منگل, نومبر 20, 2012

"موسم کہانی"

"ہر بات کہی نہیں جاسکتی اَن کہی باتیں موسموں کی طرح ہوتی ہیں"۔
موسم سمجھائے نہیں جاتے'بتِائے'جاتے ہیں۔۔۔ موسم دِکھائی نہیں دیتے محسوس کیے جاتے ہیں۔۔۔ برداشت کیے جاتےہیں اورشُکر کا دامن تھام لیا جائے تو اپنے مالک کے لُطف وکرم کو کُھلی آنکھوں سے سمیٹا جا سکتا ہے۔
سال میں آنے والے موسموں کی طرح انسانوں کے اپنے اندربھی موسم ہوتےہیں۔ہرانسان اپنی عمرکے ادوار  میں اِن موسموں سے گُزرتا ہے،جن میں کوئی ردوبدل،کوئی ارتقاءنہیں ہوتا۔ فرق صرف ترتیب کا ہے کسی پرکوئی موسم پہلے اُترتا ہے کسی پربعد میں۔درد آشنا وہی ہے جس پر وہ موسم گُزر چُکا ہو۔ 
جبر اورحبس کا موسم جس پرگزرچکا ہو وہی تپتے آسمان تلے دوسرے انسان کےکرب کواسی طورمحسوس کرسکتا ہے جیسے! 
" ٹھنڈے کمروں کے مکیں
لُو دیتی گرم ہوا
کیا جانیں
دُور برگد کے نیچے بیٹھے 
مسافر درد آشنا ہیں
ایک موسم ہڈیوں میں اُترتی برفانی ٹھنڈک کا ہوتا ہے جس میں اپنے آپ کوجتنا چاہوڈھانپ لواپنےآس پاس لوگوں کا ہجوم بھی ہو لیکن اپنا دُکھ اپنی کپکپی کسی کےساتھ بانٹی نہیں جاسکتی۔
"گرم کمروں میں
رہنے والے 
مکمل انسان ہیں 
سرد تنہائی اور اندھیرے سے نا آشنا
آگ تاپتا ہوا شخص 
اُس کے پاس وہی جائےگا
جسے حرارت چاہیے" 
سرخوشی اورقرارکا موسم ویسے بھی بہارکےموسم کی طرح ہے کوئی جانے نہ جانے ہر شے خود پکار اُٹھتی ہے۔کوئی ساتھ ہونہ ہوانسان خود اپنی ذات میں انجمن بن جاتا ہے۔
ایک موسم خزاں کا ہوتا ہے۔۔۔ایسی اُداسی ایسی ویرانی رگ وپےمیں اُترتی ہے کہ انسان اپنے آپ سےفرار چاہتا ہے۔ یوں لگتا ہے زندگی کے کینوس پربکھرے رنگ وقت کی تپش سے گڈ مڈ ہو کرکبھی نہ مٹنے والے عجیب رنگ میں بدل گئے ہوں۔ 
ایک موسم برسات کا بھی ہے۔۔۔جس میں انسان صبروشُکرکی نرم پھوارمیں یاپھرعنایات کی برستی بارش میں اپنےخالق کے
لُطف وکرم کے نظارے دیکھتا ہے،اپنے خالق سے قریب ہوتا جاتا ہے۔اپنی پورپورمیں رچی پیاس بُجھاتا ہے۔سیری کی کیفیت اُسےنیا جذبہ،نئی توانائی بخشتی ہے۔پریوں بھی ہوتاہے وہ ابرِباراں،نعمتِ خداوندی دیکھتےہی دیکھتے آفتِ آسمانی میں بدل جاتا ہے۔آزمائش کی جھڑی رُکنے میں نہیں آتی اورنہ اپنے راستے میں آنے والی کسی شے کی پرواہ کرتی ہے۔ اس کا تباہ کُن اثر اس وقت سامنے آتا ہےجب یہ سیلاب سونامی میں بدل جاتا ہے۔سیلاب آتے رہتے ہیں انسان احتیاطی تدابیراختیار کر کے اپنے بچاؤ میں کسی حد تک کامیاب ہوسکتا ہے۔ سیلاب سے درست طریقے سے نمٹا جائے تو پانی اُترنے کےبعد نہ صرف زمین کی زرخیزی میں اضافے کا باعث بنتے ہیں بلکہ بند بنا کر اُن کے بےمحابا پانی کوکام میں لایا جا سکتا ہے۔مگرجب بند ہی ٹوٹ جائے توسیلاب سونامی میں بدل جاتاہے جس کا نتیجہ صرف اور صرف  تباہی وبربادی ہے۔
یہ تمام موسم دُنیا کے ہرشخص کی زندگی میں اُترتےہیں لیکن ماحول میں آنے والے موسموں کے برعکس ان کی ترتیب ہر انسان میں اُس کی قسمت۔۔۔اس کی محنت کے حساب سے ہوتی ہےکسی  پر کوئی موسم پہلے آتا ہےکسی پربعد میں،کوئی کس موسم کوکس طرح محسوس کرتا ہے،کس طرح برتتا ہے۔۔۔ یہ بھی اُس کا اپنا انداز ہے۔
کسی کے لیے پت جھڑ کا موسم زندگی کا اختتام ہے اور کسی کے لیے ایک نئی زندگی کی ابتدا کا پیغام۔ 
کسی کو معمولی بارش سیلابِ بلا لگتی ہے۔۔۔کوئی آزمائشوں کی موسلادھاربارش میں صبروقناعت کی چادراُوڑھ کرخشک رہتا ہے۔
کوئی بہار کےموسم میں خوش ہوتا ہے۔۔۔ کوئی ایسابدنصیب ہوتا ہے جسے بہارمیں پھولوں کے کانٹے دکھائی دیتے ہیں۔کبھی بہار کا موسم ایسے روگ لگا جاتا ہے کہ سالوں بیت جاتے ہیں گھٹن کم نہیں ہوتی، سانس یوں رُک سا جاتا ہے کہ کسی پل قرار نہیں آتا۔کبھی زندگی کی ڈھلتی شامیں جب خزاںکا سندیسہ سناتی ہیں توگئے موسم میں سمٹی احساس کی خوشبو روح کو مہکا دیتی ہے۔
زندگی موسموں کےآنے جانے کا نام ہے اور موت انہی موسموں کے ٹھہر جانے سے وجود میں آتی ہے۔زندگی موت کی یہ آنکھ مچولی ہم اپنے آس پاس مظاہرِ فطرت میں ہر آن دیکھتے چلے جاتے ہیں۔۔۔کبھی اپنے جسم وجاں میں اِن کا لمس محسوس کرتے ہیں تو کبھی بنا چکھے بنا دیکھے یوں اِس کا حصہ بن جاتے ہیں کہ سب جان کر بھی کچھ نہیں جان پاتے اور بہت کچھ سمجھتے ہوئے بھی سرسری گزر جاتے ہیں کہ ہماری عقل کی حد ہماری آنکھ کے دائرے سے باہر پرواز کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔خزاں ہو یا بہار آنکھ کی چمک باقی رہے تو دیکھنے والی آنکھ ہررنگ میں زندگی کے نقش تلاش کر لیتی ہے
"بدلتا موسم"
موسم بدلتا ہے توساتھی بھی بدل جاتے ہیں ۔ نئے موسم کا نیا لباس اورنئی ضروریات ہی توہوتی ہیں لیکن پُرانے موسم اپنی یادیں اس طوررگوں میں اُتارجاتے ہیں کہ حدّت میں ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔اوررویوں کی سردمہری میں اپنے وجود کا الاؤ سکون بخشتا ہے۔کبھی برستی بارشوں میں سارے منظر اجنبی سے لگتے ہیں توکبھی پت جھڑ کا موسم دل میں ارمانوں کی کونپلیں جگا دیتا ہے۔چاہے جوبھی ہو ہمارے اندر کا موسم ہی وہ موسم ہے جو بدلتا ہےتوسب کُچھ بدل جاتا ہے۔اگرہم اپنے اندر کےموسم کو سمجھ جائیں اوراس کےلیے تیار بھی ہوں توزندگی کا سفرسہل ہوجاتا ہے۔
حرفِ آخر
ان کہی باتیں موسم کی طرح ہوتی ہیں۔۔۔ موسم بدلتے جاتے ہیں پھر کیا کہنا کیا روگ لگانا۔
ستمبر20 ،2012

2 تبصرے:

  1. بہت عمدگی سے لکهی تحریر ہےکیا خوب موسم کے بارے میں بتایا ہے سچ ہے ہمارے حالات ہمارامزاج ہماری رنگ بدلتی زندگی کے انداز کے نام ہی موسم ہے اور یہ موسم کی طرح ہی کبهی بهی ہمارے نہ چاہتے ہوئے بهی بدل جاتے ہیں

    جواب دیںحذف کریں

"دلیل" اور"کارواں بنتا گیا"

تئیس جون 2017 بمطابق   ستائیس رمضان المبارک1438 ھ کو دلیل ویب سائیٹ کے قیام کو ایک برس مکمل ہوا۔ اس ایک   برس کے دوران "دلیل ویب س...