنتے۔۔۔ سیدھے راستے کی طرف رہنمائی ضرور کر دیتے ہیں۔            

3 تبصرے :

  1. BUHUT KHOOB ...THAKE HUE JISAM ,MURDA RUHEN ....BUHUT ACHHA KAHA ...

    جواب دیںحذف کریں
  2. اپنی سوچ کے'دائرے' کا اپنی ذات سےآغازکرنا ہے۔ پھریہ دائرہ خود بخود وسیع ہوتے ہوئے کائنات کے سربستہ رازوں کے کھوج تک پُہنچ جائے گا۔
    ---------------------------------
    اور سربستہ راز خود سے پردہ اٹھانے لگتے ہیں۔ خوب لکھا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں